ہفتہ، 17 جون، 2023

01 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


01 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 01

تمام انبیائے کرام پر ایمان لانا ضروری

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد بنی اسرائیل میں کوئی نبی نہیں آئے۔ بلکہ ان کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں آئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان لگ بھگ پونے چھ سو 575برسوں کا فاصلہ ہے۔ اس درمیان میں عیسائی مسلمان تھے۔ لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگئے تو اب بنی اسرائیل ( یہودی) اور عیسائی ان دونوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا چاہیئے تھا۔ لیکن ان دونوںقوموں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لایا۔ اس لئے بھی یہ کافروں میں شامل ہو گئے۔ کیوں کہ ایمان کے لئے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر ایک بھی چھوڑ دیا یا انکار کر دیا تو ایمان سے خارج ہو جائے گا۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بیت المقدس کے لئے وقف 

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”بے شک اﷲ تعالیٰ نے تمام جہان کے لوگوں میں سے آدم (علیہ السلام) کو اور نوح(علیہ السلام) کو اور ابراہیم (علیہ السلام )کے خاندان کواور عمران کے خاندان کاانتخاب فرما لیا۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 33)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کا ذکر ہم حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ذکر میں پڑھ چکے ہیں۔ لیکن آپ کو ادھورا پن نہ لگے اس لئے یہاں پھر سے ذکر کرتے ہیں۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے والد عمران بن ماثان، حضرت داﺅد علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی حضرت داﺅد علیہ السلام کی نسل سے ہوئے۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے والد عمران بنی اسرائیل میں نماز کے امام تھے۔ اور والدہ حَنّہ بنت فاقوذ بھی بہت ہی نیک اور عبادت گذار خاتون تھیں۔ آپ کو اولاد نہیں ہوتی تھی۔ ایک دن انھوں نے ایک پرندے کو دیکھا وہ اپنے چوزوں کو کھانا کھلا رہا تھا۔ انھیں دیکھ کر یہ خیال آیا کہ کاش میرا اپنا بھی کوئی بچہ ہوتا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے منت مانی کہ اے اللہ تعالیٰ، اگر تو مجھے اولاد عطا فرمائے گا تو میں اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کر دوں گی۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب عمران کی بیوی نے کہاکہ اے میرے رب!میرے پیٹ میں جو کچھ ہے ،اُسے میں تیرے نام سے آزاد کرنے کی نذر مانی تُو میری طرف سے قبول فرما۔یقینا تُو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 35)

اﷲ تعالیٰ کی پناہ میں دے دیا

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛”جب بچی پید ہوئی تو (والدہ) کہنے لگیں کہ اے میرے رب!مجھے تو لڑکی ہوئی ہے،اﷲ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے۔اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں ،میں نے اس کا نام ”مریم “رکھا ۔میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔(سورہ آل عمران آیت نمبر36)اللہ تعالیٰ نے ان کی نذر کو قبول فرمایا۔ اور انھیں اولاد سے نوازا۔ اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ بیٹا چاہتی تھیں کیوں کہ اس وقت تک بنی اسرائیل میں بیت المقدس کی خدمت کے لئے بیٹے وقف کرنے کا رواج تھا۔ لیکن اب چونکہ حنہ بنت فاقوذ نذر مان چکی تھیں اس لئے انھوں نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیت المقدس کے ذمہ داران کے حوالے کر دیا اور کہا کہ میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ، میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں کہ تو انھیں شیطان کے شر سے بچائے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعا کو بھی قبول فرمایا۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش 

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش کا ذکر ہم حضرت زکریاعلیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ذکر میں کر چکے ہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ بہت سے قارئین اسے نہ پڑھ سکے ہوں ۔ اس لئے مختصراً یہاں ذکر کر دیتے ہیں ۔جب سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی والدہ نے انھیں بیت المقدس کے ذمہ داروں کے حوالے کیا تو اس وقت حضرت زکریا علیہ السلا م بنی اسرائیل کے نبی تھے۔ اور بیت المقدس کے ذمہ داروں میں سے ایک تھے۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بنی اسرائیل کے امام کی بیٹی تھیں اس لئے بیت المقدس کا ہر ذمہ دار یہ چاہتا تھا کہ وہ اس بچی کی پرورش کرے۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا چونکہ میں اس بچی کا خالو ہوں اس لئے اس بچی کی پرورش کی ذمہ داری مجھے سونپی جائے۔

پرورش کے لئے قرعہ اندازی

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”یہ غیب کی خبروں میں سے ہے،جسے ہم آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم) کی طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم)اُن کے پاس نہیں تھے جب کہ وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے گا۔اور نہ تو اُن کے جھگڑنے کے وقت اُن کے پاس تھے۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 44)بیت المقدس کا ہر ذمہ دار سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش کرنا چاہتا تھا اس لئے یہ طے ہوا کہ قرعہ نکالا جائے۔ جس کے نام قرعہ کھلے گا وہ بچی کی پرورش کرے گا۔ تمام ذمہ داروں نے اپنے اپنے قلم کپڑے کے نیچے رکھ دیئے ایک بچے کو بلایا گیا او ایک قلم نکالنے کو کہا گیا۔ اس بچے نے جو قلم نکالا وہ حضرت زکریا علیہ السلام کا تھا۔ یہ دیکھ کر دوسرے ذمہ داروں نے کہا پھر سے قرعہ اندازی کرتے ہیں۔ اس بار تمام لوگ دریا میں اپنے اپنے قلم ڈالیں ۔ جس کا قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرے گا وہی اس بچی کی پرورش کرے گا۔ تمام لوگ اور تمام قلم دریا کے پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرنے لگے۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرنے لگا۔ یہ دیکھ کر تمام ذمہ داروں نے کہا۔ ایک آخری مرتبہ اور قرعہ اندازی کر لیتے ہیں۔ اس بار جس کا قلم پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرے گا وہی اس بچی کی پرورش کرے گا۔ ایک مرتبہ پھر تمام ذمہ داروں نے اپنے اپنے قلم دریا میں ڈالے تو تمام لوگوں کے قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمیت تیرنے لگے۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرنے لگا۔ یہ دیکھ کر تمام لوگوں نے تسلیم کر لیا کہ اللہ تعالیٰ بھی یہی چاہتا ہے کہ اس بچی کی پرورش حضرت زکریا علیہ السلام کریں۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی عبادت و ریاضت 

اس طرح حضرت زکریا علیہ السلام نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہاکی پرورش کی ذمہ داری سنبھا ل لی۔ آپ علیہ السلام نے بچی کے لئے ایک بہت ہی مناسب کمرہ منتخب فرمایا تھا۔ اس کمرے میں سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی اجازت کے بغیر کوئی نہیں داخل ہو سکتا تھا۔ یہاں تک کہ آپ علیہ کو بھی اجازت لینی پڑتی تھی۔ یہ کمرہ بیت المقدس کے قریب تھا۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ کی بہت عبادت گذار بندی تھیں۔ اور جیسے جیسے عمر بڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے عبادت و ریاضیت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ہر وقت وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتیں۔ اور صرف اُس دن اپنے کمرے سے باہر نکلتیں جس دن بیت المقدس میں اُن کی خدمت کی باری ہوتی تھی۔ اور اسی دن بنی اسرائیل اور اُن کے والدین انھیں دیکھ پاتے تھے۔ باقی تمام دن میں وہ سارا وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارتی تھیں۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہا کی عبادت بنی اسرائیل میں ایک مثال بن گئی۔ اور تمام بنی اسرائیل اُن کی تعریف کرتے تھے۔ حضرت زکریا علیہ السلام بھی جب اُن کے کمرے میں تشریف لے جاتے تھے تو اُن کے کمرے میں پھل دیکھ کر حیران ہو جاتے تھے۔ اور پھل بھی ایسے ہوتے تھے جن کا موسم نہیں ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام نے پوچھا۔ بیٹا مریم ، یہ پھل کہاں سے آتے ہیں جب کہ میرے سوا کوئی بھی اس کمرے میں نہیں آتا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ پھل اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔ا،س کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس اُسے اُس کے رب نے اچھی طرح قبول فرمایا اور اُسے بہترین پرورش دی۔اُسکی خیر خبر لینے والا زکریا(علیہ السلام)کو بنایا۔جب کبھی زکریا علیہ السلام اُس کے حجرے(محراب) میں جاتے تو اُس کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے ۔وہ پوچھتے ؛اے مریم!یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی ؟وہ جواب دیتیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کے پاس سے ہے۔بے شک اﷲ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 37)

فرشتے نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت دی

یہ دیکھ کر حضرت زکریا علیہ السلام سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی بیت المقدس کی خدمت اور عبادت کو قبول فرما لیا ہے۔ اسی طرح آپ رضی اللہ عنہا ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول تھیں کمرے کا دروازہ بند تھا۔ اور کوئی اندر نہیں آسکتا تھا۔ عبادت کے دوران انھیں آواز آئی ۔ اے مریم اللہ تعالیٰ تمہیں بشارت دیتا ہے۔اس آواز کو سن کر سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے چونک کر آواز کی طرف دیکھا تو ایک فرشتہ نظر آیا۔ آپ رضی اللہ عنہا حیران ہو گئیں کہ دروازہ تو بند ہے پھر یہ کیسے اندر آگیا؟ اس نے آپ کی حیرانی دیکھ کر کہا۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہو افرشتہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں چُن لیا ہے سارے جہان کی عورتوں میں سے اور پاک کر دیا ہے۔ اور حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اسی خلوص سے عبادت کرتی رہو۔ اور سجدہ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ سجدہ اور رکوع کرتی رہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہیں ایک بیٹے کی بشارت دیتا ہے۔ اس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ وہ معزز ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اللہ تعالیٰ کے مقربین میں سے ہوگا۔ اور لوگوں سے جھولے میں ( یعنی اس وقت جب بچے بول نہیں سکتے ) میں بات کرے گا۔ اور بڑا ہو کر بھی بات کرے گا۔ اور نیک لوگوں میں سے ہوگا۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب فرشتوں نے کہا؛اے مریم!اﷲ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی بشارت( خوش خبری) دیتا ہے۔جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے اور دنیا میں اور آخرت میں ذی عزت ہے اور وہ میرے مقربین میں سے ہے۔وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں بات کرے گااور ادھیڑ عُمر بھی اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 45 اور 46) اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اِس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کرو۔جب کہ وہ اپنے گھر کے لوگوں سے علحٰیدہ ہو کر ایک مشرقی مکان میں آئیں اور اُن لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا۔پھرہم نے اُس کے پاس اپنی روح کوبھیجا ،وہ اُس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا ۔یہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں ،اگر تُو کچھ بھی اﷲ سے ڈرنے والا ہے۔اُس نے جواب دیا کہ میں تو اﷲ کا بھیجاہوا قاصد ہوں ،تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔کہنے لگیں بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہیں لگا اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔اُس نے کہا بات تو یہی ہے ،لیکن تیرے رب کا ارشاد ہے کہ وہ مجھ پر بہت ہی آسان ہے ۔ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے اور اپنی خاص رحمت۔یہ تو ایک طے شدہ بات ہے۔“(سورہ مریم آیت نمبر 16سے 21تک)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں