جمعرات، 15 جون، 2023

01 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام Story of Prophet Zakaria and Yahya


01 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 20

قسط نمبر 1 

حضرت عزیر علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالات 

حضرت عزیر علیہ السلام کے ذکر میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ بنی اسرائیل دوبارہ کنعان( حالیہ فلسطین ) میں آباد ہو گئے اور حضرت عزیر علیہ السلام نے توریت دوبارہ لکھ کر انھیں دی تھی۔ اور بنی اسرائیل کو تمام احکامات اور فرائض وغیرہ پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا تھا۔ لیکن بد بخت بنی اسرائیل ، آپ علیہ السلام کو ہی ( نعوذ باللہ) اللہ کا بیٹا بنا بیٹھے تھے۔ آپ علیہ السلام نے بہت سمجھایا کہ تم لو گ گمراہی میں مبتلا ہو رہے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ اولاد وغیرہ سے پاک ہے۔ لیکن بنی اسرائیل کی اکثریت اسی گمراہی میں مبتلا رہی۔ اور بہت کم بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کی بات کو تسلیم کیا۔ اور اسلام پر ڈٹے رہے۔

حضرت عزیر اور حضرت زکریا علیہم السلام کا درمیانی عرصہ 

حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت عزیر علیہ السلام کا درمیانی عرصہ لگ بھگ 461چارسو اکسٹھ سال ہے۔ یعنی حضرت زکریا علیہ السلام ، حضرت عزیر علیہ السلام کے لگ بھگ 461سال بعد آئے۔ یہ درمیانی عرصہ بنی اسرائیل نے کس طرح گزارا اور وہ کیسی کیسی برائیوں اور گمراہیوں میں مبتلا ہوئے اور کن کن بادشاہوں نے اُن پر حکومت کی یہ سب مختصراً ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے انشاءاللہ ۔ اور پھر حضرت زکریا علیہ السلام کے ذکر کی طرف آئیں گے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان 461برسوں میں اس دوران اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں اپنا کوئی بھی نبی نہیں بھیجا۔ تو جواب یہ ہے کہ اس دوران بھی اللہ تعالیٰ اپنے انبیائے کرام کو بنی اسرائیل میں مسلسل بھیجتا رہا ہے۔ لیکن چونکہ ان کے بارے میں مستند روایات نہیں ہیں اس لئے ہم ان تفصیلی ذکر نہیں کر سکتے۔ بائبل ( توریت اور انجیل) کے الگ الگ نسخوں میں بہت سے انبیائے کرام کا ذکر آیا ہے۔ لیکن یہ نسخے مستند نہیں ہیں۔ اور ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ ان میں ملاوٹ ہو چکی ہے۔ اس لئے ہم نے انھیں چھوڑ دیا ہے۔

سکندر کا فارس ( حالیہ ایران ) پر قبضہ 

حضرت عزیر علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل نے بیت المقدس کی تعمیر کی ۔ اس کی شروعات تو آپ علیہ السلام نے ہی کی تھی۔ لیکن تعمیر مکمل ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کواپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا تھا۔ بیت المقدس بنی اسرائیل کا مرکز رہا۔ اور بنی اسرائیل آس پاس کے تمام علاقے (فلسطین اورشام) میں آباد تھے۔ ان کی اپنی کوئی حکومت نہیں تھی۔ بلکہ ان پر سلطنت ِ فارس ( آج کا ایران) کا مقرر کیا ہوا حکمراں ان پر حکومت کرتا تھا۔ اس طرح لگ بھگ سو برس (100) برس یعنی ایک صدی گزر گئی اس دوران اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل میں انبیائے کرام بھیجتے رہے۔ لیکن وہ مسلسل نافرمانیوں اور گمراہیوں میں مبتلا رہے۔ اس کے بعد یونان سے سکندر نام کا ایک طوفان اٹھا ۔ سکندر کی فارس کے حکمراں سے رشتہ داری تھی۔ اور اس حکمراں نے سکندرکو ذلیل کرنے کی کوشش کی تھی۔ نتیجے میں سکندر نے اپنی فوج لیکر فارس پر حملہ کر دیا ۔ اور اس کے حکمراں کو شکست دے کر فارس اور آس پاس کے تمام علاقوں جن میں حالیہ عراق اور سابقہ بابل اور حالیہ فلسطین اور شام جو سابقہ کنعان تھا۔ ان سب علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح بنی اسرائیل پر یونانیوں یعنی سکندر کی حکومت ہوگئی۔ اس کے بعد سکندر اپنی فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ہندوستان تک آگیااور وہیں اس کی موت ہو گئی۔ اس نے 14سال حکومت کی اور انتقال کے وت اس کی عمر 36برس تھی۔

بنی اسرائیل پر یونانیوں کے اثرات 

سکندر کا تو انتقال ہو گیا۔ لیکن بنی اسرائیل پر یونانی حکمراں بنے رہے۔ سکندر کے بعد اس کے بیٹے کو یونانیون نے حکمراں بنانا چاہا لیکن اس نے انکار کر دیا۔ تو یونانیوں نے بطلیموس کو حکمراں بنا دیا۔ اس کا نام کچھ اور تھا۔لیکن اس نے بطلیموس کا لقب اختیار کیا۔ اس کے بعد ہر یونانی بادشاہ بطلیموس کا لقب اختیار کیا۔ جس طرح فارس کا ہر حکمراں کِسریٰ کا لقب اختیار کرتا تھا۔ اور روم کا ہر حکمراں قیصر کا لقب اختیار کرتا تھا۔ یونانی بہت عرصے تک بنی اسرائیل پر حاوی رہے اور دھیرے دھیرے بنی اسرائیل یونانیوں سے متاثر ہونے لگے۔ اچھے خاصے یہودی (بنی اسرائیل) یونای کلچر میں ڈھل گئے۔ بہت ممکن تھا کہ بنی اسرائیل پوری طرح سے یونانی افکار و خیالات کو اپنا لیتے لیکن یونانی بادشاہ کی غلطی کی وجہ سے بنی اسرائیل جاگ گئے۔

بنی اسرائیل کی آزادی اور حکومت 

ایٹیوکس چہارم جب یونان کا حکمراں بنا تو اس نے بنی اسرائیل (یہودیوں) پر ظلم و ستم کرنا شروع کر دیا۔ اور یہودی ( بنی اسرائیل) کا قتل کرنے لگا۔ جس کی وجہ سے سوئے ہوئے بنی اسرائیل میں بیداری پیدا ہو گئی۔ اور انھوں نے یونانیوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ حالانکہ بنی اسرائیل دو حصوں میں بٹ گئے۔ ان میں سے ایک حصہ یونانیوں کا حامی تھا لیکن بنی اسرائیل کی عوام اور ایک بڑا طبقہ یونانیوں کے خلاف تھا۔ نتیجے میں 175قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 175سال پہلے بنی اسرائیل نے یونانیوں سے آزادی حاصل کر لی۔ اور اپنی آزاد حکومت قائم کر لی۔ اور بنی اسرائیل ایک مرتبہ پھر ترقی کرنے لگے۔ اور ان کی حکومت بڑھتے بڑھتے ان علاقوں تک پہنچ گئی جن علاقوں تک حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومتیں تھیں۔

بنی اسرائیل کا دوسرا زوال 

بنی اسرائیل ایک مرتبہ پھر عروج پر آگئے تھے۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومتوں کا جو رقبہ تھا اُس سے بھی بڑے علاقے پر اپنی حکومت قائم کر لی لیکن پھر دھیرے دھیرے ان میں اختلافات ہوئے اور وہ ٹکڑوں میں بٹنے لگے۔ اور تمام بارہ قبیلوں نے اپنی اپنی حکومتوں کا اعلان کر دیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ اُن میں بے شمار برائیاں اور گمراہیاں بھی پیداہو گئی تھیں۔ ان قبیلوں کے آپسی جھگڑے اتنے بڑھے کہ ان میں سے کچھ قبیلوں نے رومیوں سے ساز باز کر لی۔ بنی اسرائیل کی یہ حالت ایک صدی میں یعنی 100برسوں میں ہوئی۔ ان سو برسوں کے دوران یونانیوں کو شکست دے کر رومی اُن پر حاوی ہو چکے تھے۔ جب بنی اسرائیل کے کچھ قبیلوں نے اپنے مخالف قبیلوں کے مقابلے میں رومیوں سے مدد مانگی۔ تو رومی اُن کی طرف متوجہ ہو گئے اور بنی اسرائیل کے علاقوں میں رومی افواج کو داخل کر دیا۔ اور دھیرے دھیرے رومیوں نے بنی اسرائیل کے تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اور بنی اسرائیل کی حکومت کا خاتمہ کر کے انھیں محکوم بنا لیا۔ بنی اسرائیل کی آزاد حکومت کا خاتمہ 67قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 67سال پہلے ہوا تھا۔

حضرت زکریا علیہ السلام بیت المقدس کے متولی 

رومیوں نے بنی اسرائیل کی آزاد حکومت کا خاتمہ کر دیا لیکن وہ خود حکومت کرنے نہیں آئے بلکہ بنی اسرائیل کے غداروں ( جو رومیوں کے وفادار تھے) میں سے ایک کو کٹھ پتلی حکمراں بنا دیا۔ اس طرح حکومت تو بنی اسرائیل کا ایک شخص کر رہا تھا لیکن اصل حکومت رومیوں کی تھی۔ ان حالات میں حضرت زکریا علیہ السلام بیت المقدس کے متولی تھے۔ بنی اسرائیل میں کُل بارہ قبیلے تھے۔ ان میں سے بنی لاوی مذہبی امور کے لئے مخصوص تھے۔ اور باقی قبیلے الگ الگ علاقوں پر قابض ہو گئے تھے۔ رومیوں کے قبضے کے بعد بھی مذہبی امور بنی لادی کے ہی ذمہ رہے۔ بنی لادی میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام بھی تھے۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام اُن کی ہی اولاد میں سے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کا کام بیت المقدس کی تمام ذمہ داریاں اٹھانا اور بنی اسرائیل کو سمجھانا اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا تھا۔آسان الفاظ میں یوں سمجھیں ۔ حضرت زکریا علیہ السلام بنی اسرائیل کے مذہبی رہنماتھے۔ اور تما م بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کو اپنا مذہبی رہنما تسلیم کرتے تھے۔

حضرت زکریاعلیہ السلام کا سلسلۂ نسب

حضرت زکریا علیہ السلام کے سلسلۂ نسب کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔مفتی احمد یار خان نعیمی سلسلہ¿ نسب اِس طرح لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام بن اذن بن مسلم بن صدون ۔صدون حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔سلیمان علیہ السلام بن داو¿د علیہ السلام بن ایشا بن حویل بن سلمون بن عرابن بن ممثون بن عمیاد بن حضروم بن فارض بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام ،حضرت ہارون علیہ السلام کے خاندان سے تھے۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا بن حنا اور حضرت زکریا بن دان بھی کہا جا تھا ہےاور یہ بھی کہا گیا ہے حضرت زکریا بن ادن بن مسلم بن صدوف۔اِن کا نسب حضرت سلیمان علیہ السلام بن حضرت داو¿د علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔آپ علیہ السلام حضرت یحییٰ علیہ السلام کے والد ہیں۔اور بنی اسرائیل سے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”حضرت زکریا علیہ السلام نجار(بڑھئی،مستری) تھے۔مورخین نے بیان کرتے ہیں کہ حضرت زکریا بن دان علیہ السلام انبیائے کرام علیہم السلام کے بیٹوں میں سے ہیں۔جو بیت المقدس میں وحی لکھتے تھے۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔عمران نام ہے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد صاحبکو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں۔اُن کا نسب نامہ بقول محمد بن اسحاق کے یہ ہے۔عمران بن ہاشم بن میثا بن خرقیا بن اسیت بن ایاز بن رخیعم بن حضرت سلیمان علیہ السلام بن حضرت داؤود علیہ السلام۔

بنی اسرائیل کے سب سے بڑے مذہبی رہنما

حضرت زکریا علیہ السلام بنی اسرائیل کے جلیل القدر نبی اور اپنے زمانے میں سب سے بڑے مذہبی رہنما تھے۔مفتی احمد یار خان نعیمی”تفسیر عالمانہ “میں لکھتے ہیں۔آپ علیہ السلام ،حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے ہوتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھے۔زکریا بن آذن یا اُون یا اخیاہ بن مسلم بن صدون ۔آپ علیہ السلام کی ولدیت میں تین قول ہیں۔اسلامی تاریخ میں زکریا بن آذن ہے،بائیبل میں زکریا بن اُون ہے،اور اسرائیلیات میں زکریا بن اخیاہ ہے۔مطابقت اِس طرح ہے کہ آذن صحیح لفظ ہے،اُون کا بگڑا ہوا لفظ ہے اور اخیاہ لقب ہے۔تقریباً ستر ہزار انبیا علیہم السلام آپ علیہ السلام کی خاندانی سلسلے اور لڑی سے ہوئے۔آپ علیہ السلام سیدہ مریم رضی اﷲ عنہاکے خالو تھے۔یہ علاقہ فلسطین کا تھا،یہاں ہی ”بیت المقدس“ ہے۔اُس وقت فلسطین بارہ صوبوں میں تقسیم تھا اور تمام صوبوں پر حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد جو بارہ قبیلوں میں بٹی ہوئی تھی ۔اِن بارہ صوبوں میں اُن کے علحٰیدہ علحٰیدہ بادشاہ تھے۔اِس طرح فلسطین اُس وقت بارہ سلطنتوں کا نام تھا۔لیکن پورے فلسطین کا مذہبی ادارہ الگ تھا۔یہ ادارہ قبیلہ بنو لاوی بن یعقوب کے سپرد تھا ۔بنو لاوی قبیلے کے چار بیٹوں کی نسل چار شعبوں میں تقسیم تھی۔تین شعبے پورے ملک کی تمام عبادت گاہوں (کنیسوں)اور ہیکلوں کے انتظام اور دیگر مذہبی ذمہ داریوں پر مقرر تھے۔جن میں امامت ،خطابت ،درس وتدریس کے علاوہ دینی تبلیغ بھی شامل تھی ۔لیکن مذہبی صدر مقام ”بیت المقدس“کا تمام انتظام ،دیکھ بھال ،زینت وچراغاں اور خوشبو جلانا۔یہ سب کام صرف شعبہ قبیلہ بنو ہارون سپرد تھا۔اِن کے علاوہ کسی بھی موقع پر بیت المقدس کے اندر کسی بھی قبیلے کا کوئی فرد نہیں جاسکتا تھا۔دیگر بنو لاوی کے تین شعبوں کے افراد بھی بیت المقدس کے صحن ،باغیچہ اور زائرین ،مسافرین،عابدین اور راہبین کی رہائش گاہوں کی دکھ بھال صفائی و انتظامات کرتے تھے۔ہر شعبے کا ایک سردار ہوتا تھا جس کی ذمہ داری اپنے عملے کے ساتھ پانچ قسم کی تھی۔1)مہمان داری،2) یوم ِ سبت کی عبادت کا انتظام،3) سالانہ عیدین پر قربانی کرانا،4)پہاڑوں پر جاکر قدرتی آگ سے جلانے کے لئے رکھنا،5)اور بیت المقدس کی چوکیداری کرنا۔بنو لاوی کے چار شعبوں میں سب سے معزز و محترم شعبہ بنو ہارون تھا۔اِس کے افراد چوبیس خاندانوں میں تقسیم تھے جن میں سے ایک خاندان ”ابیاہ “تھا۔اِس کے سردار حضرت زکریا علیہ السلام تھے،بیت المقدس کی خدمت کے لئے اِن چوبیس خاندانوں کی پندرہ پندرہ دن کی ڈیوٹیاں اور باریاں مقرر تھیں۔یعنی ہر دو ہفتے بعد باری بدلتی تھی۔ہر سردار اپنی باری پر اپنے گیارہ خاندانی راہبوں اور نوکروں کے ساتھ بیت المقدس میں عبادت اور چراغاں و خوشبو جلانے کا انتظام کرتا تھا۔جس کا خرچہ تمام بارہ سلطنتیں ادا کرتی تھیں۔خاندان ابیاہ کے سردار حضرت زکریا علیہ السلام ہی اپنے عملے کے ساتھ اپنی باری پر بیت المقدس میں تشریف لے جاتے تھے۔قانون یہ تھ کہ ہر سردار کا بیٹا اپنا جانشین بنا سکتا تھا۔اُس وقت پورے بنی اسرائیل کے نبی حضرت زکریا علیہ السلام ہی تھے۔مگر بہت تھوٹے آپ علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور اکژیت مرتدین اور فاسقین و فاجرین کی تھی۔بیت المقدس کی سرداری کے لئے پوری دینی تعلیم ،طریقہ ،تبلیغ و عبادت ضروری شرط تھی ،جس کے لئے جانشین کو پہلے سے تیار کیا جاتا تھا۔مگر حضرت زکریا علیہ السلام کی کوئی اولاد نہیں تھی۔نہ بیٹا ،نہ بیٹی،اور نہ اپنے خاندان میں کوئی ایسا نیک ،پاک اور متقی شخص نظر آتا تھا کہ جس کو جانشینی کے لئے نامزد اور تیار کیا جاسکے۔تب آپ علیہ السلام نے یہ خفیہ دعا مانگی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں