01 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام
شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 19
قسط نمبر 1
بنی اسرائیل کی غلامی
حضرت دانیال علیہ السلام کے حالات بیان کرنے سے پہلے ہم بنی اسرائیل کے کچھ حالات بیان کریں گے تاکہ تسلسل برقرار رہے ۔ حضرت شعیا علیہ السلام کے ذکر میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ بنی اسرائیل اور اُن کے بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو بے رحمی سے شہید کردیا تھا اور اپنے اوپر اﷲ کے غضب کو مقدر بنا لیا تھا ۔ اِس کے بعد بھی اﷲ تعالیٰ نے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو اپنا پیغام دے کر بھیجا اور بنی اسرائیل کو ایک اور موقع دیا ۔ یوسیاہ بادشاہ نے آپ علیہ السلام کی اطاعت کی اور دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوا لیکن اُس کے انتقال کے بعد بنی اسرائیل اور بادشاہ آپ علیہ السلام کے دشمن بن گئے اور بے رحمی سے مار پیٹ کر آپ علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا ۔ تب بخت نصر کی شکل میں اُن پر اﷲ کا عذاب نازل ہوا اور اُس نے بے شمار بنی اسرائیل کو قتل کیا اور بے شمار بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ”بابل“ لے گیا۔ بہت سے بنی اسرائیل بھاگ کر ملک مصر چلے گئے تھے ، بخت نصر نے ملک مصر کے بادشاہ کے پاس قاصد بھیجے اور کہا کہ میرے غلام بھاگ کر تمہارے ملک میں آگئے ہیں انہیں میرے پاس واپس بھیج دو۔ اِس کے جواب میں ملک مصر کے بادشاہ نے کہا کہ بنی اسرائیل تمہارے غلام نہیں ہیں بلکہ آزاد لوگ ہیں اور میں اُن کو تمہارے حوالے نہیں کروں گا ۔ بخت نصر نے اتنا سخت جواب سنا تو ملک مصر پر حملہ کردیا اور بادشاہ کو شکست دے کر قتل کردیا لیکن جو بنی اسرائیل ملک مصر میں چھپے ہوئے تھے وہ اُسے نہیں مل سکے کیونکہ بخت نصر کی بابل سے فوج لیکر ملک مصر روانہ ہونے کی خبر سنتے ہی وہ لوگ ملک مصر سے نکل بھاگے تھے ۔ ان میں سے کچھ ”وادیٔ القریٰ“ میں آباد ہوگئے اور کچھ یثرب (مدینۂ منورہ) کے آس پاس آباد ہوگئے ۔ جبکہ بنی اسرائیل کی اکثریت بدستور بخت نصر کی غلام بنی رہی اور بابل میں غلامی کی زندگی گزارتی رہی ۔
آگ کی پوجا کا بانی: زرتشت
حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے کئی شاگرد تھے ۔ یوسیاہ بادشاہ کے دورِ حکومت میں آپ علیہ السلام کے بے شمار شاگرد ہوگئے تھے ۔ اُن میں سے ایک زرتشت (زرادشت) بھی تھا اوریہ ارامی یا عمونی یا ادومی تھا۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے شوگردوں کے ساتھ یہ بھی علم سیکھتا تھا ۔ جب اُس نے اچھا خاصا علم سیکھ لیا تو اُسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنے لگا اور آپ علیہ السلام کے ساتھ خیانت کی اور جھوٹ باندھا ۔ آپ علیہ السلام نے اُس کے خلاف دعا فرمائی تو وہ وہاں سے بھاگ کر آذربائیجان چلا گیا اور وہاں مجوسیت کے مذہب کی بنیاد رکھی ۔ اُس نے آگ جلائی اور لوگوں کو بتایا کہ یہ تمہارا معبود ہے اور اِس کی پوجا کرو اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی تعلیمات کو گڈ مڈ کرکے لوگوں کو بتائی جو لوگوں بھلی معلوم ہوئیں اور وہ لوگ آگ کی پوجا کرنے لگے ۔ پھر زرتشت وہاں سے بلخ آیا اور وہاں کے بادشاہ یشتاشب کو اپنے مذہب کی دعوت دی اور اپنے دین کی تشریح کی تو یشتاشب کو بہت پسند آئی ۔ اُس نے اپنی حکومت میں اعلان کروادیا کہ عوام زرتشت کے مذہب کو قبول کرے اور آگ کی پوجا کرے ۔ بہت سی عوام نے زرشت کے مذہب کو قبول کیا اور بہت سوں نے مخالفت کی اور یشتاشب کے خلاف بغاوت کردی ۔ جسے اُس نے سختی سے کچل دیا اور پورا ملک فارس آگ کی پوجا کرنے لگا ۔ یہاں ملک فارس کا ذکر ہم نے اِس لئے کیا ہے کہ آگے چل کر بنی اسرائیل کے ذکر میں ملک فارس کے بادشاہ کا ذکر بھی آئے گا ۔ یہ بات ذہن میں رتکھیں کہ اُس وقت ملک فارس ایران اور خراسان وغیرہ پر مشتمل تھا ۔
حضرت دانیال علیہ السلام کی بعثت
حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو بخت نصر نے اُن کی خواہش کے مطابق یروشلم (بیت المقدس) کے کھنڈرات میں ہی چھوڑ دیا تھا اور تمام بنی اسرائیل کو غلا م بنا کر بابل لے گیا تھا ۔ اُس نے ”سلطنت یہودیہ“ اور سلطنت سامریہ“ (اسرائیل) کا خاتمہ کردیا ۔ سلطنت سامریہ اسرائیل تو پہلے ہی ختم ہوچکی تھی لیکن بعد میں بنی اسرائیل کے مختلف قبائل نے اِسے آباد کیا تھا لیکن مستحکم حکومت نہیں بنا سکے تھے ۔ بہرا حال بخت نصر نے بنی اسرائیل کی تمام حکومت کا خاتمہ کردیا تھا ۔ یہ سب ہم آپ کو حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے ہیں ۔ بنی اسرائیل کو غلام بنا کر بخت نصر بابل لے گیا اور اُن کے ساتھ بہت ذلت آمیز سلوک کیا ۔ بنی اسرائیل اُس کی حکومت میں غلامی کی زندگی گزارنے لگے ۔ بخت نصر اُن کو ہر طرح سے ذلیل کرتا تھا اور ہر بیگاری کا کام اُن سے لیتا تھا ۔ بابل میں لگ بھگ ستر 70 سال تک بنی اسرائیل غلامی کی زندگی گزارتے رہے ۔ جن لوگوں کو بخت نصر قید کرکے لایا تھا اُن میں حضرت دانیال علیہ السلام بھی تھے ۔ اُس وقت آپ علیہ السلام کی عُمر مبارک لگ بھگ تیرہ یا چودہ سال تھی ۔ آپ علیہ السلام کی عُمر مبارک جب چالیس سال ہوئی اور بنی اسرائیل کو غلامی کی زندگی گزارتے ہوئے لگ بھگ چھبیس 26 یا ستائیس 27 ہوئے تو اﷲ تعالیٰ نے اُن پر رحم فرمایا اور حضرت دانیال علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور نبوت سے سرفراز فرمایا تاکہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمجھائیں اور اُنہیں سیدھا اور سچا راستہ بتائیں ۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو سمجھانا شروع کردیا اور اُن میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔
بخت نصر کا خواب
حضرت دانیال علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بتایا کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہیئے اور ہمارے بزرگ صحیح راستے سے بھٹک گئے تھے جس کی اُنہیں سزا ملی ہے ۔ یہ تمام باتیں آپ علیہ السلام نوجوانوں کو سمجھاتے تو بوڑھے بنی اسرائیل اُن کی تائید کرتے تھے ۔ (بخت نصر نے جن جوانوں کو غلام بنایا تھا وہ ادھیڑ عُمر کے یا بوڑھے ہوچکے تھے) بخت نصر کا ظلم ابھی بھی بنی اسرائیل پر جاری تھا اور بنی اسرائیل غلامی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ نوجوانوں نے تو غلامی میں ہی آنکھ کھولی تھی اِس لئے وہ اپنے آپ کو غلام ہی سمجھتے تھے ۔ حضرت دانیال علیہ السلام اُنہیں گزرے ہوئے انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات بتاتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتے تھے کہ بنی اسرائیل کا ماضی کتنا شاندار گزرا ہے ۔ اِسی دوران اﷲ تعالیٰ نے بخت نصر پر حُجت قائم کرنے کے لئے اُسے ایک خواب دکھلایا اور بھلا دیا ۔ بخت نصر نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا لیکن جب صبح اُٹھا تو وہ خواب بھول گیا ۔ اُس خواب کی وجہ سے وہ بہت بے چین ہوگیا اور اُس نے اپنے نجومیوں اور جادوگروں اور کاہنوں کو بلایا اور کہا کہ میں ایک خواب دیکھا ہے ۔ وہ بہت ہی عجیب خواب تھا اور اُس کی وجہ سے میں بہت بے چینی میں مبتلا ہوں ، مجھے اِس خواب کی تعبیر بتاؤ ۔ نجومیوں اور کاہنوں نے کہا کہ ٹھیک ہے! آپ ہمیں خواب بیان کریں ،ہم اِس کی تعبیر بتائیں گے ۔بخت نصر نے کہا :” میں خواب تو بھول گیا ہوں مگر مجھے تم لوگ اس کی بتاو¿گے۔“ نجومیوں اور کاہنوں نے کہا :” بغیر خواب سنے ہم اِس کی تعبیر کیسے بتا سکتے ہیں؟“ یہ سن کر اُسے غصہ آگیا اور اُس نے نجومیوں اور کاہنوں سے کہا :”اب تم مجھے وہ خواب بھی بتاؤگے اور اُس کی تعبیر بھی بتاؤگے اور اگر نہیں بتا سکے تو میں تم سب کو قتل کردوں گا۔“
تمام لوگ حضرت دانیال علیہ السلام کی خدمت میں
حضرت دانیال علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا تھا اور آپ علیہ السلام کسی کی پرواہ کئے بغیر اپنے کام میں لگے ہوئے تھے ۔ بنی اسرائیل کے تمام لوگ آپ علیہ السلام کا ادب اور عزت کرتے ہی تھے اور اُن کے ساتھ ساتھ بابل کی عوام بھی آپ علیہ السلام کی بہت عزت کرتی تھی ۔ جب بخت نصر نے اپنے نجومیوں اور کاہنوں سے کہا کہ مجھے میرا خواب بھی بتاو¿ ورنہ میں تم سب کو قتل کردوں گا تو اُن کے ہوش اُڑ گئے اور انہوں نے بخت نصر سے چند دنوں کی مہلت مانگی جو اُس نے دے دی ۔ تما نجومیوں اور کاہنوں نے آپس میں مشورہ کیا لیکن اُن کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔ آخر کار انہوں نے یہ طے کیا کہ یہ مصیبت بنی اسرائیل کے علما پر ڈال کر جان بچا لی جائے ۔ بنی اسرائیل میں زیادہ تر دنیا پرست علما تھے جنہوں نے چند رسومات کو دین کا نام دے رکھا تھا اور سیدھے سادھے بنی اسرائیل کو دھوکے میں مبتلا کررکھا تھا ۔ نجومیوں اور کاہنوں نے بخت نصر سے کہا :”بنی اسرائیل کے علما کو ہم سے زیادہ علم ہے اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم آسمانی دین پرہیں ۔ اِس لئے وہ لوگ آپ کا خواب بھی بتائیں گے اور اُس کی تعبیر بھی بتائیں گے ۔ بخت نصر نے بنی اسرائیل کے علما کو دربار میں حاضر کرنے کا حُکم دیا ۔ جب سب حاضر ہوئے تو بخت نصر نے اپنا سوال دہرایا ۔ تمام علما پریشان ہوگئے اور آپس میں غوروخوض کرنے لگے ۔ آخر کار انہوں نے کہا کہ ہم بغیر خواب اُس کی تعبیر نہیں بتاسکتے ۔ بخت نصر نے کہا :”تم تو کہتے ہوکہ ہمارا دین آسمانی ہے ، کیا آسمان سے اِس کے بارے میں تمہارے لئے مدد نہیں آسکتی؟ بنی اسرائیل کے علما نے کہا :”وہ تو ٹھیک ہے ، لیکن بغیر خواب سنے کوئی بھی تعبیر نہیں بتا سکے گا ۔“ یہ سن کر بخت نصر کو غصہ آیا اور اُس نے کہا :”میں تم تمام علما اور تمام کاہنوں اور نجومیوں کو تین دن کی مہلت دیتا ہوں ۔ اگر مجھے تین دن میں میرا خواب اور اُس کی تعبیر نہیں بتائی تو میں تم سب کو قتل کرادوں گا ۔“ یہ حُکم سن کر تمام بنی اسرائیل کے علما اور بخت نصر کے بجومیوں اور کاہنوں کی راتوں کی نیندیں اُڑگئیں اور وہ سب مل کر مشورہ کرنے لگے کہ کس طرح جان بچائی جائے؟ بنی اسرائیل کے علما نے کہا :”ہم میں سے ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ، چلو اُن کے پاس چلتے ہیں اورتمام علما اور نجومی اورکاہن آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے
حضرت دانیال علیہ السلام بخت نصر کے دربار میں
حضرت دانیال علیہ السلام کی خدمت میں بنی اسرائیل کے تمام علما اور بخت نصر کے تمام نجومیوں اور کاہنوں نے حاضر ہوکر درخواست کی کہ ہمیں اِس مصیبت سے بچائیں ۔ اگر آپ علیہ السلام واقعی اﷲ کے نبی ہیں تو ہمیں ضرور اِس مسئلے کا حل بتائیں گے اور تمام ماجرا آپ علیہ السلام کو سنا دیا ۔ پورا واقعہ سننے کے بعد آپ علیہ السلام کافی دیر تک سر جھکائے بیٹھے رہے اور سب لوگ اُمید بھری نظروں سے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہے تھے ۔ کافی دیر کے بعد آپ علیہ السلام نے سر اٹھایا اور فرمایا :”ٹھیک ہے! انشاءاﷲ میں بخت نصر کا خواب بھی بتاو¿ں گا اور اُس کی تعبیر بھی بتاو¿ں گا، تم لوگ اُس سے جا کر کہہ دو کہ میں فلاں دن دربار میں آکر اُس سے ملوں گا ۔“ بنی اسرائیل کے علما اور بخت نصر کے نجومیوں کاہنوں نے دربار میں حاضر ہو کر کہا :”بنی اسرائیل میں سے ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ وہ آسمان والے (اﷲ تعالی) کا نبی ہے ۔ اُس نے کہا ہے کہ میں بادشاہ کا خواب بھی بتاو¿ں گا اور اُس کی تعبیر بھی بتاو¿ں گا اور اُس نے فلاں دن آنے کا وعدہ کیا ہے ۔“ بخت نصر نے کہا :”ٹھیک ہے! میں اپس کا انتظار کروں گا۔“ جس دن کا آپ علیہ السلام نے وعدہ کیا تھا اُس دن آپ علیہ السلام بخت نصر کے دربار میں پہنچ گئے ۔
سجدہ نہیں کیا
حضرت دانیال علیہ السلام جب بخت نصر کے محل کے پاس پہنچے تو باہر ہی تمام علماء، نجومی اور کاہنوں نے آپ علیہ السلام کا استقبال کیا اور ساتھ لیکر بخت نصر کے دربار میں حاضر ہوئے ۔ سب لوگوں نے قاعدے کے مطابق بخت نصر کو سجدہ کیا لیکن حضرت دانیال علیہ السلام نے اُسے سجدہ نہیں کیا ۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے تعظیمی سجدہ جائز تھا لیکن اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شریعت میں تعظیمی سجدہ بھی حرام کردیا ہے اب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہر اُمتی صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی سجدہ کرسکتا ہے اور اﷲ رب العزت کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرسکتا ہے) یہ دیکھ کر بخت نصر نے تمام لوگوں کو دربار سے نکل جانے کا حُکم دیا ۔ جب سب لوگ چلت گئے تو اُس نے حضرت دانیال علیہ السلام سے پوچھا :”تم نے مجھے سجدہ کیوں نہیں کیا؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”میرے رب (اﷲ تعالیٰ) نے مجھے اِسی شرط پر یہ علم عطا فرمایا ہے کہ میں اُس کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کروں گا ۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے تجھ کو سجدہ کیا تو وہ مجھ سے میرا علم چھین لے گا اور تم میرے علم سے فائدہ نہیں اُٹھا سکوگے اورجس کے نتیجے میں تم مجھے قتل کردوگے ۔ اِسی لئے میں نے قتل سے بچنے کے لئے اور تجھے اپنے علم سے فائدہ پہنچانے کے لئے تجھے سجدہ نہیں کیا ہے ۔ اِس طرح میں نے تجھ کو تیری پریشانی سے جنات دلانے کے لئے تجھے سجدہ نہیں کیا ہے۔“
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں