پیر، 15 مئی، 2023

حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام مکمل Life of Prophet Moosa and Haroon



حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام  مکمل

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قارئین کرام، اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت شعیب علیہ السلام کے حالات پیش کر چکے ہیں۔ اب حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام کے حالات پیش خدمت ہیں۔ ان دونوں انبیائے کرام یعنی حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کے حالات پیش خدمت ہیں۔ ان دونوں انبیائے کرام یعنی حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کا زمانہ متصل ہے اور ان دونوں میں رشتہ داری بھی ہے۔ جس کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔ اسی لئے ہم حضرت شعیب علیہ السلام کے ذکر کے فوراً بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات پیش کررہے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا ۔ ہم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات میں بتایا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام ملک مصر کے حکمراں بن گئے تھے اور اپنے والدین اور گیارہ بھائیوں کو مصر بلا لیا تھا۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا پورا خاندان یہیں آباد ہو گیا تھا۔ یہ تمام حالات ہم نے حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کے ذکر میںبیان کئے تھے۔اس کے بعد ان کے ذکر کو روک کر ہم نے آپ علیہ السلام کی اولاد یعنی ” بنی اسرائیل “ کے حالات پیش کریں گے۔ انشاءاللہ ۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد مصر اور بنی اسرائیل کے حالات

حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں۔ اُن کے نام روبیل، یہودا ، شمعون ، لاوی ، ریالون ، یشجر، یسحر ، دان یفتالی ، جاد ، حضرت یوسف علیہ السلام اور بن یامن ہے۔ چونکہ حضرت یوسف علیہ السلام ملک مصر کے حکمراں تھے۔ اسی لئے اپنے والدین اور تمام بھائیوں اور خاندان والوں کو اپنے پاس بلا لیا تھا۔ اور سب لوگ مصر میں ہی بس گئے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی اسلام کی دعوت کو اچھے خاصے مصریوں ( یعنی قبطیوں ) نے قبول کر لیا تھا۔ اور اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔ آپ علیہ السلام کے بعد بھی مصری کافی عرصے تک اسلام پر قائم رہے۔ لیکن ابلیس شیطان کی کاروائی لگاتار جاری رہی۔ اور وہ مصریوں کو لگاتار بہکاتا رہا۔ دھیرے دھیرے مصریوں کے ایمان میں کمزوری آتی گئی اور اُن میں سے اچھے خاصے لوگ کفر میں مبتلا ہو گئے۔ مصریوں کو قبطی کہا جاتا ہے۔ اس لئے آگے ہم مصریوں کو قبطی کہیں گے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ” اسرائیل“ کا لقب عطا فرمایا تھا۔ جس کا عربی میں معنی ہے۔ ”عبداللہ “ اور اردو میںمعنی ہے۔ ” اللہ کا بندہ یا اللہ کا غلام “ اسرائیل عبرانی لفظ ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد اس دوران خوب پھولی پھلی اور ان کی تعداد بڑھتی رہی۔ ان بارہ بھائیوں کی نسل ” بنی اسرائیل“ کہلائی۔ اور یہ سب کے سب اسلام پر قائم رہے۔ اور ملک مصر کے انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ اور ان کا دبدبہ مصر پر رہا۔ وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا۔ اور کئی سو سال میں بنی اسرائیل کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔

بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لگ بھگ دس بیٹے تھے۔ ان میں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام مکہ مکرمہ پر آباد ہو گئی۔ اور اُن کی اولاد ” بنی اسماعیل “ کہلائی۔ اور بنی اسماعیل میں ہمارے پیارے رسول سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ایک بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کے بڑے بیٹے عیص کی اولاد میں حضرت ایوب علیہ السلام تشریف لائے۔اور چھوٹے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ” بنی اسرائیل “ کہلائی۔ اور بنی اسرائیل میں بہت سے انبیائے کرام تشریف لائے۔ اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹوں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل زیادہ مشہور ہوئی۔ بنی اسرائیل کئی سو برس تک مصر میں رہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مصر سے نکلے۔ اب یہاں سے بنی اسرائیل کے انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر مسلسل چلے گا۔ اور اسی مناسبت سے ہم بنی اسرائیل کے حالات بھی پیش کرتے جائیں گے۔ انشاءاللہ ۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں ۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے فرزند حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں۔ جن کا لقب اسرائیل ہے۔ اُن کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے ۔ اور ان کے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام کو بھائیوں نے کنویں میں ڈال دیا تھا۔ جس کا قصہ سورہ یوسف میں مذکور ہے۔ ( تفصیل کے لئے دیکھئے ہماری کتاب ” حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام “) حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں۔ جو حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانہ اقتدار میں مصر میں جا کر رہنے لگے تھے۔ حضر ت یوسف علیہ السلام کے وصال کے بعد بھی یہ لوگ مصر میں ہی رہے۔ پُشت با پشت وہاں رہنے سے اُن کی نسل بھی بہت زیادہ ہو گئی۔ اور بارہ بھائیوں کی اولاد جو بارہ قبیلوں پر مشتمل تھی۔ اُن کی مجموعی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ 

مصر کے فراعنہ

حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں جو فرعون تھا اُس کا نام ریان بن ولید تھا۔ یہاں ایک بات ذہن میں رکھیں کہ مصر کے حکمرانوں کا لقب فرعون ہوتا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کا فرعون الگ تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کا فرعون الگ تھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون الگ تھا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مصر میں بادشاہوں کا ایک خاندان گزرا ہے۔ جو خاندانِ فراعنہ کے نام سے مشہور تھا۔ اُس خاندان کا جو بھی شخص بادشاہ بنتا تھا وہ فرعون کہلاتا تھا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ مصر کے بادشاہ کا لقب فرعون تھا۔ کیوں کہ مصری زبان میں ا سکے معنی بادشاہ ہوتے ہیں ۔ جسے عربی زبان میں سلطان ، فارسی زبان میں بادشاہ ،ہندی زبان میں راجہ اور انگریزی زبان میں کنگ کہتے ہیں۔ اس بادشاہ ( حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کے فرعون کا نام ولید بن مصعب تھا۔) خیال رہے کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ یہی یوسف علیہ السلام کے زمانے میں بھی فرعون تھا۔ مگر یہ غلط ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام ریان بن ولید تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے درمیان چار سو سال کا فاصلہ تھا۔ لہٰذا یہ وہی فرعون کیسے ہو سکتا ہے؟ 

بنی اسرائیل میں ساتھی قوم کے اثرات آگئے

حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں جو فرعون تھا اس نے حکومت کے تمام انتظامات آپ علیہ السلام کو سونپ دیئے تھے۔ اس طرح حکمراں کے طور پر نام تو اس کا چلتا تھا لیکن تمام احکامات آپ علیہ السلام دیتے تھے۔ بعد میں بھی یہی سلسلسہ چلتا رہا اور حکمراں کے ساتھی اور منتظم کے طور پر بنی اسرائیل رہتے تھے۔ اور انہوں نے لگ بھگ دو تین سو سال تک مصر کا انتظام بہت اچھی طرح سے چلایا بھی تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔ اور وہ دنیا میں مبتلا ہو کر عیش پرستی میں مبتلا ہو تے جا رہے تھے۔ مصر میں قبطیوں کی تعداد زیادہ تھی اور ان میں سے اکثر مشرک اور کافر تھے۔ کیوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں جن قبطیوں نے اسلام قبول کیا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ابلیس شیطان کے مسلسل وسوسوں کا شکار ہو کر اُن کی اولادوں نے شرک کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور قبطیوں یعنی مصریوں کے ساتھ رہتے رہتے اُن کے اندر بھی ساتھی قوم کے اثرات پیدا ہو گئے تھے۔ اور وہ لا شعوری طور سے اُن کے ساتھ رہنے والی مشرک قوم کے رسم و رواج قبول کرتے جا رہے تھے۔ جیسے ہندوستان کے مسلمان ہندوﺅں کے ساتھ رہتے رہتے اُن کے اثر قبول کر رہے ہیں۔ ہندو ہر خوشی کے موقع پر پٹاخے پھوڑتے ہیں اور آتشبازی کر تے ہیں۔ اسی طرح ہم مسلمان بھی نکاح ، بارات اور دوسرے خوشی کے موقع پر پٹاخے پھوڑتے ہیں اور آتشبازی کرتے ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کا فرعون

بنی اسرائیل ملک مصر کا انتظام سنبھالتے تھے۔ اور بادشاہ یعنی فرعون صرف نام کا فرعون ہوتا تھا۔ لیکن دھیرے دھیرے بنی اسرائیل میں عیش پسندی اور آرام پسندی پیدا ہوتی گئی اور حکومت پر سے اُن کی گرفت چھوٹتی گئی۔ اور مختلف علاقوں میں قبطیوں نے انتظامات سنبھالنے شروع کر دیئے۔ اس طرح دونوں کے درمیان رسہ کشی شروع ہو گئی۔ اور ملک مصر میں بد نظمی پھیلنے لگی۔ اور حکومت کے اہم عہدے قبطی حاصل کر نے لگے۔ اور بنی اسرائیل کے ہاتھوں سے انتظامات کے عہدے چھوٹنے لگے۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے بیس یا پچیس سال پہلے حکومت کے تمام عہدے بنی اسرائیل سے چھین لئے گئے تھے۔ اور حکومت کے اہم عہدوں پر مصری فائز ہو چکے تھے۔ اور بنی اسرائیل عام عوام کی حیثیت سے رہنے لگے تھے۔ جن کی تعداد کئی لاکھ تھی۔ ایسے حالات میں ولید بن مصعب فرعون بنا۔ اس کے فرعون بننے کی کہانی بھی کافی دلچسپ ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون چونکہ بہت خوب صورت تھا۔ اس لئے لوگ اسے قابو س کہتے تھے۔ جس کے معنی ہے روشن چنگاری ۔ یہ بہت ہی سخت مزاج اور ظالم شخص تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد یعقوب علیہ السلام تک اُن کی اولاد ملک کنعان میں رہی پھر بھائیوں کے حسد کی وجہ سے حضرت یوسف علیہ السلام مصر پہنچ گئے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اُن کو بڑا عروج عطا فرمایا۔ جب کنعان میں سخت قحط پڑا تب حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کی ساری اولاد مصر آگئی اُن سب کو اللہ تعالیٰ نے بڑھایا۔ اور چند صدیوں میں مصر میں ان کی تعداد لاکھوں ہو گئی۔ اور اس عرصہ میں وہاں ( مصر میں ) اسرائیلیوں کا دبدبہ رہا۔ حضرت یوسف علیہ السلام والا فرعون اور اس کے ساتھ مر کھپ گئے۔ اور ملک مصر میں بد نظمی پید اہو گئی۔ ولید بن مصعب جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون ہے یہ شہر اصفہان کا ایک غریب عطار تھا۔ جب اس پر بہت قرض ہو گیا تو اصفہان سے بھاگ کر شام پہنچا لیکن وہاں کوئی ذریعہ معاش ہاتھ نہیں آیا تو روزی کی تلاش میں مصر آیا۔

روزی کی تلاش میں آیا فرعون بن گیا

حضر ت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا فرعون روزی کی تلاش میں مصر آیا۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔ یہاں اس نے دیکھا کہ گاﺅں میں تربوز بہت سستے بکتے ہیں۔ اور شہر میں بہت مہنگے۔ اس نے سوچا کہ یہ نفع بخش تجارت ہے۔ اسی لئے اس نے گاﺅں سے بہت سارے تربوز خریدے مگر جب فروخت کرنے کے لئے شہر کی طرف چلا تو راستے میں محصول لینے والوں نے کئی جگہ اس سے محصول لیا ۔ بازار آتے آتے اس کے پاس ایک ہی تربوز بچا ۔ باقی سب محصول ادا کرنے میں چلے گئے تھے۔ یہ سمجھ گیا کہ اس ملک میں کوئی شاہی نظام نہیں ہے۔ جو چاہے حاکم بن کر مال حاصل کر سکتا ہے۔ اس وقت مصر میں کوئی وبائی بیماری پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ مر رہے تھے ۔ یہ قبرستان میں جا کر بیٹھ گیا اور کہا میں شاہی افسر ہون۔ مُردوں پر ٹیکس لگا ہے۔ فی مردہ مجھے پانچ درہم ادا کرو اور دفن کرو۔ اور اس طرح چند روز میں اس نے بہت مال جمع کر لیا۔ ایک روز شاہی گھرنے کا مردہ دفن کے واسطے لایا گیا۔ اس نے اس کے وارثوں سے بھی درہم مانگے تو انہوں نے اسے گرفتار کر کے فرعون کے پاس پہنچا دیا اور سارا واقعہ بادشاہ کو بتایا۔ فرعون نے یعنی بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس نے اس جگہ مقرر کیا ہے؟ ولید بولا میں نے آپ تک پہنچنے کا یہ بہانہ بنایا ہے۔ میں آپ کو خبر دیتا ہوں کہ آپ کے ملک میں بڑی بد نظمی ہے۔ میں نے تین مہینے میں ظلماً اتنا مال جمع کر لیا ہے ۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ دوسرے حکام کتنا کھاتے ہوں گے۔ یہ کہہ کر وہ سارا مال بادشاہ یعنی فرعون کے سامنے ڈال دیا اور کہا۔ اگر آپ انتظام میرے سپر د کر دیں تو میں آپ کا ملک درست کر دوں گا۔ بادشاہ کو یہ بات پسند آئی اور اسے کوئی معمولی عہدہ دے دیا۔ ولید نے ایسا طریقہ اختیار کیا جس سے بادشاہ بھی خوش تھا اور عوام بھی خوش تھی۔ رفتہ رفتہ اسے تمام لشکر کا سپہ سالار بنا دیا گیا۔ اور ملک کا انتظام اچھا ہو گیا۔ جب مصر کا بادشاہ مرا تو رعایا اور درباری اُمراءنے ولید کو بادشاہ یعنی فرعون بنا دیا۔ 

بنی اسرائیل پر ظلم و ستم

بنی اسرائیل کے ہاتھوں سے حکومت کے انتظامات قبطیوں نے اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ اور ملک مصر بد نظمی کا شکار ہو گیا۔ اسی دوران فرعون کا انتقال ہو گیا تو ولید بن مصعب جو سپہ سالار اور ملک کا منتظم تھا اس نے قبطیوں کے ساتھ مل کر درباری امراءاور وزراءکو خریدنا اور دھمکانا شروع کر دیا۔ آخر کار وزیروں اور درباریوں نے اسے بادشاہ بنا دیا۔ اس کا سب سے خاص آدمی یعنی ساتھی ہامان تھا۔ جو پچھلے فرعون کا وزیر تھا۔ ولید بن مصعب نے فرعون بنتے ہی خدائی کا اعلان کر دیا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔ اُس نے تخت پر بیٹھتے ہی یہ اعلان عام کر دیا کہ لوگ اس کو سجدہ کیا کریں۔ سب سے پہلے اس کے وزیر ہامان نے اس کو سجدہ کیا۔ اور پھر دوسرے امیروں اور سرداروں کے ذریعے مصر کے لوگوں کو سجدہ کراتا تھا۔ اور دور رہنے والوں کے لئے اس نے اپنے نام کے بت بنوا کر بھیج دیئے تھے اور حکم دیا تھا کہ وہ ان بتوں کو سجدہ کیا کریں۔ تمام اہل مصر ( قبطیوں ) نے فرعون کو سجدہ کرنا شروع کر دیا۔ لیکن بنی اسرائیل نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ فرعون نے ان کے سرداروں کو بلا کر بہت ڈرایا دھمکایا۔ مگر انہوںنے صاف کہہ دیا کہ ہم تیری عبادت نہیں کر سکتے اور ہم صرف رب یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ اب تجھے جو بھی کرنا ہے کر لے۔ فرعون غصے میں آگی ااور دیگوں میں زیتون کا تیل اور گندھک کھولا کر اس میں بنی اسرائیل کو ڈالنا شروع کر دیا ۔ بنی اسرائیل نے یہ سب کچھ برداشت کیا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ نہیں موڑا ۔ اور فرعون کو سجدہ نہیں کیا۔ جب اچھے خاصے بنی اسرائیل کو فرعون نے زندہ جلا دیا تو اس کے وزیر ہامان نے فرعون کو مشورہ دیا کہ ان کو مہلت دے اور ان کو ذلیل کر کے رکھے۔ تب اس نے جلانے سے ہاتھ کھینچا اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ان پر سختیاں شروع کر دیں۔

بنی اسرائیل کے لڑکوں کا قتل 

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ۔” اور جب ہم نے تمہیں ( بنی اسرائیل) کو فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بد ترین عذاب دیتے تھے۔ اور تمہارے لڑکوں کو قتل کر دیا کرتے تھے۔ اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے۔ اس نجات دینے میں تمہارے رب کو بڑی مہربانی تھی۔ “( سورہ البقرہ آیت نمبر 49) اللہ تعالیٰ نے سورہ ابراہیم میں فرمایا۔ ترجمہ ”جس وقت موسیٰ(علیہ السلام )نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اللہ کے وہ احسانات یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں ۔ جب کہ اس نے تمہیںفرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بڑے دکھ پہنچاتے تھے۔ تمہارے لڑکوں کو قتل کر تے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے۔ اس میں تمہارے رب کی طرف سے تم پر بڑی آزمائش تھی۔ (سورہ ابراہیم آیت نمبر6) اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ یقینافرعون نے زمین میں سر کشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔ اور ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا۔ اور ان کے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتا تھا۔ اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ بے شک وہ تھا ہی مفسدوں ( فسادیوں ) میں سے ۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر4) ۔ ان آیات کی تفسیر میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فرعون بنی اسرائیل کو عذاب دیتا تھا۔ ان سے طرح طرح سے کام لیتا تھا۔ بعض سے مکان بنواتا ، بعض سے کاشتکاری ( کھیتی) کرواتا، بعض سے مزدوری لیتا تھا۔ اور جن سے کوئی کام نہیں لیتا تھا ان سے ٹیکس لیتا تھا۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ جب ولید بن مصعب فرعون تختِ سلطنت پر بیٹھا تو اس کو بنی اسرائیل سے اس قدر نفرت اور عداوت تھی کہ اس نے اُن کو ذلیل کرنے کے لئے تمام وہ طریقے اختیا رکئے جن سے وہ معاشرہ کے سب سے معمولی کام کرنے والے بن کر رہ گئے۔ ادنیٰ کاموں کے علاوہ تمام محنت و مشقت کے کام، کھیتی باڑی اور اینٹ گارے کا کام لینے لگا۔ ہر فرعونی ( مصری ، قبطی) کی خدمت کرنا اُن پر فرض کر دیا تھا۔ ان پر اتنے زبردست ٹیکس لگائے کہ ان کی کمر اس ٹیکس کے بوجھ تلے دب کر دہری ہو گئی۔

بنی اسرائیل کا ایک لڑکا تیری حکومت ختم کر دے گا

بنی اسرائیل پر فرعون کا ظلم و ستم جاری تھا ۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی لکھتے ہیں۔ اس زمانے میں فرعون نے ایک خواب دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ آئی جس نے تمام قبطیوں ( فرعونیوں ) کو جلا ڈالا۔ مگر اسرائیلیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اور پھر دیکھا کہ بنی اسرائیل کے محلے سے ایک بڑا اژدھا نکلا جس نے اس کے تخت کو پلٹ دیا۔ اس نے تعبیر دینے والوں سے اپنا خواب بیان کیا۔ انہوں نے کہا۔ اے فرعون ، بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیری حکومت کے ٹکڑے اڑادے گا۔ یعنی تیری حکومت ختم کر دے گا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ بھڑکی۔ جو مصر کے ہر قبطی کے گھر میں گھس گئی اور بنی اسرائیل کے مکانات میں نہیں گئی۔ جس کی تعبیر یہ تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا ۔ جس کے ہاتھوں فرعون کا غرور ٹوٹے گا اور اس کے خدائی دعویٰ کی اسے بدترین سزا ملے گی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام اور نسب

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام عبرانی ہے۔ امام رازی آپ علیہ السلام کے نام کے بارے میں لکھتے ہیں ۔ لفظ موسیٰ عبرانی زبان کا لفظ ہے۔ اور دو کلموں ( یعنی حرفوں ) سے مل کر بنا ہے۔ ”مُو“ کا معنی ہے ”پانی “ اور ”سا “کا معنی ہے ” درخت “ ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اُن کی والدہ محترمہ نے فرعون کے خوف سے تابوت میں رکھ دیا تھا اور اس تابوت کو دریائے نیل میں ڈال دیا تھا۔ دریائے نیل کی موجیں اس تابوت کو فرعون کے محل کے قریب درختوں کے جھنڈ میں لے آئیں تھیں۔ اور فرعون کی بیوی آسیہ کو وہ تابوت انہیں درختوں کے جھنڈ میں پانی میں ملا۔ اس نے تابوت میں سے بچے کو نکال لیا۔ اور چونکہ اسے یہ بچہ درختوں کے جھنڈ کے درمیان پانی میں ملا تھا۔ اس لئے اسی مناسبت سے اس بچے کا نام موسیٰ رکھ دیا۔ آپ علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب اس طرح ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بن عمران بن یصھر بن قاعث بن لاوی بن یعقوب علیہ السلام بن اسحاق علیہ السلام بن ابراہیم علیہ السلام ۔ علامہ ابن کثیر آپ علیہ السلام کا سلسلہ ¿ نسب اس طرح لکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بن عمران بن قاہث بن عاذر بن لاوی بن یعقوب علیہ السلام بن اسحاق علیہ السلام بن ابراہیم علیہ السلام ۔

حضرت ہارون علیہ السلام کی پیدائش

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی بچہ پیدا ہو اُسے قتل کر دیا جائے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ امام بغوی فرماتے ہیں۔ فرعون نے بنی اسرائیل کے ہر پیدا ہونےوالے بچے کو قتل کر دینے کا حکم دے دیا۔ اس نے دایہ کا پیشہ کرنےوالی عورتوں کو جمع کیا اور کہا۔ بنی اسرائیل میں جتنے بھی لڑکے پیدا ہوں اُن کوقتل کر دیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کر نے کے لئے بارہ ہزار بچے قتل کروائے۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ فرماتے ہیں کہ اس نے نوّے 90 ہزار بچے قتل کروائے تھے۔ پھر بنی اسرائیل کے بوڑھوں کی موت واقع ہونے لگی۔ تو قبطیوں کے سردار ( ایک اور روایت میں ہے کہ فرعون کے وزیر ہامان نے ) فرعون کو کہا کہ اسی طرح یعنی بنی اسرائیل کے بوڑھے مرتے رہے اور بچے قتل ہوتے رہے تو ایک دن بنی اسرائیل کے تمام مرد ختم ہو جائیں گے اور محنت و مشقت کا کام ہمیں خود کرنے پڑیں گے۔ تب فرعون نے دوسرا حکم نامہ جاری کیا کہ ایک سال بچے ذبح یعنی قتل کئے جائیں اور ایک سال ذبح نہ کئے جائیں۔ یعنی زندہ چھوڑ دیئے جائیں۔ حضرت ہارون علیہ السلام اسی سال پیدا ہوئے جس سال بنی اسرائیل کے بچوں کو زندہ چھوڑنے کی باری تھی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں ۔ فرعون نے ملک کے کوتوال ( پولس کا سربراہ) کو بلا کر حکم دیا کہ ایک ہزار ہتھیار بند سپاہی اور ایک ہزار دائیاں بنی اسرائیل کے علاقے میں مقرر کر دو کہ جس گھر میں بھی لڑکا پیدا ہوا سے قتل کر دیاجائے۔ چند سال میں بنی اسرائیل کے بوڑھے بھی جلد جلد مرنے لگے تب قبطیوں نے فرعون سے درخواست کی کہ بنی اسرائیل کے بچے قتل کئے جائیں اور ایک سال چھوڑ دیئے جائیں۔ اللہ کی شان کہ چھوڑنے کے سال حضر ت ہارون علیہ السلام پیدا ہوئے۔ 

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں ۔ لاوی بن یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں حضرت عمران اس وقت اپنے قبیلے کے سردار تھے۔ ( بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے) ان کی بیوی کا نام حضرة عایذ تھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں کے فرزند ہیں۔ جب حضرة عایذ حاملہ ہوئیں تو فرعون کی دائیاں ان کے گھر میں اور سپاہی دروازے پر آنے لگے۔ جب ولادت کا زمانہ قریب آیا تو ایک دائی ان کے گھر میں رہنے لگی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام رات کے وقت پیدا ہوئے اور فرعون کی دائی ان کو دیکھ کر بے اختیار اُن پر عاشق ہو گئی کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو محبوبیت عامہ بخشی تھی۔ دائی نے آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ سے کہا۔ کسی بھی صورت سے اس خوب صورت پیارے بچے کو بچاﺅ۔ یہ کہہ کر اس نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا اور ایک ہانڈی میں ڈال کر سپاہیوں کے پاس آئی اور کہا کہ لڑکا پیدا ہوا تھا۔ میں نے اسے ذبح کر دیا اور دیکھو میں اس کو دفن کر نے کے لئے جنگل میں جا رہی ہوں ۔ سپاہیوں نے اس پر اعتبار کیا اور زائد تحقیقات نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ”ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کی والدہ محترمہ کو وحی کی ( القا کیا یا الہام کیا) کہ اسے دودھ پلاتی رہو اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو تو اسے دریا میں بہا دینا ۔ اور کوئی ڈر ، خوف یا رنج و غم نہیں کرنا۔ ہم یقینا اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے اپنے رسولوں میں بنانے والے ہیں۔“( سورہ القصص آیت نمبر7)

اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون نے قتل کرنے کا ارادہ بنا لیا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بچانے کا ارادہ بنا لیا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ فرعون تو بنی اسرائیل کو بچوں کا قتل عام کر رہا تھا ۔ لیکن تقدیر مسکرا کر کہہ رہی تھی ۔ اے جابر بادشاہ۔ اے اپنے لشکر و قوت کے نشے میں مست فرمانروا۔ اے جس کے سامنے پورا مصر سجدہ کرنے کو تیار نظر آتا ہے۔ سن لے ۔ اس عظیم ذات ( اللہ تعالیٰ ) نے فیصلہ صادر کر دیا ہے جس پر کوئی غلبہ نہیں پا سکتا ہے۔ اور نہ ہی کوئی اس کے حکم کو روک سکتا ہے۔ وہ جس سے ہاتھ رنگین کر رہا ہے وہ تیرے ہی گھر میں ، تیرے ہی بستر پر ، تیرے ہاتھوں سے پروان چڑھے گا۔ خود اس کی تربیت کر ے گا۔ اور اپنے گھر میں لاڈ پیار سے اس کی پرورش کرے گا۔ اور اس پر فدا ہوتا پھرے گا۔ لیکن اے جابر، اے اللہ کے دشمن ، تو اس راز سے ایک پل کے کے لئے بھی باخبر نہیں ہوگا۔ پھر تیری بادشاہت اسی پر وردہ کے ہاتھوں ختم ہو گی۔ اور اسی بچے کی تکذیب ( اسے جھٹلانے) اور اس کے دین حق ( اسلام ) کی مخالفت کرنے کی وجہ سے تو آخرت میں ذلیل و خوار اور ابدی عذاب کا مستحق بنے گا۔ اس دن تیری آنکھیں کھلیں گی۔ اور تجھے پتہ چلے گا اور تُو کائنات کی ہر چیز گواہ ہو گی کہ آسمانوں اور زمین کا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی اس کے فیصلوں کو ٹال نہیں سکتا ہے۔ وہ قوی اور زبردست ہے۔ وہ بڑے مرتبے اور بلند شان کا مالک ہے۔ کائنات کا ایک ایک فرد بلکہ ذرہ ذرہ اس کے اشارے سے اپنے اپنے دائرہ کار میں مصروف عمل ہے۔ اس کی مشیت کے آگے ہر چیز بے بس اور مجبور ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ارہاص 

حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ کے پاس رہے۔ مفتی احمد یار خان لکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے گھر میں پرورش پاتے رہے۔ ادھر فرعون کو نجومیوں نے خبر دی کہ بنی اسرائیل میں بچہ پیدا ہو چکا ہے۔ فرعون اس خبر سے پریشان ہو گیا اور کوتوال ( محکمہ پولس کا سربراہ) کو سخت تنبیہہ کی۔ کوتوال نے سپاہیوں پر سختی کو تو انہوں نے کہا ہم نے بنی اسرائیل کے ہر بچے کو اپنی نگرانی میں قتل کیا۔ لیکن عمران کے بچے کے بارے میں دائی پر اعتماد کر لیا۔ کوتوال نے کہا فوراً اس گھر کی تلاشی لو اور بلا تامل گھس جاﺅ۔ سپاہی یعنی پولس والے بے پردہ حضرت عمران کے گھر میں گھس آئے ۔ اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی بڑی بہن مریم کی گود میں تھے۔ مریم نے یہ ماجرا دیکھا تو فورا ً آپ علیہ السلام کو جلتے ہوئی تنور میں ڈال دیا۔ اور پولس والے دیکھ نہیں سکے۔ مریم نے خیال کیا تھا کہ اگر پولس نے بچہ دیکھ لیا تو بچے کے سمیت پورے گھر والوں کو قتل کر دیں گے۔ پولس نے پورے گھر کی تلاشی لی اور کچھ نہ پا کر واپس چلے گئے۔ والدہ محترمہ نے مریم سے پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام ) کہاں ہے؟ تب مریم چونکی اور اپنی والدہ محترمہ کو بتایا کہ ( روٹی پکانے والے ) تنور میں ڈال دیا۔ ( اُس زمانے میں چپاتی پکانے کا رواج نہیں تھا اور ہر گھر میں تندوری روٹی پکتی تھی) والدہ محترمہ تڑپ کر تنور پر پہنچی اور اندر دیکھا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام آپ پر لیٹے مسکرا رہے تھے اور محفوظ تھے۔ والدہ محترمہ نے فوراً آپ علیہ السلام کو نکال کر گلے سے لگا لیا۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ارہاص تھا۔ ( ارہاص اُن کرامتوں کو کہتے ہیں جو اعلانِ نبوت سے پہلے انبیائے کرام کے ذریعے یا اُن کی وجہسے پیش آتی ہیں۔ جیسے ہمارے پیارے رسول سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پچاس 50یا پچپن55دن پہلے اصحاب فیل کا واقعہ پیش آیا تھا) یعنی نبوت سے پہلے معجزہ کا ظہو ر ۔ جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچپن میں پتھروں کا سلام کرنا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پیدا ہوتے ہی بات کرنا۔ وغیرہ ۔ (حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بچپن میں ایک اور ارہاص کا واقعہ پیش آیا ) گھر کے سب لوگوں نے مشورہ کر کے محلہ کے بڑھئی ( لکڑی کا سامان بنانےوالا مستری) سے ایک صندوقچہ بنوایا ۔ اس بڑھئی کا نام سانوم تھا۔ اس سے عہد لیا گیا کہ کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا کہ بچے کے لئے صندوقچہ بنوایا ہے۔ ادھر فرعون کی طرف سے اعلان ہو اکہ جو شخص اس لڑکے کے بارے میں بتائے جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوا ہو تو اسے بہت انعام دیا جائے گا۔ سانوم کو طمع ہوئی۔ خبر دینے کے لئے نکلا اور دروازے تک پہنچا تو زمیں میں ٹخنوں تک دھنس گیا اور غیب سے آواز آئی کہ کہ اگر تو نے یہ راز ظاہر کیا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ سانوم گھبرا گیا اور صندوقچہ حضر ت عمران کے گھر پہنچا کر عرض کیا کہ اس پاکیزہ بیٹے کی صورت تو دکھا دو۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صورت مبارک دیکھی تو دل و جان سے عاشق ہو گیا۔ اور صندوقچہ کی اجرت بھی نہیں لی۔

صندوق میں ڈال کر دریا میں چھوڑ دیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے نام میں اختلاف ہے۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی اپنی تفسیر نعیمی میں لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا نام ”عایذ “ ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ امام سہیلی فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا نام ” ایارخا “ ہے کچھ لوگ ”ایا ذخت “ بھی بتاتے ہیں۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کی راہنمائی کی گئی اور ان کے دل اور شعور میں یہ بات ڈال دی گئی کہ حزن و ملال ، رنج و غم اور خوف کی کوئی بات نہیں ہے۔ اگر کچھ وقت کے لئے تمہارا بچہ بچھڑ بھی گیا تو اللہ تعالیٰ اسے تمہارے پاس لوٹا دے گا۔ اور وہ رسول ہو گا اور دنیا اور آخرت میں ا سکی شہرت و عزت ہوگی۔ علمائے کرام فرماتے ہیمعافی کے سال پیدا ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام قتل کے سال پیدا ہوئے ۔ آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کو جب حمل کی گرانی محسوس ہوئی تو بہت پریشان ہوئیں ۔ پہلے ہی دن سے حمل چھپاتی رہیں۔ اور قدرت ِ خداوندی سے کسی کو انہیں دیکھ کر اندازہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ آپ کے یہاں بچہ پیدا ہونے والا ہے۔ جب بچہ پیدا ہوا تو انہیں الہام ہوا کہ صندوق بنا کر رسی سے باندھ لو ۔ اور جب خطرہ لاحق ہو تو بچے کو اس صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو۔ حضرت عمران کا گھر دریائے نیل کے بالکل کنارے تھا۔ اس لئے والدہ محترمہ آپ علیہ السلام کو دودھ پلاتی رہیں اور جب کسی ظالم سے خوف ہوتا تو اسے صندوق میں رکھ کر دریا میں بہا دیتیں اور کنارے پر رسی پکڑ کر بیٹھ جاتیں۔ اور جب بچوں کے قاتل واپس چلے جاتے تو آپ علیہ السلام کو نکال لیتیں۔ اسی طرح اللہ کے حکم کے مطابق عرصے تک یہی کرتی رہیں۔ اللہ کی قدرت کہ ایک دن معمولی سی غفلت سے رسی ہاتھ سے چھوٹ گئی اور صندوق دریائے نیل میں بہہ گیا۔ دوسری روایات میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ زیادہ دنوں تک بچے کی بات چھپا نہیں سکتیں تھیں۔ اس لئے ایک دن دل پر پتھر رکھ کر آپ علیہ السلام کو صندوق میں رکھا اور دریائے نیل میں ڈال دیا۔

صندوق فرعون کے محل میں پہنچا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ نے کچھ دنوں تک آپ علیہ السلام کو اپنے پاس رکھا لیکن وہ جانتی تھیں کہ زیادہ دنوں تک فرعون اور اس کے سپاہیوں سے یہ بات چھپی نہیں رہ سکے گی۔ اور اگر معلوم ہو گیا تو آپ علیہ السلام کی جان خطرے میں آجائے گی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک دن آپ علیہ السلام کو صندوق میں ڈالا اور صندوق کو دریائے نیل میں ڈال دیا۔ اور اپنی بیٹی سے کہا کہ دریائے نیل کے کنارے کنارے چلتی جاﺅ اور صندوق کو دیکھتی رہو کہ کہاں جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ’ موسیٰ (علیہ السلام )کی والدہ محترمہ نے اسکی بہن سے کہا تو اس کے پیچھے پیچھے جا اور اسے دور ہی دور سے دیکھتی رہ اور فرعونیوں کو اس کا علم بھی نہیں ہوا۔ “ ( سورہ القصص آیت نمبر11) مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ والدہ محترمہ نے آپ علیہ السلام کو غسل دیا اور عمدہ کپڑے پہنائے خوشبو لگائی اور صندوق میں رکھ کر روتی ہوئی دریائے نیل پر لے گئیں اور اللہ کے حوالے کر کے دریا میں ڈال دیا۔ دل بہت بے چین ہوا۔ مگر قدرتی طور سے تسکین ہوئی کہ یہ بچہ پھر مجھ کو ہی ملے گا۔ دریائے نیل سے ایک نہر نکال کر فرعون کے باغ تک پہونچائی گئی تھی۔ اس نہر کا نام عین الشمس تھا۔ یہ صندوق اس نہر میں داخل ہو کر فرعون کے باغ میں پہنچ گیا۔ 

فرعون کی بیوی نے بیٹا بنا لیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بڑی بہن دریائے نیل کے کنارے کنارے صندوق کے ساتھ ساتھ چلتی جارہی تھی۔ اس نے دیکھا صندوق فرعون کے محل میں جانے والی نہر میں داخل ہو کرمحل میں کے اندر داخل ہو گیا۔ یہ دیکھ وہ فوراََواپس آ ئی اور والدہ محتر مہ کو آ کر بتایا کہ صندوق اس نہر میں داخل ہو گیا۔ جو فر عون کے محل میں جا تی ہے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ فرعون کو صندوق مل جائے گا۔یہ سن کر آپ علیہ السلا م کی والدہ محتر مہ گھبرا گئیں اور اللہ تعالیٰ سے آپ علیہ السلام کے لئے دعا کرنے لگی۔اور اپنی بیٹی سے کہہ کر کہ تم فرعون کے محل کے آس پاس رہو اور دیکھو کہ کیا ہوتا ہے۔اُدھر صندوق فرعون کے باغ میں آکر رک گیا اور اس کے سپا ہیوں یا کنیزوں نے صندوق لا کر فر عون اوراس کی بیوی کے سامنے پیش کیا اللہ تعالیٰ نے اس کہ بارے میں فر مایا۔ترجمہ َََََ”آخر فرعون کے لوگوں نے اس بچے کو اٹھا لیا اور آخر کار یہی بچہ اس کا دشمن ثابت ہوا ۔اس کے رنج کا باعث بنا ۔اور کچھ شک نہیں کہ فرعون اور ہامان اور اس کے لشکر تھے ہی خطا وار۔اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔اسے قتل نہ کرو۔بہت ممکن ہے کہ ہمیں فائدہ پہنچائے۔یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔اور یہ لوگ شعور نہیں رکھتے۔“(سورة القصص آیت نمبر8اور9)مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہےں۔یہ صندوقچہ فرعون کے باغ میں پہنچا۔اس وقت فرعون باغ کی سیر کر رہا تھا۔اور اس کی بیوی سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہ اور دیگر خاص لوگ بےٹھے تھے۔یہ لوگ اس صندوقچہ کو اٹھا کر فرعون کے پاس لائے۔اس نے جو اس کو کھولا تو اس میں نہایت حسین وجمیل لڑکا پایا۔ فوراََ اس نے کہا یہ وہی لڑکا ہے جس کی نجو میوں نے خبر دی تھی۔یہ میرا اقبال ہے کہ یہ خود بخود میرے پاس آ گیا۔اس کو فوراََقتل کر دیا جائے۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہ نے آپ علیہ السلام کا حسن و جمال دیکھا تو بے ساختہ دل میں مامتا ابھر آئی۔اورفرعون سے بولی کہ تو نے صرف گمان پرہزاروں بچوں کا قتل کر دیا۔اب اس بچے کو قتل نہ کراﺅ۔شاید یہ بچہ کسی اور جگہ سے آ رہاہو اور ہو سکتا ہےکہ بنی اسرائیل نہ ہو۔ میرا تو کوئی بیٹا نہیں ہے۔میں تو اس کواپنا بیٹا بناﺅں گی ۔اللہ تعالیٰ نے میری گود بھر دی ہے۔فرعون نے اپنی بیوی کی بات مان لی فرعون نے اپنی بیوی کی بات مان لی اور آپ علیہ السلام کو اسی کے پاس رہنے دیا۔

سیدہ آسیہ کے لئے فائدے مند

سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا فرعون کی بیوی تھیں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ لونڈیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بند صندوق کو دریا سے نکال لیا اور اس وقت تک کھولنے کی جسارت نہیں ہوئی جب تک فرعون کی بیوی سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس صندوق کو رکھ نہیں دیا گیا۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کا شجرہ نسب بیان کرتے ہوئے مفسرین کرام لکھتے ہیں۔ آسیہ بنت مزاحم بن عبید بن ریان بن ولید ۔ ولید وہ شخص ہے جو حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں مصر کا بادشاہ یعنی فرعون تھا۔ بعض علماءکا خیال ہے کہ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل سے تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدہ آسیہ آپ علیہ السلام کی پھوپھی تھیں۔ یہ رائے امام عبدالرحمن بن عبداللہ سہیلی کی ہے۔ ( واللہ اعلم) سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے صندوق کھولا اور پردہ ہٹا کر دیکھا تو اس چمکتے چہرے کو دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ نورِ نبوت ضوفشاں تھا اور جلالت ِ موسوی سے آنکھیں خیرا ہو ا جاتی تھیں۔ نظر پڑتے ہی سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا تو دل سے فریفتہ ہو گئیں۔ فرعون آیا اور پوچھنے لگا یہ کیا ہے؟ اسے جب اس بچے کی بابت بتایا گیا تو اس نے حکم دیا کہ اسے فوراً ذبح کر دیا جائے۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے بچے کی جاں بخشی کی التجا کی اور کہا۔ میرے لئے اس بچے کی جان بخش دو اور اسے قتل نہ کرو۔ فرعون کے سوئے ہوئے جذبے کو ابھارنے کےلئے کہنے لگیں۔ یہ بچہ تو میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا۔ فرعون کہنے لگا۔ تیری آنکھوں کے لئے ٹھنڈک تو ہو سکتا ہے لیکن مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ شاید یہ ہمیں نفع دے۔ آسیہ کو تو وہ نف اللہ تعالیٰ نے عطا کر دیا جس کی امید وہ لگا ئے ہوئے تھیں۔ دنیا میں اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے ہدایت نصیب ہوئی اور آخرت میں اُن پر ایمان لانے کی وجہ سے جنت الفردوس کی بہاریں نصیب ہو ں گی۔ اللہ تعالیٰ نے سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ۔ جب اس نے دعا کی کہ اے میرے رب، میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا۔ اور مجھے ظالم لوگوں سے خلاصی دے۔(سورہ التحریم آیت نمبر11)

والدہ محترمہ سے ملا دیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کے پہنچنے سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا۔ یہ کہنے لگیں کہ کیا ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍمیں تمہیں ایسا گھرانہ بتاﺅں جو اس بچہ کی تمہارے لئے پرورش کرے اور وہ اس بچے کے خیر خواہ بھی ہوں۔ پس ہم نے اسے اس کی والدہ محترمہ کی طرف واپس پہنچایا۔ تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور رنجیدہ نہ ہو۔ اور جان لے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر12اور 13)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں ۔ اے فرعون ، اس معصوم بچے کے قتل سے کیا فائدہ ؟ یہ ہمارے لئے فائدے مند ثابت ہو سکتا ہے اور ہو سکتا ہے ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔ شاید اسی وجہ سے انہوںنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا کیوں کہ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”اور وہ ( اس تجویز کے انجام کو ) نہیں سمجھ سکے۔“ یعنی اُن کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں ( یعنی فرعون اور اس کے لشکر کو ) اسی بچے کے ذریعے نیست و نابود کر دے گا۔ اور فرعون اور اس کی بادشاہت کا خاتمہ اس بچے کے ہاتھ پر مقدر ہو چکا ہے۔مفتی احمد یا ر خان نعیمی لکھتے ہیں۔ اب سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے شہر کی دائیاں ( دودھ پلانےوالیاں) بلوائیں جو آپ علیہ السلام کو دودھ پلائے۔ آپہ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ مریم بھی وہاں موجود تھیں۔ کہنے لگیں ۔ ایک بہت قابل دائی ہے اس کا دودھ بہت اچھا ہے اسی شہر میں رہتی ہے۔ کہو تو اسے بلا لوں۔ فرعون بولا فوراً لاﺅ۔ وہ اپنی والدہ کو لے آئیں۔ آپ علیہ السلام نے دودھ پیا اور ان کی گود میں سو گئے۔ فرعون نے ان کی ایک اشرفی روزانہ اجرت مقرر کر دی اور کہا تم اس بچے کی پرورش کرو۔ قدرت کے قربان ، فرعون نے جس ڈر سے بارہ ہزار بچے ذبھ کر ائے اس کی خود پرورش کر رہا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے گھر میں قیام پذیر ہوئے تو حشم و خدم نے بہت کوشش کی کہ بچہ کسی عورت کا دودھ پینے لگے۔ لیکن اس نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ اور نہ ہی کوئی خوراک کھائی۔ وہ اس صورتِ حال کو دیکھ کر بہت پریشان ہوئے۔ ہر ممکن کوشش کی بچہ کچھ کھا پی لےکن بے سود۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” اور ہم نے حرام کر دیں اس پر ساری دودھ پلانے والیاں ۔“ بہت سی عورتیں اور دائیاں آپ علیہ السلام کو لے کر بازار میں آئیں کہ ہو سکتا ہے کسی عورت کا دودھ بچے کو موافق آجائے۔ بازار میں لوگوں کا جمگھٹا لگا تھا۔ سب دیکھ رہے تھے کہ فرعون کا متبنی ( گود لیا ہوا) دیکھو کس عورت کا دودھ پیتا ہے۔ اسی دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کی نظر پڑ گئی کہ یہ تو میرا بھائی ہے اور اسے دودھ پلانےکی سر توڑ کوشش ہو رہی ہے۔ بہن آگے بڑھی اور یہ اظہار نہیں کیا کہ میں اسے جانتی ہوں۔ بلکہ لا علمی کے انداز میں بولی ۔ کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کا پتہ دوں جو تمہاری خاطر اس بچے کی پرورش کریں اور اس کے خیر خواہ بھی ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بہن نے یہ بات کہی تو فرعون کے خادم کہنےلگے۔ کیا وجہ ہے کہ تو نصیحت کر رہی ہے اور بچے کی خیر خواہی پر انہیں ابھار رہی ہے؟ بہن نے کہا۔ چونکہ میں بادشاہ کی خوشی اور اس کے بھلے کی خواہش مند ہوں اسی لئے کہہ رہی ہوں ۔ لوگوں نے بہن کو چھوڑ دیا اور اس کے ساتھ گھر گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی ماں نے گود میں لیا ور آپ علیہ السلام دودھ پینے لگے۔ لوگ خوش ہو گئے اور خوش خبری دینےکے لئے سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھاگے بھاگے گئے۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ سے فرمایا ۔کہ آپ میرے محل میں رہیں اور آپ کا پورا خیال رکھوں گا۔ لیکن انہوں نے انکار کر دیا ۔ اور کہا۔ میں اپنے شوہر اور بچوں کو نہیں چھوڑ سکتی۔ انہیں میری ضرورت ہے۔ ہاں آپ بچہ میرے سپرد کر دیں میں اسے ساتھ لے جاتی ہوں۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا مان گئیں۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ محترمہ کےساتھ گھر واپس آگئے۔ اور ماں بیٹے کی جدائی وصال میں بدل گئی۔

اللہ تعالیٰ نے روک دیا

سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے جب صندوق میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نکالا تو فرعون نے کہا۔ یقینا یہ بنی اسرائیل کا بچہ ہو گا اور اس کی جان بچانے کے لئے دریائے نیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ لاﺅ میں اسے قتل کر دیتا ہوں۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے آپ علیہ السلام کو اپنی آغوش میں چھپا لیا اور کہا۔ اس بچے کو میرے لئے چھوڑ دو۔ میں اسے پالوں گی۔ اس کی پرورش کروں گی۔ ہو سکتا ہے یہ بڑا ہو کر ہم کو فائدہ پہنچائے۔ ویسے بھی ہماری کوئی اولاد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑا ہو کر ہمیں فائدہ پہنچائے گا۔ تو فرعون کا تو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہاں سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کا فائدہ ہو گیا۔ اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اعلان ِ نبوت کیا تو آپ رضی اللہ عنہا اُن پر ایمان لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہا کو جنتی فرمایا ہے۔ جب آپ علیہ السلام کو بھوک لگی تو رونے لگے۔ فرعون اور سیدہ آسیہ نے دودھ پلانے والیوں کو بلوایا لیکن آپ علیہ السلام نے کسی کا دودھ نہیں پیا۔ بس روئے ہی جا رہے تھے۔ یہ بات محل کے باہر تک پہنچ گئی۔ وہاں آپ علیہ السلام کی بہن موجود تھی۔ اس نے درباریوں اور پہریداروں سے کہا۔ ایک عورت کو میں لے کر آتی ہوں شاید اُن کا دودھ یہ بچہ پیئے۔ فرعون اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو آپ علیہ السلام کی بہن اور والدہ محترمہ کو اندر بلوایا۔ آپ علیہ السلام اپنی والدہ محترمہ کی آغوش میں آتے ہی چپ ہو گئے اور دودھ پینے لگے۔ والدہ محترمہ نے جیسے ہی آپ علیہ السلام کو گود میں لیا اور سینے سے لگایا تو اُن کے منہ سے ” میر ا بچہ “ نکلنے والا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے روک دیا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا دل بے قرار ہو گیا ۔ قریب تھیں کہ اس واقعہ کو بالکل ظاہر کر دیتیں۔ اگر ہم ان کے دل کو ڈھارس نہیں دے دیتے ۔ یہ اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں رہے۔“(سورہ القصص آیت نمبر10)

فرعون کی داڑھی نوچ لی

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب دو سال کے ہوئے تو والدہ محترمہ نے دودھ چھڑا دیا۔ اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا آپ علیہ السلام کی پرورش کرنے لگیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔ فرعون نے آپ علیہ السلام کو بیٹا لیا اور لوگوں نے انہیں فرعون کا بیٹا کہنا شروع کر دیا۔ جب آپ علیہ السلام کھیلنے کودنے والے ہو گئے تو ایک روز سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا آپ علیہ السلام کو کِھلا رہی تھیں کہ فرعون آگیا۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ لو اس بچے کو یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ یہ سن کر فرعون نے کہا۔ یہ تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میری آنکھوں کی نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ یہ کہہ دیتا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آتا لیکن اس نے انکار کر دیا۔ بہر حال اس نے آپ علیہ السلام کو اٹھایا اور کھلانے لگا۔ آپ علیہ السلام نے فرعون کی داڑھی پکڑ لی اور نوچ لیا۔ ( حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اتنی زور سے فرعون کی داڑھی کو نوچا تھا کہ بالوںکا گچھا اکھڑ گیا تھا) فرعون کو غصہ آگیا اور اس نے کہا ذبح کرنے والوںکو بلواﺅ۔ یہ وہی لڑکا ہے جس سے میری حکومت ختم ہو جائے گی۔ سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے فوراً کہا ۔ دیکھو اسے قتل مت کرو۔ یہ نا سمجھ بچہ ہے اس نے نا سمجھی میں ایسا کیا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ پورےمصر میں مجھ سے زیادہ زیورات پہننے والی کوئی عورت نہیں ہے۔ میں اس کے سامنے ایک یاقوت کا ہیرا رکھ دیتی ہوں اور ایک طرف انگارہ رکھ دیتی ہوں اگر اس نے یاقوت کو اٹھا لیا تو سمجھ دار ہے اور اسے قتل کر دیا جائے۔ اور اگر اس نے انگارے کو اٹھا لیا تو یہ نا سمجھ ہے۔ آپ علیہ السلام نے یاقوت اٹھانے کا ارادہ کا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کا ہاتھ انگارے کی طرف کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انگارہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیا۔ جس سے آپ علیہ السلام کی زبان جل گئی اور لکنت پیدا ہو گئی۔ اسی کے بارے میں آپ علیہ السلام نے یہ دعاکی تھی کہ ” اے اللہ ، میری زبان کی گرہ کھول دے تا کہ وہ میری زبان کو سمجھ سکیں۔“ 

فرعون کے محل میں جوان ہوئے

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آزمائش کے بعد فرعون کا شک دور ہو گیا۔ اور آپ علیہ السلام اپنی والدہ محترمہ اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کی دیکھ ریکھ میں بڑے ہو نے لگے۔ وقت گزرتا رہا اور آپ علیہ السلام جوان ہو گئے۔ اسی دوران آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ نے سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتا دیا تھا کہ میں ہی آپ علیہ السلام کی سگی والدہ ہوں۔ اور دونوں کو تمام حالات بتا دیئے تھے کہ کس طرح آپ علیہ السلام فرعون کے محل میںپہنچے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام جوان ہوئے اور دیکھا کہ فرعون اور قبطی ( مصری لوگ) کس طرح بنی اسرائیل پر ظلم کر رہے ہیں اور انہیں غلام بنا کر رکھا ہوا ہے۔ تو آپ علیہ السلام کا دل کڑھتا تھا اور اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانا چاہتے تھے۔ لیکن اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے ابھی تک کوئی راہنمائی نہیں فرمائی تھی۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کوئی کاروائی نہیں کر رہے تھے۔ اسی دوران وہ واقعہ پیش آیا جس نے آپ علیہ السلام کی زندگی کا رخ بدل دیا۔

ایک ہی گھونسے میں قبطی کی موت

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے رخ کو بدل دینے کے واقعہ کے بارے میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام شہزادے کی طرح فرعون کے محل میں پلتے رہے۔ بہترین اعلیٰ سواریاں تھیں۔اور شاہی لباس جو فرعون پہنتا تھا۔ویسا ہی شاہی لباس آپ علیہ السلام بھی پہنتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کو پورے ملک میں شہزادہ موسیٰ بن فرعون کہا جاتا تھا۔ایک روز کا واقعہ ہے کہ فرعون اپنے وزیروں ، درباریوں اور شاہی دستے کے ساتھ کسی کام سے باہر گیا ۔ آپ علیہ السلام بھی ساتھ میں تھے۔ جب فرعون نے واپسی کا ارادہ کیا تو آپ علیہ السلام کہیں گئے ہوئے تھے۔ اس نے کچھ دیر انتظار کیا پھر واپس اپنے ساتھیوں کو لے کر آگیا۔ آپ علیہ السلام اکیلے ہی واپس آئے اور جب شہر میںداخل ہوئے تو عین دوپہر کا وقت تھا۔ اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں قیلولہ کر رہے تھے۔ اس وقت بازار بند تھے اور کوئی نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک قبطی ( مصری) ایک بنی اسرائیل کے شخص کو مار رہا ہے۔ حالانکہ یہ مصر میں عام بات تھی۔ اور قبطی اسی طرح کھلے عام بنی اسرائیل کو ذلیل کر تے رہتے تھے لیکن اس وقت بنی اسرائیل کے شخص نے آپ علیہ السلام سے مدد کی درخواست کی تو آپ علیہ السلام دونوں کے قریب گئے اور قبطی کو سمجھانے لگے۔ لیکن قبطی اس شخص پر بہت ناراض تھا۔ اور آپ علیہ السلام کے سمجھانے کے باوجود بنی اسرائیل کے شخص کو مارتا جا رہا تھا۔ اسی وجہ سے آپ علیہ السلام غصے میں آگئے اور قبطی کو ایک مُکّہ ( گھونسہ) ماردیا۔ آپ علیہ السلام کو اندازہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کتنی طاقت عطا فرمائی ہے ۔ گھونسہ لگتے ہی وہ قبطی گرا اور مر گیا۔ آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے شخص نے حیرانی سے اس گرے ہوئے قبطی کو دیکھا اور جب اندازہ ہو ا کہ وہ قبطی مر چکا ہے تو بنی اسرائیل کا وہ شخص جلدی سے بھاگ گیا اور آپ علیہ السلام بھی اپنی سواری پر سوار ہو کر محل میں واپس آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور موسیٰ (علیہ السلام )ایسے وقت شہر میں آئے جب شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا۔ ایک تو اس کے رفیقوں ( بنی اسرائیل) میں سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں ( قبطیوں ، مصریوں) میں سے تھا۔ اس کی قوم والے نے دشمن قوم والے کے خلاف فریاد کی۔ جس پر موسیٰ (علیہ السلام )نے اس کو مُکّا یعنی گھونسہ مارا۔ جس سے وہ مر گیا۔ موسیٰ ( علیہ السلام )نے فرمایا۔ یہ تو شیطانی کام ہے۔ اور یقینا شیطان کھلا دشمن اور بہکانے والا ہے۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر 15)

قتل کا راز کھل گیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے محل میں واپس آگئے۔ لیکن یہ اندیشہ آپ علیہ السلام کو لگا تار ہو رہا تھا کہ قتل کا راز کھل نہ جائے۔ اور اسی اندیشے کی وجہ سے کچھ خوف محسوس کرتے ہوئے اپنے محل سے باہر آئے اور شہر میں گھومنے لگے۔ لیکن شہر میں ایسا کچھ نہیں تھا اور حالات بالکل نارمل تھے۔ آپ علیہ السلام بازار میں داخل ہوئے۔ وہاں کافی بھیڑ اور گہما گہمی تھی۔ وہیں بازار میں دیکھا کہ کل والا بنی اسرائیل کا شخص ایک دوسرے قبطی سے لڑ رہا ہے۔ اس نے آپ علیہ السلام کو دیکھا تو پھر مدد کے لئے بلایا۔ آپ علیہ السلام نے اس شخص کو ڈانٹا اور فرمایا کہ تو ہمیشہ کسی نہ کسی سے لرتا ہی رہتا ہے کیا؟ اور دونوں کو چھڑانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو بنی اسرائیل کا شخص زور زور سے بولنے لگا۔ کیا تم مجھے اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح کل اس قبطی کو قتل کیا تھا؟ وہ اتنی زور سے کہہ رہا تھا کہ بازار میں موجود اچھے خاصے لوگوں نے سن لیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ شیطان کی طرف سے تھا اور بے شک شیطان کھلا ہوا گمراہ ہے۔ اور دونوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن دونوں ڈر کے بھاگ گئے۔ بازار میں بھی لوگوں نے شہزادہ موسیٰ بن فرعون کے لئے راستہ چھوڑ دیا۔ اور آپ علیہ السلام شہر سے باہر ایک نخلستان میں آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” صبح ہی صبح اندیشہ کی حالت میں ڈرتے ہوئے شہر میں گئے تو دیکھا کہ اچانک وہی شخص جس نے کل مدد طلب کی تھی اُن سے فریاد کر رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے اس سے کہا کہ اس میں شک نہیں ہے کہ تو صریح ( کھلا ہوا ) بے راہ ہے۔ پھر جب اپنے دشمن کو پکڑنا چاہا تو وہ فریادی کہنے لگا کہ اے موسیٰ تو نے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کیا تھا آج اُسی طرح مجھے مار ڈالنا چاہتا ہے۔ ؟ توُ تو ملک میں ظالم اور سر کش ہی ہو ا چاہتا ہے اور تیرا ارادہ ہی نہیں ہے کہ تو ملاپ کرانے والوں میں سے ہو۔“( سورہ القصص آیت نمبر18-19)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کا حکم

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں جس دن قبطی کا قتل ہوا تھا اسی دن قبطیوں نے فرعون کے دربار میں یہ مقدمہ پیش کیا تھا۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ فرعون کے پاس گئے اور اسے بتایا کہ بنی اسرائیل کے لوگوں نے ہمارے ایک آدمی کا قتل کر دیا ہے۔ لہٰذا آپ ہمیں ہمارا حق دلوائیے۔ یعنی انہوں نے قصاص کا مطالبہ کیا۔ تو فرعون نے کہا کہ قاتل کو تلاش کرو اور ایسا شاہد پیش کرو جو اس کے خلاف گواہی دے ۔ کیوں کہ بغیر گواہوں کے فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ وہ قاتل کی تلاش کے لئے ادھر ادھر گھومتے رہے لیکن کوئی پختہ ثبوت نہیں پا سکے۔ لیکن دوسرے روز اس بنی اسرائیل کی نادانی کی وجہ سے سب کو معلوم ہو گیا اور وہ قبطی جو دوسرے دن لڑ رہا تھا اس نے جا کر فرعون کو بتا دیا کہ قاتل حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ فرعون نے فوراً دربار بلوایا۔ اور اس میں رائے مشورہ ہونے لگا کہ آپ علیہ السلام کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ ابھی یہ مشورہ چل ہی رہا تھا کہ ایک شخص دوڑتا ہوا اس نخلستان تک پہنچا اور بتایا کہ آپ علیہ السلام کے خلاف مشورہ ہو رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام کو گرفتار کر لیا جائے۔ یا پھر قتل کر دیا جائے۔ اکثر علمائے کرام نے اس شخص کا نام حزئیل لکھا ہے۔ اور وہ آلِ فرعون میںسے مردِ مومن تھا۔ بعض علمائے کرام نے اس کا نام شمعون بتایا ہے۔ اور بعض نے سمعاذکر کیا ہے۔ وہ بہت تیز چل کر آیا تھا اور قریبی راستے سے آیا تھا۔ اور کہا کہ اے موسیٰ(علیہ السلام )فرعون اور درباری آپس میں مشورہ کر رہے ہیں ۔ حالانکہ یہ معاملہ ابھی مخفی ہے لیکن وہ ایک دوسرے کو مشورہ دے رہے تھے کہ آپ علیہ السلام کو قتل کر دیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتاہوا آیا اور کہنے لگا ۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )یہاں کے سردار آپ کے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں۔ پس آپ جلدی سے یہاں سے چلے جائیے اور میں آپ (علیہ السلام )کا سچا خیر خواہ ہوں۔ ( سورہ القصص آیت نمبر20)

مدین کی طرف ہجرت

حضرت موسیٰ علیہ السلام اس نخلستان سے نکلے اور ایک طرف چل پڑے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے راہنمائی کی دعا کو تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ بھیجا۔ جس نے آپ علیہ السلام کو راستہ بتایا اور لے کر چلا چلتے چلتے جب مدین کے قریب پہنچے تو وہ فرشتہ چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس موسیٰ وہاں سے ادھر اُدھر دیکھتے بھاگتے نکل کھڑے ہوئے ۔ کہنے لگے اے میرے رب، مجھے ظالموں کے گروہ سے بچا لے۔ اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہنے لگے ۔ مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ لے چلے گا۔ ( سورہ القصص آیت نمبر21اور 22) امام قرطبی لکھتے ہیں۔ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تلاش میں آدمی بھیجے اور کہا۔ ان جگہوں پر اسے تلاش کرو جہاں سے پہاڑی راستے الگ ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام سے واقف نہیں تھے۔ ایک فرشتہ آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا میرے ساتھ چلئے آپ علیہ السلام اس کے ساتھ چلتے رہے۔ درختوں کے پھل اور پتے کھاتے رہے چلتے چلتے جوتے گھس گئے اور موزے بھی چیتھڑے ہو گئے۔ پیروں میں چھالے آ گئے اور کئی دنوں کا سخت تکلیف دہ اور دشوار گزار سفر کر کے مدین کے قریب پہنچے۔ امام مقاتل اور امام سدی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو آپ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا۔ اور مصر سے مدین کا فاصلہ ( گھوڑے کی سواری پر ) آٹھ 8 دنوں کا ہے۔ یہ ابن جبیر کا قول ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایات میں ہے کہ مصر سے مدین کا فاصلہ آٹھ راتوں کا ہے ۔ گویا کہ کوفہ سے بصرہ تک کی مسافت ہے۔ آپ علیہ السلام کے پاس درختوںکے پتے کے علاوہ کھانے کا کوئی اور سامان موجود نہیں تھا۔ جب آپ علیہ السلام مدین کے قریب پہنچے تو آپ علیہ السلام کے پاﺅں پھٹ چکے تھے۔ 

مدین کے کنویں پر

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدین کے قریب چھوڑ کر وہ فرشتہ چلا گیا۔ آپ علیہ السلام پانی کی تلاش کرتے ہوئے مدین کے کنویں پر پہنچے۔ آپ علیہ السلام کے پیر مبارک چلتے چلتے پھٹ گئے تھے۔ اور خون نکل رہا تھا۔ کنویں کے قریب جا کر آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو لے کر کھڑی تھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا ۔ ترجمہ ” مدین کے پانی پر جب آپ علیہ السلام پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت وہاں پانی پلا رہی ہے اور دو لڑکیاں الگ کھڑی اپنے ( بکریوں کو ) روکتی ہوئی دکھائی دیں۔ پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ وہ بولیں کہ جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد محترم بڑی عمر کے بوڑھے ہیں۔ “ پس آپ (علیہ السلام ) نے خود اُن جانوروں کو پانی پلا دیا۔ پھر سائے کی طرف ہٹ آئے اور فرمایا۔ اے میرے رب، جو کچھ بھی بھلائی تو میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔ ( سورہ القصص آیت نمبر23اور 24) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچے تو وہاں اچھے خاصے چرواہے اپنے جانوروں کو باری باری پانی پلا رہے تھے۔ اور دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو ( پانی پینے سے ) روک رہی تھیں۔ آپ علیہ السلام نے ان سے دریافت فرمایا ۔ تم دونوں اپنی بکریوں کو پانی کیوں نہیں پلا رہی ہو؟ دونوں نے کہا۔ جب یہ تمام چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں گے تب ہم اپنی بکریوں کو پانی پلائیں گے۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ کیا تمہارے گھر میں کوئی مرد نہیں ہے؟ جو تم یہ بکریاں چرانے آئی ہو۔ دونوں نے جواب دیا۔ صرف ہمارے والد محترم ہیں اور وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ بکریاں نہیں چر اسکتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا ۔ کیا تمہارے گھر کے قریب بھی کوئی کنواں ہے؟ دونوں نے جواب دیا۔ اتنا بڑا کنواں تو نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹی سے باوڑی( چھوٹا کنواں) ہے ۔ جس پر ایک پتھر ہے اور اس پتھر نے کنویں کو ڈھانپ رکھا ہے۔ اور یہ اتنا وزنی ہے کہ کئی آدمی مل کر ہی اسے اٹھا سکتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ دونوں چلو اور مجھے دکھاﺅ۔ دونوں اپنی بکریوں اور آپ علیہ السلام کو لے کر اس چھوٹے کنویں پر آئیں۔ اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ جس پتھر کو کئی لوگ مل کر اٹھاتے تھے اسے آپ علیہ السلام نے اکیلے اٹھا لیا اور تمام بکریوں کو پانی پلایا اور خود بھی پانی پیا۔ پھر دوبارہ پتھر کو اٹھا کر وہیں رکھ دیا۔ پھر سائے میں جا کر بیٹھ گئے اور فرمایا۔ اے میرے رب، تو جو بھی خیر و برکت میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں ۔ دونوں لڑکیوں نے آپ علیہ السلام کے الفاظ سنے اور بکریوں کو لے کر چلی گئیں۔ تاریخ طبری اور دوسری تفاسیر میں کچھ الفاظ کے فرق سے یہ واقعہ درج ہے کہ اسی کنویں کا پتھر ہٹایا تھا جہاں ملاقات ہوئی تھی۔ 

حضرت شعیب علیہ السلام کے گھر

اس سے پہلے ہم آپ کو پچھلی کتاب ( حضرت شعیب علیہ السلام سلسلہ نمبر9) میں حضرت شعیب علیہ السلام کاتفصیلی ذکر کر چکے ہیں۔اور اس میں ہم نے بتایا تھاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکرمیں بھی آپ علیہ السلام کا ذکر آئے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جس نخلستان میں تشریف فرما تھے۔ وہ حضرت شعیب علیہ السلام کا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں۔دونوں لڑکیاں اپنے گھر والد محترم کے پاس پہنچیں تو انہوںنے حیرانی سے فرمایا۔ ارے آج تم دونوں اتنی جلدی آگئیں؟ تو انہوںنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا اور پورا واقعہ سنادیا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا۔ اُسے بلا لاﺅ۔ میں اسے کچھ انعام دوں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اُسی نخلستان میں سائے میں آرام فرما رہے تھے کہ دیکھا کہ اُن دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی شرماتی ، لجّاتی ، اور چادر کے اندر اپنے آپ کو سمیٹتی ہوئی آئی اور کہا۔ میرے والد محترم آپ (علیہ السلام )کو بلا رہے ہیں ۔ آپ نے جو ہماری بکریوں کو پانی پلایا ہے ہو سکتا ہے اس پر آپ ( علیہ السلام )کو کوئی اجرت دیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک ہے چلو۔ وہ لڑکی آگے چلنے لگی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم ایسا کرو ، میرے پیچھے چلو اور پیچھے سے مجھے راستہ بتاتی رہو۔ کیوں کہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہوں ۔ اور اُن کی شریعت کے مطابق تمہیں دیکھنا میرے لئے اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے۔ اس طرح آپ علیہ السلام آگے آگے اور وہ لڑکی پیچھے پیچھے چلتے ہوئے حضرت شعیب علیہ السلام کے گھر پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اتنے میں اُن دونوں لڑکیوں میں سے ایک اُن کی طرف شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی اور بولی۔ میرے والد محترم آپ (علیہ السلام )کو بلا رہے ہیں۔ تا کہ آپ ( علیہ السلام )نے ہماری ( بکریوں ) کو جو پانی پلایا ہے اس کی اُجرت دیں۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر25)

حضرت شعیب علیہ السلام سے ملاقات

حضرت موسیٰ علیہ السلام اس لڑکی کی راہ نمائی میں اس کے گھر پہنچے ۔ حضرت شعیب علیہ السلام برآمدے میں بیٹھے انتظار کر رہے تھے ۔ دونوں کو آتا دیکھ کر آگے بڑھے اور آپ علیہ السلام کا استقبال کیا۔ اور چار پائی پر ساتھ میں لے کر بیٹھے اور تمام حالات دریافت کرنے لگے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے تمام حالات تفصیل سے بتائے اور یہ بتایا کہ فرعون میری جان کا دشمن بن گیا ہے۔ اورمیرے قتل کا حکم ( انکاﺅنٹر آرڈر) دے دیا ہے۔ اس لئے میں ہجرت کر کے یہاں آگیا ہوں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کا علاقہ مدین فرعون کی حکومت کی حدود سے باہر تھا۔ اسی لئے انہوںنے فرمایا۔ یہ تم نے اچھا کیا کہ اس ظالم کے علاقے سے چلے آئے۔ اسی دوران میں دونوں لڑکیوں نے کھانا لگا دیا۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کو کھانے کی دعوت دی اور ساتھ میں لے کر کھانا کھانے بیٹھے اور دونوں لڑکیاں کھانا ضرورت کے مطابق لا کر دے رہی تھیں۔ کھانے کے دوران حضرت شعیب علیہ السلام نے پوچھا۔ اب آگے کیا اراد ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جو بہتر سمجھے گا کرے گا۔ اسی دوران وہ لڑکی جس نے آپ علیہ السلام کو گھر تک راہنمائی کی تھی ۔ اس نے کہا۔ ابا جان، یہ بہت طاقت ور ، نیک ، شریف اور امانت دار ہیں۔ اگر آپ انہیں اجرت پر بکریاں چرانے کے لئے رکھ لیں تو ان کا رہنے کھانے کا ٹھکانہ بھی ہو جائے گا اور ہمیں بکریاں چرانے کے لئے بھی نہیں جانا پڑے گا۔ اور یہ اپنا کام پوری ذمہ داری اور ایمانداری سے بھی کریں گے۔ اس لڑکی کا نام سیدہ صفورہ رضی اللہ عنہا تھا۔ اور دوسری لڑکی کا نام سیدہ شرفا رضی اللہ عنہا تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے بیٹی کے مشورے کو قبول کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام )اُن کے پاس پہنچے اور اُن سے سارا حال بیان کیا تو وہ کہنے لگے کہ اب ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ تم نے ظالم قوم سے نجات پالی ہے۔ ان دونوں ( لڑکیوں ) میں سے ایک نے کہا۔ ابا جان، آپ (علیہ السلام )انہیں مزدوری پر ( یعنی اجرت پر) رکھ لیں۔ کیوں کہ جنہیں آپ ( علیہ السلام )اجرت پر رکھیں گے ان میں سے سب سے بہتر یہ ہیں۔ اور یہ مضبوط ( طاقتور) اور امانت دار ہیں۔“(سورہ القصص آیت نمبر25اور 26)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نکاح

حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی بیٹی سیدہ صفورہ رضی اللہ عنہا کے مشورے کو قبول کر لیا ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نوکری پر رکھ لیا۔ کچھ دنوں بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی بیٹی صفورہ رضی اللہ عنہا کا نکاح تم سے کر دوں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن میرے پاس مہر ادا کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ تو انہوںنے فرمایا کہ آٹھ سال میری بکریاں چرادیان۔ یہی مہر ہو گا اور اگر تم دس سال چرا دو تو یہ تمہارا مجھ پر احسان ہو گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام راضی ہو گئے اور آپ علیہ السلام کا نکاح سیدہ صفورہ رضی اللہ عنہا سے کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا ) میں اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو آپ ( علیہ السلام ) کے نکاح میں دینا چاہتا ہوں۔ اس ( مہر پر ) کہ آپ ( علیہ السلام )آٹھ سال تک میر ا کام کاج کریں۔ ہاں اگر آپ ( علیہ السلام ) دس سال پورے کریں تو یہ آپ (علیہ السلام )کی طرف سے احسا ن ہوگا۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ آپ ( علیہ السلام )کو کسی مشقت میں ڈالوں۔ اللہ کو منظور ہوگا تو آپ مجھے بھلا آدمی پائیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ خیر تو یہ بات میرے اور آپ علیہ السلام کے درمیان پختہ ہو گئی۔ اور میں ان دونوں مدتوں میں سے جسے چاہوں پورا کروں اور یہ مجھ پر زیادتی نہیں ہوگی۔ اور ہم یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس اللہ تعالیٰ( گواہ اور ) کا ر ساز ہے۔ ( سورہ القصص آیت نمبر27) اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام وہیں رہنے لگے۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام کی بکریاں چرانے لگے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں اپنا عَصا دے دیا اُسی عصا سے آپ علیہ السلام بکریوں کے لئے درختوں سے پتے توڑتے تھے اور راستہ بناتے تھے اور بکریوں کو ہنکاتے تھے۔ اور پورے دس سال بکریاں چرائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ سال بکریاں چرائیں تھیں یا دس سال تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے مکمل اور کامل مدت تھی اُتنی مدت بکریاں چرائیں۔ 

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی مدت پوری کر لی تو حضرت شعیب علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں نے اپنی مدت پوری کر لی ہے۔ اب مجھے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر واپس جانے کی اجازت دیں۔ اس دوران آپ علیہ السلام کے بچے بھی پیدا ہو گئے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے واپس جانے کی اجازت دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مدت کے درمیان آپ علیہ السلام کی بکریوں ، گھوڑوں ، اونٹوں اور مویشیوں میں اچھی خاصی برکت دے دی تھی۔ اور یہ سب بے شمارتعداد میں ہو چکے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں زادِ راہ کے طور پر اچھے خاصے گھوڑے ، اونٹ ، مویشی اور بکریاں دے دیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام انکار کرتے رہے لیکن انہوں نے زبر دستی یہ سب انہیں دے دیا۔ آخر کار یہ سب لے کر آپ علیہ السلام مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ سفر سات اور آٹھ راتوں کا تھا۔ راستے میں پہاڑی علاقے بھی تھے اور صحرا ( ریت یعنی بالو کے وسیع میدان) بھی تھے۔ ان علاقوں میں دن میں بہت گرمی پڑتی تھی اور رات میں بہت سردی پڑتی تھی۔ آتے وقت تو فرشتے کی راہ نمائی میں آگئے تھے لیکن واپسی میں راستہ بھولنے کا اندیشہ تھا۔ 

کوہِ طور پر آگ

حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر کی طرف سفر کر رہے تھے ۔ مولانا مفتی محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں حضر ت شعیب علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آٹھ دس سال تک خدمت کرنے کا جب معاہدہ پورا ہو گیا تو آپ علیہ السلام اپنی بیوی اور دو بچوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہو گئے تا کہ اپنی والدہ محترمہ ، بھائی حضرت ہارون علیہ السلام اور دوسرے رشتہ داروں نے ملاقات کر سکیں۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین سے مصر کی طر ف روانہ ہو نے لگے تو حضرت شعیب نے آپ علیہ السلام کے ساتھ کچھ بکریاں بھی کر دیں تا کہ راستے میں ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ سردی کا زمانہ تھا اور چلتے چلتے آپ علیہ السلام راستہ بھی بھول گئے۔ اس اندھیری رات میں آپ علیہ السلام کو دور سے ایک روشنی نظر آئی۔ آپ علیہ السلام نے گھر والوں سے فرمایا۔ تم یہیں رکو، میں ذرا جا کر دیکھتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ وہاں سے آگ لا سکوں تا کہ تم سردی اور ٹھنڈک سے بچنے کے لئے اپنے جسم کو تاپ سکو۔ اور راستہ بھی پوچھ لوں گا۔ تا کہ اس صحرا میں ہم بھٹک نہ جائیں۔ آپ علیہ السلام اس آگ کی طرف روانہ ہوئے جو کوہِ طور کے داہنی جانب روشنی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا ۔ ترجمہ ” جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدت پوری کر لی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو کوہِ طور کی طرف آگ دیکھی۔ اپنی بیوی سے کہنے لگے ۔ ٹھہرو ، میں نے آگ دیکھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی خبر لاﺅں یا آگ کا کوئی انگارہ لاﺅں تاکہ تم سینک لو۔ ( سورہ القصص آیت نمبر 29) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے ۔ میں وہاں سے کوئی خبر لے کر یا آگ کا کوئی سلگتا ہوا انگارہ لے کر ابھی تمہارے پاس آجاﺅں گا ۔ تا کہ تم سینک ( تاپ ) سکو۔ “( سورہ النمل آیت نمبر 7) اللہ تعالیٰ نے سورہ طہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” تمہیں موسیٰ (علیہ السلام )کا قصہ معلوم ہے؟ جب اس نے آگ دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا سی دیر ٹھہر جاﺅ، مجھے آگ دکھائی دے رہی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارہ تمہارے پاس لاﺅں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاﺅں ۔“ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر9اور 10)

حضرت موسیٰ علیہ السلام نبوت سے سر فراز 

حضرت موسیٰ علیہ السلام آگ کو دیکھتے ہوئے کوہ طور پر چرھنے لگے اور جب آگ کے قریب پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ ایک ہرے بھرے درخت میں آگ لگی ہوئی ہے۔ آگ بہت تیزی سے بھڑک رہی تھی۔ لیکن درخت کی شاخیں اور پتیاں ویسی ہی ہری بھری ہیں۔ آپ علیہ السلام حیرانی سے کھڑے اس منظرکو دیکھ رہے تھے کہ آواز آئی۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )بے شک میں تمہارا رب ہوں ۔ تم اپنے جوتے اتار دو۔ کیوں کہ تم مقدس وادی¿ طویٰ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں ( اپنی نبوت اور رسالت کے لئے ) چن لیا ہے۔ میں ہی اللہ وں اور میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پس تم میری عبادت کرو۔ اور مجھے یاد کرنے کے لئے نماز قائم کرو۔ بے شک قیامت آئے گی تا کہ ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جا سکے۔ اور کب آئے گی یہ صرف میں جانتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس جب وہاں پہنچے تو اس بابرکت زمین کے دائیں کنارے کے درخت میں سے آواز دیئے گئے ۔ کہ اے موسیٰ (علیہ السلام ) بے شک میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پرودگار ۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر30) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ”جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے۔ اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )سن بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں ،غالب ہوں اور حکمت والا ہوں۔“(سورہ النمل آیت نمبر8اور 9) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب وہ وہاں پہنچے تو آواز دی گئی ۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) ، بے شک میں ہی تمہارا رب ہوں ۔ تم اپنی جوتیاں اتار دو۔ کیوں کہ تم پاک میدان طویٰ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں منتخب کر لیا ہے۔ اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سنو ۔ بے شک میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پس تم میری عبادت کرو۔ اور میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔ قیامت یقینا آنے والی ہے۔ جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں۔ تا کہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیاجائے جس کے لئے اس نے کوشش کی ہو۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر11سے 15تک)

عَصا خوف ناک اژدھا بن گیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فوراً جوتے اتارے اور آگے بڑھکر حیرانی سے وہ آواز سن رہے تھے۔ اور اس درخت پر چمکتے ہوئے آگ نما ( آگ کے جیسا ) نور کو دیکھ رہے تھے۔ کہ پھر آواز آئی اے موسیٰ ( علیہ السلام )، یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ ( حالانکہ اللہ تعالیٰ سب جانتے ہیں لیکن یہ صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تسلی کے لئے پوچھا) آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ یہ میرا عَصا ہے۔ ( عصا اس لاٹھی کو کہتے ہیں جو عام طور سے چرواہے لئے رہتے ہیں ۔تاکہ اس سے جانوروں کو ہانکیں اور جانوروں کے لئے اونچے درختوں سے پتیاں توڑ کر دیں۔ اس کے لئے اس کے اوپری سرے پر کنیاری کیطرح دو چھوٹی شاخیں ہوتی ہیں۔ جس سے درختوں کے پتے اور نرم شاخیں توڑی جاتی ہیں۔ یہ بہت مضبوط ہوتا ہے ) آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ یہ میرا عصا ہے ۔میں اس سے ٹیک لگا تا ہوں اور اپنے جانوروں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )اسے زمین پر ڈال دو۔ جیسے ہی آپ علیہ السلام نے عَصا زمین پر ڈالا۔ وہ عصا اژدھا بن کر دوڑنے لگا۔ اژدھے کو دیکھ کر آپ علیہ السلام فطری طور سے خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اپنا عَصا زمین پر ڈال دو۔ پھر جب اسے دیکھا کہ وہ اژدھا کی طرح پھن پھنا رہی ہے تو پیچھے ہٹ گئے اور رخ موڑ لیا۔ ہم نے کہا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) آگے آﺅ اور خوفزدہ مت ہو۔ یقینا تم ہر طرح سے امن میں ہو۔ “ ( سورہ القصص آیت نمبر31) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) تم اپنی لاٹھی ( زمین پر ) ڈال دو۔ موسیٰ ( علیہ السلام )خوفزدہ نہ ہو۔ میری بارگاہ میں رسول خوفزدہ نہیںہوتے ہیں۔ “(سورہ النمل آیت نمبر10)اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ عرض کیا ۔ یہ میر اعصا ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں میرے لئے بہت فائدے ہیں۔ فرمایا اے موسیٰ اسے اپنے ہاتھ سے نیچے ( زمین پر ) ڈال دے۔ ( زمین پر ) ڈالتے ہی وہ سانپ یا اژدھا بن کر دوڑنے لگی۔ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ بے خوف ہو کر اسے پکڑ لو۔ ہم اسے اسی پہلی صورت میں کر دیں گے۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر17 سے 21تک)

فرعون اور ا س کی قوم کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جیسے ہی عصا زمین پر ڈالا تو اسی وقت وہ خوف ناک اژدھا بن کر دوڑنے لگا۔ یہ اتنا اچانک ہوا کہ وقتی طور سے آپ علیہ السلام گھبراہت کا شکار ہو گئے اور لاشعوری طور سے کئی قدم پیچھے ہٹ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )خوف نہ کھاﺅ اور اژدھے کو پکڑ لو۔ آپ علیہ السلام نے اژدھے کو پکڑ لیا تو فوراً وہ عصا بن گیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ آپ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالا ۔ اس کے حکم ہوا کہ باہر نکالو۔ آپ علیہ السلام نے ہاتھ باہر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ اور کوئی تکلیف بھی نہیں ہو رہی تھی اور نہ ہو کوئی داغ تھا۔ بلکہ نور کی طرح چمک رہا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ یہ معجزات لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاﺅ اور انہیں اسلام کی دعوت دو۔ بے شک وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔ ان لوگوں نے میری عبادت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اور کفر کرنے لگے ہیں۔ میں نے انہیں مہلت دی تھی اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ میں اُن کی طرف سے غافل ہو گیا ہوں ۔ اب اُن کی مہلت کا وقت پورا ہونے والا ہے۔ اسی لئے تم جا کر اُن لوگوں کو سمجھاﺅ۔ اگر انہوں نے تمہاری بات مان لی اور اسلام قبول کر لیا تو ٹھیک ہے۔ ورنہ وہ لوگ تباہ و برباد کر دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال ، وہ بغیر کسی روک ( مرض یا بیماری ) کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید ، پس یہ دونوں معجزے تمہارے رب کی طرف سے ( تمہیں دیئے گئے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف ( یعنی اُن کو سمجھانے کے لئے ) یقینا وہ سب کے سب بے حکم اور نافرمان لوگ ہیں۔ “( سورہ القصص آیت نمبر32) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال ، وہ سفید چمکیلا ہو کر نکلے گا۔ بغیر کسی عیب کے ۔ تو نو نشانیاں لے کر فرعون اور اسکی قوم کی طر ف جاﺅ۔ یقینا وہ بدکاروں کا گروہ ہے۔ “ ( سورہ النمل آیت نمبر12) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعرا ءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو دی کہ ظالم قوم کے پاس جا، قوم ِ فرعون کے پا س۔ کیا وہ پرہیز نہیں کریں گے۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر10اور 11) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈالے لے وہ سفید چمکتا ہوا ہو کر نکلے گا۔ لیکن بغیر کسی عیب ( اور روگ ) کے۔ یہ دوسرا معجزہ ہے۔ یہ اس لئے کہ ہم تمہیں اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانا چاہتے ہیں۔ اب تم فرعون کے پاس جاﺅ۔ اس نے سر کشی مچا رکھی ہے۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر22سے 24تک) 

حضرت ہارون علیہ السلام نبوت سے سر فراز

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ فرعون اور اس کی قوم کے پا س جا کر اسلام کی دعوت دو۔ اگر وہ اور اس کی قوم مان جائے تو ٹھیک ہے اور اگر نہیں مانے اور کفر پر اڑے رہے تو ان سے کہنا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دے اور تمہارے ساتھ مصر سے نکل جانے دے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے بڑے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام بہت اچھی تبلیغ کر لیں گے۔ انہیں بھی میری مدد کرنے کے لئے تیار کر دے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے عرض کیا۔ اے میرے رب ( پروردگار ) ، میرا سینہ کھول دے۔ اور میرے کام کو آسان کر دے۔ اور میری زبان کی گِرہ کو بھی کھول دے تا کہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ اور میرا وزیر میرے کنبے میں سے کر دے۔ یعنی میرے بھائی ہارون (علیہ السلام )کو ( اے اللہ تعالیٰ ) تو اس سے میری کمر کس دے( یعنی مضبوط کر دے) اور اسے میرا شریک کار کردے۔ تا کہ ہم دونوں کثرت سے تیسری تسبیح بیان کریں ۔ اور کثرت سے تیری یاد کریں۔ بے شک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تیرے تمام سوالات پورے کر دیئے گئے ۔ ہم نے تو تجھ پر ایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ جب ہم نے تیری والدہ محترمہ کو وہ الہام کیا تھا جس کا ذکر اب کیا جا رہا ہے۔ کہ تو اسے صندوق میں بند کر کے دریا میں چھوڑ دے۔ پس دریا اسے کنارے لا ڈالے گا۔ اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا۔ اور میں نے اپنی طرف سے خاص محبت و مقبولیت تجھ پر ڈال دی ۔ تا کہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔ جب تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اگر تم کہو تو میں اسے بتا دوں جو اس کی نگہبانی کر ے۔ اس تدبیر سے ہم نے تجھے پھر تیری والدہ محترمہ کے پاس پہنچایا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمگین نہ ہو ۔ اور تو نے ایک شخص کو مارڈالا تھا۔ اس پر بھی ہم نے تجھے غم سے بچا لیا۔ غرض کہ ہم نے تجھے اچھی طرح آزمالیا۔ پھر تو کئی سال مدین کے لوگوں میں ٹھہرا رہا ۔ پھر تقدیر الہٰی کے مطابق اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تو آیا۔ اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے پسند فر ما لیا۔ اب تو اپنے بھائی کو لے کر میری نشانیاں ساتھ لئے ہوئے جا۔ اور خبر دار میرے ذکر میں سستی نہ کرنا۔ تم دونوں فرعون کے پا س جاﺅ۔ اس نے بڑی سر کشی کی ہے۔ اسے نرمی سے سمجھاﺅ کہ شاید وہ سمجھ لے یا ڈر جائے۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر25سے 44تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الفرقان میں فرمایا۔ اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو کتاب دی اور ان کے ہمراہ انکے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنا دیا۔ اور کہہ دیا کہ تم دونوں ان لوگوں کی طرف جاﺅجو تمہاری آیتوں کو جھٹلا رہے ہیں ۔ پھر ہم نے انہیں ( فرعون اور اس کے ساتھیوں کو) بالکل ہی پامال کر دیا۔ ( سورہ الفرقان آیت نمبر35اور36) اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے عرض کیا۔ اے میرے رب (پروردگار) میں نے ان کا ایک آدمی قتل کر دیا تھا۔ اب مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے بھی قتل کر ڈالیں۔ اور میرا بھائی ہارون ( علیہ السلام )مجھ سے بہت زیادہ فصیح زبان والا ہے۔ تو اسے بھی میرا مدد گار بنا کر میرے ساتھ بھیج دے کہ وہ ( لوگ) مجھے سچا مانیں۔ مجھے تو خوف ہے کہ وہ سب مجھے جھٹلا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کر دیں گے۔ اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے۔ فرعونی تم تک پہنچ ہی نہیں سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں اور تمہاری تابعداری کرنے والے ہی غالب رہیں گے۔ ( سورہ القصص آیت نمبر33سے 35تک) ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”موسیٰ ( علیہ السلام ) نے عرض کیا۔ اے میرے رب، مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وہ مجھے جھٹلا ( نہ ) دیں۔ اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہو۔ میری زبان چل نہیں رہی ہے۔ پس تو ہارون ( علیہ السلام )کی طرف بھی( وحی) بھیج دے۔ اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا ( دعویٰ) بھی ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے مار نہ ڈالیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ہرگز ایسا نہیں ہو گا۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاﺅ۔ ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں۔ تم دونوں فرعون کے پاس جا کر کہو بلا شبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ( یا تو تم لوگ اسلام قبول کر لو یا پھر) ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردو۔ ( سورہ الشعراءآیت نمبر13سے 17تک)

فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لئے دعا کی۔ اور وہ اللہ تعالیٰ نے قبول کی آپ کو یاد ہو گا کہ بچپن نے آپ علیہ السلام کی آزمائش کی تھی اور آپ علیہ السلام نے انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا تھا۔ جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کی زبان جل گئی تھی۔ اسی لئے کچھ الفاظ صاف ادا نہیں ہوتے تھے۔ اور حضرت ہارون علیہ السلام کی زبان بہت فصیح تھی۔ اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن کے لئے دعا کی ۔ آپ علیہ السلام ذرا گرم مزاج تھے۔ جب کہ حضرت ہارون علیہ السلام ٹھنڈے مزاج کے تھے اور قوتِ برداشت بھی زیادہ تھی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کے پاس واپس آئے اور سب کو ساتھ لے کر مصر پہنچے۔ اپنے گھر جا کر اپنے والدین اور بھائی سے ملے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی حضرت ہارون علیہ السلام کی طرف وحی بھیج کر نبوت سے سر فراز فرما دیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آنے کی خبر پہلے ہی والدین کو دے دی تھی۔ یہاں ہم آپ کو ایک بات بتا دیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی بھی ہیں اور رسول بھی ہیں۔ جب کہ حضرت ہارون علیہ السلام صرف نبی ہیں۔ رسول کو شریعت دی جاتی ہے اور نبی اسی شریعت کو نافذ کرتے ہیں۔ اس کے بعد دونوں بھائی فرعون کے دربار میں پہنچے اور اسے اور اس کی قوم کو بتایا کہ ہم اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کو اپنے دلائل دے کر فرعون اور اس کے امراءکے پا س بھیجا۔ مگر اُن لوگوں نے ان کا بالکل حق ادا نہیں کیا۔ سو دیکھ لو مفسدوں کا کیا انجام ہوا؟ اور موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا ۔ اے فرعون ، میں رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں۔ میرے لئے یہی شایان ہے سوائے سچ کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں۔ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی لے کر آیا ہوں۔ سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر 103سے 105تک)

فرعون نے مذاق اڑایا

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے جب فرعون اور اس کے درباریوں یعنی وزیروں اور امراءکو اسلام کی دعوت دی تو اُن لوگوں نے آپ دونوں حضرات علیہم السلام کا مذاق اڑانے لگے۔ اللہ تعالی نے اسکے با رے میں فر ماے تر جمہ۔:اور ہم نے مو سی(علیہ السلا م )کو اپنی نشانیاں دےکرفرعو ن اور اسکے امراء کے پاس بھیجا تو (انھو ں نے جاکر )کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا ( بھیجا ہوا ) رسول ہوں۔ پس جب وہ ہماری نشانیاں لے کر اُن کے پاس آئے وہ بے ساختہ اُن پر ہنسنے لگے۔“(سورہ الزخرف آیت نمبر46اور 47)۔ فرعون اور اس کے ساتھی دونوں بھائیوں کی ہنسی اڑانے لگے اور فرعون نے ہنستے ہوئے کہا۔ جس رب نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے اس کے بارے میں تو کچھ بتاﺅ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی بات کا بہت ہی جامع جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام )تم دونوں کا رب کون ہے؟ جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت و شکل عنایت فرمائی۔ پھر راستہ بتادیا ۔ اس نے کہا ۔ ( یعنی فرعون نے کہا ) اچھا یہ تو بتاﺅ، اگلے زمانے والوں کا کیا حال ہوتا ہے؟ ( آپ علیہ السلام ) نے جواب دیا۔ اُن کا علم میرے رب کے یہاں کتاب میں موجود ہے۔ نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے اور اس میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے ہیں۔ اور آسمان سے پانی بھی وہی برساتا ہے۔ پھر اس بارش کی وجہ سے مختلف قسم کی پیداوار بھی ہم ہی پیدا کرتے ہیں۔ تم خود کھاﺅ اور اپنے چوپایوں کو بھی چراﺅ۔ کچھ شک نہیں کہ اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے۔ اور اسی سے دوبارہ تم سب کو نکال کھڑا کریں گے۔ ہم نے اسے ( فرعون کو ) اپنی سب نشانیاں دکھا دیں۔ لیکن پھر بھی اس نے جھٹلایا اورانکار کر دیا ۔ کہنے لگا ۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )، کیا تو اسی لئے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دے۔“ (سورہ طٰہٰ آیت نمبر49سے 57تک)

فرعون کا خدائی دعویٰ

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے بہت ہی جامع اور موثر انداز میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتایا اور دلائل سے سمجھایا۔ لیکن وہ بد بخت ان تمام باتوں اور دلائل کی حقیقت کو سمجھنے کے بجائے الٹا مطلب لینے لگا۔ اور خود اپنی خدائی کا دعویٰ کرنے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الشعراء میں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے کہا۔ رب العالمین کیا ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے۔ اگر تم یقین رکھنے والے ہو۔ فرعون نے اپنے ارد گرد والوں ( یعنی درباریوں ، وزیروں اور قوم کے لوگوں ) سے کہا۔ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ وہ ( اللہ تعالیٰ)تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا رب ہے۔ فرعون نے کہا ( لوگو) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقینا دیوانہ ہے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام ) نے فرمیاا۔ وہی مشرق و مغرب کا اور ان کے درمیان کی تما م چیزوں کا رب ہے۔ اگر تم عقل رکھتے ہو فرعون کہنے لگا۔ سن لے، اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو رب یا معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر23سے 29تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس جب اُن کے پاس موسیٰ ( علیہ السلام )ہمارے دیئے ہوئے کھلے معجزے لے کر پہنچے تو وہ کہنے لگے۔ یہ تو صرف گھڑا گھڑا یا جادو ہے۔ ہم نے اپنے الگے باپ دادوں کے زمانہ میں بھی کبھی یہ نہیں سنا ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے۔ میر ارب اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ جو ا س کے پاس سے ہدایت لے کر آتا ہے۔ اور جس کے لئے آخرت کا ( اچھا ) انجام ہوتا ہے۔ اور یقینا بے انصافوں کا بھلا نہیں ہوگا۔ فرعون کہنے لگا۔ اے درباریو ، میں اپنے سوا کسی کو معبود اور رب نہیں جاتا۔ سن اے ہامان، تو میرے لئے مٹی کو آگ سے پکوا۔ پھر میرے لئے ایک محل کی تعمیر کر تو میں موسیٰ( علیہ السلام )کے معبود کو جھانک لوں۔ اسے تو میں جھوٹوں میں گمان کر رہا ہوں۔“( سورہ القصص آیت نمبر36سے 38) اللہ تعالیٰ نے سورہ النازعات میں فرمایا۔ ترجمہ ” کیا موسیٰ (علیہ السلام )کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟ جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا۔ تم فرعون کے پاس جاﺅ۔ اس نے سر کشی اختیار کر لی ہے۔ اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے۔ اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی طرف کا راستہ بتاﺅں تا کہ تو ( اس سے ) ڈرنے لگے۔ پس اسے بڑی نشانی دکھائی۔ توا س نے جھٹلایا اور نافرمانی کی پھر دوڑ دھوپ کرتے ہوئے پلٹا۔ پھر سب کو جمع کر کے پکارا۔ تم سب کا رب میں ہی ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسے دنیا اور آخرت کے عذاب میں گرفتا ر کر لیا۔“(سورہ النازعات آیت نمبر15سے 25تک )

عَصا اژدھا بن گیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سمجھایا کہ اس کائنات کا رب صرف اللہ تعالیٰ ہے تو بدبخت فرعون نے کہا کہ اگر میرے سوا کسی کو رب بنائے گا تو میں تجھے قید خانے میں ڈال دوں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر میں تمام کائنات کے رب کی طرف سے عطا کی ہوئی نشانی اگر تجھے بتاﺅں تو تب تو حق کو تسلیم کر لے گا؟ تو فرعون نے کہا۔ بتاﺅ کون سی نشانی لائے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اپنا عَصا زمین پر ڈال دیا۔ جو اچانک کھلم کھلا اژدھا بن گیا۔ اور اپنا ہاتھ کھینچ کر نکالا تو وہ اس وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر30سے33تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کی ہٹ دھرمی دیکھی تو فرمایا۔ اگر میں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کی صاف صاف نشانی بتاﺅں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہے۔ تو کیا تم تسلیم کر لو گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ فرعون نے کہا۔ اگر تم سچے ہو تو تمہارے خدا کی طرف سے دی گئی نشانی بتاﺅ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا عَصا اچانک زمین پر پھینک دیا ۔ یہ دیکھ کر فرعون اور تما م درباری ہنسنے لگے۔ لیکن کچھ دیر بعد ان کی آنکھیں حیرانی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ کیوں کہ اس بے جان عَصا میں دھیرے دھیرے جان پیدا ہونے لگی۔ اور ساتھ ہی وہ بڑا بھی ہوتا جا رہا تھا۔ اور پھر وہ بہت بڑا اژدھا بن گیا۔ وہ اژدھا اتنا بڑا اور خوفناک تھا کہ تمام درباری ڈر کے مارے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ اور ستونوں کی آڑ یا کسی بڑی چیز کے پیچھے چھپنے لگے۔

فرعون ڈر کے مارے کانپنے لگا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اتنا بڑا خوفناک اژدھا بن گیا تھا کہ درباریوں کو ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ اژدھا انہیں نگل لے گا۔ اور ڈر کے مارے جان بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ فرعون بڑی ہمت سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا لیکن ڈر کے مارے بری طرح کانپ رہا تھا۔ اور خوفناک اژدھے کو دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی اژدھے نے اس کی طرف منہ گھمایا تو اس کی بھی ہمت ٹوٹ گئی اور وہ بھی درباریوں کی طرح اچھال کر اپنے تخت سے اتر کر بھاگا اور اپنی بڑی سی کرسی کے پیچھے چھپ گیا۔ آخر کار اس نے بری طرح کانپتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ وہ اژدھے کو روک لیں۔ آپ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام مسکراتے ہوئے کھڑے ہوئے تھے اور فرعون اور درباریوں کی بوکھلاہٹ اور خوف کے مارے ادھر ادھر بھاگتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اور فرعون کا تو یہ حال تھا کہ وہ آپ علیہ السلام کے سامنے گڑ گڑا رہا تھا۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے اژدھے کے اوپر اپنا ہاتھ رکھا تو وہ عصا بن کر آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں آگیا۔ یہ دیکھ کر فرعون اور اس کے درباریوں کی جان میں جان آئی اور وہ ڈرتے ڈرتے دھیرے سے اپنی جگہوں پر واپس آکر بیٹھ گئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ایک اور نشانی میں تمہیں بتاتا ہوں جو مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔ فرعون اور تمام درباری دہشت سے آپ علیہ السلام کو دیکھنے لگے کہ اس بار کون سی خوفناک نشانی بتانے والے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اپنے گریبان میں ہاتھ ڈالا اور جب واپس نکالا تو پورا ہاتھ نورانی ہو گیا تھا اور نو ر کی طرح چمک رہا تھا۔ فرعون اور اس کے درباری حیرانی سے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ علیہ السلام نے کچھ دیر بعد اپنا چمکتا ہوا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر واپس نکالا تو وہ پھر پہلے جیسا ہوگیا۔ 

یہ تو کھلا جادو ہے

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ نشانیاں یعنی معجزے بتانے کے بعد فرمایا۔ اب تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اور مجھ پر ایمان لاﺅ اور اسلام قبول کر لو۔ تو بد بخت فرعون اور اس کے درباریوں او ر سرداروں نے کہا۔ یہ تو کھلا جادو ہے اور اے موسیٰ ( علیہ السلام ) ، تم اتنے دنوں تک مصر سے غائب رہ کر یہ جادو سیکھتے رہے۔ اور تم چاہتے ہو کہ ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو ۔ یا پھر ہمارے غلاموں ( بنی اسرائیل ) کو ہمارا حاکم بنا دو۔ ایسا نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام ) کو اپنی نشانیوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا ۔ فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف ، تو انہوں نے کہا( یہ تو ) جادوگر اور جھوٹا ہے۔“ ( سورہ المومن آیت نمبر23۔ 24)اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا ۔ یہ تو کوئی دانا جادوگر ہے۔ یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے۔ “(سورہ الشعراءآیت نمبر34اور 36) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( فرعون ) کہنے لگا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تم اس لئے آئے ہو کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دو۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر 57)

فرعون کا چیلنج

اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی ہوئی صاف صاف نشانیوں کو دیکھ لینے کے بعد بھی فرعون اور اس کے ساتھیوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ بلکہ الٹا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کو چیلنج کرنے لگے کہ تمہارا جادو ہمارے جادوگروں کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔ فرعون نے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )تمہیں ہمارے جادوگروں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ جب تمہارا مقابلہ ہمارے جادوگروں سے ہو گا تو تمہارے جادو کی حقیقت سمجھ میں آجائے گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگرمیں تمہارے جادوگروں سے جیت گیا تو کیا تو اور تیری قوم اسلام قبول کر لے گی؟ فرعون نے کہا۔ ٹھیک ہے ، ویسے تم ہمارے جادوگروں سے جیت نہیں سکو گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ انشاءاللہ جیت میری ہو گی کیوں کہ میں نے ابھی ابھی تمہیں جو بتایا ہے وہ کوئی جادو نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی صاف صاف آیتیں یعنی نشانیاں ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی آیتیں یقینا انسانوں کے جادو پر حاوی رہے گا۔ فرعون نے کہا ۔ ٹھیک ہے مقابلے کا دن مقرر کر لو۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھے تمہارا چیلنج منظور ہے۔ مقابلہ ایک بہت ہی بڑے میدان میں رکھو اور مقابلے کے لئے جشن کا دن مقرر کر لو۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ”( فرعون نے کہا) اچھا ہم بھی تمہارے مقابلے میں اسی جیسا جادو ضرور لائیں گے۔ پس تم ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدے کا دن مقرر کر لو ۔ کہ نہ تو ہم اس کے خلاف کریں گے اور نہ ہی تم اس کے خلاف کرو گے۔ اور مقابلہ صاف میدان میں ہوگا۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے جواب دیا۔ زینت اور جشن کے دن کا وعدہ ہے۔ اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر58اور 59) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر58اور 59) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”( فرعون نے اپنے درباریوں اور سرداروں سے کہا) بتاﺅ ، اب تم کیا کہتے ہو؟ اُن سب نے کہا۔ آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیں اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیں۔ جو آپ کے ذی علم جادو گروں کو لے آئیں۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر35سے 37تک) 

فرعون نے جادوگروں کو جمع کیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے چیلنج کو قبول کر لیا ۔ اور مقابلے کے لئے جشن کا دن مقرر کر لیا۔ قبطی یعنی مصری سال میں ایک دن بہت بڑے میدان میں جمع ہو کر تہوار مناتے تھے اور جشن مناتے تھے۔ اور اس جشن میں بہت ساری خرافات ہوتی تھیں۔ وہ دن قریب ہی تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اس دن کا انتخاب فرمایا۔ فرعون نے کہا۔ ٹھیک ہے اب جشن کے دن ملاقات ہو گی۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام وہاں سے اپنے گھر واپس آگئے۔ فرعون نے پورے ملک مصر میں اعلان کرا دیا کہ جشن کے دن جادوگروں کا سب سے بڑا مقابلہ ہو گا۔ ایک طرف بنی اسرائیل کا موسیٰ (علیہ السلام ) ہو گااور دوسری طرف میرے مقرر کردہ جادوگر ہوں گے۔ اور جس جادوگر کو بھی اس مقابلے میں حصہ لینا ہے وہ مجھ سے ملاقات کرے۔ بنی اسرائیل کے لوگوں کی تو جان ہی نکل گئی۔ پورے مصر میں اسی مقابلے کاذکر چل رہا تھا۔ اور دور دور سے جادوگر فرعون کے دربار میں حاضر ہو رہے تھے۔ اور فرعون اور اس کے سردار اور وزیر اور درباری ان کا امتحان لے رہے تھے۔ اور مقابلے کے لئے چن رہے تھے۔ اس طرح جشن کا دن آنے تک ان لوگوں نے ہزاروں بہترین اور جانے مانے جادوگروں کا انتخاب کر لیا تھا۔ اور جب جشن کا دن آیا تو اس بڑے میدا ن میں ایک طرف ہزاروں جادوگر کھڑے تھے اور دوسری طرف صرف دو شخص حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے تھے۔

جادوگروں کو اسلام کی دعوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” قوم فرعون میں جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سر زمین سے باہر کر دے تو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دیں۔ اور شہروں میں ہر کاروں کو بھیج دیں کہ وہ سب ماہر جادگروں کو آپ کے پاس لا کر حاضر کردیں۔ اور وہ جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آئے تو ہم کو کوئی بڑا صلہ ( یعنی انعام ) ملے گا؟ فرعون نے کہا کہ ہاں اور تم مقرب لوگوں میں داخل ہو جاﺅ گے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر109سے114تک) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرعون کے بارے میں بتا رہا ہے کہ اس نے اپنے ملک سے سارے جادوگر بلا بھیجے۔ ان دنوں مصر جادونگری کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ وہاں بڑے بڑے ماہر جادوگر تھے۔ جو اپنے فن میں کمال کی مہارت رکھتے تھے۔ فرعون نے مصر کے کونے کونے سے جادوگروںکو بلا بھیجا۔ عید کا دن تھا۔ اور اس دن فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان فیصلہ ہونا تھا۔ اس لئے پورا مصر امڈ آیا ۔فرعون کی طرف سے کئی ہزار جادوگر آئے تھے اور دوسری طرف حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے تھے۔ اور فرعون ایک بہت اونچے تخت پر بیٹھا ہوا تھا ۔ تمام جادوگروں نے فرعون سے پوچھا۔ اگر ہم جیت گئے تو بدلے میں ہمیں کیا ملے گا۔ فرعون نے کہا۔ اگر تم جیت گئے تو تم لوگ میرے خاص آدمی ہو ں گے۔ اور تمہاری ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ اس کے بعد تمام جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم تمام جادوگر جو یہ جادو لے کر آئے ہو اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جب کہ میرے پاس جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ اور وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے پوری کائنات کو بنایا ہے۔ اور پوری کائنات کو پالتا ہے۔ اور اس کی ضروریات کو پوری کر تا ہے۔ وہ ایک سیکنڈ کےلئے بھی غافل نہیں ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے جادو کو ناکام بنا دے گا اور حق اور باطل کا فرق کر کے بتا دے گا۔ اور میں تمہیں اسی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں او رکہتا ہوں کہ اسلام قبول کر لو۔ کامیابی حاصل کر لو گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ علیہ السلام نے اُن سے کہا۔ تمہاری شامت آچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افترانہ باندھو کہ وہ تمہیں عذابوں سے ملیا میٹ کر دے۔ یا در کھو ، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا جس نے جھوٹی بات گھڑ لی۔ پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہو گئے اور چھپ کر چپکے چپکے مشورہ کر نے لگے۔ اور کہنے لگے یہ دونوں محض جادوگر ہیں۔ اور ان کا پختہ ارادہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کر یں۔ اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کر دیں۔ تو تم بھی اپنا کوئی داﺅ چھپا کر نہ رکھو۔ پھر صف بندی کر کے آﺅ۔ جو آج غالب آگیا وہی بازی لے جائے گا۔ “(سورہ طٰہٰ آیت نمبر61سے 64تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب انہیں اسلام کی دعوت دی تو جادوگروں میں دو گروپ ہو گئے ۔ ایک گروپ کہنے لگا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں اور کوئی جادوگر نہیں ہیں۔ اور دوسرا گروپ کہتا تھا کہ یہ دونوں صرف جادوگر ہیں اور کچھ نہیں ہیں ۔ا ن میں کی اکثریت انہیں جادوگر سمجھ رہی تھی۔ اور اسلام قبول کرنے کے بجائے مقابلہ کرنا چاہتی تھی۔

جادوگروں سے مقابلہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تقریر کو جادوگروں نے غور سے سنا اور ان پر اس کا اثر بھی ہوا۔ اس کے باوجود وہ مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے۔ اور آپ علیہ السلام سے کہا۔ پہلے تم جادو بتاﺅ گے یا ہم اپنا جادو بتائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ ہی پہلے اپنا جادو بتا دو۔ یہ سن کر ہزاروں جادوگروں نے اپنی اپنی رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ اور تمام رسیاں سانپ بن کر دونوں بھائیوں کی طرف بھاگنے لگیں۔ پورے میدان میں سانپ دوڑ رہے تھے اور سب کا رخ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کی طرف تھا۔ پورے مصر کے لوگ اور فرعون اور بنی اسرائیل اپنی سانسوں کو روکے اس خوفناک منظر کو دیکھ رہے تھے۔ بڑا ہی خوفناک منظر تھا۔ ہزاروں سانپوں کو تیزی سے اپنی طرف آتا دیکھ کر دونوں حضرات ایک سیکنڈ کے لئے تو انسانی فطرت کے مطابق خوف کا شکار ہو گئے لیکن آپ حضرات علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ تھا اور اللہ تعالیٰ مدد گار تھا۔ اس لئے دونوں حضرت علیہم السلام کا خوف دوسرے ہی سیکنڈ ختم ہو گیا۔ اور جم کر کھڑے ہو گئے اور قریب آتے سانپوں کو غور سے دیکھنے لگے۔ جادوگروں کا پنی جیت کا یقین تھا اسی لئے وہ اطمینان سے کھڑے سانپوں کو آگے بڑھتا دیکھ رہے تھے۔ اور فرعون اپنے تخت پر بیٹھا قہقہے لگا رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اب دونوں حضرات علیہم السلام پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ لیکن اس کی اور تمام جادوگروں کی اور تمام تماشائیوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ کیوں کہ انہوں نے منظر ہی ایسا ناقابل یقین دیکھا تھا۔ کیوں جیسے ہی سانپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریب پہنچے تو اچانک آپ علیہ السلام نے اپنا عَصا زمین پر ڈال دیا۔ اور وہ اتنا بڑا اور خوفناک اژدھا بن گیا کہ کسی نے اتنا بڑا اژدھا آج تک نہیں دیکھا تھا۔ فرعون کے قہقہے رک گئے ۔ تمام جادوگرسکتے میں آگئے اور بہت سے تماشائیوں کی تو چیخیں نکل گئیں۔ اژدھے نے میدان میں موجود تمام سانپوں کو نگلنا شروع کر دیا۔ اور کچھ ہی دیر میں اس نے تمام سانپوں کو نگل لیا۔ تب آپ علیہ السلام نے اژدھے کے اوپر ہاتھ رکھا تو وہ عصا بن کر ان کے ہاتھ میں آگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان جادوگروں نے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )، چاہے تم ڈالو یاہم ہی ڈال دیں؟(حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ) فرمایا۔ تم ہی ڈال دو ۔ پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نظر بندی کر دی۔ اور ان پر ہیبت غالب کر دی۔ اور ایک طرح کا بہت بڑا جادو دکھلایا۔ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دو۔ سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے اُن کے بنائے ہوئے سارے کھیل کو نگلنا شروع کر دیا۔ پس حق ظاہر ہو گیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا وہ سب جاتا رہا۔ پس وہ لوگ ( یعنی فرعون اور اس کے ساتھی) اس موقع پر ہار گئے۔ اور خوب ذلیل ہو کر پھرے۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر15سے 19تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( جادوگر) کہنے لگے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )، یا تو تم پہلے ڈال دو یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں۔ ( آپ علیہ السلام نے) فرمایا۔ نہیں ، تم ہی پہلے ڈالو۔ اب تو موسیٰ ( علیہ السلام ) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں اُن کے جادو کے زور سے بھاگ رہی ہیں۔ پس موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا۔ ہم نے فرمایاکچھ خوف نہ کر یقینا تم ہی غالب رہو گے اور بر تر رہو گے۔ تمہارے دائیں ہاتھ میں جو کچھ ہے اسے ڈال دو۔ ان کی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے گا۔انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں۔ اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔“ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر65سے 69تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام )نے جادوگروں سے فرمایا۔ جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو۔ انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور کہا۔ فرعون کی عزت کی قسم ، ہم ہی غالب رہیں گے۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام )نے بھی اپنا عصا میدان میں ڈال دیا۔ جس نے اسی وقت ان کے بنائے ہوئے کھلونوں کو نگلنا شروع کر دیا۔“( سورہ الشعراءآیت نمبر43سے 45تک)

جادوگروں نے اسلام قبول کر لیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدھا بن کر تمام سانپوں کو نگل رہا تھا۔ اور تمام جادوگر حیرت سے بُت بنے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ جب اژدھے نے تمام سانپوں کو نگل لیا اور آپ علیہ السلام نے اسے ہاتھ میں پکڑا تو وہ پھر سے عصا بن گیا۔ اور تمام جادوگر محویت سے چونک پڑے اور سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں ہے۔ اور انہیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے ۔ کیوں کہ ان لوگوں نے جو جادوکیا تھا اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا ئے کوئی نہیں توڑ سکتا تھا۔ وہ تمام جادوگر سمجھ گئے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حق کی دعوت لے کر آئے ہیں۔ اسی لئے تمام جادوگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گئے اور کھلے عام میدان میں ہی اعلان کیا کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے۔ وہ اللہ تعالیٰ جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور وہ جو جادوگر تھے سجدے میں گر گئے اورکہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لائے جو موسیٰ (علیہ السلام ) اور ہارون (علیہ السلام ) کا بھی رب ہے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر120سے 122تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اب تو تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے۔ ہم تو ہاروں ( علیہ السلام ) اور موسیٰ (علیہ السلام )کے رب پر ایمان لائے۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر70) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” یہ دیکھتے ہی جادوگر سجدے میں گر گئے اور انہوں نے صٓف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان لائے۔ یعنی موسیٰ(علیہ السلام )اور ہارون(علیہ السلام )کے رب پر۔“( سورہ الشعراءآیت نمبر46سے 48) ، تمام جادوگر قبطی ( مصری) تھے۔ اور کافر تھے۔ لیکن انہوں نے حق کو پہچان لیا اور ان کے دلوں میں ایمان اور اسلام کی شمع جل اٹھی ۔ اور جب انہوں نے بہادری سے کھلے عام اپنے اسلام کا اعلان کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں ایمان پر مضبوطی اور استقامت عطا فرما دی۔ اور ان مومنین کا ذکر قرآن پاک میں کئی جگہوں پر کیا۔

فرعون کی جھنجھلاہٹ اور جادوگروں کی استقامت

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ کرنے کےلئے فرعون نے کئی ہزار جادوگروں کو بلایا تھا۔ اور تمام مصر والوں کو دعوت دی تھی کہ وہ اس عظیم الشان مقابلے کو دیکھنے آئیں۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ترجمہ ” اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہو جانا۔ اور اگر جادوگر غالب آئیں گے تو ہم اُن کی پیروی کریں گے۔“(سورہ الشعراءآیت نمبر39اور40) در اصل فرعون کو یقین تھا کہ جادوگر ہی جیت جائیں گے۔ اور میری حکومت اور خدائی کی تعریف کی جائے گی۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ گیا۔ اور جادوگر شکست بھی کھا گئے اور اللہ تعالیٰ پر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کھلے عام ایمان بھی لے آئے۔جس کی وجہ سے پورے ملک مصر کی عوام پر آپ علیہ السلام کی حقانیت واضح ہو گئی اور جادوگروں کے اسلام قبول کر نے سے عوام بھی متاثر ہو گئی تھی۔ اور فرعون نے دیکھا کہ اس کی حکومت اور خدائی خطرے میں آگئی تو وہ بہت غصے میں آگیا اور کہنے لگا۔ تم لوگوں نے میری اجازت کے بغیر اسلام قبول کر لیا۔ جب کہ میں نے تم لوگوں کو اس لئے بلایا تھا کہ اس سے مقابلہ کرو اور تم لوگ اسی کا ساتھ دے رہے ہو۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ تم سب کا استاد ہے اور یہ تم لوگوں کی ملی بھگت ہےکہ اس طرح کرو گے تو یہ دیکھ کر مصر کے لوگ دھوکہ میں آکر موسیٰ (علیہ السلام )کو صحیح مان لیں گے اور اسلام قبول کر لیں گے۔ اب میں تمہاری چالبازی کی سزا یہ دوں گا کہ تمہارے ایک طرف کے ہاتھ کاٹ دوں گا اور دوسری طرف کے پیر کاٹ دوں گا۔ اور تمہیں کھجور کے تنوں پر پھانسی لٹکاﺅں گا۔ تب تم لوگوں کی سمجھ میں آئے گا کہ میرا عذاب سخت ہے یا موسیٰ (علیہ السلام )کے رب کا ۔ تمام جادوگروں نے جب یہ سزا سنی تو انہوں نے کہا۔ اے ،فرعون ، قسم ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں پیدا فرمایا ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی صاف نشانی دیکھ لی ہے۔ اب ہم تیری بات نہیں مانیں گے ۔ تو جو بھی فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔ تو صرف اس فنا ہونے والی دنیا وی زندگی کے بارے میں ہی فیصلہ کر سکتا ہے۔ ہم تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس قصور کو معاف فرمائے۔ جو ہم نے تیرے بہکاوے میں آکر اللہ کے رسول علیہ السلام سے مقابلہ کیا۔ اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا اور بہتر ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اب ہم اسلام کو چھوڑ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ”فرعون نے کہا تم موسیٰ (علیہ السلام )پر ایمان لائے ہو بغیر اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں؟ بے شک یہ سازش تھی جس پر تمہارا عمل درآمد ہوا ہے اس شہر میں تا کہ تم سب اس شہر سے یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو۔ سو اب تم کو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔ میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاﺅں کا ٹوں گا۔ پھر تم سب کو سولی پرلٹکا دوں گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ( مرکر) اپنے مالک ہی کے پاس جائیں گے اور تو نے ہم میں کون سا عیب دیکھا ہے سوائے اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے جب وہ ہمارے پاس آئے۔ اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہماری جان اسلام کی حالت میں نکال ۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر123سے 126تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقینا یہی تمہارا وہ بڑا ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے۔ تو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا۔ قسم ہے میں بھی تمہارے ہاتھ پاﺅں الٹے طور سے کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا۔ انہوں نے کہا۔ کوئی حرج نہیں، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنےوالے ہیں ہی۔ اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے بنے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا۔ “(سورہ الشعراءآیت نمبر49سے 51تک) اللہ تعالیٰ نےسورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون کہنے لگا کہ کیا میری اجازت سے پہلے ہی تم اس پر ایمان لے آئے؟یقینا یہی تمہارا وہ بڑا بزرگ ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے۔ میں تمہارے ہاتھ پاﺅں الٹے سیدھے کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوںمیںسولی پر لٹکوا دوں گا۔ اور تمہیں پوری طرح معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیادہ سخت اور دیر پا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ نا ممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں ( نشانیوں ) پر جو ہمارے سامنے آچکیں۔ اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پید ا کیاہے۔ اب تو تو جو کچھ کرنا چاہتا ہے کر گزر ۔ تُو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وہ اسی دنیاوی زندگی میں ہی ہے۔ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں معاف فرما دے ۔ اور جادوگری جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا ہے ۔ا للہ ہی بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر71سے 73تک)

فرعون نے قبطیوں کو اسلام قبول کرنے سے روک دیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام جادوگروں سے جیت گئے۔ اس طرح فرعون ہار گیا اور ذلیل ہو گیا۔ جس ملک مصر کی عوام یعنی قبطیوں نے سمجھ لیا کہ فرعون کی کوئی اوقات نہیں ہے۔ اور جس واقعہ نے سب سے زیادہ قبطیوں کو متاثر کیا وہ جادوگروں کا اسلام قبول کرنا ہے ۔ فرعون نے جب دیکھا جادوگروں کے اس عمل کی وجہ سے عوام متاثر ہو رہی ہے تو اس نے جادوگروں کو دھمکی دی۔ لیکن جادوگربھی سختی سے اسلام پر قائم رہے تو قتل کروادیا۔ اس کے بعد اس نے قبطیوں کو بہکانا شروع کر دیا اور انہیں دھمکیاں دینے لگا کہ اگر تم لوگ موسیٰ (علیہ السلام )کی دعوت سےمتاژر ہوئے اور اسلام قبول کیا تو تمہارا بھی یہی حال ہو گا بلکہ اس سے بھی خراب حال کروں گا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ جب فرعون نے دیکھا کہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے جو معجزہ دکھایا تھا وہ حق کا ترجمان ہے اور جادو یا شعبدہ بازی نہیںہے۔ لیکن اسی مجمع میں لوگوں کو مخاطب کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الزخرف میں فرمایا۔ ” اور فرعون نے اعلان کر ایا اور بولا ۔ اے میری قوم ، کیا ملک مصر میرا نہیں ہے؟ اور میرے ( محلوں کے )نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں کیا تم دیکھتے نہیں۔ کیا میں بہتر نہیں ہوں بہ نسبت اس کے جو بے توقیر ہے اور صاف بول بھی سکتا ہے۔ اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں اتار دیئے گئے ۔ یا اس کے ساتھ پر اباندھ کر فرشتے ہی آجاتے۔ ( یہ سب کہہ کر) اس نے اپنی قوم کی عقل کھو دی اور انہوں نے اس کی مان لی۔ یقینا یی سارے لوگ نافرمان تھے۔ 

بنی اسرائیل پر فرعون کا ظلم و ستم

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کرنے سے فرعون نے اپنی قوم کو تو روک دیا لیکن بنی اسرائیل بدستور آپ علیہ السلام کی اتباع کر تے رہے ۔ یہ دیکھ کر فرعون نے اپنے وزیروں اور سرداروں سے مشورہ کیا کہ قبطیوں کو تو ہم نے قابو میں کر لیا ہے لیکن بنی اسرائیل مسلسل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات مان رہے ہیں۔ اُن کا کیا کیا جائے؟ تو ہامان نے اور دوسرے سرداروں نے مشورہ دیا کہ اُن پر اتنا ظلم کیا جائے کہ وہ اسلام چھوڑ دیں۔ فرعون نے ایسا ہی کیا۔ اور بنی اسرائیل سے اتنے سخت کام لینے لگا کہ جو وہ نہیں کر سکتے تھے۔ اور کام پورا نہ ہونے پر انہیں سخت سزائیں دینے لگا۔ اور بنی اسرائیل کے لئے اتنے سخت قوانین بنائے کہ اُن کی زندگی موت سے بد تر ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور قومِ فرعون کے سرداروں نے کہا کی کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام ) اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں۔ اور وہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کئے رہیں۔ فرعون نے کہا ۔ ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے اور عورتوں کو زندہ رہنے دیں گے۔ اور ہم کو اُن پر ہر طرح کا زور( حاصل ) ہے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر127)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تسلّی اور بنی اسرائیل کا جواب

بنی اسرائیل پر فرعون نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ اس کی شکایت انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کی تو چونکہ ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی واضح حکم نہیں آیا تھا اسی لئے آپ علیہ السلام نے انہیں صبر کی تلقین کی اور تسلی دی اور فرمایا۔ اے بنی اسرائیل، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، اور صبر سے کام لو۔ اور اسلام پر مضبوطی سے قائم رہو۔ بے شک پوری زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنی زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نیک بندوں کو بہترین اجر عطا فرماتا ہے۔ بنی اسرائیل نے جواب میں کہا۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ آپ علیہ السلام کے اعلانِ نبوت سے پہلے بھی ہم غلام اور مجبور تھے۔ اور آپ علیہ السلام کے آنے کے بعد بھی ہمارا وہی حال ہے۔ اور ہمارے اوپر فرعون کا ظلم و ستم بڑھتا جا رہا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوںسے تمہیں نجات دے گا۔ اور تمہیں زمین کا وارث بنائے گا۔ اس کے بعد دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کر تے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا سہارا تلاش کرو اور صبر کرو۔ یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وہ مالک بنا دے۔ اور آخری کامیابی اُن ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ قو م کے لوگ کہنے لگے۔ کہ ہم تو ہمیشہ ہی مصیبت میں رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی تشریف آوری سے پہلے بھی اور آپ علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد بھی۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا۔ اور ان کی بجائے تم کو اس سر زمین کا خلیفہ بنادے گا۔ پھر تمہارا طرزِ عمل دیکھے گا۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر128سے129تک)

قحط سالی کا عذاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو تسلی دی اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی ۔ اور فرعون کو کئی طرح کے عذابوں میں مبتلا کر کے سنبھلنے کا موقع دیا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے وقفہ وقفہ سے فرعون کی قوم پر عذاب نازل فرمایا۔ تا کہ اُن پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہو جائے۔ ایک قسم کا عذاب نازل کرنے کے بعد ان کو توبہ کرنے اور رجوع کرنے کا موقع دیا۔ پھر دوسری قسم کا عذاب نازل فرمایا۔ اور اس طرح وقفہ وقفہ سے چھ قسم کا عذاب نازل فرمایا۔ لیکن جب انہوں نے رجو ع نہیں کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں سمندر میں غرق کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور قبطیوں یعنی اُن کے ساتھیوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور فرمایا۔ ۔ ابھی بھی وقت ہے اپنے آپ کو بدل لو اور اسلام قبو ل کر کے بنی اسرائیل پر ظلم کرنا بند کردو۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ تمہیں سخت تکلیفوں میں مبتلا کر دے۔ فرعون اور اس کی قوم نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایاا ور بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھا۔ تو اللہ نے انہیں قحط میں مبتلا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قحط سالی میں اور پھلوں کی پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا۔ تا کہ وہ نصیحت قبول کریں۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر130) مفتی احمد یار خان نعیمی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ دیہاتوں میں اناج کا قحط ہو گیا اور شہروں میں پھلوں کی پیداوار کم ہو گئی۔ لہٰذا دیہاتوںسے اناج شہروں میں نہیں آتے تھے اور شہروں سے پھل دیہاتوں میں نہیں جاتے تھے۔ حتیٰ کہ کھجور کے درخت پر صرف ایک کھجور لگتی تھی۔ بارش نہیں ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ کنویں خشک ہو گئے۔ دریائے نیل میں پانی نہیں بہہ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ آگے فرماتے ہیں فرعونیوں پر یہ عذاب اس لئے بھیجے گئے کہ وہ ان کے ذریعے نصیحت حاصل کریں۔ کیوں کہ انسان آفتوں اور مصیبتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو تا ہے۔ اور توبہ و غیرہ کرتا ہے۔ اسی جگہ تفسیر خازن میں لکھا ہے کہ فرعون کی عمر کل چھ سو بیس620سال ہوئی ۔ جن میں سے چار سو 400سال اس نے ملک مصر پر حکومت کی ۔ اپنے دور حکومت میں 220سال تک اس سے پہلے کبھی فرعون نے کوئی بیماری، بھوک ، اور فکر وغیرہ نہیں دیکھی تھی۔ اسی لئے وہ خدائی دعویٰ کر بیٹھا۔ خیال رہے کہ دوسری عذاب والی قوموں کو اس قدر ڈھیل نہیں دی گئی جتنی ڈھیل فرعون اور اس کی قوم کو دی گئی ہے۔ اسے چھ بار مختلف عذاب آئے۔ اور ہر عذاب کے آنے پر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں عرض کرتا کہ اگر آپ علیہ السلام اس عذاب کو دفع کرادیں تو ہم سب ایمان لے آئیں گے۔ اور بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کے ساتھ بھیج دیں گے۔ قحط سالی اور پھلوں کی پیداوار کی کمی سے جب یہ لوگ بھوکے مرنے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ اپنے رب سے دعا کر کے قحط سالی کو دور کرادیں تو ہم آپ علیہ السلام پر اور اللہ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے قحط سالی کو ختم کر دیا ۔ لیکن بدبخت فرعون اور اس کی قوم نے اسلام قبول نہیں کیا۔

پانی کا عذاب

اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قبطیوں میں مبتلا کر کے ایک ہلکا سا سبق سکھایا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے عقل نہیں پکڑی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُن پر طوفان یعنی بارش بھیجی۔ پورے آسمان پر کالا گھنا بادل چھا گیا اور بارش ہونے لگی۔ فرعون کے محل میں اور قبطیوں کے گھروں میں پانی نہیں تھا۔ امام قرطبی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک روایت کے مطابق جادوگروں پر غالب آنے کے بعد فرعون اور اس کی قوم کے درمیان چالیس40برس تک مصر مےں ٹہرے رہے۔دوسری رواےت مےںبےس ۰۲ برس تک ٹہرے رہے اور اسی دوران فرعون اور اس کی قوم پرمختلف قسم کے عذاب آتے رہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ” الطوفان “ سے مراد شدید بارش ہے۔ اس بارش کا پانی فرعون کے محل اور اس کی قو م کے گھروں میں گھس گیا ۔ یہاں تک کہ وہ تیرنے لگے۔ وہ سیلاب اُن پر چکر لگاتا رہا اور ہلاک کرتا رہا۔ جب کہ بنی اسرائیل کے گھروں میں اس پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں پہنچا ۔ اور قبطیوں کے گھروں میں اتنا پانی تھا کہ وہ اپنی ہنسلیوں تک پانی میں ڈوبے کھڑے رہے۔ اور وہ پانی مسلسل سات دن تک اُن پر رہا۔ اور ایک روایت کے مطابق چالیس 40دن تک رہا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور فرمایا کہ ابھی وقت ہے۔ اسلام قبول کر لو اور بنی اسرائیل کو آزاد کر کے میرے ساتھ جانے دو۔ تب انہوں نے یعنی فرعون اور قبطیوں نے کہا کہ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر دیں کہ اس عذاب کو ہم پر سے ہٹا دے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے عذاب کو ہٹا لیا اور پانی کو کھیتوں اور باغوں کی طرف بھیج دیا۔ اور اس کی وجہ سے اناج اور پھلوں کی پیداوار بہت زیادہ ہوئی۔ یہ دیکھ کر فرعون اور اس کے ساتھیوں نے کہا۔ یہ پانی تو ہمارے لئے نعمت تھا۔ اور اسلام قبول نہیں کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون پر طوفان بھیجا اور اس سے مراد بارش ہے۔ تو فرعونیوں نے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام ) اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ اس بارش کو ہم سے دور ہٹا دے۔ ہم آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کے ساتھ بھیج دیں گے۔ آپ علیہ السلام نے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر سے بارس روک لی۔ اور اس سال اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اتنا اناج ، پھل اور گھاس اگائی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں اگائی تھی۔ تو وہ کہنے گے کہ یہ وہی ہے جس کی ہم تمنا اور آرزو کر تے تھے۔

ٹڈیوں کا عذاب 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قوم فرعون کو پھر سمجھایا ۔ پانی کے عذاب کے بعد بھی فرعون اور اس کی قوم کفر پر ہی اڑے رہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر ٹڈیوں کا عذاب بھیجا۔ ٹڈیاں اتنی زیادہ آگئیں کہ اُن کی وجہ سے سورج چھپ گیا۔ یہ ٹڈیاں فرعون کے محل اور قبطیوں کے گھروں میں گھس گئیں اور بنی اسرائیل کے گھروں میں نہیں گھسیں۔ ان ٹڈیوں نے فرعون اور قبطیوں کی کھیتیاں ، پھل اور اناج وغیرہ کھانےلگے۔ ان ٹڈیوں نے درختوں کے پتے ، مکانوں کےدروازے ، چھتوں اور تختوں تک کو کھا لیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن پر ٹڈی دل کے بادل بھیجے۔ انہوں نے ان کی فصلوں، پھلوں حتیٰ کہ درختوں کو کھا لیا۔ بلکہ انہوںنے دروازوں کو ، مکان کی چھتوں کو ہر قسم کی لکڑی کو ، لکڑیوں کے سامان کو، کپڑوں کو حتیٰ کہ دروازوں کی کیلوں( کھِلّوں) تک کو کھا لیا۔ یہ ٹڈیاں ہر چیز کو کھا رہی تھیں اور ان کی بھوک ختم ہی نہیں ہو رہی تھی۔ آخر کا ر فرعون اور قبطی چلّا اٹھے اور فریاد کی۔ اے موسیٰ(علیہ السلام )آپ کے رب نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے اس وعدہ کے واسطے اپنے رب سے دعا کریں۔ اگر یہ عذاب ہم سے دور کر دیا گیا تو ہم ضرور آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے اور انہوںنے بہت پختہ وعدہ کیا اور پکی قسمیں کھا ئیں۔ ان پر ٹڈیوں کا عذاب ایک سنیچر سے دوسرے سنیچر تک رہا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ٹڈیوں کا یہ عذاب دور کر دیا۔ بعض احادیث میں ہے کہ ہے ٹڈیوں کے سینہ پر لکھا ہو ا تھا۔ ” جند اللہ الاعظم“ یعنی اللہ کا عظیم لشکر۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا فضا میں مشرق سے مغرب کی طرف گھمایا تو ٹڈیاں جہاں سے آئی تھیں وہیں واپس چلی گئیں۔ ان کے پاس جو اناج اور پھل اور دوسرے کھانے کے سامان بچ گئے تھے اسے دیکھ کر ان لوگوں نے کہا۔ یہ ہمارے لئے کافی ہیں۔ اور ہم اپنے دین کو نہیں چھوڑ یں گے۔ انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور کفر پر ڈٹے رہے۔ 

جوو‘ں یا گھُن کے کیڑے کا عذاب

اللہ تعالیٰ بار بار فرعون اور اس کی قوم کو سمجھانے کے لئے الگ الگ عذاب بھیج رہے تھے۔ وہ بد بخت لو گ بار بار آپ علیہ السلام سے وعدہ کر کے توڑ رہے تھے۔ اور کفر پر ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل پر ظلم و ستم بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ”قمل“ کا عذاب بھیجا۔ قُمل جوئیں یا گھن کے کیڑے کو کہا جاتا ہے۔ ان کیڑوں نے باقی بچے ہوئے پھل اور اناجوں پر حملہ کر دیا۔ یہ کیڑے کپڑوں میں گھس جاتے تھے اور بہت بری طرح سے کاٹتے تھے۔ اور ان کے کھانے میں گھر جاتے تھے۔ اگر کوئی ایک تھیلہ اناج لے کر جاتا تھا تو کیڑے اسے کھا ڈالتے تھے اور وہ دو تین کلو ہی بچتا تھا۔ ان کیڑوں نے فرعون اور قبطیوں کے بال تک کھا ڈالے ۔ یہاں تک کہ ان کی بھنویں اور پلک کے بال تک چاٹ گئے۔ اُن کا کھانا، پینا اور سونا دشوار ہو گیا۔ جب کہ بنی اسرائیل بہت آرا م سے تھے۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گندم ( گیہوں) میں جو سر سریاں ( کیڑے ) نکلتے ہیں۔ وہ قُمل ہیں۔ بعض نے کہا ۔ یہ جچڑی کی ایک قسم ہے۔ اور بعض نے کہا یہ جوئیں ہیں۔ اور بعض نے کہا۔ یہ ایک قسم کا کیڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ وہ شہر سے باہر کسی بڑے ٹیلے کے پاس جائیں اور اس ٹیلے پر اپنا عصا ماریں۔ عصا مارنے سے اس ٹیلے کے اندرسے وہ کیڑے ( قُمل ) پھوٹ پڑے۔ وہ ان کے بچے کچے کھیتوں کو کھا گئے۔ ان کے کپڑوں میں گھس گئے ۔ ان کا کھانا ان کیڑوں سے بھر جاتا ۔ وہ ان کے بالوں میں، پلکوں میں ، بھنوﺅں میں گھس گئے۔ اُن کے ہونٹوں اور کھالوں میں گھسنے لگے۔ ان کا چین و قرار جاتا رہا۔ وہ سو نہیں سکتے تھے۔ آخر کار وہ لوگ بے چین اور بے قرار ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور رو رو کر فریاد کرنے لگے۔ کہ ہم تو بہ کرتے ہیں آپ علیہ السلام اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہم پر سے عذاب اٹھا لے۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی تو تمام کیڑے واپس چلے گئے۔ لیکن ان بد بختوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔،

مینڈکوں کا عذاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیا ہوا وعدہ پھر سے فرعون اور اس کی قوم نے توڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سمجھانے کے لئے اس بار مینڈکوں کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ بے حد اور بےشمار مینڈک آگئے اور فرعون اور قبطیوں کے گھروں میں گھس گئے۔ جہاں جہاں یہ جاتے تھے مینڈک ان کے ساتھ چلتے تھے۔ فرعون جب دربار لگاتا تو پورا دربار مینڈکوں سے بھر جاتا ۔قبطی اگر کہیں بیٹھے بات کرتے رہتے تو وہ جگہ مینڈکوں سے بھر جاتی تھی۔ اگر کچھ بولنے کے لئے کوئی منہ کھولتا تو مینڈک اس کے منہ میں گھس جاتا تھا۔ پکانے کے چولہے میں مینڈک گھس جاتے تھے اور چولہا بجھ جاتا تھا۔ کھانا پکاتے وقت ہانڈیوں میں مینڈک گھس جاتے تھے۔ جب کہ بنی اسرائیل مینڈکوںسے پوری طرح محفوظ تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فرعون نے اپنے محل کے نہر کے پاس مینڈک کے ٹرّانے کی آواز سنی۔ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلو کر مینڈک کی آواز سنائی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے فرعون، کیا تو اور تیری قوم اس مینڈک سے مل چکے ہو؟ تو فرعون نے کہا۔ کیا تمہارا رب اس مینڈک کے قریب ہے؟ پس جب شام ہوئی تو فرعون اور اس کی قوم کا ہر آدمی اپنی ٹھوڑی تک مینڈکوں میں تھا۔ اور ان میں سے کوئی بات کرنا چاہتا تو مینڈک اچھال کر اس کے منہ میں چلا جاتا تھا۔ اور ان کے ہر برتن مینڈکوں سے بھرے پڑے تھے۔ تو انہوں نے پہلے کی طرح وعدہ کیا اور دعا کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے مینڈکوں سے آزادی عطا فرمادی۔ لیکن انہوں نے وعدہ وفا نہیں کیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر مینڈکوں کا عذاب بھیجا ۔ جس سے ان کے گھر اور صحن بھر گئے۔ ان کے کھانے کے برتن میں مینڈک بھر گئے۔ جب وہ سوتے وقت کروٹ بدلتے تو دوسری جانب مینڈکوں کا ڈھیر لگ جاتا اور وہ کروٹ نہیں بدل سکتے تھے۔ وہ آٹا گوندھتے تو آتے میں مینڈک لتھڑ جاتے اور سالن کی ہانڈی کھولتے تو مینڈک اس میں بھر جاتے ۔ اس مصیبت پر فرعون اور اس کی قوم کے لوگ رو پڑے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے روتے ہوئے فریاد کی کہ اس عذاب سے ہمیں نجات دلا دیں۔ اس بار ہم پکا وعدہ کرتے ہیں کہ اسلام قبول کر لیں گے یا پھر بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کے ساتھ بھیج دیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے مینڈکوں کا عذاب ختم کر دیا۔لیکن بد بختوں نے پھر اپنا وعدہ توڑ دیا۔

خون کا عذاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بار بار فرعون اور اس کی قوم کے لوگ جھوٹ بول کر عذاب کوٹالتے تھے۔ اس بار اللہ تعالیٰ نے انہیں خون کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ ان کے برتن خون سے بھر گئے۔ وہ لوگ کنویں سے پانی نکالتے اور اپنے برتن میں ڈالتے تو وہ خون بن جاتا تھا۔ دریائے نیل کا پانی جیسے ہی اپنے برتن میں لیتے تو وہ خون بن جاتا تھا۔ جب کہ بنی اسرائیل کے برتنوں میں پانی ہی رہتا تھا۔ فرعون اور قبطی پانیپی نہیں پارہے تھے۔ اور پیاسے رہ رہے تھے۔ فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل اور قبطی ایک ہی برتن میں پانی لیں۔ لیکن جیسے ہی قبطی اس برتن کو لیتے تھے وہ خون بن جاتا اور جب وہ برتن بنی اسرائیل کے شخص کے ہاتھ میں دیتے تو پانی بن جاتا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر خون کا عذاب بھیجا۔ ان کے گھروں میں برتنوں میں رکھا ہوا پانی خون بن گیا۔ دریائے نیل کا پانی اور کنوﺅں اور نہروں کا پانی اپنے برتنوں میں لیتے تو وہ سرخ گاڑھا خون بن جاتا تھا۔ انہوں نے فرعون سے شکایت کی کہ اب ہمیں پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہے۔ فرعون نے کہا یہ موسیٰ (علیہ السلام )کا جادو ہے۔ قبطیوں نے کہا۔ یہ جادو کہاں سے ہو گیا۔ ہمارے تمام برتنوں میں خون بھرا ہے۔ اور اسرائیلوں کے برتن میں پانی ہے۔ فرعون نے حکم دیا کہ اسرائیلیوں کے برتنوں میں پانی پیﺅ۔ لیکن جب وہ بنی اسرائیل کے پانی کا برتن لیتے تو ان کے ہاتھ میں آکر خون بن جاتا تھا۔ یہاں تک کہ قبطی عورتیں پیاس سے مجبور ہو کر بنی اسرائیل کی عورتوں کے پاس آتیں اور کہتیں کہ اپنے منہ میں پانی لے کر ہمارے منہ میں ڈال دو۔ لیکن جب تک وہ پانی بنی اسرائیل کی عورت کے منہ میں رہتا تب تک پانی رہتا اور جیسے ہی قبطی عورت کے منہ میں جاتا تو خون بن جاتا تھا۔ آخر کار انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی اور آپ علیہ السلام نے اُن پر رحم کھا کر دعا فرمائی اور خون کا عذاب دور ہو گیا۔

فرعون کا اپنی قوم کو بہکانا اور مرد مومن کا سمجھانا

اللہ تعالیٰ نے مسلسل کئی طرح کے عذاب فرعون اور قبطیوں پر بھیجے۔ اور قبطیوں نے دیکھا کہ عذاب صرف اُن پر آتے تھے اور بنی اسرائیل محفوظ رہتے تھے۔ اس سے بہت حد تک قبطی متاثر ہو نے لگے۔ فرعون نے جب عوام کی یہ حالت دیکھی تو انہیں جمع کیا اور بہکانے لگا۔ اللہ تعالیٰ نےس ورہ المومن میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو اپنی نشانیوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا ۔ فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف، تو انہوں نے کہا۔ ( یہ تو ) جادوگر اور جھوٹا ہے۔ پس جب ان کے پاس (حضرت موسیٰ علیہ السلام )ہماری طرف سے ( دین) حق لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جو ایمان والے ہیں ۔ ان کے لڑکوں کو مارڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھو۔ اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وہ غلطی میں ہی ہے۔ اور فرعون نے کہا ۔ مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام )کو مارڈالوں۔ اسے چاہیئے کہ اپنے رب کو پکارے، مجھے تو ڈر ہے کہ یہ تم لوگوں ( قبطیوں ) کا دین نہ بدل ڈالے۔ یا پھر ملک میں کوئی ( بہت بڑا) فساد برپا نہ کر دے۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ ہر اُس تکبر کرنے والے شخص ( کی برائی) سے جو روزِ حساب ( قیامت کے دن) پر ایمان نہیں رکھتا ہے۔ اور ایک مومن شخص نے ، جو فرعون کے خاندان کا تھا۔ اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا۔ اس نے کہا ۔ کیا تم ایک شخص کو صرف اس بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا کہ میرا رب اللہ تعالیٰ ہے؟ اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے۔ اگر وہ جھوٹا ہو گا تو اس کا جھوٹ اسی پر ہوگا۔ اور اگر وہ سچا ہے تو جس ( عذاب ) کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے وہ کسی نہ کسی طرح تو تم پر آہی پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتا جو حدسے گزر جانے والے اور جھوٹے ہوں۔ اے میری قوم کے لوگو، آج تو بادہشاہت تمہاری ہے۔ اور تم زمین پر غالب ہو۔ لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو کون ہماری مدد کر سکے گا؟ فرعون بولا۔ میں تم تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں۔ اور میں تو تمہیں بھلائی کا راستہ ہی بتا رہا ہوں۔ اس مرد مومن نے کہا۔ اے میری قوم کے لوگو، مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر بھی ویسا ہی (برا ) دن نہ آجائے جو پہلے کی دوسری امتوںپر آیا ہے۔ جیسے امت ِ نوح، اور امتِ عاد اور امت ثمود اور ان کے بعد والوں کا ( حال ہوا) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کسی طرح کا ظلم کرنا نہیں چاہتا۔ اور مجھے تم پر ہانک پکار( قیامت ) کے دن کا ڈر ہے۔ جس دن تم پیٹھ پھیر کر لوٹو گے اور تمہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور اس سے پہلے تمہارے پاس ( حضرت یوسف (علیہ السلام ) دلیلیں لے کر آئے تھے پھر بھی تم ان کی لائی ہوئی ( دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب ان کا وصا ل ہو گیا تو کہنے لگے کہ ان کے بعد تو اللہ تعالیٰ کسی رسول کو نہیں بھیجے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اسی طرح گمراہ کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے والا اور شک و شبہ کرنےوالا ہو۔“

مرد مومن کی آخرت میں کامیابی اور فرعون کا آخرت میں انجام

اللہ تعالیٰ نے سورہ المومن میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے کہا۔ اے ہامان ، میر ے لئے ایک بالا خانہ بنا ۔ شاید کہ میں آسمان میں جو دروازے ہیں ان دروازوں تک پہنچ جاﺅں۔ اور موسیٰ(علیہ السلام )کے معبود کو جھانک ( کر دیکھ) لوں ۔ اور بے شک میں سمجھتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔ اور اسی طرح فرعون کی بد کرداریاں اسے بھلی کر کے دکھائی گئیں۔ اور ( سیدھی) راہ سے روک دیا گیا۔ اور فرعون کی ( ہر ) حلیہ سازی تباہی میں ہی رہی۔ اور مرد مومن نے کہا۔ اے میری قوم، تم میری بات مانو اور میں نیک راستے کی طرف تمہاری رہبری کروں گا۔ اے میری قوم، یہ دنیا کی زندگی فنا ہو نے والی ہے۔ اور ہمیشہ کا گھر تو آخرت کی زندگی ہے۔ جس نے گنہا کیا ہے اسے تو برابر، برابر کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔ اور جس نے نیکی کی ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت اور ایمان والے ہوں تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے۔ اور وہاں بےشمار رزق پائیں گے۔ اے میری قوم، یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو۔ تم مجھے یہ دعوت دے رہے ہو کہ میں کفر کروں اور اس کے ( اللہ کے ) ساتھ (وہ ) شرک کروں جس کا مجھے کوئی علم نہیں ہے۔ اور میں تمہیں غالب بخشنے والے ( اللہ ) کی طرف دعوت دے رہا ہوں۔ یہ یقینی بات ہے کہ تم مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وہ نہ تو دنیا میں پکا رے جانے کے قابل ہے۔ اور نہ ہی آخرت میں ۔ اور یہ (یقینی)بات ہے کہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے۔ اور حد سے گزر جانے والے ہی دوزخ والوں میں سے ہیں۔ پس آگے چل کر تم میری بات کو یاد کرو گے۔ اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر تا ہوں۔ یقینا اللہ تعالیٰ بندوں پر نگراں ہے۔ پس اسے اللہ نے تمام برائیوں سے محفوظ رکھ لیا۔ جو انہوں نے ( اس کے لئے ) سوچ رکھی تھیں۔ اور فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب الٹ پڑا۔ آگ ہے جس کےسامنے یہ ہر صبح و شام لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی ( حکم ہوگا کہ ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں دالو۔“ ( سورہ المومن آیت نمبر36سے 46تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور یقینا ہم نے ہی موسیٰ (علیہ السلام )کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا تھا ۔ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف ۔ پھر بھی ان لوگوں نے فرعون کی پیروی کی۔ اور فرعون کا کوئی حکم درست ( صحیح ) تھا ہی نہیں۔ وہ تو قیامت کے دن اپنی قوم کا پیش رو ( آگے آگے ) ہو کر ان سب کو دوزخ میں جا کھڑا کرے گا۔ اور وہ بہت ہی برا گھاٹ ہے جس پر یہ لا کر کھڑے کئے جائیں گے۔ ان پر تو اس دنیا میں بھی لعنت چپکا دی گئی اور قیامت کے دن کا انعام تو بہت برا ہو گا جو دیا جائے گا۔ “(سورہ ہود آیت نمبر96سے 99تک)

بنی اسرائیل کے لئے دعا اور فرعون کے لئے بد دعا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے کئی ہلکے ہلکے عذابوں کے آنے کے بعد بھی فرعون اور اس کی قوم کی اکثریت کفر پر ہی ڈٹی رہی اور صرف کچھ لوگ ایمان لائے وہ بھی فرعون اور اس کے ظالم سرداروں سے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے۔ اور فرعون اور اس کے ظالم سردار یا عہدے دار مسلسل بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کو جاری رکھےہوئے ہیں۔ تو آپ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بنی اسرائیل کےلئے دعا اورفرعون اور اس کے ساتھیوں کے لئے بد دعا کی۔ ہاں جو تھوڑے بہت قبطی مسلمان ہو چکے تھے وہ اس بد دعا سے بری رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس موسیٰ (علیہ السلام )پر ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے۔ اور وہ بھی فرعون سے اور اس کے عہدے داروں سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں اُن کو تکلیف نہ پہنچائے۔ اور واقعی میں فرعون اس ملک میں زور کھتا تھا۔ اور یہ بات بھی تھی کہ وہ حدسے باہر ہو جاتا تھا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ اے میری قوم، اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل ( بھروسہ) رکھو۔ اگر تم مسلمان ہو ۔ انہوں نے عرض کیا۔ ہم نے اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کیا۔ اے ہمارے رب، ہم کو ان ظالموں کا فتنہ نہ بنا اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے۔ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )اور ان کے بھائی کے پاس وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنے ان لوگوں کے لئے مصر میں گھر برقرار رکھو اور تم سب اپنے انہی گھروں کو نماز پڑھنے کی جگہ قرار دے لو۔ اور نماز کے پابند رہو۔ اور آپ (علیہ السلام )مسلمانوں کو بشارت دے دیں۔ اور موسیٰ (علیہ السلام )نے عرض کیا۔ اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامانِ زینت اور طرح طرح کے دنیاوی مال دیئے ہیں۔ اے ہمارے رب ، ( یہ سب اس واسطے نہیں دیئے کہ ) وہ تیری راہ سے گمراہ کریں۔ اے ہمارے رب، ان کے مال و دولت اور عیش و آرام کے سامان کو نیست و نابود کر دے۔ اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔ سو یہ ایمان نہ لانے پائیں۔ یہاں تک کہ دردناک عذاب کو دیکھ لیاں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی۔ سو تم ثابت قدم رہو۔ اور ان لوگوں کی راہ نہ چلنا جن کو علم نہیں ہے۔“ ( سورہ یونس آیت نمبر83سے89تک) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ یہ ایک عظیم بد دعا تھی۔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے اللہ کے دشمن فرعون کے خلاف صادر ہوئی۔ آپ علیہ السلام کو فرعون سے ذاتی دشمنی نہیں تھی یہ ناراضگی اللہ کے لئے تھی۔ کیوں کہ وہ اتباع حق سے تکبر کر رہا تھا۔ اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روک رہا تھا۔ اس کی اسلام دشمنی، اللہ سے بغاوت اور سر کشی حد سے گزر گئی تھی۔ اورہ وہ باطل پرڈٹا ہو ا تھا۔ واضح ، صاف ، کھلی ہوئی دلیلوں اور نشانیوں کو دیکھ کر بھی تکبر کر رہا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے یہ دعا کی۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں۔ اسی لئے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم اور سرداروں کے خلاف بد دعا کی اور آپ علیہ السلام کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام نے آمین کہہ کر اس بددعا میں شمولیت اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی۔

سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کی شہادت 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کے دربار میں اعلان ِ نبوت فرمایا تھا اور جادوگروں سے مقابلہ کرنے سے پہلے ہی آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرعون سے چھپ کر آپ علیہ السلام کے گھر پر آکر ملاقات کی اور اسلام قبول کر لیا تھا۔ لیکن اپنے ایمان کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ لیکن ایک دن بد بخت فرعون نے آپ رضی اللہ عنہا کو عبادت کرتے دیکھا تو اس کے بارےمیں پوچھا ۔آپ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا چکی ہوں۔ اور اسلام قبول کر چکی ہوں۔ فرعون نے جب یہ سنا تو اتنا زیادہ غصے میں آیا کہ آپ رضی اللہ عنہا کو قید میں ڈال دیا۔ اور شدید اذیت دینے لگا۔ اور اصرار کرنے لگا کہ اسلام چھوڑ دے لیکن آپ رضی اللہ عنہا اسلام پر ڈٹی رہیں۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔ اس کے بعد دوسرا جگر گداز واقعہ یہ ہوا کہ شیطہ نامی ایک عورت کو اس کے لڑکے ساتھ فرعون نے جلتے ہوئے تنور میں زندہ ڈال کر جلا دیا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ اس نے اپنا ایمان ظاہر کر دیا تھا۔ اس کے بعد بدبخت فرعون نے سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا پر بھی اس قدر تشدد کیا کہ ان کی بھی شہادت واقع ہو گئی۔ انہوں نے تشدد کے دوران اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا اور دعا مانگی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قرآن پاک کی آیت بنا دیا۔ اور سورہ التحریم میں فرمایا۔ ترجمہ ”(سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی) اے میرے رب، میرے لئے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔ اور مجھ کو فرعون اور اس کے ( برے ) کاموں سے بچا۔ اور ظالموں سے مجھے نجات دے۔“ (سورہ التحریم آیت نمبر11) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کی آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہاجنت کو دیکھ کر مسکرائیں۔ فرعون نے کہا۔ یہ ماجرا دیکھو کہ اس پر عذاب کیا جا رہا ہے اور یہ ہنس رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اور صبر و شکر کرتی ہوئی اسی تشدد کی حالت میں اللہ کی جوارِ رحمت میں چلی گئیں۔

بنی اسرائیل کی مصر سے روانگی

اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل۔ تم سب پیچھا کئے جاﺅ گے۔“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر52) آخر کار اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہجرت کا حکم دے دیا۔ اور فرمایا کہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے ہجرت کرجاﺅ۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ نہایت خاموشی سے راتوں رات پورے بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف نکل جائیں ۔ لاکھوں کی تعداد میں بنی اسرائیل رات کے آخری حصے میں نہایت خاموشی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ فلسطین جانے کے لئے روانہ ہو گئے۔ بنی اسرائیل جو آج کل اپنےآپ کو یہودی کہلواتے ہیں۔ اس وقت بھی غلامی کی حالت میں بھی اپنی سازشی اور مفاد پرست ذہنیت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ جب آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ فلاں رات کو ہمیں خاموشی سے نکل جانا ہے۔ تو بنی اسرائیل کی عورتوں نے قبطیوں کی عورتوں کے زیورات یہ کہہ کر عاریتاً مانگ لئے کہ فلاں دن ہمارا تہوار ہے اس دن پہن کر واپس کر دیں گے۔ بنی اسرائیل پورے مصر میں پھیلے ہوئے تھے اور چھ لاکھ سے زیادہ تھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اس آیت کی تفہیم میں لکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ بنی اسرائیل کی آبادی مصر میں کسی ایک جگہ مجتمع نہیں تھی بلکہ ملک ( مصر ) کے تمام شہروں اور بستیوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اور خصوصیت کے ساتھ ممفس یا منف ( Mamphis) سے رعمیس تک اس علاقے میں ان کی بڑی تعداد آباد تھی۔ جسے جُشن کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ لہٰذا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا گیا ہو گا کہ اب تمہیں بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جانا ہے تو انہوں نے بنی اسرائیل کی تمام بستیوں میں ہدایات بھیج دی ہوں گی کہ سب لوگ اپنی اپنی جگہ ہجرت کے لئے تیار ہو جائیں۔ اور ایک خاص رات مقرر کر دی ہو گی۔ کہ اس رات تمام بستی کے مہاجرین ( بنی اسرائیل) نکل کھڑے ہوں ۔ یہ ارشاد کے تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔ اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہجرت کے لئے رات کو نکلنے کی ہدایت کیوں کی گئی تھی۔ یعنی قبل اس کے کہ فرعون لشکر لے کر تمہارے تعاقب میں نکلے۔ تم راتوں رات اپنا راستہ اس حد تک طے کر لو کہ اس سے بہت آگے نکل چکے ہوں گے۔ تفسیر ابن حاتم میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ یہاں سے نکل چلیں اور اپنے کسی بھی ساتھی کو آواز نہ دیں۔ اور اپنے اپنے گھروں میں چراغ اس طرح جلا دیں کہ وہ صبح تک جلتے رہیں۔ اور ان میں سے جو بھی گھر سے نکلے وہ دروازے پر خون گرا دے تا کہ معلوم ہوجائے کہ وہ چلا گیا ہے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکل کھڑے ہوئے۔ جب کہ قبطیوں کو کوئی علم نہیں تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام چھ لاکھ بیس ہزار 620000افراد کو لے کر چل پڑے۔ ان میں بیس سال سے کم عمر کے نوجوانوں او ر بچوں اور ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے بوڑھوں اور عورتوں کو شمار نہیں کیا گیا تھا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کا تابوت

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے لیکن آگے چل کر راستہ بھٹک گئے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ہم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے ذکر میں لکھا تھاکہ آپ علیہ السلام نے وصیت کی تھی کہ مجھے مصر میں دفن نہ کریں بلکہ جب بنی اسرائیل مصر سے جانے لگیں تو مجھے لیتے جائیں اور میرے والدین اور آباو اجداد کے بازومیں ملک کنعان ( آج کا فلسطین) لے جا کر دفن کرنا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی نبوت کا بہت سارازمانہ اُن لوگوں میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ( نشانیاں) اُن پر واضح کر دیں۔ لیکن انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں سر نہیں جھکایا۔ ان کا تکبر نہیں ٹوٹا ۔ اُن کی بد دماغی میںکوئی فرق نہیں آیا۔ تو اب اس کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ اُن پر اللہ کا آخری عذاب آجائے۔ اور یہ غارت ہو جائیں ۔ آپ علیہ السلام کو وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر چل دو۔ بنی اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیورات بطورِ عاریتا ً لے لئے۔ اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دیئے۔ آپ علیہ السلام نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک کہاں ہے؟ بنو اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت نے قبر مبارک بتلائی۔ آپ علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کا تابوت اٹھالیا۔ کہا گیا ہے کہ خود آپ علیہ السلام نے ہی اسے اٹھایا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب یہاں سے جانے لگیں تو آپ علیہ السلام کا تابوت اپنے ساتھ لیتے جائیں۔

جنت میں پڑوس

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے۔ علامہ ابن کثیر آگے لکھتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو راستہ بھول گئے۔ ہزار کوشش کی لیکن راستہ نہیں ملا۔ آپ علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ راستہ کیوں نہیں مل رہا ہے۔ تو بنی اسرائیل کے علمائے کرام نے کہا کہ بات یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے آخری وقت میں ہم سے عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے جانے لگیں تو آپ علیہ السلام کے تابوت کو بھی یہاں سے لیتے جائیں۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ کون جانتا ہے کہ ان کا تابوت کہاں ہے؟ سب نے انکار کر دیا کہ ہم نہیں جانتے ۔ ہاں ایک بوڑھی عورت اس کے بارے میں جانتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے اس بوڑھی عوت سے دریافت فرمایا تو اس نے کہا۔ ہاں میں جانتی ہوں۔ لیکن پہلے آپ علیہ السلام سے ایک وعدہ چاہتی ہوں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم کیا چاہتی ہو؟ اس بوڑھی عورت نے کہا۔ پہلے آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں آپ علیہ السلام کا پڑوس عطا فرمائے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ جنت تو ٹھیک ہے مگر میر ا پڑوس بہت مشکل ہے۔ ( کیوں کہ انبیائے کرام علیہم السلام جنت میں سب سے اونچے علاقے میں رہیں گے) اس بوڑھی عورت نے اصرار کیا کہ مجھے تو آپ علیہ السلام کا پڑوس ہی چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی بھیجی کہ اس کی بات مان لو۔ اور شرط منظور کر لو۔ آپ علیہ السلام نے اس کی بات مان لی تو اس نے بتایا کہ پانی میں کہاں تابوت ہے۔ تابوت نکال کر آگے بڑھے تو راستہ مل گیا۔

فرعون کا لشکر اور بنی اسرائیل آمنے سامنے

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے باہر آگئے اور تیزی سے بحر ِ قلزم یا دریائے قلزم تک پہنچ گئے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ بحر کھارے دریا کو کہتے ہیں۔ اور میٹھے پانی کو بحر کہنا مجازاً ہوتا ہے۔ یہاں بحر سے مراد دریائے قلزم ہے۔ قلزم ایک شہر کا نام ہے ۔ جہاں یہ دریا ختم ہوتا ہے۔ اسی لئے اس کو بھی قلزم کہا جاتا ہے۔ یہ دریا سمندر کی ایک شاخ ہے۔ حبشہ اور دیگر بلاد ِ عرب کے درمیان سے گزرتی ہے۔ اور اسے بحرِ احمر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا طول 460فرسخ جنوباً شمالاً ہے ۔ اور عرض 60فرسخ ہے۔ یہ مصر سے تین دن کے فاصلے پر ہے۔ اور دریائے نیل مصر کے مغربی جانب ہے۔ یہ جو مشہور ہے کہ فرعون دریائے نیل میں غرق ہو ا تو یہ غلط ہے۔ در اصل بحر احمر یا بحر قلزم جب مصر اور صحرائے سینا یا جزیرہ نمائے سینا کے درمیان آیا تو ایک بہت بڑی نہر میں تبدیل ہو گیا۔ آج کل اس نہر کو نہر سوئیز کہتے ہیں۔ اس نہر کے مشرق میں مصر ہے اور مغرب میں صحرائے سینا ہے۔ او ر صحرائے سینا کے شمال مشرق میں اس وقت کا ملک کنعان اور آج کا فلسطین ہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بحر قلزم یا بحر احمر کے اس علاقے پر پہنچے تھے جسے آج کل نہر سوئیز کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے۔ پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو موسیٰ (علیہ السلام ) کے ساتھیوں نے کہا۔ ہم تو یقینا پکڑ لئے گئے۔“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر60اور 61) ادھر مصر میں فرعون اور اس کے ساتھی جب صبح اٹھے تو دیکھا کہ بنی اسرائیل مصر چھوڑ کر جا چکے ہیں تو فرعون نے تمام لوگوں کو جمع ہونے کا اعلان کر دیا۔ اور تمام قبطیوں کو لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکل پڑا۔ فرعون کے لشکر کے الگے حصے پر ہامان تھا۔ لشکر کی تعداد دس لاکھ تھی اور سات لاکھ گھوڑے تھے۔ علامہ ابن کثیر قصص الانبیاءمیں لکھتے ہیں کہ فرعون کے لشکر کی تعداد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ تھی۔ واللہ اعلم ۔ بہر حال فرعون کا لشکر تیزی سے پیچھا کرتا ہوا بنی اسرائیل تک پہنچ گیا۔ اس وقت بنی اسرائیل بحر قلزم کے کنارے تھے اور اسے پار کرنے کی تیاری میں تھے۔ کہ انہیں فرعون کا لشکر آتا دکھائی دیا۔

بنی اسرائیل کی گھبراہٹ اور بے اعتباری

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر دریائے قلزم یا بحر احمر یا آج کال کی نہر سوئیز پار کرنے کی تیاری میں تھے کہ فرعون اپنا لشکر لے کر پہنچ گیا۔ اس وقت سورج نکل رہا تھا۔ اب بنی اسرائیل اور فرعون کا لشکر آمنے سامنے تھے۔ بات بالکل صاف تھی اب بنی اسرائیل یا تو لڑکر فرعون پر فتح حاصل کریں یا پھر شہید ہو جائیں یا پھر فرعون کا غلام بننے کے لئے تیار ہو جائیں۔ بنی اسرائیل میں بزدلی آگئی تھی۔ اس لئے وہ صرف یہی سوچ رہے تھے کہ اگر فرعون نے ہمیں پکڑ لیا تو ا مرتبہ بہت ہی خراب سلوک کرے گا ۔ وہ لو گ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شکوہ شکایت کرنے لگے اور کہنے لگے ۔ ہم تو بہت بری طرح پھنس گئے ہیں۔ آپ علیہ السلام انہیں سمجھانے لگے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔ وہ ہمارے ساتھ ہے اور ضرور کوئی راستہ نکالے گا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ فرعون نے جب اُن کو پالیا تو اس وقت سورج طلوع ہو رہا تھا۔ دونوں لشکر آمنے سامنے تھے کوئی شک و شبہ باقی نہیں تھا۔ فریقین ایک دوسرے کو آمنے سامنے کھڑا دیکھ رہے تھے۔ بات بالکل واضح تھی کہ اب لڑائی ہو گی۔ گردنیں اڑیں گی اور زمین خون آلود ہو گی۔ بنی اسرائیل خوف سے لرز اٹھے ، گھبرا کر کہنے لگے۔ “ یقینا ہم تو پکڑ لئے گئے۔ “ کیوں کہ سامنے سمندر موجیں مارتاہوا ہے۔ اور پیچھے فرعون کا لشکر جرّار۔ کریں تو کیا کریں۔ سمندر کو کیسے عبور کریں۔ اب ایک ہی صورت ہے کہ اپنے آپ کو سمندر کی موجوں کے حوالے کر دیں اور گھس جائیں لیکن یہ حوصلہ کس میں تھا۔ کون اپنے آپ کو سمندر کی بے رحم لہروں کے حوالے کر سکتا تھا۔ دائیں بائیں بھی نا قابل عبور پہاڑ تھے۔ فرعون کے لشکری قریب سے قریب تک ہو رہے تھے۔ وہ بالکل سامنے تھے ، اسرائیلی فرعون کو دیکھ رہے تھے کہ وہ اپنے لشکر جرار میں بے پناہ سپاہیوں اور اسلحہ کے ساتھ لیس ہے۔ وہ بہت ڈرے، خوف کے مارے خون خشک ہو گیا۔ جب انہوں نے خیال کیا کہ فرعون کی طاقت کس قدر زیادہ ہے اور وہ ہمیں پکر کر کس قدر اذیتیں دے گا اور اہانت کرے گا تو اُن کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا ۔ وہ کہنے لگے اور اللہ کے رسول علیہ السلام کی بارگاہ میں شکوہ شکایت کرنے لگے۔ ہم بہت بری طرح پھنس گئے ہیں اور آپ علیہ السلام نے ہمیں مروا دیا ہے۔

دریا پر عَصا مارو

حضرت ہارون علیہ السلام بنی اسرائیل کے آگے آگے تھے اور دریائے کے بالکل قریب تھے ۔ ان کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے شاگرد حضرت یوشع علیہ السلام اور مردِ مومن تھے۔ جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساقہ پر یعنی سب سے پیچے تھے۔ اور فرعون کے لشکر کو قریب آتا دیکھ رہے تھے۔ وہ مردِ مومن جلدی سے گھوڑا دوڑاتے ہوئے آپ علیہ السلام کے پاس آئے اور پوچھا کہ آپ علیہ السلام کو کیا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہیں سے دریاپار کرنے کا حکم ملا ہے۔ یہ سن کر وہ مرد مومن گھوڑا دوڑاتا ہوا آیا اور دریا کے پاس جہاں حضرت ہارون علیہ السلام کھڑے تھے وہاں پہنچ کر کہا۔ کہ یہیں سے دریا پار کرنے کا حکم ملا ہے۔ اور اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا اور آگے بڑھتے گئے۔ تمام بنی اسرائیل گھبراہٹ اور بے چینی میں مبتلا تھے اور دریا میں آگے بڑھتے گھوڑے کو اور فرعون کے لشکر کو اپنی طرف آتا دیکھ رہے تھے۔ کبھی ادھر دیکھتے اور کبھی ادھر دیکھتے۔ آخر کار حضرت یوشع علیہ السلام واپس آگئے تو وہ مرد مومن دریا کے کنارے کچھ دور گیا۔ اور اپناگھوڑ ا دریا میں ڈال دیا۔ لیکن کچھ دور جا کر واپس آگیا۔ اس طرح اس نے دو تین جگہوں سے دریا پار کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوکر واپس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا۔ اس دوران میں تمام بنی اسرئیل کی جانیں ان کی آنکھوں میں آگئیں اور وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کبھی اس مرد مومن کو دیکھتے کبھی آپ علیہ السلام کو دیکھتے اور کبھی فرعون کے لشکر کو دیکھتے تھے۔ اور عورتوں اور بچوں نے تو باقاعدہ رونا شروع کر دیا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ آلِ فرعون کا مرد مومن کئی مرتبہ اپنے گھوڑے پر سوار دریا میں گھستا گیا کہ کیا اسے عبور کرنا ممکن ہے۔ لیکن ہر بار واپس آیا کہ یاں سے دریا عبور کرنا ممکن نہیں ہے۔ آخر آپ علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کیا ۔ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ، کیا یہیں سے دریا پار کرنے کا حکم ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ہاں یہیں سے اسی جگہ سے ۔ جب حالات نے نازک صورت حال اختیار کر لی اور معاملہ سنگین ہو گیا ۔ بنی اسرائیل بے چین و بے قرار ہو گئے اور فرعون اپنے لشکر سمیت دانت پیستا ، غصے سے لال پیلا ہوتا بالکل قریب پہنچ گیا اور بنی اسرائیل لرزہ براندام پھٹی آنکھوں سے لشکر کو دیکھنے لگے۔ ان کے کلیجے منہ کو آنے لگے۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ جو عرشِ عظیم کا اور قدرتوں کا مالک ہے اس نے وحی فرمائی کہ اپنے عصاکو دریا پر مارو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ”موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ ہرگز نہیں ، یقین مانو میرا رب میرے ساتھ ہے ، جو ضرور مجھے راستہ بتائے گا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنا عصا مارو۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر62اور 63)

پانی پہاڑوں کی طرح کھڑا ہو گیا

اللہ تعالیٰ چاہتے تھے کہ فرعون اور اس کے لشکر کو آخری اور فائنل عذاب دیا جائے اور ہلاک کر دیا جائے۔ اسی لئے جب فرعون اور اس کا لشکر بالکل قریب آئے تب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کی طرح وحی بھیجی کہ دریا پر اپنا عصا مارو۔ پس اسی وقت دریا پھٹ گیا۔ اور پانی کا ہر حصہ پہاڑ کی طرح کھڑا ہو گیا۔ “ (سورہ الشعرءآیت نمبر63) تفسیر در المنشور میں امام سعدی رحمتہ اللہ علیہ کی روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنا عصا دریا پر مارو تو حضرت ہارون علیہ السلام نے آگے بڑھ کر اپنا عصا سمندر پر مارا تو اس نے راستہ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ کون جبار ہے جو مجھے مار رہا ہے؟ آخر کار حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام بنی اسرائیل کے درمیان سے تیزی سے راستہ بناتے ہوئے دریا کے کنارے پہنچے اور دریا میں اتنا اترے کہ پانی کمر تک آگیا۔ تب آپ علیہ السلام نے اللہ کا نام لے کر دریا پر اپنا عصا مارا۔ عصا مارتے ہی دریا میں بارہ راستے بن گئے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اور ہر قبیلے کے لئے ایک راستہ بنا دیا گیا۔ دریا میں پانی بڑے بڑے پہاڑوں کی طرح کھڑا ہو گیا تھا اور بارہ بہت چوڑے چوڑے راستے بن گئے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ دریا میں داخل ہو جاﺅ۔ اور جلدی سے اس پار نکلو۔ لیکن بنی اسرائیل نے کہا کہ ہم اگر دریا میں اتریں گے تو ہمارے دوسرے قبیلے کے بھائی ہمیں نظر نہیں آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے پانی کے بڑے بڑے پہاڑوں کے درمیان جگہ جگہ بڑی بری کھڑکیاں بنا دیں اور وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے دریا پار کرنے لگے۔ تفسیر در منشور میں امام سدی کی روایت میں آگے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل دریا میں داخل ہو گئے ۔ اس میں بارہ راستے تھے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے بھائی دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے الجا کی تو اللہ تعالیٰ نے پانی کے بڑے بڑے پہاڑوں کے درمیان کھڑکیاں بنا دیں اور ہر کوئی ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے دریا پار کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کا آخری آدمی بھی دریا پار کر کے نکل گیا۔ فرعو ن اب اپنے لشکر کے ساتھ بالکل قریب پہنچ گیا تھا۔ اور دریا کے کنارے اپنے لشکر کے ساتھ کھڑا حیرت سے دریا میں کھڑے ہوئے پانی پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا۔ تما م بنی اسرئیل دریا میں اتر چکے تھے۔ ان میں سے اچھے خاصے دوسری طرف پہنچ کر اپنے ساتھیوں کا انتظار کر رہے تھے۔ 

فرعون اور اس کے لشکر کی ہلاکت

حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام بنی اسرائیل کے ساتھ بحر قلزم پار کر چکے تھے۔ اب حالت یہ تھی کہ دریا کے اس پار آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ کھڑے تھے اور اس پار فرعو ن اپنے لشکر کے ساتھ کھڑا تھا۔ اور درمیان میں دریا کا پانی پہاڑوں کی شکل میںکھڑا تھا اور دریا میں بارہ راستے بنے ہوئے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریا پر اپنا عصا مارنا چاہا تا کہ پانی برابر ہو جائے اور فرعون اور ا سکا لشکر دریا پار نہ کر سکے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )، ابھی رک جاﺅ اور انتظار کرو۔ فرعون نے جب دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل دریا پار کر چکے ہیں اور وہ بچ کر نکل جائیں گے تو اس نے فوراً اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دریا میں بنے بارہ راستوں میں اتر جائیں اور بنی اسرائیل کو پکڑ لیں۔ یہ حکم دے کر وہ خود بھی دریا میں اتر گیا اور دھیرے دھیرے فرعون کا پورا لشکر دریا میں اتر گیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ اے موسیٰ( علیہ السلام )، اپنا عصا اب دریا پر مارو۔ حکم سنتے ہی آپ علیہ السلام نے اپنا عصا دریا پر مارا۔ فوراً پانی کے بڑے بڑے پہاڑ ایک دوسرے سے مل گئے اور بہت ہی زبر دست موجیں پید اہو گئیں۔ جس میں فرعون کا پورا لشکر غرق ہو گیا۔ اور ایک بھی نہیں بچ سکا ۔ اس روز فرعون گھوڑے پر سوار تھا۔ جبرئیل علیہ السلام تینتیس 33فرشتوں کے ساتھ اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر آئے اور سب فرعون کے لشکر میں پھیل گئے۔ جبرئیل علیہ السلام لشکر کے اگلے حصے میں تھے اور میکائیل علیہ السلام فرعون کے لشکر کے پچھلے حصے میں تھے۔ جب فرعون نے سمندر میں بارہ راستے دیکھے تو اس نے کہا۔ اے لوگو، تم نے دیکھا کہ سمندر میں راستے بن گئے اور مجھ سے ڈر گیا ہے۔ یہ میرے لئے کھولا گیا ہے تا کہ میں اپنے دشمنوں کو پکڑ لوں اور انہیں قتل کر دوں ۔ جب فرعون کے لشکر راستوں کے منہ پر جا پہنچے تو ان کی ہمت نہیں کی۔ یہاں تک کہ جبرئیل علیہ السلام اپنی گھوڑی کو لے کر دریا میں بنے راستے میں داخل ہو گئے تو ان کی دیکھا دیکھی فرعون اور اس کا لشکر بھی دریا میں بنے راستوں میں اترنے لگا۔ جبرئیل علیہ السلام آگے آگے تھے اور فرعون ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ اس کے لشکر میں موجود فرشتے ، آگے بڑھو، آگے بڑھوکی آواز لگا تے جا رہے تھے۔ اور سب سے پیچھے میکائل علیہ السلام مسلسل آواز لگا کر فرعون کے لشکر کو دریا میں بنے راستوں میں اترنے کے لئے اکسا رہے تھے۔ اور آواز لگا رہے تھے۔ جب فرعون کے لشکر کا آخری آدمی بھی دریا میں بنے راستوں میں اتر گیا تو اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا اور وہ آپس میں مل گیا اور فرعون اور اس کا لشکر ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ 

فرعون کا ایمان قابل قبول نہیں ہے

اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کر دیا۔ پھر ان کے پیچھے پیچھے فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے چلا یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لاتا ہوں اس پر کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔ ( جواب دیا گیا) اب ایمان لاتا ہے؟ اور پہلے سر کشی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل ہو رہا تھا۔ سوآج ہم صرف تیری لاش کو نجات دیں گے تا کہ تو ان کے لئے عبرت کا نشان ہو۔ جو تیرے بعد ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آدمی ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔ “( سورہ یونس آیت نمبر90سے92) جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں یعنی بنی اسرائیل میں سے آخری آدمی دریا پار کر نکل گیا اور فرعون کے ساتھیوں میں سے آخری آدمی بھی دریا میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہاڑوں کی طرح کھڑا پانی آپس میں منل گیا۔ اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تمام بنی اسرائیل دریا کے اس پار کھڑے فرعون اور اس کے لشکر کو غرق ہوتے دیکھ رہے تھے۔ فرعون جب ڈوبنے لگا تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے لگا۔ ایسے وقت میں جبرئیل علیہ السلام اس کے قریب ہی تھے ۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ فرعون یہ کہہ رہا ہے تو آپ علیہ السلام نے کیچڑ اٹھا کر اس کے منہ میں بھرنی شروع کر دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جبرئیل علیہ السلام نے مجھ سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس وقت دیکھتے جب میں اس ڈر سے دریا کے اندر سے کیچڑ نکال نکال کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا کہیں اسے اللہ کی رحمت نہ پالے۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ کبھی بھی کسی پر اتنا غضب ناک ( انسانوں کے لفظ غصہ استعمال ہوتا ہے ) نہیں ہوا۔ جتنا کہ وہ فرعون پر اس وقت غضبناک ہو جب جاس نے کہا تھا کہ ”میں تونہیں جانتا کہ تمہار امیرے علاوہ کوئی اور خدا ہے۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر38) اور جب اس نے خدائی دعویٰ کیا اور کہا۔ ”میں تمہارا سب سے بڑا رب ( خدا ) ہوں۔“ ( سورہ النازعات آیت نمبر24) اسی لئے جب وہ غرق ہونے لگا تو مدد مانگنے لگا۔ اورمیں نے اس کے منہ میں جلدی جلدی کیچڑ ڈالنی شروع کر دی۔ اس ڈر سے کہ کہیں اس پر اللہ کی رحمت نہ آجائے۔

فرعون کی لاش قیامت تک کے لوگوں کے لئے عبرت کی نشانی

اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) آج ہم صرف تیری لاش کو نجات دیں گے تا کہ تو اُن لوگوں کے لئے عبرت کا نشان ہو۔ جو تیرے بعد ( آنے والے ) ہیں۔“ ( سورہ یونس آیت نمبر92) اللہ تعالیٰ نے فرعون کو دھتکار دیا۔ اور مرتے وقت کی توبہ کو قبول نہیں فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام دریا کے کنارے تمام بنی اسرائیل کے ساتھ کھڑے فرعون اور اس کے لکشر کو غرق ہوتے دیکھ رہے تھے۔ لیکن بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں نے آپ علیہ السلام سے فرمایا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ فرعون غرق ہو گیا ہے۔ یہ بنی اسرائیل کی بد بختی تھی کہ وہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات کا یقین نہیں کر رہے تھے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ بنی اسرائیل کو فرعون کی لاش دکھلا دے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور کئی دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے لوگوں کو شک گذراکہ شاید فرعون ابھی بھی زندہ ہے۔ حتی کہ بعض لوگ تو یہاں تک کہنے لگے کہ فرعون مرے گا ہی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو اس نے فرعون کی لاش بلندی پر اچھا دی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرعون کی لاش پانی کی سطح کے اوپر آگئی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ لہروں نے اسے خشکی کے ایک ٹیلے پر پھینک دیا۔ فرعون کے جسم پر ابھی تک زرہ تھی۔ جس سے بنی اسرائیل نے پہچان لیا۔ یہ اس لئے ہوا تا کہ بنی اسرائیل کو فرعون کی ہلاکت کا یقین آجائے۔ اور وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اس کے خلاف صادر ہو چکا ہے ۔ اسی لئے فرمایا۔ ” آج ہم تیرے جسم کو بچا لیں گے تا کہ تیر جس ان لوگوں کے لئے عبرت کی نشانی بن جائے جو تیرے بعد ( آنے والے ) ہیں۔“ فرعون کی لاش آج بھی ترکی کے ایک میوزیم میں رکھی ہوئی اور قیامت کے لئے آنے والے انسانوں کے لئے عبرت کی نشانی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ فرعون کی لاش ساڑھے تین ہزار 3500سال سے زیادہ کا عرصہ ہو جانے کے باجود بھی سڑی یا خراب نہیں ہوئی ہے۔ اور ویسی ہی ہے ۔ حالانکہ انسان جب کسی کی لاش کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے تو اس کے پیٹ کے اندر کی تمام آلائش کو نکال کر اسے مسالہ لگا کر حنوط کر کے ممی بنا کر رکھتے تھے۔ اور اسے ہوا سے بھی محفوظ رکھتے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود اس لاش کی حالت بد ل جاتی تھی۔ اور ہوا لکتے ہی وہ اور زیادہ خراب ہونے لگتی تھی۔ لیکن فرعون کی لاش کو نہ تو مسالہ لگایا گیا ہے اور نہ ہی حنوط کیا گیا اور نہ ہی ممی بنایا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ خراب نہیں ہو رہی ہے۔ اور لوگ اس کو دیکھ کر عبرت حاصل کر رہے ہیں اور قیامت تک آنے والے لوگ اسے دیکھ کر عبرت حاصل کرتے رہےں گے۔

بنی اسرائیل کی عجیب خواہش

حضرت موسیٰ علیہ السلام دریائے قلزم پار کرنے کے بعد جزیرہ نما ئے سینا یعنی صحرائے سینا میں داخل ہوئے اور اس وقت کے ملک کنعان اور حالیہ فلسطین کی طرف آگے بڑھے۔ کیوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو وہیں دفن کر نا تھا ۔ راستے میں ایک قبیلہ کی بستی سے گزرے ۔ اس بستی کے لوگ بتوں کی پوجا کر رہے تھے اور بتوں کے سامنے آسن جمائے بیٹھے تھے یہ دیکھ کر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ عجیب اور بے وقوفی والی فرمائش کی اور کہا ۔ آپ علیہ السلام بھی ہمارے لئے ایسا ہی خدا بنا دیں۔ جیسے ان لوگوں کے خدا ہیں۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ جاہل، بے وقوف اور نا سمجھ لوگ ہو۔ یہ لوگ جو کام کر رہے ہیں ا سکی وجہ سے یہ لوگ تباہ ہو جائیں گے۔ اور جو حرکت( یعنی شرک) یہ لوگ کر رہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کرے گا۔ در اصل جس بت کی وہ پوجا کر رہے تھے وہ ایک گائے کا بُت تھا۔ بنی اسرائیل سینکڑوں برس مصر میں رہے تھے۔ اور مصریوں ( قبطیوں ) کو گائے کے بت کی پوجا کرتے دیکھتے تھے۔ حالانکہ بنی اسرائیل نے مصر میں کبھی اس بت کی پوجا نہیں کی لیکن سینکڑوں برس غیر مسلموں کے ساتھ رہتے ہوئے وہ لوگ بھی گائے سے متاثر ہو گئے تھے۔ جس کا پہلا ثبوت یہ پہلا واقعہ ہے۔ ابھی آگے بیل کے بت کی پوجا اور گائے کو ذبح کرنے میں ہچکچاہٹ کے واقعات بھی پیش آئیں گے۔ در اصل یہ دنیا کا قاعدہ اور انسانی فطرت ہے کہ محکوم قوم سینکڑوں برس تک حاکم قوم کے ساتھ رہتے رہتے ان سے اور ان کے رسم و رواج اور مذہبی معاملات سے متاثر ہوتی جا تی ہے۔ جیسا کہ ہم ہندوستان کے مسلمان آج ہندو قوم کے مذہبی معاملات اور رسم و رواج سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ہندو قوم خوشیوں کے مواقع پر پٹاخے پھوڑتے اور آتش بازی کرتے ہیں۔ آج ہماری نوجوان نسل نے اس رسم کو اپنا لیا ہے اور خوشی کے مواقع پر پٹاخے پھوڑتے اور آتش بازی کر کے خوش ہوتے ہیں۔ حیرت اور عبرت کا مقام ہےکہ نکاح جیسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس سنت کو بھی ادا کرتے وقت میں ہندو قوم کی طرح پٹاخے پھوڑتے ہیں اور مساجد کا احترام بھی نہیں کرتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی قرآن پاک مثال پیش کی ہے کہ وہ لوگ اس طرح گمراہ ہوئے تھے۔ اور مسلمانوں کو سمجھایا ہے کہ تم ایسا مت کرنا۔ ورنہ ان کی طرح تم بھی ذلیل ہو جاﺅ گے۔ یہ ہم مسلمانوں کے علمائے کرام، بزرگوں اور نوجوانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ بنی اسرائیل کی اس عجیب فرمائش کے بارے میں اللہ تعالیٰ سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا۔ پس ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لگے بیٹھے تھے ( یہ دیکھ کر بنی اسرائیل ) کہنے لگے ۔ اے موسیٰ علیہ السلام ہمارے لئے بھی ایک ایسا معبود مقرر کر دیں جیسے ان کے معبود ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں یہ انہیں تباہ کر دے گا۔ اور ان کا یہ کام محض بے بنیاد ہے۔ اور فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کر دوں ؟ حالانکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر138سے 140تک)

کوہِ طور پر چالیس راتیں

حضرت موسیٰ علیہ السلام ، بنی اسرائیل کے ساتھ فلسطین کا سفر کر رہے تھے۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام کا سنگ مرمر کا تابوت ساتھ میں تھا۔ آپ علیہ السلام کو حبرون یعنی الخلیل میں دفن کرنا تھا۔ اور بیت المقدس میں بنی اسرائیل کو آباد کرنا تھا۔ لیکن راستے میں بنی اسرائیل ( یہودیوں ) نے عجیب سی فرمائش کی ۔ اسی لئے جب کوہِ طور کے پاس پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو حضرت ہارون علیہ السلام کی نگرانی میں چھوڑ کر چالیس راتوں کے لئے کوہِ طور پر آﺅ۔ وہاں ہم شریعت عطا فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا ۔ پھر تم نے ( بنی اسرائیل نے ) اس کے بعد بچھڑا پوجنا شروع کر دیا اور ظالم بن گئے۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر51) مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ فرعون اور اس کے لشکر کی تباہی کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرما دی۔ اب رب العالمین کی حکمت کا بھی یہی تقاضہ تھا اور قوم بنی اسرائیل بھی یہی چاہتی تھی کہ ان کو مستقل شریعت یا مستقل کتاب عطا کر دی جائے۔ تا کہ وہ اس پر عمل کر کے اس کو زندگی کا دستور العمل بنا سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب و شریعت عطا کرنے کے لئے تیس راتوں تک کوہِ طور پر رہنے کا حکم فرمایا۔ تیس راتیں گزرنے کے بعد ان میں دس راتوں کا اضافہ کر کے چالیس کر دیا گیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ امام ابن جریر طبری لکھتے ہیں کہ امام ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کر دیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو اس نے نجات دے دی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تیس راتوں کا وعدہ لیا۔ پھر مزید دس راتوں سے اسے پورا فرمایا۔ ان راتوں میں آپ علیہ السلام نے اپنے رب سے ملاقات کی ۔ اور حضرت ہارون علیہ السلام کو بنو اسرائیل پر خلیفہ بنایا اور فرمایا۔ میں اپنے رب کے پاس جلدی میں جا رہا ہوں۔ تم میرے خلیفہ ہو اور مفسدوں کی پیروی نہ کرنا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کے شوق میں جلدی چلے گئے۔ حضرت ہارون علیہ السلام قائم مقام ہوئے اور سامری بھی ان کے ساتھ رہا ۔ ابو العالیہ نے بیان کیا ہے۔ یہ مدت ایک مہینہ پورا ذی القعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن تھے۔ اس مدت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اصحاب کو چھوڑ کر چلے گئے اور حضرت ہارون علیہ السلام کو ان پر خلیفہ بنایا۔ اور کوہِ طور پر چالیس راتیں ٹھہرے اور ان پر زمرد کی الواح میں توریت نازل کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قریب کر کے سر گوشی کی اور ان سے ہمکلام ہوا۔ اور آپ علیہ السلام نے قلم کے چلنے کی آواز سنی اور ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ان چالیس راتوں میں وہ بے وضو نہیں ہوئے حتیٰ کہ کوہِ طور سے واپس آگئے۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ جب دریا پار ہو کر غرق فرعونی کا نظارہ کرنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہمراہی میں تمام بنی اسرائیل ملک فلسطین کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں ایک مندر کے خوب صورت بت اور اس کے پجاریوں کو دیکھ کر کچھ شر پسند ( بنی اسرائیلیوں ) نے اپنی پرانی غلامانہ زندگی کے تاثر کے تحت حضرت موسیٰ علیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم کو بھی کوئی اسی قسم کا معبود بنا دو۔ آپ علیہ السلام نے سخت جھڑکا ۔ تب بنی اسرائیل کے نیک بزرگوںنے عرض کیا۔ یا رسول اللہ علیہ السلام ، ہم کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب دلادیں۔ جس میں عبادت اور دنیاوی زندگی گزارنے کا ایمانی طریقہ لکھا ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ تم کو کتاب عطا فرمادی جائے گی۔ مگر شرط یہ ہے کہ تیس روزے رکھو گے اور اتنے ہی دن اعتکاف میں رہو گے پھر میرے پاس طور پر آنا توریت دے دی جائے گی۔ 

سامری نے بچھڑے کا بت بنایا 

حضرت موسیٰ علیہ السلام دریا پار کرنے کے بعد جب بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں جزیرہ نمائے سینا میں زیورات بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے سفر کرنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ یہ زیورات بنی اسرائیل نے چلتے وقت قبطیوں سے ادھار لئے تھے۔ کوہِ طور کے قریب پہنچنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یا حضرت ہارون علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ سونے چاندی کے تمام زیورات ایک گڑھا کھود کر دفن کر دو۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ یہیں رکو اور کوہ طور پر چلے گئے۔ سامری نے اس گھڑھے کو کھوداکر تمام زیورات نکال لئے اور انہیں پگھلا کر بچھڑے کا بت بنایا اور اس بت کو ایک چھوٹی سے پہاڑی پر رکھ دیا۔ وہ بت اندر سے کھوکھلا تھا اس لئے جب ہوا اس کے اندر سے گھس کر نکلتی تھی تو ایسی آواز آتی تھی جیسے گائے یا بیل چلا رہا ہو۔ جب اس میں سے آواز نکلنے لگی تو بنی اسرائیل چونک پڑے اور دوڑتے ہوئے پہاڑی کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ اس بت سے آواز نکل رہی ہے۔ وہ حیران ہو گئے۔ سامری نے ان سے کہا۔ یہ تمہار ا معبود ہے۔ بنی اسرائیل میں سے بہت سے لوگ اس بت کی پوجا کرنے لگے۔ حضرت ہارون علیہ السلام اور بقیہ بنی اسرائیل نے بہت سمجھایا۔ لیکن وہ نہیں مانیں اور بچھڑے کی پوجا کرتے رہے۔

سامری کی پرورش

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو بنی اسرائیل نے ہجرت کی اور دریا پار کیا تھا۔ ان میں ایک منافق بھی تھا۔ جس کا لقب سامری تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ جب فرعون اور اس کا لشکر دریا پر پہنچے تو فرعون سیاہ گھوڑے پر سوار تھا۔ اس کا گھوڑا دریا میں داخل ہونے سے ڈر گیا۔ پس جبرئیل امین علیہ السلام اپنی گھوڑی لے کر اس کے گھوڑے سے آگے نکلے تو گھوڑا بھی اس کے پیچھے دریا میں داخل ہو گیا۔ سامری نے جبرئیل علیہ السلام کو پہچان لیا کیوں کہ جب اس کی ماں کو اس کے ذبح ہونے کا اندیشہ ہوا تو اس نے اسے ایک غار میں چھپا دیا تھا اور بھول گئی تھی۔ جبرئیل علیہ السلام اس کے پاس آتے تھے اور اسے ایک انگلی سے دودھ ، دوسری انگلی سے شہد اور تیسری انگلی سے شہد کی غذا دیتے تھے۔ اس طرح وہ پرورش پاتا رہا حتیٰ کہ وہ بڑا ہو گیا۔ جب سامری نے جبرئیل علیہ السلام کو دریا میں دیکھا تو پہچان لیا۔ فرعون اور اس کے لشکر کے غرق ہو جانے کے بعد جب جبرئیل علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اجازت لے کر جانے لگے تو سامری کچھ دور ان کے پیچھے گیا اور ان کے گھوڑی کے پیر جہاں پڑے تھے وہاں کی مٹی اٹھا کر رکھ لی۔ اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اس مٹی کو جس چیز پر ڈالے گا اور پھر اسے کن یعنی ہو جا کہے گا تو وہ ہو جائے گی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر چلے گئے تو بنی اسرائیل نے جو زیورات پھینک دیئے تھے۔ سامری ان زیورات کے پاس گیا اور مٹی اُن زیورات پر ڈال کر کہا کہ تو ایسا بچھڑے کا ڈھانچہ بن جا جو گائے کیطرح ڈکارتا بھیہو۔ پس وہ اسی طرح بن گیا۔ ہوا اس کے پچھلے حصے میں داخل ہو کر منہ سے نکلتی تو اس کے منہ سے آواز نکلتی تھی۔ اس نے بنی اسرائیل سے کہا۔ یہ تمہاا خد اہے اور موسیٰ علیہ السلام کا بھی خدا ہے۔ پس وہ جم کر بیٹھ گئے اور اس کی عبادت شروع کر دی۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم، تم اس کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کئے گئے ہو۔ تمہار ا رب تو بے حد مہربان ہے۔ تم میری بات مانو اور میرے حکم کی پیروی کر و۔ انہوں نے کہا۔ ہم تو اسی پر جمے رہیں گے۔ حتیٰ کہ موسیٰ (علیہ السلام )ہماری طرف لوٹ کر آجائیں۔ 

سامری کون تھا؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر جانے کے بعد سامری نے بنی اسرائیل کو فتنہ میں مبتلا کر دیا۔ یہ سامری کون تھا؟ اس کے بارے میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں ۔ سامری لفظ کے بارے میں تین قول ہیں۔ (1) بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے ایک قبیلے کا نام سامری یا سامریہ ہے۔ (2) سامری ایک الگ قوم ہے جو ایک قبطی قوم سامرہ کی اصل اولاد سے منسوب ہے۔ (3) سامر عراق کے قریب فلسطینی حدود میں ایک علاقے کا نام تھا۔ موجودہ اسرائیلی حکومت کا دارالخلافہ ” تل ابیب“ اسی علاقے میں ہے۔ ان نسبتوں سے اس قبطی منافق کو سامری کہا گیا ۔ یہ اس کا ذاتی نام ۔نہیںہے بلکہ قومی یا وطنی نام ہے۔ قبطیوں یا اسرائیلیوں میں سے صرف یہی ایک منافقانہ مسلمان بنا تھا۔ سامری جادوگر ایک خاندانی زرگر ( سُنار ) تھا۔ اس نے زر گری مکارانہ تدبری ، تقریر اور صنعت کاری سے قوم کو گمراہ کر دیا۔ سامری لقب کا پورے بنی اسرائیل میں یہی ایک شخص تھا۔ یہ قبطی نسل کا تھا۔ اس کا باپ ظفر نام کا یک قبطی تھا۔ جس نے خفیہ طور پر اسلام قبول کر لیا تھا۔ اور ایک اسرائیلی ( یہودی) عورت سے شادی کر لی تھی۔ جس سے سامری پیدا ہوا ۔ یہ باپ کی طرف سے قبطی اور ماں کی طرف سے اسرائیلی تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتےہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ یہ قتل والے سال پیدا ہوا تھاتو اس کی ماں نے اسے جنگل میں لے کر چھپا دیا اور بھول گئی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل نے اس کی پرورش کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تین انگلیوں کے ذریعے اسے غذا پہنچائی۔ کچھ عرصے بعد جب یہ تھوڑا بڑا ہو ا تو اس کی ماں اسے گھر لے آئی۔ اس کا آبائی مکان حضرت موسیٰ علیہ السلام کے گھر کے پڑوس میں تھا۔ اس کی ماں نے بھی اس کا نام موسیٰ رکھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کیوجہ سے اس کا نام موسیٰ بن ظفر ہوا۔ اس کا باپ بچپن میں مر گیا تھا۔ یہ سامری جب جوان ہوا تو فرعون کے دربار تک رسائی حاصل کی اور فرعون نے جادوگروں کے ساتھ اسے بھی جادوگری کےلئے منتخب کر لیا۔ اس کا خاندانی پیشہ زر گری( زیورات بنانا) تھا۔ یہ زر گر سے جادو گر بن گیا۔ جب تمام جادو گر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہار گئے اور اسلام قبول کر لیا تو تین جادوگر فرعون کے ڈر سے بھاگ گئے تھے۔ ان میں سے ایک سامری تھا۔ آپ علیہ السلام نے جب رات میں خفیہ طور سے نکلنے کا اعلان فرمایا تو یہ اپنی ماں کے ساتھ بنی اسرائیل میں شامل ہو کر دریا پار کر گیا۔ اس کے باپ کے خاندان والے گائے کی پوجا کر تے تھے۔ اور یہ ان سے بہت متاثر تھا۔ جب کہ ماں اسے اسلام کی دعوت دیتی تھی۔ اس کے بارے میں مفسرین کے چند اقوال ہیں۔ (1) یہ اسرائیلی قبیلہ سامرہ میں سے تھا۔ (2) یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سگی خالہ یا پھوپھی کا بیٹا تھا۔ (3) یہ آپ علیہ السلام کے چچا کا بیٹا تھا۔ (4) یہ کرمانی زرگر کا بیٹا تھا جو کرمان سے آکر بنی اسرائیل میں شامل ہو گیا تھا مگر یہ منافق رہا۔ (5) یہ علاقہ موصل کے باجرما قبیلے سے تھا اور اس کا اصل نام موسیٰ بن ظفر تھا۔ اور سامری لقب تھا۔ 

بچھڑے کی پوجا

حضرت موسیٰ علیہ السلام ابھی کوہ طور سے واپس نہیں آئے تھے کہ سامری نے بچھڑے کا بت بنا کر پیش کر دیا۔ اور اس کی وجہ سے اچھے خاصے اسرائیلی شرک میں مبتلا ہو گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو فرمایا تھا کہ چالیس دنوں کے لئے جا رہا ہوں اور تمہارے لئے کتابِ شریعت لے کر آﺅں گا۔ مفتی احمد یا رخان نعیمی لکھتے ہیں۔ اسرائیلیوں نے ان ( چالیس) دنوںکی گنتی کو ( سامری کے بہکانےکی وجہ سے ) دن اور رات کو الگ الگ گِنا ۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو گئے بیس دن ہو گئے تو سامری نے بنی اسرائیل سے کہنا شروع کر دیا کہ تیس دن کا وعدہ تھا مگر اب چالیس دن ہو گئے۔ اب موسیٰ ( علیہ السلام )نہیں آئیں گے ۔ شاید ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ یا پھر وہ ناراض ہو گئے ہیں۔ پھر اس نے بچھڑے کا بت بنا دیا جو چھ مہینے کے بچھڑے کے قد کاٹھ کے برابر تھا۔ بنی اسرائیل نے بھی سامری کے اُکسانے پر بیس دنوں کو چالیس دن گِنا۔ اور یہ عادت آج بھی یہودیوں اور عیسائیوں کے قانون میں شامل ہے۔ وہ کسی بھی مدت کو گزارنے میں رات کو الگ ایک دن اور دن کو الگ ایک دن شمار کرتے ہیں۔ مگر تاریخ دن رات کی ملا کر ایک رکھتے ہیں۔مثلا تیس دن اور رات کی تاریخ ایک مہینہ پکڑتے ہیں۔ مگر مدت کے طور پر اسے دو مہینہ پکڑتے ہیں۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ یہ سامری سنار تھا جو اہل باجرمی تھا۔ بعض نے فرمایا۔ یہ اہل کرمان تھا۔ اصل میں یہ منافق تھا مگر اسلام کا اظہار کرتا تھا۔ یہ اس قوم کا فرد تھا جو گائے کی پوجا کرتی تھی۔ اس نے زیورات سے تین دن میں بچھڑا بنا دیا اور بولا یہ ہے موسیٰ علیہ السلام کا خدا اور وہ تو بھول گئے ہیں۔ پس بہت سے بنی اسرائیل بچھڑے کو دیکھنے کے بعد اس کی پوجا کرنے لگے اور فتنے میں مبتلا ہو گئے۔ بعض علمائے فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے تیس دن کا وعدہ کیا تھا۔ پھر جب تیس دن سے زیادہ ہو گئے تو فتنہ میں مبتلا ہو کر بچھڑے کی پوجا کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اورہم نے موسیٰ علیہ السلام سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا۔ پھر تم نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا اور ظالم بن گئے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر51)

حضرت ہارون علیہ السلام کے سمجھانے پر اکثریت نے شرک نہیں کیا۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( بنی اسرائیل نے ) جواب دیا کہ ہم نے اپنے اختیار سے آپ (علیہ السلام )کے ساتھ وعدے کا خلاف نہیں کیا بلکہ ہم پر جوزیورات کے بوجھ لادے ہوئے تھے انہیں ہم نے ( ایک گڑھے میں ) ڈال دیئے۔ اور اسی طرح سامری نے بھی کیا۔ پھر اس نے ( سامری نے ) لوگوں کے لئے بچھڑا بنا کر کھڑ اکر دیا۔ یعنی گائے کے بچھڑے کا بت، جس کی آواز گائے کی طرح تھی ۔پھر کہنے لگا کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ ( علیہ السلام )کا بھی۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام ) بھول گیا ہے۔ کیا یہ گمراہ لوگ یہ بھی نہیں دیکھ رہے تھے کہ وہ ( بچھڑے کا بت) تو ان کی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا۔ اور نہ ہی ان کے کسی برے بھلے کا اختیار رکھ سکتا ہے۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر87سے89تک) ۔ جب سامری کے بہکانے پر بنی اسرائیل بچھڑے کی پوجا کرنے لگے تو حضرت ہارون علیہ السلام انہیں سمجھانے لگے اور پوجا سے روکنے لگے۔ آپ علیہ السلام کی بات مان کر بنی اسرائیل کی اکثریت تو شرک کرنے سے رک گئی لیکن پھر بھی اچھے خاصے لوگ شر ک میں مبتلا ہو گئے۔ اس وقت بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ تھی۔ ان میں سے ایک روایت کے مطابق 70ہزار بچھڑے کی پوجا میں مبتلا ہو گئے تھے۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ دیکھو یہ شرک ہے۔ اور شرک کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کرتا۔ اور تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ اس بچھڑے کی پوجا چھوڑ دو۔ اور صرف ایک اکیلے اللہ کی عبادت کرو۔ اور میری بات مان لو یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہارون علیہ السلام نے اس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا ۔ اے میری قوم کے لوگو، اس بچھڑے کے ذریعے تمہیں آزمایا جارہا ہے۔ اور تمہارا حقیقی رب (یعنی معبود ) توصرف اللہ رحمن ہی ہے ۔ پس تم سب میری تابعداری کرو۔ اور میری بات مانو۔ انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ علیہ السلام کی واپسی تک تو ہم اسی کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر90اور 91)

توریت کا نزول

حضرت ہارون علیہ السلام کے سمجھانے کے باوجود ادھر کوہِ طور کے نیچے بنی اسرائیل کے لوگ بچھڑے کی پوجا کر رہے تھے اور اُدھر کوہِ طور کے اوپر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت کا نزول ہو رہا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے چاندی کی بارہ تختیاں عطا فرمائیں ۔ ان پر توریت لکھی ہوئی تھی۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی لکھتے ہیں۔ پھر گیارہ ذی الحجہ کو توریت کی تختیاں ملیںجو دونوں طرف لکھی ہوئی تھیں۔ یہ چاندی سے بنی ہوئی تختیاں تھیں۔ ان میں ایک ہزار سورہ تھیں۔ اور ہر سورہ میں ایک ہزار آیات تھیں۔ تقسیم اس طرح تھی کہ 8تختیوں میں 83، تیراسی 83تیراسی سورہ لکھی ہوئی تھیں۔ اور چار میں چوراسی 84چوراسی 84سورہ لکھی ہوئی تھیں۔ ان میں سے پہلی آٹھ میں شریعت کے احکام تھے۔ (1) عبادت کی تعداد اور طریقے 2) انتظامی ملکی قانون( نظام عدل) (3) دعائیں (4) سابقہ تاریخی واقعات و قصے (5) فضائل (6) رحمت برکت (7) پیشن گوئیاں (8) قیامت کا ذکر، ثواب و عذاب کا بیان تھا۔ اور باقی چار تختیوں میں طریقت کے مسائل تھے۔ (9) وظائف (10) مراقبہ خلوت (11) قرب الٰہی (12)معرفت ۔ یعنی شریعت کی آٹھ اور طریقت کی چار یہ بارہ تختیاں توریت کا مجموعہ تھیں۔ کوہ طور کے اوپر جب چالیس راتیں گزر گئیں اور توریت کا نزول مکمل ہو گیا تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ تمہاری یہاں حاضری کے دوران تمہاری قوم کے لوگ شرک میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اور سامری نے انہیں بہکایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے موسیٰ (علیہ السلام )تجھے اپنی قوم سے کون سی چیز جلدی لے آئی؟ ( آپ علیہ السلام نے ) عرض کیا۔ وہ لوگ بھی میرے پیچھے پیچھے ہیں اور میں نے اے رب آپ کی طرف جلدی اس لئے کی کہ آپ خوش ہو جائیں ۔ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ ہم نے تیری قوم کو تیرے پیچھے آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اور انہیں سامری نے بہکادیا ہے۔ “( سورہ طٰہٰ آیت نمبر83سے 85)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جلال

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب بنی اسرائیل کی حرکت کا علم ہوا تو آپ علیہ السلام بہت جلال میں آگئے اور اسی کیفیت میں توریت کی تختیاں اٹھائیں اور کوہ طور پر سے اتر کر بنی اسرائیل کے پاس آئے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس موسیٰ (علیہ السلام )سخت جلال میں آکر رنج کے ساتھ واپس لوٹے اور فرمایا۔ اے میری قوم والو، کیا تم سے تمہارے رب نے نیک وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا اس کی مدت ( یعنی چالیس دن ) تمہیں لمبی معلوم ہوئی ؟ یا پھر تمہارا ارادہ ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو؟ کہ تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔ انہوں نے ( بنی اسرائیل ) جواب دیا۔ ہم نے اپنے اختیارسے آپ (علیہ السلام )کے ساتھ ( کئے ) وعدے کے خلاف نہیں کیا ہے۔بلکہ ہم پر جو زیورات کے بوجھ لدے ہوئے تھے انہیں ہم نے ( ایک گڑھے میں ) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے بھی ( مٹی ) ڈال دی۔ پھر اس نے لوگوں کے لئے بچھڑا بنا کر کھڑ اکیا یعنی بچھڑے کا بت ، جس کی گائے کی جیسی آواز بھی تھی۔ پھر اس نے کہا کہ یہی تمہارامعبود ہے اور موسیٰ (علیہ السلام )کا بھی۔ لیکن موسیٰ(علیہ السلام )بھول گیا ہے ۔ کیا یہ گمراہ یہ بھی نہیں دیکھ رہے تھے کہ وہ ( بچھڑے کا بت) ان کی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ ہی ان کے کسی بھلے برے کا اختیار رکھتا ہے۔ اور ہارون ( علیہ السلام )نے اس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا۔ اے میری قوم والو، اس بچھڑے سے تمہاری آزمائش کی گئی ہے۔ تمہارا حقیقی رب تو اللہ رحمن ہی ہے۔ پس تم سب میری تابعداری کرو اور میری بات مانو۔ انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ(علیہ السلام )کی واپسی تک تو ہم اسی کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ اے ہارون (علیہ السلام ) انہیں گمراہ ہوتا ہوا دیکھتے ہوئے تجھے کس چیز نے روکا تھا؟ کہ تو میرے پیچھے نہ آیا ۔ کیا تو بھی میرے فرمان کا نا فرمان بن بیٹھا۔ ہارون ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اے میرے ماں جائے بھائی، میری داڑھی نہ پکڑ۔ اور سر کے بال نہ کھینچ، مجھے تو صرف یہی خیال دامن گیر تھا کہ کہیں تم یہ ( نہ ) کہو کہ میں نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میر ی بات کا انتظار نہیں کیا۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر86سے 94تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آتے ہی بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے شرک کیا تھا انہیں ڈانٹا۔ آپ علیہ السلام بہت جلال میں تھے۔ ان کے جلال کو دیکھ کر جن لوگوں نے شرک کیا تھا وہ اپنی صفائی پیش کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام اس کے بعد حضرت ہارون علیہ السلام اور ان بنی اسرائیل کی طرف متوجہ ہوئے جنہوں نے شرک نہیں کیا تھا۔ اور فرمایا کہ تم لوگوں نے انہیں کیوں نہیں روکا تو حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے صرف اس لئے زیادہ سختی نہیں کی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بنی اسرائیل فرقوں میں بٹ جائیں۔

سامری کی سزا

اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے پوچھا۔ اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے وہ چیز دکھائی دی جو انہیں نہیں دکھائی دہ۔ تو میں نے اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرستادہ ( جبرئیل علیہ السلام ) کے نقس قدم سے ایک مٹھی بھرلی تھی۔ اور اسے اس میں ( بچھڑے کے بت میں) ڈال دیا۔ اسی طرح میرے دل نے یہ بات میرے لئے بتا دی ( آپ علیہ السلام )نے فرمایا۔ اچھا جا، دنیا کی زندگی میں تیری یہ سزا ہے کہ تو کہتا رہے کہ مجھے نہ چھونا۔ اور ایک اور بھی وعدہ (یعنی آخرت کی سزا کا ) تیرے ساتھ ہے۔ جو تجھ سے ہرگز نہیں ٹلے گا۔ اور اب تو اپنے اس معبود ( بچھڑے کے بت) کو بھی دیکھ لینا جس کا تو اعتکاف کئے ہوئے تھا۔ ہم اسے جلا کر ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہاد یں گے۔“ (سورہ طٰہٰ آیت نمبر 95سے 97تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے سامری ڈھیٹ بن گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اب تو جا، اگر تجھے کوئی چھوئے گا تو تجھے شدید بخار اور کپکپی آئے گی اور تو لوگوں کو چلا چلا کر کہے گا مجھے مت چھونا۔ یہ تو تیری دنیا میں سزا ہے اور آخرت میں جو سز ملے گی وہ اور بھی شدید ہوگی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام جلال میں حضرت ہارون علیہ السلام اور بنی اسرائیل سے مخاطب تھے اس وقت سامری کی کیا حالت تھی؟ اس کے بارے میں تین قول ہیں۔ پہلا یہ کہ سامری اس وقت وہیں ڈرا ہوا سہما ہو ا لرزتے ہوئے یہ سب جھڑک و جلال اور معذرت و بیان کا منظر دیکھ رہا تھا۔ آپ علیہ السلام پھر وہیں اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ سامری اپنے خیمے میں ڈرا سہما بیٹھا تھا۔ تیسرا قول ہے کہ بچھڑے کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ بچھڑے سے التجائیں کر تا ہو کہ مجھے جلا ل موسیٰ سے بچا لے۔ آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ۔ اب تو بول اے سامری اس کفریہ شرکیہ فعل بد سے تیری کیا ارادہ تھا؟ اور قوم کے لوگوں کو گمراہ کرکے تجھے کیا ملا؟ تو سامری نے بتایا کہ جس کو آپ علیہ السلام، جبرئیل علیہ السلام کہتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ اس کی گھوڑی جہاں قدم رکھتی تھی تو وہاں پتھریلی اور ریتیلی زمین پر ہری ہری گھاس اُگ آتی تھی۔ میں نے اس حیرت زدہ بات دیکھ کر ان نشاناتِ قدم سے ایک مٹھی مٹی اٹھا لی اور جب بنی اسرائیل نے ایک مندر سے گزرتے ہوئے آپ علیہ السلام سے التجا کی تھی اور آپ علیہ السلام نے جھڑک دیا تھا۔ تب ہی میں نے سوچ لیا تھا ان کے لئے ایک اچھا بت بناﺅں گا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے سامری اب تیری سزا یہ ہے کہ تو ساری زندگی لوگوں سے کہتا پھرے گا کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگانا۔ مجھے ہاتھ نہ لگانا۔ اور اگر کوئی تجھ کو ہاتھ لگادے گا تو تجھ کو اور اس کو فوراً اذیت ناک درد اور بیہوشی کا سردی والا سخت بخار آجا یا کرے گا۔ جو تین دنوں تک رہے گا۔ مگر مہینہ بھر کے لئے دونوں کمزور ہو جاﺅ گے کہ اس کا کوئی علاج نہیں ہو گا۔ 

توبہ کی قبولیت کی شرط

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا۔ پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا اور ظالم بن گئے۔ لیکن اس کے باوجود پھر بھی تمہیں معاف کر دیا کہ تم شکر ادا کرو۔ اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام )کو تمہاری ہدایت کے لئے کتاب اور معجزے عطا فرمائے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اے میری قوم، تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو۔ اور اپنے آپ کو آپس میں قتل کرو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہاری بہتری اسی میں ہے۔ تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی۔ اور وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے۔“ (سورہ البقرہ آیت نمبر51سے 54تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور موسیٰ (علیہ السلام )کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا معبود ٹھہرالیا جو ایک قالب یعنی صرف پتلا تھا۔ جس میں ایک آواز تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان سے بات نہیں کرتا تھا۔ اور ان کو کوئی راستہ بھی نہیں بتا تا تھا۔ اور انہوں نے اس کو معبود بنا لیا۔ اور بڑی بے انصافی کا کام کیا۔ اور جب نادم ہوئے  اور معلوم ہوا کہ واقعی وہ لوگ گمراہی میں پڑ گئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا گناہ معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے ہوجائیں گے ۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر148سے 149تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہِ طور سے واپس آئے تو بہت جلال میں تھے۔ آپ علیہ السلام کے سامنے وہ لوگ شرمندہ ہوئے اور توبہ کی۔ اور آپ علیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم سے بہت بڑی بھول ہو گئی ہے۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہماری معافی کی درخواست کردیں۔ آپ علیہ السلام نے ان کی توبہ کی قبولیت کی دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ لوگوں نے شر ک نہیں کیا ان کی توبہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو قتل کے لئے پیش کر دیں۔ اور جن لوگوں نے شرک نہیں کیا تھا ان کی توبہ یہ ہے کہ وہ اپنے شرک کرنے والے بھائی کو قتل کریں۔ بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ تھی ان میں لگ بھگ ستر 70ہزار لوگوں نے شرک کیا تھا۔ انھوں نے اپنے آپ کو قتل کےلئے پیش کردیا۔ اور ان کے بھائیوں نے انھیں قتل کردیا۔ تب ان کی معافی قبول ہوئی ۔ آج ہمارے ہندوستان میں کروڑوں لوگ کافر رہ رہے ہیں اور انھیں ہم شرک کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں ہم سے نہیں پوچھیں گے؟ یقیناً پوچھیں گے۔ 

توریت قبول کرنے کی شرط

اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جب شر ک کرنے والوں کو قتل کردیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا۔ اسکے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے توریت کی الواح (تختےاں ) اٹھائیں اور بنی اسرائیل کو پیش کرکے فرمایا۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے بھیجی ہے۔ اسے قبول کرلو۔ بنی اسرائیل نے کہا۔اگر اس میں آسان احکامات ہوں گے تو ہم قبول کریں گے اور اگر مشکل احکامات ہوں گے تو ہم قبول نہیں کریں گے۔ تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے ایک بہت بڑے پہاڑ کو اٹھا کر ان کے اوپر معلق کردیا اور حکم دیا کہ توریت کو قبول کرو ورنہ یہ پہاڑ تم پر ڈال دیا جائے گا اور تم سب ہلاک ہوجاﺅ گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں سورة الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ۔” اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے اوپر معلق کردیااور ان کو یقین ہوگیا کہ اب ان پر گرا۔ اور فرمایا جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ قبول کرلو۔ اور جو احکامات اس میں ہیں انھیں یاد بھی رکھو۔ اس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاﺅگے“۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دےگر اسلاف فرماتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام توریت کے الواح یعنی تختیاں لے کر آئے جن پر توریت لکھی ہوئی تھی۔ تو بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اسے قبول کرلو اور عزت و ہمت سے اسے لے لو۔ بنی اسرائیل کہنے لگے۔ یہ ہمیں پڑھ کر سناﺅ۔ اگر اس کے آسان احکامات ہوں گے تو ہم قبول کریں گے۔ آپ علیہ السلام نے پھر فرماےا جس حال میں تمھاری طرف بھیجی گئی ہے اسی حال میں خوشی خوشی قبول کرلو۔ تو پھر بنی اسرائیل نے یہی کہا کہ اگر اس میں آسان اوامر و نواہی ہوں گے تو قبول کریں گے ورنہ نہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا اور انھوں نے پہاڑاٹھاکر ان کے سروں کے اوپر کر دیا۔ جسے دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ یہ بادل ہے جو ان کے اوپر چھایا ہوا ہے۔ اور انھیں بتادیا گیا کہ اگر انھوں نے ان تختیوں پر جو احکامات ہیں اگر قبول نہیں کئے تو یہ پہاڑ ان پر الٹ دیا جائے گا۔تب اس بدبخت قوم بنی اسرائیل یعنی یہودیوں نے توریت کو قبول کرلیا۔ اس کے بعد ان بد بختوں کو حکم دیا گیا کہ سجدہ کرو ۔ تو وہ سب سجدہ میں گر گئے اور کن انکھیوں سے پہاڑ کو دیکھنے لگے ۔ آج بھی یہویوں میں یہ عام عادت ہے اور جب بھی وہ سجدہ کرتے ہیں تو کن انکھیوں سے اوپر دیکھتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ اس سجدے سے بڑا کوئی سجدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے عذاب ٹل گیا۔

بنی اسرائیل کی گستاخی

اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جب بنی اسرائیل نے توریت قبول کر لی اور سجدہ کر لیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے پہاڑ اُن کے اوپر سے ہٹا لیا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل نے عرض کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے خصوصی طور سے معافی مانگنا چاہتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں 70سب سے نیک اور اچھے لوگوں کو لے کر کوہِ طور پر آﺅ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے چیدہ چیدہ ستر 70 آدمیوں کو چنا اور انہیں حکم دیا کہ چلو اللہ کے دربار میں حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور اپنی باقی ماندہ قوم کے لئے بھی استغفار کرو۔ روزہ رکھو۔ نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہنو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں لے کر کوہ طور کی طرف روانہ ہوئے ۔ تمنا یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب حاضر ہو کر گناہوں کی معافی مانگیں گے۔ آپ علیہ السلام یہ سب اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق کر رہے تھے۔ ملاقات کا وقت مقرر تھا۔ ان 70 آدمیوں کا مطالبہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سنیں گے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حامی بھر لی تھی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر پہنچے تو بادلوں کا ایک ستون دیکھا جو تھوڑی دیر میں پہاڑ کے اوپر چھا گیا۔آپ علیہ السلام آگے بڑھے اور بادل کے اس ستون میں داخل ہو گئے جو آسمان تک گیا ہوا تھا۔ اور اپنے ساتھیوں کو بھی آگے آنے کا حکم دیا۔ آپ علیہ السلام جب اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہو تے تھے تو ان کے چہرہ مبارک پر ایک نور چھا جاتا تھا۔ اور کوئی آپ علیہ السلام کے چہرہ ¿ مبارک کی طرف نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ( اگر دیکھتا تھا تو اس کی آنکھیں پھوٹ جاتی تھیں) آپ علیہ السلام کے ساتھی آگے بڑھ کر بادل میں داخل ہوئے اور سب کے سب سجدہ میں گر پڑے۔ اسی حالت میں انہوں نے سنا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے رہا ہے کہ فلاں فلاں کام کرو اور فلاں فلاں کام سے رک جاﺅ۔ جب گفتگو مکمل ہو چکی تو اور بادل چھٹ گیا تو ان 70علماءنے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )ہم اس وقت تک تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو کھلے عام دیکھ نہیں لیں گے۔ پس انہین زلزلے نے آگھیرا۔ بجلی کڑکنے لگی اور دہشت کے مارے ان کے جسم و جان کا تعلق ٹوٹ گیا۔ اور ان میں سے ایک بھی زندہ نہیں رہا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ کی پاکی اور تقدیس بیان کرنے لگے اور دعا کرنے لگے۔ اے میرے اللہ، اگر آپ چاہتے تو انہیں ہلاک کر دیتے اس ( گستاخی) سے پہلے ہی اور مجھے بھی۔ کیا آپ ہمیں اُس ( غلطی ) کی وجہ سے ہلاک کر دیں گے جو چند احمقوں نے کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور موسیٰ ( علیہ السلام )نے 70آدمی اپنی قوم میں سے ہمارے متعین کئے وقت کے لئے منتخب کئے۔ سو جب اُن کو زلزلہ نے آپکڑا تو موسیٰ (علیہ السلام )عرض کرنے لگے۔ اے میرے رب، اگر آپ کو منظور ہوتا تو اس سے پہلے ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کر دیتے ۔ کیا آپ ہم میں سے چند بے وقوفوں کی حرکت پر سب کو ہلاک کر دیں گے۔ یہ واقعہ صرف آپ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ ایسے امتحانات سے جسے آپ چاہیں گمراہی میں ڈال دیں۔ اور جس کو چاہے ہدایت پر قائم رکھے۔ اور آپ ہی ہماری خبر رکھنے والے ہیں۔ پس اے اللہ ، ہم پر رحمت فرما اور ہماری مغفرت فرما ۔ اور تو ہی سب معافی دینے والوں میں سے سب سے زیادہ اچھا ہے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر155)اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ( اے بنی اسرائیل ) تم نے موسیٰ ( علیہ السلام )سے کہا تھا کہ جب تک ہم اپنے رب کو سامنے نہیں دیکھ لیں گے تب تک ایمان نہیں لائیں گے۔ ( اس گستاخی کی سزا میں ) تم پر تمہارے دیکھتے ہوئے بجلی گر پڑی۔ لیکن پھر ہم نے تمہیں اس موت کے بعد زندہ ا سلئے کر دیا کہ تم شکر گذاری کرو۔ “ (سورہ البقرہ آیت نمبر55اور 56)

بنی اسرائیل ملک کنعان (فلسطین ) میں

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی۔ اور حکم دیا کہ اب ملک کنعان ( حالیہ فلسطین) میں تمہیں جا کر آباد ہونا ہے۔ کیوں کہ تمہارے آبا ﺅ اجداد وہیں سے آکر مصر میں آباد ہوئے تھے۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی وہیں ان کے والدین کے بازور میں دفن کرنا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر ملک کنعان کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں معبود بنانے کی فرمائش ، آپ علیہ السلام کا توریت لینے کےلئے کوہِ طور پر جانا۔ سامری کا بچھڑے کا بت بنانا، بنی اسرائیل کا بچھڑے کی پوجا کرنا اور پھر توبہ کرنا ، توریت کو قبول کرنے میں آنا کانی کرنا وغیرہ کے واقعات پیش آئے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو حکم دیا کہ ملک کنعان کی طرف روانہ ہو جاﺅ۔ اور بنی اسرائیل کو لے کر ملک کنعان میں داخل ہو ئے۔ اور حبرون یعنی الخلیل میں ( فلسطین میں آج بھی یہ شہر الخلیل کے نام سے آباد ہے۔ اسے حبرون بھی کہا جاتا ہے ) حضرت ابراہیم علیہ السلام ، سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا ، حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے ساتھ میں حضرت یوسف علیہ السلام کو دفن کر دیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس وقت کے ” اریحا“ اور حالیہ ” بیت المقدس “ ( اسے یہودی یروشلم بھی کہتے ہیں) کی طرف روانہ ہوئے اور اس سے کچھ دور پر پڑاﺅ ڈال دیا۔ اور فرمایا کہ اس علاقے میں جو لوگ آباد ہیں ہمیں ان سے جنگ کرکے انہیں اس سر زمین سے نکالنا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے گا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی گنتی کروائی۔ ان میں چھ لاکھ سے زیادہ جنگ لڑنے والے لوگ تھے۔ اور بوڑھے ، بچے اور عورتیں ان کے علاوہ تھے۔

بنی اسرائیل کے بارہ نقیب

حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں۔ ان بارہ بیٹوں کی نسل بارہ قبیلہ بنی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان بارہ قبیلوں کی گنتی کروائی۔ ( جسے آج کل مردم شماری کہا جاتا ہے) اس کے بعد ان بارہ قبیلوں کے بارہ نقیب مقرر فرمائے۔ ان بارہ نقیبوں کو حکم دیا کہ وہ خاموشی سے اریحا یعنی بیت المقدس میں داخل ہو ں اور وہاں کے تمام حالات کا جائزہ لےکر آئیں اور اس بارے میں رپورٹ پیش کریں۔ اس رپورٹ کے مطابق جنگ کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا ۔ ترجمہ ” اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان لیا اور ان ہی میں سے بارہ سردار مقرر فرمائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمادیا۔ یقینا میں تمہارے ساتھ ہوں۔“ ( سورہ المائدہ آیت نمبر12) عہد و پیمان حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان بارہ نقیبوں یا سرداروں یا جاسوسوں سے یہ لیا تھا کہ اریحا یعنی بیت المقدس کے جو بھی حالات ہوں ہو خاموشی سے مجھے آکر بتا دینا اور بنی اسرائیل کی عوام کو نہیں بتانا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ کہ امام ابو جعفر محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی قوم بنی اسرائیل کے بارہ سرداروں کو منتخب کر کے جبابرہ کی سر زمین شام ( یاد رہے اس وقت فلسطین ملک شام میں آتا تھا۔ یعنی 300ہجری میں ) میں بھیجیں ۔ تا کہ وہ اس قوم کے احوال کی تفتیش کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اطلاع دیں۔ اور اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو اس قوم اور ملک کا وارث بنائے اور اس سرزمین میں آباد کرے۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کی قوم سے نجات دلائی تھی۔ تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بارہ نقیبوں کو چنا اور انہیں جبابرہ کی طرف بھیجا۔

دس نقیبوں نے عہد و پیمان توڑ دیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارہ نقیبوں کو جبا برہ کی جاسوسی کےلئے بھیجا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ یہ بارہ نقیب جبا برہ کی جاسوسی کرنے کے لئے روانہ ہو گئے۔ ان کو راستے میں جبا برہ کا ایک شخص ملا۔ اس کا نام عاج ( عوج بن عنق ) تھا۔ وہ اس قدر لمبا اور جسیم تھا کہ اس نے بارہ نقیبوں کو پکڑ کر اپنے لیفہ میں اڑس لیا ۔ اس کے سر پر لکڑیوں کا گٹھا تھا۔ وہ ان کو لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور بولا۔ دیکھو یہ لوگ اپنے زعم میں ہم سے لڑنے آئے تھے۔ پھر اس نے ان سب کو نیند سے نکال کر پھینک دیا۔ اور اپنی بیوی سے بولا۔ کیا خیال ہے میں ان سب کو اپنے قدموں سے روند ڈالوں؟ تو اس کی بیوی نے کہا۔ نہیں بلکہ ان کو چھوڑ دو تا کہ یہ اپنی قوم میں جا کر ہماری قوت اور طاقت کا حال بتائیں۔ جب یہ لوگ وہاں سے واپس ہوئے تو انہوں نے آپس میں کہا۔ اگر ہم نے بنی اسرائیل کی عوام کو اس قوم کا حال بتا دیا تو وہ سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھوڑ جائیں گے اور مرتد ہو جائیں گے۔ اس لئے تم صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو اس خبر سے مطلع کر نا۔ پھر انہوںنے ایک دوسرے سے اس بات پر عہد و پیمان لے لیا۔ لیکن ان میں سے صر ف دو نقیب اس عہد پیمان پر قائم رہے۔ اور وہ یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا تھے۔ اور باقی دس نقیبوں نے اس عہد کو توڑ کر بنی اسرائیل کی عوام کو سماج کا واقعہ بیان کر دیا۔ اس روایت میں جس طرح قوم جبابرہ کو بتایا گیا ہے اس پر یقین کرنا ذرا مشکل لگتا ہے۔ ہاں اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ جبا برہ بہت طاقتور قوم تھی۔ اور ان بارہ نقیبوں میں سے صرف یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا نے عوام کو کچھ نہیں بتایا اور صرف آپ علیہ السلام کو بتایا۔ لیکن باقی دس نقیبوں میں سے صرف یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا نے عوام کو کچھ نہیں بتایااور صرف آپ علیہ السلام کو بتایا ۔ لیکن باقی دس نقیبوں نے اس واقعہ میں مرچ مسالہ لگا کر اور اتنا بڑھا چڑھا کر اس واقعہ کو پیش کیا اور قوم جبابرہ کو اتنی زیادہ طاقتور بنا کر بنی اسرائیل کی عوام کے سامنے پیش کیا کہ اس کی وجہ سے ان میں بزدلی آگئی۔

بنی اسرائیل کا جنگ کرنے سے انکار

اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور یاد کرو، موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنی قوم سے کہا۔ اے میری قوم کے لوگو، اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر کرو کہ اس نے تم میں سے انبیائے کرام بنائے اور تمہیں بادشاہ بنا دیا اور تمہیں وہ عطا فرمایاجو عالمین میں کسی کو نہیں عطا فرمایا۔ اے میری قوم والو ۔ اس مقدس زمین میں داخل ہو جاﺅ۔ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دی ہے۔ اور پیٹھ پھیر کر منہ نہ پھیرو( یعنی جنگ سے پیچھے مت ہٹو) اور سرکش لوگ ہیں۔ اور جب تک وہ وہاں سے نکل نہیں جائیں گے تب تک ہم تو ہر گز وہاں نہیں جائیں گے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں۔پھر تو ہم ( خوشی سے ) داخل ہو جائیں گے۔ دو شخصوں نے جو اللہ پر یقین رکھتے تھے اور جن پر اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔ ( یعنی یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا ) اُن دونوں نے کہا۔ تم ان کے پاس دروازے تک پہنچ تو جاﺅ۔ دروازے پر قدم رکھتے ہی یقینا تم ہی غالب آجاﺅ گے۔ اور اگر تم مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیئے۔ قوم نے جواب دیا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )جب تک وہ وہاں ہیں تب تک ہم ہرگز وہاں نہیں جائیں گے۔ اس لئے تم اور تمہار ا رب ( یعنی اللہ تعالیٰ) جا کر تم دونوں ہی لڑ بھڑلو۔ ہم تو یہیں بیٹھے انتظار کر رہے ہیں۔“( سورہ المائدہ آیت نمبر20سے 24تک) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ مصر کی حدود سے نکل گئے اور بیت المقدس کے سامنے پہنچے تو وہاں آپ علیہ السلام کا سامنا ایک جابر قوم سے ہوا۔ یہ قوم حیثاثین ، فزاریین اور کنعانین وغیرہ تھے۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ فلسطین میں داخل ہو جاﺅ۔ اور ان قوموں کے ساتھ جنگ کرو۔ اورانہیں بیت المقدس سے مار بھگاﺅ۔ کیو ں کہ یہ شہر اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور میری زبانی یہ ملک تمہیں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لیکن بنی اسرائیل نے انکار کر دیا اور جہاد سے منہ موڑ لیا۔ اس کے بعد آغے لکھتے ہیں لیکن میری زبانی یہ ملک تمہیں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن بنی اسرائیل نے انکار کر دیا اور جہاد سے منہ موڑ لیا۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں۔ لیکن میری زبانی یہ ملک تمہیں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لیکن بنی اسرائیل نے انکار کر دیا اور جہاد سے منہ موڑ لیا۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں لیکن بنی اسرائیل میں دو آدمی ایسے تھے جنہوںنے جہاد کرنے میں رغبت ظاہر کی اور لوگوں کو بزدلی سے بچنے کی تلقین کی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک یوشع بن نون اور دوسرے کا لب بن یوقنا تھا۔ یہ ارشاد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، مجاہد ، عکرمہ، عطیہ ، ربیع بن انس اور دوسرے کئی مفسرین کا ہے۔ اس کے بعد آگے لکتے ہیں۔ بنی اسرائیل نے جہاد سے مکمل رو گردانی کا ارادہ کر لیا اور کہا۔ ہم سے جہاد نہیں ہوتا ۔ ہم کمزور لوگ ہیں اور ان طاقتور لوگوں کا مقابلہ کیسے کریں گے۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر لکھتے ہیں۔ بنو اسرائیل کو جب جبابرہکی قوت اور طاقت کا علم ہوا تو انہوںنے ان کے خلاف جنگ کرنے سے انکار کر دیا ۔ اور کہا آپ اور آپ کا رب دونوں جاﺅ اور ان سے جنگ کرو۔ ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ 

بنی اسرائیل کو چالیس سال صحرا میں بھٹکنے کی سزا

اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا ۔ترجمہ ” موسیٰ ( علیہ السلام ) نے عرض کیا۔ اے میرے رب ، میرا تو سوائے اپنے آپ پر اور میرے بھائی پر اختیار ہے۔ اور ہمارے سوا کسی پر اختیار نہیں ہے۔ پس تو ہم میں اور ان نا فرمانیوں میں جدائی ڈال دے ۔( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ اب یہ (مقدس)زمین ان پر چالیس سال تک حرام کر دی گئی ہے۔ یہ خانہ بدوشوں کی طرح ادھر ادھر سر گرداں پھرتے رہیں گے۔ اسی لئے اب تم ان فاسقوں کے بارے میں غمگین نہیں ہونا ۔“ ( سورہ المائدہ آیت نمبر25اور 26)مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دشتِ فاران سے بنی اسرائیل کے بارہ سرداروں کو فلسطین کا دورہ کرنے کے لئے بھیجا تا کہ وہاں کے حالات معلوم کر کے آئیں۔ یہ لوگ چالیس دن کا دورہ کر کے وہاں سے واپس آئے اور انہوںنے قوم کے مجمعٔ عام میں بیان کیا کہ واقعی وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ لیکن وہاں جو لوگ بسے ہوئے ہیں وہ زور آور ہیں۔ ہم اس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں۔ وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھتے وہ سب بڑے قد آور ہیں۔ اور وہاں ہم نے بنو عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں۔ اور ہم تو ان کے سامنے ایسے تھے جیسے ٹڈے۔ یہ سن کر سارا مجمع چیخ اٹھا کہ اے کاش ہم مصر میں ہی مر جائے یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے۔ خداوند کیوں ہم کو اس ملک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرنا چاہتا ہے ؟ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے۔ کیا ہمارے لئے بہتر نہیں ہوگا کہ ہم مصر کو واپس چلے جائیں۔ پھر وہ آپس میں کہنے لگے کہ آﺅ ہم کسی کو اپنا سردار بنا لیں اور مصر لوٹ چلیں۔ اس پر اُن بارہ سرداروں میں سے دو سردار جو فلسطین کے دورے پر گئے تھے ۔ یوشع اور کالب اٹھے ۔ انہوں نے اس بزدلی پر قوم کو ملامت کی۔ کالب نے کہا۔ چلو ہم ایک دم جا کر اس ملک پر قبضہ کر لیں کیوں کہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصرف کریں۔ پھر دونوں نے ایک ساتھ کہا۔ اگر اللہ تعالیٰ ہم سے راجی رہے گا تو وہ ہم کو اس ملک میں پہنچا دے گا ۔ فقط اتنا ہو کہ تم اللہ تعالیٰ سے بغاوت نہ کرو۔ اور نہ ہی اس ملک کے لوگوں سے ڈرو۔ اور ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ ہے تو ان کا خوف نہ کرو۔ مگر بنی اسرائیل نے جواب دیا کہ انہیں سنگسار کردو۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس نے فیصلہ فرما دیاکہ اچھا اب یوشع اور کالب کے علاوہ اس قوم کا کوئی بھی بالغ مرد اس ( مقدس) سر زمین میں داخل نہیں ہونے پائے گا۔ یہ قوم چالیس برس تک بے خانماں پھرتی رہے گی۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے 20سال سے اوپر کے سب مرد مر جائیں گے اور نئی نسل جوان ہو کر اٹھے گی۔ تب انہیں فلسطین فتح کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے مطابق بنی اسرائیل کو دشت فاران سے شرق اُردن تک پہنچتے پہنچتے پورے 38برس لگ گئے۔ اس دوران میں وہ سب لوگ مر کھپ گئے جو جوانی کی عمر میں مصر سے نکلے تھے۔ شرق اردن فتح کرنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھی وصال ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے عہد خلافت میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین فتح کر سکیں۔ 

بادل کا سایہ اور من و سلویٰ کا نزول 

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ اور اس کا ایک بہت بڑا ثبوت بنی اسرائیل قوم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے پانچ سب سے بڑے رسول بنائے ہیں۔ انمیں سے ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے ساتھ تھے۔ اور اس بد بخت قوم نے ان کا اور اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ جس کی وجہ سے الہ تعالیٰ نے ان کو چالیس سال تک وادی¿ تیہ میں بھٹکنے کی سزا دی ۔ لیکن ساتھ ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ رہو۔ اور اس کے علاوہ صحرا میں ان کے اوپر بادل کا سایہ بھی کر دیا اور ساتھ ہی ان کے کھانے کا بھی انتظام کر دیا۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ صحرا عام طور سے دن بہت گرم ہوتا ہے اور رات بہت سرد ہوتی ہے۔ لیکن اس بادل کی وجہ سے دن اور رات دونوںمیں موسم معتدل رہتا تھا۔ اس کے علاوہاللہ تعالیٰ نے اُن کے کھانے پینے کا بھی انتظام فرما دیا تھا۔ اُن پر ”من “ اور ”سلویٰ“ نازل فرمایا۔ رات میں ان بادلوںمیں سے شبنم کی بوند کی طرح من برستا تھا۔ صبح جب بنی اسرائیل اٹھتے تو ہر ایک کے خیمے کے سامنے من کا ڈھیر لگا رہتا تھا۔ اور وہ سخت ہو جایا کرتا تھا۔ بنی اسرائیل اس کو بٹو رکر پیس لیا کرتے تھے۔ اور روٹی پکاتے تھے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ صحرا ءمیں پیش آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سورج کی دھوپ سے بچانے کے لئے بادل کا سایہ کر دیا تھا۔ انہیں من اور سلویٰ کھلایا اس وقت وہ صحرا میں تھے۔ من اُن پر برف باری کی طرح گرتا تھا۔ اور وہ برف سے زیادہ سفید ہوتا تھا۔ اور طلوع فجر سے گرنا شروع ہوتا تھا اور طلوع شمس ( سورج ) تک گرتا تھا۔ ہر شخص اپنی اس دن کی ضرورت کے مطابق خوراک اٹھا لیتا تھا۔ اگر کوئی شخص ضرورت سے زیادہ اٹھاتا تھا تو وہ خراب ہو جاتا تھا۔ جمعہ کے دن وہ دونوں کی خوراک اٹھاتے تھے کیوں کہ سنیچر کا دن سبت کا دن تھا۔ اور اس دن بنی اسرائیل کو عبادت کرنا ہوتی تھی۔ اور سلویٰ بٹیر کی سائز یا اس سے بڑی ایک چڑیا کا نام ہے۔ یہ دن بھر بنی اسرائیل کے خیموں کے آس پاس اڑتی رہتی تھیں اور آسانی سے پکڑ میں آجاتی تھیں۔ بنی اسرائیل انہیں پکڑ کر ذبح کر کے پکاتے تھے اور من کے ساتھ کھاتے تھے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سلویٰ ایک سرخ پرندہ تھا۔ جنوبی ہوا اسے جمع کرتی تھی۔ ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق پکڑ کر ذبح کر لیتا تھا۔ اگر وہ ضرور ت سے زیادہ ذبح کر تا تھا تو وہ خراب ہو جاتا تھا۔ اور جمعہ کے دن وہ دو دنوں کا کھانا جمع کر لیتے تھے۔ کیوں کہ سنیچر کا دن چھوٹی عید کا دن ہوتا تھا۔ 

صحراءمیں ہر سہولت عطا فرمائی

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ترجمہ ” اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا۔ ( اور فرمایا کہ ) ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھاﺅ۔ اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا ۔ بلکہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر57) امام قرطبی لکھتے ہیں۔ یعنی ہم بادل کو تم پر چھتری کی مانند کر دیا۔ جس نے تم کو ڈھانپ لیا۔ یہ سفید بادل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے اوپر سفید بادل کا سایہ اس لئے کیا کہ وہ دن کے وقت سورج کی گرمی سے بچائے۔ اور شام سے لے کر صبح تک اتنا ہلکا کر دیا جاتا تھا کہ چاند کی روشنی ان کے اوپر برابر آتی تھی۔ یہ ان پر مصر اور شام کے درمیان تیہ کے صحراءمیں ہوا تھا۔ جب انہوں نے جبارین کے شہر میں داخل ہونے اور ان سے جنگ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہار ا رب دونوں جا کر لڑوا ور ہم تو یہیں انتظار میں بیٹھتے ہیں۔ پس انہیں اسی جگہ سزا دی گئی اور وہ چالیس برس تک تیہ کے صحرا میں بھٹکتے رہے۔ روایت ہے کہ دن کو سفر کرتے تھے پس ان کی صبح وہیں ہوتی جہاں کل ہوئی تھی۔ ( یعنی وہ تیہ کے صحرا میں قید کر دیئے گئے تھے ۔ وہ دن بھر مصر کی طرف جاتے تھے اور جب صبح دیکھتے تھے تو جہاں سے چلے تھے وہیں آکر کر رکے تھے۔پھر صبح سفر شروع کر تے تھے )۔ جب وہ تیہ کے صحرا میں جمع تھے تو انہوں نے آپ علیہ السلام سے کہا۔ ہمارے لئے کھانا کون لائے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر من اور سلویٰ اتار دیا۔ پھر انہوں نے کہا۔ ہمیں سورج کی گرمی سے کون بچائے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر بادلوں کا سایہ کر دیا۔ پھر انہوں نے کہا۔ ہم چراغ کیسے جلائیں گے؟ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے ساتھ نور کا یا آگ کا ستون روشن کر دیا۔ جس سے وہ آگ حاصل کرتے تھے۔ انہوں نے کہا ہمارے لئے پانی کون لائے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پتھر پر عصا مارنے کا حکم دیا ۔ عصا مارتے ہیں پانی نکلنے لگا۔ انہوں نے کہا۔ ہمارے لئے لباس کون لائے گا؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں لباس عطا فرمایا۔ اُن کے لباس اور خیمے میلے نہیں ہوتے تھے۔ اور ویسے ہی صاف ستھرے چالیس برس تک رہے۔ اور جو بچے پیدا ہوتے تھے تو ان کے خیمے کے باہر اس کے لئے اللہ تعالیٰ لباس بھیج دیتا تھا۔ اور وہ لباس بچے کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا جاتا تھا۔ 

پتھر سے پانی نکلنا

اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے ان کو بارہ خاندانوں میں تقسیم کر کے سب کی الگ جماعت ( یعنی قبیلے )مقرر کر دیئے۔ اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا جب کہ اُن کی قوم نے ان سے پانی مانگا ، کہ اپنے عصا کو فلاں پتھر پر مارو۔ پس فوراً اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور ہر شخص ( یعنی ہر قبیلے یا جماعت ) نے اپنے پانی پینے کی جگہ معلوم کر لی۔ اور ہم نے اُن پر بادل کو سایہ فگن کیا اور من او رسلویٰ کھانے کو دیئے کھاﺅ ان پاک اور نفیس چیزوں کو جو ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں۔ اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا۔ بلکہ اپنا ہی نقصان کیا کرتے تھے۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر160) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کوہِ طور سے ایک پتھر اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ اس پتھر کو بہت سنبھال کر رکھیں اور جہاں بھی جائیں اسے ساتھ میں لے چلیں۔ اس پتھر میں بارہ بڑے بڑے سوراخ تھے۔ جب بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام سے پانی کی فرمائش کی تو آپ علیہ السلام نے وہ پتھر منگوایا۔ اور اللہ تعالیٰ سے پانی کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنا عصا اس پتھر پر مارو۔ آپ علیہ السلام نے عصا مارا تو اس کے بارہ سوراخوں میں سے پانی نکلنے لگا اور تمام لوگوں نے پانی پیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے پتھر پر عصا مارا تو پانی بند ہو گیا۔ اس طرح جب ضرورت ہوتی تھی پانی حاصل کر لیتے تھے۔

اللہ تعالیٰ کا دیدار کی فرمائش

اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب موسیٰ (علیہ السلام )ہمارے وقت پر آئے اور اُن کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے رب، مجھے اپنا دیدار کر ادے۔ کہ میں ایک نظر آپ کو دیکھ لوں۔ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ تم مجھ کو ہر گز نہیں دیکھ سکو گے۔ لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو۔ اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب اُن کے رب نے اس ( پہاڑ) پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پر خچے اڑا دیئے اور موسیٰ ( علیہ السلام ) بے ہو ش ہو کر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا ۔ بے شک آپ کی ذات منزہ ہے۔ میں آپ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر143) یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام توریت لینے کوہ طور پر چالیس راتوں کے لئے گئے تھے۔ لیکن اگر ہم اس واقعہ کو وہاں بیان کرتے تو تسلسل قائم نہیں رہ پاتا۔ اسی لئے یہاں بیان کر رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام کوہِ طور پر تھے اور توریت کا نزول ہو رہا تھا ۔ جب تو ریت مکمل ہو گئی تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، تو نے مجھے اتنا بڑا مقام عطا فرمایا ہے کہ مجھ سے کلام کیا۔ ( یعنی بات کی) تو ایک مہربانی اور کر دے اور مجھے اپنا دیدار کر ادے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتے کیوں کہ تم اس جسم میں قید ہو اور یہ جسم اتنا طاقتور نہیں ہے کہ میرا دیدار کر سکے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اتنی قوت عطا فرما کہ میں تیرا دیدار کر سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں اس پہاڑ پر اپنی ہلکی سی تجلّی ڈالتا ہوں ۔اگر یہ اپنی جگہ محفوظ رہ گیا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر تجلّی ڈالی تو وہ پاش پاش ( بھوسہ ) ہو گیا۔ اور آپ علیہ السلام جو غور سے اس پاش پاش ہونے والے پہاڑ کو غور سے دیکھ رہے تھے بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش آیا تو عرض کیا ۔ اے اللہ تعالیٰ، تو پاک ہے اور سب کا رب ہے۔ اور میں نے جو گستاخی کی ہے اس پر توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔

بنی اسرائیل نے گیہوں ، سبزی اور دال کی فرمائش کی

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب تم نے ( بنی اسرائیل نے ) کہا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) ہم سے ایک ہی قسم کے کھانے پر ہر گز صبر نہیں ہو سکے گا۔ اس لئے اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمیں زمین کی پیداوار ، ساگ ، ککڑی ، گیہوں ،مسور اور پیاز دے۔ آپ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ بہتر چیز کے بدلے تم ادنیٰ چیز کیوں طلب کر ہے ہو؟ اچھا کسی بستی ( شہر ) میں جا کر بس جاﺅ۔ وہاں تمہیں اپنی چاہت کی یہ سب چیزیں ملیں گی۔ ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی ہے اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے۔ یہ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے۔ اور نا حق نبیوں کو قتل کر تے تھے۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا نتیجہ ہے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر61)حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل آرام سے وادی¿ تیہ میں صحرا میں رہ رہے تھے۔ جب دل چاہتا چل پڑتے تھے۔ اور جب دل چاہتا رک جاتے تھے۔ کھانے اور پینے کو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اور من اور سلویٰ اور پانی پتھر ساتھ چلتے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں خیمے اور کپڑے دھونے نہیں پڑتے تھے۔ اور نئے خیمے اور کپڑے بنانے نہیں پڑتے تھے۔ ان کے خیمے اور کپڑے ہمیشہ صاف ستھرے اور نئے رہتے تھے۔ اور پرانے ہو کر پھٹتے نہیں تھے۔ ان کے بچوں کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ کپڑے بھی بڑے ہوتے تھے۔ اتنی سب آسانی ہو نے کے بعد بھی یہ لوگ مطمئن نہیں ہوئے۔ برسوں صحرا میں بھٹکنے کے بعد ان لوگوں نے آپ علیہ السلام سے عجیب سی فرمائش کی کہ اب ہم سے ایک ہی قسم کے کھانے پر صبر نہیں ہو رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں زمین کی پیداوار سبزی ، گیہوں، مسور دال، پیاز اور لہسن وغیرہ دے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ اتنی بہترین اور اچھی چیزوں کے بدلے میں ادنیٰ اور معمولی چیزیں کیوں مانگ رہے ہو؟ اگر یہی چاہتے ہو تو جاﺅ کسی بستی میں جا کر بس جاﺅ

بنی اسرائیل کا پھر نافرمانی کرنا

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے تم سے ( بنی اسرائیل سے ) فرمایا۔ کہ اس بستی میں جاﺅ اور جو کچھ جہاں کہیں سے چاہو فراغت سے کھاﺅ اور پیﺅ۔ اور دروازے میں سجدے کرتے ہوئے گزرو۔ اور زبان سے حطة کہو۔ ہم تمہاری خطائیں معاف فرما دیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے۔ پھر اُن سے جو بات کہی گئی تھی اسے ان ظالموں نے بدل ڈالا۔ اور ہم نے بھی ان ظالموں پر ان کے فسق اور نافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل فرمایا۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر58اور 59) اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب اُن کو ( بنی اسرائیل کو ) حکم دیا گیا کہ تم لوگ اس آبادی میں جا کر رہو اور کھاﺅ۔ اس میں سے جہاں تمہارا دل ہو۔ اور زبان سے کہتے جانا کہ توبہ ہے اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا۔ ہم تمہارا خطائیں معاف کردیں گے۔ جو لوگ نیک کام کریں گے ان کو مزید اور زیادہ عطا فرمائیں گے۔ لیکن ان ظالموں نے اس کلمہ کو بدل ڈالا اور وہ کلمہ کہا جو اس کے خلاف تھا۔ جس کا حکم دیا گیا تھا۔ اس وجہ سے ہم نے ان پر ایک آسمانی آفت بھیجی۔ یہ اس لئے تھا کہ وہ حکم کو ضائع کر تے تھے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر161اور 162) بد بخت بنی اسرائیل نے زمین کی پیداوار کی فرمائش کی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ، بنی اسرائیل کو اچھی بستی عطا فرما۔تو اللہ تعالیٰ نے وادی¿ تیہ یعنی صحرا سے لگ کر ایک بستی انہیں عطا فرمائی۔ اس بستی میں کوئی بیماری پھیلی تھی یا ایسا ہی کچھ واقعہ پیش آیا تھا جس کی وجہ سے بستی والے اپنے گھر وں کو ویسے ہی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس بستی کے ایک طرف صحرا تھا اور دوسری طرف دریا بہتا تھا۔ جس کی وجہ سے اس بستی کے آس پاس کا علاقہ بہت ہی ہر ا بھرا اور زرخیز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اس بستی میں داخل ہو جاﺅ اور جہاں سے جتنا جی چاہے کھاﺅ اور پیﺅ۔ ہاں میرا ایک حکم ہے جب تم بستی میں داخل ہونا تو اس کے دروازے میں جھکے جھکے اور سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا۔ اور زبان سے حِطَة’‘ کہتے ہوئے داخل ہونا۔ آپ کو تو معلوم ہی ہوگا گا کہ پہلے زمانے میں شہروں ، بستیوں اور گاﺅں کے اطراف میں چاروں طرف بہت اونچی دیوار ہو تی تھی۔ اور اس دیوار کو شہر ِ پناہ یا فصیل کہا جاتا تھا۔ اس دیوار میں ہر سمت بہت بڑے بڑے دروازے بنے ہوتے تھے۔ جن کی باقیات ہمارے ہندوستان میں کلکتہ ، دہلی اور بمبئی میں گیٹ وے آف انڈیا اور حیدرآباد کا چار مینار ہے۔ تفسیر طبری میں لکھا ہے کہ انہوں نے حِطَة’‘ کے بجائے حَنطَة’‘ ( گیہوں ) کہا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بنی اسرائیل کو کہا گیا کہ تم سجدہ کرتے ہوئے دروازہ سے داخل ہونا اور کہنا کہ ہم کو معاف کردے۔ تو انہوں نے حکم کو بدل دیا۔ اور چوتڑوں کے بل گھِسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور کہا۔ حَبَّة’‘ فِی شَعرَةٍ( جَو میں گندم کا دانہ ) اس طرح ان بد بختوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی جان بوجھ کر کی اور نقصان میں پڑ گئے۔

چچا کا قتل کر کے دوسروں پر الزام لگا دیا۔

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک بہترین بستی عطا فرمائی۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل اس بستی میں بس گئے ۔ یہ بستی اتنی بڑی تھی کہ اس میں بنی اسرائیل کے پورے بارہ قبیلے بنا لئے۔ اور ہر قبیلے نے اپنا اپنا علاقہ بنا لیا۔ اور اپنے علاقوں پر دروازے بنائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس علاقے کو اتنا ہرا بھرا اور زرخیز کر دیا تھا کہ اناج، سبزیاں ، پھل اور میوے وغیرہ بہت زیادہ پیدا ہورہے تھے۔ جس کی وجہ سے یہ بستی تجارتی منڈی بن گئی اور اسکی وجہ سے بنی اسرائیل دن بہ دن امیر ہوتے جا رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص قارون بھی تھا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ آگے آئے گا۔ ایسے ہی کچھ امیروں میں سے ایک امیر شخص کے بھتیجے نے اپنے چچا کا قتل کر دیا اور لاش کو دوسرے قبیلے والوں کے دروازے پر رات میں پھینک آیا۔ اور صبح اٹھ کر لاش کے پاس پہنچا اور زور زور سے رو رو کر فریاد کرنے لگا کہ اس قبیلے والوں نے میرے چچا کو قتل کر دیا ہے۔ اس قبیلے کے لوگوں نے انکار کر دیا۔ بنی اسرائیل کے باقی قبیلے والے حیران تھے کہ کس کو کہا کہیں ۔ آخر کار یہ مقدمہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش ہوا۔

 گائے ذبح کرنے کا حکم 

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور موسیٰ ( علیہ السلام ) نے جب اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو انہوں نے کہا۔ ہم سے مذاق کیوں کر رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں ایسا جاہل ہونے سے اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر67) تمام بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ حاضر ہوئے۔ اور مقدمہ آپ علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کیا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اصل قاتل کو سامنے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان سے گائے کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو وہ لوگ کہنے لگے۔ یہ کیا مذاق ہے؟ ( در اصل بنی اسرائیل سینکڑوں برس سے قبطیوں یعنی مصریوں کے ساتھ رہتے آ رہے تھے اور قبطی گائے کی پوجا کرتے تھے۔ اس لئے ان کے ساتھ رہتے رہتے بنی اسرائیل کے اندر بھی ان کے اثرات آگئے تھے۔ اور اس سے پہلے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر گئے تھے تو یہ لوگ بچھڑے کو پوجا میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اور گائے اور بیل وغیرہ کو عظیم ماننے لگے تھے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں گائے ذبح کرنے کاحکم دیا۔ تا کہ ان کے اندر سے گائے وغیرہ کی عظمت کے اثرات نکل جائیں۔ اور اسی وجہ سے انہوں نے آپ علیہ السلام کے حکم کو مذاق سمجھااور ٹالنے کی کوشش کرنے لگے) بنی اسرائیل آپ علیہ السلام سے کہنے لگے۔ ہم آپ علیہ السلام کے پاس قتل کا مقدمہ لے کر آئے ہیں اور آپ علیہ السلام قاتل کے بارے میں بتانے کی بجائے ہم سے مذاق کر رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم سے مذاق کر وں۔ تم گائے ذبح کرو گے تو قاتل کا پتہ چلے گا۔

 گائے کے معاملے میں بہانے بازی

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( بنی اسرائیل) نے کہا۔ اے موسیٰ علیہ السلام دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اس کی ماہیت ( حلیہ ) بیان کر دے۔ آپ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ سنو ، وہ گائے نہ تو بالکل بوڑھی ہو اور نہ ہی بچہ ہو بلکہ درمیان عمر کی نوجوان ہو۔ اب تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کرو۔ وہ پھر کہنے لگے۔ کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ بیان کر ے کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے زرد رنگ کی ہو چمکیلی ہو۔ اور دیکھنے والوں کو بھلا لگنے والا رنگ ہو۔ وہ کہنے لگے کہ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمیں مزید تفصیل بتائے۔ اس قسم کی گائے تو بہت ہیں پتہ ہی چل رہا ہے ( کہ کون سی زبح کریں) اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہو جائیں گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے زمین میں کام کرنے والی اور ہل جوتنے والی نہیں ہو۔ اور وہ تندرست اور بے داغ ہو۔ انہوں نے کہا۔ آپ نے حق کو واضح کر دیا۔ حالانکہ وہ حکم کو پورا کرنے والے نہیں تھے۔ لیکن اسے ( مجبوراً ) مانا اور وہ گائے ذبح کر دی“( سورہ البقرہ آیت نمبر68سے 71تک) بنی اسرائیل گائے کو ذبح کرنا نہیں چاہتے تھے اسی لئے بہانے بازی کرنے لگے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ اس کا قد کیسا ہو، اور طرح طرح کے سوال کرنے لگے۔ تا کہ اس حکم کو پرا نہیں کرنا پڑے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ، اگر اس وقت بنی اسرائیل کوئی بھی گائے ذبح کر دیتے تو اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا اور بنی اسرائیل پریشانیوں سے بچ جاتے ۔ لیکن گائے کی عظمت اُن دلوں میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس لئے وہ لوگ آپ علیہ السلام سے بے تکے سوالات کرنے لگے تا کہ کسی بھی طرح گائے ذبح نہ کرنی پڑے۔ لیکن جتنے سوالا ت وہ کرتے جا رہے تھے اتنے ہی مصیبت میں پڑتے جا رہے تھے۔

قاتل کا پتہ معلوم ہو گیا

اللہ تعالیٰ کے حکم کو ٹالنے کے لئے بنی اسرائیل بہانے بازی کر رہے تھے اور جتنا ٹالنے کی کوشش کر رہے تھے اتنا ہی مصیبت میں پھنستے جا رہے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے ہر بے تکے سوال کے جواب میں ایسی شرط پیش فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل اور زیادہ مصیبت میں آجاتے تھے۔ لیکن قاتل کا پتہ لگانا ضروری تھا۔ اسی لئے مجبوری میں اس گائے کو تلاش کرنے لگے۔ اور ویسی گائے صرف ایک تھی اور وہ بھی دوسرے علاقے میں ملی۔ وہ گائے ایک یتیم نوجوان کی تھی جو اپنی بیوہ والدہ کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ بہت ہی نیک انسان تھے۔ اس نیک انسان نے ایک گائے اللہ تعالیٰ کے نام سے جنگل میں چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد جب اس کا انتقال ہو گیا اور اس کا بیٹا بڑا ہوا تو والدہ نے کہاکہ جنگل میں جا کر پکارو کہ اے اللہ تعالیٰ میرے والد کی گائے مجھے لوٹا دے۔ نوجوان نے جا کر پکارا تو وہ گائے آگئی اور اسے لے کر گھر آیا۔ والدہ نے کہا۔ اسے بازار میں لے جا کر 6 دینار یا درہم میں بیچ دو۔ لیکن اگر اس سے کم یا زیادہ میں مانگے تو مجھ سے پوچھ لینا۔ بازار میں ایک شخص نے 8دینار یا درہم میں مانگا اور شرط پیش کی کہ والدہ سے نہیں پوچھنا۔ لیکن نوجوان نے سودا منظور نہیں کیااور والدہ سے مشورہ کیا۔ اس طرح کئی مرتبہ سودا ہونے کے بعد اس شخص نے کہا کہ اس گائے کو فروخت مت کرو۔ کچھ لوگ آئیں گے اور ہر قیمت پر گائے خریدنا چاہیں گے تو ان سے کہنا کہ اس گائے کے وزن کے برابر سونا چاہیے۔ اور بنی اسرائیل اس کے پاس آئے اور منہ مانگی قیمت دے کر گائے خرید لی۔ اور ذبح کی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ذبح کی ہوئی گائے کے گوشت کا ایک ٹکڑا لاش پر مارو۔ تو لاش نے اٹھ کر بتایا کہ مجھے میرے بھتیجے نے قتل کیا ہے۔ اور پھر مر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا پھر آپس میں اختلاف کر نے لگے اور تمہاری پوشیدگی کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا۔ ہم نے کہا کہ اس گائے کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر لگا دو( وہ زندہ ہو کر قاتل کا پتہ بتا دے گا) اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر کے تمہیں تمہاری عقل مندی کے لئے نشانیا ں دکھلاتا ہے۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر73، 72) 

توریت میں سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا ذکر

اللہ تعالیٰ نے توریت میں بہت ساری جگہوں پر سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ذکر فرمایا ہے۔ لیکن ہم یہاں صرف ایک روایت پیش کر یں گے۔ کیوں کہ آسمانی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور صحابہ کرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ذکر اتنا زیادہ آیا ہے کہ اگر اسے تحریر کریں گے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے گی۔ اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال رہی تو انشاءاللہ اس موضوع پر ضرور آپ کی خدمت میں ایک کتاب پیش کریں گے۔ فی الحال صرف ایک روایت پیش کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ حضرت قتادہ ( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا ۔ اے میرے اللہ، میں تو ریت کی تختیوں میں ایک ایسی امت کا ذکر دیکھتا ہوں جو تمام امتوں سے بہتر ہو گی۔ لوگوں کو نیکی کا حکم دے گی اور انہیں برائی سے روکے گی۔ اے اللہ تعالیٰ ، اسے میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وہ احمد مجبتیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت دیکھتا ہوں جن پر نازل آیات اُن کے سینوں میں محفوظ ہوں گی۔ اور وہ تیرے کلام ( قرآن پاک) کو زبانی پڑھیں گے۔ جب کہ ان سے پہلے کی امتیں تیرا کلام دیکھ کر پڑھیں گے۔ اور ان کتابوں کے اٹھ جانے کے بعد تیرا وہ کلام محفوظ نہیں رہے گا۔ حتیٰ کہ کسی کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ تیرا کلام کیا ہے۔ ( جیسا کہ آج کل توریت اور انجیل کی ملاوٹ شدہ کتابوں کے بارے میں بنی اسرائیل ( یہودیوں ) اور نصاریٰ( عیسائیوں) کو خود بھی یقینی علم نہیں ہے۔ ) اے میرے رب ، تیرے کلام کی حافظ امت کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے پھر عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت کا بھی ذکر پاتا ہوں جو پہلی اور آخری تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لائے گی۔ اور گمراہوں کے خلاف جہاد کرے گی۔ حتیٰ کہ کانے کِذّاب ( دجال) کے خلاف بھی جہاد کرے گی۔ اے میرے رب، مجھے اس امت کا نبی بنادے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وہ احمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت کا ذکر بھی پاتا ہوں جو صدقے کا مال خود کھائیں گے اور انہیں پھر بھی صدقے کا اجر ملے گا۔ جب کہ اس سے پہلی کی امتیں صدقہ کریں گی تو اس کی قبولیت کی نشانی یہ ہو گی کہ آسمان سے آگ آکر اُن کے صدقے کو کھالے گی اور جو صدقے کا مال قبول نہیں ہو گا اسے چرند پرند نوچ کھائیں گے۔ لیکن اس امت کی خوبی یہ ہے کہ امیروں کا مال لے کر غریبوں کو دیا جائے گا۔ اے میرے رب، اس امت کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت کا ذکر بھی پاتا ہوں جو نیکی کی نیت کرے گی اور نیکی نہیں کر سکے گی تو اس کے اعمال نامے میں ایک نیکی لکھ دی جائے گی۔ اور اگر اس نیکی کو کرے گی تو دس نیکی سے لے کر سات سو نیکیاں تک لکھی جائیں گی۔ اے میرے رب، اس امت کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ بھی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے پھر فرمایا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت کا ذکر بھی دیکھتا ہوں کہ جن کے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی۔ اے میرے رب، اس امت کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ خوش نصیب امت بھی احمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا۔ جب اس امت میں اتنی ساری خوبیاں ہو ں گی تو مجھے ان میں شامل فرما دے اور مجھے احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنا دے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ”ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہمکلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو ۔  (سورہ الاعراف آیت نمبر 144)

قارون کو سمجھانا

اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور قارون تھا تو موسیٰ ( علیہ السلام کی قوم سے ، لیکن ان پر ظلم کرنے لگا تھا۔ ہم نے اسے ( اتنے زیادہ ) خزانے دے رکھے تھے کہ کئی کئی طاقتور لوگ بہت مشکل سے اس کی کنجیاں اٹھا سکتے تھے۔ ایک بار اس کی قوم ( کے نیک لوگوں ) نے اس سے کہا۔ کہ اتر ا مت، اللہ تعالیٰ اِترانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیاوی حصے کو نہ بھول اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی ( احسان کا ) سلوک کر۔ اور ملک میں فساد کی خواہش کرنے والا نہ بن اور یقین مان اللہ تعالیٰ فسادیوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔ قارون نے کہا۔ یہ سب مجھے میری اپنی سمجھ کی وجہ سے ہی ملا ہے۔ کیا اسے یہ نہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سی بستی والوں کو غارت کر دیا جو اس سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور دولت والے تھے۔ اور گنہ گار وں سے ان کے گناہوں کی باز پرس ایسے وقت نہیں کی جاتی ( جب وہ گناہ کر رہے ہوں) ( سورہ القصص آیت نمبر76سے 78تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل اس بستی میں رہ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین سے اتنی نعمتیں عطا فرما رکھی تھیں اور اس کی وجہ سے بنی اسرائیل اچھے خاصے امیر ہوتے جا رہے تھے ۔ اُن میں سے کچھ تو بہت زیادہ امیر ہو گئے تھے۔ ان میں سب سے زیادہ امیر شخص قارون تھا۔ وہ اتنا امیر ہو گیا تھا کہ اس کے خزانے کی چابیاں کئی طاقتور آدمی بڑی مشکل سے اٹھا پاتے تھے۔ کئی روایات میں آیا ہے کہ قارون کے خزانوں کی چابیاں 70اونٹ مل کر مشکل سے اٹھا پاتے تھے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ بے انتہا دولت اور عیش و عشرت نے اسے بہت گھمنڈی اور مغرور بنا دیا تھا۔ اور اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لئے وہ اپنی قیمص کو لوگوں سے لمبی رکھتا تھا۔ اسے اس کی قوم کے لوگوں نے سمجھایا کہ اپنے مال و دولت پر اتنا مت اتراﺅ ۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتاہے۔ اور تجھے جو مال و دولت اس نے عطا فرمایا ہے اُسے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے خرچ کر۔قارون نے جواب میں کہا۔ مجھے یہ خزانے اور مال و دولت میرے علم اور میری عقلمندی سے ملے ہیں۔ اور یہ سب میری محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔

دنیا کی محبت رکھنے والوں کا رشک

اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میںآگے فرمایا۔ ترجمہ ”پس قارون پوری آرائش کے ساتھ اپنی قوم کے مجمع میں نکلا تو دنیا کی زندگانی کے متوالے کہنے لگے کہ کاش ہمیں بھی کسی طرح وہ سب مل جاتا جو قارون کو عطا کیا گیا ہے۔ یہ تو بڑا قسمت کا دھنی ہے۔ لیکن علم والے ( علماءاور نیک ) لوگ انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس، بہتر چیز تو وہ ہے جو ثواب کے طور پر عطا کی جاتی ہے اور جو اللہ پر ( مضبوط) ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اور سنت کے مطابق نیک اعمال ( عمل صالح) کرتے ہیں۔ یہ بات اُن ہی کے دل میں ڈالی جاتی ہے اور جو صبر کا سہارا لینے والے ہوتے ہیں۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر79, اور 80) ایک دن وہ سج دھج کر اپنی بہترین گھوڑوں کی کھلی بگھی میں نکلا۔ اس کے آگے پیچھے نوکروں کی فوج تھی اور اس کی خدمت کر رہی تھی۔ اس کے یہ ٹھاٹ باٹ دیکھ کر جن لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبت تھی وہ کہنے لگے ۔ کہ یار ، قارون تو واقعی بڑے عیش و آرام میں رہتا ہے ۔ کاش اس کے جیسا عیش و آرام ہمیں بھی نصیب ہو جائے تو بنی اسرائیل کے علماءاور نیک لوگ و آخرت کو خوف رکھتے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ یہ جو کچھ قارون کو ملا ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ مال و دولت فنا ہو جانے والی چیز ہے۔ اصل قائم رہنے والے وہ نیک اور صالح اعمال ہیں جو آخرت میں کام آئیں گے۔

 گھمنڈ اور تکبر کی وجہ سے قارون زمین میں دھنسا دیا گیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( آخر کار) ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی جماعت اس کی مدد کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئی۔ اور وہ خود بھی اپنے آپ کو بچانے والوں میں سے نہیں ہو سکا۔ اور جو لوگ کل اسی طرح کی ( دولت مند) بننے کی آرزو کرتے تھے۔ وہ آج کہنے لگے کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہے رزق کشادہ ( زیادہ ) کر دیتا ہے۔ اور تنگ بھی کر دیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہم پر فضل نہیں کرتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ نا شکروں ( گھمنڈی اور متکبر) کو کامیابی نہیں ملت۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر81،82) قارون کو زمین دھنسا دینے کی کئی وجوہات بیان ہوئی ہیں کہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازش کی اور آپ علیہ السلام پر جھوٹے الزامات لگائے اور بد نام کرنے کی کوشش کی اور بھر مجمع میں ( نعوذ باللہ ) آپ علیہ السلام کو ذلیل کرنا چاہا۔ اور اس کے لئے کافی طویل روایات احادیث اور تفاسیر کی کتابوں میں درج ہیں۔ لیکن اسے زمین میں دھنسانے کی اصل وجہ اس کا اللہ تعالیٰ کی ناشکری، گھمنڈ اور تکبر ہے۔ اس لئے ہم ان طویل روایات کو پیش کرنے کے بجائے مختصر میں اس واقعہ کو پیش کر رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے کچھ مسائل حل کررہے تھے اور سب لوگ اُن کے آس پاس جمع تھے۔ ایسے وقت میں قارون اپنا شاہانہ جلوس کے ساتھ وہاں سے گزرا ۔ اور جب آپ علیہ السلام کے اطراف مجمع دیکھا تو گھمنڈ اور تکبر سے اکڑتا ہوا مجمع کو چیرتا ہوا آپ علیہ السلام کے پاس آیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قارون ” بنی لاوی“ سے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی نسل بارہ قبیلہ بنی ۔ اور ان بارہ قبائل کے مجموعہ کو ” بنی اسرائیل “ کہا جاتا ہے۔ تمام بارہ قبیلوں کے نام بارہ بھائیوں کے نام پر تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں میں ایک کا نام لاوی تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قارون لاوی کی اولاد میں سے ہیں۔ قارون آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں تکبر سے اپنی سواری پر بیٹھا رہا اور بولا۔ اے موسیٰ(علیہ السلام )ہمارا سلسلہ نسب ایک ہی ہے اس لئے نسب کے معاملے میں تمہارے برابر ہوں۔ اور نبوت کے معاملے میں تم مجھ سے بہتر ہو۔ اور مال و دولت کے معاملے میں تم سے بہتر میں ہوں۔ آپ علیہ السلام نے اسے سمجھایا کہ اپنے مال و دولت پر اتنا بھروسہ مت کرو۔ کیوں کہ یہ فانی چیز ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے مال و دولت سمیت زمین میں دھنسا دے۔ قارون نے کہا ۔ ٹھیک ہے۔تم بھی اللہ سے دعا کرو اور میں بھی دعا کرتا ہوں۔ دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کس کی سنتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ توم دعا کرو پہلے کرو گے یا میں کروں گا۔ اس نے کہا آپ ہی پہلے کریں۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ قارون کو زمین میں دھنسا دے۔ تو زمین میں قارون دھنسنے لگا۔ پہلے ٹخنے دھنسے پھر گھٹنے ،پھر کمر تک دھنسا ، پھر سینے تک پھر گردن تک دھنس گیا اور آخر کار پورا زمین میں غرق ہو گیا اور زمین برابر ہو گئی۔ تمام بنی اسرائیل حیرانی سے آنکھیں پھاڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے قارون کے محل اور اس کے خزانوں کو بھی زمین میں دھنسا دیا۔ یہ دیکھ کر وہ بنی اسرائیل جو قارون پر رشک کر رہے تھے انہوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اور ہم پر فضل ہے کہ اس نے ہمیں گھمنڈ اور تکبر سے محفوظ رکھا۔ ورنہ ہمارا بھی وہی انجام ہوتا جو قارون کا ہوا ہے۔ 

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام 

حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف رائے ہیں۔ کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے نبی تھے اور کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ نبی نہیں تھے بلکہ صر ف ولی تھے۔ اور عمر کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ روایات میں ہے کہ انتقال ہو چکا ہے۔ اور کچھ روایات میں ہے کہ ابھی بھی زندہ ہیں۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ نوف بکالی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کرنے والے موسیٰ وہ نہیں ہیں جو بنی اسرائیل میں رسول تھے۔ اس پر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ کہ اس اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے ۔ مجھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو اُن سے پوچھا گیا کہ ( آج) سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ( جہاں تک میری معلوما ہیں) میں ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ بے شک میرا ایک بندہ ہے جو دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر ہے۔ اور وہ تم سے زیادہ علم والا ہے۔ 

حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات

اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنے نوجوان ( شاگرد سے )سے فرمایا ۔ کہ میں تو چلتا ہی رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاﺅں کے سنگم پر پہنچوں ۔ (چاہے ) مجھے سالہا سال چلنا پڑے۔ جب دونوں دریا کے سنگم پر پہنچے ( تو ) وہاں مچھلی بھول گئے۔ جس نے دریا میں سرنگ جیسا اپنا راستہ بنا لیا۔ جب یہ دونوں وہاں سے آگے بڑھے تو موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنے نوجوان ( شاگرد) سے کہا کہ ہمارا ناشتہ دے۔ ہمیں تو اپنے اس سفر سے سخت تکلیف اٹھانی پڑی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ کیا آپ (علیہ السلام )نے دیکھا بھی ؟ جب کہ ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا۔ در اصل شیطان نے ہی مجھے آپ (علیہ السلام )سے اس کا ذکر کرنا بھلا دیا تھا۔ اس مچھلی نے ایک انوکھے طور سے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا ۔ یہی وہ ( جگہ) ہے جس کی تلاش میں ہم تھے۔ پھر وہیں سے اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈ تے ہوئے واپس لوٹے اور وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا۔ جسے ہم نے اپنے پاس کی خاص رحمت عطا فرمارکھی تھی اور اسے اپنے پاس سے خاص علم سکھا رکھا تھا۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر60سے 65تک) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ،میں اُس تک کیسے پہنچوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ایک مچھلی لے کر زنبیل میں رکھ لو ۔ پس جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہ وہیں ہو گا۔ پس انہوں نے مچھلی لے کر زنبیل میں رکھ لی۔ پھر چل پڑے اور ان کے ساتھ ایک نوجوان ( شاگرد) حضرت یوشع بن نون علیہ السلام بھی تھے۔ یہاں تک کہ (دریاکے کنارے) ایک پتھر کے پاس پہنچے تو اس پر سر رکھ کر سو گئے۔ اس دوران مچھلی زنبیل میں تڑپی اور باہر نکل کر دریا میں جا گری۔ اور اس نے دریا میں راستہ بنا لیا۔ جب وہ جاگے تو شاگرد بھول گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مچھلی کے بارے میں بتائے۔ پس وہ باقی دن کا حصہ اور رات چلتے رہے۔ یہاں تک کہ جب صبح ہوئی تو آپ علیہ السلام نے شاگر د کو فرمایا کہ ہمارا صبح کا ناشتہ لاﺅ بے شک ہمیں اس سفر میں بڑی مشقت اٹھانی پڑ رہی ہے۔ آپ علیہ السلام نے تھکاوٹ اس وقت محسوس کی جب وہ اس جگہ سے آگے چلے گئے تھے۔ جس جگہ کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا تھا ۔ پس شاگر نے ان کی خدمت میں عرض کیا۔ بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو وہیں پر مچھلی نے نکل کر پانی میں راستہ بنا لیا تھا۔ جس پر مجھے تعجب ہوا ۔ اور یہ بات آپ علیہ السلام کو بتانے سے شیطان نے بھلا دی تھی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں اسی جگہ کی تلاش میں ہوں ۔ اس کے بعد وہ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس اسی پتھر کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہاں ایک آدمی چادر لپیٹے ہوئے لیٹا ہوا ہے۔(صحیح بخاری کی حدیث ابھی جاری ہے)

آپ علیہ السلام میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے

اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” اُس سے (حضرت خضر علیہ السلام سے ) موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ کہ میں آپ کی تابعداری کروں گاکہ آپ مجھے اس نیک علم کو سکھا دیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔ اس نے کہا۔ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ اور جس چیز کا آپ (علیہ السلام )کو علم ہی نہ ہو اس پر آپ (علیہ السلام ) صبر کیسے کر سکیں گے؟ موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ انشاءاللہ ، آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔ اور کسی بات میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ اس نے کہا۔ اچھا اگر آپ میرے ساتھ چلنے پر اصرار کر رہے ہیں تو یاد رہے کہ کسی چیز ( یا عمل ) کے تعلق سے مجھ سے کچھ نہیں پوچھنا۔ جب تک کہ میں خود اس چیز ( یا عمل ) کے بارے میں خود نہ بتاﺅں۔“ (سورہ الکھف آیت نمبر66سے70تک) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس شخص کو سلام کیا۔ تو اس شخص نے کہا۔ کہ اس ( ویران ) زمیں پر یہ سلام کہاں سے آیا؟ جواب دیا کہ میں موسیٰ ( علیہ السلام )ہوں۔ اس نے کہا۔ کیا بنی اسرائیل والے موسیٰ علیہ السلام ہو؟ جواب دیا۔ ہاں وہی۔ ( پھر حضرت خضر علیہ السلام نے بھی اپنا تعارف کرایا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا) میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تم مجھے وہ نیک باتیں سکھا دو جن کی تمہیں تعلیم دی گئی ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا۔ آپ علیہ السلام میرے ساتھ ہر گز صبر نہیں کر سکیں گے۔ اے موسیٰ علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کے علوم میں سے مجھے ایک ایسا علم سکھایا گیا ہے جس کو آپ علیہ السلام نہیں جانتے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم میں سے آپ علیہ السلام کو ایسا علم عطا فرمایا ہے جو کو میں نہیں جانتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ انشاءاللہ ، تم مجھے صبر کرنے والا پاﺅ گے اور میں تمہارے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔

 کشتی کو عیب دار کردیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ خضر ( علیہ السلام )نے اس کے تختے توڑ دیئے۔ موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ آپ اسے توڑ رہے ہیں اس طرح تو ( کشتی عیب دار ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ ) کشتی والے غرق ہو جائیں ۔ یہ آپ نے بڑی خطرناک ( بات یا عمل ) کردیا۔ خضر (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ میں نے پہلے ہی آپ سے کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ میری بھول پر مجھے نہ پکڑئیے اور مجھے اپنے کام میں تنگی نہ ڈالئے۔ ( سورہ الکھف آیت نمبر70سے 73تک) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ اس کے بعد دونوں حضرت علیہم السلام دریا کے کنارے کنارے ساتھ ساتھ چل پڑے۔ کچھ دور جانے کے بعد ایک کشتی گزری انہوں نے کشتی والوں سے فرمایا کہ ہمیں بٹھا لو۔ کشتی والے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچانتے تھے اور بہت عزت کرتے تھے۔ انہوں نے دونوں حضرات کو بٹھا لیا اور معاوضہ بھی نہیں لیا۔ جب کشتی آگے بڑھی تو حضرت خضر علیہ السلام نے بَسولے سے کشتی کا تختہ توڑ دیا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ جن لوگوں نے ہمیں بغیر کرائے کے بٹھا لیا آپ نے جان بوجھ کر انہیں کی کشتی کا تختہ توڑ دیا۔ اس طرح تمام لوگ ڈوب سکتے ہیں۔ بے شک آپ نے برا کام کیا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا ۔ میں نے آپ کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ۔ دیکھئے میں بھول گیا تھا اسی لئے میرے ساتھ اتنی سختی سے پیش نہ آئیں۔ راوی کا بیان ہے کہ ایک چڑیا کشتی کے کنارے پر آکر بیٹھ گئی اور اس نے دریا میں سے اپنی چونچ میں پانی بھر لیا۔ اسے دیکھ کر حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا۔ حضرت میرے اور آپ کے علم کی مثال اللہ تعالیٰ کے علم کے سامنے ایسی ہی ہے جیسے اس چڑیا نے دریا میں سے اپنی چونچ بھری اور اس بوند کے کم ہونے کی وجہ سے دریا کے پانی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ 

بچے کا قتل

اللہ تعالیٰ نے آگے سورہ الکھف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر دونوں آگے چلے ، یہاں تک کہ ایک لڑکے کو پایا۔ خضر (علیہ السلام ) نے اس لڑکے کو قتل کر دیا۔ موسیٰ( علیہ السلام )نے فرمایا۔ یہ آپ نے کیا کر ڈالا۔ ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض قتل کر دیا۔ بے شک آپ نے تو بڑی ناپسندیدہ حرکت کی ہے۔ خضر (علیہ السلام ) نے فرمایا میں نے آپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اب اگر اس کے بعد میں آپ کو کچھ کہوں تو بے شک آپ مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھنا ۔ یقینا میری طرف سے عذر کو پہنچ چکے۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر74سے 76تک) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ پھر وہ دونوںحضرات علیہم السلام کشتی سے اترے اور ساحل کے سات ھساتھ آگے بڑھے۔ کچھ دور چلنے کے بعد دیکھا کہ کچھ لڑکے کھیل رہے ہیں۔ اُن میں سے ایک لڑکے کو خضر علیہ السلام نے پکڑ کر قتل کر دیا۔ اس کے سر کو پکڑ ا اور اپنے ہاتھوں سے اسکی گردن مروڑ کر قتل کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ آپ نے کیا کر دیا؟ ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے بدلے ( یعنی بغیر قصاص کے ) قتل کر دیا۔ بے شک آپ علیہ السلام نے بہت ہی برا کام کیا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا۔ اب آپ میرے ساتھ نہیں ٹھہر سکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک ہے آپ مجھے ایک موقعہ اور دیں۔ اس کے بعد اگر میں کچھ کہوں گا بے شک آپ مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھنا۔ اور میری طرف آپ کا عذر بھی پورا ہو جائے گا۔ ( صحیح بخاری کی حدیث ابھی جاری ہے)

ظالم لوگوں کی بستی میں دیوار کی تعمیر

اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر دونوں چلے۔ اور ایک گاﺅں والوں کے پاس جا کر کھانا طلب کیا۔ انہوں نے اُن کی مہمان داری کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ دونوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی۔ اُس نے اسے ٹھیک اور دوست کر دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے۔ اس نے ( خضر علیہ السلام نے ) فرمایا۔ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہو گی۔ اور اب میں آپ کو ان باتوں کی اصلیت بتا تا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر77اور 78) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے۔ پھر دونوں حضرات علیہم السلام آگے بڑھے اور ایک گاﺅں میں پہنچے ۔ اس گاﺅں کے لوگ بہت مطلبی ، خود غرض اور ظالم تھے۔ ان سے حضرت خضر علیہ السلام نے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو انہوں نے جھڑک دیا۔ اسی بستی سے گزرتے وقت دیکھا کہ ایک دیوار بہت زیادہ جھک چکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جلد ہی گر جائے گی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے بڑی محنت و مشقت سے اس دیوار کو گرا کر نئے سِرے تعمیر کر دی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ آپ عجیب آدمی ہیں ۔ اس گاﺅں کے ظالموں نے ہم کو کھانا نہیں دیا اور آپ اسی گاﺅں کے لوگوں کی دیوار تعمیر کر کے دے رہے ہیں۔ اور وہ بھی بالکل مفت میں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ایسے مطلبی لوگوں سے بغیر معاوضہ لئے آپ دیوار کو نہیں تعمیر کر تے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا۔ اب آپ کو میری جدائی کا وقت آگیا ہے۔ لیکن جانے سے پہلے میں آپ کو ان باتوں کی اصلیت بتا دوں۔ تا کہ آپ کے ذہن میں الجھن نہ ہو۔

تینوں واقعات کی وضاحت

اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا) وہ کشتی چند غریبوں مکینوں کی تھی۔ جو دریا میں اس کے ذریعے روزی کماتے ہیں۔ میں اسے اس لئے توڑا کیوں کہ ان بادشاہ بہت ظالم ہے۔ اور ہر ( صحیح و سالم ) کشتی کو زبر دستی اپنے قبضے میں کر لیتا ہے۔ اور اس لڑکے کے والدین ایمان والے ہیں۔ اور مجھے خوف ہوا کہ کہیں یہ انہیں اپنی سر کشی اور کفر کی وجہ سے انہیں عاجز اور پریشان نہ کردے۔ اس لئے میں نے چاہا کہ انہیں ان کا رب اس کے بدلے میں بہتر ، پاکیزگی والا اور اس سے زیادہ محبت و پیار کرنے والا بچہ عنایت فرمائے۔ اور اس دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس گاﺅں میں دو یتیم بچے رہتے ہیں۔ جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے۔ ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا۔ تو ہمارے رب کی چاہت یہ تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ ہمارے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں۔ میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا ہے۔ یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ (علیہ السلام )کو صبر نہیں ہو سکا ۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر79سے82) صحیح بخاری میں آگے ہے کہ وہ بادشاہ بہت ظالم و جابر تھا۔ اور ہر اچھی اور صحیح سالم کشتی کو چھین لیا کرتا تھا۔ جب یہ کشتی اس کے پاس سے گزرے گی تو عیب دار ہونے کی وجہ سے وہ اس کشتی کو چھوڑ دے گا۔ اور جب وہ چلا جائے گا تو کشتی والے اسے درست کر لیں گے۔ اور اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ اور اس لڑکے کو اس لئے قتل کر دیا کہ اس کے والدین مومن ہیں اور وہ ( بڑا ہو کر ) کافر ( بننے والا ) تھا۔ اور اس بات کا ڈر تھا کہ وہ لڑکا اپنے کفر اور سر کشی کی وجہ سے کفر میں مبتلا نہ کر دے۔ اور اس کی محبت سے مجبور ہو کر اس کے والدین اس کے دین کے تابع نہ ہو جائیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ انہیں اس سے بہتر اور نیک اور صاف ستھرا بیٹا عطا فرمائے۔ صحیح بخاری کی روایت میں اتنا ہی ہے۔ لیکن دوسری روایات میں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے آگے فرمایا۔ کہ آپ علیہ السلام دیکھ ہی رہے ہیں کہ یہ گاﺅں والے کتنے ظالم ہیں؟ یہ دیوار دو یتیم بچوں کی ملکیت ہے اُن کے والد نیک انسان تھے۔ انہوں نے اپنے انتقال سے پہلے اپنی دولت کو اس دیوار کے نیچے دفن کر دیا تھا۔ تا کہ اس کے بچے بڑے ہو کر اس دولت کو نکال کر فائدہ اٹھائیں۔ اگر اس گاﺅں کے ظالم لوگوں کو اس دولت کے بارے میں معلوم پڑ جاتا تو وہ یتیم بچوں کو دینے کے بجائے خود ہی اس پر قبضہ کر لیتے ۔ اسی لئے میں نے اس دیوار کو نئے سرے سا بنا دیا کہ ان کے بڑے ہونے تک قائم رہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حج

اللہ تعالیٰ کے گھر خانہ کعبہ کا حج لگ بھگ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے کیا ہے۔ ان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” وادی¿ ارزق“ سے گزرے تو فرمایا۔ یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ علیہ السلام ، یہ وادی¿ ارزق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یوں لگ رہا ہے کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہاڑ سے اترتے دیکھ رہا ہوں۔ اور وہ بلند آواز سے ”لبیک اللھم لبیک “ فرما رہے ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام میری طرح ہیں۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام گیہوں رنگ کے اور بال گھنگھریالے تھے۔ اور آپ علیہ السلام سرخ اونٹ پر سوار تھے۔ جس مہار کھجور کی چھال سے بٹی ہوئی تھی۔ اور میں انہیں وادی میں اترتے اور ”لبیک لبیک “کہتے دیکھ رہا ہوں۔ 

بنی اسرائیل کی فلسطین روانگی

اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے بنی اسرائیل نے جبا برین سے جنگ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر چالیس برس کے لئے ” بیت المقدس “ حرام کر دیا تھا۔ اور چالیس برس تک صحرا میں وادی¿ تیہ میں بھٹکنے کی سزا دی تھی۔ اس طرح چالیس برسوں میں جو لوگ مصر سے آزاد ہو کر آئے تھے۔ وہ سب مر چکے تھے۔ یعنی جن جوان اور ادھیڑ عمر اور بوڑھوں نے جبا برین سے لڑنے سے انکار کر دیا وہ سب مر کھپ گئے اور نئی نسل جوان ہو گئی۔ تب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اب چالیس برس پورے ہونے والے ہیں۔ اس لئے اب فلسطین کی طرف روانہ ہو جاﺅ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا وصال کہاں ہوا؟ اس بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ کچھ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ دونوں حضرات علیہم السلام کا وادی ¿ تیہ میں صحرا میں ہی وصال ہوگیا۔اور کچھ علمائے کرام کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ”بیت المقدس “ میں داخل ہوئے۔ اب حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ ہاں ایک بات پر تمام علمائے کرام متفق ہیں کہ مصر سے آزاد ہو نے والوں میں سے صرف دو افراد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوقنا ہی بیت المقدس میں داخل ہو سکے۔ بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے اورراستے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے وصال کا ارادہ فرمالیا۔

حضرت ہارون علیہ السلام کا وصال

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ حضرت ہارون علیہ السلام کے وصال کا وقت قریب آگیا ہے ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ امام سدی رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں ۔ اور علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ بعض ( کئی) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنی جوارِ رحمت میں بلانے والا ہوں۔ اس لئے انہیں فلاں پہاڑ پر لے آﺅ۔ آپ علیہ السلام اپنے بھائی کو لے کر اس پہاڑ پر پہنچے ۔ وہاں دونوںنے دیکھا کہ سامنے ایک ایسا درخت ہے جیسا اس سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ درخت کے قریب ایک محل ہے جس میں ایک بڑا سا پلنگ بچھا ہوا ہے اور اس پر بہت قیمتی بستر بچھا ہوا ہے اور اس بستر سے نہایت ہی خوشگوار خوشبو اٹھ رہی ہے۔ حضرت ہارون علیہ السلام اس درخت، محل اور سامان کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور فرمایا۔اےمیرے بھائی موسیٰ علیہ السلام ،میں اس پلنگ پر سونا چاہتا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ سو جائیے۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس محل کا مالک نہ آجائے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے آپ علیہ السلام سو جائیں اگر اس محل کا مالک آئے گا تو میں بات کرلوں گا۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا۔آپ علیہ السلام بھی سو جائیں اگر محل کا مالک آئے گا تو ہم دونوں پر ناراض ہوگا۔ جب دونوں بھائی سو گئے تو حضرت ہارون علیہ السلام کا وصا ل ہو گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اٹھے تو درخت ، محل اور بستر اور حضرت ہارون علیہ السلام سب غائب ہو چکے تھے۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم میں اکیلے واپس آئے تو قوم نے حضرت ہارون علیہ السلام کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ علیہ السلام نے بتایا کہ ان کا وصال ہو چکا ہے تو بنی اسرائیل نے کہا کہ آپ علیہ السلام نے ( نعوذ باللہ ) اپنے بھائی کو قتل کر دیا ہے۔ کیوں آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) ان سے حسد کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہاری عقل ماری گئی ہے۔ وہ میرا بھائی ہے میں اسے کیسے قتل کر سکتا ہوں۔ پھر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ وہ پلنگ نیچے آئی اور معلق رہی۔ جسے تمام بنی اسرائیل نے دیکھا۔ پھر وہ اٹھالی ۔ تب بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کی بات کا یقین کیا۔

ملک الموت کی آنکھ نکال دی

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر تیزی سے بیت المقدس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ انہوںنے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو اپنا سپہ سالار اور نائب بنایا تھا۔ جب بیت المقدس کے قریب پہنچنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو آپ علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا ۔ ملک الموت انسانی شکل میں حاضر ہوئے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ امام بخاری نے اپنی صحیح حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا ۔ تو آپ علیہ السلام نےا نہیں طمانچہ مار دیا۔ جس کی وجہ سے ملک الموت کی آنکھ باہر آگئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، آپ نے مجھے ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جو مرنا ہی نہیں چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس دوبارہ جاﺅ اور ان سے کہو کہ اپنا ہاتھ بیل کی پیٹھ پر رکھو۔ جتنے بھی بال تمہاری ہتھیلی کے نیچے آئیں گے تو ہر بال کے بدلے ایک سال تمہاری عمر بڑھا دی جائے گی۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، اس کے بعد کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اس کے بعد موت ہوگی۔ تو انہوں نے فرمایا۔ جب موت ہی آنی ہے تو ابھی کیوں نہ موت ہو۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کی کہ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اتنی مہلت دے کہ بیت المقدس کے قریب پہنچ سکوں اور مجھے بیت المقدس کے اتنا قریب پہنچا دے کہ اگر کوئی پتھر پھینکے تو ( بیت المقدس میں ) پہنچ سکے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کے قریب سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر مبارک دکھاتا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس واقعہ کے بعد طبیعت خراب ہونے لگی۔ آپ علیہ السلام نے اپنے نائب حضرت یوشع علیہ السلام کو حکم دیا کہ تیزی سے سفر کرو۔ اسی دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے جوانوں کی گنتی بھی کرائی تھی۔ اور ہر قبیلے کے سپہ سالار بھی مقرر کئے تھے اور ان سب کا کمانڈر یعنی سپہ سالار اعظم حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو بنایا تھا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ ہم حضرت یوشع علیہ السلام کے حالات میں بیان کریں گے۔ جب بیت المقدس کے قریب پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ حالت ہو چکی تھی کہ آپ علیہ السلام کھڑے نہیں رہ سکتے تھے۔ اس لئے آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ مجھے لٹا دو اور جنگ کی تیاری کرو۔ آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کے قریب پہاڑی پر لٹا دیا گیا۔ اور حضرت یوشع علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر میدانِ جنگ میں پہنچ گئے۔ جنگ شروع ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اُس پہاڑی پر لیٹے جنگ دیکھتے رہے اور احکامات دیتے رہے۔ آخر کار جنگ فیصلہ کن مرحلہ میں پہنچ گئی اور بنی اسرائیل کو فتح ہوئی۔ ادھر فتح حاصل ہوئی اور اُدھر پہاڑی پر آپ علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔ حضرت یوشع علیہ السلام جب فتح کی خوش خبری لے کر آپ علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں جا چکے تھے۔ اسی جگہ آپ علیہ السلام کو دفن کر دیا گیا۔ 

اگلی کتاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا ۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت یوشع علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔

٭........٭........٭


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں