پیر، 5 جون، 2023

03 حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام Story of Prophet Ilyaas and Ysaa


03 حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام

سلسلۂ انبیاءعلیہم السلام 16

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 03

حضرت الیاس علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلایا

حضرت الیاس علیہ السلام نے اس وقت اعلان نبوت کیا تھا جب بنی اسرائیل بکھر چکے تھے۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ( جلیل القدر تابعی) فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس علیہ السلام کو بعلبک کی طرف مبعوث کیا۔ وہ قوم بتوں کی پوجا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل کے بادشاہ لوگوں پر بٹے ہوئے تھے۔ الگ الگ علاقوں میں الگ الگ بادشاہ کی حکومت تھی۔ اورہر بادشاہ اپنے علاقے پر حاکم تھااور وہیں کی آمدنی کھاتا تھا۔ حضرت الیاس علیہ السلام جس علاقے میں پیدا ہوئے تھے اس علاقے کا بادشاہ آپ علیہ السلام کی پیروی کرتا تھا۔ اور وہ اپنے ساتھی بادشاہوں میں سے اکیلا ہدایت پر تھا۔ یہاں تک کہ بت پرستوں میں سے کچھ لوگ ان تک پہنچے انہوں نے اس بادشاہ سے کہا۔ یہ ( حضرت الیاس علیہ السلام ) تمہیں گمراہی کی طرف بلاتا ہے۔ اس لئے تم بھی اُن بتوں کی پوجا کرو جن کی دوسرے بادشاہ پوجا کرتے ہیں۔ اور وہ بہت خوش ہیں اور انہیں دنیا کی ہر نعمتیں میسر ہیں۔ اور وہ اپنے اپنے ملک میں مقبول ہیں۔ اور جس کے بارے میں یہ ( یعنی حضرت الیاس علیہ السلام ) باطل کہہ رہے ہیں وہ صرف ان کا گمان ہے اور تمہیں ہم پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو کہنے والے شخص کے سر اور جسم کے بال کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت الیاس علیہ السلام نے اس شخص سے فرمایا۔ مجھے اپنے بادشاہ کے پاس لے چلو( آپ علیہ السلام اس بادشاہ کی طرف تشریف لے جانے لگے۔ اس بادشاہ کا نام اخی اب تھا) حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ آگے فرماتے ہیں۔ جس نے اس بادشاہ کے لئے اس معاملہ ( بُت کی پوجا) کو مزین کیا تھا ، وہ اس کی بیوی ( ایزبل) تھی۔ پہلے وہ ایک جابر بادشاہ کی بیوی تھی۔ وہ کنعانی تھا اور طویل قد اور جسیم اور حسین تھا۔ جب وہ مر گیا تو اس عورت (ایزبل) نے اس کا سونے کا ایک بت بنوایا۔ اس کی یاقوت کی دو آنکھیں بنوائی اور موتیوں اور جواہر کا تاج پہنایا۔ پھر اسے تخت پر رکھا۔ وہ اس کے پاس جاتی ، اس دھونی دیتی، اسے خوشبو لگاتی اور اس کے سامنے سجدہ کرتی تھی۔ پھر اس کے پاس سے باہر آجاتی تھی۔ اس کے بعد اس نے اس بادشاہ ( اخی اب) سے شادی کی ۔ جس کی طرف حضرت الیاس علیہ السلام سفر کر رہے تھے۔ وہ عورت مشرک اور فاجر تھی۔ اس نے اپنے شوہر پر غلبہ پا لیا اور بعل کے بت کو اس کے کمرے میں رکھ لیا تھا۔ اس نے ستر خدمت گار ( پجاری) رکھے تھے۔ اور اس کے شوہر نے پورے علاقے میں مندر بنوا کر اس بت کو رکھوا دیا تھا۔ اور سب اس کی پوجا کرتے تھے۔ حضرت الیاس علیہ السلام اس کے پاس پہنچے اور بادشاہ اور اس کی بیوی اور وہاں کی عوام کو اسلام کی دعوت دی ۔اور بعل بت کی پوجا کرنے سے منع فرمایا۔ لیکن ان لوگوںنے آپ علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلا دیا اوربدستور بعل کی پوجا کرتے رہے۔ آپ علیہ السلام انہیں ہر طریقے سے سمجھاتے رہے۔ لیکن وہ بد بخت مسلسل آپ علیہ السلام کو جھٹلاتے رہے۔

حضرت الیاس علیہ السلام پہاڑ کے غار میں روپوش

حضرت الیاس علیہ السلام سلطنت سامریہ کے حکمراں کو اور عوام کو اسلام کی مسلسل دعوت دیتے رہے۔ لیکن حکمراں کی بیوی نے اپنے شوہر اور عوام کو پوری طرح جکڑ رکھا تھا۔ اس نے سامریہ میں سے ایک بہت بڑا بیس ہاتھ کا بت بنا رکھا تھا۔ اس کے چار منہ اور سر تھے۔ اس نے اس کے اطراف بہت بڑا مندر بنوایا تھا۔ اور چار سو خدمت گار ( پجاری) مقرر کر رکھے تھے۔ جنہیں نعوذ باللہ انبیاکہا جاتا تھا۔ قاضی ثنا ءاللہ پانی پتی اپنی تفسیر مظہری میں علامہ بغوی کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔ بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ بعلبک اور اور اس کے گرد و نواح میں قیام پذیر تھا۔ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ اس وقت بعلبک کا بادشاہ اجب ( اخی اب) تھا۔ وہ بادشاہ خود بھی بت پرست تھا۔ اور لوگوں کو بھی بتوں کی پوجا کا حکم دیتا تھا۔ اس کی بیوی کا نام ازبیل تھا۔ اور وہ بادشاہ پر اور حکومت پر بہت اثر رکھتی تھی۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا۔ لیکن وہاں کی عوام اپنے بادشاہ اور ملکہ کی بات مانتی تھی۔ حالانکہ آپ علیہ السلام بادشاہ کو سمجھاتے اور اسے شرک سے بچانے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن وہ اپنی بیوی کے بہکانے میں آگیا۔ اور آپ علیہ السلام کو سزا دینے اور قتل کرنے کا ارادہ بنا لیا۔ اس نے آپ علیہ السلام کو گرفتار کرنے کا اعلان کر دیا۔ سپاہیوں نے آپ علیہ السلام کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے آبادی کو چھوڑ دیا۔ اور ویرانے میں جا کر پہاڑوں کے غار میں پناہ لی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام سات سال تک اس سے بچنے کے لئے گھاٹیوں اور غاروں میں بسر اوقات کرتے رہے۔ زمین کی جڑی بوٹیاں، درختوں کے پتے اور پھل کھا کر گزارا کرتے رہے۔ بادشاہ کے سپاہی آپ علیہ السلام کی تلاش کرتے رہے۔

حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام کی والدہ سے ملاقات

حضرت الیاس علیہ السلام سات سال تک ویرانوں اور بہت سے گھروں والے علاقوں میں بھٹکتے رہے۔ اسی دوران آپ علیہ السلام کی ملاقات یونس بن متیٰ علیہ السلام کی والدہ سے ہوئی تھی۔ وہ بنی اسرائیل کی مومنہ تھیں اور آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئی تھی۔ آپ علیہ السلام چھ مہینے تک ان کے علاقے میں رہے۔ اس وقت حضرت یونس علیہ السلام دودھ پیتے بچے تھے۔ لگ بھگ چھ مہینے بعد بادشاہ اخی اب کو معلوم ہوا آپ علیہ السلام اس علاقے میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس نے گرفتاری کے لئے سپاہی بھیجے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دے دی اور سپاہیوں کے آنے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام وہاں سے نکل کر پہاڑوں کے غاروں میں چلے گئے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی والدہ نے دودھ چھڑایا تو آپ علیہ السلام بیمار رہنے لگے۔ قاضی ثنا ءاللہ پانی پتی ، علامہ بغوی کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔ اُن کے لئے یہ مصیبت ( بیٹے کی بیماری) بہت عظیم تھی۔ کچھ دنوں بعد بیٹے کا انتقال ہو گیا۔ حضرت یونس علیہ السلام کی والدہ نے بیٹے کو کپڑے میں لپیٹ دیا اور حضرت الیاس علیہ السلام کی تلاش میں نکل گئیں۔ وہ پہاڑوں پر چڑھتی اترتی رہیں ۔غاروں میں تلاش کرتی رہیں۔ وادیوں میں آواز لگاتی رہیں۔ آخر کار سات دنوں کے بعد آپ علیہ السلام سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے تمام باتیں بتائی اور درخواست کی ۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، آپ واپس چلیں اور مجھ پر رحم فرمائیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ میرے بیٹے کو زندہ کر دے۔ میں نے ابھی تک اسے دفن نہیں کیا ہے۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے فرمایا۔ بی بی جی، میرا کام اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ مردے زندہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو بدلنا میرا کام نہیں ہے۔ وہ مومنہ عورت روتی رہی اور گڑ گڑاتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کا دل اس کی طرف مائل کر دیا۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہارے بیٹے کا کب انتقال ہوا ہے؟ تو اس مومنہ نے عرض کیا ۔ سات دن ہو چکے ہیں۔ آپ علیہ السلام اس کے ساتھ چل پڑے اور سات دنوں تک چلتے رہے۔ جب بچے کے پا س پہنچے تو اس کا انتقال ہوئے چودہ 14دن گزر چکے تھے۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے پہلے وضو کیا اور نماز ادا کی اور پھر دعا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت یونس علیہ السلام کو زندہ کر دیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام فوراً وہاں سے چلے آئے۔ اور پہاڑوں میں غاروں میں پناہ لی۔ کیوں کہ اخی اب کے سپاہی اس علاقے میں تلاش کر رہے تھے۔

اللہ تعالیٰ کی بادشاہ پر پکڑ

حضرت الیاس علیہ السلام کو پہاڑوں میں بھٹکتے ہوئے کئی سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے اخی اب کو سنبھلنے اور صحیح راستے پر آنے کا ایک اور موقع دیا۔ اور اس کے بیٹے کو بیمار کر کے اسے آزمائش میں مبتلا کیا۔ قاضی ثنا ءاللہ پانی پتی آگے علامہ بغوی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اخی اب کے بیٹے کو مریض کر دیا۔ وہ بہت پیار ا تھا اور اپنے باپ کی مشابہت رکھتا تھا۔ مرض اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ بادشاہ اس کی زندگی سے مایوس ہو گیا۔ اس نے اور اس کی بیوی ایزیبل نے اپنے بت بعل سے دعا مانگی اس وقت کے لوگ بعل کی وجہ سے گمراہی میں مبتلا تھے۔ وہ اس بت کا بہت احترام کرتے تھے۔ حتیٰ کہ بادشاہ کی بیوی نے اس کے شاہی مندر کے لئے 400چار سو خادم ( پجاری) مقرر کر رکھے تھے۔ ان مجاوروں اور خادموں کو انبیاءکہا جاتا تھا۔ ابلیس شیطان بعل بت کے اندر داخل ہو جاتا تھا اور باتیں کرتا تھا۔ یہ چار سو مجاور پورے انہماک سے شیطان کی باتیں سنتے تھے۔ اور اسی کے مطابق لوگوں کو بتاتے تھے۔ ( در اصل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے شیطانوں اور جناتوں کو پہلے آسمان کے دروازے کے قریب جانا منع نہیں تھا ۔ اسلئے ابلیس شیطان اور اس کے ساتھی پہلے آسمان کے دروازے سے کان لگائے رہتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ تقدیر کے جو فیصلے فرشتوں کو سناتے تھے وہ فرشتے ایک دوسرے تک پہنچاتے تھے۔ اور پہلے آسمان کے فرشتے یہ پیغام سن کر دنیا میں آتے تھے۔ ان میںسے بہت سی باتیں ابلیس شیطان اور اس کے ساتھی سن کر ان فرشتوں سے پہلے زمین پر آکر انسانوں کو بتا دیتے تھے۔ اور کاہن اور دوسرے بتوں کے پجاری یہ باتیں انسانوں کو بتاتے تھے۔ کہ فلاں دن بعد یہ ہوگا اور فلاں وقت یہ ہوگا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ نے پہلے آسمان کے دروازے پر بھی فرشتوں کو پہرے پر بٹھا دیا۔ اب اگر کوئی شیطان یا جنات چوری چھپے پہلے آسمان کے قریب جاتا ہے تو اسے شہاب ثاقب پھینک کر مارا جاتا ہے۔ جس سے وقتی طور پر وہ جل جاتا ہے لیکن چونکہ آگ سے بنا ہوا ہوتا ہے تو تھوڑی دیر بعد اپنی اصلی شکل میں واپس آجاتا ہے۔) جب لڑکے کا مرض شدت اختیا ر کر گیا تو بادشاہ نے ان مجاوروں سے درخواست کی کہ بعل کے سامنے میری سفارش کریں اور اسکے بیٹے کےلئے شفا طلب کریں۔ مجاروں نے دعائیں مانگیں۔ لیکن اس بت نے کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو روک دیا تھا۔ مجاور کافی عرصے تک دعا مانگتے رہے۔ جب بعل نے کچھ نہیں بتایا تو مجاوروں نے کہا کہ ملک شام میں چند اور بت ہیں۔ ان کی طرف مجاوروں کو بھیجو۔ شاید وہ تیرے معبود بعل سے سفارش کریں۔ کیوں کہ بعل تجھ سے ناراض ہے۔ اسی لئے کوئی جواب نہیں دے رہا ہے۔ بادشاہ نے کہا۔ میں اس کی اطاعت اور پوجا کرتا ہوں، پھر کیوں وہ مجھ سے ناراض ہے۔ مجاوروں نے کہا۔ اس کی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ تو نے الیاس ( علیہ السلام ) کو زندہ چھوڑ دیا ہے۔

بادشاہ کو ایک اور موقع

حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں مجاوروں نے بادشاہ کو بھڑکایاتو اس نے کہا کہ الیاس (علیہ السلام ) سے میں ضرور نبٹوں گا۔ لیکن اس سے پہلے مجھے اپنے بیٹے کی بیماری کی فکر ہے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی آگے لکھتے ہیں کہ بادشاہ نے کہا ۔ اگر میرے بیٹے کا مرض اچھا ہو گیا تو میں اسے ( حضرت الیاس علیہ السلام ) تلاش کر کے قتل کردوں گا۔ اور اپنے معبود ( بعل ) کو راضی کر وں گا۔ پھر اس نے چار سو انبیاء( مجاوروں) کو ملک شام کے دوسرے بتوں کے پاس بھیجا کہ وہ بت بادشاہ کے بت سے اس کی سفارش کریںگے کہ اس کے بیٹے کو شفا ہو جائے۔ جب وہ چار سو کا جتھہ ملک شام جا رہا تھا تو راستے میں اس پہاڑ کے پاس سے گزرا۔ جس کے ایک غار میں حضرت الیاس علیہ السلام نے پناہ لے رکھی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ کہ اس پہاڑ سے اترو اور ان سے جا کر ایسا کہو۔ حضرت الیاس علیہ السلام غار سے باہر آئے۔ نیچے وہ لوگ وادی میں سے گزرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے انہیں آواز لگائی تو وہ رک کر اوپر دیکھنے اور انہیں حضرت الیاس علیہ السلام نیچے اترتے نظر آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ وہ خوف زدہ ہو کر آپ علیہ السلام کو دیکھنے لگے۔ قریب آنے کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف اور تمہارے بادشاہ کی طرف بھیجا ہے۔ اے میری قوم، اپنے رب کا پیغام غور سے سنو تا کہ تم اپنے بادشاہ کے پاس جا کر یہ پیغام پہنچا دو۔ اپنے بادشاہ سے کہنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے اجب ، کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں اللہ ہوں اور میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور میں ہی بنی اسرائیل کا رب اور معبود ہوں۔ جس نے انہیں پیدا کیا، رزق عطا فرمایا۔ انہیں زندہ کرتا ہوں۔ تیرے ( بادشاہ کے ) کم علم نے تجھے اس بات پر ابھارا کہ تو میرا شریک ٹھہرائے اور میرے علاوہ دوسروں کو معبود بنا کر ان سے اپنے بیٹے کی شفا طلب کرتے ہو۔ جن کے پاس کچھ نہیں ہے اور اگر میں نہ چاہوں تو وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اس لئے اب بھی موقع ہے ۔ اُن بتوں کی پوجا چھوڑ کر میری عبادت کرو۔ اور اگر تو پھر بھی نہیں مانا تو تجھ پر اور بنی اسرائیل پر میرا غضب نازل ہو گا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں