04 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام
شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 19
قسط نمبر 4
حضرت عُزیر علیہ السلام کی بعثت
حضرت ارمیہاہ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ستر 70 سال تک کی غلامی کے بعد اﷲ تعالیٰ تمہیں آزادی عطا فرمائے گا اور تم بیت المقدس کو دوبارہ آباد کروگے ۔ بخت نصر کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل غلاموں کی زندگی بسر کرتے رہے ۔ اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا حکمراں بنا تو اُس نے بھی بنی اسرائیل پر ظلم جاری رکھا اور وہ غلامی کی زندگی بسر کرتے رہے ۔ اِس کے دورِ حکومت میں حضرت عُزیر علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا اور آپ علیہ السلام نے آزدی کی تحریک کو جاری رکھا جس کی ابتدا حضرت دانیال علیہ السلام نے کی تھی ۔ بہمن کے بابل کا بادشاہ بننے کے وقت تک حضرت عُزیر علیہ السلام نے فارس کے بادشاہ ”خورس“ سے ملاقات کی اور وہ آپ علیہ السلام سے بہت متاثر ہوا تھا اور جب بابل کی حکومت اُس کے زیر اطاعت آگئی تو اُس نے بہمن کو حُکم دیا کہ دھیرے دھیرے کرکے وہ بنی اسرائیل کو مکمل طور سے آزاد کردے ۔خورس نے ایک تحریری فرمان جاری کیا جس میں لکھا تھا ”آسمان کے خدا نے زمین کی تمام مملکت مجھے عطا کردی ہیں اور مجھے مامور کیا ہے کہ میں یہوداہ (بنی اسرائیل) کے شہر یروشلم میں اُس کے لئے ایک گھر تعمیر کرواو¿ں ۔ لہٰذا اُس کی اُمت میں سے جو کوئی ہمارے درمیان موجود ہے خدا اُس کے ساتھ ہو ۔ وہ یہوداہ کے شہر یروشلم چلا جائے اور وہاں بنی اسرائیل کے معبود (اﷲ) کا گھر تعمیر کرے ۔ جو بنی اسرائیل یہاں رہ جائیں وہ سب کے سب اﷲ کے گھر کے لئے چاندی ، سونا سامان ، مال اور مویشی دیں۔“
حضرت عُزیر علیہ السلام کا سلسلہ نسب
حضرت عُزیر علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب حضرت ہارون علیہ السلام سے جا کر ملتا ہے ۔ یعنی آپ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور قبیلہ بنو لاوی میں سے ہیں ۔ حضرت ہارون علیہ السلام بنی اسرائیل کے نماز کے امام تھے ۔ اُن کے انتقال کے بعد اُن کے بیٹے الیعزر بن ہارون بنی اسرائیل کے نماز کے امام بنے ۔ اِس طرح یہ سلسلہ اُن کی اولاد میں چلتا رہا یہاں تک کہ حضرت عُزیر علیہ السلام نے اعلان نبوت فرمایا ۔ چونکہ آپ علیہ السلام امامون کے خاندان سے تھے اِس لئے بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کو نبی نہیں مانتے تھے اور صرف نماز کے امام مانتے تھے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب اِس طرح ہے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام بن سرایاہ بن عزریاہ بن سلوم بن صدوق بن اخیطوب بن امریاہ بن عزریاہ بن مرایوت بن زرافیاہ بن عزیٰ بن قمی بن اہیسع بن فیخاس بن الیعزر بن حضرت ہارون علیہ السلام ۔ بائیبل میں حضرت عُزیر علیہ السلام کا نام ”’عزرائ“ لکھا ہو ہے لیکن چونکہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں عُزیر فرمایا ہے اِس لئے ہم عُزراءکے بجائے حضرت عُزیر علیہ السلام ہی کہیں گے ۔
حضرت عُزیر علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل کی وطن واپسی
حضرت عُزیر علیہ السلام بابل مین ہی مقیم رہے اور بنی اسرائیل کو مسلسل قافلوں کی شکل میں وطن واپس بھیجتے رہے ۔ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں تھے اِس لئے اِ ن کی وطن واپس میں کافی عرصہ لگ گیا ۔ جب بنی اسرائیل کی اکثریت وطن واپس لوٹ گئی تو آپ علیہ السلام آخری قافلے کو لیکر جانے کی تیاری کرنے لگے ۔ فارس کے بادشاہ (بابل اُس وقت ”سلطنتِ فارس“ کے ماتحت آگیا تھا) سے وطن واپس جانے کی اجازت مانگی ۔ اُس وقت سلطنت فارس کا بادشاہ ایک روایت کے مطابق ”خورس“ تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے ”کیرش“ لکھا ہے اور ایک روایت کے مطابق اُس کا نام ”ارتخشتا“ تھا ۔ اُس بادشاہ نے اجازت دے دی اور ایک فرمان جاری کیا جس میں لکھا تھا ”شہنشاہ ارتخشتا کی جانب سے عُزیر اسرائیلوں کے امام کے نام! جو آسمان کے معبود (اﷲ تعالیٰ ) کی شریعت کا معلم ہے ! آپ سلامت رہیں! میں فرمان جاری کرتا ہوں کہ میری مملکت میں سے جو بھی بنی اسرائیل آپ (علیہ السلام) کے ساتھ وطن واپس جانا چاہتے ہیں وہ جاسکتے ہیں ۔ میں اپنے تمام گورنروں اور مُشیروں کی طرف سے اجازت دیتا ہوں کہ آپ (علیہ السلام) تمام بنی اسرائیل کو لیکر اپنے وطن واپس جاسکتے ہیں ۔ اِس کے علاوہ میری طرف سے اور میرے گورنروں کی طرف سے وہ تمام سونا آپ (علیہ السلام) کی نذر ہے جو بابل صوبہ سے حاصل ہوا ہے ۔ اِس کے علاوہ نقد روپیہ ، بیل ، گھوڑے ، اونٹ ، مینڈھی اور اناج وغیرہ بھی ہدیہ کے طور پر پیش ہے ۔ یہ سب آپ (علیہ السلام) لے جائیں اور یروشلم میں اسرائیل کے معبود (اﷲ تعالیٰ) کے گھر کی نذر دیں۔“
حضرت عُزیر علیہ السلام کے قافلے کے بنی اسرائیل کی تعداد
حضرت عُزیر علیہ السلام کی خدمت میں اتنا عرض کرنے کے بعد فارس کے بادشاہ نے آگے فرمان جاری کیا :”اب میں بادشاہ ارتخشتاس بابل کے خزانچیوں کو حُکم دیتا ہوں کہ عُزیر (علیہ السلام) جو آسمان کے معبود کی طرف سے معلم ہیں ، جو کچھ بھی وہ طلب کریں وہ فوراً دیا جائے یعنی سونا ،چاندی ، گیہوں ، زیتون کا تیل اور نمک بھی فوراً دیا جائے ۔“ بابل کے گورنر نے فوراً بادشاہ کے فرمان پر عمل کیا اور ضروریات کی تمام چیزیں آپ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کردیں ۔ اِس طرح آپ علیہ السلام بابل میں بچے ہوئے تمام بنی اسرائیل کو لیکر یروشلم کی طرف رووانہ ہوگئے ۔ اِس قافلے میں بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبیلوں کے لوگ تھے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے اور اُن بارہ بیٹوں کی اولاد کے مجموعہ کو ”بنی اسرائیل“ کہا جاتا ہے ۔ اِس بارہ بھائیوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی اور ہر بھائی کے نام پر اُس کے قبیلے کا نام تھا ۔ اِس قافلے میں ہر قبیلے کے مرد عورتیں اور بچوں کو ملا کر سینکڑوں کی تعداد تھی اور تمام بارہ قبیلوں کے لوگوں کی مجموعی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ۔ بنی اسرائیل کی اکثریت پہلے ہی اپنے وطن واپس آ کر بس چکی تھی ۔ اِس آخری قافلے کو لیکر حضرت عُزیر علیہ السلام بھی یروشلم پہنچ گئے۔ اِس طرح آپ علیہ السلام کی قیادت میں تمام بنی اسرائیل وطن واپس ہوگئے ۔
ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) کی تعمیر نو
حضرت عُزیر علیہ السلام کی درخواست پر فارس کے بادشاہ نے بنی اسرائیل کو آزاد کردیا اور آپ علیہ السلام بابل میں ہی رہ کر مسلسل بنی اسرائیل کے قافلے وطن واپس بھیجتے رہے ۔ بنی اسرائیل کی تعداد لاکھوں میں تھی اِس لئے اُنہیں تمام بنی اسرائیل کو واپس بھیجنے میں کافی عرصہ لگا ۔ اِس دوران آپ علیہ السلام مناسب ہدایات دیتے رہے اور جس قبیلے کا جو علاقہ تھا اُسے وہیں بھیج کر بساتے رہے ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد اُن کی حکومت کو بنی اسرائیل نے دو حصوں میں تقسیم کرلیا تھا ۔ بنو بہود اور بنو بنیامن نے مل کر یروشلم اور اُس کے آس پاس کے علاقوں پر ”سلطنت ِ یہوداہ یا یہودیہ“ کے نام سے اپنی حکومت قائم کرلی تھی ۔ باقی دس قبائل نے فلسطین کا بقیہ حصہ ، لبنان اور اُردن اور ملک شام کے کچھ علاقوں پر ”سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ“ کے نام سے قائم کرلی تھی ۔ جس کا نام بدل کر بعد میں ”سلطنت سامریہ“ رکھ دیا گیا تھا ۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت وہ پورا علاقہ ”ملک کنعان“ کہلاتا تھا ۔ بعد میں اِس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے فلسطین ، لبنان اور اُردن نام کے ملک بنا دیئے گئے اور بقیہ علاقے کو ملک شام میں ضم کردیا گیا ۔ اِس طرح ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیا ۔ بہرحال حضرت عُزیر علیہ السلام نے پہلے ہی ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) کی تعمیر نو کا کام شروع کروادیا تھا اور جب بھی یروشلم قافلہ بھیجتے تھے تو اُس کی تعمیر نو کے بارے میں مناسب ہدایات دیتے تھے ۔ جب آخری قبیلے کو لیکر آپ علیہ السلام بیت المقدس یعنی یروشلم پہنچے تو نذر کا تمام سامان ہیکل سیلمانی کے ذمی داروں کے حوالے کیا اور اپنءنگرانی میں تعمیر مکمل کرائی ۔ اِس کے بعد یروشلم سے لیکر لبنان ، اُردن اور ملک شام تک کے جن علاقوں میں بنی اسرائیل تھے ، ہر جگہ جا کر آپ علیہ السلام نے وہاں پر آباد بنی اسرائیل کے لئے رہنے ، کھانے اور پینے کے بہترین انتظامات کئے اور اُن کے سردار اور حکرماں مقرر کئے ۔ اُن کے لئے اسلامی تعلیم کا انتظام کیا اور اسلامی قانون نافذ کیا ۔اِسی دوران آپ علیہ السلام کے سو100 سال سونے کا واقعہ پیش آیا ۔
اﷲ تعالیٰ مارنے کے بعد زندہ کرے گا
اﷲ رب العزت نے سورہ البقرہ میں فرمایا :”(ترجمہ) یا جیسے وہ شخص جو ایک بستی سے گزرا کہ وہ بستی اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی ۔ اُس نے کہا :”اِس بستی کو جب کہ وہ ختم ہو چکی ہے اﷲ تعالیٰ اِس کو کیسے زندہ کرے گا؟“ اﷲ تعالیٰ نے اُس پر سو سال موت کو طاری کردیا پھر اُس کو زندہ کرکے دوبارہ اُٹھایا ، پوچھا :”تم کتنی مدت سوتے رہے ہو؟“ اُس نے کہا :”دن بھر یا آدھا دن سوتا رہا ہوں۔“ اﷲ نے فرمایا :”نہیں! بلکہ تم ایک سو سال تک پڑے سوتے رہے ہو ۔ اب اپنے کھانے کی طرف دیکھو کہ اُس میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اپنے گدھے کو دیکھو (کس طرح گل سڑ گیا ہے) اور اِس سے ہمارا مقصد ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے نشانی بنادینا چاہتے ہیں ۔ اب دیکھو اپنے گدھے کی (بکھری ہوئی ہڈیوں کی) طرف کہ ہم کس طرغ اُن کو جوڑتے ہیں پھر کس طرح ان پر گوشت چڑھا دیتے ہیں ۔“ پھر جب بات بالکل واضح ہوگئی تو کہنے لگا :”میں جانتا ہوں کہ بے شک اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر (پوری) قدرت رکھنے والا ہے ۔“ (سورہ ابقرہ آیت نمبر 259 ) اِس آیت کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ یہ کون شخص تھا اور کس بستی سے گزرے تھے؟ اِس کے لئے علمائے مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں ۔ غالب گمان یہ ہے کہ حضر عُزیر علیہ السلام تھے جو اُس بستی سے گزر رہے تھے جس کو بخت نصر نے تباہ و بارباد کردیا تھا اور وہاں رہنے والوں کا قتل عام کیا تھا ۔ جیسا کہ آپ نے ترجمہ میں دیکھا کہ اﷲ رب العزت نے اپنی قدرتِ کاملہ سے کس طرح حضرت عُزیر علیہ السلام پر ایک سوسال تک موت کی کیفیت کو طاری رکھا ۔ وہ کھانا جو گل سڑ کر خراب ہوجانے والا تھا اُس کو محفوض رکھا اور گدھا جو عموماً دوچار دنوں میں ہڈیوں کا ڈھانچہ نہیں بن جاتا ہے ۔ اُس کے اجزاءکع بکھیر دیا لیکن اپنی قدرت کاملہ سے اُس کجو دوبارہ زندہ کرکے دکھا دیا کہ موت کے بعد اِس طرح تمام انسان بھی زندہ کردیئے جائیں گے ۔ یہ بھی بتا دیا کہ موت فنا کا نام نہیں ہے بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے جو نسانوں پر طاری کردی جاتی ہے ۔ صور پھونکے جانے کے بعد تمام انسان اِسی طرھ اپنی قبروں سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے ۔ تیسری بات یہ فرمائی :جس طرح عموماً کھانا ایک دن دھوپ میں رکھے جانے سے سٹر جاتا ہے ، اﷲ تعالیٰ کی یہ قدرت ہے کہ وہ اِس کو چاہے تو ایک سو سال تک اُسی طرح محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ یہ تمام باتیں اُس اﷲ کی قدرت کی طرف اشارہ ہیں جو تمام چیزوں پر قادر مطلق ہے اور موت و حیات سب اُس کے قبضہ¿ قدرت میں ہے ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!
.jpeg)
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں