01 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 18
قسط نمبر 1
حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد نبی اسرائیل کے مختصر حالات :
حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرئیل نے آپ علیہ السلام کے بیٹے رجعم کو بادشاہ بنایا۔ اس کے دور حکومت میں بھی بنی اسرائیل سکون سے رہے۔ لگ بھگ سترہ برس تک اس نے پورے بنی اسرائیل پر حکومت کی۔ اسی دوران بنی اسرائیل بہت سی خرابیوں میں مبتلا ہو گئے اور حکوم تقسیم ہوگئی۔ دو قبیلوں پر رجعم کا بیٹا ایبا حکمراں بنا۔ا ور باقی قبیلوں پر رجعم حکومت کرتا رہا۔تین برس بعد لگ بھگ 20برس تک حکومت کرنے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد ایبا حکومت کرتا رہا۔ اس کے دورِ حکومت میں بھی بنی اسرائیل بہت زیادہ خرابیوں میں مبتلا ہو گئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بہت لوگ شِرک میں بھی مبتلا ہوگئے تھے ۔ ایبا کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا اَسا بن ایبا حکمراں بنا۔
٭ اَسا بن ایبا کا دورِ حکومت :
ایبا بت پرست ہو گیا تھا۔اور اسکی وجہ سے بنی اسرائیل کے بہت سے لوگ گمراہ ہوکر بت پرستی میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اسکا بیٹا اسا جب حکمراں بنا تو اس نے بت پرستی بند کرنے کا اعلان کردیا۔ اس نے تمام بتوں کو توڑدیا۔ اور اعلان کردیا کہ جو بھی بتوں کی پوجا کرتے ہوئے دکھائی دے گا اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اس کے والدہ نے بت پوجا پر اصرار کیا تو اس نے اپنی والدہ کو بھی قتل کروادیا ۔ اور بنی اسرائیل نے بت پوجا چھوڑ دی ۔لیکن وہ اپنے بادشاہ کے خلاف سازش میں مصروف رہے۔ انھوں نے ہندوستان کے کافر بادشاہ زرح کو حملے کی دعوت دی۔ اور کہا بنی اسرائیل (عوام) بادشاہ کے خلاف تمھارا ساتھ دے گی۔
اسا کی دعا :
زرح نے ایک بہت بڑے لشکر جرّار کے ساتھ حملہ کیا۔ اسا نے بھی اپنی فوج تیار کیا اور مقابلے پر آگیا۔ جنگ سے پہلے والی رات میں اسا نے رو رو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ اے اللہ تعالیٰ ہر شئے تیرے قبضے میں ہے۔ اور تو ہر ایک پر قدرت رکھتا ہے۔ میری یہ درخواست ہے کہ ہمارے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ کر اور ہم پر اپنی رحمت نازل فرما۔ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔اور میرے ساتھ مسلمان بہت کم ہیں ۔اے اللہ تعالیٰ ، جس طرح تو نے فرعون کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدد کی تھی ۔اسی طرح ہماری بھی مدد کر ۔اور زرح پر عذاب نازل فرما۔
اللہ تعالیٰ کی مدد :
بنی اسرائےل کےعلماءبھی دعا کررہے تھے۔ اے اللہ آج اپنے بندے کی دعا قبول فرما۔ کیونکہ اسنے صرف تجھ ہی پر بھروسہ کیا ہے۔اسے دشمنوں کے حوالے نہ کر۔اس نے تیری محبت میں اپنی والدہ کو بھی قتل کردیا۔ اور سب لوگوں کر چھوڑ کر تیری ہی بات مانتا ہے۔ اسا حالتِ سجدہ میں رو رو کر دعا مانگ رہا تھا۔ کہ اللہ نے اس پر نیند طاری کردی۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی پکار کر کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے سچّے بندوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑتا۔ اللہ تعالیٰ نے تیرے دل میں اپنی محبت پیدا کی۔ اور تیرے کو اپنے اوپر لازم کرلیا۔ اللہ تعالیٰ تیرے دشمنوں کے مقابلے میں اپنے فرشتوں کی فوج بھیجے گا۔
اساکی فتح :
اسا کی آنکھ کھلی اور وہ مسکراتا ہوا باہر آیا۔ اور بنی اسرائیل کو اللہ کی مدد کی خوشخبری سنائی۔ بنی اسرائیل کے مؤمنوں نے اسکی بات کا یقین کیا۔ اور بنی اسرائیل کے منافقین(جو دل سے زرح کی ساتھ تھے)اسکا مذاق اڑانے لگے۔اسکے باوجود اس نے اپنے لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ بنی اسرائیل میں بارہ قبیلے تھے۔ ہر قبیلے کا سردار آگے بڑھا ۔لیکن تمام قبیلوں کی بنی اسرائیل کی اکثریت پیچھے ہٹ گئی۔ اور ہر سردار کے ساتھ بہت کم مومن افراد رہ گئے۔ اب اسا ان کئی سو کا معمولی لشکر لیکر آگے بڑھا۔ زرح نے اس معمولی سے لشکر کو دیکھا۔ تو مذاق اڑانے لگا ۔اور کہاکہ بلاوجہ میں نے اتنے بڑے لشکر کو لیکر اتنی دور کا سفر کیا۔ اسکے لئے تو میرا معمولی سا سپہ سالار ہی کافی ہے ۔اور حملہ کردیا۔ جنگ شروع ہوگئی ۔اللہ تعالیٰ نے اسا کی مدد کے لئے فرشتے بھیجے۔ جو کسی کو نظر نہیں آتے تھے۔ آخر کار زرح کو شکست ہوئی۔ اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگا۔ اسکے ساتھ ایک لاکھ آدمی تھے ۔ وہ سب سمندر کے کنارے پہنچ کر جہازوں پر سوار ہوگئے۔ تو اچانک تیز ہوائیں چلنے لگیں۔اور بڑی بڑی موجیں اٹھنے لگیں۔جن کی وجہ سے تمام جہاز تباہ ہوگئے۔اور زرح اور اسکے ساتھی غرق ہوگئے۔
اسا کے بعد بنی اسرائیل کے حالات :
اسکے بعد تمام بنی اسرائیل نے شرک سے توبہ کرلی۔ اور اسا پورے سکون واطمینان سے حکومت کرتا رہا۔ اسکے انتقال کے بعد اسکا بیٹا یہو شاط (یاس یہو شا خا ط) بادشاہ بنا ۔پچیس برس تک اس نے حکومت کی ۔اسدکے دور میں بنی اسرائیل پھر سے خرابیوں میں مبتلا ہونے لگے۔اسکے بعد اسکی چچا زاد بہن عقلیا حکمراں بنی ۔اسے غزلیا کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ اسکے دور حکومت میں بنی اسرائیل بہت زیادہ گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے۔ آخر کار اسی کے خاندان کے یوشان بن اخزیا نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے قتل کر دیا۔ عقلیا یا غزلیا نے سات سال حکومت کی ۔اب یواش بادشاہ بن گیا۔ لیکن اس نے بنی اسرائیل کی گمراہیوں کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی ۔اس نے چالیس سال حکومت کی ۔اسکے بعد یاتام بن عوزیا نے سولہ سال حکومت کی ۔اسکے بعد اسکا بیٹا ضازبن یوتام نے سولہ سال حکومت کی۔ اسکے بعد اسکا بیٹا حزقیا بن جاز حکمراں بنا۔ اور اسکے دورحکومت میں حضرت شعیا علیہ السلام نے اعلانِ نبوت کیا۔
حضرت شعیا علیہ السلام کا اعلان نبوت :
حضرت شعیا علیہااسلام نے حزقیا بن جاز کے دور حکومت میں اعلان نبوت کیا۔ دوسری روایات میں بنی اسرائیل کے اس بادشاہ کا نام صدیقہ بھی آیا ہے۔ لیکن اکثر روایات میں حزقیا ہی نام آیا ہے۔ اس بادشاہ نے حضرت شعیا علیہ اسلام کی اطاعت قبول کی۔ آپ علیہ السلام توریت کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ اور حضرت موسی علیہالسلام کی شریعت کو نافذ کیا کرتے تھے۔ اور بنی اسرائیل میں جو خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں انھیں دور کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ چونکہ بادشاہ آپ علیہ السلام کی اطاعت کرتا تھا۔ اس لیے بنی اسرائیل بھی گمراہیوںمیں مبتلا ہونے کے باوجود بادشاہ کے خوف سے آپ علیہ السلام کی اطاعت کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے بنی اسراعیل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بشارت دی۔ بنی اسرائیل ”وہ آخری نبی“ کے منتظر تھے۔ آپ علیہ السلام نے وہ آخری نبی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں بہت تفصیل سے بتایا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔
بنی اسرائیل پر بابل کے بادشاہ کا حملہ :
حزقیا کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ اور اس کا ایک پیر بے کار ہو گیا۔ اسی دوران میں بابل کا بادشاہ ایک بہت بڑا لشکر لے کر بنی اسرائیل پر حملہ کرنے کے لیئے آیا۔ اس کے ساتھ اتنا بڑا لشکر تھا کہ اس میں چھے لاکھ جھنڈا بردار تھے۔ اس کا نام سخاریب تھا۔ حزقیا کو جب سخاریب کے آنے کی اطلاع ملی۔ تو اس نے حضرت شعیا علیہ اسلام سے عرض کیا کہ اللہ تعالی اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام پر وحی فرمائی کہ بادشاہ سے کہو کہ حکومت چھوڑ دے۔ اور اپنی جگہ کسی اور کو حکمراں بنا دے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کا حکم حزقیا تک پہنچایا۔
حزقیا کی دعا کی قبولیت:
حزقیا نے جب اللہ کا حکم سنا تو بیت المقدس میں آیا۔ اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں عاجزی سے رو رو کر گڑ گڑا کر دعا کرنے لگا۔ اے اللہ تعالی، اے سب کے پروردگار، اے سب کے معبود، اے پاکیزہ اور مقدس ذات، یا رحمٰن ےا رحیم، اے وہ مہربان ذات جسے نیند نہیں آتی، اور نہ ہی اونگھ آتی ہے۔ تو میرے فعل، عمل اور بنی اسرائیل کے ساتھ میرے سلوک کو جانتا ہے۔ یہ سب میں نے تیری ہی توفیق سے کیا ہے۔ بے شک تو میرے پوشیدہ ( چھپے ہوئے ) اور ظاہر کو جانتا ہے۔ مجھے ایک موقع دے اور تندرست کردے۔ بادشاہ لگاتار روتا رہا۔ اور اللہ تعالی سے دعا مانگتا رہا۔
حضرت شعیا علیہ السام کی بشارت اور بادشاہ کا شکر ادا کرنا:
بادشاہ کے لگاتار دعا مانگنے سے اللہ تعالی نے اس پر رحم فرمایا۔اور حضرت شعیا علیہ اسلام کی طرف وحی بھیجی کہ بادشاہ کو جا کر بشارت دو کہ اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول کر لی ہے۔ اور اس پر رحم فرمایا ہے۔ اسے صحت عطا کی جائے گی۔ اور سخاریب کے لشکر سے بچایا جائے گا۔ آپ علیہ اسلام نے بیت المقدس میں آکر دعا میں مصروف بادشاہ کو اس کی دعا کی قبولیت کی بشارت دی۔ یہ خوشخبری سن کر وہ پھر سجدے میں گر پڑا۔ اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے لگا۔ اس نے عرض کیا ۔ اے اللہ تعالیٰ، اے میرے آباواجداد کے معبود ، میں نے تجھے سجدہ کیا۔ تیری تسبیح کی، تیری بزرگی کو تسلیم کیا۔ تو جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے۔ اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔ تو ظاہر اور باطن کو جاننے والا ہے۔ تو اول اور آخر ہے ۔ تو بے قراروں پر رحم کرتا ہے۔ اور اُن کی دعا قبول کرتا ہے ۔ بے شک تو نے میری دعا قبول کی اور میرے حال پر رحم فرما۔
بادشاہ کی تندرستی اور اللہ کی مدد :
جب بادشاہ نے سجدے سے سر اُٹھایا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیا علیہ السلام کو وحی فرمائی۔ کہ بادشاہ سے کہو کہ انجیر کا پانی اپنی بے کار ٹانگ پر ملے۔ وہ تندرست ہو جائے گا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کا حکم سنایا ۔ بادشاہ نے اُس پر عمل کیا۔ اور تندرست ہو گیا ۔ اس کے بعد اُس نے آپ علیہ السلام سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر وحی بھیجی۔ کہ اللہ تمہارے دشمنوں کے لئے کافی ہے۔ اور وہی تمہیں اُن سے نجات دے گا۔ اور سخاریب اور خطاب کرنے والے پانچ آدمیوں کے علاوہ سب کو ہلاک کر دے گا۔ اور تمام بنی اسرائیل کو بچا لے گا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل پر فرض ہوگا کہ تمام گمراہیوں اور خرابیوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کے حکم کی تعمیل کریں اور توریت کے احکام پر سختی سے عمل کریں۔
سخاریب کو شکست اور اس کی گرفتاری :
اللہ تعالیٰ نے رات میں فرشتوں کو حکم دیا اور اس کے حکم کے مطابق فرشتوں نے سخاریب کے لشکر کو ہلاک کر دیااور سخاریب کے ساتھ پانچ آدمیوں کو زندہ چھوڑ دیا۔ ان میں بخت نصر بھی تھا۔ اگلے دن جب صبح ہوئی تو آواز آئی کہ اے بنی اسرائیل کے بادشاہ ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے تمہارے دشمنوں کے لئے کافی ہو گیا ہے۔ باہر آکر دیکھو بے شک سخاریب کا لشکر ہلاک ہو گیا ہے۔ بادشاہ نے باہر آکر اُس جگہ دیکھا جہاں سخاریب اپنے لشکر کے ساتھ پڑاﺅ ڈالے ہوئے تھا۔ وہاں صرف لاشیں ہی لاشیں دکھائی دے رہی تھیں۔ بہت تلاش کرنے پر سخاریب نہیں ملا۔ بادشاہ نے اس کی تلاش میں سپاہی بھیجے جو اسے گرفتار کر کے لائے اُس کے ساتھ پانچ آدمی اور تھے ان میں بخت نصر بھی تھا۔
بادشاہوں کی گفتگو :
سپاہی سخاریب اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے بادشاہ کی خدمت میں لائے۔ یہ دیکھ کر بادشاہ سجدے میں گر گیا۔ اور فجر سے عصر تک سجدے میں رہا۔ پھر اس نے سخاریب سے کہا۔ ہمارے اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ جو معاملہ کیا تم اسے کیسا سمجھتے ہو؟ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لشکر کو اپنی قوت اور طاقت سے ہلاک نہیں کیاہے؟جب کہ ہم دونوں غفلت میں تھے۔ سخاریب نے کہا۔ مجھے بابل سے نکلنے سے پہلے تمہارے رب (اللہ تعالیٰ) کی مدد اور نصرت اور تم پر اس کی رحمت کے بارے میں بتایا گیا تھا لیکن میں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اور مذاق سمجھا۔ اب میری سمجھ میں آرہا ہے کہ تمہارے رب ( اللہ تعالیٰ)سے کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ سن کر بنی اسرائیل کے بادشاہ نے کہا تمام تعریفیں اُس اللہ کے لئے ہے جو ہماری طرف سے تمہارے لئے کافی ہو گیا ہے۔ اس نے تمہیں اور تمہارے پانچ ساتھیوں کو اس لئے زندہ چھوڑا ہے کہ تم دوسروں کو اس معاملہ کی خبر دو۔ اور انھیں بنی اسرائیل کے سامنے آنے سے ڈراﺅ۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ تمہیں باقی نہیں رکھتا۔ اور تم لوگوں کے خون کی قیمت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک ٹڈی کے خون کے برابر بھی نہیں ہے۔
بادشاہ کا سخاریب کے ساتھ سلوک :
اس کے بعد اُس نے حکم دیا کہ انہیں ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) کے گرد روزانہ ستّر70چکر لگوائے جائیں اور کھانے کے لئے صر ف دوروٹیاں جَو کی دی جائیں۔ یہ معاملہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔ بنی اسرائیل کے لوگ روزانہ اُن کا تماشا دیکھتے تھے۔ ایک دن سخاریب نے کہا اس طرح ذلیل کرنے سے بہتر ہے کہ ہمیں قتل کر دو۔ تو بادشاہ نے انہیں قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیا علیہ السلام پر وحی فرمائی کہ سخاریب اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دوتاکہ وہ لوگوں کو ڈرائیں۔ اور سواری کا انتظام کر کے انہیں روانہ کردو۔ تاکہ وہ اپنے شہر پہنچ جائیں۔آپ علیہ السلام نے بادشاہ کو اللہ کا حکم سنایا تو اس نے اسی کے مطابق عمل کیا۔ اس طرح سخاریب لوگوں کے لئے عبرت بن گیا۔ اور اپنی شکست کے غم میں گھل کر مر گیا۔ لیکن بخت نصر بعد میں ایک بڑا لشکر آیااور بنی اسرائیل کے بے شمار افراد کو قتل کیا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ دوسرے نبی کے ذکر میں آئے گا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں