01 حضرت یونس اور حضرت حزقیل علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر17
قسط نمبر 1
حضرت یونس علیہ السلام کا سلسلۂ نسب
اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت الیاس علیہ السلام کے حالات پیش کئے تھے۔ اور اس میں وعدہ کیا تھا کہ انشاءاللہ حضرت یونس علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔ وعدہ کے مطابق پیش خدمت ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل سے ہیں۔ لیکن جس قوم کی طرف اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تھا وہ بنی اسرائیل نہیں تھی بلکہ دوسری قوم تھی۔ بنی اسرائیل اس وقت ملک کنعان میں آباد تھے۔ اور آج کا فلسطین ، اردن ، لبنان اور ملک شام کا کچھ حصہ بھی اس وقت ملک کنعان میں آتاتھا۔ اس لئے بنی اسرائیل کی تاریخ کا ذکر جب بھی آتا ہے تو اس میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ملک شام میں آباد تھے۔ در اصل وہ ملک کنعان تھا۔ بعد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد جب عیسائیوں ( نصاریٰ) کو عروج حاصل ہوا تو انہوں نے ملک شام کی توسیع کی اور ملک کنعان کو توڑ کر ملک شام کا حصہ بنا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی فلسطین ملک شام کے اندر ہی آتا تھا۔ اسی لئے اسلامی مورخین بنی اسرائیل کے جو ملک شام میں آباد ہونے کا ذکر کرتے ہیں وہ آج کل کا ملک شام نہیں ہے۔ بعد میں عیسائیوں اور یہودیوں نے فلسطین، اردن ، لبنان الگ ملک بنا دیئے اور ملک شام سمٹ کر اتنا ہی رہ گیا جتنا آج ہے۔ یہاں ہم نے یہ بات تفصیل سے اس لئے ذکر کی ہے کہ آگے جب بھی ملک شام کا ذکر آئے تو الجھن نہ ہو۔ حضرت یونس علیہ السلام کا سلسلہ نسب حضرت یعقوب علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ اور آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلے بنی لاوی سے ہیں۔ اسی قبیلے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ہیں۔اور انہیں کی طرح حضرت یونس علیہ السلام بھی جلال والے تھے۔ عبرانی زبان میںیونس کو یونہ یا یوناہ کہا جاتا ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا بچپن
حضرت یونس علیہ السلام بنی اسرائیل میں بہت ہی نیک بندوں میں سے تھے۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ امام علی بن حسن المعروف امام ابن عسا کر لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام ، لاوی بن یعقوب علیہ السلام بن اسحاق علیہ السلام بن ابراہیم علیہ السلام کے نواسے ہیں۔ اور ملک شام کے رہنے والے تھے۔ اور بعلبک کے عمال میں سے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ بچپن میں فوت ہو گئے تھے۔ ان کی والدہ نے اللہ کے نبی حضرت الیاس علیہ السلام سے دعا کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کر دیا۔ ان کے سوا ان کی والدہ کی اور کوئی اولاد نہیں تھی۔ چالیس سال کی عمر میں حضرت یونس علیہ السلام نے اعلان نبوت فرمایا۔ وہ بنی اسرائیل کے بہت عبادت گزار وں میں سے تھے۔ وہ اپنے دین کو بچانے کے لئے شام چلے گئے اور دجلہ کے کنارے پہنچ گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اہل نینوا کی طرف بھیجا۔ ( نینوا دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے جہاں موصل نامی شہر ہے۔ وہاں ایک قدیم شہر تھا۔ )
قوم یونس
حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جس قوم کی طرف مبعوث فرمایا تھا اس قوم میں آپ علیہ السلام پید انہیں ہوئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے آ پ علیہ السلام کو اس کا نبی بنایا اور اسی نسبت سے یہ قوم ِ یونس کہلائی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ اس طرح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آٹھ سو سال پہلے ملک عراق میں ایک قوم سیریا آباد تھی اور ان کی سلطنت و حکومت تھی اور اس سلطنت کا مرکزی مقام ( دارالخلافہ ، راجدھانی) تقریباً 50مربع میل میں پھیلی ہوئی تھی اور وہ شہر ”نینوا“ تھا۔ یہ شہر دریائے دجلہ کے کنارے شہر موصل کے قریب واقع تھا۔ یہ قوم بہت ظالم اور بت پرست تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام متیٰ کے بیٹے ہیں اور بنی اسرائیل سے ہیں۔ حضرت الیاس علیہ السلام کی دعا سے دوبارہ زندہ ہوئے۔ اٹھائیس سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کا تاج عطا فرمایا اور قوم سیریا کی طرف بھیجا۔ یہ قوم بنی اسرائیل نہیں تھی۔ اس کو قوم یونس فرمانا اُمت ہونے کی بنا پر ہے۔ کیوں کہ ہر شخص اس نبی کی قوم میں شمار ہوتا ہے۔ جو ان کی اُمت سے ہو چاہے برادری اور قبیلہ سے نسبت ہو یا نہ ہو۔ اس قاعدے سے قیامت تک کے سب مسلمان آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم ہیں۔
قوم یونس کا علاقہ
حضرت یونس علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے ہیں۔ اور بنی اسرائیل اس وقت ملک کنعان ( آج کل کا فلسطین ، اردن ، لبنان اور شام کا کچھ علاقہ) میں آباد تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو ملک عراق کی طرف اپنا بنی بنا کر بھیجا۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام ( جن کا نام بائیبل میں یوناہ ہے اور جن کا زمانہ 860سے 784قبل مسیح کے درمیان بتایا جاتا ہے ) حالانکہ اسرائیلی نبی تھے مگر ان کو اشور ( اسیریا ) والوں کی طرف ہدایت کے لئے عراق بھیجا گیا تھا۔ اور اسی بنا پر اشوریوں کو یہاں قوم یونس کہا گیا ہے۔ ا س قوم کا مرکز اس زمانہ میں نینویٰ کا مشہور شہر تھا۔ جس کے وسیع کھنڈرات آج تک دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر موجودہ شہر موصل کے عین مقابل پائے جاتے ہیں۔ اور اسی علاقے میں ”یونس نبی“ کے نام سے ایک مقام بھی موجود ہے۔ اس قوم کے عروج کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس کا دارا لسلطنت نینویٰ تقریبا 60 میل کے دور میں پھیلا ہوا تھا۔
حضرت یونس علیہ السلام کے القاب
اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو ”ذو النون“ اور ”صاحب الحوت“ کے القاب سے نوازا ہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں ۔ ذوالنون حضرت یونس بن متی علیہ السلام کا لقب ہے کیوں کہ مچھلی نے آپ علیہ السلام کو نگل لیا تھا۔ النون سے مراد مچھلی ہے۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ ” ذو النون “ حضرت یونس علیہ السلام کا لقب ہے ۔ آپ علیہ السلام کا قصہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس ، سورہ الانبیاءپھر سورہ صافات اور سورہ نون میں ذکر فرمایا ہے ۔ کہیں ان کا اصل نام ذکر فرمایا ہے کہیں ذوالنون اور کہیں صاحب الحوت کے القاب سے ذکر کیا گیا ہے۔ نون اور حوت دونوں کے معنی مچھلی کے ہیں۔ ذوالنون اور صحاب الحوت کا ترجمہ ہے مچھلی والا۔ حضرت یونس علیہ السلام کو بہ تقدیر الٰہی چند روز بطن ماہی میں رہنے کا واقعہ غریبہ میں پیش آیا تھا۔ اسی کی مناسبت سے ان کو ذوالنون اور صاحب الحوت کے القاب سے نوازا گیا۔ مولانا سید ابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں کہ ( ذو النون ) سے مراد حضرت یونس علیہ السلام ہیں۔ کہیں ان کا نام لیا گیا ہے اور کہیں ”ذو النون “ اور ”صاحب الحوت “ یعنی مچھلی والے کے القاب سے یاد کیا گیا ہے۔ مچھلی والا انہیں اس لئے نہیں کہا گیا کہ وہ مچھلیا ں پکڑتے تھے یا بیچتے تھے بلکہ اس بناءپر کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک مچھلی نے ان کو نگل لیا تھا۔ جیسا کہ سورہ صافات آیت نمبر142میں بیان ہوا ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا اعلان نبوت
اللہ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور بے شک یونس (علیہ السلام )بھی رسولوں میں سے ہیں“(سورہ الصافات آیت نمبر139) اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور حکم دیا کہ نینویٰ کے لوگوں میں جا کر اسلام کی دعوت دیں وہ لوگ بہت سر کش ہو گئے ہیں۔ آپ علیہ السلام نینویٰ میں آئے اور اسلام کی دعوت دینے لگے۔ آپ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت ( توریت) کے مطابق انہیں احکامات اور تعلیمات دیتے تھے۔ محمد لقمان سلفی لکھتے ہیں ۔ آئمہ تفسیر نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ سے حضرت یونس علیہ السلام اور انکی قوم کے بارے میں جو روایتیں نقل کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ موصل شہر کے رہنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نینویٰ شہر والوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا تھا۔ جسے اشود بن نمرود نے بسایا تھا جو حضرت علیہ السلام کے بیٹوں کی اولاد میں سے تھا۔ یہ شہر دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی آبادی چھ لاکھ تھی۔ اس زمانے میں آشوریوں کی قوت اتنی بڑھ گئی تھی کہ ایشیاءکے اکثر علاقے ان کے زیر تصرف آگئے تھے۔ اسی وجہ سے وہ تکبر اور غرور میں مبتلا ہو گئے تھے اور اللہ تعالیٰ سے سر کشی کرنے لگے تھے۔ ان کی ہی ہدایات کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ حضرت یونس علیہ السلام مسلسل انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے ۔ لیکن نینویٰ کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کی دعوت پر توجہ نہیں دی اور مذاق اڑاتے رہے۔ حالانکہ حضرت یونس علیہ السلام بہت جلال والے تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ علیہ السلام انتہائی صبر سے اور نرمی سے شفقت سے سمجھاتے رہے۔
قوم کا آپ علیہ السلام کو ستانا
حضرت یونس علیہ السلام محبت اور نرمی سے قوم کو سمجھاتے رہے لیکن قوم نے آپ علیہ السلام کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ۔ امام ابن عسا کر لکھتے ہیں کہ حسن بیان کرتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام بنی اسرائیل کے انبیاءمیں سے ایک نبی کے ساتھ تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ وہ حضرت یونس علیہ السلام کو اہل نینوا کی طرف بھیجیں اور ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔ ان لوگوں میں توریت کے احکام پر عمل کرانے کے لئے انبیائے علیہم السلام کو مبعوث کیا جاتا تھا۔ اور ا س وقت تک اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت اور حضرت داﺅد علیہ السلام پر زبور نازل فرمائی تھی۔ اس لئے انہی کی تعلیم کی دی جاتی تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام بہت تیز مزاج والے اور جلال والے تھے۔ وہ اہل نینوا کے پاس گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کی تکذیب کی اور نصیحت کو مسترد کر دیا اور ان پر پتھراﺅ کیا اور آپ علیہ السلام کو بستی سے نکال دیا ۔ حضرت یونس علیہ السلام لوٹ کر آئے تو ان سے بنی اسرائیل کے نبی نے فرمایا کہ آپ علیہ السلام پھر وہاں جائیں اور اسلام کی دعوت دیں ۔ آپ علیہ السلام پھر واپس نینوا آئے اور اسلام کی دعوت دینے لگے۔ قوم نے پھر وہی سلوک کیا اور پتھر مار مار کر بستی سے باہر نکال دیا۔ ایسا تین مرتبہ ہوا اور آپ علیہ السلام باہر نکالے جانے کے بعد پھر سے قوم کے پاس واپس جا کر اسلام کی دعوت دینے لگتے تھے۔ قوم نے ان کی بات تو نہیں مانی لیکن اس مرتبہ پتھراﺅ نہیں کیا اور نہ ہی آپ علیہ السلام کو بستی سے باہر نکالا۔ بلکہ انہوں نے آپ علیہ السلام کو نعوذ باللہ پاگل اور مجنوں کہہ کر مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ ا سکے باوجود آپ علیہ السلام صبر اور محنت سے انہیں سمجھاتے رہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
.png)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں