03 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر17
قسط نمبر 3
قوم کا اللہ پر ایمان لانا
حضرت یونس علیہ السلام کی قوم توبہ وا ستغفار میں مشغول تھی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آٹھ سو 800سال پہلے ملک عراق میں ایک قوم سیریا آباد تھی۔ ان کی سلطنت تھی اور اس سلطنت کا مرکزی مقام یعنی دارالخلافہ یا راجدھانی تقریباً پچاس50مربع میل پر پھیلا ہوا ایک شہر” نینوا “ دجلہ کے کنارے شہر موصل کے قریب واقع تھا۔ یہ قوم بہت ظالم اور بت پرست تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام متیٰ کے بیٹے بنی اسرائیل سے ہیں۔ حضرت الیاس علیہ السلام کی دعا سے دوبارہ زندہ ہوئے۔ اٹھائیس سال کی عمر میں نبوت کا تاج عطا فرمایا گیا۔ پھر قوم سیریا کی طرف بھیجا گیا۔ یہ قوم بنی اسرائیل نہیں تھی۔ اس قوم کو ”قوم یونس“ فرمانا امت ہونے کی بنا پر ہے۔ کیوں کہ ہر شخص نبی کی قوم میں شمار ہو تا ہے۔ جو ان کی امت ہوتی ہے۔ چاہے وہ اس کی نسبت برادری اور قبیلہ سے ہو یا نہ ہو۔ اس قاعدے سے قیامت تک کے سب مسلمان آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام نے ان کو ظلم اور بت پرستی چھوڑنے کی تبلیغ فرمائی۔ مگر انہوں نے آپ علیہ السلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا ۔ کافی عرصہ تبلیغ فرماتے رہے مگر ایک بھی مسلمان نہیں ہوا۔ تب آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، یہ تو میرا کہنا نہیں مان رہے ہیں۔ وحی آئی کہ تین دن بعد ان پر عذاب نازل ہو گا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے قوم کو عذاب کے بارے میں بتا دیا۔ تب قوم نے آپ میں مشورہ کیا ۔ بعض نے کہا۔ یہ جھوٹ ہے۔ مگر اکثریت نے کہا کہ اس سے پہلے تو انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ہے۔ ان کی یہ خبرآزمائش کے قابل ہے۔ اگر عذاب کی رات حضرت یونس علیہ السلام ہمارے ساتھ رہے تو سمجھ لینا کہ عذاب کی خبر جھوٹ ہے۔ اور اگر ہمیں چھو ڑکر چلے گئے تو سمجھ لینا کہ تم پر ضرور اللہ کا عذاب آئے گا۔ عذاب کے وعدے والے دن سے پہلی رات کا جب کچھ حصہ گزر گیا تو آپ علیہ السلام بستی سے نکل گئے۔ جب صبح طلوع ہوئی تو بستی والوں نے دیکھا کہ آسمان پر کالی گھٹائیں بڑے خوف ناک طریقے سے چھائی ہیں اور تمام بستی پر عجیب اداسی چھائی ہوئی ہے۔ اور گھٹاﺅں کا اندھیرا لمحہ بہ لمحہ زیادہ گہرا ہو تا جا رہا ہے۔ تب انہوں نے سمجھ لیا کہ اسی بادل میں عذاب ہے۔ اور یہ ہُو کا عالم عذاب ہی کا پیش خیمہ ہے۔ پھر پریشان ہوئے اور دوڑے۔ اور حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کرنے لگے۔ مگر آپ علیہ السلام نہیںملے تو اور بھی انہیں عذاب کا یقین ہو گیا۔ بس پھر کیا تھا۔ سب بڑے بوڑھے ،عورت مرد، بچے جوان گھروں سے باہر نکل آئے اور ہر شخص ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گیا۔ اولاد ماں باپ سے جدا ، کوئی کسی کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ سب عذاب سے معافی اور سابقہ کفر ، بت پرستی ظلم وغیرہ گناہوں سے سچی توبہ میں مشغول ہو گئے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر رو رو کر گڑ گڑا تے ہوئے عرض کر رہے تھے۔ اے ہمارے معبود ، ہم تیری وحدانیت پر اور تیرے انبیاءکی نبوت و تبلیغ پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں۔ ہم بت پرستی و ظلم سے توبہ کرتے ہیں۔ تو وہ عذاب ان سے ہٹا دیا گیا۔
قوم کی آہ وزاری
حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے اللہ کے عذاب کو اپنی طرف آتا دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آہ وزاری کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ جب حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کے خلاف بد دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ صبح کے وقت ان پر عذاب نازل ہو گا۔ تو انہوں نے کہا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے جھوٹ نہیں بولا ہے۔ ہم صبح کے وقت عذاب سے ضرور دوچار ہو ں گے۔ پس آﺅ، تا کہ ہم ہر شئے کے بچوں کو نکالیں۔ ہم انہیں اپنے بچوں کے ساتھ رکھیں گے شاید اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ پس انہوں نے عورتوں کو نکالا ، ان کے ساتھ بچے بھی تھے۔ انہوں نے اونٹ نکالے اور ان کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے۔ انہوں نے گائیں نکالیں اور ان کے ساتھ ان کے بچھڑے بھی تھے۔ انہوں نے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ نکالے اور بچوں کو بھی نکالا۔ پس انہوں نے ان کو اپنے آگے سامنے رکھا اور عذاب آگیا۔ پس انہوں نے عذاب دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی پناہ لی اور دعا کی۔ عورتیں اور بچے رونے لگے۔ اونٹ اور ان کے بچے بلبلانے لگے۔ گائیں اور ان کے بچھڑے دُکرانے لگے۔ بکرویں اور بھیڑوں اور ان کے بچے ممیانے لگے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا۔ اور عذاب کو ان سے پھیر دیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی اپنی تفسیر تبیان القرآن میں لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ جب حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو سر کشی پر ہی ڈٹا ہوا دیکھا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اور اپنی قوم کو خبر دی کہ تین دن بعد تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے گا۔ اور اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر وہاں سے چلے گئے۔ وہ ایک پہاڑ پر چڑھ کر اہل نینوا کو دیکھنے لگے۔ اور ان پر عذاب کے نازل ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام کی قوم نے جب اللہ کے عذاب کو آتے دیکھا تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ اور ان کو یقین ہو گیا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے سچ فرمایا تھا۔ پھر اس وقت بنی اسرائیل میں ( اہل نینواکے پڑوسی) جو انبیائے کرام تھے ان کی طرف رجوع کیا اور ان سے اس مصیبت کا حل دریافت کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ حضرت یونس علیہ السلام کو بلاﺅ، وہ تمہارے لئے دعا کریں گے اور ان کی دعا سے اللہ کا عذاب ٹل جائے گا۔ انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا۔ لیکن وہ نہیں ملے۔ تب قوم کے سرداروں نے کہا۔ آﺅ ہم سب مل کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کریں ۔ پھر وہ اپنے تمام مردوں ، عورتوں ، بچوں اور مویشیوں کو لے کر نکلے۔ انہوں نے ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے اپنے سروں پر راکھ ڈال لی۔ اپنے پیروں میں کانٹے بچھائے اور رو رو کر اور گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگے اور توبہ کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے صدق کو دیکھ کر ان کی توبہ قبول فرما لی۔
عذاب بہت قریب آگیا
حضرت یونس علیہ السلام کی قوم بری طرح رو رو کر توبہ کر رہی تھی۔ اور اللہ کے عذاب کو آتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ عذاب دھیرے دھیرے قریب آتا جا رہا تھا۔ اور قوم کا یہ حال تھا کہ کھانا پینا اور ہر دنیاوی ضروریات کو بھلا کر صرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ میں مصروف تھے۔ علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے اتنے صدق دل سے توبہ کی کہ اگر کسی نے اپنے گھر کی بنیاد میں ایک پتھر بھی نا جائز لگا یا ہوا تھا تو اس نے اپنے گھر کی پوری بنیاد اکھاڑ ڈالی، اور ایک پتھر کے بجائے کئی پتھروں کو نکال کر پھینک دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا عذاب ان سے ایک میل کے دو تہائی فاصلے پر تھا اور یہ بھی روایت ہے کہ وہ ایک میل کے فاصلے پر تھا۔ اور انہیں اللہ کے عذاب نے ڈھانپ لیا تھا اور اس میں سرخی تھی۔ پس وہ مسلسل قریب آتا رہا ۔ یہاں تک کہ قوم کے لوگ اس کی گرمی اپنے کندھوں کے درمیان محسوس کرنے لگے تھے اور حضرت ابن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عذاب نے انہیں اس طرح ڈھانپ لیا تھا کہ جیسے کوئی کپڑا قبر کو ڈھانپ لیتا ہے۔ پس انہوں نے صدق دل سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے عذاب اٹھا لیا۔
اللہ تعالیٰ نے قوم یونس کی توبہ قبول کر کے عذاب روک دیا
حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کو اللہ کے عذاب نے ڈھانپ لیا تھا ۔ اور قوم سچے دل سے اور اخلاص سے تڑپ تڑپ کر معافی مانگ رہی تھی۔ کیوں کہ وہ لوگ عذاب کی شدت کو محسوس کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے خلوص کو دیکھ رہا تھا۔ اور آخر کار اس کی رحمت ان کی طرف متوجہ ہوئی۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی اپنی تفسیر انوارا لبیان میں لکھتے ہیں۔ حضرت یونس علیہ السلام نینویٰ بستی کے رہنے والوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے جو موصل کی سر زمین (عراق) میں تھے۔ آپ علیہ السلام ان پر محنت کرتے رہے ، ایمان کی دعوت دیتے رہے۔ انہوںنے ایمان قبول نہیں کیا۔ بالا ٓخر آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا۔ تین دن بعد تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا۔ وہ آپس میں کہنے لگے کہ اس شخص نے کبھی جھوٹ نہیں کہا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ تیسری رات کو یہ یہیں رہتے ہیں یا نہیں۔ اگر یہ اس رات کو رہ گئے تو ہم سمجھیں گے کہ عذاب کی صرف دھمکی ہے اور اگر انہوںنے ہمارے ساتھ رات نہیں گزاری تو ہم سمجھ لیں گے کہ صبح عذاب آنے والا ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام تیسری رات کو ان کے درمیان سے نکل گئے۔ جب صبح ہوئی تو ان کی قوم نےعذاب کے آثار دیکھ لئے آسمان پر سخت سیاہ بادل چھا گئے اور دھواں نازل ہونے لگا جو ان کے شہر کے اوپر اور گھروں کی چھتوں پر چھا گیا۔ جب انہیں اپنی ہلاکت کا یقین ہو گیا تو ان لوگوں نے آپ علیہ السلام کو تلاش کیا ، لیکن کہیں نہیں پایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو توبہ کی طرف متوجہ پایا۔ وہ اپنی جانوں ، عورتوں ، بچوں اور جانوروں کو لے کر میدان میں نکل گئے۔ ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے اور اخلاص کے ساتھ توبہ کی اور ایمان قبول کیا۔ اور خوب چیخے چلّائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف عاجزی کے ساتھ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے ۔ حضرت یونس علیہ السلام جو کچھ لے کر آئے ہیں ہم اس پر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کی توبہ قبول فرمائی اور عذاب روک لیا۔ اور اس کے بعد ایک زمانہ تک وہ لوگ زندہ رہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیاوی چیزوں کے ذریعے فائدہ پہنچایا۔ ان میں سے ہر شخص دنیا میں اپنی عمر پوری کر کے مرتا رہا۔ اور عذاب کے ذریعے اجتماعی طور پر ہلاکت کا معاملہ طے کیا گیا تھا۔ وہ ختم کر دیا گیا۔ اس طرح حضرت یونس علیہ السلام کی قوم دنیا کی واحد قوم ہے جس نے عذاب کو دیکھ کر توبہ کی اور ان پر سے عذاب ٹل گیا۔
اللہ تعالیٰ نے عذاب کیوں روک دیا
اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں فرمایا۔ ترجمہ ” کوئی بستی ایمان نہیں لائی کہ اس کا ایمان لانا اس کے لئے فائدے مند ثابت ہوتا۔ سوائے یونس (علیہ السلام ) کی قوم کے۔ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے رسوائی کے عذاب کو دنیاوی زندگی میں ان پر سے روک دیا۔ اور ان کو ایک خاص وقت تک کے لئے زندگی سے فائدہ اٹھانے ( کا موقعہ ) دیا۔ (سورہ یونس آیت نمبر98) حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے اللہ کے عذاب کو اپنے اوپر آتا دیکھ کر سچے دل سے توبہ کر لی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے ان پر سے اپنا عذاب روک دیا۔ یہ واقعہ بتانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کا واقعہ بتایا ہے۔ اور اس میں بتایا کہ فرعون جب عذاب میں مبتلا ہو گیا توتب ایمان لانے کا اقرار کرنے لگا۔ لیکن ایسے وقت کا ایمان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قابل قبول نہیں ہے بلکہ ویسا ایمان اور توبہ قابل قبول ہے جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے کیا۔ اس کے بارے میں مولانا مفتی محمد شفیع نے اپنی تفسیر معارف القرآن میں بہت خوب صورت انداز میں لکھا ہے۔ آپ لکھتے ہیں۔ اس آیت میں ارشاد ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہو کہ منکر قومیں ایسے وقت ایمان لے آتیں کہ ان کا ایمان لانا ان کو نفع دیتا۔ یعنی موت کے وقت یا وقوع عذاب اور مبتلائے عذاب ہو چکنے کے بعد یا قیام قیامت کے وقت جب کہ توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ اور کسی کی توبہ اور ایمان قبول نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے پہلے اپنی سر کشی سے باز آجاتیں اور ایمان لے آتیں ۔ سوائے قوم یونس کے انہوںنے ایسا وقت آنے سے پہلے ہی جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا دیکھا تو فوراً توبہ کر لی اور ایمان لے آئے۔ جس کی وجہ سے ہم نے ان سے رسواءکرنے والا عذاب ہٹا لیا۔ اس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کا عذاب سامنے آجانے پر بھی توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ البتہ آخرت کا عذاب سامنے آجانے کےوقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اور عذاب آخرت کا سامنے آنا یا قیامت کے دن ہو گا یا موت کے وقت۔ چاہے وہ طبعی موت ہو یا کسی دنیاوی عذاب میں مبتلا ہو کر ہو۔ کیوں کہ انہوں نے آگر چہ عذاب آتا ہو ا دیکھ کر توبہ کی ، مگر عذاب میں مبتلا ہو نے اور موت سے پہلے کر لی۔ بخلاف فرعون اور دوسرے لوگوں کے ۔ جنہوں نے عذاب میں مبتلا ہو نے کے بعد اور غرغرہ¿ موت کے وقت تگوبہ کی اور ایمان کا اقرار کیا۔ اس لئے ان کا ایمان معتبر نہیں ہوا۔ اور توبہ قبول نہیں ہوئی۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں