03 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام
شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 19
قسط نمبر 3
حضرت دانیال علیہ السلام کی دعا
حضرت دانیال علیہ السلام کی تدفین کے بارے میں کئی روایات ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت دانیال علیہ السلام سے دعا کی تھی :”اے اﷲ رب العزت! وہ آخری نبی صلی اﷲ علیہ وسلم جن کا بنی اسرائیل انتظار کررہے ہیں میں چاہتا ہوں کہ ’[اُس آخری نبی“ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کے لوگ مجھے دفن کریں۔“ اﷲ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور آپ علیہ السلام کی حفاظت فرمائی ۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں جب عراق ایران فتح ہورہے تھے ۔ اسی دوران حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے ”تستر“ فتح کیا تو ہرمزان کے خزانے میں ایک تخت پر ایک لاش رکھی ہوئی ملی اور لاش کے سرہانے ایک عبرانی زبان میں لکھا ہوا مصحف رکھا ہوا تھا ۔ لاش کی اُنگلی میں ایک انگوٹھی بھی تھی جس پر نقش بنا ہوا تھا کہ دو شیر ایک شخص کا پید چاٹ رہے ہیں ۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے وہ مصحف حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں روانہ کردیا ۔
حضرت دانیال علیہ السلام کی تدفین
حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو عبرانی زبان میں لکھا ہوا وہ مصحف پہنچا تو آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت کعب بن احبار کو بلوایا ۔ وہ عبرانی زبان جانتے تھے ۔ وُنہوں نے اس مصحف کا وربی ترجمہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت دانیال علیہ السلام کی لاش ہے ۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حُکم بھیجا کہ لاش مبارک کو خفیہ طور سے دفن کراو¿ ۔ اُس کے ساتھ جو خزانہ ملا ہے اُسے لشکر میں تقسیم کردو اور خمس بیت المال کے لئے بھیج دو اور انگوٹھی تم رکھ لو ۔حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی عنہ نے وہ انگوٹھی رکھ لی جو نسل در نسل اُن کی اولاد میں چلتی رہی ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے حضرت دانیال علیہ السلام کو غسل دیا اور نماز جنازہ پڑھائی ۔ اس کے بعد انتہائی خفیہ طریقے سے اُن کی تدفین کی ۔ ایک روایت میں ہے کہ تین سزائے موت پاچکے قیدیوں کو لا کر قتل کرکے چار الگ الگ قبریں کھدوائیں اور ایک میں آپ علیہ السلام کو دفن کیا ۔ ایک روایت میں ہے کہ تیرہ الگ الگ قبریں کھدوائیں اور اُن میں سے ایک میں دفن کیا اور بھی کئی روایتیں ہیں ۔ اب حقیقت کا علم صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے ۔
بنی اسرائیل کی جدوجہد
حضرت دانیال علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی غلامی کے چھبیسویں 26 ویں سال یا ستائسویں 27 ویں سال میں اعلان نبوت کیا تھا ۔ اُس کے ساتھ یا آٹھ کے بعد میں بخت نصر نے آپ علیہ السلام کو شیروں کے ساتھ کنویں میں قید کردیا تھا ۔ اس کے بعد وہ صرف پانچ سال ہی حکومت کرسکا تھا ۔ اس کے بعد اُس کا انتقال ہوگیا لیکن اِن پانچ سالوں میں وہ سکون سے حکومت نہیں کرسکا ۔ بنی اسرائیل مسلسل اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور بخت نصر بزور ِ طاقت اُنہیں دبانے کی کوشش کرتا رہا ۔ بخت نصر نے چالیس 40 سال حکومت کی اور اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا المرودخ بابل کا بادشاہ بنا ۔ اُس نے تین یا چار سال حکومت کی اس کے بعد بہمن بابل کا بادشاہ بنا ۔ اُس کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل کو آزادی ملی اور وہ حضرت عُزیر علیہ السلام کے ساتھ اپنے علاقے میں واپس آئے ۔ اِس کا تفصیلی ذکر ہم انشاءاﷲ حضرت عُزیر علیہ السلام کے ذکر میں کریں گے ۔
بنی اسرائیل کی نافرمانیاں
حضرت شعیا علیہ السلام کے حالات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ بنی اسرائیل اور اُن کے علما اور بادشاہ سب گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے تھے ۔ آپ علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایا اور اﷲ رب جلال کے عذاب سے ڈرایا لیکن بنی اسرائیل نافرمانیوں سے باز نہیں آئے اور اُلٹا آپ علیہ السلام کی جان کے دشمن بن گئے اور بے رحمی سے شہید کردیا ۔ اِس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک اور موقع دیا اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو سمجھایا اور آپ علیہ السلام کی بات یوسیاہ بادشاہ نے مانی اور اﷲ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق حکومت کی ۔ لیکن اُس کے انتقال کے بعد بنی اسرائیل اور بادشاہ پھر نافرمانی کرنے لگے ۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بہت سمجھایا اور بتایا کہ اگر تم لوگ برائیوں اور نافرماینوں سے باز نہیں آو¿ گے تو اﷲ تعالیٰ تم پر کسی ظالم بادشاہ کو مسلط کردے گا اور وہ تمہیں غلام بنا کر لے جائے گا ۔ یہ سن کر بھی بنی اسرائیل اور اُن کے بادشاہ کی آنکھ نہیں کھلی اور اُن کے علماءاور بادشاہ اور عوام سب لوگ خلاف ہوگئے اور آپ علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا ۔
ستر 70 سال غلامی کی زندگی گزاروگے
حضرت ارمیاہ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو سمجھا رہے تھے تب انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر تم نافرمانیوں اور گمراہیوں سے باز نہیں آو¿ گے تو اﷲ تعالیٰ تمہیں دوسروں کا غلام بنا دے گا اور تم ستر 70 سال تک غلامی کی زندگی گزاروگے ۔ یوسیاہ بادشاہ کے بیٹے یہویقیم کی حکومت کے چوتھے سال میں بخت نصر بابل کا بادشاہ بنا ۔ اِن چار سالوں میں حضرت ارمیاہ علیہ السلام بنی اسرائیل اور یہویقیم کو سمجھاتے رہے لیکن دن بہ دن اُن کی نافرمانیاں اور گمراہیاں میں اضافہ ہی ہوتا جارہا تھا ۔ آپ علیہ السلام نے اُن سے فرمایا :”پچھلے تئیس 23 سال سے (یوسیاہ کی حکومت کے تیرہویں سال سے ) آج تک اﷲ کا کلام مجھ پر نازل ہوتا رہا ہے اور میں بار بار تمہیں سناتا رہا ہوں ۔ یوسیاہ بادشاہ نے میری بات مانی اور کامیاب رہا ۔ لیکن اُس کے بعد تم لوگ اﷲ کی نافرمانی اور گمراہیوں میں مبتلا رہوگئے اور میری بات ماننے کے بجائے ،میری مخالفت کررہے ہو ۔ تم نے اﷲ کے کلام کو ٹھکرا دیا ۔ اب بھی وقت ہے تم میں سے ہت ایک برے راستوں پر چلنے سے اور برے اعمال کرنے سے باز آجائیں تاکہ تم اِس ملک میں رہ سکو جو اﷲ تعالیٰ نے تمہیں اور تمہارے باپ دادا کو دیاہے ۔ غیر موبدوں کو پوجا اور عبادت سے باز آو¿ اور اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی مورتیوں کی پوجا کرکے اﷲ کے غضب کو دعوت مت دو ۔ لیکن تم نے میری بات نہیں مانی ۔ اﷲ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تم نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیزوں کی عبادت کرکے مجھے غضب ناک کردیا ہے اور خود اپنا نقصان کرلیا ہے ۔ اِس لئے اﷲ رب الافواج فرماتا ہے کہ چونکہ تم نے میرا کلام نہیں سنا ۔ اِس لئے ظالم بخت نصر بابل کے بادشاہ کو تم پر مسلط کردوں گا اور تمہارے اوپر چڑھا لاو¿ں گا اور تمہیں بالکل برباد کردوں گا تاکہ تم دہشت ، حقارت اور تباہی اور بربادی کی مثال بن جاؤ گے ۔ یہ تمام ملک غیر آباد اور ویرانہ بن جائے گا اور تم لوگ ستر 70 سال تک بال کے بادشاہ کے خدمت گزار بن جاؤگے ۔
اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عذاب یا سزا
حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی زبانی اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو صاف لفظوں میں وارننگ دی تھی لیکن وہ بدبخت اتنے زیادہ گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے تھے کہ انہوں نے آپ علیہ السلام کے ڈرانے کو کوئی اہمیت نہیں دی ۔ اُلٹا آپ علیہ السلام کے دشمن بن گئے اور زجو¿نجیروں میں جکڑ کر قید خانے میں ڈال دیا ۔ آخر کار بنی اسرائیل پر اﷲ تعالیٰ کا عذاب یا سزا بخت نصر کی شکل میں نازل ہوا ۔ اُس نے لاکھوں بنی اسرائیل کا قتل عام کیا ۔ تمام شہروں اور بستیوں کو جلا دیا اور تباہ و برباد کرڈالا ۔ یہاں تک کہ ہیکل سلیمانی یعنی بیت المقدس کو مسمار کردیا اور اُس میں کی تمام قیمتی چیزیں لوٹ لیں ۔ اور بچے کچے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر بابل لے گیا ۔بخت نصر کی غلامی میں بنی اسرائیل نے لگ بھگ چھبیس 26 یا ستائیس 27 گزارے تو حضرت دانیال علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا اور بنی اسرائیل کو سمجھانے لگے اور اﷲ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد یاد دلانے لگے اور اُنہیں غلامی کی زندگی سے نجات دلانے کے لئے جدوجہد کرنے لگے ۔ دھیرے دھیرے سات یا آٹھ سال کی جدوجہد کے بعد بنی اسرائیل نے اچھی خاصی بیداری پیدا ہوگئی ۔ بخت نصر کو خبر ہوئی تو اُس نے آپ علیہ السلام کو باغٰ قرادے کر بغاوت پھیلانے کے جرم میں قید خانے میں ڈال دیا۔ جہاں آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی جوار رحمت میں بلا لیا ۔
بنی اسرائیل کی کامیابی
حضرت دانیال علیہ السلام کو بخت نصر نے قید کر دیا لیکن آپ علیہ السلام نے ایسا بیج بو دیا تھا کہ آپ علیہ السلام کی تحریک مسلسل جاری رہی ۔ بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کی قید کی وجہ سے پوری طرح جاگ گئے اور اپنی آزادی کے لئے مسلسل جدوجہد کرنے لگے ۔ بخت نصر طاقت سے اُنہیں دباتا رہا لیکن کامیاب نہیں ہوسکا ۔ آخر کار اُس کا انتقال ہوگیا اور اُس کا بیٹا المردوخ بابل کا بادشاہ بنا ۔ اُس کے دورِ حکومت میں پڑوسی ملک فارس (ایران) میں زرتشت کا مذہب پھیل گیا تھا اور وہاں آگ کی پوجا عام ہوگئی تھی ۔ (زرتشت حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے شاگردوں میں سے ایک تھا اور گمراہ ہو کر فارس بھاگ گیا تھا ۔ اس کا تفصیلی ذکر حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے ذکر میں پڑھیں) اور دھیرے دھیرے ”سلطنت فارس“ کی حکومت عروج پر آرہی تھی ۔ المردوخ نے تئیس 23 سال حکومت کی اور اُس کے دورِ حکومت میں بھی بنی اسرائیل کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رہی اور وہ طاقت سے دبانے کی کوشش کرتا رہا ۔ اِس طرھ پہلے بخت نصر اور پھر اُس کے بیٹے کی ساری توجہ اندرونی حالات درست کرنے پر مرکروز رہی اور پڑوسی ممالک پر سے توجہ ہٹ گئی ۔ جس کی وجہ سے ملک فارس بہت مضبوط ہوگیا ۔ بنی اسرائیل کے علما نے فارس جا کر وہاں کے بادشاہ سے دوستی کرلی اور اُسے بابل کی حکومت کے خلاف اُکسانے لگے ۔ المردوخ کو قتل کرکے بہمن تب تک بابل کا بادشاہ بن گیا تھا ۔ اُس وقت تک فارس کی حکومت بہت طاقتور اور بابل کی حکومت بہت کمزور ہوگئی تھی ۔ آخر کار فارس کا بادشاہ ”خواس“ فوج لیکر بابل پع حملہ کرنے آیا ۔ بہمن نے اُس سے صلح کرلی اور اُس کی اطاعت قبول کرلی ۔ تب خورس نے بہمن کو حُکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے علما اور معماروں کو یروشلم بھیجے ، جہاں وہ اُن کے معبود (اﷲ تعالی) کی عبادت کے لئے گھر (بیت المقدس) تعمیر کریں ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں