ہفتہ، 17 جون، 2023

02 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


02 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 02

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کا تعجب

یہ سن کر سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو بہت تعجب ہوا اور انہوں نے حیرانی سے فرمایا؛”اے اللہ تعالیٰ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں کسی بچے کی والدہ بنوں ۔ جب کہ کسی مرد نے مجھے چھوا ہی نہیں ہے؟“ تو فرشتے نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جواب دیا۔ ایسا ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جب جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے۔ اور جب کسی بات کا فیصلہ فرماتا ہے تو کہتا ہے ہو جا ۔ تو وہ فوراً ہو جاتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس بچے کو سکھائے گا کتاب اور حکمت توریت اور انجیل اور اسے رسول بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گا۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”(مریم) کہنے گیں۔اے میرے رب!مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟جبکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا ہے۔فرشتے نے کہا ؛اِسی طرح اﷲ تعالیٰ جو چاہے پید کرتا ہے۔جب کبھی وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف کہتا یہ کہہ دیتا ہے”ہوجا“تو وہ ہوجاتا ہے۔اﷲ تعالیٰ اُسے لکھنا اور حکمت اور توریت اور انجیل سکھائے گا۔اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسو ل ہوگا........آیت کے آخر تک۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 47سے49تک)مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ایک دن جب سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اپنے حجرے میں تھیں یا بعض روایات کے مطابق وہ غسل کر چکی تھیں ۔جبرئیل علیہ السلام خوب صورت انسانی شکل میں اُن کے پاس آئے ۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا ایک اجنبی مرد کو دیکھ کر گھبرا گئیں اور اﷲ کی پناہ مانگتے ہوئے کہنے لگیں کہ اگر تمہارے دل میں ذرا بھی اﷲ کا خوف ہے تو یہاں سے چلے جاو¿۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی گھبراہٹ دیکھتے ہوئے جبرئیل علیہ السلام نے اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تم مت گھبراو¿،میں اﷲ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔میں تمہیں ایک لڑکے کی بشارت دینے آیا ہوں ۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہانے بے ساختہ کہا کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہو گا جبکہ آج تک مجھے کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔نہ تو میرا نکاح ہوا ہے اور نہ ہی میں برے کردار والیہوں۔جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں تو اﷲ کا پیغام لیکر آیا ہوں ،جس میں اﷲ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اِسی طرح ہوکر رہے گا۔اﷲ کا یہ فیصلہ اُس کی قدرت ِ کاملہ کا اظہار ہے۔وہ تمہیں اور تمہارے بیٹے کو اپنی قدرت کا نمونہ بنا کر پیش کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔اور اِس فیصلے پر عمل کرنا اﷲ کے لئے بہت آسان ہے اور کوئی چیز اﷲکی قدرت سے باہر نہیں ہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔یہ اﷲ کی قدرت کی ایک نشانی ہو گی ،تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا ،سیدہ حوا رضی اﷲ عنہا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پید ا کیا۔باقی انسانوں کو مردا و رعورت سے پیدا کیا ۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر مرد کے صرف عورت سے پیدا کیا۔پس تقسیم کی یہ چار صورتیں ہو سکتی تھیں،جو سب(اﷲ تعالیٰ نے) پوری کر دیں اور اپنی کمال ِ قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کردی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں بائبل(توریت اور انجیل) میں بہت سی روایات ہیں لیکن اُن میں من گھڑت بہت زیادہ ہیں۔اوراعتبار کے قابل نہیں ہیں۔ اس لئے ہم یہاں صرف قرآن پاک کی آیات میں آپ علیہ السلام کی پیدائش کا جو ذکر آیا ہے وہی ذکر ہم کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر58سے آیت نمبر60تک فرمایا ؛ترجمہ”یہ جوہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انسانوں کو) پڑھ کر سنا رہے ہیں یہ نصیحت اور حکمت والی آیتیں ہیں۔ بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم (علیہ السلام )کے جیسی ہے۔ کہ ( حضرت آدم علیہ السلا م کو) بنایا ہے مٹی سے اور فرمایا ہو جا تو وہ ہوگیا۔ ( اور اے سننے والو تمام انسانو) یہ حقیقت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انسان ہیں۔ تمہارے رب (اللہ تعالیٰ ) کی طرف سے ۔ پس تم لوگ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا۔“ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف بتا دیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے پیدا فرمایا ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی بغیر باپ کے پیدا فرمایا ہے۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کی طرح حضرت عیسیٰ بھی ایک انسان ہیں۔ اب ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کسی قسم کے شک میں نہیں پڑنا چاہیئے ۔ اور نہ ہی کسی کھوج وغیرہ میں پڑنا چاہیئے ۔ بس ہمیں یہ ایمان رکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور اس کے لئے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے۔ اور وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش 

اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”پس وہ حمل سے ہو گئیں اور اِسی وجہ سے وہ یکسو ہو کر ایک دور کی جگہ چلی گئیں۔پھر درد زہ اُسے ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا اور بے ساختہ زبان سے نکل گیا کہ کاش!میں اِس سے پہلے مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہوجاتی۔“(سورہ مریم آیت نمبر 22اور23)جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا وقت قریب آیا تو سیدہ مریم رضی اللہ عنہا آبادی سے نکل کر ویرانے میں چلی گئیں اور ایک کھجور کے درخت کے نیچے درد کی شدت کی وجہ سے لیٹ گئےں۔ اور ایسے وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اس علاقے کو” بیت اللحم “کہا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت” بیت اللحم“ ویران تھا۔ لیکن بعد میں یہ علاقہ آباد ہو گیا۔ اور عیسائی اس علاقے کو آپ علیہ السلام کی پیدائش کی وجہ سے بہت مقدس مانتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت پورے ”بیت اللحم “کو فرشتوں نے گھیر لیا تھا۔مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔دور کے مقام سے مُراد”بیت اللحم“ہے۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کا اپنے اعتکاف سے نکل کر وہاں جانا ایک فطری امر تھا۔بنی اسرائیل کے مقدس ترین گھرانے بنو ہارون کی لڑکی ،اور پھر وہ ”بیت المقدس“میں اﷲ کی عبادت کے لئے وقف ہو کر بیٹھی تھی،یکایک حاملہ ہو گئی ۔اِس حالت میں اگر وہ اپنی”جائے اعتکاف“میں بیٹھی رہتیں اور اُن کا حمل لوگوں پر ظاہر ہوجاتاتو خاندان والے ہی نہیں ،قوم کے دوسرے لوگ بھی اُن کا جینا مشکل کر دیتے۔اِس لئے بیچاری اس شدید آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد خاموشی کے ساتھ اپنے اعتکاف کا حجرہ چھوڑ کر نکل کھڑی ہوئیں۔تاکہ جب تک اﷲ کی مرضی پوری ہو ،تب تک تو قوم کی لعنت ملامت اور عام بد نامی سے بچی رہیں۔

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی ذہنی پریشانی

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو اپنے ذہن میں بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ اِس بچے کے بارے میں لوگوں کو کیا جواب دوں گی؟اِسی ذہنی پریشانی میں آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا کہ کاش!میں اِس سے پہلے مر گئی ہوتی اور لوگ مجھے بھول جاتے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اِن الفاظ سے اُس پریشانی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ،جس میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اُس وقت مبتلا تھیں۔موقع کی نزاکت ملحوظ رہے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اُن کی زبان سے یہ الفاظ درد ذہ کی تکلیف کی وجہ سے نہیں نکلے تھے۔بلکہ یہ فکر اُن کو کھائے جارہی تھی کہ اﷲ تعالیٰ نے کس خطرناک آزمائش میں انہیں ڈالا ہے ،اُس سے کس طرح بخیریت عہدہ بر آہوں۔حمل کو تو اب تک کسی نہ کسی طرح چھپا لیا۔اب بچے کو کہاں لے جائیں ۔بعد کا یہ فقرہ کہ فرشتے نے اُن سے کہا ”غم نہ کرو“اِس بات کو واضح کر رہا ہے کہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے یہ الفاظ کیوں کہے تھے ۔شادی شدہ لڑکی کے ہاں جب پہلا بچہ پیدا ہو رہا ہو تو وہ چاہے کتنی ہی تکلیف سے تڑپے ،اُسے رنج وغم کبھی لاحق نہیں ہوا کرتا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔اب آپ رضی اﷲ عنہا کچھ سمجھ نہیں پارہیں تھیں کہ کیا کروں ؟اِسی پریشانی میں بجائے گھر کے افراد کے پاس جانے کے باہر جنگل بیابان کی طرف نکل گئیں۔اس حمل کے ساتھ ہی آپ رضی اﷲ عنہا تقریباً آٹھ دس میل چلتی چلی گئیں اور اپنے ننھیال مقام ناصرہ کے پاس اسی گاو¿ں کے کنارے پر ”بیت اللحم“تھا۔ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئیں ۔تن تنہا نہ کوئی آلی نہ موالی نہ مدد گار نہ پُرسان ِ حال ۔اِس کے آگے لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا ایک میل دور جنگل میں نکل گئیں ،ایک پہاڑی کے دامن میں چھپ کر بیٹھ گئیں ۔بعض نے کہا کہ بیت المقدس کے ایک خادم عابد زاہد کے ساتھ گئیں جس کا نام یوسف نجار تھااور منگیتر تھا مریم رضی اﷲ عنہا کا۔مگر یہ سب کذبیات (جھوٹی )و اسرائیلیات ہے۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو دم جبرئیل کے تھوڑی دیر بعد ہی درد زہ شروع ہو گیا تھا۔قدرت الہٰیہ کا یہ ظہور اتنی جلدی ہوا کہ چند ساعت کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ بعد دردزہ ہی لے آیااُس پاک دامن کنواری پاک مریم رضی اﷲ عنہا کو دور ایک صحرائی خشک کھجور کے بے برگ و ثمر ٹنڈ منڈ تنے تک۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے چار وجہ سے گھبرا کر اپنے آپ سے کہا ؛ہائے کاش!میں اِس وقت کے ّنے سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور آج کے دن تک بھولی بسری ہو چکی ہوتی۔(1)پہلی وجہ یہ کہ گھر سے بتائے بغیر اتنی دور چلی آئی ،شاید گھر والے پریشانی میں ہوں؟ڈھونڈتے پھرتے ہوں یہ ایک بد نامی ۔ (2)دوسری وجہ یہ کہ بچے کی پیدائش ،جب کہ نہ شادی نہ نکاح ،یہ دوسری بد نامی بلکہ سخت ترین ذلت ۔(3)تیسری وجہ یہ کہ ایسے حالات میں کوئی خدمت گار یا مشورہ تسلی دینے والا بھی پاس نہیں ہے۔نہ اِس شدت تکلیف میں مَلنے دبانے والی ،دوا کرنے والی، دل جوئی و غم گساری کرنے والی دائی وغیرہ بھی نہیں۔(4)چوتھی وجہ یہ کہ شدت ِ تکلیف جو عورت کی برداشت سے باہر ہو جاتی ہے بلکہ چیخیں نکلتی ہیں۔یہ آواز دبانا جس کا مشکل ہوتا جارہا تھا،اگر نہ دبا سکی تو صحرائی گونج کہاں تک پہنچ سکتی ہے اور کتنے رہ گزر جمع ہو سکتے ہیں ۔اِس خیال سے ہی لرزہ طاری تھااور تکلیف دگنی محسوس ہوتی ہے۔اِس لئے زبان اقدس سے یہ الفاظ لازمی امر تھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شیطان سے بچایا

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی والدہ حنہ بنت فاقوذ نے دعا کی تھی کہ اے اللہ تعالیٰ اس بچی کو اور اس کی اولاد کو شیطان سے محفوظ رکھنامیں انھیں تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے وہ دعاقبول فرمائی۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کی پیدائش کے وقت فرشتوں کو بھیج دیا۔ اور فرشتوں نے زمین سے لے کر آسمان تک بیت اللحم کے گرد گھیرا لگا دیا۔ اور شیطان کو آپ علیہ السلام تک پہنچنے نہیں دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر بچے کی پیدائش کے وقت شیطان اسے کچوکا لگاتا ہے۔ اسی لئے وہ بچہ روتا ہے لیکن شیطان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کچوکا نہیں لگا سکا۔صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”جو بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے،شیطان اُس کو پیدا ہونے کے وقت چھوتا ہے۔سو وہ اُس کے چھونے سے چیختا ہے،سوائے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اور اُس کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔(کہ وہ اُن کو نہیں چھو سکا)بعض روایات میں ہے کہ شیطان اپنی انگلی سے کچوکا دیتا ہے ،اِسی لئے بچہ چیخ پڑتا ہے۔سوائے مریم رضی ا ﷲ عنہا اور اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ اُن دونوں تک نہیں پہنچ سکا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں