ہفتہ، 10 جون، 2023

02 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام Story of Prophet Shayaa and Armiyaah


02 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 18

قسط نمبر 2

بنی اسرائیل میں خرابیاں :

حزقیا بادشاہ بنی اسرائیل پر پچپن برس کی عمر تک حکومت کرتا رہااور اس کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل بہت حد تک درست رہے۔ لیکن اس کے انتقال کے بعدا س کا بیٹا مون بادشاہ بنا ۔ یہ اپنے والد کی برح دیندار نہیں تھا۔ اور عیش و عشرت کا دلدادہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہ ہوا اوراپنے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو بھی گمراہ کر دیا۔ اور بنی اسرائیل بہت سی خرابیوں میں مبتلا ہو گئے۔ حالانکہ حضرت شعیا علیہ السلام اُن کے درمیان موجود تھے۔ اور لگاتار انھیں سمجھاتے رہے۔ لیکن بنی اسرائیل اُن کے بات سننے کی بجائے اُن کا مذاق اڑانے لگے۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام انھیں برائیوں سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن بنی اسرائیل اُن کی بات سمجھنے کی بجائے اُن کے مخالف ہو گئے۔

حضرت شعیا علیہ السلام کی تقریر :

جب بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کی مخالفت پر آمادہ ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر وحی اتاری کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو جمع کر کے خطاب کریں ۔ اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کی زبان پر وحی جاری کر دے گا۔ یہ حکم سن کر آپ علیہ السلام نے پورے بنی اسرائیل کو ایک بڑے پہاڑ کے دامن میں میدان میں جمع کیا۔ اور تقریر کے لئے پہاڑ پر کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی زبان پر وحی جاری فرمادی۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور تقدیس و تہلیل کے بعد فرمایا۔ اے آسمان سُن ، اے زمین والو خاموش ہو جاﺅ، اے پہاڑوں توجہ کرو۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بنی اسرائیل کی عظمت کو ختم کر دے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتوں میں پالا، اپنی نعمتیں عطا فرمائیں ۔ بنی اسرائیل کو تمام لوگوں میں سے چُنا۔ اور انھیں کرامت بخشی۔ مگر انھوں نے سمجھا کہ وہ شیطانوں اور نجومیں کے ذریعہ غیب پر اطلاع پا سکتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ شیطانوں کی باتیں سینوں میں چھپا کر رکھتے ہیں۔

غیب اور قیامت کا علم صرف اللہ کو ہے :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بنی اسرائیل کو معلوم ہے کہ زمین و آسمان کا غیب صرف میں جانتا ہوں ۔ اور میں اُن کے ظاہر و باطن سے واقف ہوں ۔ میں نے زمین و آسمان پیدا کرتے ہی ایک اٹل فیصلہ کیا تھا۔ (یعنی قیامت برپا کروں گا)۔ اور وہ وقت مقررہ پر پورا ہو کر رہے گا۔اور اس کا (قیامت) علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ (کہ وہ کب آئے گی) اگر یہ ( بنی اسرائیل جن شیطانوں اور نجومیوںکو مانتے ہیں)اپنے قول میں سچے ہیں کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ تو پھر ایسی قدرت لائیں جس کے ساتھ میں نے وہ تقدیر لکھی اور ایسی حکمت لائیں جس کے ساتھ میں تدبیر نظام کائنات کرتا ہوں۔

نبوت ہمیشہ بنی اسرائیل میں نہیں رہے گی :

اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے میں نے تخلیق ارض و سماء(زمین و آسمان) کے دن ہی لکھ دیا تھا کہ نبوت ہمیشہ بنی اسرائیل میں نہیں رہے گی۔ اور بادشاہت اُن سے چھین کر چرواہوں کو دے دی جائے گیا۔ ناتوانوں کو عزت ، کمزوروں کو طاقت، فقیروں کو تونگری (امیری) ، جاہلوں کو علم اور انپڑھو ں کو حکمت کے خزانے دے دیئے جائیں گے۔ کم تعداد والوں کو کثرت بخشی جائے گی۔ جنگلوں میں شہر آباد ہوں گے۔ اور صحراﺅں میں قلعے تعمیر ہو جائیں گے۔ان بنی اسرائیل سے پوچھو ایسا کب ہوگا؟ کون کرے گا؟ اور کس کے ہاتھوں پر میری قدرتیں ظاہر ہوں گی۔ اور اس کے ساتھی کون ہوں گے؟ کیا یہ لوگ یہ سب جانتے ہیں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اس کے لئے وہ آخری نبی اُمّی ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو مبعوث فرمانے والا ہوں ۔ جس کے ذریعے بہرے کان، مقفل دن، اور اندھی آنکھوںکو کھول دوں گا۔ اس کی پیدائش مکہ مکرمہ ( حرم شریف) میں ہوگی۔ ہجرت کھجوروں والے علاقے ( مدینہ منورہ) میں ہوگی۔اور حکومت شام اور آس پاس کے علاقوں تک ہوگی۔ یہ میرا بندہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) متوکل ، برگزیدہ ، عظیم المرتبت، محبوب سے محبوب تر اور پسندیدہ تر ہے۔برائی کا بدلہ عفو و درگزر سے دے گا۔ مومنوں پر رحیم ہوگا۔ طاقت سے زیادہ بوجھ تلے دبے ہوئے جانوروں کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے۔ بے سہارا عورت کی گود میں کسی یتیم کو دیکھ کر وہ غمگین ہو جایا کرے گا۔ درشت مزاج (غصہ کرنے والا) اور بد خلق نہیں ہوگا۔ بازاروں میں شورو غل کرنے سے کوسوں دور ہوگا۔ اور بدکلامی سے پاک ہوگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم اخلاق کا ذکر :

اے بنی اسرائیل، اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے میں اُس آخری نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو اخلاق کریمانہ اور اعمالِ خسنہ سے آراستہ کروں گا۔ طمانت اور وقار اس کا لباس ہوگا۔ نیکی اس کا شعار ہوگی۔ تقویٰ اُس کا ضمیر ہوگا۔ حکمت اس کی فراست ہوگی۔ صدق اور وفا اس کی طبیعت ہوگی۔ عفو در گزر اور بھلائی کرنا اس کے اخلاق ہوں گے۔ عدل اس کی سیرت ہوگی۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ ہدایت اس کی کتاب ہوگی۔ اسلام اس کا دین ہوگا اور احمد اُسکا نام ہوگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا ذکر :

اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے ۔ اے بنی اسرائیل میں اس آخری نبی کی برکت سے جاہلوں کو علم عطا کروں گا ۔ ناکسوں کو عظمت دوں گا۔ گمناموں کو شہرت عطا کروں گا۔ کم تعداد والوں کو کثرت دوں گا۔ فقیروں کو تونگری ( امیری ) عطا فرماﺅں گا۔ نفرت کو عداوت سے بکھرے اور پراگندہ دلوں کو اُس آخری نبی کی برکت سے متحد اور متفق کر دوں گا۔ اس کی امت کو سب سے بہتر امت بناﺅں گا۔جو لوگوں کو نیکی کرنے اور برائی سے رک جانے کا حکم کرے گی۔ مجھے ایک ماننے کا حکم دے گی۔ میرے لئے ایمان اور اخلاص رکھنے کی اور سب نبیوں اور رسولوں پر ایمان لانے کی تبلیغ کرے گی۔ پابندی¿ وقت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لئے اُن کی نگاہیں سورج پر لگی رہےں گی۔ ایسے دلوں ، چہروں اور جانوں کو مبارک ہو۔ جو میرے لئے اخلاص رکھیں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی خوبیاں :

اے بنی اسرائیل، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اس آخری نبی کی امت کے لوگوں کو توفیق دوں گا کہ اپنی مسجدوں میں ، اپنی مجلسوں میں ، اپنی آرام گاہوں میں، اپنے کاروبار ی اداروں میں اور اپنی گزرگاہوں میں میری تسبیح اور تکبیر اور تمجید اور توحید کے ڈنکے بجائیں گے۔ اور مسجدوں میں یو ں صف آراءہوں گے جیسے فرشتے میرے عرش کے گرد صف بستہ کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ (آخری امت کے لوگ) میرے دوست اور مدد گار ہوں گے۔ میں ان کے ذریعے اپنے بُت پرست دشمنوں سے بدلہ لوں گا۔ قیام و قعود اور رکوع و سجدہ سے نماز ادا کیا کریں گے۔ اپنے شہروں اور مال و متاع کو چھوڑ کر مجھے راضی کرنے کے لئے ( ہجرت اور جہاد کے لئے) لشکر در لشکر نکل پڑیں گے۔ اور میدان جنگ میں سیسہ پلائی دیوار بن جایا کریں گے۔ اُن کی کتاب ( قرآن پاک) پہلے والی کتابوں کو منسوخ کر دے گی۔ اُن کی شریعت پہلے والی شریعتوں کو ختم کر دے گی۔ اور اُن کا دین پہلے کے سب ادیان کو منسوخ کردے گا۔ جو شخص اُن کا زمانہ پائے گا اور اُن کی کتاب اور شریعت پر ایمان نہیں لائے گا تو اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

اُمتِ وسط :

اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے ۔ اے بنی اسرائیل ، میں اس آخری نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اُمت کو امتِ وسط بناﺅں گا۔ تا کہ وہ ( دنیا اور اخرت میں ) لوگوں پر گواہ بنے۔ اس امت کے لوگ حالت ِ غیض و غضب میں میری تقدیس و تہلیل کریں گے۔ اور حالتِ ابتلاءو آزمائش میں میری تکبیر بلند کریں گے۔ اور حالتِ تنازعہ میں میری تسبیح کریں گے۔ خون سے قربانی کریں گے۔ اللہ کی کتاب (قرآن پاک) سینوں میں محفوظ کریں گے۔ (یعنی قرآن کے حافظ ہوں گے۔) رات کو عبادت کرنا اور دن کو جہاد کرنا اُن کا شیوہ ہوگا۔ اُن کی اذان کی آواز آسمانوں تک پہنچے گی۔ مسجدوں میں اللہ کا ذکر کرتے ہوئے شہد کی مکھی جیسی دھیمی دھیمی آواز ہوگی۔ مبارک ہے اس کے لئے جو ان میں شامل ہو جائے گا۔ اور اُن کا دین اور اُن کی شریعت اپنا لے گا۔ یہ میرا فضل ہے۔ جسے چاہوں میں اپنا فضل عطا کروں اور میں بڑے فضل والاہوں۔

بنی اسرائیل کی حضرت شعیا علیہ السلام سے دشمنی :

یہاں حضرت شعیا علیہ السلام کی تقریر مکمل ہوگئی۔ اور آپ علیہ السلام خاموش ہو گئے۔ آپ علیہ السلام کی تقریر کے دوران تما م بنی اسرائیل دم بخود کھڑے خاموشی سے سن رہے تھے۔ اورآپ علیہ السلام کی تقریر ختم ہونے کے بعد بھی بہت دیر تک ویسے ہی کھڑے رہے۔ لیکن تمام بنی اسرائیل اتنی زیادہ گمراہیوں میں مبتلا ہو چکے تھے کہ کچھ دیر بعد تقریر کا اثر زائل ہو گیااور بنی اسرائیل اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے ساتھ ساتھ دشمنی پر بھی آمادہ ہوگئے۔ انھوں نے اپنے بادشاہ امون کو آپ علیہ السلام کے خلاف ورغلانا شروع کر دیا اور کہا کہ حضرت شعیا علیہ السلام تمہاری بادشاہت کے مخالف ہیں اور تمہیں بادشاہت سے ہٹانا چہاتے ہیں۔ امون اپنے والد کے برخلاف دنیا پرست تھا۔ اور دینداری سے کوئی واسطہ نہیںرکھتا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کو پسند نہیں کرتا تھا۔ اور آپ علیہ السلام کی مخالفت کرتا تھا۔

حضرت شعیا علیہ السلام کے قتل کا حکم اور شہادت :

حزقیا اپنی حکومت حضرت شعیا علیہ السلام کے مشورے سے چلاتا تھا۔ لیکن اس کا بیٹا امون جب بادشاہ بنا تو اس نے آپ علیہ السلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ بنی اسرائیل کے عوام بھی آپ علیہ السلام کی مخالفت اور دشمنی میں اپنے بادشاہ کے ساتھ ہو گئے۔ اور اسے آپ علیہ السلام کے خلاف اتنا بھڑکایا کہ اس نے آپ علیہ السلام کے قتل کا حکم صادر کر دیا۔ اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت شعیا علیہ السلام کو شہید کر دیں۔ آپ علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایا۔ لیکن وہ نہیں مانے اور مقابلے پر آمادہ ہو گئے۔آپ علیہ السلام نے اُن سے مقابلہ کیا۔ اور موقعہ پا کر جنگل میں آگئے۔ بنی اسرائیل کے عوام اور بادشاہ کے سپاہی آپ علیہ السلام کی تلاش میں جنگل میں داخل ہو گئے۔ اور آپ علیہ السلام کے گرد گھیرا تنگ کرنے لگے۔ ایک درخت پھٹ گیا۔ اور آپ علیہ السلام اس میں سما گئے۔ لیکن شیطان آپ علیہ السلام کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ جب درخت برابر ہونے لگا تو اس نے آپ علیہ السلام کی قمیص کا دامن پکڑ لیا۔ درخت برابر ہو گیا اور آپ علیہ السلام کی قمیں کا کونہ دکھائی دے رہا تھا۔ بنی اسرائیل کے عوام اور بادشاہ کے سپاہی اسے دیکھ کر سمجھ گئے کہ آپ علیہ السلام اس درخت کے اندر ہیں ۔ انھوں نے آرا لا کر اُس درخت کے ٹکڑے کر دیئے اور آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا۔

 بد بخت بنی اسرائیلیوں نے حضرت شعیا علیہ کو شہید کر دیا اسی طرح انھوں نے اپنے بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو شہید کیا ہے۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا ہے کہ یہ بنی اسرائیل نبیوں اور رسولوں کو ناحق قتل کر تے تھے۔ آپ علیہ السلام کو شہید کر نے کے جرم میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر عذاب کی شکل میں ظالم بخت نصر کو مسلط کر دیا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ حضرت ارمیاعلیہ السلام کے ذکر میں آئے گا۔

       ٭........٭........٭ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں