پیر، 5 جون، 2023

01 حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام Story of Prophet Ilyaas and Ysaa


01 حضرت الیاس اور حضرت یسع علیہم السلام

سلسلۂ انبیاءعلیہم السلام 16

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 01

حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالات

حضرت سلیمان علیہ السلام نے کسی کو اپنا جا نشین نہیں بنایا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کے وصال کے بعد بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کے بیٹے رجعام بن حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔ یہ بہت ہی نا اہل اور مطلب پرست تھا ۔ بادشاہ بننے کے بعد رجعام نے بیت المقدس ، بیت لحم ، غزہ ( غازہ ) صور اور ایلہ کی عمارتوں کی توسیع کی۔ لیکن وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنے لگا تھا اور ان پر بہت زیادہ ٹیکس لاد دیئے تھے۔ بنی اسرائیل نے ٹیکسوں میں کمی کی مانگ کی رعایت کی مانگ کی تو اس نے رعایت کرنے کے بجائے ٹیکس اور بڑھادیئے۔ جس کی وجہ سے بنی اسرائیل اس سے بد ظن ہو گئے اور اکثریت اس کے خلاف ہو گئی۔-

سلطنت دو حصوں میں یہودیہ اور اسرائیل میں تقسیم

حضرت سلیمان علیہ السلام کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے آپ علیہ السلام کے خلاف بغاوت کرنے کی کوشش کی تھی۔ جسے آپ علیہ السلام نے سختی سے کچل دیا تھا۔ اس باغی کا نام یر یعام بن نباط تھا۔ وہ جان بچا کر مصر بھاگ گیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام کے وصال تک وہیں رہا۔ لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رجعام سے بد ظن ہو گئے ہیں تو وہ ملک کنعان واپس آیا۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ فلسطین ، لبنان ، اردن اور شام کا کچھ حصہ اس وقت ملک کنعان میں آتا تھا) اور بنی اسرائیل کے دس قبیلوں نے اس کی حکومت کو تسلیم کر لیا۔ اب حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ رجعام بیت المقدس اور آس پاس کے علاقوں کا حکمراں تھا۔ اور بنی اسرائیل کے صرف دو قبیلے بنو یہوداہ اور بنو بن یامن اس کے ساتھ تھے۔ اور اس نے اپنی سلطنت کا نام ”سلطنت یہودیہ “ رکھا۔ اور لبنان ، اردن اور شام کے کچھ علاقوں پر یربعام بن نباط کی حکومت تھی اور بنی اسرائیل کے دس قبیلے اس کے ساتھ تھے۔ اس نے اپنی سلطنت کا نام ” سلطنت اسرائیلیہ “ یا ”سلطنت اسرائیل “ رکھا۔ اب حالت یہ ہو گئی تھی کہ بنی اسرائیل دو ٹکڑوں میں بٹ گئے تھے اور دو حکومتیں چل رہی تھیں۔

سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ میں بُت پرستی کی شروعات 

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا کہ وہ ہر حال میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ لیکن بنی اسرائیل اتنے بد بخت ہیں کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے کوئی بت بنا دیں۔ آپ علیہ السلام انہیںڈانٹا تھا تو خاموش بیٹھ گئے تھے۔ لیکن جب آپ علیہ السلام توریت لینے کےلئے چالیس دنوں تک کوہ طور پر تشریف لے گئے تو سامری نے بچھڑے کا بت بنایا تھا۔ اور بہت سارے بنی اسرائیل اس کی پوجا کرنے لگے تھے۔ ایسا ہی معاملہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال کے بعد پیش آیا اور پہلے تو آپ علیہ السلام کی سلطنت کو بنی اسرائیل نے دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک سلطنت یہودیہ تھی اور دوسری سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ تھی۔ جو بعد میں سلطنت سامریہ بن گئی۔ سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ کے بادشاہ یربعام بن نباط نے جب دیکھا کہ سلطنت یہودیہ میں بیت المقدس کو آج بھی تمام بنی اسرائیل مقدس مانتے ہیں تو اس نے سوچا کہ اسی طرح میری سلطنت کے بنی اسرائیل بیت المقدس جاتے رہے تو دھیرے دھیرے سلطنت یہودیہ سے متاثر ہو کر کہیں مجھ سے بغاوت نہ کرنے لگیں اور مجھے قتل کر کے بادشاہ رجعام کی طرف لوٹ جائیں گے۔ اسی لئے اس نے اپنے وزراءسے مشورہ کیا اور سونے کے دو بچھڑے بنائے اور اپنی سلطنت میں اعلان کروا دیا کہ تم لوگوں کو ملک مصر سے نکال کر یہی بچھڑے کے بت لائے تھے۔ ایک بت کو بیت ایل میں نصب کروایا اور دوسرے بت کو بنو دان کے علاقے میں نصب کروایا اور اپنی سلطنت کے بنی اسرائیل کے دس قبیلوں کو کہا کہ بیت المقد س دور ہے اور وہاں جانے میں تمہیں پریشانیاں ہوتی ہیں۔ اسلئے تم ان دونوں مقامات پر آکر اپنی قربانیاں چڑھا سکتے ہو اور جہاں دونوں بتوں کو نصب کیا تھا وہاں بہت ہی شاندار مندربنوا دیئے۔ اس طرح سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ میں بت پرستی کو شروعات ہو گئی اور بنی اسرائیل کے دس قبیلے بت پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ یربعام بن نباط نے دونوں بتوں کو بلند پہاڑوں پر نصب کر وایا تھا اور دونوں جگہ عالیشان مندر تعمیر کروائے اور کاہن ( پجاری ) مقرر کر دیئے اور آٹھویں مہینے کی پندرہویں تاریخ کو ایک عید شروع کر دی ۔ جیسی کہ عید سلطنت یہودیہ میں منائی جاتی تھی۔

رجعام کی جگہ ابیاہ سلطنت یہودیہ کا بادشاہ

حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب” اسرائیل“ ہے اور آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی اور بنی اسرائیل کہلائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور پھر حضرت یوشع علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل متحد رہے۔ پھر ان میں پھوٹ پڑ گئی۔ اس کے سینکڑوں برسوں بعد حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں ایک بار پھر بنی اسرائیل متحد ہو گئے۔ لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد پھر سے بکھر گئے۔ سلطنت یہودیہ کے حکمراں رجعام کی حکومت کے پانچویں برس میں مصر کے بادشاہ سیسق نے سلطنت یہودیہ کی راجدھانی یروشلم ( بیت المقدس) پر حملہ کر کے ہیکل سلیمانی اور شاہی محل کے سارے خزانے لوٹ کر لے گیا جن میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی بنوائی دو سو سونے کی ڈھالیں بھی تھیں۔ رجعام بادشاہ نے ان کی جگہ پیتل کی ڈھالیں بنوائیں اور ان کی جگہ رکھوائیں۔ ادھر سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ کا بادشاہ یربعام آرام سے حکومت کر رہا تھا۔ رجعام اور یربعام میں اکثر جنگ ہوتی تھی اور دونوں طرف سے بنی اسرائیل ہی مرتے تھے۔ رجعام نے سترہ سال حکمرانی کی۔ اس کے بعد اس کا انتقال ہو گیا تو اس کی جگہ سلطنت یہودیہ کا بادشاہ اُس کا بیٹا ابیاہ بنا۔

آسا اور بعشا کی بادشاہت 

اپنے باپ رجعام کی طرح ابیاہ بھی ظالم اور نااہل تھا۔ وہ جب سلطنت یہودیہ کا بادشاہ بنا تو سلطنت اسرائیلیہ کی حکمرانی کرتے ہوئے یربعام کو سترہ سال ہو چکے تھے۔ ان دونوں میں بھی جنگ ہوتی رہی اور دونوں طرف سے بنی اسرائیل کا خون بہتا رہا۔ تین سال حکومت کرنے کے بعد ابیاہ کا انتقال ہو گیا اور اس کی جگہ سلطنت یہودیہ کا بادشاہ اس کا بیٹا آسا بنا اس وقت یربعام کو سلطنت اسرائیلیہ پر حکومت کرتے ہوئے بیسواں 20واں سال چل رہا تھا۔ آسا بن ابیاہ ایک اچھا، نیک اور سمجھدار انسان تھا۔ اس نے سلطنت یہودیہ میں اللہ تعالیٰ کے احکامات نافذ کئے۔ اس کے دادا رجعام اور باپ ابیاہ کے دور حکومت میں ہم جنس پرستی کا بہت زور ہو گیا تھا۔ آسانے انہیں ملک بدر کر دیا اور جو نہیں گئے انہیں قتل کر دیا۔ سلطنت یہودیہ میں تمام بتوں کو توڑ دیا اور اپنی دادی کو راج ماتا کے عہدے سے معزول کر دیا۔ اور وہ جس بت کی پوجا کرتے تھی اسے توڑ دیا۔ آسا کی حکومت کو ابھی دو سال ہوئے تھے کہ سلطنت اسرائیلیہ کے بادشاہ یربعام کا انتقال ہو گیا ۔ اس نے بائیس 22یا تیئیس23سال حکومت کی۔ اس کے بعد سلطنت اسرائیلیہ کا بادشاہ اس کا بیٹا ندب بن یربعام بنا ۔ ابھی اس نے ایک ہی سال حکومت کی تھی کہ بنو اشکار کے بعثانے اسے قتل کر دیا اور سلطنت ِ اسرائیلیہ کا بادشاہ بن گیا۔

سلطنت اسرائیلیہ کی جگہ سلطنت سامریہ

اللہ تعالیٰ کے احکامات ہر عمل کرتے ہوئے آسا بن ابیاہ سلطنت یہودیہ پر حکمرانی کر رہا تھا۔ اس دوران سلطنت اسرائیلیہ کا بادشاہ بعثا بن گیا تھا اس نے بادشاہ بنتے ہی سب سے پہلے یربعام کے سارے خاندان والوں کو قتل کر دیا اور کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑا۔ اس کے بعد اس نے سلطنت یہودیہ پر حملہ کر دیا اور راملہ پر قبضہ کر لیا۔ آسا اس کے مقابلے پر فوج لے کر آیا۔ دونوں کا مقابلہ ہوا اور بعثا راملہ سے آگے نہیں بڑھ سکا تو وہاں اس نے ایسی دیوار بنانی شروع کر دی جو سلطنت یہودیہ اور سلطنت اسرائیلیہ کے درمیان سرحد کا کام کرے۔ دمشق کا بادشاہ ارام بن بدد سلطنت اسرائیلیہ کے بادشاہ بعثا کاساتھ دے رہا تھا۔ آسا بن ابیاہ نے بہت سارا سونا چاندی اور بہت سے تحائف اس کے پاس بھیجے اور پیغام دیا کہ میری والد کا تم سے جو معاہدہ تھا اس کو پھر سے جاری کراﺅ اور بعثا سے معاہدہ توڑ دو ۔ الام بن بدد نے آسا کی بات مان لی اور بعثا سے معاہدہ توڑ کر اپنی فوج کو حکم دیا کہ سلطنت اسرائیلیہ کے علاقوں پر حملہ کر دیں۔ اور اس فوج نے عیون ، دان ، ایبل ، بیت معکہ اور کزت پر قبضہ کر لیا۔ جب بعثا نے یہ سنا تو راملہ میں دیوار کی تعمیر روک کر واپس پیچھے ہٹ گیا۔ اس کے بعد آسا نے حکم دیا کہ بعثا نے جو تعمیر کی تھی اسے توڑ کر لے آﺅ۔ اور اس نے ان پتھروں اور لکڑیوں سے بن یامن کے علاقے میں جبع اور مصفاہ کی تعمیر کی۔ بعثا نے چوبیس سال حکمرانی کی اور اس کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا ایلہ بادشاہ بنا اس نے دو سال حکومت کی اس کے سپہ سالار زمری نے اس کا قتل کر دیا اور اپنی بادشاہت کاا علان کردیا۔ لیکن بنی اسرائیل نے سلطنت اسرائیلیہ کا بادشاہ عمری کو بنا دیا۔ اور اس نے فوج کے ساتھ مل کر زمری کو اس کے محل میں زندہ جلا دیا۔ اور اس طرح عمری جب بادشاہ بنا تو آسا بن ابیاہ کو سلطنت یہودیہ پر حکومت کرتے ہوئے اکتیس31سال ہو چکے تھے۔ عمری نے چھ سال حکومت کرنے کے بعد سمر سے دو قنطار چاندی پر سامریہ کی پہاڑی خرید لی اور اس پر ایک شہر تعمیر کیا اور اسے راجدھانی بنایا اور سلطنت اسرائیلیہ کا نام بدل کر سلطنت سامریہ رکھ دیا۔ اب بنی اسرائیل کی ایک سلطنت یہودیہ تھی اور دوسری سلطنت سامریہ تھی۔ بارہ سال حکومت کرنے کے بعد عمری کا انتقال ہو گیا۔

سلطنت سامریہ میں بعل کی پوجا

سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ کے بانی یربعام بن نباط نے بچھڑوں کے بت بنوا کر ان کے مندر بنوا کو پوجا شروع کر وائی تھی۔ تب سے وہاں کے بنی اسرائیل بتوں کی پوجا کر رہے تھے۔ اس کے بعد عمری نے سلطنت اسرائیلیہ کا نام بدل کر سلطنت سامریہ رکھ دیا۔ عمری کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا اخی اب سلطنت سامریہ کا بادشاہ بنا اس وقت سلطنت یہودیہ کے بادشاہ آسا بن ابیاہ کو حکومت کرتے ہوئے اڑتیس 38 سال ہو چکے تھے۔اخی اب بھی بت پرست تھے۔ اور اس نے سلطنت سامریہ میں بعل کی پوجا کی شروعات کی۔ اس نے بت پرست صیدانیوں کے بادشاہ کی بیٹی ایزبل سے شادی کی۔ اور اس کے ساتھ بعل کی پوجا اور اسے سجدہ کرنے لگا۔ اس نے بعل کا بہت بڑا اور بہت عالیشان مندر بنوایا ۔ اور اس میں بعل کا ایک بہت بڑا بت نصب کیا۔ اس کے علاوہ اس نے پوری سلطنت سامریہ میں جگہ جگہ بعل کے مندر بنوائے اور بنی اسرائیل کے دس قبیلے بعل کی پوجا کرنے لگے۔ اور پوری سلطنت سامریہ میں بعل کی پوجا کی جانے لگی۔ ایسے وقت میں سلطنت سامریہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت الیاس علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ اب ہم حضرت الیاس علیہ السلام کا ذکر کریں گے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو تمام بنی اسرائیل کے لئے مبعوث فرمایا تھا۔ لیکن چونکہ سلطنت یہودیہ کے مقابلے میں سلطنت سامریہ زیادہ گمراہی میں مبتلا تھی اس لئے آپ علیہ السلام کے ذکر میں سلطنت سامریہ کا ذکر زیادہ آئے گا۔ اور ہم سلطنت یہودیہ کے بادشاہ آسا بن ابیاہ کا ذکر فی الحال روک رہے ہیں۔ انشاءاللہ حضرت الیاس علیہ السلام کا ذکر مکمل کرنے کے بعد ہم آسا بن ابیاہ کا ذکر پھر کریں گے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں