03 حضرت عیسیٰ علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 21
قسط نمبر 03
شیطان کی پریشانی
جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو اس وقت کے تما م بُت اوندھے گر پڑے تھے۔ تمام شیطان یہ دیکھ کر گھبرا گئے اور اس کی وجہ تلاش کرنے لگے۔ لیکن کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ آخر تمام شیطان اپنے سردار ابلیس کے پاس پہنچے وہ اس وقت سمندر میں اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ ابلیس نے جب تمام شیطانوں کو ایک ساتھ دیکھا تو گھبرا گیا۔ کیوں کہ جب سے انھیں اس نے اُن کے کام پر لگایا تھا تب سے پہلی بار سب کو ایک ساتھ دیکھ رہا تھااور سب کے سب پریشان بھی دکھائی دے رہے تھے۔ اس نے اُن سے پریشانی کی وجہ پوچھی تو سب نے بتوں کے گرنے کا واقعہ بتایا۔ ابلیس نے کہا۔ یہ بہت بڑا واقعہ ہے۔ ذرا رکو میں ابھی تحقیق کرکے آتا ہوں۔ یہ کہہ کر ابلیس دنیا کے ہر حصے میں گیا۔ لیکن کوئی خاص واقعہ نظر نہیں آیا۔ لیکن جب بیت اللحم کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ زمین سے آسمان تک فرشتے پورے بیت اللحم کو گھیرے ہوئے ہیں اور شیطان کو گھسنے کی کوئی جگہ نہیں تھی ۔ اُس نے گھسنے کی کوشش کی تو فرشتوں نے اسے دھکے مار کر بھگا دیا۔ وہ اپنے چیلوں کے پاس واپس آیا۔ اور بتایا کہ اس وقت سے سے اہم واقعہ یہ ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی ہے۔ اور میں اس لئے جان نہیں سکا کہ مجھے اس سے غافل رکھا گیا ہے۔
سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پریشانی
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بعد اُن کی والدہ نے اٹھا کر انھیں گود میں لے لیا۔اور کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں۔ اور سوچنے لگی کہ اب میں بنی اسرائیل کے سامنے کس طرح جاﺅں اور انھیں کیا جواب دوں۔ بہت سے اندیشے دماغ میں ابھرنے لگے اور گھبرا کر آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا۔ کاش میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد میں بھولی بسری ہو جاتی۔ فرشتوں نے اُن دونوں ماں بیٹے کو گھیر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک فرشتے نے آواز لگائی۔ غم نہ کرو اور پریشان مت ہوﺅ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر ہلاﺅ۔ تمہارے سامنے تازہ اور پکی ہوئی کھجوریں گریں گی اب چین سے کھاﺅ اور پیو اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو۔ اس کے بعد جب بستی میں جانا تو لوگوں سے کہہ دینا کہ میں نے چُپ کا روزہ رکھا ہے۔ اور تمہیں جو کچھ پوچھنا ہے وہ اس بچے سے پوچھ لو۔اﷲ تعالیٰ نے اس کے بارے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”(کھجورکے)تنے کے نیچے آواز دی گئی کہ غم زدہ نہ ہو تیرے رب نے تیرے پاو¿ں تلے ایک چشمہ جاری کردیاہے۔اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا ،یہ تیرے سامنے ترو تازہ پکی کھجوریں گرادے گا۔اب چین سے کھاپی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھ ،اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑجائے تو کہہ دینا کہ میں نے اﷲ رحمن کے کے نام کا روزہ مان رکھا ہے۔میں آج کسی شخص سے بات نہیں کروں گی۔“(سورہ مریم آیت نمبر 24سے26تک)
چُپ کا روزہ اُمت مُسلمہ میں نہیں ہے
اﷲ تعالیٰ نے اُن پر یہ رحم و کرم فرمایا کہ جس سوکھے کھجور کے تنے کے پاس سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا بیٹھی تھیں ،اُسے اﷲ تعالیٰ ہرا بھرا کر دیا اور اُس میں تازہ اور پکی ہوئی کھجوریں بھی تیار ہو کر لگ گئیں۔اِس کے ساتھ ساتھ اﷲ تعالیٰ نے وہیں پانی کا چشمہ بھی جاری کردیا۔اِس طرح اﷲ تعالیٰ نے اُن کے لئے کھانے اور پانی کا مسئلہ حل کر دیا۔اس کے بعد آگے رہنمائی فرمائی کہ تندرست ہونے تک سکون سے یہاں رہو،اور جب آبادی میں جانا یا کسی انسان سے سامنا ہو جائے تو کہنا کہ میرا چُپ کا روزہ ہے ،اِس بچے سے پوچھ لو۔یہاں ایک بات کا خیال رکھیں کہ پہلے کی اُمتوں میں یا صرف سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے لئے چُپ کا روزہ جائز تھا۔اُمت ِ مسلمہ میں چُپ کا روزہ نہیں ہے۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔قبل از اسلام یہ بھی عبادت میں داخل تھا کہ بولنے کا روزہ رکھے،صبح سے شام تک کسی سے بات نہ کرے۔اسلام نے اِس کو منسوخ کر کے یہ لازم کر دیا کہ صرف بُرے کلام ،گالی گلوچ ،جھوٹ ،غیبت وغیرہ سے پرہیز کیا جائے۔عام گفتگو ترک کرنا اسلام میں کوئی عبادت نہیں رہی ،اِس لئے اِس کی نذر ماننا جائز نہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔پھر ارشاد ہوا کہ کسی سے بات نہ کرنا ،اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں ۔یا تو مُراد یہ ہے کہ اُن کے روزے میں کلام (بات کرنا،بولنا)ممنوع تھا۔یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے پاس دو شخص آئے ۔ایک نے تو سلام کیا ،دوسرے نے نہیں کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”سلام نہ کرنے کی وجہ؟“لوگوں نے کہا؛”اِس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہیں کرے گا۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اسے توڑ دے ،سلام کلام شروع کر ،یہ تو صرف سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے لئے ہی تھا ۔کیونکہ اﷲ کو آپ رضی اﷲ عنہا کی صداقت و کرامت ثابت کرنا منظور تھی ،اِس لئے اسے عذر بنا دیا تھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کاگود میں بولنا
اس کے بعد سیدہ مریم رضی اللہ عنہا تندرست ہونے تک وہیں رہیں اور کھجوروں اور چشمے کے پانی پر گزارہ کرتی رہیں۔ جب پورے طور سے تندرست ہو گئیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گود میں لئے ہوئے بیت المقدس آئیں۔ تمام بنی اسرائیل اُن کے پاس جمع ہو گئے۔ کیوں کہ وہ بہت بڑی عبادت گزار اور نیک تھیں۔ اور سب لوگ اُن کی عزت کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے تمام لوگ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو اور اُن کی گود میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ انھیںحیرانی اس بات پر تھی کہ ہماری قوم کی سب سے نیک اور عبادت گزار لڑکی اچانک غائب ہو گئی اور کافی دنوں بعد آئی تو گود میں بچہ ہے۔ آخر بنی اسرائیل کے بڑے عالم نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے اشارے سے کہا کہ آج میں نے چُپ کاروزہ رکھا ہے ،اگر تمہیں کچھ پوچھنا ہے تو اس بچے سے پوچھ لو۔ انھوںنے کہا تم ہم سے مذاق کرتی ہو۔ یہ گود کا بچہ کیسے ہم سے بات کرے گا؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ کی گود میں فرمایا۔ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب ( انجیل) عطا فرمائی ہے۔ اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے۔ اس نے مجھے برکت والا بنایا ہے۔ جہاں بھی میں رہوں گا اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰة کا حکم دیا ہے ۔ جب تک میں زندہ رہوں اُس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے۔ اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا ہے۔ اور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوبارہ زندہ کھڑا کیا جاﺅں گا سلام ہی سلام ہے۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام چپ ہو گئے۔ اور تمام بنی اسرائیل حیرانی سے آنکھیں پھاڑے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہے تھے۔ انھیں یقین نہیں آرہا تھا کہ گود میں بچہ بول بھی سکتا ہے۔ اُن کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہیں ۔ در اصل یہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا امتحان لیا تھا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی نشانی بنایا تھا۔ لیکن ان بدبختوں نے اللہ کی نشانی کی قدر نہیں کی۔ اور آپ علیہ السلام کے دشمن بن گئے۔ اس کاذکر آگے آئے گا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں اِس کے بارے میں فرمایا؛ترجمہ”اب عیسیٰ (علیہ السلام)کو لئے ہوئے وہ اپنی قوم کے پاس آئی ۔سب کہنے لگے ،مریم تُو نے بڑی بُری حرکت کی۔اے ہارون کی بہن !نہ تو تیرا باپ بُرا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بد کار تھی۔مریم نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کیا ۔سب کہنے لگے کہ لو بھلا ہم گود کے بچے سے کیسے بات کریں؟بچہ بول اُٹھا!کہ میں اﷲ کا بندہ ہوں ،اُس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے۔اور اُس نے مجھے با برکت کیا ہے جہاں بھی میں رہوں ،اور اس نے مجھے نماز اور ذکوٰة کا حکم دیا ہے،جب تک میں زندہ رہوں۔اور اُس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بد بخت نہیں کیا۔اور سلام ہے مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوبارہ زندہ کھڑا کیا جاو¿ں۔یہ ہے صحیح واقعہ عیسیٰ بن مریم(علیہ السلام) کا ،یہی ہے وہ بات جس میں لوگ شک و شبہ میں مبتلا ہیں۔“(سورہ مریم آیت نمبر 27سے 34تک)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بچپن
اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہت سی خوبیاں عطا فرمائی تھیں اُن میں سے ایک خوبی یہ بھی تھی کہ آپ علیہ السلام کسی بھی کتاب کو ایک نظر دیکھتے تھے اور وہ کتاب آپ علیہ السلام کو یاد ہو جاتی تھی۔ سات سال کی عمر میں آپ علیہ السلام کوپڑھنے کے لئے اسکول یا مدرسہ لے جایا گیا۔ تو آپ علیہ السلام نے بڑی سے بڑی علمی کتاب پر ایک نظر ڈال کر رکھ دیتے تھے۔ بار بار یہ دیکھ کر ایک روز اُن کے معلم( استاد یا ٹیچر) نے اُن سے کہا۔ تم ان کتابوں کو ایک نظر دیکھ کر اس طرح رکھ دیتے ہو جیسے یہ سب کتابیں تمہیں یاد ہیں۔ حالانکہ ابھی تو تمہیں ابجد کے معنی بھی معلوم نہیں ہیں۔ استاد کی بات سُن کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ تو آپ کو معلوم نہیں ہیں۔ اُن کی یہ بات سن کر استاد نے طنزاً کہا۔ تو آپ اُن کے معانی بتادیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ پھر آپ اپنی مسند پر مجھے بیٹھنے دیں اور خود میری طرح میرے سامنے بیٹھیں تو میں انکے معانی آپ کو بتا وئں گا۔ استاد نے اُن کی اس بات کو مذاق سمجھ کر اپنی مسند اُن کے لئے خالی کر دی۔ اور ان کے سامنے شاگردوں کی طرح بیٹھکر بولے ۔ اب فرمائیے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔” الف “کے معنی ہیں” الا اللہ “ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔” ب “سے مراد ہے” بہا اللہ “ یعنی اللہ کی شان ۔ اور”ج “کا مطلب ہے” جمہتہ اللہ“ یعنی اللہ کا جمال ۔آپ علیہ السلام کی زبان سے اتنی چھوٹی سی عمر میں ابجد کے یہ معنی سن کر اُن کے استاد حیران رہ گئے۔
آج تمہاری ماں نے یہ پکایا ہے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بچپن میں اپنے اسکولی دوستوں سے یہ فرماتے کہ آج تمہاری ماں نے یہ پکایا ہے۔ اور ہر لڑکے کو الگ الگ بتاتے کہ آج اس کی والدہ نے یہ پکایا ہے۔ اور جب ہر بچہ اپنی والدہ سے جاکر اسی چیز کی فرمائش کرتا یعنی کھانے کو مانگتا تو اسکی والدہ حیرانی سے پوچھتی کہ بیٹا یہ تمہیں کس نے بتایا کہ آج میں نے یہ پکایا ہے؟ تو بچے انھیں جواب دیتے کہ یہ بات ہمیں عیسیٰ(علیہ السلام) نے بتائی ہے۔ یہ سن کر وہ حیران رہ جاتیں۔ کیوں کہ ہر ایک کے گھر میں الگ الگ چیزیں پکی ہوتی تھیں۔ جب اکثر ایسا ہونے لگا تو اُن لڑکوں کی والداﺅں نے اپنے اپنے بچوں سے کہا تم اُس بچے عیسیٰ(علیہ السلام ) کے ساتھ نہ رہا کرو۔
سیدہ مریم رضی اللہ عنہا اپنے بیٹے کو لے کر دوسری جگہ چلی گئیں
حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بچپن میں ایسے حیرت انگیز واقعات پیش آتے رہے ۔ اس سلسلے میں تاریخ کی کتابوں اور قرآن پاک کی تفسیروں میں بہت سے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ لیکن ہم ان دو واقعات پر ہی اکتفا کرتے ہیں ۔ ان واقعات کی وجہ سے آپ علیہ السلام بنی اسرائیل میںمشہور ہوتے جا رہے تھے۔ اور بنی اسرائیل جو بہت سی گمراہیوں اور برائیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔ وہ آپ علیہ السلام کی سچی اور کھری باتوں سے گھبرا جاتے تھے۔ اس لئے انھوں نے آپ علیہ السلام کے خلاف منصوبہ بندی شروع کر دی۔ اور آپ علیہ السلام کی جان کے دشمن بن گئے۔ آپ علیہ السلام کی والدہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے جب بنی اسرائیل (یہودیوں ) کے یہ ارادے دیکھے تو خاموشی سے آپ علیہ السلام کو لے کر دوسرے علاقے میں چلی گئیں۔ کس علاقے میں گئیں؟ اس بارے میں علمائے کرام نے کئی روایات پیش کی ہیں۔ کچھ روایات سے معلوم ہوا کہ ملک شام لے کر چلی گئیں۔ اور کچھ روایات سے معلوم ہوا کہ ملک مصر لے کر چلی گئیں تھیں۔ آج کل جو فلسطین ، لبنان اور شام ممالک ہیں۔ ان تینوں ممالک کو اس وقت کنعان کا علاقہ کہا جاتا تھا۔ اور ان تینوں علاقوں میں بنی اسرائیل آباد تھے۔ ان ممالک سے لگ کر مصر ملک ہے ۔ اس لئے بہت ممکن ہے کہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا آ پ علیہ السلام کو لے کر مصر چلی گئی ہوں ۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں