03 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 20
قسط نمبر 3
سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش کے لئے قرعہ
سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو اُن کی والدہ نے ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیت المقدس کے ذمہ داران کے حوالے کر دیا۔ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں اس وقت لگ بھگ 24خاندان تھے۔ اور ہر خاندان سے کئی کئی علماءاور قراءبیت المقدس کے ذمہ داروں میں سے تھے۔ ہر ذمہ دار یہ چاہتا تھا کہ وہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہاکی پرورش کرے گا۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا۔ اس کی پرورش میرے ذمہ کر دو۔ کیوں کہ میری بیوی اس کی خالہ ہے یہ سن کر تمام علماءنے کہا ہم قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کے نام قرعہ کھلے گا وہ اس بچی کی پرورش کر ے گا۔ اُس وقت بیت المقدس کے ذمہ دار علمائے کرام کی کل تعداد 27ستائیس تھی ۔قرعہ نکالا گیا تو وہ حضرت زکریا علیہ السلام کا ہی نکلا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس اُسے اُس کے پرور دگار نے اچھی طرح قبول فرما لیا اور اُسے بہترین پرورش دی۔اُس کی خیر خبر لینے والا زکریا (علیہ السلام) کو بنایا۔........آیت کے آخر تک(سورہ آل عمران آیت نمبر 37)علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری اپنی سند سے لکھتے ہیں۔جب سیدہ مریم رضی ا ﷲعنہا پیدا ہوئیں تو اُن کی والدہ نے اُن کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور اُن کو کاہن بن عمران کے بیٹے کے پاس لے گئیں۔جو اُس زمانے میں ”بیت المقدس“کے دربان تھے اور اُن سے کہا کہ اِس نذر مانی ہوئی لڑکی کو سنبھالو۔یہ میری بیٹی ہے ،میں نے اس کو اپنی ذمہ داری اور ولایت سے آزاد کیا۔عبادت گاہ میں حائض داخل نہیں ہوسکتی اور میں اِس کو اپنے گھر نہیں لے جاو¿ں گی۔انہوں نے کہا یہ ہمارے امام کی بیٹی ہے اور عمران اُن کو نمازیں پڑھاتے تھے اور اُن کی قربانیوں کے منتظم تھے۔حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ لڑکی مجھے دے دو،کیونکہ اِس کی خالہ میرے نکاح میں ہے۔باقی لوگوں نے کہا کہ ہم اِس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔یہ ہمارے امام کی بیٹی ہے،پھر انہوں نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پرورش کے لئے قلموں کے ساتھ قرعہ اندازی کی۔یہ وہ قلم تھے جن سے وہ ”توریت“لکھتے تھے۔حضرت زکریا علیہ السلام کے نام کا قرعہ نکل آیااور انہوں نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کہ کفالت کی۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ اُن کو لیکر مسجد بیت المقدس میں پہنچیں اور وہاں کے مجاورین اور عابدین سے جن میں حضرت زکریا علیہ السلام بھی تھے،جا کر کہا کہ اِس لڑکی کو میں نے خاص خدا کے لئے مانا ہے۔اِس لئے میں اِسے اپنے نہیں رکھ سکتی ،سو اِس کو لائی ہوں آپ لوگ رکھیئے۔حضرت عمران اس مسجد کے امام تھے اور حالت ِ حمل میں اُن کی وفات ہو چکی تھی۔ورنہ سب سے زیادہ مستحق اُس کے لینے کے وہ ہی تھے،لڑکی کے باپ بھی تھے اور مسجد بیت المقدس کے امام بھی۔اِس لئے بیت المقدس کے مجاورین و عابدین میں سے ہر شخص اُن کو لینے اور پالنے کی خواہش رکھتا تھا۔حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنی ترجیح کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ میرے گھر میں اس کی خالہ ہیںاور وہ بمنزلہ¿ ماں کے ہوتی ہے۔اِس لئے ماں کے بعد وہی رکھنے کی مستحق ہے۔مگر اور لوگ اِس ترجیح پر راضی اور متفق نہیں ہوئے۔آخر قرعہ اندازی پر اتفاق قرار پایا،اور صورت قرعہ کی بھی عجیب و غریب خلاف عادت ٹھہری۔جس کا بیان آگے آئے گا،اِس میں بھی حضرت زکریا علیہ السلام کامیاب ہوئے۔
حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم دونوں سمت تیرا
اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”یہ غیب کی خبروں میں سے ہے،جسے ہم آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم) کی طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم)اُن کے پاس نہیں تھے جب کہ وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے گا۔اور نہ تو اُن کے جھگڑنے کے وقت اُن کے پاس تھے۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 44)حضرت زکریا علیہ السلام کے نام کے قرعہ سے تمام علماءغیر مطمئن رہے اور کہا کہ دریا میں چل کر قرعہ نکالتے ہیں۔ جس کا قلم دریا کے پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرے گا وہ اس بچی کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ تمام علمائے کرام دریا کے کنارے آئے اور تمام بنی اسرائیل بھی آگئے۔ سب ہی دیکھ رہے تھے ۔ حضرت زکریا علیہ السلام اور تمام علمائے کرام نے اپنے اپنے قلم پانی میں ڈالے۔ تمام علمائے کرام کے قلم پانی کے بہاﺅ کی طرف تیرنے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرنے لگا۔ اس مرتبہ بھی قرعہ آپ علیہ السلام کے نام ہی کھلا۔ تمام علمائے کرام نے کہا ایک مرتبہ اور قرعہ نکالتے ہیں۔ اس مرتبہ جس کا قلم پانی کے بہاﺅ کی طرف تیرے گا وہ اس بچی کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ تمام لوگوں نے پھر اپنے اپنے قلم پانی میں ڈالے۔ اس مرتبہ تمام علمائے کرام کے قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرنے لگے اور آپ علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرنے لگا۔ اس طرح ہر مرتبہ قرعہ آپ علیہ السلام کے نام ہی کھلا۔ اور تمام علمائے کرام نے تسلیم کر لیا کہ اللہ تعالیٰ بھی چاہتے ہیں کہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش حضرت زکریا علیہ السلام ہی کریں ۔ قاضی ثناءاﷲ پانی پتی سورہ آل عمران کی آیت نمبر 37کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے اسے پروان چڑھایااور بہترین پرورش کی۔پس وہ اچھی طرح پروان چڑھی ،وہ ایک دن میں اتنی بڑھتیں جتنا بچہ ایک سال میں بڑھتا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری نے حضرت عکرمہ،قتادہ اور سدی سے نقل کیا ہے کہ جب حنہ نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو کپڑے میں لپیٹ کرمسجد کی طرف لے گئیںاور حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد کے علما ءکے پاس رکھا،اور بولیں کہ اِس نذر کو قبول کرو۔علماءنے اِس میں باہم مقابلہ شروع کر لیا،کیونکہ یہ اُن کے امام اور قربانیوں والے کی بیٹی تھی۔حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا؛”میں تم سب سے اس کو کفالت میں لینے کا زیادہ حق رکھتا ہوں،کیونکہ اس کی خالہ میرے عقد میں ہے۔جن کا نام ایشاع بنت قاقودا تھا،جو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں۔علماءنے قرعہ کے بغیر اسے حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میں دینے سے انکار کر دیا۔وہ سب دریا کی طرف چل پڑے اور اُن کی تعداد ستایئس (۷۲) تھی ۔امام سدی نے کہا یہ دریائے اُردن تھا۔انہوں نے اپنے اپنے قلم اس شرط پر دریا میں ڈال دیئے کہ جس کا قلم پانی پر ٹھہر جائے گا یا پانی پر بلند ہو جائے گا،یہ بچی اُسی کی کفالت میں رہے گی۔ایک قول کے مطابق جن قلموں سے وہ لوگ توریت لکھتے تھے،وہی قلم دریا میں ڈالے۔حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم ٹھہر گیااور پانی کے اوپر چڑھ آیا۔باقی قلم نیچے اُتر گئے اور دریا میں بہہ گئے۔حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم اپنی جگہ تیرتا رہااور پانی پر اِس طرح کھڑا رہا،گویا وہ مٹی میں گڑا ہوا ہے۔جبکہ دوسروں کے قلم بہہ گئے۔ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم پانی کی اوپر والی سطح کی طرف بلند ہوا اور باقی قلم پانی کے بہاو¿ کے ساتھ بہہ گئے۔اِس طرح سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی کفالت آپ علیہ السلام نے کی۔
سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو رزق عطا فرمانا
اس طرح سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی کفالت کی ذمہ داری حضرت زکریا علیہ السلام پر آگئی۔ آپ علیہ السلام نے بڑی محبت سے انھیں پالا پوسا ۔ جب سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بڑی ہو گئیں تو گوشہ نشین ہو گئیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کسی سے نہیں ملتی تھیں۔ بلکہ صرف اپنے حجرے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتی رہتی تھیں۔ دن میں ایک آدھ مرتبہ حضرت زکریا علیہ السلام ملاقات کے لئے آتے تھے۔ جب بھی آپ علیہ السلام آتے تو دیکھتے تھے کہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے پاس پھل فروٹ اور کھانا رکھا رہتا تھا۔آپ علیہ السلام نے پوچھا یہ رزق تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے؟ کیونکہ سوائے حضرت زکریا علیہ السلام کے کوئی بھی سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے حجرے میں نہیں جاتا تھا۔ اس کے باوجود وہاں پر رزق پہنچ جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام کے جواب میں سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا ۔ یہ اللہ تعالیٰ مجھے عطا فرماتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس اُسے اُس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایااور اُسے بہترین پرورش دی۔اُس کی خیر خبر لینے والا زکریا(علیہ السلام) کو بنایا۔جب کبھی زکریا(علیہ السلام) اُس کے حجرے (محراب)میں جاتے تو اُس کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے۔وہ پوچھتے ؛اے مریم!یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی؟وہ جواب دیتیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کے پاس سے ہے۔بے شک اﷲ جسے چاہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 37 )
سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پرورش
حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میںسیدہ مریم رضی اﷲ عنہا آگئیں۔اور آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کی نگرانی اور حکم کے مطابق بہت اچھی پرورش کی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔”محراب“کے بارے میںروایت میں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے لئے ایک بالا خانہ بنوایا،جس کے سات دروازے تھے اور وہاں ان کو رکھا۔یا اِس سے بیت المقدس کی کوئی اعلیٰ جگہ مُراد ہے یا مسجد ہی مُراد ہے۔اس زبان میں ساری مسجد کو ”محراب“کہتے تھے۔جیسے اب مسجد کے غربی دیوار کے درمیانی حصے کو ”محراب “کہا جاتا ہے،جہاں کمان نما طاق بنا ہوتا ہے۔جیسے آج ”بیت اﷲ“(خانہ¿ کعبہ) ،مسجد حرام اور پورے مکہ¿ مکرمہ کی حدود کو”حرم“کہتے ہیں۔بلکہ مسجد نبوی شریف اور حدود مدینہ¿ منورہ کو بھی ”حرم“کہا جاتا ہے۔یعنی حرمت والی جگہ۔ایسے ہی لفظ ”محراب“بہت معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔یہاں بیت المقدس کا بالا خانہ ،وہاں کا کوئی خاص مقام مُراد ہے جو سیدہ مریم رضی اﷲ عنہاپرورش کے لئے منتخب ہوا تھا۔یعنی جب حضرت زکریا علیہ السلام سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے پاس اُن کے بالا خانے یا مسجد میں جاتے ۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔لفظ ”محراب“سے لوگوں کا ذہن بالعموم اس محراب کی طرف جاتا ہے جو ہماری مسجدوں میں امام کے کھڑے ہونے کے لئے بنائی جاتی ہے۔لیکن یہاں ”محراب“سے مُراد یہ چیز نہیں ہے۔صوامع اور کنیسوں میں اصل عبادت گاہ کی عمارت سے متصل سطح زمین سے کافی بلندی پر جو کمرے بنائے جاتے ہیں،جن میں عبادت گاہ کے مجاور،خدام اور معتکف لوگ رہا کرتے ہیں۔انہیں ”محراب“کہا جاتا ہے۔اسی قسم کے کمروں میں سے ایک میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا معتکف رہتی تھیں۔
اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے
سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا حضرت زکریا علیہ السلام کی نگرانی میں اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بڑی ہورہی تھیں۔سورہ آل عمران کی آیت نمبر 37کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کچھ بڑی ہوئیں تو منت کے مطابق اُن کو عبادت کے لئے مخصوص کر دیا گیا۔حضرت زکریا علیہ السلام جو اُسوقت عبادت خانہ(بیت المقدس ) کے متولی بھی تھے اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے خالو بھی تھے،اُن کی نگرانی میں دے دی گئیں۔ایک علحیدہ کمرہ میں اُن کو رکھا گیا۔ جب سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا جوان ہو گئیں تو حضرت زکریا علیہ السلام باہر سے تالا ڈال کر جایا کرتے تھے۔مگر جب واپس آتے تو دیکھتے کہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا عبادت میں مشغول ہیں اور اُن کے پاس بے موسم کے طرح طرح کے پھل رکھے ہوئے ہوتے تھے۔ایک دن حضرت زکریا علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس اتنے اچھے اور تاز پھل کہاں سے آتے ہیں ؟ تو سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے جواب دیا کہ یہ سب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور” اﷲ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام ایک دن پوچھ بیٹھے کہ بیٹی مریم تمہارے پاس یہ رزق کہاں سے آتا ہے؟سیدہ مریم صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرما کہ یہ اﷲ کے پاس سے آتا ہے۔”اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“مسند ابو یعلیٰ میں حدیث ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر کئی دن بغیر کچھ کھائے گذر گئے۔بھوک سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو تکلیف ہو نے لگی۔اپنی سب ازواجِ مطہرات رضی اﷲ عنہما کے گھر ہو آئے،لیکن کہیں بھی کچھ نہیں پایا۔اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئے اور دریافت فرمایا؛”بیٹی تمہارے پاس کچھ کے کہ میں کھالوں؟مجھے بھوک لگ رہی ہے۔وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کچھ بھی نہیں ہے۔اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم وہاں سے نکلے ہی تھے کہ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی کنیز نے دو روٹیاں اور چند گوشت کے ٹکڑے آپ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں لا کر پیش کئے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے اسے لیکر برتن میں رکھ لیا اور بسمہ اﷲ پڑھکر ڈھانک دیا۔پھر فرمایا کہ حالانکہ میں اور میرے شوہر اور بچے بھی بھوکے ہیں،لیکن ہم سب آج فاقے سے ہی گذاریں گے اور اﷲ کی قسم ! آج تو یہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہی خدمت میں پیش کروں گی۔پھر حضرت حسن یا حسین رضی اﷲ عنہ کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو بلا لائیں۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم راسے میں ہی تھے کہ مل گئے اور سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے عرض کیاکہ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !اﷲ تعالیٰ نے کچھ بھجوا دیا ہے،جسے میں نے آپ صلی اﷲ علیہ کے لئے چھپا کر رکھ دیا ہے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میری پیاری بیٹی!لے آؤ۔“اب جو برتن کھولا تو دیکھتی ہیں کہ روٹی اور سالن اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ برتن بھرگیا ہے۔دیکھ کر حیران ہوئیں،لیکن فوراًسمجھ گئیں کہ اﷲ کی طرف سے ہے اِس میں برکت نازل ہو گئی ہے۔اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر دورد ِ پاک پڑھا اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے لا پیش کر دیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی اسے دیکھ کر اﷲ کی تعریف بیان فرمائی اور فرمایا؛”اے میری پیاری بیٹی !یہ کہاں سے آیا؟“سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا مسکرائیں اور عرض کیا؛”یا رسول اﷲ صلی اﷲوسلم !اﷲ کے پاس سے آیا ہے۔اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اے میری پیاری بیٹی!اﷲ تعالیٰ نے تجھے بھی نے اسرائیل کی تمام عورتوں کی سردار جیسا کر دیا ہے۔انہیں جب بھی کوئی چیز عطا فرماتا اور اُن سے پوچھا جاتا تھا تو وہ بھی یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ ”اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو اور بچوں کو بلوایا۔اور سب ازواج مطہرات کو بھی بھیجا۔سب نے شکم سیر ہو کر کھایا۔پھر بھی اتنا ہی باقی رہا ،جتنا پہلے تھے۔پھر آس پاس کے پڑوسیوں کے یہاں بھیجا گیا ۔علامہ غلام رسول سعید لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر طبری اپنی سند سے لکھتے ہیں امام ضحاک بیان کرتے ہیں کہ حضرت زکریا علیہ السلام کے پاس سردیوں میں گرمیوں کے موسم کے بھی پھل آتے تھے،اور گرمیوں میں سردیوں کے موسم کے بھی آتے تھے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں