جمعرات، 15 جون، 2023

02 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام Story of Prophet Zakaria and Yahya


02 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 20

قسط نمبر 2

حضرت زکریا علیہ السلام کی ذمہ داریاں

حضرت زکریا علیہ السلام اﷲ کے نبی ہونے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کی سب سے مقدس مسجد(بیت المقدس)کے ذمہ دار بھی تھے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کے خاندان سے ہیں۔ان کی پوزیشن ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ بنی اسرائیل کے نظام کہا نت کا اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔فلسطین پر قابض ہونے کے بعد بنی اسرائیل نے ملک کا انتظام اس طرح کیا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کے بارہ قبیلوں میں تو سارا ملک تقسیم کردیا۔اور بنو لاوی مذہبی خدمات کے لئے مخصوص رہا۔پھر بنو لاوی میں سے بھی اصل وہ خاندان جو”مقدس میں خداوندکے آگے بخور جلانے کی خدمت “اور ”پاک ترین چیزوں کی تقدیس کا کام“کرتا تھا،وہ حضرت ہارون علیہ السلام کا خاندان تھا۔باقی دوسرے بنو لاوی مقدس کے اندر نہیں جاسکتے تھے بلکہ خداوند کے گھر کی خدمت کے وقت صحنوں اور کوٹھریوں میں کام کرتے تھے۔سبت کے دن اور عیدین کے موقع پر سختنی قربانیاں چڑھاتے تھے اور مقدس کی نگرانی میں بنو ہارون کا ہاتھ بٹاتے تھے۔بنو ہارون کے چوبیس خاندان تھے جو باری باری سے مقدس کی خدمت کے لئے حضر ہوتے تھے۔انہی خاندانوں میں سے ایک ایبا ہ کا خاندان تھا جس کے سردار حضرت زکریا علیہ السلام تھے۔اپنے خاندان کی باری کے دنوں میں یہی مقدس میں جاتے تھے اور خداوند کے حضور بخور جلانے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ 

اﷲ نے منتخب فرمایا

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”بے شک اﷲ تعالیٰ نے تمام جہان کے لوگوں میںآدم (علیہ السلام) کو اور نوح(علیہ السلام) کو اور ابراہیم (علیہ السلام )کے خاندان کو اور آل عمران کا انتخاب فرما لیا۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر ۳۳)اِس آیت میں آل عمران (عمران کی اولاد )یعنی سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اور اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔یہاں ”عمران “سے مُراد سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد ہیں۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔عمران بن ماثان ،سیدہ مریم رضی اﷲ عنہاکے والد ہیںاور بنی اسرائیل کے بادشاہوں کے بیٹوں میں سے تھے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔قاضی ثناءاﷲ پانی پتی لکھتے ہیں۔امام مقاتل کے مطابق” عمران“ سے مُراد عمران بن یصہر بن قاہت بن لاوی بن حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں،جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد ہیں۔ایک قول میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”عمران“سے مُراد عمران بن ماثان ہیں جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد ہیں۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔اور عمران کی اولاد میں سے بعضوں کو۔اگر یہ ”عمران “حضرت موسیٰ علیہ السلا م کے والد ہیں تو اولاد سے مُراد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام ہیں۔اور اگر یہ”عمران“سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد ہیں تو اولاد سے مُراد حضرت عیسیٰ علیہ اسلام ہیں۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔عمران دو ہیں۔ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد ماجد،اور دوسرے عمران بن ماثان،سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا۔پھر اُن کا سلسلہ¿ نسب لکھنے کے بعد لکھتے ہیں۔یہاں یا تو پہلے عمران مُراد ہیں یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد یا دوسرے عمران یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا ،اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ آگے سیدہ مریم رضی ا ﷲعنہا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ آرہا ہے۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی والدہ کی منت 

حضرت زکریا علیہ السلام بیت المقدس کے ذمہ داروں میں سے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیوی کا نام ایشاع ہے۔ ایشاع کی بہن کا نا م حَنّہ ہے۔ اور حنّہ کے شوہر کا نام عمران ہے۔ اس طرح حضرت زکریا علیہ السلام اور عمران ہم زُلف ہیں۔ عمران کی بیوی حنہ نے بیت المقدس میں آکر اللہ تعالیٰ سے منت مانی کہ مجھے جو اولاد ہو گی اسے میں اللہ تعالیٰ کے حوالے یعنی بیت المقدس کی خدمت میں دے دوں گی۔ انھوں نے یہ سوچ کر منت مانی کہ اگر مجھے بیٹا ہوا تو اسے بیت المقدس کے وقف کردوں گی۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے کام کو آگے بڑھائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور تھی۔ اور اللہ تعالیٰ اس کی اولاد کو اپنی نشانی بنانا چاہتے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آ ل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے میرے رب!میرے پیٹ میں جو کچھ ہے،اُسے میں نے تیرے نام سے آزاد کرنے کی نذر مانی ہے۔تُو میری طرف سے قبول فرما،یقینا تُو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر ۵۳)مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد محترم کا نام عمران ہے۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ نے دعا کی الٰہی اگر مجھے آپ اولاد عطا فرما دیں گے تو میں اُس کو دین کے لئے آزادر رکھوں گی۔اُس زمانہ میں اِس بات کو بہت بڑی نیکی سمجھا جاتا تھا کہ پیدا ہونے والی اولاد کو اِس طرح اﷲ کے گھر اور اُس کی عبادت کے لئے آزاد کر دیا جائے کہ وہ زندگی کی تمامذمہ داریوں سے الگ رہتے ہوئےصرف اُسی کی بند گی میں لگا رہے۔اِس دعا میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ نے گویا اشارةً بیٹے کی تمنا کی تھی۔اﷲ نے اُن کی دعا کو قبول فرمایا اور اُن کے گھر سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا پیدا ہوئیں۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہاکی پیدائش 

حضرت عمران کی بیوی سیدہ حنّہ نے منت مانی تھی کہ وہ اپنی اولااد کو بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کر دے گی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بیٹی عطا فرمائی۔اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ چونکہ بنی اسرائیل میں یہ قاعدہ تھا کہ صرف لڑکوں کو ہی بیت المقد س کی خدمت کے لئے وقف کیا جاسکتا تھا اس لئے سیدہ حنّہ کچھ مایوس ہو گئیں ۔ لیکن انھیں اپنی منت پوری کرنی ضروری تھی اسی لئے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا اے اللہ تعالیٰ ، میں یہ لڑکی پیش کر رہی ہوں اور میں نے اس کانام مریم رکھا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطان مردود کے شر سے اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو بیت المقدس کی خدمت میں وقف کر دیا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب بچی پیدا ہوئی تو کہنے لگیںکہ پروردگار!مجھے تو لڑکی پیدا ہوئی،اﷲ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے؟اور لڑکا ،لڑکی جیسا نہیں،میں نے اِس کا نام ”مریم “رکھا ،اور میںاِسے اور اِس کی اولاد کوشیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 36)مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پیدائش کے بعد اُن کی والدہ سخت پریشان ہوئیںکہ یہ لڑکی پیدا ہوئی ہے ۔اِس کو اﷲ کے لئے میں کیسے آزاد کروں گی؟اﷲ نے اُن کے دل میں اِس بات کو القا فرمایا کہ اے مریم کی والدہ تمہیں معلوم نہیں ہے یہ لڑکی کتنی با عظمت ہے۔اِس کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرمائیں گے۔

شیطان ہر بچے کو چھوتا ہے

سورہ آل عمران کی آیت نمبر 36میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ نے عرض کیا کہ ”میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“اﷲ تعالیٰ نے اُن کی یہ عرض بھی قبول فرمائی۔مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔پھر سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ عمران کی بیوی کی نذر کا تذکرہ فرمایا ،انہوں نے نذر مانی تھی کہ اے میرے رب!میرے پیٹ میں جو بچہ ہے،میں نے اُس کو آزاد چھوڑنے کی منت مانی ہے۔آزاد چھوڑنے کا مطلب یہ تھا کہ اُس کو صرف ”بیت المقدس“کی خدمت کے لئے فارغ رکھوں گی اور دنیا کا کوئی کام نہیں لوں گی۔مسجد کی خدمت کرنے والے مرد ہوتے تھے۔اب ہوا یہ کہ جس حمل کے بچے کو آزاد چھوڑنے کی منت مانی تھی،جب اُس حمل کی پیدائش ہوئی تو وہ لڑکا نہیں بلکہ لڑکی تھی۔عمران کی بیوی افسوس کرنے لگیںاور کہنے لگیں کہ اے میرے رب!میرے تو لڑکی پیدا ہوئی ہے،لڑکی ”بیت المقدس“کی خدمت گذارکیسے بنے گی؟اﷲ تعالیٰ کو معلوم ہی تھا کہ کیا پیدا ہوئی ہے؟لیکن یہ انہوں نے حسرت کے طور پر کہا تھا۔اس کے بعد آگے لکھتے ہیں ۔عمران کی بیوی نے لڑکا پیدا نہ ہو نے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں اِس لڑکی کو اور اِس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطان مردود سے۔صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”جو بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے،شیطان اُس کو پیدا ہونے کے وقت چھوتا ہے۔سو وہ اُس کے چھونے سے چیختا ہے،سوائے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اور اُس کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔(کہ وہ اُن کو نہیں چھو سکا)بعض روایات میں ہے کہ شیطان اپنی انگلی سے کچوکا دیتا ہے ،اِسی لئے بچہ چیخ پڑتا ہے۔سوائے مریم رضی ا ﷲ عنہا اور اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ اُن دونوں تک نہیں پہنچ سکا ۔

مریم ۔بمعنی عابدہ

سورہ آل عمران کی آیت نمبر 36کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی ”خلاصہ¿ تفسیر“میںلکھتے ہیں۔اے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم وہ وقت بھی یاد کرو اور انہیں سناو¿۔جبکہ عمران کی بیوی ”حنہ“نے حاملہ ہو کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا۔اے میرے مولا !چونکہ تُو نے مجھے نا اُمیدی کے بعد اولاد کی اُمید دکھائی ہے۔اِس لئے میں نذر مانتی ہوں کہ جو کچھ میرے پیٹ میں اولاد ہے ،وہ ”بیت المقدس “کی خدمت کے لئے وقف ہے۔نہ میں اس سے اپنی خدمت لوں گی ،اور نہ ہی گھر کے کام کاج کراو¿ں گی۔اے مولا!یہ میرا حقیر ہدیہ اپنے فضل و کرم سے قبول فرمالے،تُو کلام سننے والا اور میری نیت و اخلاص کو جاننے والا ہے۔وہ لڑکے کی اُمید پر بہت خوش و خرم تھیں،جب ولادت کا وقت آیا اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا پید ہوئیں تو حنہ حیران رہ گئیں۔عرض کرنے لگیں کہ اے مولیٰ !یہ کیا ہو گیا؟میرے تو لڑکی پید ہو گئی ،اب میں اپنی نذر کیسے پوری کروں؟اے محبوب (صلی اﷲ علیہ وسلم)! حنہ کیا جانیں کہ لڑکی کیسی ہے؟ یہ تو رب ہی جانتا ہے کہ وہ لڑکی کس درجہ کی ہے؟لڑکا اِس لڑکی کی طرح ہوسکتا ہی نہیں۔انہوں نے عرض کیا کہ اے مولیٰ !چونکہ اِس کے باپ تو پہلے ہی وفات پا چکے ہیں ،اِس لئے میں اِس لڑکی کا نام ”مریم“رکھتی ہوں۔بمعنی ”عابدہ“۔اور میری نیت یہ ہے کہ یہ ”بیت المقدس “میں رہ کر تیری عبادت کرے ،تاکہ بقدر طاقت میری منت پوری ہو۔اے مولیٰ !چونکہ میں اسے اپنے الگ ”بیت المقدس‘]میں رکھوں گی، اِس لئے اِس کو اور اِس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں کہ تُو اسے شیطان سے بچا اور اسے صالح پرہیز گار بنا۔اس کے بعد ”اصل واقعہ“کے تحت لکھتے ہیں۔فاقوزا کی دو بیٹیاں تھیں۔حنہ اور ایشاع۔حنہ عمران کے نکاح میں آئیں،ایشاع حضرت زکریا علیہ السلام کے نکاح میں آئیں۔دونوں بہن بے اولاد تھیں۔یہاں تک کہ انہیں بڑھاپا آگیا اور اولاد سے مایو سی ہو گئی ۔ایک دن سیدہ حنہ نے ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچے کو دانہ کھلا رہی ہے۔اُن کے دل میں اولاد کا شوق پیدا ہوا اور دعا کی۔اے مولیٰ ! یہ چڑیا بچے سے دل بہلا رہی ہے مجھے بھی ایک فرزند دے جو میرے دل بہلانے کا ذریعہ ہو۔تو اُسی وقت ”وقف“کی منت مان لی یا حمل کے بعد۔غرض یہ کہ دعا مانگنے کے بعد حاملہ ہو گئیں اور عمران سے کہنے لگیںکہ میں نے منت مانی ہے۔عمران نے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا،اگر لڑکی پیدا ہوئی تو کیا کرو گی؟تب بارگاہِ اِلٰہی میں عرض کیا کہ اے مولا ! میں منت مان چکی ہوں کہ جو کچھ میرے شکم میں ہے وہ ”بیت المقدس“ کی خدمت کے لئے وقف ہے۔اِس سے نہ خدمت لوں گی نہ گھر کا کام کاج کراو¿ں گی۔اُس زمانے میں ”وقف“کا رواج تھاکہ لوگ اپنی اولاد کو بیت المقدس کی خمت کے لئے وقف کر دیتے تھے۔اور بچے وہاں ہی رہتے سہتے اور وہاں کی خدمت کرتے تھے۔اِس قاعدہ سے آ پ نے منت مانی اور خوش تھیں کہ جب میری دعا پر رب نے یہ اُمید دکھائی ہے تو بیٹا ہی ہو گا،کیونکہ میں نے بیٹا ہی مانگا تھا۔اِسی اثناءمیں حضرت عمران وفات پاگئے۔جب وقت ولادت آیا اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا پیدا ہوئیںتو حنہ کو خلاف اُمید لڑکی پیدا ہونے اور اپنی نذر پورا نہ کر سکنے پر بہت افسوس ہوا۔تب اﷲ تعالیٰ سے وہ دعا مانگی ،جو اِس آیت میں مذکور ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں