پیر، 5 جون، 2023

02 حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام Story of Prophet Ilyaas and Ysaa


02 حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام

سلسلۂ انبیاءعلیہم السلام 16

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 02

حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں لگ بھگ تمام علمائے کرام یہی فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ حق یہ ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام بنو لاوی میں سے ہیں۔ اور حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں ہیں۔ آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت الیاس علیہ السلام بن سنان بن فخاض بن عیزار بن حضرت ہارون علیہ السلام ۔ ایک روایت میں ہے کہ الیاس حضرت ادریس علیہ السلام کا نام ہے۔ مگر یہ غلط ہے۔ کیوں کہ قرآن کریم میں آپ علیہ السلام کو حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد بتایا گیا ہے۔ اور حضرت ادریس علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام کے آباﺅ اجداد ( باپ داداﺅں )میں سے ہیں۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ الیاس سے مراد حضرت ادریس علیہ السلام ہیں۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں انّ ادریس لمن المرسلین تھا۔ عکرمہ کا بھی یہی قول ہے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں ۔ اس قول میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ منفرد ( اکیلے) ہیں۔ مگر دوسرے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام بنی اسرائیل کے انبیائے کرام علیہم السلام میں سے ایک نبی علیہ السلام ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام حضرت ایسع علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت الیاس علیہ السلام بن بشر بن فخاض بن عیزار بن حضرت ہارون علیہ السلام ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام کے سلسلہ نسب اور ان کے مصداق میں اختلاف ہے۔ اہل انساب نے یہ کہا کہ حضرت ادریس علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے جد امجد ہیں۔ علامہ محمد بن احمد قرطبی لکھتے ہیں کہ حضرت یسع علیہ السلام ، حضرت الیاس علیہ السلام کے شاگرد ہیں ۔ اور یہ دونوں ،حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے پہلے گزر چکے ہیں۔ علامہ سید محمد آلوسی لکھتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام ، حضرت یوشع علیہ السلام کے نواسے ہیں۔ 

حضرت الیاس علیہ السلام کا زمانہ اور علاقہ

حضرت الیاس علیہ السلام کا زمانہ اکثر علمائے کرام حضرت سلیمان علیہ السلام سے لگ بھگ 70یا 80یا100سال بعد کا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے 800یا 900سال پہلے کا بتاتے ہیں۔ مولانا سید ابوا لاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے محققین آپ علیہ السلام کا زمانہ 875 قبل مسیح سے لے کر850قبل مسیح متعین کرتے ہیں۔آپ علیہ السلام جلعاد کے رہنے والے تھے۔ (قدیم زمانے جلعاد اس علاقے کا نام تھا جو آج کل موجودہ ملک اردن کے شمالی اضلاع پر مشتمل ہے۔ او دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے۔ ) بائیبل میں آپ علیہ السلام کا ذکر ”ایلیا تشبی“ کے نام سے کیا گیا ہے۔ جسٹس پیر محمد کرم شاہ لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل مختلف قبیلوں میں بٹ گئے اور ہر قبیلہ نے اپنی اپنی علیحدہ سلطنت بنا لی۔ بنی اسرائیل کے انہی قبائل میں سے ایک قبیلہ لبنان کے اس علاقے میں آباد ہو گیا۔ جہاں آج بھی مشہور تاریخ شہر بعلبک کے کھنڈرات موجود ہیں۔ اس قبیلہ نے توحید چھوڑ کر بت پرستی اختیار کی۔ ان کے بڑے بت کا نام بعل تھا۔ جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہ بیس گز لمبا سونے کا مجسمہ ( بت ) تھا۔ جس کے چار منہ تھے۔ جس کے مندر کے خدام ( پجاریوں ) کی تعداد 400تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس علیہ السلام کو اس قوم کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔

حضرت الیاس علیہ السلام ، اللہ کے نبی تھے

اللہ تعالیٰ نے سورہ صافات میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور بے شک الیاس ( علیہ السلام )رسولوں میں سے ہیں۔“ (سورہ صافات آیت نمبر123) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ قرآن پاک میں حضرت الیاس علیہ السلام کا ذکر دو مقامات پر آیا ہے۔ ایک الانعام میں جہاں اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کی فہرست میں آپ علیہ السلام کا اسم گرامی شمار کر دیا اور کوئی واقعہ مذکور نہیں کیااور دوسرے سورہ صافات میں جہاں نہایت اختصار سے آپ علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ کا بیان فرمایا ہے۔ چونکہ قرآن پاک میں حضرت الیاس علیہ السلام کے حالات تفصیل سے مذکور نہیں ہیں۔ اور مستند احادیث میں بھی آپ علیہ السلام کے حالات بیان نہیں ہوئے ہیں۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کے بارے میں کتب تفسیر کے اندر مختلف اقوال اور متفرق روایات ملتی رہیں۔ جن میں سے زیادہ تر بنی اسرائیل کی روایات سے ماخوذ ہیں۔ قرآن و حدیث سے یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ حضرت الیاس علیہ السلام کب اور کہاں مبعوث ہوئے تھے؟ لیکن تاریخی اور اسرائیلی روایات اس بات پر تقریباً متفق ہیں کہ حضرت حزقیل علیہ السلام کے بعد اور حضرت ایسع علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے جانشینوں کی بد کاری کی وجہ سے بنی اسرائیل کی سلطنت دو حصو ں میں بٹ گئی تھی۔ ایک حصہ سلطنت یہودیہ یا یہوداہ کہلاتا تھا اور اس کا مرکز ( راجدھانی) سامرہ ( موجودہ نابلس) تھا۔ حضرت الیاس علیہ السلام اردن کے علاقہ جلعاد میں پیدا ہوئے تھے۔ اس وقت سلطنت اسرائیل ( اسرائیلیہ) کا جو بادشاہ تھا اس کا نام بائبل میں اخی اب اور عربی تواریخ و تفاسیر میں اجب یا اخب مذکورہے۔ اس کی بیوی ایزبل ، بعل نامی ایک بت کی پوجا کرتی تھی اور اسی نے سلطنت اسرائیلیہ یا سامریہ میں بعل کے نام پر ایک بڑی قربان گاہ تعمیر کر کے تما م بنی اسرائیل کو بت پرستی کے راستہ پر لگا دیا تھا۔ حضرت الیاس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ وہ اس خطے میں جا کر توحید کی تعلیم دیں اور بنی اسرائیل کو بت پرستی سے روکیں۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال کے بعد ان کے بیٹے رجعام کی نا اہلی کے باعث بنی اسرائیل کی سلطنت کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔ایک حصہ جو بیت المقدس اور جنوبی فلسطین پر مشتمل تھا۔ وہ آل داﺅد کے قبضے میں رہا۔ اور دوسرا حصہ جو شمالی فلسطین پر مشتمل تھا۔ اس میں ایک مستقل ریاست اسرائیل کے نام سے قائم ہو گئی اور بعد میں سامریہ اس کا صد ر مقام قرار پایا۔ اگر چہ حالات دونوں ہی ریاستوں کے دگر گوں تھے۔ لیکن اسرائیل کی ریاست ( جو بعد میں سلطنت سامریہ کے نام سے مشہور ہوئی ) شروع سے ہی ایسے سخت بگاڑ کی راہ پر چل پڑی تھی جسکی بدولت اس میں شرک و بت پرستی، ظلم و ستم اور فسق و فجور کا زور بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ جب اسرائیل کا بادشاہ اخی اب خود بھی مشرک بن گیا۔ اس نے سامریہ میں بعل کا مندر اور مذبح تعمیر کیا اور اللہ واحد کی عبادت کی بجائے بعل کی پوجا رائج کرنے کی بھر پورکوشش کی اور اسرائیل کے شہروں میں اعلانیہ بعل کے نام پر قربانیاں کی جانے لگیں۔ یہی زمانہ تھا جب حضرت الیاس علیہ السلام ( اللہ تعالیٰ کے حکم سے ) یکایک منظر عام پر نمودار ہوئے اور انہوں نے جلعاد آکر اخی اب کو نوٹس دیا۔ ( اور اعلان نبوت کیا)

حضر ت الیاس علیہ السلام کا اعلان نبوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ صافات میں فرمایا۔ ترجمہ ”بے شک الیاس علیہ السلام رسولوں میں سے تھے۔ جب انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے اور یہ کیا تم بعل ( نامی بت) کو پکارتے ہو؟ اور سب سے بہتر خالق کو چھو ڑ دیتے ہو؟ اللہ جو تمہارا اور تمہارے اگلے تمام باپ داداﺅں کا رب ہے۔“ ( سورہ صافات آیت نمبر123سے 126تک) مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت الیاس علیہ السلام جنہیں بائیبل میں ایلیا کہا جاتا ہے وہ معتبر روایات کے مطابق نویں صدی قبل مسیح میں ملک شام کے شہر بعلبک کے رہنے والوں کی اصلاح و تربیت کےلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ جب انہوں نے اعلان نبوت فرمایا تو کچھ یہودیوں نے ان کی تحریک پر لبیک کہا۔ لیکن اکثریت نے ان کی شدید مخالفت بھی کی۔ حضرت الیاس علیہ السلام نے قوم کو للکارا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ سے ڈرنے کے بجائے اس کو چھوڑ کر بعل بت کی عبادت و بندگی کر رہے ہو۔ حالانکہ تمہارا اور ہمارا رب ایک ہی ہے۔ جو تمام پیدا کرنے والوں میں سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے۔ آپ علیہ السلام کی دعوت پر سوائے اللہ کی اطاعت و بندگی کرنے والوں کے بقیہ سب نے ان کو جھٹلایا اور ان کی بات سننے سے انکار کر دیا۔ حضرت الیاس علیہ السلام کی قوم جس بت بعل کی پوجا کرتی تھی اس کا معنی ہے۔ شوہر ، مالک، سردار اور زبردست ، کے تھے۔ بعل کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی اسی بعل کی پوجا کی گئی تھی۔ یہ ان کا مقبول ترین بت تھا ۔ جس سے وہ اپنی مرادیں مانگا کرتے تھے۔ شام کا شہر بعلبک جس کی اصلاح کےلئے ان کو بھیجا گیا تھا، اسی بت کے نام پر رکھا گیا تھا ۔ بعض مفسرین کا تو یہ خیال ہے کہ مکہ مکرمہ میں جو کفار و مشرکین کا سب سے بڑا بت ”ھُبل“ تھا ۔ شاید وہ بھی بعل کی بگڑی ہوئی شکل تھی۔

بنی اسرائیل نے قتل کرنے کی کوشش کی

حضرت الیاس علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بعل بت کی پوجا کرنے سے منع فرمایا۔ اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ لیکن بنی اسرائیل پر ابلیس شیطان اس طرح حاوی ہو گیا تھا کہ وہ آپ علیہ السلام کی بات کو سمجھنے کے بجائے جان کے در پے ہو گئے اور آپ علیہ السلام کی جان لینے کی کوشش کی۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ دوسرے انبیائے کرام علیہم السلام کی طرح حضرت الیاس علیہ السلام کو بھی اپنی قوم کے ساتھ شدید کشمکش سے دو چار ہو نا پڑا۔ قرآن پاک چونکہ کوئی تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔ اس لئے اس میں اس کشمکش کا مفصل حال بیان کرنے کے بجائے صرف اتنی بات بیان فرمائی گئی جو عبرت اور موعظت حاصل کرنے کے لئے ضروری تھی۔ یعنی یہ کہ ان کی قوم نے ان کو جھٹلایا۔ اور چند مخلص بندوں کے سوا کسی نے حضرت الیاس علیہ السلام کی بات نہیں مانی ۔ اسی لئے انہیں آخرت میں انہیں ہولناک انجام سے دو چار ہونا پڑے گا۔ بعض مفسرین نے اس کشمکش کے مفصل حالات بیان فرمائے ہیں۔ مروجہ تفاسیر میں حضرت الیاس علیہ السلام کا سب سے مضبوط تذکرہ تفسیر مظہری میں قاضی ثنا ءاللہ پانی پتی نے علامہ بغوی کے حوالے سے تحریرکیا ہے۔ ( انشا ءاللہ ہم آگے یہ تفصیل پیش کریں گے) اس میں جو واقعات مذکورہیں۔ وہ تقریباً تمام تر بائبل سے ماخوذ ہیں۔ دوسری تفسیروں میں بھی ان واقعات کے بعض اجزاءحضرت وہب بن منبہ اور حضرت کعب احبار وغیرہ کے حوالہ سے بیان ہوئے ہیں۔ جو اکثر اسرائیلی روایات نقل کرتے ہیں۔ ان تمام روایات سے خلاصہ کے طور پر جو قدر مشترک نکلی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت الیاس علیہ السلام نے سلطنت اسرائیل( سلطنت سامریہ) کے بادشاہ اخی اب اور اس کی رعایا کو بعل نامی بت کی پوجا سے روک کر توحید کی دعوت دی۔ مگر دو ایک حق پسند افراد کے علاوہ کسی نے آپ علیہ السلام کی بات نہیں مانی۔ بلکہ وہ آپ علیہ السلام کو طرح طرح سے پریشان کرنے لگے۔ یہاں تک کہ اخی اب اور اس کی بیوی ایزبل نے آ پ علیہ السلام کو شہید کرنے کے منصوبے بھی بنائے اور شہید کرنے کی کوشش بھی کی۔ آپ علیہ السلام نے ایک دور افتادہ سنسنان غار میں پناہ لی۔ اور عرصہ داراز تک وہیں مقیم رہے۔ اس دوران اخی اب اور اس کی بیوی نے کئی مرتبہ آپ علیہ السلام کو شہید کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں