منگل، 16 مئی، 2023

حضرت یوشع علیہ السلام مکمل Story of Prophet yosha


حضرت یوشع علیہ السلام مکمل

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر13

حضرت یوشع علیہ السلام کا سلسلۂ نسب

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ حضرت یوشع علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس کی توفیق سے ہم اپنا وعدہ پورا کر رہے ہیں۔ حضرت یوشع علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو یوسف سے ہیں۔ یعنی آپ علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے والد محترم حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں۔ اور داد محترم حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں۔ ان بارہ بیٹوں کی اولاد بڑھتے بڑھتے بارہ قبیلہ بنی۔ ان بارہ قبائل کے مجموعے کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ان بارہ بھائیوں میں سے صرف حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور اُن کی نسل میں حضرت یوشع علیہ السلام ہیں۔ آپ علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے بیٹے افرائیم کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ علیہ السلام کے سلسلۂ نسب کی تفصیل نہیں مل سکی ہے۔ اس لئے علمائے کرام سلسلہ نسب اس طرح بیان کرتے ہیں۔ حضرت یوشع بن نون بن افرائیم بن یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ۔ اس سلسلہ نسب میں نون اور افرائیم کے درمیان کے آباﺅ اجداد کی تعداد اور نام کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔

بنی اسرائیل کے بارہ نقیب

اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان ( میثاق) لیا۔ اور انہی میں سے بارہ نقیب(سردار ) مقررفرمائے۔ ( سورہ المائدہ آیت نمبر12) امام محمد بن احمد بن قرطبی لکھتے ہیں۔ بعض علماءنے فرمایا ۔ اس کو نقیب اس لئے کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنے معاملات میں دخیل ہوتا ہے۔ اور ان کے مناقب کو جانتا ہے۔ وہی ان کے امور کی معرفت کا راستہ ہوتا ہے۔ ایک قول ہے کہ نقباءسے مراد وہ لوگ جو اپنی قوم پر امین ہوتے ہیں۔ حضرت قتادہ وغیرہ نے فرمایا۔ یہ نقیباءہر قبیلہ سے بڑے سردار تھے۔ ہر ایک اپنے قبیلہ کا کفیل بنا تھا کہ وہ ایمان لائیں گے اور اللہ تعالیٰ سے ڈریں گے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ نقیب کے معنی نگرانی اور تفتیش کرنے والے کے ہیں۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر قبیلہ پر ایک ایک نقیب خود اسی قبیلہ سے مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔ تا کہ وہ ان کے حالات پر نظر رکھے اور انہیں بے دینی و بد اخلاقی سے بچانے کی کوشش کرتا رہے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ نقیب سے مراد ہر قبیلہ کا سردار ہے، جو اپنی قوم کے احوال کا نگہبان تھا۔ اور سب کی طرف سے کفیل تھا کہ انہیں جو حکم دیا گیا ہے وہ اس کو پورا کریں گے۔ جس طرح نبی انہیں حکم دیتے تھے وہ آگے اپنی قوم کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے تھے۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی ایک عہد لیا تھا۔ اور ان سے عہد لینے کی یہ صورت اختیار کی گئی تھی کہ پوری قوم بنی اسرائیل جو بارہ خاندانوں ( قبیلوں ) پر مشتمل تھی انہیں سے ہر خاندان سے ایک سرادر چنا گیا۔ اور ہر خاندان کی طرف سے اس کے ہر سردار نے ذمہ داری اٹھائی کہ میں اور میرا پورا خاندان ( قبیلہ ) اس میثاق الٰہی کی پابندی کرے گا۔ اس طرح بارہ سرداروں نے پوری قوم بنی اسرائیل کی ذمہ داری لے لی۔ اُن کے ذمہ یہ تھا کہ خود بھی اس میثاق کی پابندی کریں گے اور اپنے خاندان ( قبیلہ) سے بھی کرائیں گے۔

بارہ نقیبوں کے نام

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے جو بارہ نقیب مقرر فرمائے تھے ان میں سے ایک حضرت یوشع علیہ السلام تھے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ان کے ( بنی اسرائیل کے) بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے۔ جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کرتے تھے۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ السلام کے تابع فرمان رہیں۔ اور کتاب اللہ ( توریت) کی اتباع کرتے رہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب سرکشوں ( جبابرین) سے لڑنے کے لئے گئے تب ہر قبیلہ میں ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔ اوبیل ( روبیل) قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا۔ شمعون قبیلے کا سردار شافاط بن جدی، یہودا قبیلے کے سردار حضرت کالب بن یو حنا، فیخائل قبیلے کا چودھری ابن یوسف تھا ۔یوسف یا افرائیم قبیلے کے سردار حضرت یوشع بن نون علیہ السلام تھے۔ بن یامن قبیلے کا سردار قطمی بن دفون تھا۔ زبولون قبیلے کا سردار جدی بن شوری تھا۔ منشاءقبیلے کا سردار جدی بن سوسی تھا۔ دان قبیلے کا چودھری حملاسل بن صمل تھا۔ اشار قبیلے کا سردار ساطور تھا۔ تفتالی قبیلے کا سردار بحر تھا۔ اوریساخر قبیلے کا چودھری لابل تھا۔ توریب کے چوتھے جز میں بنی اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ واللہ اعلم۔ موجودہ توریت میں یہ نام درج ہیں۔ قبیلہ بنو اوبیل ( روبیل) کا نقیب صونی بن سادون ، قبیلہ بنو شمعون کا نقیب شموال بن صور، قبیلہ بنو یہودا کا نقیب حثون بن عمیاذب، قبیلہ بنو یساخر کا نقیب پرشال بن صاعون، قبیلہ بنو زبولون کا نقیب الیاب بن حالوب، قبیلہ بنو افرائیم ( بنو یوسف) کا نقیب منثا بن عنہور، قبیلہ بنو منشاءکا نقیب حمائیل ، قبیلہ بنو بسیا کا نقیب پرابیدن ، قبیلہ بنو دان کا نقیب جعیذر ، قبیلہ بنو اشاذ کا نقیب تمابل، قبیل بون کا ن کا نقیب سیف بن دعوابیل اور قبیلہ بنو نفسالی کا نقیب اجذع تھا۔ 

اسلام کا عہد ( میثاق ) سب سے لیا گیا ہے

سورہ المائدہ کی آیت نمبر12کی تفسیر میں مولانا عبدالحق حقانی دہلوی لکھتے ہیں۔ پہلے ( مسلمانوں سے عہد یعنی میثاق لینے کا ) ذکر ہوا تھا کہ اے اہل اسلام ( مسلمانو) اللہ کے عہد کو یاد کرو۔ اب یہاں یہ بات بتائی جا رہی ہے کہ یہ عہد صرف تم سے ہی نہیں لیا گیا تھا کہ جس کی پابندی کی تاکید تم کو کی جا رہی ہے۔ بلکہ تم سے پہلے کے انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے متبعین ( اُمتوں ) سے بھی یہ عہد لیا گیا ہے۔ اور یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے عہد کے خلاف کر کے بنی اسرائیل نے بہت ذلت اور رسوائی اور مصیبتیں اٹھائی ہیں ۔ دیکھو ( اے مسلمانو) تم ان کی طرح نہ کرنا کہ پھر تم کو ذلت اٹھانی پڑے جو یہودیوں کو بد خصائل سے عہد توڑ دینے کے اٹھانی پڑی۔وہ متنبہ کرنا ہے۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کا واقعہ ہے۔ جب کہ آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل بیابانوں میں ٹکراتے ٹکراتے دشتِ فاران پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حکم دیا کہ تم بنی اسرائیل کے بارہ اسباط یعنی قبائل میں سے ہر قبیلہ کا ایک سردار یعنی نقیب یعنی جاسوس بنا کر کنعان کی اس سر زمین پر پہنچو جس کے دینے کا ہم نے تم سے عہد کیا ہے۔ اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہر سبط( قبیلہ) سے یہ بارہ سردار نقیب بھیجے ۔ بنو روبن سے سموع بن ذکور کو، بنو شمعون سے سقت بن حوری کو ، بنو یہودا سے کالب بن یوحنا ، یوقنا ، بنو شکاءسے اجال بن یوسف ، بنو فرائم سے ( یعنی بنو یوسف سے ) ہوسیعہ بن نون ( ان کا نام حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یوشع رکھا تھا) کو ، بنو بن یامن سے فلتی بن رفوکو، بنو زہلون سے جدی ایل بن سودی کو ، بنو دان سے عمی ایل بن جملی کو ، بنو آشر سے ستور بن میکائل کو ، بنو نقتال سے نخیی بن دنسی کو ، بنو جد سے ایل بن ماکی اور بنو منسی سے جدی بن سوسی سے جدی بن سوسی کو نقیب بنا کر بھیجا۔ 

بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کا حکم 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب بنی اسرائیل کے ساتھ جب بحر قلزم پار کیا اس وقت بھی آپ علیہ السلام کے شاگرد حضرت یوشع علیہ السلام ساتھ میں تھے۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں کہ جب فرعون کا لشکر سمندر میں ڈوب گیا تھا۔ یہ لوگ کئی سو سال کے بعد مصر سے واپس لوٹے تھے اور ان کے پیچھے عمالقہ نے ان کے وطن پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ لوگ قوم عاد کا بقیہ تھے اور بڑے قدو قامت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے اور طاقت و قوت والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمادیا تھا کہ یہ سر زمین بنی اسرائیل کو ملے گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلے تو ان کی طرف سے عطا کی گئی نعمتیں یاد دلائیں اور ان کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر کتنی بڑی بڑی مہربانیاں کیں ہیں۔ اور آئندہ ( آنے والے ) زمانے میں تم میں کثرت سے انبیائے کرام علیہم السلا م ہوں گے۔ اس نعمت ( یعنی اسلام اور انبیائے کرام) کے رکھ رکھاﺅ کے لئے اپنی جگہ ہونی چاہیے۔ جس میں حضرات انبیائے علیہم السلام آزادی کے ساتھ تبلیغ کر سکیں اور الہ تعالیٰ کے احکام پہنچا سکیں۔ اور جس میں تمہارے بادشاہ اپنے اقتدار کو کام میں لا سکیں اور معاملات نمٹا سکیں۔ اب تک تم قبط ( مصری قوم ) کے ماتحت تھے۔ جنہوں نے تمہیں غلام بنا رکھا تھا اب اپنے وطن میں داخل ہو جاﺅ اور یہ مقدس سر زمین اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقدر فرما دی ہے۔ تم پیٹھ پھیر کر واپس نہیں جاﺅ بلکہ آگے بڑھو اور جنگ کرو۔ جن لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے وہ وہاں سے نکل جائیں گے۔ ہمت کرو، اور حوصلہ سے کام لو ورنہ نقصان اٹھاﺅ گے۔

بنی اسرائیل نے عہد توڑ دیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہی فتح عطا فرمائے گا۔ بس تمہیں تھوڑا ہمت سے کام لینا ہوگا۔ لیکن بنی اسرائیل میں بزدلی آچکی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جنگ کا لائحہ عمل ترتیب دینے کے لئے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے بارہ سرداروں کو نقیب بنا کر عمالقہ کی جاسوسی کے لئے بھیجا۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ اس موقع پرچند آدمی بطور نقیب قوم عمالقہ کی خیر خبر لینے کے لئے بھیجے۔ انہوں نے عمالقہ کا ڈیل ڈول اور قدو قامت دیکھا تو واپس آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تمام حالات بیان کئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کا حال پوشیدہ رکھو۔ اور لشکروالوں کو نہیں بتایا۔ ورنہ وہ بزدلی اختیار کر لیں گے اور لڑنے سے گریز کریں گے۔ لیکن ان میں سے دس نقیبوں نے بات نہیں مانی اور انہوں نے اپنے اپنے قبیلے والوں کو بتا دیا۔ صرف دو حضرات یعنی حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوقنا نے آپ علیہ السلام کی بات پر عمل کیا۔ اور بنی اسرائیل سے عمالقہ کا حال پوشیدہ رکھا ۔ بلکہ بنی اسرائیل کو ہمت اور حوصلہ دلایا کہ چلو آگے بڑھو اور ( شہر کے ) دروازہ میں داخل ہو جاﺅ۔ پھر دیکھو، اللہ تعالیٰ کی مدد کیسے آتی ہے؟تم داخل ہو گے تو وہ نکل بھاگیں گے اور تم کو ہی غلبہ حاصل ہوگا۔ اور اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ تعالیٰ پر بھی بھروسہ رکھو۔ اور یہ سر زمین تمہارے نام لکھ دی ہے۔ اس لئے پیٹھ نہ پھیرو۔ بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی سمجھایا اور حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوحنا نے بھی زور دیا کہ چلو آگے بڑھو۔ لیکن انہوں نے ایک نہ مانی اور آپس میں کہنے لگے۔ اے کاش، ہم مصر سے نہیں آتے اور وہیں رہ جاتے۔ ( جب غلامی کا ذہن بن جاتا ہے اور ذلت اور پستی دلوں میں رچ بس جاتی ہے تو انسان تھوڑی سی تکلیف سے جو عزت ملے ۔ اس کے بجائے ذلت ہی کو گوارا کر لیتا ہے) ۔ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم مصر میں ہوتے تو اچھا تھا۔ کبھی کہتے تھے کاش ہم اسی جنگل میں مر جاتے اور ہمیں عمالقہ کی سر زمین میں داخل ہونے کا حکم نہیں ہوتا۔ ان بزدلوں نے بر ملا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیا کہ ہم ہر گز اس سر زمین میں داخل نہیںہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہیں جائیں گے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل گئے تو ہم داخل ہو سکتے ہیں۔ ( گویا یہ بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر احسان ہے کہ وہ نکلیں گے تو ہم داخل ہو جائیں گے۔ )اور لڑنا ہمارے بس کا نہیںہے۔ اور آپ علیہ السلام اپنے رب کے ساتھ جا کر لڑیں ۔ ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔اس طرح بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد توڑ دیا۔

دس نقیبوں نے عہد توڑدیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بارہ نقیبوں کو چنا ۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ چونکہ اس وقت بنی اسرائیل کے بارہ گروہ ( قبیلے ) تھے۔ اس لئے بارہ نقیب چنے گئے۔ ان میں حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور کالب بن یوقنا بھی تھے۔ ان کے علاوہ دس نقیب اور تھے۔ ہر سبط( قبیلہ) سے ایک نقیب یا سردار بنایا گیا اور اپنے قبیلے میں ( جہاد کی ) تسبیح اور جبا برین کی جاسوسی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ نقیب اس سردار کو کہتے ہیں جو قو م کا نگراں ہو، ان میں مبلغ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمام بنی اسرائیل ( رپورٹ کو خفیہ رکھنے کا ) عہدو میثاق لیا گیا ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی معرفت بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا گیا اور نگرانی کرنے اور دشمن کی طاقت و قوت کا اندازہ لگانے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خبر دینے کے لئے بنی اسرائیل میں سے بارہ سردار مقرر فرمائے۔ یہ بارہ سردار آپ علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے۔ اریحا قوم جبارین اور کنعانین کا دارالخلافہ تھا۔ یہ کفار جبارین ایک ہزار بستیوں کے بادشاہ تھے۔ ہر بستی باغات اور سبزہ سے پرُ تھی۔ دارالخلافہ اریما ، بیت المقدس سے تقریباً تیس چالیس میل کے فاصلے پر تھا۔ اب اس بستی کو ریمان کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسرائیلیوں سے فرمایا تھا کہ وہ جگہ ( جبارین کا پورا علاقہ) تمہاری رہنے کی جگہ ہو گی۔ اور ہم مجاہدین کی مدد فرمائیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حخم کے مطابق ان میں سے بارہ شخص چنے ۔ اور ہر قبیلے میں سے ایک ایک شخص کو اپنے اپنے قبیلے کا کفیل بنایا گیا کہ یہ لوگ اپنی اپنی قوم سے جہاد کا وعدہ ( میثاق) پورا کروائیں گے۔ ان بارہ ضامنوں کو نقیب کہا جاتا ہے۔ ان نقیبوں میں حضرت یوشع بن نون اور حضرت کالب بن یوقنا بھی تھے۔ اسرائیلیوں سے ان نقیبوں کے ذریعے جہاد کا پختہ وعدہ لے کر آپ علیہ السلام اریحاکی جانب جنگ کے ارادہ سے چلے ۔ اریما پر حملہ کرنے سے پہلے آپ علیہ السلام نے ان بارہ نقیبوں کو جاسوسی کی غرض سے اریما بھیجا۔ تا کہ دیکھ کر آئیں کہ قوم کنعانین کی کیا حالت ہے اور ان کی جنگی تیاریاں کیسی ہیں۔ اور آپ علیہ السلام لشکر کے ساتھ اریحا کے قریب ہی ٹھہیرے رہے۔ اور ان نقیبوں سے عہد لیا تھا کہ وہاں کے حالات صرف ہم سے ( حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام سے ) بیان کرنا۔ اور اسرائیلیوں سے کچھ نہیں کہنا۔ یہ بارہ نقیب جب اریحا پہنچے تو انہوں نے کنعانیوں کو بہت قد آور اور شہزور پایا۔ ان کے پاس مال و دولت کی فراوانی تھی۔ ان کی طاقت اور قدو قامت کو دیکھ کر یہ بارہ نقیب مرعوب ہو گئے۔ وہاں سے واپس آئے تو صرف حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوحنا ہی عہد پر قائم رہے۔ اور باقی دس نقیبوں نے عہد کو توڑ دیا۔ اور اپنے اپنے قبیلے میں قوم کنعانین کی طاقت ، قوت اور دولت کا خوب چرچا کیا۔ جس کی وجہ سے بنی اسرائیل گھبرا گئے اور کنعانیوں سے جہاد کرنے سے انکار کر دیا اور بولے۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )آپ اور آپ کا رب جا کر اس قوم سے جنگ کریں۔ ہم تو یہیں ٹھہریں گے اور ہم میں اس قوم سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے شاگرد

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فتح کا صاف وعدہ فرمایا تھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر اور بلند پایہ کے رسول ان کے ساتھ تھے۔ اس کے باوجود ان بد بختوں نے لڑنے سے انکار کر دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول علیہ السلام سے کیا ہوا عہد و میثاق توڑ دیا۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اُن پر ذلت مسلط کر دی اور چالیس برس تک صحرا ءمیں وادی ¿ تیہ میں بھٹکنے کی سزادی ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو ان بد بختوں سے الگ ہو جانا چاہتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے ساتھ رہو اور نئی نسل کی تربیت کرتے رہو۔ اور جب چالیس برس میں یہ سب بد بخت نا فرمان مر کھپ جائیں گے تو بنی اسرائیل کی نئی نسل بیت المقدس کو فتح کرے گی۔ اسی لئے آپ علیہ السلام ان کے ساتھ رہے۔ اور آپ علیہ السلام کے شاگرد حضرت یوشع علیہ السلام بھی ساتھ ساتھ لگے رہے۔ حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کے لئے جو سفر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا۔ اس سفر میں بھی ان کے شاگرد حضرت یوشع علیہ السلام ساتھ ساتھ تھے۔ اس کے بعد جب چالیس برس پورے ہونے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیت المقدس کی طرف روانگی کا حکم دیا اور بنی اسرائیل کے جوانوں کی گنتی کرائی۔ اور بارہ قبیلوں پر بارہ سپہ سالار بنائے اور سب کا سپہ سالار یعنی سپہ سالار ِ اعظم حضرت یوشع علیہ السلام کو بنایا۔ اور اپنا مشیر خاص بھی بنایا۔ اور یہ بھی فرما دیا کہ میرے بعد حضرت یوشع علیہ السلام کا کہنا ماننا ۔ بیت المقدس کے قریب پہنچ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کی جوارِ رحمت میں پہنچ گئے اور حضرت یوشع علیہ السلام نے بیت المقدس فتح کیا۔ یہ سب تفصیل سے ہم حضرت موسیٰ وہارون علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے ہیں۔

حضرت یوشع علیہ السلام نبوت سے سرفراز

حضرت موسیی علیہ السلام کے ساتھ حضرت یوشع علیہ السلام زندگی بھر لگے رہے۔ اور انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام سے تربیت حاصل کی۔ اور توریت کا علم حاصل کیا۔ اپنے آخری وقت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی باگ ڈور آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں سونپ دی تھی۔ اور ان کے وصال کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور حضرت یوشع علیہ السلام بنی اسرائیل کو توریت کے احکامات پر چلاتے رہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو نافذ کیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اہل ِ کتاب ( یہودیوں اور عیسائیوں) کا آپ علیہ السلام کی نبوت کے بارے میں اتفاق ہے۔ حالانکہ سامریوں کا ایک گروہ ( بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے بعد میں دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور بنی اسرائیل دو بڑی حکومتوں میں بٹ گئے تھے ایک سلطنت یہودا اور دوسری سلطنت سامریہ تھی) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کسی کی نبوت کا قائل نہیں ہے۔ لیکن وہ بھی حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو اللہ کا نبی تسلیم کرتے ہیں۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کی نبوت تو ریت سے تصریحاً ثابت ہے ۔ حالانکہ توریت کے بعد کی کتابوں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد نبوت حق ہے۔ اور قرآن پاک پہلی تمام کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر یہ بد بخت اللہ کے نبیوں کا انکار کرتے ہیں۔

جنگجوﺅں کی گنتی اور لشکر کی تیاری

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے ساتھ صحراءمیں وادی ¿ تیہ میں جب چالیس برس پورے ہونے لگے۔ اور نئی نسل تیار ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اب بنی اسرائیل کے جنگجوﺅں کی گنتی کرو اور لشکر کو تیار کر کے بیت المقدس کی طرف لے چلو۔ آپ علیہ السلام نے جنگجوﺅں کی گنتی کرائی ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اہل کتاب نے توریت کے حصے سفرِ ثالث میں ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو ان کے قبیلوں کے مطابق شمار ( گنتی ) کریں۔ اور ہر قبیلہ پر ایک سپہ سالار مقرر فرمائیں۔ چونکہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ اس لئے بارہ نقیب مقرر ہوئے۔ اس گنتی کا مقصد بنی اسرائیل کو جنگ کے لئے تیار کرنا تھا۔ چونکہ بیت المقدس پر عمالقیوں کا قبضہ تھا۔ اور میدانِ تیہ سے نکل کر ان کے ساتھ جنگ کرناضروری تھی۔ اور تقریباً چالیس برس کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اس کے بعد یہ لوگ ویرانے سے نکل کر جنگ آزما ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو ایک ایسے کام کا حکم دیا جس کو پورا ہونے کی اس دور میں امید کی جا سکتی تھی۔ لیکن تقدیر میں یہ نہیں تھا کہ وہ اس دور میں پورا ہو۔ بلکہ تقدیر میں یہ تھا کہ وہ کام ( بیت المقدس اور پورے ملک کنعان یعنی حالیہ فلسطین اور شام کی فتح) حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے دور میں مکمل ہو۔

قبائل کے جنگجوﺅں کی تعداد اور لشکر کی تیاری 

اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کی گنتی کی گئی۔ بائیبل کے مطابق بنی اسرائیل کی گنتی دو مرتبہ کی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ اس وقت جب بنی اسرائیل فرعون سے آزاد ہوئے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارضِ فلسطین پر حملہ کر کے قبضہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اور بنی اسرائیل نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ( علیہ السلام )تم اور تمہارا رب جا کر لڑو اور ہم تو یہیں بیٹھ کر انتظار کرتے ہیں۔ اور دوسری مرتبہ جب سزا کے چالیس سال پورے ہو گئے اور وادی تیہ سے نکل کر بیت المقدس کیطرف روانہ ہونے لگے۔ اس وقت گنتی ہوئی۔ علامہ ان کثیر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ان مردوں کی گنتی کی جائے جو بیس سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں۔ اور ہر قبیلہ کے لئے ایک سپہ سالار یعنی کمانڈر مقرر کیا جائے۔ (۱) حضرت یعقوب علیہ السلام کا سب سے بڑ ابیٹا روبیل ( توریت میں روبن ) تھا۔ جب اس کے جنگجو افراد کی گنتی کی گئی تو ان کی تعداد چھیالیس ہزار پانچ سو46500تھی۔ اس قبیلے کا سپہ سالار یھور بن شدینور کو بیایا گیا۔ (۲) بنو شمعون قبیلے کے جنگجو افراد کی گنتی افراد کی گنتی کی گئی تو ان کی تعداد چوھتر ہزار چھ سو 74600تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر نحسون بن عمیناذاب کو بنایا گیا۔ (۴) بنو ایسا خر قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد چوّن ہزار چار سو54400تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر نشائیل بن صور کو بنایا گیا۔ (۵)بنو افرائیم قبیلے یعنی حضرت یوسف علیہ السلام کی نسل میں سے جنگجو افراد کی تعداد چالیس ہزار پانچ سو40500تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو بنایا گیا۔ (۶) بنو میشا قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد اکتیس ہزار دو سوتھی۔ اور ان کا سپہ سالار جمائیل بن فدہصور کو بنایا گیا۔ ۔ (۷) بنوبن یامن قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد پینتیس ہزار چار سو35400تھی۔ اور ان کا سپہ سالار ابیدن بن جدعون کو بنایا گیا۔(۸) بنو حاد قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد پنتالیس ہزار چھ سو پچاس 45650تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر الیاسف بن رعوئیل کو بنایا گیا۔ (۹) بنو آشرقبیلے کے جنگجو افراد کی تعداداکتالیس ہزار پانچ سو 41500تھی۔ جعلائیل بن عکران کو ان کا سپہ سالار بنایا گیا۔ (۰۱) بنو دان قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد باسٹھ ہزار سات سو62700تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر انتیزر بن عمشداری کو بنایا گیا۔ (۱۱) بنو نفتالی قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد تریپن ہزار چار سو 53400تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر الباب بن حیلون کو بنایا گیا۔

لشکر کی مجموعی تعداد 

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے گیارہ قبیلوں کے جنگجو افراد کی گنتی کرو۔ مگر بنو لاوی قبیلے کے جنگجو افراد کی گنتی نہیں کرنا۔ بنو لاوی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام کا قبیلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بنو لاوی کو لشکر کے درمیان میں رکھنا اور وہ بنی اسرائیل کی مقدس چیزوں کو اٹھائے ہوئے رہیں گے ۔ اور پورا لشکر ان کے چاروں طرف رکھنا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ یہ موجودہ توریت میں لکھی ہوئی گنتی ہے۔ اس گنتی میں بنو لاوی شام نہیں ہیں۔ کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بذریعہ وحی یہ حکم دیا گیا تھا کہ بنو لاوی کی گنتی نہیں کی جائے۔ اس لئے انہیں چھوڑ کر باقی گیارہ قبیلوں کے جنگجو افراد کی تعداد مذکورہ بیان کے مطابق پانچ لاکھ اکہتر ہزار چھ سو چھپن 5,71,656ہے۔ لیکن موجودہ توریت میں یہ تعداد چھ لاکھ تین ہزارپانچ سو پچپن 6,03,555لکھی ہوئی ہے۔ اس طرح توریت میں قبائل کی لکھی ہوئی مجموعی تعداد سے یہ میل نہیں کھاتا ہے۔ 

حضرت یوشع بن نون علیہ السلام سپہ سالار اعظم مقرر

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے تمام قبائل کی گنتی کرنے کے بعد تمام قبائل پر سپہ سالار مقرر کئے اور پورے لشکر کا سپہ سالار اعظم حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو بنایا۔ اس کے بعد لشکر لے کر بیت المقدس کی طرف بڑھے۔ راستے میں حضرت ہارون علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔ ابھی سفر جاری تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ بائیبل کی کتاب میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام سے فرمایا کہ عباریم کے پہاڑ پر سے کھڑے ہو کر اس ملک ( بیت المقدس) کو دیکھ لو جو میں نے بنی اسرائیل کو عطا کیا ہے۔ اسے دیکھ لینے کے بعد ہارون ( علیہ السلام )کی طرح تم بھی اپنے آباﺅ اجداد سے جا ملو گے۔ تب آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، بنی اسرائیل پر ایسے شخص کو مقرر فرما دے جو میرے بعد ان کی ذمہ داری سنبھالے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ نون کے بیٹے یشوع ( حضرت یوشع بن نون علیہ السلام ) کو اپنے بعد بنی اسرائیل کا ذمہ دار بنا دے۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت یوشع علیہ السلام کو اپنا نائب بنا دیا۔ حضرت یوشع علیہ السلام شروع سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ میں رہے۔ اور توریت کی تعلیم و تربیت حاصل کرتے رہے۔ ساتھ ہی تیر اندازی ، گھو ڑ سواری ، تلوار بازی اور جنگ کی تربیت بھی حاصل کرتے رہے۔ اور نائب بننے کے صحیح حقد ار تھے۔

لشکر کی ترتیب

اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو لشکر کا سپہ سالار اعظم بنا دیا۔ اور لشکر اور بنی اسرائیل ( یعنی عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں) کو لے کر بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ علیہ السلام نے لشکر کی ترتیب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ بنو لاوی بنی اسرائیل کے تمام قبائل کے درمیان سفر کرتے تھے اور یہی لوگ قلب جیش ( لشکر کا درمیانی حصہ) کی حیثیت رکھتے تھے۔ میمنہ پر بنو روبیل ، میسرہ پر بنو دان اور ساقہ پر بنو نفسانی مقرر ہوئے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنو ہارون کوکہانت کے لئے مقرر فرما دیا تھا۔ جیسا کہ یہ منصب شروع سے ان کے والد گرامی حضرت ہارون علیہ السلام کے پاس چلا آرہا تھا۔ بہر حال بنی اسرائیل میں سے وہ لوگ ایک بھی نہیں بچے جنہوں نے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ اور عمالقیوں سے جنگ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ سب لوگ ویرانے میں ہی مر کھپ گئے تھے۔ یہ قول حضرت عبدالہ بن عباس رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی بیت المقدس میں داخل نہیں ہو سکے۔ امام محمد بن اسحاق کا گمان ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیت المقدس فتح کیا۔ اور حضرت یوشع علیہ السلام اس لشکر کے مقدمتہ الجیش ( لشکر کا اگلا حصہ) میں تھے۔ بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر مبارک بیت المقدس کے قریب ہے۔ اور انبیائے کرام کا جہاں وصال ہوتا ہے وہیں انہیں دفن کیا جاتا ہے۔ اور آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کی تھی کہ مجھے بیت المقدس کے اتنا قریب کر دے کہ اگر کوئی پتھر بھی پھینکے تو پہنچ جائے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام لشکر اور بنی اسرائیل کو لے کر بیت المقدس کے قریب پہنچے تو آپ علیہ السلام کی طبیعت اتنی زیادہ خراب ہو چکی تھی کہ کھڑے نہیں ہو سکتے تھے اور بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس لئے آپ علیہ السلام کوبیت المقدس کے قریب ایک پہاڑی پر لٹا دیا گیا۔ اور حضرت یوشع علیہ السلام لشکر کو لے کر آگے بڑھے اور بیت المقدس کے باہر پڑاﺅ ڈال دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام قریب کی پہاڑی پر لیٹے ہوئے بیت المقدس اور پڑاﺅ ڈالے ہوئے لشکر کو دیکھ رہے تھے۔

بنی اسرائیل کو جمع کرنے کے لئے بوق ( بگل یا نر سنگوں ) کا استعمال

سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لئے مسلمانوں کو جمع کرنے کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرمایا تو کسی نے عیسائیوں کی طرح ناقوس بجانے کا مشورہ دیا۔ جو عیسائیوں سے مشابہت ہونے کی وجہ سے آپ علیہ السلام نے قبول نہیں کیا ۔ پھر کسی نے کسی اونچی جگہ پر آگ جلانے کا مشورہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ مجوسیوں ( آگ کی پوجا کرنے والوں ) سے مشابہت ہے۔ پھر کسی نے بوق یعنی بگل یا نرسنگے میں پھونک مار کر بجاکر جمع کرنے کا مشورہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ بنی اسرائیل یعنی یہودیوں سے مشابہت ہے۔ تب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ کسی آدمی کو مقرر کیا جائے جو لوگوں کو نماز کے لئے بلائے۔ سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ قبول فرمایا۔ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ اے بلال رضی اللہ عنہ ، اٹھو اور نماز کے لئے لوگوں کو آواز دو۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو جب بھی نماز کے لئے بلانا ہوتا تو ایک اونچی جگہ کھڑے ہو کر آواز لگاتے۔ ”الصلوٰة الجامعة“ ( نماز کے لئے جمع ہو جاﺅ) کچھ دنوں بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان کے کلمات سنائے اور دونوں حضرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اذان کے کلمات سنائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح اذان دینے کا حکم دیا۔ بنی اسرائیل کا جمع ہونے کا طریقہ نر سنگے بجا کر لوگوں کو بلانے کا تھا۔ بائیبل کی کتاب گنتی میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ گھڑی ہوئی چاندی کے دو نرسنگے بنا لو۔ اور انہیں بنی اسرائیل کو جمع کرنے اور لشکر کے کوچ کرنے کے لئے کام میں لانا۔ اور جب دونوں نر سنگے پھونکے جائیں تب تمام بنی اسرائیل خمیمہ¿ اجتماع کے دروازے پر تمہارے سامنے جمع ہو جائیں ۔ لیکن اگر ایک ہی بار پھونکا جائے تو بنی اسرائیل کے تمام قبیلوں کے سردار یا سپہ سالار تمہارے سامنے اکٹھے ہو جائیں۔ جب سانس باندھ کر زور سے نر سنگا پھونکا جائے تو جنوب کی جانب والے جو قبیلے مشرق کی جانب مقیم ہیں وہ کوچ کریں۔ جب دو بارہ سانس باندھ کر زور سے نر سنگا پھونکا جائے تو جنوب کی جانب والے قبیلوں کی چھاونیاں کوچ کریں۔ لہٰذا سانس باندھ کر زور سے نر سنگا پھونکا جانا کوچ کا اشارہ ہوگا۔ بنی اسرائیل کو جمع کرنے کے لئے بھی نر سنگے پھونکے جائیں اور اس وقت ان کی آوازوں کو طول دیا جائے۔ ہارون ( علیہ السلام ) کاہن کے بیٹے نرسنگے پھونکیں اور یہ قانون اور آئین تمہارے اور تمہاری آئندہ نسلوں کے لئے سدا قائم رہے گا۔ جب تم اپنے ہی ملک میں کسی ایسے دشمن سے لڑنے کے لئے نکلو جو تم پر ظلم ڈھاتا ہے تب سانس باندھ کر زور سے نر سنگے پھونکنا۔ اور اپنی خوشی کے موقعوں پر جیسے اپنی مقررہ عیدوں اور نئے چاند کا جشن اور سوختنی قربانیوں اور سلامتی کی قربانیوں کے وقت تم نرسنگے پھونکنا۔ ( بائیبل کی کتاب گنتی باب نمبر10) بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کی طرح ہمارے ہندوستان میں ہندو لوگ اپنے مندروں میں نر سنگے بجاتے ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس میں داخل نہیں ہو سکے

حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس کے قریب کی پہاڑی پر لیٹے دیکھ رہے تھے اور جنگ چل رہی تھی ۔ اُدھر حضرت یوشع علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل نے فتح حاصل کی اور اِدھر آپ علیہ السلام کا وصال ہو ا۔ اور اُن کی قبر مبارک وہیں بنا دی گئی ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل زمین کے ایک خاص حصے میں سرمارتے رہیں گے۔ یعنی اُن پر وہ شہر حرام کر دیا گیا ہے ۔ اور وہ اس میں داخل ہو ہی نہیں سکتے۔ اور اس پر انہیں چالیس سال تک قدرت نہیں ہوئی۔ اور کہا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال چالیسویں سال ہوا ہے اور بیت المقدس میں وہ لوگ خود تو داخل نہیں ہوئے البتہ اُن کی اولاد داخل ہوئی۔ اور امام سدی کی روایت میں ہے کہ جس نے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سر کش لوگوں کے شہر میں داخل ہونے سے انکار کر دیا تھا اُن میں سے کوئی بھی بچ نہیں سکا۔ سب کا وہیں انتقال ہو گیا۔ اور فتح میں شریک نہیں ہو سکا۔ جب چالیس سال پورے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور سر کشوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے حضرت یوشع علیہ السلام کی تصدیق اور پیروی کی۔ پھر آپ علیہ السلام نے اُن سر کشوں کو شکست دی اور بنی اسرائیل سرکشوں پر ٹوٹ پڑے اور تہ تیغ کر دیا۔ دوسرے اہل علم کی رائے ہے کہ بیت المقدس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر فتح ہو ا ہے اور حضرت یوشع علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقدمتہ الجیش ( لشکر کا اگلا حصہ ) تھے۔ ان حضرات نے محمد بن اسحاق سے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔ جب چالیس سال وادی تیہ میں بھٹکتے ہوئے گزر گئے اور سب لوگ ( انکار کرنے والے ) مر گئے اور ان کی اولاد جوان ہو گئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اس نوجوان نسل کو لے کر چلے۔ ساتھ میں حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوقنا بھی تھے ۔ جب وہ کنعان کی سر زمین پر پہنچے تو بلعام بن باعور سے سامنا ہوا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے علم کی دولت سے نوازا تھا۔ 

بلعام بن باعورا

حضرت یوشع علیہ السلام نے جب بیت المقدس کے سامنے اپنے لشکر سمیت پڑاﺅ ڈالا تو بیت المقدس میں ایک شخص رہتا تھا۔وہ بہت ہی نیک تھا۔ اس کا نام بلعام بن باعورا تھا۔ اس کی اکثر دعائیں اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا تھا۔ اسکی قوم کے لوگوں نے جب حضرت یوشع علیہ السلام کے لشکر کو دیکھا تو بلعام کے پاس آئے اور کہا۔ اے بلعام، حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ آئے ہوئے ہیں۔ اور ہمیں یہاں سے نکالنا اور قتل کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ علاقہ بنی اسرائیل کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔ ہم آپ کی قوم ہیں اور ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور آپ ”مستجاب الدعوات “ ( جس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں) آدمی ہیں۔ آپ آگے بڑھیں اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ نے بلعام بن باعورا کا قصہ بھی ذکر کیا ہے ۔ جس میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس جاتے ہوئے اس کے پاس سے گزرے ۔ شاید قرآن پاک کی اس آیت میں اسی بلعام بن باعورا کا تذکرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیے جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں پھر وہ ان سے بالکل ہی نکل گیا۔ پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔ تو وہ گمراہیوں میں شامل ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کر دیتے۔ لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا۔ تو اس کی حالت کُتّے جیسی ہو گئی کہ اگر تو اس پر حملہ کرتے تب تھی ہانپے یا اُسے چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہی حالت ان لوگوں کی ہے۔ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس حال کو بیان کر دیں۔ شاید وہ لوگ کچھ سوچیں۔“( سورہ الاعراف آیت نمبر175اور 176)

بلعام کا انکار اور پھر اقرار

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوشع علیہ السلام اور بنی اسرائیل اور لشکر کے خلاف دعا کرنے کے لئے بلعام کی قوم نے درخواست کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ بلعام نے کہا۔ تمہاری ہلاکت ہو وہ تو اللہ کے رسول ہیں۔ اُن کے ساتھ فرشتے اور مومنین ہیں۔ میں کیسے چلوں اور ان کے لئے کیسے بد دعا کروں؟اور مجھے جو علم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہی میں جانتا ہوں ۔یہ کہہ کر اس نے صاف انکار کر دیا کہ اللہ کے رسول علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے خلاف دعا نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ حق پر ہیں اور تم لوگ نا حق ہو۔ اور اگر میں نے اُن کے خلاف دعا کرنے کا سوچا بھی تو میرا اور تمہارا بہت بُرا حشر ہو گا۔اس لئے تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم اس علاقے کو چھوڑ کر چلے جاﺅ۔ لیکن وہ علاقہ اتنا زرخیز اور ہرا بھرا سر سبز و شاداب تھا کہ اسے چھوڑنے کا بلعام کی قوم کا دل نہیں ہوتا تھا۔ اسی لئے قوم اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرنے لگی۔ اور کہنے لگی کہ ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ اور آپ کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اگر ان کے خلاف آپ دعا کریں تو ہم آپ کو سونے چاندی میں تول دیں گے اور آپ کو ہمارا حکمراں بنا لیں گے اور طرح طرح ملمع سازی کر کے بلعام کو اپنے جال میں پھنسا ہی لیا۔ اور وہ دنیا میں مبتلا ہو کر فتنہ میں مبتلا ہو گیا۔ اور بنی اسرائیل کے خلاف دعا مانگنے کے لئے تیار ہو گیا۔

 گدھی کے ذریعے سمجھایا

حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت یوشع علیہ السلام اور ان کے لشکر کے خلاف دعا کرنے کے لئے بلعام کی قوم نے اسے راضی کر لیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دوسرے مفسرین کا بیان ہے کہ بلعام ”اسم اعظم“ جانتا تھا۔ اس کی قوم نے مطالبہ کیا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ( بنی اسرائیل ) کے لئے بد دعا کرے اس نے انکار کر دیا۔ لیکن جب انہوںنے اصرار کیا تو وہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بنی اسرائیل کے پڑاﺅ کی طرف چل پڑا۔ لیکن جیسے ہی لشکر پر نگاہ پڑی تو گدھی بیٹھ گئی۔ بلعام نے گدھی کو مارا حتیٰ کہ وہ کھڑی ہو گئی اور کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ بلعام نے اس مرتبہ اور زیادہ مارا تب وہ اٹھی اور کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ تیسری مرتبہ اس نے پورا زور لگایا لیکن گدھی نہیں اٹھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زبان دے دی اور اس نے کہا۔ اے بلعام، کہاں جانا چاہتا ہے؟ کیا تو دیکھ نہیں رہا ہے کہ میرے سامنے فرشتے ہیں جو مجھے آگے بڑھنے سے روک رہے ہیں۔ کیا تو اللہ کے رسول علیہ السلام اور ایمان والوں کے حق میں بد دعا کرنا چاہتا ہے؟لیکن اس کے باوجود بلعام گدھی سے نہیں اترا اور برابر اسے مارتا رہا۔ آخر گدھی بھی اٹھ کھڑی ہوئی اور اسے لے کر چل پڑی۔

بلعام کی دنیا اور آخرت دونوں برباد

اللہ تعالیٰ نے بلعام کو سمجھایا ۔ لیکن وہ دنیا میں مبتلا ہو کر فتنہ میں پڑ گیا تھا۔ اور شیطان اس پر حاوی ہو گیا تھا۔ اس لئے گدھی نے اسے سمجھایا کہ فرشتے ہمارا راستہ روک رہے ہیں پھر بھی وہ نہیں مانا۔ آخر کار گدھی اسے لے کر آگے بڑھی اور پہاڑ پر چرھنے لگی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ بلعام کی گدھی نے کہا۔ اے بلعام ، تیری ہلاکت ہو۔ تو کہاں جا رہا ہے؟ کیا تجھے نظر نہیں آرہا ہے کہ فرشتے میرے سامنے ہیں اور میر اچہرہ واپس پھیر رہے ہیں ۔ کیا تو اللہ کے رسول علیہ السلام اور مومنین کے خلاف بد دعا کرنے جا رہا ہے؟ لیکن بلعام مارنے سے باز نہیں آیا۔ جس وقت بلعام اس حد کو پہنچ گیا کہ اس پر اللہ کی حجت پوری ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ہٹا دیا اور گدھی کی رسی کھلی چھوڑ دی۔ اور وہ اسے لے کر حسبان نام کے پہاڑ پر چرھی۔ بلعام نے بنی اسرائیل کے لئے بد دعا شروع کی۔ جب وہ بنی اسرائیل کے لئے دعا کرنا چاہتا تو اس کی قوم کے لئے بد دعا نکل جاتی تھی۔ اس طرح مسلسل اس نے کئی مرتبہ اپنی قوم کو بد دعا دی تو قوم نے کہا۔ اے بلعام ، آپ ہمیں بد دعا دے رہے ہیں اور بنی اسرائیل کو دعا دے رہے ہیں۔ بلعام بولا ۔ میں تو بنی اسرائیل کے لئے بد دعا کرنا چاہتا ہوں لیکن میرا بس نہیں چل رہا ہے۔ اتنا کہنے کے بعد ا کی زبان باہر نکل کر سینے تک لٹک گئی۔ اور اس نے کہا۔ میری دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو گئی اور میرے پاس مکر و فریب کے سواکچھ نہیں رہا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے تھے

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بارے میں بہت سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وادی¿ تیہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کے وصال کے دو سال بعد آپ علیہ السلام کا وصال ہوا۔ بہت سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وادی¿ تیع سے نکلنے کے بعد راستے میں ہوا۔ اور کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے ہی بیت المقدس فتح کیا ہے اور حضرت یوشع علیہ السلام لشکر کے اگلے حصے کی کمان سنبھالے ہوئے تھے۔ ان تمام روایتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس میں داخل نہیں ہو سکے تھے۔ لیکن بہت قریب پہنچ گئے تھے اور حضرت یوش علیہ السلام کے ہاتھوں بیت المقدس فتح ہوا ہے۔ اور آپ علیہ السلام کا وصال فتح کو دیکھتے ہوئے ہو گیا۔ اب حقیقت کیا ہے؟اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ علامہ ابن کثر لکھتے ہیں ۔ بہر حال صورتِ حال جو بھی ہو جمہور علماءکا اتفاق ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کا وصال وادی تیہ میں ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال سے دو سال قبل ہوا۔ اور جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال بھی وادی تیہ میں ہوا تھا۔ لیکن آپ علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی کہ انہیں بیت المقدس کے قریب کر دیا جائے اور اتنا قریب کر دیا جائے کہ اگر پتھر پھینکیں تو پہنچ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی یہ دعا سن لی تھی۔ اور بیت المقدس کے قریب کر دیا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سرخ پہاڑ کے دامن میں دفن کئے گئے۔

بنی اسرائیل کی فتح

حضرت یوشع علیہ السلام کے مقابلے میں بلعام بن باعورا بددعا کرنے میں ناکام رہا۔ ادھر حضرت یوشع علیہ السلام نے میدان میں حملے کی تیاری مکمل کر لی تھی۔ بس اسی انتظار میں تھے کہ دشمن شہر سے باہر آئیں اور مقابلہ ہو۔ لیکن کئی دن کے انتظار کے بعد بھی شہر کا دروازہ نہیں کھولا گیا۔ ( پہلے زمانے میں شہروں کے اطراف بہت اونچی دیوار ہوتی تھی اور ان میں بڑے بڑے دروازے بھی ہوتے تھے) ایک دن اچانک آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو نرسنگے ( قرن ، بگل) پھونکنے کا حکم دیا۔ اور بنی اسرائیل ایک فصیل پر ٹوٹ پڑے اور اسے گراکر شہر میں داخل ہو گئے۔ بلعام کی قوم نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن شکست ہوئی۔ اور بنی اسرائیل کو فتح حاصل ہو گئی۔

اریحا کی فتح اور سورج کا ٹھہرنا

حضرت یوشع علیہ السلام بنی اسرائیل کے لشکر کو لے کر اریحا تک پہنچ گئے۔ بیت المقدس سے اریحا کا فاصلہ لگ بھگ چالیس پچاس میل یعنی سو100کلو میٹر کے آس پاس ہے۔ آپ علیہ السلام کے حکم سے بنی اسرائیل نے شہر کا محاصرہ کرلیا۔ اریحا( بائیبل میں پریحولکھا ہے) کی شہر پناہ بہت اونچی تھی۔ اور یہ کوئی عام شہر نہیں تھا۔ اس میں سینکڑوں جنگجو ہر وقت لڑائی کے لئے تیار رہتے تھے۔ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے چھ مہینے تک اس محاصرہ کئے رکھا۔ آکر کار مجبور ہو کر شہر کے لوگ باہر آئے اور مقابلہ کرنے لگے۔ یہ مقابلہ کئی دنوں تک چلا ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ یہ محاصرہ جمعہ کی عصر تک طویل ہو گیا تھا۔ جب سورج غروب ہو گیا یا غروب ہونے کے قریب تھا اور سبت ( سنیچر) کا دن شروع ہونے والا تھا۔ جس میں ان کے ( بنی اسرائیل کے ) لئے کوئی کام کرنا جائز نہیں تھا۔ تو حضرت یوشع علیہ السلام نے سورج سے فرمایا۔ اے سورج ، تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی ۔ پھر دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، سورج کو غروب ہونے سے روک لے۔ اللہ تعالیٰ نے سورج کو روک دیا ۔ یہاں تک کہ اریحا ( پریحو) کا شہر فتح ہو گیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے سوا سورج کسی کے لئے نہیں رکا۔ اس رات جس میںحضرت یوشع بن نون علیہ السلام بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے۔

مالِ غنیمت میں خیانت

حضرت یوشع علیہ السلام نے اریحا فتح ہو جانے کے بعد حکم دیا کہ تمام مال غنیمت ایک جگہ جمع کر دیا جائے۔ جب تمام مال غنیمت جمع ہو گیا تو آپ علیہ السلام نے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لے۔ لیکن آسمان سے کوئی آگ نہیں آئی اور وہ ویسے ہی پڑا رہا۔ در اصل پہلے کے انبیائے کرام علیہم السلام کی شریعت میں مالِ غنیمت ( جنگ میں فتح کے بعد حاصل ہوا مال ) حلال نہیں تھا۔ فتح حاصل ہونے کے بعد تمام مال غنیمت ایک جگہ جمع کر دیا جاتا تھا اور اس کی قبولیت کی نشانی یہ ہوتی تھی کہ آسمان سے ایک آگ آکر اس مال غنیمت کو کھا جاتی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں مال غنیمت حلال کر دیا ۔ بہر حال جب آسمان سے آگ نے آکر مال غنیمت کو نہیں کھایا تو حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا کہ کسی نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے۔ اور اس میں سے کچھ لے کر اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ جس نے بھی جو بھی لیا ہے وہ خاموشی سے لا کر رکھ دے۔ تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے گا۔ اور اگر اسے ڈھونڈ کر نکالا تو سزا دی جائے گی۔

خیانت کرنے والے کی گرفتاری

حضرت یوشع علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے پورے لشکر میں اعلان کروا دیا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی امانت مال غنیمت میں سے اپنے پاس چھپا کر رکھ لیا ہے۔ وہ اسے لا کر تمام مال غنیمت میں جمع کر دے۔ کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد بھی کوئی نہیں آیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمام لوگ میرے ہاتھ پر آکر بیعت کریں۔ سب لوگ بیعت کرنے لگے تو ایک شخص کا ہاتھ آپ علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آپ علیہ السلام ( حضرت یوشع) نے لشکر کشی کی اور عصر کی نماز پڑھ کر یا س کے نزدیکی کسی وقت میں ایک بستی کے قریب پہنچے اور سورج سے کہا۔ تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی۔ پھر دعا فرمائی۔ اے اللہ تعالیٰ، اسے کچھ دیر کے لئے میرے لئے روک دے ۔ سورج آپ علیہ السلام کے لئے ٹھہر گیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے بستی کو فتح کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انہوں نے مال غنیمت جمع کیا۔ آگ نمودار ہوئی لیکن کھا نہیں سکی۔ اللہ کے اس نبی علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہارے اندر کھوٹ ہے۔ ہر قبیلہ سے ایک شخص میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کرے۔ ایک قبیلے کے شخص کا ہاتھ آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر چپک گیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہارے قبیلے میں سے کچھ لوگوں نے خیانت کی ہے۔ اس لئے تمہارے قبیلہ کے تمام لوگ بیعت کریں۔ پورے قبیلے نے بیعت کی۔ اُن میں سے دو یا تین لوگوں کا ہاتھ آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر چپک گیا۔ ان لوگوں نے گائے کے سر کے برابر سونا لا کر دیا۔ اللہ کے نبی علیہ السلام نے فرمایا ۔ اسے مال غنیمت میں رکھ دو۔ جیسے ہی یہ سونا رکھا گیا آسمان سے آگ آئی اور مال غنیمت کو کھا لیا۔

اسلامی حکومت کا قیام

حضرت یوشع علیہ السلام نے بیت المقدس اور اریحا کی فتح کے بعد اسلامی حکومت قائم کی۔ اور توریت کے قوانین کے مطابق بنی اسرائیل کو زندگی گزارنے اور دنیا اور آخرت کے لئے اعمال کرنے کے طریقے بتائے۔ اسکے بعد آپ علیہ السلا م نے اسلامی حکومت کی توسیع کی طرف توجہ دی ۔ کیوں کہ بنی اسرائیل کی تعداد زیادہ تھی اور یہ دو شہر کم پڑ رہے تھے۔ اس کے علاوہ اس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں دوسروں کی حکومت تھی۔ اور اسلامی حکومت کے چاروں طرف کافروں کی حکومت تھی۔ اس لئے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں کوئی کافر بادشاہ اچانک حملہ نہ کر دے۔ اور چونکہ اسلامی حکومت اس وقت بہت کمزور تھی اس لئے اس کے استحکام کے لئے حضرت یوشع علیہ السلام جدو جہد شروع کر دی۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال ہوا اس وقت حضرت یوشع علیہ السلام کی عمر مبارک ننانوے 99سال تھی۔ اللہ کا قانون نافذ کرنے کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام آس پاس کے علاقوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور قریبی شہر ”عی“ کی طرف اپنے جاسوس بھیجے۔

بنی اسرائیل کی شکست

حضرت یوشع علیہ السلام نے عی شہر طر ف اپنے جاسوس بھیجے تا کہ وہ وہاں کے حالات کا جائزہ لے کر آئیں اور اس کے مطابق جنگ کا لائحہ عمل بنایا جائے۔ یہ علاقہ بیت ِ ایل کے مشرق میں اور بیت آون کے قریب واقع ہے۔ جاسوس عی کا جائزہ لے کر آئے اور آپ علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ بنی اسرائیل کے پورے لشکر کو عی جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف دو یا تین ہزار کا لشکر بھیجیں۔ وہی ان کےلئے کافی ہو جائے گا۔ کیوں کہ وہاں بہت تھوڑے لوگ ہیں اور وہاں فتح حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے تین ہزار کا بنی اسرائیل کا لشکر بھیج دیا۔ اس لشکر نے عی شہر پر حملہ کیا۔ اس شہر میں عماق آباد تھے۔ اور وہ بہت جنگجو تھے۔ یہ شہر اونچی جگہ پر واقع تھا اور شہر کے اطراف ڈھلانیں تھیں۔ اس طرح وہ لوگ کافی محفوظ جگہ پر تھے۔ اور ان کے تیر نیچے بنی اسرائیل کے لشکر پر نشانے پر لگ رہے تھے۔ اس کے مقابلے میں بنی اسرائیل کے لشکر کے سامنے ڈھلانوں کو چڑھنے کی پریشانی تھی اور ان کے تیر عی کے سپاہیوں تک بلندی پر نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کے لشکر میں افر اتفری مچ گئی۔ اور شہر کے لوگ ان پر حاوی ہو گئے۔ اور بنی اسرائیل کو میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ عی شہر کے لوگوںنے پیچھا کیا اور کچھ دور تک تعاقب کر کے حملہ کیا۔ بنی اسرائیل کے لشکر کے چھتیس36سپاہی قتل ہوئے۔ اور عی کے لوگوں نے شہر کے دروازے سے لے کر شریم کی وادی تک ڈھلوان مارتے چلے گئے۔ بنی اسرائیل کا شکست خوردہ لشکر حضرت یوشع علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور تمام حالات بتائے۔

حضرت یوشع علیہ السلام کی جنگی حکمت عملی اور فتح

حضرت یوشع علیہ السلام نے شکست خوردہ لشکر کی تمام باتوں کی توجہ سے سنا۔ پھر اس کے بعد اپنی مجلس شوریٰ سے مشورہ کیا اور جنگی حکمت عملی تیار کی۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے تیس ہزار 30000شپاہیوں کا انتخاب کیا۔ اور اس میں سے دس ہزار سپاہیوں کو رات کے اندھیرے میں روانہ کیا۔ اور حکم دیا کہ خاموشی سے جا کر عی شہر کے اطراف میں چھپ جاﺅ۔ اور آپ علیہ السلام دوسرے دن بیس ہزار کا لشکر صبح روانہ ہوئے۔ اور شبریم کی وادی میں پہاڑوں میں پانچ ہزار تیر اندازوں کو چھپا دیا۔ اور پانچ ہزار سپاہیوں کو ڈھلانوں کے دائیں بائیں بٹھا دیا۔ اور بقیہ دس ہزار کا لشکر لے کر عی شہر کے مقابل آئے۔ عی کے بادشاہ نے جب دیکھا کہ اس مرتبہ بنی اسرائیل زیادہ لشکر آئے ہیں تو اس نے پورے شہر کے مردوں کو بلالیا۔ اور بنی اسرائیل کے لشکر پر تیر اندازی شروع کر دی۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے دس ہزار کے لشکر کو حکم دیا کہ کچھ دیر تک تیراندازی کرو اور پھر شبریم کی وادی کی طرف بھاگو۔ کچھ دیر تک تیر اندازی کرنے کے بعد آپ علیہ السلام نے لشکر کو اشارہ کیا تو سپاہی شبریم کی وادی کی طرف بھاگے۔ عی شہر کے بادشاہ نے انہیں واپس بھاگتے دیکھا تو تمام مردوں کو حکم دیا کہ ان کا پیچھا کرو اور قتل کردو۔ اور اپنا پورا لشکر لے کر شہر سے باہر آگیا۔ اس کے پورے لشکر کے باہر آتے ہیں شہر کے اطراف میں چھپے ہوئے دس ہزار بنی اسرائیل شہر میں داخل ہو گئے۔ وہاں صرف عورتیں اور بچے تھے۔ سپاہیوں نے گھروں میں آگ لگانی شروع کر دی۔ ادھر حضرت یوشع علیہ السلام شبریم کی وادی میں پہنچے اور جب عی کا بادشاہ اور ا س کا پورا لشکر وادی شبریم میں آگیا تو آپ علیہ السلام نے پلٹ کر ایک مخصوص اشارہ کیا تو پہاڑوں میں چھپے پانچ ہزار سپاہیوں نے عی کے لشکر پر تیر اندازی شروع کر دی۔ اس اچانک حملے سے عی کا بادشاہ اور سپاہی گھبرا گئے اور بد حواس ہو گئے۔ ادھر ڈھلوانوں کے اطراف لشکر نے ان پر پیچھے سے حملہ کر دیا اور بھاگنے والے بنی اسرائیل کے لشکر نے بھی پلٹ کر حملہ کر دیا۔ اسی طرح عی کا بادشاہ اور اس کا لشکر چاروں طرف سے بنی اسرائیل کے لشکر کے گھیرے میں آگیا۔ اور جب انہوںنے اپنے شہر کی طرف دیکھا تو ان کے حوصلے ٹوٹ گئے کیوں کہ شہر میں جگہ جگہ دھواں اٹھ رہا تھا۔ اور بنی اسرائیل کا جھنڈا شہر کے دروازہ پر لہرارہا تھا۔ بنی اسرائیل کے لشکر نے ان کا قتل عام کر دیا اور عی کا بادشاہ زندہ گرفتار کر لیا گیا اور تمام سپاہی مارے گئے۔ اس طرح عی شہر پر حضرت یوشع علیہ السلام کا قبضہ ہو گیا۔ اور بادشاہ کو سولی پر لٹا دیا گیا۔ ( بائیبل کتاب یشوع باب نمبر8) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت یوشع علیہ السلام وہاں سے چل کر عائی ( عی) اور شعبہ کے بادشاہ کے پاس آئے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اُن سے جنگ کرنے کے لئے کمین گاہ بنانے کا حکم دیا۔ اور پھر اس علاقے پر فتح حاصل کی۔ ان کی حکومت چھینی اور شہر میں آگ لگا دی اور وہاں کے بارہ ہزار آدمیوں کو قتل کیا۔

جبعون کے بادشاہ کی دھوکہ دہی

حضرت یوشع علیہ السلام نے عی( عائی) پر قبضہ کر لیا۔ ان کے پڑوسی ریاست جبعون کے باشندوں نے جب آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی فتوحات کا حال سنا اور انہیں یہ معلوم ہو اکہ بنی اسرائیل کا پورے ملک کنعان پر قبضہ کر کے اس کے باشندوں کو قتل کر نے یا ملک بدر کرنے کا ارادہ ہے۔ تو انہوںنے ایک منصوبہ بنایا۔ انہوں نے ایک وفد تیار کیا۔ وفد کے لوگوں نے پھٹی جوتیاں اور پرانے کپڑے پہنے اور اپنی سواریوں پر پھٹی پرانی بوریاں لگائی اور پھپھوند ی لگی روٹیاں لے کر حضرت یوشع علیہ السلام کی خدمت میں آئے۔ اور کہا کہ ہم بہت دور کے ملک سے آئے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام سے امن کا معاہد ہ کرنے آئے ہیں۔ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے کہا۔ تم لوگ کچھ جانے پہچانے لگ رہے ہو۔اور ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پڑوس میں آباد ہو۔ اس وفد کے لوگوں نے کہا کہ ہم آپ علیہ السلام کے خدمتگار ہیں۔ اور آپ لوگوں کی شہرت سن کر آئے ہیں۔ ہمارے لباس، سواریاں، جوتے اور کھانے دیکھئے ۔ یہ روٹیاں ہم تازی اور گر م گرم لے کر نکلے تھے اور آج اس پر پھپھوند لگی ہوئی ہے۔ آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے ان پر بھروسہ کر کے امن کا معاہدہ کر لیا اور ان ہیں امان دے دی۔ اس کے بعد جب حضرت یوشع علیہ السلام اپنا لشکر لے کر ریاست جبعون پہنچے اور آپ علیہ السلام کا ارادہ تھا کہ ریاست جبعون کے شہر کفیرہ ، بیروت ، قریت ، اور یزیم پر قبضہ کر لیں۔ تب ریاست جبعون کا وہ وفد خدمت میں حاضر ہوا اور معاہدے کا امان نامہ بتایا۔ بنی اسرائیل امراءنے ان کی اس دھوکہ دہی پر تمام لوگوں کو قتل کر دینے کا مشورہ دیا۔ تب ریاست جبعون کے لوگوں نے کہا کہ ہمیں یہ معلو م ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام کا ارادہ ہے اس ملک کے لوگوں کو ملک بدر کدیں یا قتل کر دیں تو اس سے بچنے کے لئے ہم نے دھوکے سے معاہدہ کیا ہے۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا۔ چونکہ میں تمہیں امن دے چکا ہوں اس لئے اس معاہدے کے مطابق عمل کروں گا۔ اور تمہیں قتل نہیں کروں گا اور ملک بدر بھی نہیں کروں گا۔ لیکن تمہاری سزا یہ ہے کہ تم لوگ بنی اسرائیل کے لئے لکڑیاں کاٹ کر لاﺅ گے اور ان کے لئے پانی بھروگے۔ اس کے بعد جبعون کے باشندے مسلسل بنی اسرائیل کی خدمت کرتے رہے۔ ( بائیبل کتاب یشوع باب نمبر9) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ اہل عماق اور اہل جبعون نے دھوکہ دینے کے ارادے سے پہلے امان طلب کی اور جب ان کی دھوکہ دہی ان پر ظاہر ہوئی تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ لکڑ ہارے اور مشکیزے اٹھانے والے ہو جائیں۔ چنانچہ وہ ویسے ہی ہو گئے۔

اُموری بادشاہوں کی شکست

حضرت یوشع علیہ السلام نے اہل جبعون کو امان دے دی۔ جب یروشلم کے بادشاہ ادونی صدق نے سنا کہ حضرت یوشع علیہ السلام نے عی( عائی) پر قبضہ کر لیا ہے اور اس کے باشندوں اور بادشاہ کے ساتھ بھی وہی سلوک کیاجو اریحا ( پریحو) کے باشندوں اور بادشاہ کے ساتھ کیا تھا۔ اور جبعون کے باشندوں نے آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر لیا ہے اور ان کے ساتھ آرام سے رہ رہے ہیں تو وہ اس کی رعایا بہت خوفزدہ ہوئے۔ کیونکہ جبعون ایک شاہی ریاست تھی اور عی ( عائی) سے بہت بڑی تھی۔ اسی لئے یروشلم کے بادشاہ ادونی صدق نے حبرون ( اس کا نام الخلیل بھی ہے ) کے بادشاہ ہوہام، یر موت کے بادشاہ پیرام ، لکیس کے بادشاہ یا فیع، عجلون کے بادشاہ دبیر کو یہ کہلا بھیجا کہ جبعون پر حملہ کر نے کے لئے فوج لے کر میری مد د کو آﺅ۔ کیوں کہ جبعون والوں نے حضرت یوشع علیہ السلام اور اسرائیلیوں سے صلح کر لی ہے۔ ان پانچوں بادشاہوں کی سرگرمیوں کی خبر تھی ۔ انہوں نے فوراً قاصد دوڑائے اور حضرت یوشع علیہ السلام سے عرض کیا کہ آپ علیہ السلام کے خادموں کا خیال رکھیں اور جلد ی پہنچ کر ہماری مدد فرمائیں۔ حضرت یوشع علیہ السلام رات میں بنی اسرائیل کا لشکر لے کر تیزی سے جبعون پہنچے۔ اور ان پانوں اموری بادشاہوں کے سنبھلنے سے پہلے ان پر ٹوٹ پڑے۔ اور انہیں زبردست شکست دے دی۔ اور فتح عظیم حاصل کی۔ وہ پانچوں بادشاہ جان بچا کر بھاگے۔ اور ان کے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے سپاہیوں کا اسرائیلیوں نے بیت ِ حورون تک جانے والی سڑک پر ان کا تعاقب کیا اور عزیقاہ اور مقیدہ تک ان کو مارتے چلے گئے۔ اور اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر پتھروں کی بارش کر دی۔ اور پتھر سے مرنے والوں کی تعداد اسرائیلیوں کی تلوار سے قتل ہونے کی تعداد سے زیادہ تھی۔ ( بائیبل کتاب یشوع باب نمبر10)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔پھر ارمان کے بادشاہوں کو اطاعت کا پیغام بھیجا۔ ان کی تعداد پانچ تھی۔ انہوں نے اپنے میں سے ایک کو سردار بنایا اور جنگ کے لئے جمع ہو گئے۔ اہل جبعون نے حضرت یوشع علیہ السلام سے مدد مانگی۔ آپ علیہ السلام نے انکی مدد کی۔ اور ان سب سرداروں کو شکست دی۔ یہاں تک کہ ان کو حوران کی طرف اتار دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر پتھروں کی بارش کی اور پتھروں سے قتل ہونے والوں کی تعداد تلوا ر سے قتل ہونے والوں سے زیادہ تھی۔ وہ پانچوں اموری بادشاہ مقیدہ کے پہاڑ کے ایک غار میں جا کر چھپ گئے آپ علیہ السلام نے ان پانچوں کو نکال کر قتل کر دیا۔ اور ان کے شہروں پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح آپ علیہ السلام نے پورے جنوبی فلسطین ( جو اس وقت مل کنعان تھا ) کو فتح کر لیا۔

مغربی فلسطین اور شمالی فلسطین کی فتح

حضرت یوشع علیہ السلام نے جنوبی فلسطین کی فتح کے بعد مغربی فلسطین کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور کنعانیوں کو شکست دے کر آگے بڑھے۔ اور فرزیوں پر حملہ کیا ان کے علاقو ں پر قبضہ کرنے کے بعد حوی کی طرف متوجہ ہوئے اور نہیں بھی شکست دی۔ اور ان کے تمام علاقوں پر قبضہ کر کے یبوسیوں پر حملہ کر دیا۔ یہ مغربی فلسطین کی آخری آبادی تھی۔ اور یہ لوگ مغربی کنارے پر آباد تھے۔ آپ علیہ السلام نے حملہ کر کے ان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح پورا جنوبی اور مغربی فلسطین بنی اسرائیل کے قبضے میں آگیا۔ اب بنی اسرائیل کی حکومت بیت المقدس سے لے کر غزّہ ( غازہ) تک اور جُشن سے لے کر جبعون تک ہو چکی تھی۔ اس کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام شمال فلسطین کی طرف متوجہ ہوئے۔ شمالی فلسطین میں حصور پر یابین کی حکومت تھی۔ مدون پر یوباب کی حکومت تھی۔ اور سمرون اور اکشاف کے بادشاہوں کی حکومت تھی۔ ان چاروں بادشاہوں کو آپ علیہ السلام نے یکے بعد دیگرے شکست دی۔ اور ان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح آ پ علیہ السلام نے لگ بھگ پندرہ برسوں میں جنوبی ، مغربی اور شمالی فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اور اسلامی حکومت قائم کردی۔ اب صرف مشرقی فلسطین کا علاقہ باقی رہ گیا تھا۔ 

پورے ملک کنعان ( حالیہ فلسطین ) پر بنی اسرائیل کا قبضہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور اس کے بعد سے آپ علیہ السلام مسلسل ملک کنعان ( حالیہ فلسطین ) میں رہنے والوں سے جنگ کی حالت میں تھے۔ اب صرف مشرقی فلسطین پر قبضہ کر نا تھا۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو لے کر مشرقی فلسطین پر حملہ کر دیا اور یکے بعد دیگرے ایک ایک بادشاہوں کو شکست دے کر ان کے علاقوں پر قبضہ کرتے رہے۔ اس طرح دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام نے لگ بھگ پانچ برسوں میں پورے مشرقی فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اب پورا ملک کنعان آپ علیہ السلام کے قبضہ میں آچکا تھا۔ اور پورے کنعان ( حالیہ فلسطین) پر قبضہ کرنے میں لگ بھگ بیس20سال لگ گئے۔ اس وقت تک آپ علیہ السلام کی عمر 120سال کے لگ بھگ ہو چکی تھی۔ ان بیس برسوں میں آپ علیہ السلام نے 31بادشاہوں کو شکست دی۔ یہ 31بادشاہ جن علاقوں پر قبضہ کیا۔ ان علاقوں کے نام یہ ہیں۔ ( ۱) اریحا ( یریمو) (۲) عی ( عائی) (۳) یروشلم (۴) جبرون (الخلیل) (۵) یرموت (۶) لکیں (۷) عجلون (۸) جزر (۹) دبیر (۰۱) جدر (۱۱) حُرمہ (۲۱) عراد (۳۱) لبناہ (۴۱) عدلام (۵۱) مقیدہ (۶۱) بیت ایل (۷۱) تفوح (۸۱) حضر (۹۱) افیق (۰۲) لشرﺅن (۱۲) مدون (۲۲) حصور (۳۲) سمرون مرون (۴۲) اکشاف (۵۲) تعنک (۶۲) مجدد (۷۲) قاد (۸۲) کرمل (۹۲) یقنعام (۰۳) دور ۔ جلجال ۔ گوئیم (۱۳) تِرضہ ۔ ان تمام علاقوں پر اکتیس 31بادشاہوں کو شکست دی۔ اور پورے ملک کنعان یعنی حالیہ فلسطین پر اسلامی حکومت قائم کر دی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل کی فتوحات

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب وادی تیہ سے نکل کر بنی اسرائیل کو لے کر بیت المقدس کی جانب روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں کئی جنگیں کرنی پڑیں اور ان میں انہیں فتوحات حاصل ہوئیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے حالات پر ہم نے جو کتاب لکھی ہے ا سمیں ہم نے ان فتوحات کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ کہیں تسلسل ٹوٹ نہ جائے۔ ان فتوحات کا ذکر ہم یہاں اس لئے کر رہے ہیں تاکہ الجھن نہ ہو۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ پھر بنی اسرائیل نے کنعانیوں کے بعض بادشاہوں سے جنگ کی اور انہیں شکست دی ان کا مال و اسباب لوٹ لیا۔ اور عمور کے بادشاہ سیمون سے اجازت طلب کی کہ وہ بنی اسرائیل کو اس کے علاقے میں سے ارضِ مقدس تک جانے کی اجازت دے۔ لیکن سیمون نے انکار کر دیا۔ اور فوج لے کر مقابلے پر آگیا۔ بنی اسرائیل نے اسے بھی شکست دی اور اس کے ملک پر قبضہ کر لیا۔ یہ ملک بنو موآب کا تھا اور سیمون نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس ملک کی سرحد بنو عمون کے علاقوں تک تھی۔ اس علاقے پر عوج بن عناق کی حکومت تھی۔ بنی اسرائیل نے اس پر حملہ کر دیا۔ اس نے اور اس کی قوم نے جم کر مقابلہ کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فتح عطا فرمائی۔

بنو مدین پر فتح

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے عوج بن عناق اور اس کی قوم کو شکست دے کر اس کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اور بنو موآب کے سامنے جا کر لشکر نے پڑاﺅ ڈال دیا۔ بنو موآب کا بادشاہ اور اس کی قوم بری طرح خوفزدہ ہو گئے۔ اور اپنی قوم کے ایک نیک شخص بلعام بن باعورا سے بنی اسرائیل کے خلاف بد دعا کی درخواست کی۔ اس نے کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اس کے بعد بنو موآب کے بادشاہ نے بنو مدین سے مدد کی درخواست کی۔ انہوںنے بنو موآب کے بادشاہ کی مدد کی۔ لیکن بنی اسرائیل کے مقابلے میں دونوں کو شکست ہوئی ۔ بنو موآب کے علاقے پر بنی اسرائیل نے فتح حاصل کر لی اور بنو مدین اپنے علاقے میں بھاگ گئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور( حضرت ہارون علیہ السلام کے وصال کے بعد ان کے بیٹے عیزار کو ان کی جگہ کا ہن بنایا گیا تھا) عیزار کاہن نے بنی اسرائیل کی گنتی کی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فخاص بن عیزار کو سپہ سالار بنا کر بارہ ہزار کا لشکر دے کر بنو مدین پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ بنی اسرائیل کا یہ لشکر بنو مدین کے سامنے پہنچا اور میدان میں پڑاﺅ ڈال دیا۔ بنو مدین نے بھی اپنا لشکر جمع کر لیا اور مقابلے پر آگئے۔ دونوں لشکروں میں ٹکراﺅ ہو ا اور بنو مدین نے زبر دست مقابلہ کیا اور بنی اسرائیل کے ہر حملے کا جواب دیتے رہے۔ اس کے باوجود انہیں شکست ہوئی اور بنی اسرائیل نے فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے بادشاہوں کو قتل کر ڈالا۔ اور ان کی عورتوں کو گرفتار کر لیا۔ اور انکے اموال کو تقسیم کر لیا۔ پھر بنو مدین، بنو عمودین اور بنو موآب کے علاقوں پر قبضہ کر لینے اور ان کی تقسیم کر کے دریائے اردن کے اس پار بنی اسرائیل جا اترے۔

مفتوح علاقوں کی تقسیم

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جن علاقوں کو فتح کیا تھا۔ ان علاقوں کو بنی اسرائیل میں تقسیم فرما دیا تھا۔ اس کے بعد جب حضرت یوشع علیہ السلام نے پورے ملک کنعان کو فتح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان علاقوں کو بنی اسرائیل میں تقسیم کر دیا جائے ۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت ملک کنعان میں اردن، لبنان اور شام کا بہت سا علاقہ آتا تھا۔اس تقسیم میں ان کا نام بھی آئے گا) حضرت یوشع علیہ السلام نے پورے ملک کنعان کا سروے کرا کر رپورٹ منگوائی اور پھر قرعہ اندازی کے ذریعے مفتوح علاقوں کی تقسیم کی۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ ان کے مفتوح علاقوںکو کون کون سے قبیلوں کو دیا جائے۔ اور انہوںنے اسی طرح تقسیم کی۔ پہلے ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تقسیم بیان کریں گے۔ پھر حضرت یوشع علیہ السلام کی تقسیم بیان کریں گے۔ یہ تقسیم ہم آپ کی خدمت میں اس لئے پیش کر رہے ہیں کہ آگے آپ کو کسی قسم کی الجھن نہ ہو۔ اور آگے بنی اسرائیل کے حالات سمجھنے میں آسانی ہو۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تقسیم

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے مفتوحہ علاقے بنی اسرائیل کے ڈھائی قبیلہ یعنی بنو روبیل ( روبن)، بنوجد اور بنو منسی کے آدھے قبیلے میں تقسیم کر دیئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ زمین انہیں اُردن کے مشرق میں دی۔ یہ علاقہ ارنون کی وادی کے کنارے کے عرو عیر سے لے کر وادی کے بیچ واقع شہر تک پھیلا ہوا تھا۔ اور اس میں دیبون تک میبا کا سرا میدا ن شامل تھا۔ اور اموریوں کی سرحد تک حسبون میں حکومت کرنےوالے اموریوں کے سب شہر اور بادشاہ سیحون کےسب شہر اور جلعاد اور جسوریوں اور معکاتیوںکا علاقہ اور سارا کوہِ حرمون اور سلکہ تک کا سارا بسن بھی شامل تھا۔ یعنی عستارات اور بس کا وہ علاقہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو شکست دے کر لیا تھا۔ لیکن بنو لاوی کو کوئی علاقہ نہیں دیا گیا۔ کیوں کہ قانون کے مطابق اللہ کی بارگاہ میںپیش کی ہوئی قربانیاں ہی ان کی میراث تھیں۔

بنو روبیل ( روبن ) کا علاقہ اور بن جد کا علاقہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنو روبیل ( روبن) کو ان کے گھرانوں کے مطابق جو میراث وہ یہ ہے۔ اُن کا علاقہ ارنون کی وادی کے کنارے پر کے عرو عیر سے لے کر وادی کے بیچ کے شہر سے ہوتا ہوا حسبون تک کا تھا۔ ان میں دیبون ، بامت بعل ، بیت بعل معون ، یہصاہ ، قدیمات ،مفعت ، تریتائم، سماہ، ضرة السحر جو وادی کے پہاڑ پر ہے۔ بیت فعور اور پسگہ کا نشیبی علاقہ بیت یسموت نام کے تمام شہر بھی شامل ہیں۔ بنو روبن کی سرحد اردن کاکنارہ تھی۔ یہ تمام شہر اور ان کے دیہات بنو روبیل ( بنو روبن) کے گھرانوں کے مطابق ان کی میراث ٹھہرے ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنو جد قبیلہ کو ان کے گھرانوں کے مطابق جو میراث دی وہ یہ ہے۔ یعزیر کا علاقہ، جلعاد کے سب شہر ، ربہ کے نزدیک عرو عیر تک عمونیوں کے ملک کا نصف حصہ ، حسبون سے رامت المصفاہ اور بطونیم تک اور خناعیم سے دیبر تک کا علاقہ اور وادی میں بیت ہارم، بیت عمرہ ، سکات اور صفوان اور حسبون کے بادشاہ سیحون کی بقیہ سلطنت ( اردن کے مشرقی ساحل پر کنرت کی جھیل تک کا علاقہ) یہ تمام شہر اور ان کے دیہات بنو جد قبیلے کے گھرانوں کے مطابق ان کی میراث ٹھہرے ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنو منسی کے آدھے قبیلے کو انکے گھرانوں کے مطابق جو میراث دی وہ یہ ہے۔ سارے بسن سمیت خناعیم سے لے کر بسن کے بادشاہ عوج کی تمام سلطنت اور بسن میں بسے ہوئے یائیر کے ساتھ دیہات، آدھا جلعاد اور عستارات نام کے شہر منسی کے بیٹے مکسیر کی اولاد کے لئے ان کے گھرانوں کے مطابق میراث ٹھہرے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اردن کے اس پار اریحا ( پریحو) کے مشرق میں موآب کے میدانوں میں تھے۔ تب انہوںنے یہ میراث تقسیم کی تھی۔ لیکن بنو لاوی کو آپ علیہ السلام نے کوئی میراث نہیں دی۔

بنو یہودا کا علاقہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ڈھائی قبیلوں کو میراث تقسیم کر دی تھی۔ اس لئے حضرت یوشع علیہ السلام نے بقیہ ساڑھے آٹھ قبیلوں کو میراث کی تقسیم میں ملک کنعان دے دیا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے گیارہ قبائل میں ملک کنعان تقسیم ہو گیا۔ اور باقی بچے ایک قبیلہ بنو لاوی کو میراث کی تقسیم نہیں دی گئی۔ کیوں کہ وہ اللہ کے خدمتگار تھے۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے بنو یہوداہ قبیلے کو جو علاقہ دیا وہ ادوم کی سرحد سے دشت ِ حسین تک پھیلا ہوا تھا۔ جنوب میں ادوم کی سرحد کے قریب بنو یہوداہ کو جو شہر ملے ان کے نام یہ ہیں۔ قبصی ایل، عیدر، یجور، قینہ،دیمون، عدعدہ، قادس، حصور، اتنان ، زیف ، قلم، بعلوت، حدثہ، قریت، حصرون، امام، سمع، مولادہ، حصار جدہ، حشمون، بیت فلط، حصر سوعال، بیر سبع، بزیوتیاہ، بعلہ، عیم، عضم، التولد، کسیل، حرمہ، صقلاج،مدمنہ، سنسناہ،بداﺅت، سلحیم، عین اور رمون ، یہ اُنتیس شہرا اور ان کے دیہات بنو یہودا کو جنوب میں ملے۔ مغرب میں استال ، مرعا، اسنا، زنوح، جنیم، تفوح، عینام، یرموت، عدلا، شوکہ، عزیقہ، شعریم، عدتیم، جدیرہ، ضنان، حداشہ، عدل جد، دلعان، مصناہ، قیتی ایل،لکیس، یصقت، عجلون، کبون، لحماس، کتلیس، جد یروت، دجون، نعمہ، اور مقیدہ اور ان کے دیہات مغرب میں ملے۔ اس کے علاوہ لبناہ( لبنان) عتر، عسن ، یفتاح، اسنہ، نصیب، مسریسہ، عقرون، غزہ( غازہ) وادی¿ مصر، یزرائیل اور یروشلم جیسے شہر بھی بنو یہوداہ کو ملے۔

آدھے بنو منسی ( بنو افرائیم ) کا علاقہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے مفتوحہ علاقے ڈھائی قبیلوں یعنی بنو روبیل ( روبن) ، بنو جد اور بنو منسی کا آدھا قبیلہ ۔ ان کو تقسیم کر دیئے تھے۔ بنو منسی در اصل بنو یوسف ( حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد) کا ایک حصہ ہے۔ اور دوسرا حصہ بنو افرائیم ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے ایک بیٹے منسی بن گئی۔ اور افرائیم کی اولاد بنو افرائیم بن گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آدھے قبیلے بنو منسی کو حصہ دے دیا تھا۔ اب حضرت یوشع علیہ السلام نے بقیہ آدھے قبیلے بنو افرائیم کو میراث دی۔ بنو افرائیم کا علاقہ ان کے گھرانوں کے مطابق دیا۔ ان کی میراث کی سرحد مشرق میں عطارات ادار سے اوپر کے بیت حورون تک تھی جو سمندر تک چلی گئی تھی۔ پھر شمال میں مکمتاہ سے وہ مشرق کی جانب تانت سیلا کو مُڑی اور اس کے پاس سے گزرتی ہوئی اردن تک نکل گئی۔ تفوح سے وہ سرحد مغرب کی جانب قاناہ کی وادی تک گئی اور سمندر پر ختم ہو ئی۔ یہ افرائیم کے قبیلہ اور اس کے گھرانوں کے مطابق میراث تھی۔ ان میں وہ تمام شہر اور دیہات بھی شامل ہیں جو بنو منسی کی میراث میں بنو افرائیم کے لئے الگ کئے گئے تھے۔

بنو بن یامن کا علاقہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے قرعہ اندازی کی تو قبیلہ بنو یامن کی میراث کی سرحد قبیلہ بنو یہودا اور قبیلہ بنو یوسف کے درمیان نکل آئی۔ شمال میں قبیلہ بنو بن یامن کی سرحد اردن سے شروع ہو کر پریحو( اریحا) کے شمال نشیب میں سے گزرتی ہوئی مغرب کی جانب کوہستانی ( پہاڑی ) علاقوں سے ہو کر بیت آون کے بیابان تک پہنچ۔ وہاں سے وہ لوز ( یعنی بیت ایل) کے جنوبی نشیب میں پہنچی۔ اور وہاں سے اس پہاڑ کے برابر ہوتی ہوئی جو نیچے آئی اور بیت حورون کے سامنے کے پہاڑ سے ہوتی ہوئی جنوب کی طرف بنو یہودا کے ایک شہر قریت بعل ( یعنی قریت یعزیم) تک جا پہنچی اور یہ مغربی سرحد ٹھہری۔ جنوبی سرحد قریت یعزیم کی بیرونی حد سے شروع ہو کر مغرب کی طرف آبِ تفتوح کے چشمہ تک چلی گئی جو ہزم کے بیٹے کی وادی کے سامنے ہے۔ اور بنو افرائیم کی وادی کے شمال میں ہے۔ وہاں سے ہزم کی وادی سے اترتی ہوئی یبوسیوں کے شہر کی جنوبی ڈھلان سے ہوتی ہوئی عین راجل تک پہنچی۔ پھر وہ شمال کی جانب مڑکر عینِ شمس سے گزرتی ہوئی جلیلوت تک گئی جو دومیم کے درہ کے سامنے ہے۔ وہاں سے وہ بنو روبیل ( روبن) کے بیٹے بوہن کے پھر تک اتر گئی۔ اور وہاں سے بیت اربع کے شمالی ڈھلان سے ہوتی ہوئی اربع میں جا اتری۔ پھر وہ سرحد بیت حجلہ کی شمالی ڈھلان سے ہوتی ہوئی دریائے شور کی شمال خلیج میں جا نکلی جو جنوب میں اردن کے دہانے پر واقع ہے۔ یہ بنو بن یامن کی جنوبی سرحد تھی۔ اور اس کی مشرقی سرحد اردن تک تھی۔بنو بن یامن کو شہر ملے ان میں سے چند خاص شہر اریحا( پریحو) بیت جملہ ، بیت ایل، جبعون، رامہ( اجکل نام راملہ ہے) ، بیروت ، مصفاہ ہیں۔

بنو شمعون کا علاقہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے قبیلہ بنو شمعون کے لئے قرعہ اندازی کی تو ان کی میراث کا علاقہ بنو یہودا کے علاقہ کے درمیان نکل آیا۔ اور بنو شمعون کی میراث میں بیر سبع ، یا سبع، مولادہ ، حصار عول ، بالاہ ، عضم ، التولد، بتویل، حرمہ، صقلاج، بیت مرکبوت، حصارسوسہ، بیت لباﺅت، ساروحن، عین ، رمون ، عتر اور عسن نام کے شہر اور ان تمام شہروں کے دیہات بنو شمعون کی میراث ٹھہرے۔ قبیلہ بنو شمعون کی ان کے گھرانوں کے مطابق میراث یہی تھی۔ بنو شمعون کی میراث بنو یہودا کے حصہ سے لی گئی تھی۔ کیوں کہ بنو یہودا کا حصہ ان کی ضرورت سے زیادہ تھا۔ اسی لئے بنو شمعون نے اپنی میراث بنو یہودا کے علاقہ کے درمیان پائی۔

بنو زبولون کا علاقہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے قرعہ اندازی کے بعد قبیلہ بنو زبولون کی جو سرحد مقرر کی وہ یہ تھی بنو زبولون کی سرحد سارید تک تھی۔ اور مغرب کی جانب جاتی ہوئی وہ مرعلہ تک پہنچی اور وباست کو چھوتی ہوئی اس وادی تک پہنچ جو یقنعام کے آس پاس ہے۔ سارید سے وہ مشرق کی طرف مڑ کر کِسلوت تبور کی سرحد تک گئی اور دبرت ہوتی ہوئی یفیع تک جا پہنچی۔ پھر یہ سرحد مشرق کی طرف بڑھتی ہوئی جتہ حیفر اورعتہ فاخین تک جا پہنچ اور رمون تک نکل آئی۔ اور پھر نیعہ کی طرف مڑی۔ وہاں سے یہ سرحد شمال کی جانب مڑ کر حناتون تک گئی اور افتاح ایل کی وادی میں ختم ہو ئی۔ قطات، نحلال، سمرون، ادالہ اور بیت سمیت بارہ شہروں اور ان کے دیہات بھی اس میں شامل تھے۔ یہ سب علاقہ بنو زبولون کی میراث ٹھہرا۔

بنو اشکار کا علاقہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے قرعہ اندازی کے ذریعے قبیلہ بنو اشکار کو جو علاقہ دیا ۔ اس علاقے میں یہ شہر آئے۔ یزرعیل ، کسولوت، شونیم، حفاریم، شیون، اناخرات ، ربیت، قسیون، ابض، ریحت، عین ،جنیم، عین حدہ اور بیت فصیص شامل تھے۔ بنو اشکار کی سرحد تبور شخصیماہ اور بست شمس کو چھوتی ہوئی اردن پر جا کر ختم ہوئی۔ بنو زبولون کی میراث میں سولد شہر اور ان کے دیہات شامل تھے۔ یہ شہر اور ان کے دیہات بنو اشکار کے گھرانوں کے مطابق میراث ٹھہرے۔

بنو آشر کا حصہ 

حضرت یوشع علیہ السلام نے اس کے بعد قبیلہ بنو آشر کے لئے قرعہ اندازی کی اور اس کے آشر جت کے لئے قرعہ اندازی کی۔ اور اس کے علاقے میں یہ شہر آئے۔ خلقت، حلی، بطن، اکشاف، الملک ، عماد اور مسال اور ان کے دیہات بھی شامل تھے۔ بنو آشر کے علاقے کی سرحد مغرب کی جانب کرمل اور سیحور لبنات تک پہنچی۔ پھر وہ مشرق کی جانب مڑ کر بیت دجون تک گئی اور زبولون اور افتاح ایل کی وادی کو چھوتی ہوئی اپنے بائیں جانب طرف کبول سے گزرتی ہوئی شمال کی جانب بیت العتیق اور نغی ایل تک پہنچی۔ پھر حبرون ( الخلیل) ، رحوب ، عمون اور قاناہ بلکہ بڑے میدا تک پہنچی۔ پھر وہ سرحد رامہ( راملہ) کی طرف مڑ کر فصیلدار شہر ضور تک چلی گئی۔ پھر حوسہ کی طرف مڑ کر سمندر تک پہنچی۔ جہاں اکزیب ، عمہ، افیق اور رحوب کا علاقہ ہے۔ اس طرح بائیس 22شہر اور ان کے دیہات بنو آشر کی میراث میں آئے۔

بنو نفتالی کا علاقہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے اس کے بعد قرعہ اندازی کر کے بنو نفتالی کا علاقہ متعین کیا۔ ان کے علاقے کی سرحد حلف اور ضعتیم کے بڑے بلوط سے ادامی نقب اور یبنی ایل سے ہوتی ہوئی لقوم تک گئی اور اردن پر جا کر ختم ہوئی۔ پھر وہ سرحد ازنوت تبور سے ہوتی ہوئی مغرب کی طرف گئی اور حقوق تک پہنچ گئی۔ اور جنوب میں زبولون کے علاقے تک اور مغرب میں آشر کے علاقے اور مشرق میں اردن تک پہنچی۔ ان کے شہر یہ تھے۔ صدیم، صیر ، حمات، رقت ، کزت، ادامہ، رامہ( راملہ) حصور، قادس، عی، عین حصور، ارون، مجد اایل، حریم، بیت عنات، اور بیت شمس ۔ یہ انتیس 29شہرا ور دیہات بنو نفتالی کی میراث میں آئے۔

بنو دان کا علاقہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے اس کے بعد بنو دان کے لئے قرعہ اندازی کی ۔ ان کے علاقے میں جو شہر آئے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ صرعاہ، استاول، عیر شمس، شعلین، ایالون، اتلاہ، ایلون، تمناہ، عقرون، التقیہ، جنتون، بعلات،یہود، بنی برق ، جات رمون، مے یرقون ، رقون اور یافہ کے سامنے کا علاقہ شامل تھا۔ یہ تمام شہر اور علاقہ بنو دان کو میراث میں ملے۔لیکن بنو دان کو اپنے علاقے میں کافی دقت پیش آئی۔ اسی لئے انہوںنے وہاں سے کوچ کر کے لشم پر حملہ کیا۔ اور وہاں کے لوگوں سے جنگ کر کے انہیں قتل کر دیا اور لشم پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد بنو دان نے لشم میں ہی سکونت اختیار کر لی اور اپنے جد امجد دان کے نام پر اس کا نام دان رکھ دیا۔

بنو لاوی کے شہر

حضرت یوشع علیہ السلام جب ملک کنعان ( فلسطین) کا پورا علاقہ بنی اسرائیل میںبانٹ چکے تو بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کو اپنے درمیان میراث دی۔ اور بنو افرائیم کے پہاڑی علاقوں میں سرح شہر انہیں دیا۔ اس کے بعد بنو لاوی کے سردار عیز ار کا ہن ( یہ حضرت ہارون علیہ السلام کا بیٹا ہے) اپنے قبیلے والوں کے ساتھ آیا اور آپ علیہ السلام سے عرض کیا کہ بنو لاوی کہاں رہیں گے؟ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو لاوی سے ہیں) حضرت یوشع علیہ السلام نے یہ معاملہ بنی اسرائیل کے سامنے رکھا تو انہوںنے کہا کہ قرعہ اندازی کے ذریعے ہمارے علاقوں میں سے انہیںرہائش کے لئے دیں۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے پہلا قرعہ عیزار کاہن اور اس کے گھرانوں کے لئے ڈالا ۔قرعہ اندازی کے بعد بنو یہودا ، بنو شمعون اور بنو بن یامن کے علاقوں میں سے دس شہر دیئے گئے۔ اسی طرح بقیہ بنو لاوی کو بنو روبیل ( روبن) ، بنو جد اور بنو بولون کے علاقوں میں سے بارہ شہر ملے۔ اور ان کی چراہ گاہیں دی گئیں۔

مشرقی قبیلوں کی اپنے علاقے میں واپسی

حضرت یوشع علیہ السلام نے جب تمام بنی اسرائیل کے علاقے بانٹ دیئے تو اُن ڈھائی قبیلوں یعنی بنو روبیل ( روبن) ، بنو جد اور بنو یوسف ( یعنی بنو منسی) کا آدھا قبیلہ جن کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اردن کے پار کے علاقے دیئے تھے۔ ان سے فرمایا۔ تمہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو حکم دیا تھا۔ تم سب نے اس پر عمل کیا اور اپنے بھائیوں یعنی بقیہ بنی اسرائیل کی ہر طرح سے مدد کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو خدمت تمہارے ذمہ لگائی تھی اسے پورا کیا۔ اب اللہ تعالیٰ نے تمہارے بھائیوں کو اپنے وعدہ کے مطابق آرام بخشا۔ اب تم اردن کے اس پار اپنے علاقے میں جو تمہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیا تھا چلے جاﺅ۔ لیکن خیال رہے کہ تم توریت کے احکام اور شریعت پر ہمیشہ عمل کرتے رہنا۔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تمہیں دی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا ، اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا۔ اور اس کے احکامات کو اپنانا اور ان سے لپٹے رہنا۔ اور اپنے سارے دل سے اور ساری جان سے اللہ کے دین ( اسلام) کے مطابق عمل کرنا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس ڈھائی قبیلے کو جو علاقہ دیا تھا وہ لوگ اپنے اس علاقے میں چلے گئے۔ بنو یوسف میں دو گھرانے بنو منسی اور بنو فرائیم وجود میں آگئے تھے۔ آدھا قبیلہ بنو منسی کو جو علاقہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیا تھا اس کے بازو میں حضرت یوشع علیہ السلام نے اُن کے بقیہ آدھے قبیلے بنو افرائیم کو علاقہ دیا۔

حضرت یوشع علیہ السلام کا آخری خطبہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے تمام قبائل کو ان کے علاقے دے کر انہیں وہاں رہائش اختیار کرنے میں بھر پور مد د دی۔ اور اسلامی حکومت قائم کر کے اللہ کے قانون کے مطابق نظامِ حکومت چلاتے رہے۔ آپ علیہ السلام نے پورے ملک کنعان اور جہاں بنی اسرائیل آباد تھے۔ ان تمام علاقوں کا انتظام بہت خوبی سے چلایا ۔ اور برسوں تک اسلامی حکومت چلاتے رہے۔ آپ علیہ السلام کی حکومت میں بنی اسرائیل بڑے سکون سے رہے۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام نے آس پاس کے ممالک کے کافروں اور مشرکوں کو بڑی خوبی سے اپنے قابو میں کیا ہوا تھا۔ جب آپ علیہ السلام کی عمر مبارک زیادہ ہو گئی۔ اور ضعیفی اور کمزوری آگئی تو آپ علیہ السلام نے پوری اسلامی حکومت میں بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبیلوں میں اعلان کر وا دیا کہ فلاں دن تمام بنی اسرائیل فلاں میدان میں جمع ہو جائیں۔ اعلان کے مطابق تمام بنی اسرائیل اور ان کے تمام بزرگ اور تمام امراءاور تمام قاضی اور عہدے دار جمع ہو گئے۔ تب آپ علیہ السلام ایک پہاڑی پر کھڑے ہو ئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا۔ میں نے تم لوگوں کو اس لئے بلایا ہے کہ تم دیکھ رہے ہو کہ میں عمر رسیدہ اور ضعیف ہو چکا ہوں ۔ تم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کے خلاف کس طرح تمہاری مدد کی۔ اور اس نے تمہیں اردن سے لے کر مغرب میں بڑے سمندر ( بحر اوقیانوس) تک کا سارا علاقہ تمہیں عطا فرمایا۔ اور میں نے قرعہ اندازی کے ذریعے تمہیں وہ وسیع علاقہ تقسیم کیا۔

اللہ کی بندگی کا حکم

حضرت یوشع علیہ السلام نے اس کے بعد اپنا خطبہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔ اے بنی اسرائیل ، تم میرے بعد ہمت سے کام لینا۔ اور جو کچھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نازل ہوئی کتاب توریت میں لکھا ہے اس پر ادھر ادھر مڑے بغیر خلوص سے عمل کرتے رہنا۔ اور وہ کافر قومیں جو تمہارے آس پاس اور تھوڑی بہت تمہارے درمیان رہتی ہیں۔ ان کے مذہب کے تعلق سے ان سے کوئی ربط و ضبط نہیں رکھنا۔ ان کے معبودوں کی عبادت نہیں کرنا بلکہ ان سے بیزاری ظاہر کرنا۔ ان کے معبودوں کو قسم نہیں کھانا۔ اور ان کے معبودوں کی عبادت اور سجدہ نہیں کرنا۔ بلکہ تم صرف ایک اللہ وحدہ لا شرک کی ہی عبادت اور بندگی اور سجدہ کرنا۔ جیسا کہ آج تک میرے ساتھ کرتے آئے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی اور تمہارے سامنے بڑی بڑی زور آور طاقتور قوموں کو پسپا کیا ہے۔ اور آج کوئی ملک ، کوئی بادشاہ اور کوئی شخص تمہارے سامنے ٹھہر نہیں سکاہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد تمہارے ساتھ تھی۔ اسی لئے ہمیشہ اپنے دل میں اللہ کی محبت قائم رکھنا۔ اور اس کے غضب اور عذاب سے ڈرتے رہنا۔ اور اسلام پر سختی سے قائم رہنا۔

تب اللہ کا غضب بھڑکے گا اور ذلیل ہو جاﺅ گے

حضرت یوشع علیہ السلام نے اپنے خطبے میں آگے فرمایا۔ لیکن اگر تم گمراہ ہو جاﺅ گے۔ اور ان کافر قوموں سے مذہبی میل جول کر لوگے۔ اور ان کے ساتھ شادی بیاہ رچالو گے اور ان سے راہ و رسم بڑھا لو گے۔ تو یقین جانو اللہ تعالیٰ ان کافروں کو تم پر حاوی کردے گا۔ اور وہ تمہارے لئے جلال او پھندا اور تمہاری آنکھوں کے کانٹے بن جائیں گے۔ اور دھیرے دھیرے تم اس ملک میں جو تمہیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اس ملک میں نابود ہو جاﺅ گے۔ اب میں آج اسی راستے پر جانے والا ہوں۔ جس راستے پر ہمارے باپ دادا حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب ، حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ علیہم السلام چلے گئے ہیں۔ اور تم یہ اچھی طرح جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جو بھی وعدہ کیا اسے پورا کیا۔ اب اگر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہر وعدہ تم سے پورا کرنے کے بعد تمہیں نافرمانی ، گمراہی، کفر و شرک میں مبتلا دیکھے گا تو اس کا غضب ( غصہ انسانی فطرت کا حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سمجھ بوجھ کر غضب ہوتا ہے) تم پر بھڑک اٹھے گا۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد ( اسلام اور ہر حالت میں صرف اللہ کی عبادت ) کو توڑدو گے اور جا کر دوسرے معبودوں کی عبادت کرنے لگو گے اور ان کے آگے سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر غضب ناک ہو جائے گا۔ اور اس نے تمہیں جو ملک دیا ہے اس میں سے تمہیں نیست و نابود کر دے گا۔ یعنی نکال دے گا۔

بنی اسرائل سے عہد لینا

حضرت یوشع علیہ السلام نے اپنے خطبے میں آگے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہارے جداعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت اور نبوت سے سرفراز فرمایا اور انہیں ملک کنعان میں بسایا۔ اسے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہم السلام عطا فرمائے۔ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو فاران کے پاس حرم شریف( مکہ مکرمہ ) میں بسایا۔ اور حضرت اسحاق علیہ السلام کو عیصو( عیسو) اور حضرت یعقوب علیہ السلام عطا فرمائے۔ اور عیصو کو کوشعیر کا پہاڑی ملک دیا۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کو مصر میں بسایا۔ اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے۔ پھر میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو تمہارے پاس بھیجا۔ اور ان دونوں کے ساتھ تمہیں مصر سے نکال لایا۔ اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سزا دی۔ پھر تمہارے باپ دادا نے نافرمانی کی اور میرے لئے ( اللہ کے لئے ) لڑنے سے انکار کر دیا۔ تب انہیں چالیس سال بھٹکنے کی سزا ملی۔ پھر میں نے تمہیں یہ ملک عطا فرمایا۔ اب تم اس ملک میں سکون سے رہتے ہو۔ اور تم کو وہ شہر عنایت فرمائے جو تم نے نہیں تعمیر کئے تھے۔ اور آج تم ان میں بسے ہوئے ہو۔ اور نخلستانوں اور کھیتوں اور زیتون کے باغوں کے پھل کھاتے ہو جو تمہارے لگائے ہوئے نہیں ہیں۔ اس لئے اب تم نہایت وفاداری سے صرف میری عبادت کرو۔ اور ان معبودوں کو پھینک دو جن کی عبادت تمہارے باپ دادا دریاکے اس پار مصر میں کرتے تھے۔ اس کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا۔ میں اور میر اگھر انہ تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کریں گے۔تب بنی اسرائیل کے تمام لوگوں نے کہا۔ ہم بھی صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کریں گے۔ کیوں کہ وہی ہمارا معبود ہے۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر تم شرک کرنے لگو تو اللہ تعالیٰ تمہارے شرک سے پاک ہے۔ وہ غیّور معبود ہے۔ پھر وہ تم پر آفت نازل کرے گا۔ اور تمہارا قتل عام کرائے گا۔ اور تمہیں بکھیر کر رکھ دے گا۔ تمام بنی اسرائیل نے ایک زبان ہو کر کہا۔ ہم عہد کرتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کریں گے اور اس کے احکامات پر ہی عمل کریں گے۔ تب حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا۔ اب تم اپنے آپ پر کود ہی گواہ ہو کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی کرنے کو پسند کیا ہے۔ تما م بنی اسرائیل نے کہا۔ ہاں، ہم گواہ ہیں۔ تب حضرت یوشع علیہ السلام نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا۔اے اللہ تعالیٰ، تو بھی گواہ رہنا۔

حضرت یوشع علیہ السلام کا وصال

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر مبارک ننانوے 99سال تھی۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ساتھ مل کر لگ بھگ 8یا 10یا12یا 15سال تک جنگ کر کے پورے ملک کنعان کو فتح کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قرعہ اندازی کر کے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کو اس ملک میں بسایا۔ اور اسلامی حکومت قائم کی۔ اور بنی اسرائیل کی تربیت کرتے رہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل بیت المقدس کو فتح کر کے اس میں متمکن ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق ان کی تربیت فرمائی۔ ایک عرصے تک آپ علیہ السلام ان کے درمیان فیصلے فرماتے رہے۔ آخر کار جب آپ علیہ السلام کی عمر مبارک 126برس کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد آپ علیہ السلام 26سال زندہ رہے۔

اگلی کتاب

حضرت یوشع علیہ السلام کے حالات مکمل ہوئے ۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت یونس علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔

٭........٭........٭


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں