منگل، 13 جون، 2023

02 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام Story of Prophet Daniyal and Uzeer


02 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 19

قسط نمبر 2

حضرت دانیال علیہ السلام نے صحیح خواب بتایا

حضرت دانیال علیہ السلام کا جواب سُن کر بخت نصر لاجواب ہوگیا اور بولا :”میں نے تم سے بڑھ کر تمہارے رب کا وفادار بندہ کائی نہیںدیکھا اور میں ایسے شخص کو پسند کرتا ہوں ۔ اب تم میرا خواب اور اُس کی تعبیر بتاؤ ۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”تم نے خواب میں ایک بہت بُت یا مجسمے کو دیکھا ہے جس کے پاو¿ں زمین میں اور سر آسمان میں تھا ۔اتنا فرما کر آپ علیہ السلام نے بخت نصر کی طرف دیکھا تو وہ حیرانی سے منہ کھولے اور آنکھیں پھاڑے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہا تھا ۔ اس کے بعد اُس نے بے تابی سے کہا :”ہاں ہاں! (آپ علیہ السلام) صحیح خواب بتا رہے ہیں، مجھے یاد آرہا ہے ۔ مجھے آگے بتایئے ۔“ حضرت دانیال علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا :”تم نے ددیکھا کہ اُس بُت یا مجسمے کا اوپر والا حصہ سونے کا ہے ، درمیان حصہ چاندی کا ہے اور نچلا حصہ تانبے کا ہے اور پنڈلیاں لوہے کی ہیں اور پنجے پتھر کے ہیں ۔ تم اُس کا ود اور خوبصورتی اور پختگی دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ اچانک آسمان سے ایک پتھر آیا اور اُس بُت کے سر پر پڑا ۔ پتھر اتنبی زور سے لگا کہ وہ بُت ٹوٹ پھوٹ کر بھوسہ بھوسہ ہوگیا ۔ اس کے بعد اُس کے اندر کی تمام دھات یعنی سونا ،چاندی، تانبا، لوہا، اور پتھر اِس طرح مل گئے کہ تم نے خیال کیا کہ تم انسان مل کر بھی اِسے الگ نہیں کرسکیں گے ۔ پھر تم نے دیکھا کہ وہ پتھر جس نے اُس بُت کا بھوسہ بنا دیا تھا وہ بڑا ہوتا جا رہا ہے اور پھیلتا جارہا ہے یہاں تک کہ ساری زمین اُس سے بھر گئی تھی۔ اب تمہیں وہ پتھر اور آسمان ہی نظر آرہا تھااور اِس کے بعد تمہاری آنکھ کھل گئی ۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام خاموش ہوگئے اور بخت نصر کی طرف دیکھنے لگے جو حیرانی سے آنکھیں پھاڑے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہا تھا ۔

خواب کی تعبیر

حضرت دانیال علیہ السلام کی طرف کافی دیر تک بخت نصر محویت کے عالم میں دیکھتا رہا ۔ پھر چونک کر سیدھا ہوا اور بولا :”بے شک! بے شک! آپ (علیہ السلام) سچ کہہ رہے ہیں ۔ میں نے بالکل یہی خواب دیکھا ہے ، کمال کا علم ہے آپ کا مگر اِس خواب کی تعبیر کیا ہے؟“ حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا :”اِس بُت سے مُراد مختلف زمانوں میں مختلف قومیں اور اُن کے حکمراں ہیں ۔ سونے یعنی اوپری حصے سے مُراد تمہارا زمانہ اور حکومت ہے ۔ چاندی سے مُراد تمہارا بیٹا اور اُس کی حکومت ہے جو تمہارے بعد حکمراں بنے گا ۔ تانبے سے مُراد ”سلطنت روم“ کی طرف اشارہ ہے ۔ لوہے سے مُراد ”سلطنت فارس“ ہے اور پتھر سے مُراد دو قومیں ہیں جن پر دو عورتیں حکومت کریں گی ۔ ایک مشرقی یمن میں اور دوسری مغربی شام میں ۔“

سیدالانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارت

حضرت دانیال علیہ السلام اتنا فرما کر خاموش ہوگئے ۔ بخت نصر کچھ دیر انتظار کرتا رہا کہ شاید آپ علیہ السلام آگے کچھ فرمائیں گے ۔ پھر اُس نے پوچھا :”وہ پتھر کیا تھا؟اور اُس کے بڑے ہونے کا کیا مطلب ہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”جو پتھر اُس بُت کو آکر لگا تھا اور اُس بُت کو ریزہ ریزہ کردیا تھا ۔ وہ اﷲ کا دین (اسلام) ہے جو آخری زمانے میں مکمل طور پر ظاہر ہوگا (یعنی تمام انسانوں کے لئے مکمل شریعت) ۔ اﷲ تعالیٰ ملک عرب میں ایک ”نبی اُمی“ کو مبعوث فرمائے گا جس کی وجہ سے دوسرے ادیان اور قوموں کا وہ حشر ہوگا جو اُس بُت کا ہوا تھا ۔ وہ دین تمہارے خواب کے پتھر کی طرح بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ (اسلام) ساری زمین پر پھیل جائے گا ۔ اِس طرح باطل کی جگہ حق ، گمراہی کی ہدایت آجائے گی ۔ جاہل لوگ علم کی دولت سے مالامال ہوجائیں گے ۔ ضعیفوں کو قوت ، ناکسوں کو عزت اور بے کسوں کو نصرت (مدد) عطا کی جائے گی ۔“ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام خاموش ہوگئے ۔ دراصل خواب کے ذریعے اﷲ تعالیٰ نے بخت نصر کو اشارہ دیا تھا کہ اگر وہ عقلمند اور صاف ستھرے ذہن کا ہوتا تو حقیقت کو پالیتا لیکن اُس پر شیطان سوار تھا اور وہ گمراہی میں ہی پڑا رہا ۔

بخت نصر کو اسلام کی دعوت

حضرت دانیال علیہ السلام کے علم سے بخت نصر بہت متاثر ہوا اور آپ علیہ السلام کی بہت عزت کی ۔ اُس نے آپ علیہ السلام سے کہا :”میں آپ (علیہ السلام) کو یہ اعزاز دیتا ہوں کہ آپ (علیہ السلام) میرے مقربین (خاص مشیر یا دوست) میں شامل ہوجائیں۔“ لیکن آپ علیہ السلام نے اُس کی پیشکش کو قبول نہیں کیا اور فرمایا :”اﷲ تعالیٰ نے مجھے یہ علم دنیاوی فائدے اُٹھانے کے نہیں عطا فرمایا ہے بلکہ بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے عطا فرمایا ہے اور میں تمہیں بھی اسلام کی دعوت دیتا ہوں ۔ اسلام قبول کرلو ، دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوجاو¿گے اور اِسی میں تمہاری بھلائی ہے اور بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کردو اور اُنہیں میرے ساتھ ہمارے علاقے میں واپس جانے دو۔“ لیکن بخت نصر نے انکار کردیا اور آپ علیہ السلام واپس آگئے ۔

حضرت دانیال علیہ السلام قید خانے میں

حضرت دانیال علیہ السلام نے بخت نصر کو اسلام کی دعوت دی لیکن اُس کی بدبختی کہ اُس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ اُس کی انبیاءسے ملاقات ہوئی اور خواب کے ذریعے اشارہ بھی دیا گیا لیکن اُس بدنصیب پر شیطان سوار تھا ۔ اِسی لئے اُس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ حضرت دانیال علیہ السلام مسلسل اِس کوشش میں لگے رہے کہ بنی اسرائیل میں بیداری آجائے اور وہ اﷲ رب العزت کو اور اُس کی بارگاہ میں اپنے مقام کو پہچان لے ۔ دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کو اپنی جدوجہد میں کامیابی ملنے لگی اور بنی اسرائیل میں بیداری پیدا ہونے لگی ۔ وہ غلامی کی زندگی سے نجات کے لئے جدوجہد کے بارے میں غوروفکر کرنے لگے ۔ بخت نصر کے درباریوں اور وزیروں نے آپ علیہ السلام کی شکایت کی کہ وہ تمہارے غلاموں (بنی اسرائیل) میں بغاوت کا جذبہ پیدا کررہے ہیں ۔ بخت نصر نے حضرت دانیال علیہ السلام کو بلوا کر پوچھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا :”تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ تم بنی اسرائیل کو آزاد کردو اور میں اُنہیں لیکر ہمارے ملک واپس چلا جاو¿ں ۔“ بخت نصر نے کہا :”یہ نہیں ہوسکتا ہے ۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :” تو پھر ٹھیک ہے! میں اپنا کام جاری رکھوں گا اور انشاءاﷲ ایک وقت ایسا آئے گا کہ بنی اسرائیل تمہاری غلامی سے آزاد ہوجائیں گے ۔“ یہ سُن کر بخت نصر نے اپنے سپاہیوں کو حُکم دیا کہ اِس باغی کو گرفتار کرلو اور قید خانے میں ڈال دو۔

شیروں نے نہیں کھایا

حضرت دانیال علیہ السلام کو بخت نصر نے قید خانے میں ڈال دیا ۔ بنی اسرائیل کو جب آپ علیہ السلام کی گرفتاری کا علم ہوا تو وہ بغاوت پر اُتر آئے اور اُس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ یہ دیکھ کر بخت نصر نے آپ علیہ السلام سے کہا :”اِن غلاموں کو سمجھائیں ۔“ لیکن آپ علیہ السلام نے انکار کردیا اور فرمایا :”بنی اسرائیل کو آزاد کردو ، ورنہ ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری حکومت کے زوال کا سبب بن جائیں گے ۔“ بخت نصر نے کہا :”آپ (علیہ السلام) اپنی قوم کے لوگوں کو روکیں ، ورنہ میں آپ علیہ السلام کو شیروں کے آگے ڈال دوں گا اور بنی اسرائیل کو سختی سے کچل دوں گا۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”برسوں بعد بنی اسرائیل جاگے ہیں اور میرا کام پورا ہوگیا ہے ۔ اگر تم نے مجھے قتل بھی کردیا تب بھی یہ تحریک جاری رہے گی اور تمہاری حکومت کے لئے چیلنج بنی رہے گی ۔“ بخت نصر کو یہ سن کر غصہ آگیا اور اُس نے آپ علیہ السلام کے ہاتھ پیر باندھ کر ایک گہرے کنویں میں دو بھوکے شیروں کے آگے ڈال دیا لیکن یہ دیکھ کر اُس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بھوکے شیر آپ علیہ السلام پر بری طرح سے جھپٹے لیکن قریب پہنچ کر آپ علیہ السلام کو سونگھنے لگے اور پھر خاموشی سے اپنی اپنی جگہ واپس جاکر بیٹھ گئے ۔ یہ دیکھ کر بخت نصر کی آنکھ نہیں کھلی اور اُس نے کہا :”یہ شخص جادوگر ہے ۔اِس نے شیروں پر بھی جادو کر دیا ہے ۔“

اﷲ تعالیٰ نے رزق پہنچایا 

حضرت دانیال علیہ السلام کو بھوکے شیروں نے نہیں کھایا اور بخت نصر نے آپ علیہ السلام کو وہیں چھوڑ دیا اور بولا :”جب شیروں کے لئے بھوک ناقابل برداشت ہوجائے گی تو وہ آپ (علیہ السلام) کو کھا جائیں گے ۔“ اِس طرح آپ علیہ السلام وہیں شیروں کے ساتھ گہرے کنویں میں قید رہے ۔ کئی دن گزر جانے کے بعد آپ علیہ السلام بھوک اور پیاس کی شدت محسوس کرنے لگے ۔ آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ دعا کی ۔اﷲ رب العزت نے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی ۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام ویران اور کھنڈر بیت المقدس میں رہ رہے تھے ۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :”حضرت دانیال علیہ السلام کے لئے کھانے کا انتظام کرو ۔“ آپ علیہ السلام نے عرض کیا :”اے اﷲ تعالیٰ ! میں یروشلم میں ہوں اور وہ بابل میں ہیں ۔“ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :”ہم تمہیں وہاں پہنچا دیں گے ۔“ آپ علیہ السلام نے حضرت دانیال علیہ السلام اور شیروں کے لئے کھانا لیا اور ایک فرشتے نے آپ علیہ السلام کو حضرت دانیال علیہ السلام کے پاس پہنچا دیا ۔ کنویں کی کگار پر پہنچ کر حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے آواز لگائی ۔

اﷲ کا شکر ادا کیا

حضرت ارمیا علیہ السلام کی آواز سن کر حضرت دانیال علیہ السلام نے آواز لگائی :”کون ہے؟“ اوپر نے انہوں نے آواز دی :”میں ارمیاہ (علیہ السلام) ہوں اور آپ (علیہ السلام) کے لئے کھانا اور پانی لایا ہوں ۔ مجھے اﷲ رب العزت نے بھیجا ہے ۔“ یہ سُن کر حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا :”تمام تعریفیں اُس اﷲ کے لئے ہیں جو اُمید رکھنے والوں کو جواب دیتا ہے ۔ تمام تعریفیں اﷲ رب کائنات کے لئے ہیں کہ جو اُس پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اُسے دوسروں کے سُپرد نہیں کرتا ۔ تمام تعریفیں اُس اﷲ کے لئے ہیں جو نیکی کا بہترین صلہ عطا فرماتا ہے ۔ تمام تعریفیں اﷲ رب کریم کے ہیں جو صبر کی جزا نجات کی صورت میں عطا فرماتا ہے ۔“ اِس طرح حضرت دانیال علیہ السلام کے ساتھ ساتھ اﷲ تعالیٰ شیروں کو بھی رزق پہنچاتا رہا ۔ آپ علیہ السلام وہیں قید رہے لیکن آپ علیہ السلام کی بنی اسرائیل میں آزادی کی پیدا کی ہوئی چنگاری شعلہ بن گئی اور بنی اسرائیل نے بخت نصر سے بغاوت کردی ۔ جسے اُس نے سختی سے کچل دیا لیکن اس کے بعد بھی بنی اسرائیل کی جدوجہد جاری رہی اور اُس کے بعد بخت نصر کبھی سکون سے حکومت نہیں کرسکا ۔ اندرونی خانہ جنگی نے اُسے اتنا کمزور کردیا کہ آس پاس کے ممالک میں اُس کی ہوا اُکھڑ گئی ۔ اِس دوران حضرت دانیال علیہ السلام کا اسی کنویں میں وصال ہوگیا ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں