02 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر17
قسط نمبر 2
قوم کو برسوں سمجھایا
حضرت یونس علیہ السلام کی دعوت کو ان کی قوم نے ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد بھی آپ علیہ السلام انہیں مسلسل سمجھاتے رہے اور بتاتے رہے کہ جن معبودوں کی تم پوجا کرتے ہو ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کے لائق ہے اور تم لوگ جو اللہ تعالیٰ کے شریک بنا کر ان کی پوجا کرتے ہو اس کا انجام ہمیشہ کی تباہی اور دوزخ کے اندر ٹھکانا ہو گا۔ اسی لئے شرک اور بت پرستی چھوڑ کر صرف ایک اللہ کو اپنا معبود مانو اور صرف اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے اور اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی عطا فرمائے گا۔ اور جنت کے عیش و آرام میں ہمیشہ رکھے گا آپ علیہ السلام برسوں اپنی قوم کو سمجھاتے رہے ۔ پوری قوم آپ علیہ السلام کے اخلاق و کردار سے بہت متاثر تھی اور آپ علیہ السلام کی بہت عزت کرنے لگی تھی۔ لیکن ابلیس شیطان اور اس کے چیلے ان پر حاوی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ حضرت یونس علیہ السلام حق پر ہیں اور سچ فرما رہے ہیں۔ لیکن ابلیس شیطان نے ان کے دلوں میں دنیا کی اور اس کے عیش و آرام کی محبت پید اکر دی تھی اور انہیں دنیاکی محبت کے ذریعے بہکانے میں کامیاب ہو رہا تھا اور ان پر حاوی تھا۔ اسی وجہ سے وہ حق کو پہچان لینے کے باوجود اسے ماننے سے انکار کر رہے تھے۔
دعوت و تبلیغ کا عرصہ
حضرت یونس علیہ السلام نے کتنے عرصہ اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ اکثر علمائے کرام یہی فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے کافی لمبا عرصہ تک دعوت و تبلیغ کاکام کرتے رہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم موصل کی سرزمین نینویٰ کے مقام پر آباد تھی اور وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو ان کی طرف بھیجا اور آپ علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی ۔ اور جن نظریات پر وہ تھے انہیں ترک کرنے کی دعوت دی۔ لیکن انہوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پس کہا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام انہیں نو سال تک اسلام کی دعوت دیتے رہے اس کے بعد بھی جب قوم اپنی ضد پر اڑی رہی تو آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ انہیں اطلاع کر دیں کہ تین دن میں ان پر عذاب آنے والا ہے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ، حضرت یونس علیہ السلام جو بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے انبیاءمیں سے ایک نبی ہیں۔ ان کو بابل و نینوا کے نا فرمانوں کی اصلاح و تربیت کے لئے بھیجا گیا تھا۔ بعض روایات کے مطابق حضرت یونس علیہ السلام نے نینوا کے لوگوں کو مسلسل سات سال تک تبلیغ دین فرمائی۔ مگر وہ اپنی کافرانہ اور مشرکانہ حرکتوں سے باز نہیں آئے۔
قوم کو عذاب کی خبر دی
حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کو برسوں سمجھاتے رہے اور ایک عرصہ دراز تک انہیں انتہائی نرمی اور شفقت سے سمجھاتے رہے لیکن جب قوم اپنی ضد پر اڑی رہی اور بدستور کفرو شرک میں مبتلا رہی تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ مفسرین ِ عظام بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو اہل نینویٰ کی راہ نمائی کے لئے بھیجا جو ارض موصل میں ایک شہر ہے۔ آپ علیہ السلام نے انہیں اللہ کی طرف بلایا ۔ لیکن انہوں نے تکذیب کی اور اپنے کفر و عناد میں بڑھتے چلے گئے۔ جب عرصہ دراز گزر جانے کے باوجود بھی ان کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو آپ علیہ السلام انہیں چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے اور تین دن کے بعد عذاب نازل ہونے کی دھمکی بھی دے گئے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام نے نینوا کے لوگوں کو ہر طرح سے سمجھایا کہ وہ کفر و شرک سے توبہ کر لیں مگر ان پر غفلتوں کے پردے پڑے ہوئے تھے اور انہوں نے آپ علیہ السلام کی کوئی بات نہیں سنی۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے پروردگار کی بارگاہ میں عرض کر دیا کہ الٰہی یہ لوگ کسی طرح سے کفر و شرک سے باز نہیں آرہے ہیں۔ اب آپ ان کا فیصلہ فرما دیجئے۔ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں سے زبردستی نہیں کرتا بلکہ ان کو مہلت دیتا رہتا ہے اور ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے۔ جب اللہ کے نبی قوم کے فیصلے کے بارے میں دعا کرتے ہیں تو وہ دعا اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے۔ اور اس قوم کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ دعا کر کے حضرت یونس علیہ السلام نے قوم سے فرما دیا کہ تین دن اور تین رات کی مہلت دی گئی ہے ۔ اگر تم نے توبہ نہیں کی تو اللہ کا عذاب تمہارے اوپر مسلط کر دیا جائے گا۔
قوم آپ علیہ السلام کو سچا مانتی تھی
حضرت یونس علیہ السلام نے قوم نینویٰ یعنی قوم یونس سے صاف صاف فرما دیا تھا کہ تین دن کے بعد تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو جائے گا۔ آپ علیہ السلام کی قوم نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ لیکن وہ لوگ آپ علیہ السلام کو سچا تسلیم کر تے تھے اور یہ مانتے تھے کہ حضرت یونس علیہ السلام کے منہ سے نکلی ہوئی بات یقینا ہو کر رہتی ہے۔ اس لئے قوم کے بڑوں نے مل کر یہ مشورہ کیا کہ ان پر نظر رکھو، اور یہ دیکھو کہ تیسری رات میں آپ علیہ السلام کیا کرتے ہیں؟ اگر تیسری رات بھی آپ علیہ السلام ہمارے درمیان رکے رہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ صرف دھمکی ہے۔ اور اگر آپ علیہ السلام تیسرے دن کی رات میں ہمیں چھوڑ کر چلے گئے، تو سمجھ لینا کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب سچ مچ تین دن بعد آجائے گا۔ امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے ہیں کہ وہ (قوم یونس) آپس میں کہنے لگے ۔ یہ آدمی( حضرت یونس علیہ السلام ) جھوٹ نہیں بولتا ہے۔ اسی لئے تم اس کی تاک میں رہو، اگر یہ تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان مقیم رہے گا تو پھر تم پر کچھ نہیں آئے گا۔ اور اگر یہ تم سے کوچ کر جائے ( نکل جائے) تو بے شک تم پر عذاب ضرور آئے گا۔
حضرت یونس علیہ السلام چلے گئے
حضرت یونس علیہ السلام کے چلے جانے اور نہیں جانے کو قوم یونس نے عذاب کے آنے اور نہیں آنے کا پیمانہ بنا لیا تھا۔ اس لئے آخری رات کو پوری قوم جاگتی رہی۔ اور یہ دیکھتی رہی کہ آپ علیہ السلام اپنے گھر میں رکے رہتے ہیں یا پھر چلے جاتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے پہلے ہی گھر والوں کو سفر کے لئے تیاری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ آخری رات کومعمول کے مطابق آپ علیہ السلام تہجد کے لئے اٹھے۔ پوری قوم کے لوگ اس رات جاگ رہے تھے ۔ تہجد کے بعد صبح صادق کے وقت اپنی سواری کے جانوروں کو تیار کیا اور گھر والوں کو سوار کر کے اور سامان لاد کر اپنی سواری کے جانور پر سوار ہو کر گھر سے نکلے۔ آپ علیہ السلام کے محلے والوں نے اس مختصر سے قافلے کو روانہ ہوتے دیکھا اور دوسرے محلے والوں کو خبر دی۔ انہوں نے اگلے محلے والوں کو خبر دی۔ اس طرح پورے شہر والوں کو خبر ہو گئی کہ حضرت یونس علیہ السلام اپنے گھر والوں کو لے کر شہر سے باہر چلے گئے ہیں۔ اس طرح تمام شہر والوں کو یقین آ گیا کہ صبح اللہ تعالیٰ کا عذاب ضرور ان کے اوپر آئے گا۔ ادھر شہر سے باہر نکل کر حضرت یونس علیہ السلام ایک محفوظ مقام پر پہنچ کر ایک پہاڑی پر پڑاﺅ ڈال دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے انتظار کرنے لگے۔
اللہ کا عذاب دیکھ کر قوم ڈر گئی
حضرت یونس علیہ السلام شہر سے نکل گئے۔ شہر اتنا بڑا تھا کہ پچاس50ساٹھ کلو میڑ کے رقبے میں پھیلا ہوا تھا۔ اور لاکھوں کی آبادی تھی۔ لیکن صبح ہونے سے پہلے پہلے پورے شہر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ حضرت یونس علیہ السلام شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ پوری قوم بری طرح ڈر گئی اور انہیں یہ یقین ہو گیا کہ صبح اللہ تعالیٰ کا عذاب ضرور آئے گا۔ جب صبح ہوئی تو قوم نے دیکھا کہ آسمان کے کنارے سے کوئی سیاہ چیز ابھر رہی ہے۔ جو دھیرے دھیرے بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ دیکھ کر پوری قوم سمجھ گئی کہ یہی اللہ کا عذاب ہے۔ جو دھیرے دھیرے ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔ قوم کے کمزور دل عوام اور عورتیں اور بچے رونے لگے۔ اور قوم کے بڑے بڑے سرداروں نے فوراً آپس میں میٹنگ کرنے لگے۔ سب سے پہلے انہوں نے طے کیا کہ حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کر کے واپس لایا جائے۔ تا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے عذاب کو ٹالنے کی دعا کریں اور آپ علیہ السلام کی تلاش میں فوراً آدمیوں کو دوڑایا۔ اس کے بعد انہوں نے مشورہ کیا کہ حضرت یونس علیہ السلام کے آنے تک ہم یہ کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کریں اور جو گناہ کئے ہیں ان کی بھر پائی کی کوشش کریں۔ پوری قوم میں اعلان کر دیا گیا ۔ ایک بہت ہی ہنگامی اور نفسا نفسی کی حالت پیدا ہو گئی ۔ لوگوں نے ظلم سے جو مال حاصل کئے تھے وہ واپس کرنے لگے۔ چوروں نے چوری کا مال ان کے مالکوں کو واپس کر دیا اور معافی مانگی۔ پوری قوم کے لوگ ایک دوسرے سے معافی مانگ رہے تھے۔ اور ان کی چیزیں واپس کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں سے دھوکے سے پتھر لے کر اپنے اپنے گھرکی بنیادوں ( پہیّے) میں لگا کر گھر بنائے تھے انہوں نے اپنے گھروں کی بنیادوں کو کھود کر وہ پتھر نکالے اور انکے مالکوں کو واپس کر دیئے۔ اسی دوران حضرت یونس علیہ السلام کی تلاش میں جانے والے واپس آگئے۔ اور بتایا کہ آپ علیہ السلام کہیں نہیں ملے۔ اللہ کا عذاب دھیرے دھیرے قریب آتا جا رہا تھا۔ اور وہ سیاہ چیز مسلسل بڑی ہوتی جا رہی تھی۔ عذاب کو قریب آتا دیکھ کر قوم کا برا حال تھا۔
قوم کی توبہ
حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے تمام لوگ عذاب کو آتا دیکھ رہے تھے۔ وہ سیاہ چیز جو کالے گھنے بادل کی طرح تھی وہ انہیں آسمان کے افق سے ایک چھوٹے سے کالے نقطے کی شکل میں نمودار ہوئی تھی۔اور آسمان کو ڈھانکتی جا رہی تھی۔ پھر اس نے سورج کو بھی ڈھانک لیا۔ اور جب سورج اس کی آڑ میں چھپا تو ہر جگہ سایہ ہو گیا۔ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے سرداروں نے جب دیکھا کہ آپ علیہ السلام کا کہیں پتہ نہیں ہے اور اللہ کا عذاب بھی قریب آتا جا رہا ہے تو انہوں نے پورے شہر میں اعلان کر دیا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر معافی مانگنی ہے اور توبہ کرنا ہے۔ تمام بچوں کو انکی ماﺅں سے الگ کر دو۔ اور تمام لوگ ایک بڑی وادی میں جمع ہو کر معافی مانگو۔ اعلان سنتے ہی پورے شہر میں کاروائی شروع ہو گئی ۔ لگ بھگ پانچ لاکھ سے زیادہ کی آبادی تھی ۔ پورے شہر میں ہا ہا کار مچ گیا۔ بچوں کو ان کی ماﺅں سے الگ کیا گیا تو مائیں اور بچے رونے لگے۔ یہاں تک کہ جانوروں کے بچے بھی الگ کر دیئے گئے۔ یہ دیکھ کر جانور اور ان کے بچے بھی چلانے لگے۔ تمام سرداروں اور مردوں نے عورتوں اور بچوں اور جانوروں کو ساتھ لے لیا۔ اور ایک اونچے پہاڑ کے دامن میں وادی میں جمع ہو گئے اور رو رو کر گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنے لگے اور معافی مانگنے لگے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں