03 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 18
قسط نمبر 3
حضرت ارمیاہ علیہ السلام
اللہ تعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا۔(ترجمہ) ہم نے بنی اسرائیل کے لئے اُن کی کتاب میں فیصلہ کر دیا تھا کہ تم زمین پر دو مرتبہ فساد کرو گے۔ اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کروگے۔ ان دونوں وعدوں میں سے پہلے کے آتے ہی ہم نے تمہارے مقابلہ پر ایسے لوگ بھیج دیئے جو بڑے ہی لڑاکے تھے۔ پس وہ تمہارے گھروں میں گھس گئے۔ اور اللہ کا یہ وعدہ پورا ہونا ہی تھا۔ پھر ہم نے تمہیں غلبہ دیا اور تمہارے دن پھیر دیئے۔ اور مال اور اولاد سے تمہار ی مدد کی۔ اور تمہیں بڑے جتھے والا بنا دیا۔ اگر تم نے اچھے کام کئے تواپنا ہی فائدہ کیا۔ اور برائیاں کیں تو خود اپنا ہی نقصان کیا۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا( تو ہم نے دوسروں کو بھیج دیا تا کہ) وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں۔ اور پہلی دفعہ کی طرح پھر اسی مسجد ( بیت المقدس) میں گھس جائیں اور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیں۔ ( سورہ بنی اسرائیل ۔ آیت نمبر4سے 7تک)
بنی اسرائیل کا پہلا فساد :
ان چار آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے دو مرتبہ زمین پر بہت بڑا اور زبردست فساد کیا۔ اور اُن کے پاس فساد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان پر ظالموں کو مسلط کر دیا۔ جنھوں نے بنی اسرائیل کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا پہلا وعدہ پورا ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر بنی اسرائیل کو غلبہ اور اکثریت عطا فرمائی۔ اور پھر بنی اسرائیل نے زمین پر دوسرا بڑا فساد کیا۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا دوسرا وعدہ پورا ہوا۔ اور ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ذلیل کیا اور ذلت اُن پر مسلط کر دی۔
بنی اسرائیل نے پہلا بڑا فساد یہ کیا کہ گمراہیوں اور برائیوں میں مبتلا ہو گئے۔ اور جب اللہ تعالیٰ انھیں سمجھانے کے لئے نبیوں کو بھیجتے تو یہ لوگ نبیوں کو جھٹلاتے ۔ اور اپنی ضد پر اڑے رہتے تھے۔ جب انبیائے کرام انہیں بار بار سمجھاتے اور گمراہیوں اور برائیوں کا احساس دلاتے تو بنی اسرائیل چڑ جاتے ۔ اور پھر انھوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ انبیائے کرام سے دشمنی کرنے لگے۔ اور انھیں ناحق قتل کرنے لگے۔ حضرت شعیا علیہ السلام اُن کے آخری شکار تھے۔ جن کو بنی اسرائیل نے بڑی بے رحمی سے آرے سے چیر دیا تھا۔ اور شہید کر دیا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا تھا۔
اس کے بعد بنی اسرائیل نے دوسرا بڑا فساد یہ کیا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کر دیااور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھوایا۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر ایسے ظالم لوگ مسلط کئے جنھوں نے بیت المقدس ( جسے بنی اسرائیل جو اپنے آپ کو یہودی کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔ ہیکل سلیمانی کہتے ہیں)کو مسمار کر کے پوری طرح زمین کے برابر کر دیا۔ اور بنی اسرائیل کا اتنی بے دردی سے قتل عام کیا کہ وہ جان پہچان کے لئے پوری دنیا میں بکھر گئے۔ دوسرے فساد کا مفصل تذکرہ حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات کے ذکر میں آئے گا۔ یہاں پہلے فساد کا مفصل تذکرہ ہوگا۔
حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی بعثت :
حضرت ارمیاہ علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو لاوی میں سے ہیں۔ حضرت شعیا علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی عوام اور بادشاہ نے ملکر بڑی بے رحمی سے شہید کر دیا تھا۔ بادشاہ نے خود حضرت شعیا علیہ السلام کے قتل کا حکم جاری کیا تھا۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام اس کے بُرے اعمال سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔ حضرت شعیا علیہ السلام کی شہادت کے بعد بنی اسرائیل بہت زیادہ گمراہیوں اور برائیوں میں مبتلا ہو گئے۔ آپ علیہ السلام ہمیشہ اُن برائیوں سے دور رہا کرتے تھے ۔ آپ علیہ السلا م بنی اسرائیل کے قبیلہ لادی سے تھے۔ اسی قبیلہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام بھی تھے۔ اور زیادہ تر انبیائے کرام علیہم السلام اسی قبیلہ سے ہوئے تھے۔ اسی لئے اس قبیلہ کو بنیوں کا قبیلہ کا جاتا تھا۔ صرف حضرت داﺅد علیہ السلام اسی قبیلہ سے ہوئے تھے۔ اسی لئے اس قبیلہ کو نبیوں کا قبیلہ کہا جاتا تھا۔ صرف حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام قبیلہ یہودا میں سے تھے۔ اور انھی کی نسبت سے بنی اسرائیل اپنے آپ کو یہیودی کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
حضرت ارمیاہ علیہ السلام پر وحی کا نزول :
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو آپ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی اور فرمایا۔ اے ارمیاہ ( علیہ السلام) میں نے تجھے پیدا کرنے سے پہلے ہی نبوت کے لئے منتخب کر لیا تھا۔ تیری والدہ کےپیٹ میں تیری تصویر بنانے سے پہلے تیری تعریف کی تھی۔ اور تیری ماں کے پیٹ سے نکلنے سے پہلے تجھے پاک کر دیا تھا۔ تیرے چلنے پھرنے کے قابل ہونے سے پہلے ہی تجھے نبوت کے لئے چُن لیا تھا۔ اور تجھے ایک بڑے کام کے لئے منتخب کر لیا تھا۔ ا ب اس کام کے کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اور تم بنی اسرائیل نصیحت کرو اور سمجھاﺅ انھیں میرے احکام بتاﺅ۔ انھیں برائیوں اور میری نافرمانیوں سے روکو۔ اور انھیں گمراہی سے نکالنے کی کوشش کرو۔
حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی عاجزی اور دعا :
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو نبوت عطا فرمائی اور آپ علیہ السلام نے اس کام پر غور و فکر کیا تو اندازہ ہو ا کہ یہ بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور بہت ہی صبر آزما اور محنت طلب ہے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیار کرتے ہوئے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ ، میں بہت کمزور ہوں اگر آپ مجھے قوی نہ کریں ۔ میں عاجز ہوں ، اگر آپ میرے اندر طاقت پید انہ کریں۔ میں غلطی کرنے والاہوں اگر آپ مجھے سیدھی راہ نہ دکھائیں۔ میں شکست خوردہ ہوں اگر آپ میری مدد نہ کریںاور میں ذلیل ہوں اگر آپ مجھے عزت عطا نہ کریں۔ اے اللہ تعالیٰ مجھے اس لائق بنا دے کہ میں ذمہ داری بہ خوبی ادا کر سکوں۔
اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا حاکم اور منتظم ہے :
اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر وحی فرمائی۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) تمام امور (کائنات کے تمام کام) میری مَشیّت( ارادہ) کے تابع ہے۔ اور تمام دل اور زبانیں میرے قبضے میں ہے۔ میں اللہ ہوں ۔ اور میرے جیسا کوئی نہیں ہے۔ آسمان اور زمین (اور یہ تمام کائنات) میرے ایک کلمہ (کُن یعنی ہو جا ، بن جا) کی وجہ سے برقرار ہے۔ میں سمندروں سے بات کرتا ہوں۔ وہ میرے قول کو سمجھتے ہیں۔ میں انھیں حکم دیتا ہوں اور وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ میں نے ان کے گرد خشکی کی حدیں مقرر کر دی ہیں۔ وہ ان حدوں سے تجاوز نہیں کرتے۔ وہ پہاڑوں جیسی موجیں لے کر آتے ہیں لیکن جب میری مقرر کردہ حدود تک پہنچتے ہیں تو میری اطاعت کے آگے سر جھکا دیتے ہیں۔
بنی اسرائیل کو نصیحت :
اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا ۔ اے ارمیاہ ( علیہ السلام) میں تیرے ساتھ ہوں۔ لہٰذا میرے ہوتے ہوئے کوئی تجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔ ( یہ تسلی اس لئے ہے کیوں کہ بنی اسرائیل نے بہت سے انبیاءکرام کو ناحق قتل کر دیا تھا۔ اور حضرت شعیا علیہ السلام کا قتل ہوئے زیادہ عرضہ نہیں گزرا تھا) میں تجھے اپنی مخلوقات میں سے سب سے بڑی مخلوق ( انسان) کی طرف بھیج رہا ہوں۔ تا کہ تم میرا پیغام اُن تک پہونچاﺅ۔ اور جو لوگ تمہاری اتباع کریں گے وہ اجر کے مستحق ہوں گے اور وہ کامیاب ہوں گے۔ تم بنی اسرائیل کو نصیحت کرو اور انھیں میرا پیغام سناﺅ۔ اور اُن سے کہو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے آباو اجداد کا تقویٰ تمہیں یاد دلاتا ہے۔ کہ تم انھیں یاد کر کے گناہوں سے پرہیز کرو۔ اور اجر حاصل کرو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے آباو اجداد کو اطاعت میں اور تمہیں نافرمانی میں مصروف پایا۔ کیا تم ایسے آدمی کو جانتے ہو جس نے میری اطاعت کی ہو اور ناکام ہوا ہو۔ یا کسی ایسے آدمی کو جانتے ہو جو میری( اللہ کی ) نافرمانی کر کے کامیاب ہو اہو ۔
بنی اسرائیل کی برائیاں اور نافرمانیاں :
اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا اے ارمیاہ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں ۔ جانور بھی اپنے بہتر گھر کو یاد کرتے ہیں تو ان کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل ہلاکت کی چراگاہ میں چر رہے ہیں۔ انھوں نے وہ راستہ چھوڑ دیا ہے جس راستے پر چل کر ان کے آباﺅ اجداد نے عزت پائی تھی۔ یہ عزت تو چاہتے ہیں لیکن کسی دوسرے راستے پر چل کر ۔ ان کے علماءاور عبادت گزاروں نے عوام کو جکڑ رکھا ہے۔ اور وہ ان سے وہ سلوک کرتے ہیں جس کا میری کتاب (توریت)اجازت نہیں دیتی ہے۔ ان ظالم علماءاور عبادت گزاروں نے عوام کے دلوں سے میرا سیدھا اور سچا راستہ مٹا دیا ہے۔ اور انھیں صرف میری اطاعت کا حکم تھا۔
بنی اسرائیل کے عوام بھی ان علماءاور عبادت گزاروں کے پیچھے چل کر میری نافرمانی کے راستے پر چل رہے ہیں۔ رہے ان کے بادشاہ اور امراء۔ تو وہ تکبر میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اور میرے عذاب سے بے خوف ہو گئے ہیں دنیا کی زندگی نے انھیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ علماءنے میری کتاب(کی آیات کو دنیاوی فائدے کے لئے توڑ مروڑ کر ) بیچ ڈالا۔ ان کے علماءاور بادشاہ اور اُمراءاور عام بنی اسرائیل سب نے مجھ سے کئے ہوئے عہد کو بھلا دیا ہے۔ انھوں نے میری کتاب(توریت) میں تبدیلیاں کر دیں ہیں۔ اور میرے رسولوں کو جھٹلا دیا ہے۔ انھوں نے بہت بڑی جسارت کی ہے۔ اور مجھ سے تعلق توڑ لیا ہے۔ اور میرے بارے میں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ مجھے میرے جلال، میرے بلند مرتبہ ہونے اور میری بلند شان ہونے کی قسم۔ میرے بندے کے لئے یہ قطعاً جائز نہیں ہے کہ وہ میرے علاوہ کسی اورکی عبادت کرے۔ اور کسی اور کی اطاعت کرے۔ ان کے فقہا، علماءاور عبادت گذار مسجدوں میں عبادت کرتے ہیں اور اس عبادت کے ذریعے دنیا طلب کرتے ہیں۔ وہ علم کے علاوہ کسی اور چیز سے تعلق نہیں رکھتے ہیںاور عمل کرنے کے بجائے کسی اور چیز کے لئے علم حاصل کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل بہت زیادہ ہیں ۔ لیکن وہ قہر ذرہ اور دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور دنیا کی محبت میں گھر ے ہوئے ہیں۔ وہ مجھ سے وہی تمنا کرتے ہیں جو ان کے آبا و اجداد کرتے تھے۔ اور مجھ سے وہی اکرام چاہتے ہیں۔ جو میں نے ان کے نیک اور فرمانبراد آباو اجداد کا اکر ام کیا تھا۔ اور یہ نافرمان بنی اسرائیل سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں کا ان کے علاوہ کوئی مستحق نہیں ہے۔ حالانکہ نہ ان میں سچائی ہے اور نہ تفکر ہے۔ اور نہ ہی تدبیر ہے۔ اور نہ ہی اس با ت کو یاد کرتے ہیں کہ میں نے کن اعمال کی وجہ سے ان کے آباﺅ اجداد کی مدد کی ہے۔ جب لوگوں نے میرے احکام میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی تو ان کے آبا ﺅ اجداد نے اس وقت میرے احکام کو برقرار رکھنے کے لئے اور ان پر عمل کرنے کے لئے کس قدر محنت کی۔ انھوں نے اپنی جان اور خون لگایا۔ مشکلات پر صبر کیا اور سچے دل سے محنت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ میرا کلمہ بلند ہو گیا۔ اور میرا دین غالب آ گیالیکن بنی اسرائیل نے اپنے آبا و اجداد کی قربانیوں کو بھلا دیا ان کے علمائ، فقہا اور قراءاپنی پسند کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیںاور بادشاہوں کی مرضی کے مطابق توریت کی آیات کا مطلب بیان کرتے ہیں۔ بدعتوں میں اُن کی اطاعت کرتے ہیں اور میرے دین میں نئی نئی باتیں نکالتے ہیں۔ اور بادشاہوں کی اطاعت کر کے میری نافرمانی کرتے ہیں۔ میرے عہد کو توڑ کر ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو نبھاتے ہیں۔ جو کچھ یہ جانتے ہیں اُس میں بھی یہ جاہل ہیں اور میری کتاب سے حاصل کردہ صحیح علم سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں