حضرت ایوب علیہ السلام مکمل
حضرت ایوب علیہ السلام کا سلسلۂ نسب
قارئین کرام ، اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات پیش کر چکے ہیں۔ اُس میں ہم نے بتایا تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بارہ بیٹوں کے ساتھ مصر میں رہائش پذیر ہو گئے تھے۔ اُن بارہ بیٹوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی۔ اور ان بارہ قبیلوں کے مجموعہ کو بنی اسرائیل کہا گیا۔ یعنی اسرائیل کی اولاد ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا ، کہیں کہیں بنی اسرائیل کو بنی یعقوب یعنی یعقوب کی اولاد بھی کہا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کا ذکر آگے حضر ت موسیٰ علیہ السلام کے حالات میں کریں گے۔ فی الحال ہم آپ کی خدمت میں حضرت ایوب علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔ یہ اس لئے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ حضرت یوسف علیہ السلام سے سب سے قریبی زمانہ ہے۔ حالانکہ حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بہت کم کیا ہے۔ لیکن اکثر علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ آپ علیہ السلام کی زوجہ ¿ محترمہ حضرت یوسف علیہ السلام کی پوتی ہیں۔ اور آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام سے قریبی زمانہ ہے۔ اسی لئے ان کے فوراً بعد ہم ان کے حالات بیان کر رہے ہیں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ایک قول یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔ تفسیر مظہری میں حضرت ایوب علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن احوس ، رزاخ بن روم، بن عیص، بن حضرت اسحاق علیہ السلام ہے۔ علامہ ابن کثیر آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح لکھتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن موص بن زاوح بن عیص بن اسحاق علیہ السلام ہے۔ آگے لکھتے ہیں کہ ایک اور مورخ آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح لکھتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن موص بن رعویل بن عیص بن حضرت اسحاق علیہ السلام ہے۔ امام ابن عسا کر لکھتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی والدہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ امام ابن عسا کر لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ کا نام ”لیا “ ہے۔ اور وہ حضرت یوسف علیہ السلام کی پوتی ہیں۔ اور ان کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرة لیا بنت منشا بن یوسف علیہ السلام بن یعقوب علیہ السلام بن اسحاق علیہ السلام ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں
حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام اہل ِ روم میں سے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ امام محمد بن اسحاق نے ثقہ لوگوں کے حوالے سے حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول نقل کیا ہےکہ حضرت ایوب علیہ السلام اہل روم میں سے ہیں۔ اور سلسلہ ¿ نسب اس طرح ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن حوص بن زازح بن عیص بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ہے۔ اور دوسرا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن حوص بن رغویل بن عیص بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ بعض علمائے کرام نے رغویل کے بجائے رعویل لکھا ہے۔ اس سے پہلے ہم آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے ہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ( مکہ مکرمہ میں رہتے تھے) اپنے چھوٹے حضرت اسحاق علیہ السلام سے ( اُس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں رہتے تھے) فرمایا کہ اپنے بڑے عیص کا نکاح میری بیٹی سے کر دو۔ حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے بڑے بیٹے عیص کو پیار سے عیصو پکارتے تھے۔ جو اہلِ کتاب نے عیسو بنا دیا ہے۔ اور بائیبل میں عیسو ہی نام لکھا ہوا ہے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے اپنے بڑے بھائی کا حکم مانتے ہوئے اپنے بڑے بیٹے عیص کا نکاح اپنے بڑے بھائی کی بیٹی سے کر دیا ۔ آپ علیہ السلام کے اس وقت دو بیٹے تھے۔ چھوٹے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تو اپنے والد کے ساتھ اس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں رہتے تھے۔ جسے یہودی یروشلم کہتے ہیں۔ اور بڑے بیٹے عیص اپنے بیوی بچوں کو لے کر ملک شام چلے گئے اور وہیں رہائش پذیر ہو گئے۔ اُن کی اولاد پورے ملک شام میں پھیل گئی۔ عیص کے ایک بیٹے روم کی اولاد یورپ تک پھیل گئی اور یہی لوگ رومی کہلائے۔ روم کے نام پر آج بھی یورپ میں ایک شہر کا نام روم ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام اسی روم کی اولاد میں سے ہیں۔ ا س وقت وہ ملک شام میں ہی رہتے تھے۔ کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے تھے۔ اور اس کے لئے آپ علیہ السلام کا زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کا بتاتے ہیں۔ لیکن اس کے کوئی مستند شواہد نہیں ہیں ۔ کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے کئی سو سال بعد کے زمانے میں پیدا ہوئے۔ اور اگر حضرت ایوب علیہ السلام اُن کے بھی کئی سو سال بعد پیدا ہوئے تو کس طرح حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی آپ علیہ السلام کی والدہ ہوئیں۔ اور کس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کی پوتی آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ ہوئیں۔ اس لئے زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ اس وقت ہے جب بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں نہیں آئے تھے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہی ہے۔ بہر حال تمام علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جدِ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے عیص کی اولاد میں سے ہیں۔
حضرت ایوب علیہ السلام نبوت سے سرفراز
حضرت ایوب علیہ السلام ملک شام کے ایک علاقہ ” بثنیہ “ میں رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت ہی خوب صورت بنایا تھا۔ اور بہت زیادہ مال و دولت سے نواز ا تھا۔ اور اولاد سے بھی نواز اتھا۔ آپ علیہ السلام کے پاس بہت ساری زمینیں تھیں یوں سمجھ لیں اچھی خاصی جاگیر تھی۔ ایک روایت کے مطابق دو ہزار بیلوں کی جوڑی تھی۔لیکن اکثر علمائے کرام اور روایات کے مطابق پانچ سو بیلوں کی جوڑی تھی۔ جن کو پانچ سو غلام سنبھالتے تھے۔ اور ہر غلام کو اپنی بیوی اور بچے اور مال و دولت تھی۔ ایک ہزار بکریاں تھیں۔ پانچ سو خچر سامان اٹھانے کے لئے تھے۔ جس علاقے میں آپ علیہ السلام رہتے تھے اسی علاقے میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تھا۔ اور آپ علیہ السلام اپنے علاقے کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اور بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا لوگ آپ علیہ السلام کے کردار اور عمل سے بہت متاثر تھے اور ہر کوئی آپ علیہ السلام کی عزت کرتا تھا ۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بہت عبادت کرتے تھے۔ ہر ضرورت مند اور مستحق کی مدد کرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ پر بہت بھروسہ رکھتے تھے۔
حضرت ایوب علیہ السلام کا حلیۂ مبارک
حضرت ایوب علیہ السلام کے حلیہ مبارک کے مبارک کے بارے میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔ آپ علیہ السلام کا قد لمبا تھا۔ اور بال گھنگھریالے تھے۔ آنکھیں بڑی بڑی اور انتہائی خوب صورت تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو انتہائی خوب صورت بنایا تھا۔ آپ علیہ السلام کی پیشانی مبارک پر ” المبتلی ، الصابر “ یعنی آزمائش میں ڈالا گیا، صبر کرنے والا۔ آپ علیہ السلام کی گردن مبارک چھوٹی تھی۔ اور سینہ مبارک چوڑا تھا۔ پنڈلیاں اور بازو بھرے بھرے تھے۔ آپ علیہ السلام بیوہ عورتوں اور ضرورت مندوں اور مستحقوں کو مال دولت عطا فرماتے تھے۔ اور اللہ کی رضا کے لئے انہیں نئے کپڑے عطا فرماتے تھے۔ حضرت وہب بن عنبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام اپنے زمانہ میں سب سے بڑے عابد و زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ مال دار تھے۔ آپ علیہ السلام اس وقت تک بھوکے رہتے تھے جب تک کسی بھوکے کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھلا دیتے تھے۔ آپ علیہ السلام کسی نہ کسی ضرورت مند کو نیا لباس پہنانے کے بعد ہی نیا لباس پہنتے تھے۔ ابلیس شیطان، حضرت ایوب علیہ السلام کی طاقت و قوت اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد سے عاجز آگیا تھا۔ اور اس کا کوئی داﺅ بیچ آپ علیہ السلام پر نہیں چل پاتا تھا۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی شریعت
حضرت وہب بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی شریعت کیا تھی تو انہوں نے فرمایا۔ تو حید یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی یعنی اسلام کی دعوت دینا۔ اور لوگوں کو کفر اور شرک سے روکنا ۔ جھگڑا کرنے والوں میں صلح کروانا۔ اگر کسی کی حاجت پوتی تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو جانا۔ پھر اپنی حاجت طلب کرنا۔ ان سے پوچھا گیا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا مال و دولت کتنا تھا تو انہوں نے فرمایا۔ تین ہزار 3000فدان یعنی بیلوں کی جوڑیاں تھیں اور ہر فدان کے ساتھ ایک غلام ہوتا تھا۔ اور ہر غلام کے ساتھ ایک عورت ہوتی تھی۔ اور ہر عورت کے ساتھ ایک خچر اور چودہ ہزار بکریاں تھیں۔ آپ علیہ السلام کے مہمان خانے میں ہر وقت ایک نہ ایک مہمان رہتا تھا۔ اور کبھی کبھی تو سو100سے زیادہ مہمان بھی ہو جاتے تھے۔ اور حضرت ایوب علیہ السلام ہمیشہ کسی نہ کسی مسکین کے ساتھ مل کر ہی کھانا کھاتے تھے۔
اوروں کے مقابلے میں آزمائش سخت تھی
حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں تفسیر انوار البیان میں لکھا ہے کہ قرآن پاک میں حضرت ایوب علیہ السلام کا خصوصی ذکر صرف دو جگہوں پر آیا ہے۔ ایک تو سورہ الانبیاءاور دوسرے سورہ ص میں آیا ہے۔ اور سورہ ص میں اُن کی تکلیف اور دعا اور شفا یاب ہونا مذکور ہے۔ قرآن پاک میں دونوں جگہ اجمال ( مختصر) میں ہے اور اس کا ذکر نہیں ہے کہ تکلیف کیا تھی اور مصیبت کیسی تھی اور کتنے دن رہی۔ اور کسی صحیح ، صریح اور مرفوع حدیث میں بھی اس کی کوئی تفسیر نہیں ملتی۔ البتہ قرآن پاک کے سیاق سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بہت زیادہ تکلیف تھی۔ اور عام طور سے انبیائے کرام اور صالحین کی جو آزمائشیں ہوتی ہیں ان سے زیادہ سخت آزمائش تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی تھی کہ آل اولاد سب مفقود ہو کر ہلاک ہو کر جدا ہو گئے تھے۔ اس بارے میں عام طور سے جو روایات ملتی ہیں وہ عمومی اسرائیلی روایات ہیں۔ قرآن پاک تصریح سے معلوم ہو اکہ حضرت ایوب علیہ السلام کے دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت و عافیت عطا فرمادی۔ اور یہ صرف اللہ کی رحمت سے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ ہم نے ان کا کنبہ واپس کر دیا اور ان جیسے اور بھی دیئے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے دونوں احتمال لکھے ہیں کہ صحت و عافیت کے بعد یا تو ان کی گمشدہ اولاد واپس کر دی گئی جو ان سے جدا ہو گئی تھی۔ اور اگر وہ سب وفات پا گئے تھے تو اتنے ہی اُن کی جگہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما دیئے تھے۔ اور مشلھم معھم بھی ساتھ فرمایا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی سابق اولاد تھی اتنی ہی مزید اولاد ان کی صلب سے یا ان کی اولاد کی صلب سے عطا فرما دی۔
صبر اور شکر کرنے والے
حضرت ایوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بہت زیادہ صبر اور شکر کرنے والے بندے تھے۔ تفسیر بصیرت القران میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر اور شکر کے پیکر حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اُن کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازرکھا تھا تو وہ ہر وقت اللہ کے سامنے شکر گزاری کے جذبے کے ساتھ جھکے رہتے تھے۔ اور اُن کو ایسی بیماری اور تکلیف سے واسطہ پڑا کہ اُن کی بیوی کے علاوہ ہر شخص اُن کے قریب جاتے ہوئے گھبراتا تھا۔ فرمایا کہ اس حال میں بھی وہ انتہائی صبر سے کام لیتے تھے۔ ایک مرتبہ جب اُن کی بیماری اس درجے کو پہنچ گئی جو اُن سے برداشت نہیں ہو سکی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا۔ اے اللہ تعالیٰ، میری تکلیف اور بیماری حد درجہ بڑھ گئی ہے۔ اور تو تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی فریاد کو سنا اور اُن کی شدید بیماری اور تکلیف سے نجات عطا فرما دی۔ اور پہلے سے بھی زیادہ صحت ، مال و دولت اور اولاد سے اُن کو نواز دیا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر اور شکر ایک بہترین مثال ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جب دل سے پکارا جاتا ہے تو وہ ایسا مہربان اور کریم ہے کہ ہر شخص کی فریاد سنتا ہے۔ اور اس کو ہر طرح کی تکلیفوں سے نجات دے دیتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ دعا سننے والا اور سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔
انبیائے کرام پر سخت آزمائشیں آتی ہیں
حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر اور اللہ پر توکل ( بھروسہ ) کی آزمائش اللہ تعالٰی نے کی۔ تفسیر معارف القران میں لکھا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے قصہ میں اسرائیلی روایات بڑی طویل ہیں۔ اُن میں سے جن کو محدثین حضرات نے تاریخی درجہ میں قابل اعتماد سمجھا ہے اُن کو نقل فرمایا ہے۔ قرآن پاک سے توصرف اتنی بات ثابت ہے کہ اُن کو کوئی بہت ہی شدی مرض پیش آیا تھا۔ جس پر وہ صبر کرتے رہے۔ بالآخر اللہ تعالٰٰ سے دعا کی توا س سے نجات ملی اور یہ کہ اس بیماری کے زمانے میں اُن کی اولاد اور احباب سب غائب ہو گئے تھے۔ چاہے وہ موت کی صورت میں ہو یا کسی دوسری وجہ سے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت و عافیت دی اور جتنی اولاد تھی وہ سب ان کو دے دی بلکہ اس سے اور زیادہ عطا فرما دی۔ باقی حصے کے اجزاءبعض تو مستند احادیث میں موجود ہیں اور زیادہ تر تاریخی روایات ہیں۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کو ابتداءمیں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور جائیداد اور شاندار مکانات اور سواریاں اور اولاد اور غلام و خدام بہت کچھ عطا فرمایا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو پیغمبر انہ آزمائش میں مبتلا کیا اور یہ سب چیزیں اُن کے ہاتھ سے نکل گئیں۔ اور بدن میں ایسی بیماری لگ گئی کہ جیسے جذام ہوتا ہے کہ بدن کا کوئی حصہ سوائے زبان اور دل کے اس بیماری سے نہیں بچا۔ آپ علیہ السلام ایسی حالت میں بھی اپنی زبان اور دل کو اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رکھتے اور تکلیف پر صبر کرتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہتے تھے۔ اس شدید بیماری کی وجہ سے سب عزیزوں ، دوستوں اور پڑوسیوں نے اُن کو الگ کر کے آبادی کے باہر ڈال دیا۔ کوئی ان کے پاس نہیں جاتا تھا۔ صرف آپ علیہ السلام کی بیوی اُن کی خبر گیری کرتی تھی۔ جو حضرت یوسف علیہ السلام کی بیٹی یا پوتی تھی۔ جس کا نام لیابنت میشا بن یوسف علیہ السلام بتایا جاتا ہے۔ مال و جائیداد تو سب ختم ہو چکا تھا ۔ ان کی زوجہ محترمہ محنت مزدوری کر کے اپنے اور ان کے لئے روزی فراہم کرتی تھیں۔ اور آپ علیہ السلام کی خدمت کرتی رہتی تھیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا یہ ابتداءاور امتحان کوئی تعجب اور حیرت کی بات نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سب سے سخت بلائیں اور آزمائشیں انبیائے علیہم السلام کو پیش آتی ہیں۔ ان کے بعد دوسرے صالحین کو درجہ بہ درجہ اور ایک روایت میں ہے کہ ہر انسان کا ابتلاءاور آزمائش اس کی دینی صلابت اور مضبوطی کے مطابق ہوتی ہے۔ جو جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنی ہی اس کی ابتلاءاور آزمائش زیادہ ہوتی ہے۔ ( تاکہ اس مقدار اسے اس کے درجات بلند ہوں ) حضرت ایوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زمرہ¿ انبیاءعلیہم السلام میں دینی صلابت میں صبرکا ایک امتیازی مقام عطا فرمایا تھا۔ مصائب و شدائد پر صبر میں حضرت ایوب علیہ السلام ضرب المثال ہیں۔
بائیبل اعتبار کے قابل نہیں ہے
حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی شخصیت ، زمانہ ، قومیت ہر چیز کے بارے میں اختلاف ہے۔ جدید زمانے کے محققین میں سے کوئی ان کو اسرئیلی قرار دیتا ہے کوئی مصری اور کوئی عرب کہتا ہے۔ کسی کے نزدیک ان کا زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے کا ہے۔ کوئی انہیں حضرت داﺅد اور حضرت سلیمان علیہم السلام کے زمانے کا قرار دیتا ہے۔ اور کوئی اس زمانے کے بعد کا قرار دیتے ہیں۔ لیکن سب کے قیاسات کی بنیاد اس سفرِ ایوف یا صحفیہ¿ ایوب پر ہے جو بائیبل کے مجموعہ کتب میں شامل ہے۔ اسی کی زبان ، انداز بیان اور کلام کو دیکھ کر یہ مختلف رائیں قائم کی گئی ہیں نہ کہ کسی اور تاریخی شہادت پر ۔ اور اس سفرایوب کا یہ حال ہے کہ اس کے اپنے مضامین میں بھی تضاد ہے۔ اور اس کا بیان قرآن پاک کے بیان سے بھی اتنا مختلف ہے کہ دونوں کو بیک وقت نہیں مانا جاسکتا۔ لہٰذا ہم اس پر ( بائیبل پر) قطعاً اعتماد نہیں کر سکتے۔ زیادہ سے زیادہ قابل اعتماد شہادت اگر کوئی ہے تو وہ یہ ہے کہ بیعیا نبی آٹھویں صدی قبل مسیح اور حنرقی ایل ( حزقیل) نبی چھٹی قبل مسیح ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ، ہمارے زمانے میں جو یہ اکیسویں صدی چل رہی ہے یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے چل رہی ہے) اس لئے یہ امر یقینی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام نویں صدی قبل مسیح یا اس سے پہلے کے زمانے میں رہے ہوں گے۔ رہی قومیت کی بات تو سورہ نساءآیت نمبر63اور سورہ الانعام آیت نمبر84میں جس طرح ان کا ذکر آیا ہے اس سے گمان ہوتا ہے کہ وہ نبی اسرائیل ہی میں سے تھے۔ مگر حضرت وہب بن عنبہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان بھی کچھ بعید از قیاس نہیں ہے کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے عیسو( عیص) کی نسل سے تھے۔
حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ
حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں تفسیر تیسرالرحمن لبیان القران میں لکھا ہے کہ کہتے ہیں ۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ اور ان کا ہر علاقہ بحرمیت ( بحر مردار) کے جنوب مشرق میں تھا۔ وہ اللہ کے بڑے ہی صابر و شاکر بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خوب مال و دولت سے اولاد سے نواز تھا۔ اس لئے اپنے رب کا خوب شکر ادا کرتے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مبتلا کر دیا اور اولاد اور دولت سب جاتی رہی۔ تو آپ علیہ السلام اپنے رب کی رضا کے لئے بہت ہی صبر سے کام لیتے رہے۔ اور دل میں شکوہ کو بھی جگہ نہیں دی۔ جب ان کی تکلیف حد سے بڑھنے لگی اور اٹھارہ ( 18) سال کا زمانہ گزر گیا تو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر لی اور ان کی بیماری جاتی رہی۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے سے بھی زیادہ مال و دولت اور جائیداد سے نوازدیا۔ اس واقعہ سے نصیحت ملتی ہے کہ صبر کا انجا م ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ اور اسمائے حسنیٰ اور صفات علیا کے واسطے سے اللہ کے حصور دعا اور گریہ وزاری سے مصیبت دور ہوتی ہے۔ اور دنیا کی مصیبت و تکلیف اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ بندہ اپنے رب کی نگاہ میں ذلیل و بد بخت ہے اور ایمان و اخلاص کے ساتھ صبر کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ پہلے سے کئی گنا زیادہ دیتا ہے۔
آزمائش میں صبر و شکر پر قائم رہے
حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں تفسیر صیاءالقرا ٓن میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک بندے حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر فرمایا ہے۔ جس پر تکلیف اور شدائد کی انتہا ہو گئی لیکن ان کے ہاتھ سے صبر اور شکر کا دامن نہیں چھوٹا۔ ہر حال میں اپنے رب ( اللہ تعالیٰ ) کی حمد و ثنا میں سر گرم رہے تا کہ ہر انسان اپنے حالات میں انبیائے کرام علیہم السلام کے اُسوہ¿ حسنہ سے روشنی حاصل کر سکے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے نسب اور قوم اور زمانہ کے متعلق بہت کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگر چہ وثوق سے کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔ لیکن بعض قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ علیہ السلام کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح یا اس سے پہلے کا ہے۔ آپ علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام کے بڑے بیٹے عیسو ( عیص یا عیصو) کی نسل سے ہیں۔ آپ علیہ السلام بہت بڑے دولت مند تھے۔ زرعی زمین کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آپ علیہ السلام کے پاس کھیتی باڑی کے لئے بیلوں کی پانچ سو500جوڑیاں تھیں۔ ہزاروں کی تعداد میں بکریاں تھیں۔ سات بیٹے اور سات بیٹےاں تھیں۔ زوجۂ محترمہ کا نام رحمتہ بتایا گیا ہے۔ جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بیٹے ایفرائین (یا ایفرائیم) کی بیٹی تھیں بڑی حسین و جمیل اور صحت مند تھیں۔ ان گوناگوں انعامات کے باوجود آپ علیہ السلام اپنے خالق کی عبادت اور اس کی مخلوق کی خدمت میں ہر طرح سے سر گرم رہا کرتے تھے۔ مشیت الٰہی نے آزمانا چاہا ۔ کھیتیاں جل کر راکھ ہو گئیں۔ مال مویشی میں ایسی وبا پھوٹی کہ ایک بھی زندہ نہیں رہا۔ آپ علیہ السلام کے سارے بیٹے بیٹیاں اپنے بڑے بھائی کے یہاں مدعو تھے کہ مکان گر گیا اور سب کے سب کا انتقال ہو گیا۔ آپ علیہ علیہ السلام کے جسم مبارک پر آبلے نمودار ہو تے گئے خارش کی وجہ سے انہیں کھجلایا تو انہوں نے ناسوروں کی شکل اختیار کر لی۔ اور ان میں چھوٹے چھوٹے کیڑے رینگنے لگے جس سے پیپ بہنے لگی۔ سب نیاز مند اپنا سلسلہ ¿ نیاز و عقیدت توڑ کر الگ ہو گئے۔ سب دوستوں نے آنکھیں پھیر لیں۔ شہر والوں نے بستی سے نکال دیا کہ ان سے دوسرے لوگوں میں بیماری پھیلنے کا اندیشہ ہے ۔ آزمائش کی ان گھڑیوں میں بھی زبان پر کوئی حرف شکایت نہیں آیا۔ اور دل میں کبھی بھی اپنے مالک و خالق سے شکوہ کا خیال بھی پیدا نہیں ہوا۔ کافی عرصہ اسی حالت میں گزر گیا بعض نے سات سال اور بعض نے اس سے بھی زیادہ لکھے ہیں۔ زبان پھر بھی اپنے خالق و مالک کی حمد و ثنا میں مصروف رہی۔ آخر یہ التجا زبان پر آہی گئی ” انی مسّنی الضر “ الٰہی مجھے مصیبتوں اور بیماریوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور اس کے بعد یہ عرض نہیں کی کہ میری تکلیفوں اور بیماریوں کو دور فرما دے اور مجھے ان مصیبتوں سے رہائی بخش ۔ صرف اتنا عرضی کیا۔ ” انت ارحم الراحمین“ تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ گویا یہ کہہ کر سب کچھ ہی کہہ دیا۔
اللہ تعالیٰ کا فخر فرمانا
حضرت ایوب علیہ السلام بے انتہا دولت مند ہونے کے باوجود ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہتے تھے اور جتنا ہو سکتا تھا اللہ کی مخلوق کی مدد کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ اور جب دوسرے لو گ آپ علیہ السلام کا شکریہ ادا کرتے تھے تو آپ علیہ السلام فرماتے تھے۔ تمہاری یہ مدد میں نے نہیں کی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کی ہے۔ اس لئے تم صرف اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ صر ف اسی کی عبادت کرو اور اسی سے مدد مانگو۔ وہ اللہ تعالیٰ سب سے جلدی سننے والا ہے اور مدد کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کی عبادت ، لوگوں کی غم گساری اور اللہ کی شکر گزاری سے بہت خوش تھے۔ اور مقرّب فرشتوں کی مجلس میں آپ علیہ السلام پر فخر کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی تعریف فرماتے تھے۔ اور بتایا کرتے تھے کہ میر ایہ بندہ اتنی نعمتیں ملنے کے بعد بھی شکر ادا کر رہا ہے۔ اکثر لوگ مال و دولت اور دوسری نعمتیں ملنے کے بعد گھمنڈ ، تکبر ، اور سر کشی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ میں نے اس بندے کو مال و دولت دے کر آزمایا تو اس نے اس آزمائش میں عظیم کامیابی حاصل کی ہے۔ اور جتنی اسے مال و دولت اور نعمتیں اور خوشیاں ملتی جا رہی ہیں میرا یہ بندہ اتنا ہی زیادہ شکر گزار بندہ بنتا جا رہا ہے۔ اسے میرے اوپر بہت بھروسہ ہے۔ اور اگر میں اس سے تمام مال و دولت اور تمام نعمتیں چھین لوں تب بھی یہ مجھ پر بھروسہ ( توکّل) رکھے گا۔ اور صبر کرے گا۔ اور میرا شکر ادا کرتا رہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے اس اعتماد کا آپس میں ذکرکرتے رہتے تھے اور آپ علیہ السلام کے لئے دعا کرتے رہتے تھے۔ تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ جو قرب حاصل ہے وہ دوسرے فرشتوں کو حاصل نہیں ہے اللہ تعالیٰ اُن سے براہ راست کلام فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جب کسی کو پسند فرماتا ہے تو اس کا ذکر جبرئیل علیہ السلام سے کرتا ہے وہ میکائیل علیہ السلام سے ذکر کرتے ہیں۔ وہ دوسرے مقرب فرشتوں سے ذکر کرتے ہیں۔ جب اُن مقرب فرشتوں میں اللہ تعالیٰ کے اس خاص بندے کا ذکر ہوتا ہے اور وہ آپ میں تذکرہ کرتے ہیں تو اس آسمان کے سب فرشتے اس خاص بندے کا تذکرہ آپس میں کرتے ہیں اور اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔ وہ نیچے کے آسمان کے فرشتے سنتے ہیں اور تذکرہ اور دعا کرتے ہیں۔ اس طرح آسمان ِ دنیا ( پہلے آسمان) کے فرشتوں تک وہ ذکر پہنچ جاتا ہے۔ اور وہ سب فرشتے بھی آپس میں اس خاص بندے کا ذکر یعنی تذکرہ کرتے ہیں اور اس کے لئے دعا کرتے ہیں ۔ اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام کا تذکرہ بھی ساتوں آسمانوں میں ہوتا رہتا تھا۔ اور تمام فرشتے آپ علیہ السلام کے لئے دعا کرتے رہتے تھے۔
ابلیس شیطان کا حسد
حضرت ایوب علیہ السلام کی فضیلت اور ان کے لئے فرشتوں کی دعا ابلیس شیطان نے سنی تو وہ حسد کے مارے جل بھن گیا۔ وہ تو انسان کا ازلی دشمن ہے۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر آج تک وہ بد بخت ملعون شیطان انسانوں سے دشمنی کر رہا ہے۔ آج کے زمانے میں اس کے خاص مدد گار یہودی، عیسائی اور کافر ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام سے تو ابلیس شیطان پہلے ہی دشمنی کر رہا تھا اور آپ علیہ السلام کی اسلام کی دعوت میں رکاوٹیں پیدا کر رہا تھا۔ لیکن جب اس نے فرشتوں کی باتیں اور دعائیں سنی تو وہ آپ علیہ السلام سے بہت زیادہ حسد کرنے لگا۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ وہ دور ( یعنی حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ ) تھا۔ جب ابلیس شیطان پر آسمانوں پر جانے کی پابندی نہیں تھی۔ وہ آسمانوں میں جہاں جانا چاہتا جا سکتا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں میں اٹھا لیا تو ابلیس شیطان کو چار آسمانوں میں جانے سے روک دیا گیا۔ پھر جب انبیائے کرام کے سردا ر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ابلیس شیطان کو تمام آسمانوں پر جانے کی پابندی لگا دی گئی۔ یعنی اسے سب آسمانوں جانے سے روک دیا گیا۔ جب حضرت ایوب علیہ السلام اللہ کا ذکر اور حمد و ثنا ءمیں مصروف تھے تو فرشتوں نے آپ علیہ السلام کے لئے مل کر دعا کی تو ابلیس شیطان یہ سن کر بغاوت اور حسد کی آگ میں جلنے لگا۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش کی شروعات
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت ایوب علیہ السلام کی فضیلت دیکھ کر ابلیس شیطان کو آپ علیہ السلام سے بہت زیادہ حسد ہو گیا تھا۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ تیرا یہ بندہ ( حضرت ایوب علیہ السلام ) مصیبتوں اور تکلیفوں پر صبر نہیں کر سکے گا۔ اگر تو ( اللہ تعالیٰ) ااسے آزمانا چاہتا ہے تو اس کے مال پر مجھے قابول دیدے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا میں نے تجھے اس کے مال پر اختیار دیا۔ ابلیس شیطان نے اپنے شاگردشیطانوں کو جمع کیا اور کہا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کے مال پر اختیار دے دیا ہے۔ اب ہمیں اُن کے تمام مال کو تباہ کرنا ہے۔ اور یہ ایسا غم ہے جس پر آپ علیہ السلام صبر نہیں کر سکیں گے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ ابلیس شیطان نے کہا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں نے بندے ایوب ( علیہ السلام ) کو دیکھا ہے ۔تو نے اس پر انعام کیا ہے۔ اس لئے وہ تیرا شکر ادا کرتا ہے۔ تو نے اسے عافیت دی ہے اس لئے وہ تیری حمد و ثنا میں رطب اللسان رہتا ہے۔ اگر تو اس سے یہ ساری نعمتیں چھین لے گا تو پھر یہ تیرا شکر ادا نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ابلیس شیطان مردود میں نے تجھے اس کے مال پر اختیا ر دے دیا۔ ابلیس تیزی سے زمین پر آیا اور اپنے تمام چیلوں کو جمع کیااور انہیں کہا۔ مجھے ایوب ( علیہ السلام )کے مال پر اختیار دے دیاگیا ہے۔ کس کو طاقت ہے کہ وہ ان کا مال تباہ کر دے۔ مال کا خسارہ ایسا خسارہ ہے کہ جس کی وجہ سے بڑے بڑے دل گردے والے بھی ہمت ہار دیتے ہیں۔ ایک شیطان نے کہا۔ مجھے یہ قوت ہے میں آگ کا بگولہ بن کر اُس کی ہر چیز جلا دوں گا۔
پہلی آزمائش میں کامیابی کے بعد دوسری آزمائش
حضرت ایوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار مال و دولت عطا فرما کر پہلی آزمائش لی تھی۔ اور آپ علیہ السلام نے صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کے اس آزمائش میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ اب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے صبر کی آزمائش شروع کی اور ابلیس شیطان کو آپ علیہ السلام کے مال پر اختیاردے دیا۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی آگے لکھتے ہیں کہ ابلیس شیطان کے ایک چیلے نے کہا میں آگ کا بگولہ بن اس کی ہر چیز جلا دوں گا۔ ابلیس نے کہا۔ جا اور جب اس کے اونٹ چراگاہ میں چر رہے ہو ں تو انہیں جلا دے۔ وہ شیطان زمین کے نیچے سے آگ کا شعلہ بن کر نکلا جو چیز اس کے قریب آتی جل جاتی تھی۔ اس نے آپ علیہ السلام کے سب اونٹوں کو جلا دیا پھر یہ شیطان اونٹوں کے نگراں کی شکل میں حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آیا۔ اس وقت آپ علیہ السلام کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے۔ شیطان جو انسانی شکل میں آیا تھا کہنے لگا۔ اے ایوب ( علیہ السلام ) تو نے دیکھا کہ ایک آگ آئی اور اس نے تیرے اونٹ جلا دیئے۔ اور دوسرے کے اونٹ بھی راکھ کر دیئے۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا۔ سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے وہ اونٹ عطا فرمائے تھے اسی نے لے لئے۔ میں جانتا ہوں کہ مال اور جان فنا ہونے والی چیز ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت نوف رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جو شیطان حضرت ایوب علیہ السلام کے پیچھے پڑا تھا اس کا نام مسبوط تھا۔ علامہ عبدا لرزاق بھترالوی لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے مقرب بندوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر کے آزماتا ہےکہ میرا یہ بندہ کتنا صبر کرتا ہے۔ اور مصائب و آرام میں کوئی شکوہ تو زبان پر نہیں لاتا اور کبھی اللہ تعالیٰ بہت مال و دولت دے کر آزماتا ہے کہ میر ابندہ کتنا شکریہ ادا کرتا ہے؟ حضرت ایوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پہلے آرام و صحت ، مال و دولت ، اولاد اور ہر طرح کی خوشیاں عطا کر کے آزمایا۔ اس آزمائش میں بھی آپ علیہ السلام نے عظیم کا میابی حاصل کی۔ اور آپ علیہ السلام نے شکریہ ادا کر کے بے مثال نمونہ پیش کیا۔ اس کے بعد آزمائش کا دوسرا مرحلہ یا دور شروع ہوا۔ وہ اس طرح ہوا کہ زمین کے نیچے سے قدرتی آگ نے آپ علیہ السلام کے باغات ، کھیتیاں ، اونٹ ، بکریاں ، چرواہے جلا کر راکھ کر دیئے۔ جب آپ علیہ السلام کو پتہ چلا تو فرمایا۔ یہ سب مال و دولت اللہ تعالیٰ نے ہی عطا فرمایا تھا۔ اور وہی اس کا حقیقی مالک ہے۔ جب وہی اس کا حقدار ہے تو اسے حق پہنچتا ہے کہ جب چاہے واپس لے لے۔ میری کوئی مجال نہیں ہے کہ میں کچھ کہوں۔
اولاد کی ہلاکت
حضرت ایوب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی آزمائش جاری تھی۔ دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کا مال و دولت ختم ہونے لگا۔ آپ علیہ السلام کے مویشی مرتے جا رہے تھے اور کھیت اور باغ مرجھاتے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ آپ علیہ السلام کے پاس چند مینڈھیوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا اور آپ علیہ السلام اپنی قوم کے سب سے غریب ہو گئے مال و دولت چھن جانے کے بعد بھی آپ علیہ السلام اپنے دعوتی کاموں کو اور تیزی سے کرنے لگے۔ اور اللہ تعالیٰ کی اور زیادہ حمد و ثنا اور عبادت کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ پر آپ علیہ السلام کا بھروسہ اور مضبوط ہو گیا۔ یہ دیکھ کر ابلیس شیطان اور زیادہ حسد کا شکار ہوگیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی اولاد پر مجھے قابو دے دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا تجھے اس کی اولاد پر قابو دیا۔ لیکن ایوب (علیہ السلام )کے جسم پر تجھے قابو نہیں ہوگا۔ اب ابلیس شیطان آپ علیہ السلام کی اولاد کو تباہ کرنے لگا۔ آپ علیہ السلام کے بیٹے اور بیٹیاں مال و دولت چھن جانے کے بعد بھی آپ علیہ السلام کی خدمت کرتے تھے اور آپ علیہ السلام کو ہر ممکن آرام دینے کی کوشش کرتے تھے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں ۔ جب حضرت ایوب علیہ السلام کا سارا مال ضائع ہو گیا تو آپ علیہ السلام اور زیادہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے لگے اور صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ( اور ابلیس شیطان اور زیادہ حسد کا شکار ہو گیا) ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے کہا ۔ اے اللہ تعالیٰ ، تو نے جو ایوب علیہ السلام کو اولاد عطا فرمائی ہے اسی وجہ سے وہ تیر ا شکر ادا کرتا ہے۔ کیا تو مجھے اس کی اولاد پر قابو دے گا؟ کیوں کہ اولاد کی تکلیف ایسی ہے جس سے بڑے بڑے مردوں کے کلیجے پگھل جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا تجھے اس کی اولاد پر بھی قابو دیتا ہوں۔ لیکن اس کے جسم پر تیرا کوئی قابو نہیں رہے گا۔ وہ بد بخت مردود آیا۔ اس وقت حضرت ایوب علیہ السلام کی تمام اولاد ایک محل میں جمع تھی۔ ابلیس شیطان نے محل کو ہلایا اور دیواروں کو آپس میں ٹکرا دیا۔ پھر لکڑیاں اور پتھر اُن کے اوپر پھینکے یہاں تک کہ سب زخمی ہو گئے۔ پھر اس مردود ابلیس شیطان نے محل کو اٹھا کر الٹا کر کے پھینک دیا۔ علامہ عبدالرزاق بھترالوی لکھتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی اولاد ایک مکان میں جمع تھی۔ ( ایک اور روایت میں ہے کہ وہ سب بھائی بہن اپنے چچا کے یہاں ایک تقریب میں جمع تھے) وہاں زلزلہ آیا اور مکان گر گیا اور آپ علیہ السلام کی تمام اولاد کا انتقال ہو گیا۔ مکان کی چھت اور دیوار گرنے سے آپ علیہ السلام کے بچوں پر کیا حال گزرا ہوگا؟جسم چکنا چور ہو ئے ہوں گے ہڈیاں ٹوٹی ہو ں گی۔ سر پھٹے ہوں گے اور خون کے فوارے اڑے ہوں گے۔ لیکن یہ حال سن کر بھی اللہ کے نبی علیہ السلام نے کمال کے صبر کا مظاہرہ کیااور زبان پر ہی الفاظ آئے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔
ابلیس شیطان کی مایوسی اور حسد زیادہ بڑھ گیا
حضرت ایوب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی آزمائش چل رہی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مال و دولت اور اولاد کے ختم کرنے کے ساتھ آزمائش میں ڈالا تو آپ علیہ السلام کے پاس کچھ بھی نہیں رہا تھا۔ تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا بہت عمدہ ذکر کیا اور فرمایا۔ الحمد للہ رب العالمین ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھ پر احسان فرمایا۔ تو نے مجھے مال اور اولاد کی نعمت سے نوازا۔ جن کی محبت میرے دل کے ہر گوشہ میں داخل ہو گئی تھی۔ پھر یہ سب کچھ مجھ سے چھین لیا اور میرے دل کی دنیا کو ہر فکر سے آزاد کر دیا۔ اب میرے اور تیرے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی ہے۔ میں نے جو تیری تعریف کی ہے ۔ میرا دشمن ( ابلیس شیطان) اس کی وجہ سے حسد کرنے گا۔ پس ابلیس شیطان کو حضرت ایوب علیہ السلام کے ان عجز و نیاز میں ڈوبے الفاظ سے بہت تکلیف ہوئی۔ آپ علیہ السلام کے اس صبر اور اللہ پر توکّل یعنی بھروسے کی وجہ سے بہت مایوسی ہوئی اور اس بد بخت کا آپ علیہ السلام سے حسد اور بڑھ گیا۔
حضرت ایوب علیہ السلام کو رُلایا
حضرت ایوب کی تمام اولاد اللہ کو پیاری ہو گئی۔ اندازہ کریں آپ علیہ السلام نے کس طرح جوان اولاد وں کو اپنے کاندھے پر لے جا کر دفن کیا ہوگا۔ اور کس طرح صبر کیا ہوگا؟ اولاد سے انسان کو بہت محبت ہوتی ہے لیکن اس غم کو بھی آپ علیہ السلام انتہائی صبر سے برداشت کر تے رہے اور اپنی ہر تکلیف پر آپ علیہ السلام بس اتنا فرماتے تھے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ ابلیس یہاں بھی ناکام ہو گیا اور آپ علیہ السلام کے صبر کو نہیں توڑ سکا۔ پھر اس نے ایک چال چلی۔ بچوں کے چھن جانے کے بعد ایک دن آپ علیہ السلام غور و فکر کرتے ہوئے بیٹھے تھے کہ ابلیس شیطان بچوں کے معلم یعنی استاد کی شکل میں آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور غمگین شکل بنا کر رونے لگا اور بچوں کی خوبیاں بیان کرنے لگا۔ اور آپ علیہ السلام کے غمگین دل میں اور زیادہ غم کے جذبات پیدا کرنے لگا۔ تا کہ آپ علیہ السلام کا صبر ٹوٹ جائے۔ حضرت ایوب علیہ السلام خاموش بیٹھے سن رہے تھے اور دھیرے دھیرے آنکھوں میں آنسو بھر نے لگے۔ ادھر لگاتار ابلیس شیطان کی کوشش جاری تھی اور وہ آپ علیہ السلام کے بچوں کا ذکر اس انداز میں کر رہا تھا کہ آپ علیہ السلام کے صبر کا باندھ ٹوٹ جائے۔ آخر کار آپ علیہ السلام رونے لگے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں ۔ پھر ابلیس بد بخت حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس بچوں کا معلم بن کر آیا جو ان کو حکمت سکھایا کرتا تھا۔ اس نے کہا۔ اے ایوب (علیہ السلام ) اگر آپ علیہ السلام اپنے بیٹے اور بیٹوں کو دیکھتے کہ انہیں کیسی موت دی گئی ہے اور کیسے الٹا گرایا گیا ہے جس کی وجہ سے اُن کے بھیجے اور خون بہہ رہے تھے اور اگر آپ علیہ السلام دیکھتے کہ کس طرح اُن کے پیٹ پھٹے ہوئے تھے اور انتڑیاں بکھری ہوئی تھیں تو آپ علیہ السلام کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ وہ اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام کو اولاد کا غم اور تکلیف یاد دلاتا رہا۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کا دل پسیج گیا اور آپ علیہ السلام رونے لگے پھر آپ علیہ السلام نے مٹھی بھر مٹی اپنے اوپر ڈال لی۔
توبہ پہلے پہنچ گئی
حضرت ایوب علیہ السلام کے دل میں ابلیس شیطان نے اولاد کے لئے پدرانہ جذبات کو اکسایا اور آپ علیہ السلام کے آنسو نکل آئے۔ حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ( یہ جلیل القدر تابعی اور مفسر اور محدث ہیں) ابلیس مردود نے حضرت ایوب علیہ السلام سے ان کی آزمائش کے دوران رونے کے علاوہ کچھ نہیں پایا۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے بس اتنا ہی کیا کہ رونے لگے اور مٹی اٹھا کر اپنے سر پر ڈال لی اور زبان سے کوئی شکوہ اور شکایت نہیں کیا۔ لیکن مردود ابلیس کے لئے یہ بھی کافی ہو گیا اور وہ اللہ تعالیٰ کو بتانے کے لئے فوراً چل پڑا کہ میں نے حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کو توڑ دیا۔ اس کے اس طرح اچانک چلے جانے سے آپ علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ ابلیس شیطان تھا اور مجھے بہکانے کے لئے آیا تھا۔ حالانکہ سر پر مٹی ڈالنا اور آنکھوں سے آنسو بہنا کوئی گناہ نہیں ہے اور آپ علیہ السلام تو معصوم عن الخطاءہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے فوراً توبہ کر لی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فوراً رجوع کیا۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ابلیس سے پہلے آپ علیہ السلام کی توبہ لے کر پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ نے قبول کر لی۔ اور ابلیس مردود ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گیا۔
بیماری سے آزمائش
حضرت ایوب علیہ السلام سے ابلیس شیطان بہت حسد کرنے لگا تھا۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام آزمائش کے ہر مرحلے میں کامیاب ہوتے جا رہے تھے۔ اور ہر مرحلے کی کامیابی کے بعد اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کا مرتبہ بڑھا دیتا تھا۔ اور پہلے سے زیادہ مقرّب بنا لیتا تھا۔ اور ہر مرحلے کی آزمائش میں ناکام ہونے کے بعد ابلیس شیطان کاآپ علیہ السلام سے حسد بڑھتا جا رہا تھا۔ اور وہ مردود پھر سے آپ علیہ السلام کے صبر کو توڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے نئی درخواست کر دیتا تھا۔ اس مرتبہ اس نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم مبارک پر مجھے اختیار دے کیوں کہ آپ علیہ السلام نے مال و دولت اور اولاد کے صدمے کو اس لئے برداشت کر لیا کہ آپ علیہ السلام کا جسم مبارک تندرست ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ مرد ود لعین اپنی یہ حسرت بھی پوری کر لے۔ جا میں نے تجھے اس کے جسم پر اختیار دیا۔ لیکن اس کی زبان اور دل پر تیرا کوئی اختیار نہیں رہے گا۔
حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر نیک لوگوں کے لئے نمونہ
حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کو توڑنے میں ایک مرتبہ پھر ناکام ہونے کے بعد ابلیس شیطان نے آپ علیہ السلام کے جسم پر قابو کی درخواست کی جو اللہ تعالیٰ نے اسے دے دیا۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ ابلیس ذلیل و رسوا ءہو کر ٹھہر گیا اور کہا ۔ اے اللہ تعالیٰ، ایوب علیہ السلام پر مال اور اولاد کا غم تو آسان تھا۔ کیوں کہ انہیں تو نے صحت مند اور تندرست جسم عطا فرمایا ہے۔ اور اسے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ مال اور اولاد پھر عطا فرما دے گا۔ کیا تو مجھے اس کے جسم پر قابو عطا کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا تجھے میں نے اس کے جسم پر بھی قابو عطاکیا۔ لیکن اس کی زبان اور دل پر تجھے قابو نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جانتے تھے اور ( ابلیس شیطان کو ) ان چیزوں ( یعنی مال و دولت ، اولاد اور جسم ) پر قابو اپنی رحمت کی وجہ سے نہیں دیا تھا بلکہ اس لئے قابو دیا تا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے اجر میں اضافہ ہو جائے اور صبر کرنے والوں کے لئے آپ علیہ السلام کی سیرت مبارکہ ایک نمونہ بن جائے۔ اور ابتلاءو آزمائش میں نیک اور عبادت گزار بندوں کے لئے نصیحت بن جائے۔ تا کہ دنیا والے صبر اور ثواب کی امید میں اللہ تعالیٰ سے مانوس ہوں۔
بیماری کی تکلیف
حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ مال و دولت اور اولاد چھن جانے کے بعد آپ علیہ السلام صبر و شکر کے ساتھ اللہ کی عبادت اور لوگوں کی خدمت میں زیادہ دل و جان سے مصروف ہو گئے۔ آپ علیہ السلام ایک دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں تھے کہ ابلیس شیطان مردود نے آپ علیہ السلام کی گردن کے پچھلے حصے پر پھونک ماری۔ مردود ابلیس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے بنایا ہے۔ اس کے پھونک مارنے سے آپ علیہ السلام کو بہت زیادہ تکیف ہوئی اور پورا بدن بے حد گرم ہو گیا۔ اتنا گرم ہو گیا کہ پور ے بدن پر چھالے آگئے اور دھیرے دھیرے یہ چھالے زخم بن گئے اور یہ زخم دن گزرنے کے ساتھ ساتھ خراب ہو تے گئے اور اُن میں مواد ( پیپ) پید اہو گئی۔ آپ علیہ السلام کو بے انتہا درد تکلیف تھی لیکن برداشت کر رہے تھے۔ بدن مبارک سے بدبو آنے لگی دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کے رشتہ دار، پڑوسی اور جان پہچان کے لو گ آپ علیہ السلام سے دور ہوتے چلے گئے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے اجازت مل جانے کے بعد ابلیس شیطان جلدی سے حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ علیہ السلام سجدے میں ہیں اس مردود نے سجدے کی حالت میں ہی آپ علیہ السلام کے اوپر پھونک ماری۔ جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کا پورا جسم پھول گیا اور سر سے پاﺅں تک پورے جسم مبارک پر پھنسیاں نکل آئیں۔ وہ پھنسیاں پھوڑے کی طرح بکریوں کے جگر اتنی بڑی بڑی تھیں۔ آپ علیہ السلام کے جسم پر خارش ( کھجلی) شروع ہو گئی۔ پہلے آپ علیہ السلام اپنے ناخنوں سے کھجلاتے رہے یہاں تک کہ ناخن گر گئے یعنی جھڑ گئے۔ پھر کھردرے ٹاٹ سے کھجلانے لگے یہاں تک کہ ٹاٹ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو نے لگے۔ پھر ٹھیکریوں اور پتھر سے کھجلانے لگے۔ آپ علیہ السلام ااسی طرح کھجلاتے رہے یہاں تک کہ گوشت گرنے لگا۔ اور جسم مبارک سے بدبو آنے لگی۔
زوجۂ محترمہ ( بیوی) مسلسل خدمت کرتی رہی
حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری اتنی شدید تھی کہ لوگ آپ علیہ السلام سے دور ہونے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کو بستی سے نکال دیا۔ صرف آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ ( بیوی) آپ علیہ السلام کے ساتھ رہی اور مسلسل دیکھ بھال اور خدمت کرتی رہی۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی تکلیف کا ذرا تصور کریں ہمیں ایک چھوٹا سا زخم لگ جاتا ہے اور وہ کچھ دنوں میں اچھا ہو جاتا ہے۔ لیکن اس زخم کی تکلیف اور درد کو ہم کتنا محسوس کرتے ہیں۔ اور یہاں تو حضرت ایوب علیہ السلام کا پورا جسم ہی خطرناک قسم کے زخموں سے بھرا ہوا تھا اور پورے جسم میں ایسی تکلیف اور دود ہور ہا تھا جس کا ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام ایسی تکلیف اور ایسا درد ایک دن نہیں ، ایک ہفتہ نہیں ، ایک مہینہ نہیں بلکہ کئی سال تک برداشت کرتے رہے اور صبر کرتے رہے۔ روایات میں آتا ہے کہ دنیا میں چیچک میں مبتلا ہونے والے سب سے پہلے شخص حضرت ایوب علیہ السلام ہیں۔ آپ علیہ السلام کے جسم کا تمام گوشت گل گیا تھا۔ صرف پٹھے اور ہڈیاں کچھ حد تک محفوظ تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیوی نے ایسے نازک حالات میں بھی آپ علیہ السلام کی بھر پور خدمت کی۔ جب کہ ایسے وقت میں ہر ایک نے آپ علیہ السلام کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ لیکن آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا مسلسل خدمت کرتی رہیں ۔ وہ راکھ اٹھا اٹھا کر لاتی تھی۔ اور اسے بچھا کر اس پر آپ علیہ السلام کو لٹایا کرتی تھی۔ علامہ عبدالرزاق بھتر الوی لکھتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم میں شدید حرارت سے ایسا اثر ہوا کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ آپ علیہ السلام کے جسم مبارک کے اندر شعلے بھڑک اٹھے ہوں۔ سر سے لے کر قدم تک آبلے ( چھالے) پڑ گئے۔ شدید خارش ( کھجلی) ہونے لگی۔ ناخنوں سے جسم کو کھجلاتے رہے یہاں تک کہ ناخن گر ( جھڑ) گئے۔ سارے جسم میں صرف آنکھیں ، دل اور زبان محفوظ تھے۔ امام ابن عسا کر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم سے اگر کوئی کیڑا نیچے گر جاتا تو آپ علیہ السلام پھر سے اسے اٹھا کر اپنے زخموں پر رکھ لیتے تھے اور فرماتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے جو رزق تمہیں دیا ہے وہ کھاﺅ۔
بیماری کے دوران مناجات
حضرت ایوب علیہ السلام بیماری کے دوران انتہائی صبر کا مظاہرہ کرتے رہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یزید بن میسرہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی آزمائش شروع ہوئی اور مال و دولت اہل و عیال سب فنا ہو گئے اور کوئی چیز ہاتھ میں باقی نہیں رہی تھی تو حضرت ایوب علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کا اور زیادہ ذکر کرنے لگے۔ اور فرمانے لگے۔ اے اللہ تعالیٰ ، اے تمام پالنے والوں کو پالنے والے، تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے۔ مال و دولت عطا فرمایا اور اولاد عطا فرمائی اس وقت میر ا دل ( تیری دی ہوئی نعمتوں میں ) مشغول تھا۔ اب تو نے سب کچھ لے کر میرے دل کو ان کی فکروں سے مجھے آزاد کر دیا ۔ اب میرے اور تیرے درمیان کوئی حائل نہیں ہے۔ اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لے گا تو مجھ سے بہت حسد کرنے لگے گا۔ اس وقت ابلیس لعین جل بھُن کر رہ گیا۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے جو مناجات کرتے تھے اُن میں سے ایک یہ بھی ہے اے اللہ تعالیٰ، آپ نے مجھے تو نگر اور اولاد اور اہل و عیال والا بنا رکھا تھا۔ آپ تو خوب جانتے ہیں کہ اس وقت میں نے کبھی غرور اور تکبر نہیں کیا۔ اور کبھی کسی پر ظلم و ستم بھی نہیں کیا۔ میرے پروردگار ، آپ پر یہ بات بھی خوب روشن ہے کہ میر انرم و گرم بستر تیار ہوتا تھا اور میں راتوں کو آپ کی عبادتوں میں گزارتا تھا۔ اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا تھا کہ تو اس لئے نہیں پیدا کیا گیا ہے ۔ اور میں اے اللہ آپ کی رضا مندی کی طلب میں اپنی راحت اور آرام ترک کر دیا کرتا تھا۔
تندرستی کے برابر تکلیفیں برداشت کروں گا
حضرت ایوب علیہ السلام کا پورا جسم پھوڑوں اور زخموں سے بھرا ہوا تھا۔ اس لئے آپ علیہ السلام کسی بھی سخت یا نرم چیز پر بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔ اور لیٹ بھی نہیں سکتے تھے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ ( دونوں جلیل القدر تابعی ہیں) فرماتے ہیں۔ سات سال اور کئی مہینے آپ علیہ السلام بیماری میں مبتلا رہے۔ لوگوں نے بستی کے باہر آپ علیہ السلام کو ڈال دیا تھا۔ بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر اپنا رحم و کرم فرمایا اور تما م بلاﺅں سے نجات دی اور اجر و ثواب عطا فرمایا اور تعریفیں کیں۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام پورے تین سال تکلیف میں مبتلا رہے۔ سارا گوشت جھڑ گیا۔ صرف ہڈیاں اور چمڑی رہ گئے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا ہی پاس رہتی تھیں۔ اور خدمت کرتی تھیں۔ ایک روز آپ رضی اللہ عنہا عرض کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم پر سے ٹال دے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے اللہ کی نیک بندی اور میری پیاری بیوی رضی اللہ عنہا، اللہ تعالیٰ نے مجھے ستر70برس تک تندرست رکھا اور صحت و عافیت عطا فرمائی ہے۔ اگر میں ستّر سال تک اس بیماری اور تکلیف میں مبتلا رہوں او ر صبر کروں تو یہ بھی بہت کم ہے۔ اس پر آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا کانپ اٹھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا شہر میں جاتی تھیں اور لوگوں کا کام کاج کر کے جو کچھ بھی ملتا تھا وہ لے کر اپنے شوہر کے پاس آتی تھیں اور آپ علیہ السلام کو کھلاتی پلاتی تھیں۔
اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ میں صبر کرتا ہوں یا نہیں
اللہ تعالیٰ کی حضرت ایوب علیہ السلام پر آزمائش جاری تھی۔ اور آپ علیہ السلام انتہائی صبر و شکر سے اس عظیم آزمائش سے گزر رہے تھے۔ لیکن ابلیس شیطان سے آپ علیہ السلام کا صبر وہ شکر برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ اور وہ آپ علیہ السلام کی کامیابی کو ناکامی میں بدلنا چاہتا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کے دو دوست اور دلی خیر خواہ فلسطین ( اُس وقت کا ملک کنعان) میں رہتے تھے۔ ابلیس شیطان نے انسانی شکل میں جا کر اُن دونوں کو خبر دی کہ تمہارا دوست سخت مصیبت میں مبتلا ہے۔ تم جاﺅ اور ان کی خبر گیری کرو اور اپنے یہاں سے شراب اپنے ساتھ لے جاﺅ۔ وہ اسے پلا دینا اور وہ تندرست اور اچھا ہو جائے گا۔ دونوں دوست حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آئے۔ اور آپ علیہ السلام کی حالت دیکھ کر بلبلا کر رونے لگے۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ تم دونوں کون ہو؟ انہوں نے یاد دلایا تو آپ علیہ السلام پرانے دوستوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انہیں مرحبا( خوش آمدید) کہا۔ وہ دونوں کہنے لگے۔ اے دوست، آپ علیہ السلام شاید کوئی چھپاتے رہے ہوں گے اور ظاہر کے خلاف کر رہے ہوں گے؟ آپ علیہ السلام نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ اللہ تعالٰ سب سے بہتر جانتا ہے کہ میں نے کیا چھپایا ہے اور کیا ظاہر کیا ہے۔ اور میرے رب نے مجھے اس آزمائش میں اس لئے مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بے صبری کرتا ہوں ۔ وہ دونوں کہنے لگے۔ اچھا ہم آپ علیہ السلام کے لئے دو ا لائے ہیں۔ آپ یہ دوا پی لیں آپ علیہ السلام کی بیماری اچھی ہو جائے گی اور شفاءحاصل ہو گی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ کیا ہے؟ تو اُن دونوں نے جواب دیا۔ یہ وہ شراب ہے جو ہم اپنے علاقے سے لے کر آئے ہیں۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام اُن دونوں پر بہت شدید ناراض ہو گئے اور فرمایا۔ تمہیں ابلیس شیطان خبیث لایا ہے اور تم دونون سے بات کرنا اور تمہارا لایا ہوا کھانا اور پینا مجھ پر حرام ہے۔ یہ سن کر وہ دونوں واپس چلے گئے۔
زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت گزاری
حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کے دوران آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ یعنی بیوی رضی اللہ عنہا دل و جان سے خدمت کرتی تھی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس خوش قسمت خاتون رضی اللہ عنہا نے آپ علیہ السلام کا خوب ساتھ نبھایا۔ اور اُن کی شفقتوں اور گزرے ہوئے احسانات کی پوری پاسداری کی۔ وہ آپ علیہ السلام کو قضائے حاجت کے لئے جاتی تھیں۔ وہ آپ علیہ السلام کی بیماری میں آپ علیہ السلام کی مسلسل دیکھ بھال کرتی رہتی تھیں۔ اور ایک لمحہ کے لئے جدا نہیں ہوئیں۔ آپ علیہ السلام کے لئے راکھ اٹھا کر لاتیں اور دوسری ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتیں۔ یہاں تک اس بے چاری کی بھی حالت نا گفتہ ہو گئی۔ ایک پھوٹی کوڑی بھی ہاتھ میں نہیں رہی۔ لیکن لوگوں کے گھروں میں اجرت پر کام کرکے اپنے شوہر کے لئے کھانے اور دوا کا بندو بست کرتی رہیں۔ مال و دولت چھن گیا تھا۔ اولاد ِ داغِ جدائی دے گئی۔ حضرت ایوب علیہ السلام بیماری سے لاچار ہو گئے۔ تمام غلام اور خدام ساتھ چھوڑ گئے۔ اپنوں نے منہ موڑلیا۔ لیکن سعادت مند اور صابر و شاکر اللہ کی بندی نے اپنے شوہر ، اللہ کے نبی علیہ السلام کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔ بلکہ اُن کی زبان سے ایک ہی کلمہ نکلتا رہا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
بیماری کے دوران بھی دوسروں کے حقوق کا خیال
حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ دوسروں کے گھروں میں کام کرتی تھیں اور بدلے میں وہ لوگ کھانا اور پیسے دے دیا کرتے تھے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ نے ایک گھر میں روٹیاں پکائیں تو جب وہ لوگ آپ رضی اللہ عنہا کوکھانا دینے لگے تو اس وقت اُن کا بیٹا سویا ہوا تھا۔ اسی لئے اُن لوگوں نے اس بچے کے حصے کی ٹکیا بھی آپ رضی اللہ عنہا کو دے دی۔ جب وہ اپنے شوہر کے پاس آئیں تو آپ علیہ السلام نے اس ٹکیا کے بارے میں دریافت فرمایا۔ انہوںنے پورا واقعہ بیان کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ابھی فوراً واپس جاﺅ۔ ممکن ہے بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کے لئے ضد کر رہا ہو اور رو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کر رہا ہو۔ آپ رضی اللہ عنہا فوراً وہ ٹکیا لے کر واپس چلیں۔ اُس گھر والوں کی ڈیوڑھی پر ایک بکری بندھی ہوئی تھی تو اس نے زور سے آپ رضی اللہ عنہا کو ٹکر ماری ۔ تو آپ رضی اللہ عنہا کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا ۔ اللہ تعالیٰ میرے شوہر پر رحم فرمائے۔ بلا وجہ مجھے تکلیف دی۔ پھر گھر کے اندر گئیں تو دیکھا کہ واقعی بچہ جاگا ہوا اور ٹکیا کے لئے مچل رہا ہے۔ اور گھر بھر کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہا کی زبان سے بے ساختہ یہ نکلا۔ اللہ تعالیٰ میرے شوہر پر رحم فرمائے۔ انہوں نے اچھے موقع پر ٹکیہ واپس پہنچا کر حقدار کو اس کا حق ملنے میں مدد کی۔
زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے بہکانا چاہا
حضرت ایوب علیہ السلام انتہائی صبر اور شکر سے اللہ کی آزمائش سے گزر رہے تھے۔ اور مسلسل اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے تھے اور تکلیفوں پر صبر کر رہے تھے۔ ابلیس شیطان آپ علیہ السلام کا یہ صبر اور شکر اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ دیکھ کر چیخ پڑا اور روئے زمین پر موجود اپنے تمام چیلوں کو جمع کیا۔ انہوں نے پوچھا ۔ تم اتنے پریشان کیوں دکھائی دے رہے ہو؟ اُس مردود ملعون ابلیس نے کہا۔ مجھے تو اللہ کے اس بندے ( حضرت ایوب علیہ السلام ) نے عاجز کر دیا ہے۔ جس کا میں نے مال اور اولاد تباہ کر دیا۔ لیکن ہر تکلیف پر اس کے صبر اور شکر میں اضافہ ہوتا تھا۔ پھر مجھے اس کے جسم پر قابو دیا گیاتو میں نے اسے بہت زیادہ جسمانی تکلیف میں مبتلا کر دیا۔ لیکن اس کے بعد اس کا اللہ تعالیٰ پر توکل یعنی بھروسہ اور زیادہ بڑھ گیا۔ اور میں اپنی ہر کوشش کر کے بھی اس کے ، اللہ تعالیٰ کے بھروسے کو نہیں توڑ سکا۔ اور اس کے صبر کو نہیں توڑ سکا۔ اور یہ اس عالم میں بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہا ہے ۔ چیلوں نے کہا۔ تم وہ چال اور حیلہ سازیاں استعمال کیوں نہیں کر تے جن کی وجہ سے پچھلے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ ابلیس بولا میں اپنا ہر حربہ استعمال کر چکا ہوں۔ اب تم لوگ کوئی تدبیر سوچو۔ ایک چیلے نے کہا۔ تم عورت کے ذریعے انہیں بہکانے کی کوشش کر سکتے ہو۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ اُن کی بہت خدمت کرتی ہے۔ اسی لئے وہ اس کی بات نہیں ٹالیں گے۔ ابلیس نے کہا ٹھیک ہے ۔ اور ایک طبیب( ہماری زبان میں ڈاکٹر) بن کر انسانی شکل میں آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا ۔ اے اللہ کی بندی تیرے شوہر کہاں ہیں؟ انہوں نے جو اب دیا۔ یہ راکھ پر پڑے ہیں۔ یہی میرے شوہر ہیں۔ ابلیس مردود نے اُن کے دل میں وسوسہ پیدا کیا۔ اور پچھلی نعمتوں اور آرام و آسائش اور تندرستی کے جو حالات گزر چکے ہیں انہیں اس انداز میں اُن کے سامنے پیش کیا کہ وہ سنہرے دن اُن کی آنکھوں کے سامنے گزرنے لگے اور وہ رونے لگیں۔ ابلیس نے فوراً موقع دیکھ کر کہا کہ اپنے شوہر سے کہو کہ غیر اللہ کے نام پر اس بکری کو ( وہ اپنے ساتھ لایا تھا) ذبح کردیں تو تندرست ہو جائیں گے۔ انہوں نے بکری لی اور آپ علیہ السلام سے آکر گذارش کی کہ ایک طبیب نے کہا ہے کہ اسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کر دیں آپ علیہ السلام تندرست ہو جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ پر توکل ( بھروسہ)
حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ نے طبیب کی بات بتائی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ابلیس شیطان ایک طبیب کی شکل میں زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور بولا ۔ تمہارے شوہر برسوں سے اس تکلیف میں مبتلا ہیں ۔ اور تم بھی اتنی تکلیف اٹھا رہی ہو۔ اپنے شوہر سے کہو کہ فلاں بت کے نام پر ایک مکّھی مار دیں۔ وہ تندرست ہو جائیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کی خدمت میں آئیں اور طبیب کی بات عرض کی۔ حضرت ایوب علیہ السلام یہ سن کر غصے میں آگئے اور فرمایا۔ اے اللہ کی بندی، وہ ابلیس شیطان تھا۔اور تیرے ذریعے میرے صبر اور شکر کو توڑنا چاہتا تھا۔ حالانکہ تو یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ مجھے اپنے اللہ تعالیٰ پر اتنا بھروسہ ہے کہ میں صرف ایک دعا کروں گا اور اللہ تعالیٰ فوراً میری تکلیف اور مصیبت ختم کر دے گا۔ لیکن میں بھی یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ مجھ سے کب تک صبر اور شکر ہو سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بھی یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میرا بندہ ایوب ( علیہ السلام ) میری آزمائش پر کتنا صبر اور شکر ادا کر سکتا ہے۔ اور میں قسم کھاتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ مجھے تندرستی اور شفاءعطا فرمائے گا تو میں تجھے سو 100کوڑے ماروں گا۔ آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ نے یہ گفتگو سنی تو سمجھ گئیں کہ ابلیس شیطان نے مجھے بہکایا ہے ۔ وہ فوراً توبہ کرنے لگیں۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا
اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ایوب ( علیہ السلام ) کی اُس حالت کو یاد کرو جب اُس نے اپنے رب ( اللہ تعالیٰ) کو پکارا۔ ( اے اللہ تعالیٰ) مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے۔ اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ ( سورہ الانبیاءآیت نمبر83) اللہ تعالیٰ نے سورہ صٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہمارے بندے ایوب ( علیہ السلام ) کا ذکر کرو۔ جب اُ س نے اپنے رب ( اللہ تعالیٰ ) کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ پہنچایا ہے۔“ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر41) ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا کا ذکر فرمایا ہے۔ ان الفاظ پر غور کریں اور حضرت ایوب علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ پر توکل یعنی بھروسہ کا اندازہ کریں ۔ سورہ الانبیاءکی آیت میں الفاظ ” مَسَّنی ِ الضُّرُّ “ ہے۔ یعنی تکیف نے مجھے چھو لیا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ سے آپ علیہ السلام نے صرف اپنی تکلیف کا ذکر کیا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی۔ آپ علیہ السلام کو اتنا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ضرور میری تکلیف دور فرمائیں گے۔ اتنے برسوں تک بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد آخر آپ علیہ السلام نے کیوں دعا مانگی اور کس تکلیف نے آپ علیہ السلام کے دل کو چھو لیا تھا۔ اس کی وجہ ایک واقعہ ہے۔
دعا مانگنے کی وجہ
حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش جاری تھی۔ اور آپ علیہ السلام انتہائی صبر اور شکر سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر رہے تھے۔ لیکن ایک واقعہ نے آپ علیہ السلام کےدل کو چھو لیا۔ آپ علیہ السلام اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا سے بہت محبت کرتے تھے۔ اور وہ بھی بے حد محبت کرتی تھیں۔ اور برسوں آپ علیہ السلام کی ایسے وقت میں خدمت کرتی رہیں ۔ آپ علیہ السلام کے پورے بدن پر پھوڑے تھے اور اُن سے مواد ( پیپ) بہتی رہتی تھی۔ اگر آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کرتیں تو پھوڑوں کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو بہت شدید تکلیف ہوتی تھی اور اُن کی بیوی رضی اللہ عنہا کے ہاتھوں میں مواد بھر جاتی تھی۔ اسی لئے انہوں نے اس کاراستہ یہ نکالا کہ اُن کے بال بہت لمبے لمبے تھے وہ اپنے بالوں کو لٹکا کر آپ علیہ السلام پر جھک جاتی تھیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی ہتھیلیاں اور تلوے کسی حد تک محفوظ تھے۔ اسی لئے حضرت ایوب علیہ السلام اپنی ہتھیلیوں سے مضبوطی سے اُن کے بالوں کو پکڑ لیتے تھے۔ اور ان کے سہارے اٹھ کر کھڑے ہوتے تھے۔ اور پیشاب اور پاخانے کے لئے جاتے تھے۔ پھر واپس آکر اسی طرح اپنی بیوی رضی اللہ عنہا کے بالوں کو پکڑ کر بیٹھتے یا لیٹے تھے۔ جب کئی برس گزر گئے تو ابلیس شیطان نے لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرنا شروع کر دیاکہ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی رضی الہ عنہا کو کام نہیں دیا جائے ۔ کہیں ایس انہ ہو کہ ان کے ذریعے حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری ہمارے اندر آجائے۔ اس طرح تمام بستی والوں نے آپ رضی اللہ عنہا کو کام نہیں دیا۔ اور بھوکوں مرنے کی حالت ہو گئی۔ کئی دنوں کی بھوکی آپ رضی اللہ عنہا لوگوں سے کام مانگ رہی تھیں کہ ایک امیر عورت نے کہا۔ تمہارے بال بہت خوب صورت ہیں۔ یہ مجھے دے دو تو میں تمہیں بہت سارا کھانا دوں گی۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اپنا سر منڈوا کر سارے بال اسے دے دیئے۔ اور بدلے میں بہت سارا کھانا لے کر اپنے شوہر کے پاس آئیں۔ آپ علیہ السلام نے حیرانی سے دریافت فرمایا کہ اتنا سارا کھانا کہاں سے آیا تو آپ رضی اللہ عنہا خاموش رہیں۔ جب بہت اصرار کیا تو بتایا کہ اپنا سارا بال اس کھانے کے بدلے دے آئی ہوں۔ اور اپنا سر کھول کر دکھایا تو وہ منڈا ہوا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اپنی پیاری بیوی کی یہ حالت دیکھی تو دل دکھ گیا اور پھر آپ علیہ السلام نے دعا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے رحم فرمایا
حضرت ایوب علیہ السلام نے جب اپنی پیاری زوجہ محترمہ کو اس حال میں دیکھا تو بہت تکلیف ہوئی اور اس تکلیف نے آپ علیہ السلام کے دل کو چھو لیا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے بیماری ہے اور تکلیف نے میرے دل کو چھو لیا ہے۔ اور شیطان نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی ہے۔ اور اے اللہ تعالیٰ، آپ ہی سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ دیکھا آپ نے ، اگر ہم بیمار ہوتے ہیں تو پہلے تو اپنی تکلیف لوگوں کو بار بار بتاتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد بار بار اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں اس بیماری اور تکلیف سے نجات دے۔ اور اب حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا پر غور کریں۔ آپ علیہ السلام نے تو دنیا میں کسی سے اپنی تکلیف بیان نہیں فرمائی۔ اور جب اللہ تعالیٰ سے بھی عرض کیا تو بس اتنا ہی کہا کہ شیطان نے مجھے بہت دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ اور اب یہ درد میرے دل تک پہنچنے لگا ہے۔ اس کے بعد یہ دعا نہیں فرمائی کہ مجھے اس بیماری سے نجات دے۔ بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی۔ یہ اللہ تعالیٰ پر آپ علیہ السلام کا مکمل یقین اور بھروسہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندے کے انتظار میں تھا کہ میرا بندہ کب مجھے پکارے اور میں اس کے اوپر رحم کروں ۔ اور رحم بھی کر دیا۔
مَسَّنِی الضُّرُُّّ ( تکلیف نے میرے دل کو چھو لیا ہے )
اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ایوب ( علیہ السلام ) کی حالت کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب ( اللہ تعالیٰ ) کو پکارا ۔ کہ مجھے بیماری لگ گئی ہے۔ ( تکلیف نے میرے دل کو چھو لیا ہے) اور تو سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ یا تو سب رحم کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔“ (سورہ الانبیاءآیت نمبر83) حضر ت ایوب علیہ السلام کی اس دعا کے بارے میں بہت سی روایات ہیں۔ ان میں سے سترہ یا اٹھارہ روایتیں امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں لکھی ہیں۔ اُن میں سے چند ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ امام قرطبی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کو ایوب اس لئے کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرنے والے تھے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے قول ” مَسَّنِی الضُّرُّ“کے بارے میں تو علمائے کرام کے پندرہ اقوال ہیں اور مجھے ( امام قرطبی کو) تحقیق کے بعد دو اقوال معلوم ہوئے ہیں۔
مَسَّنِی الضُّرُّکے بارے میں اقوال
حضرت ایوب علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ تکلیف نے میرے دل کو چھو لیا ہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں اس بارے میں یہ اقوال ہیں۔ 1) حضرت ایوب علیہ السلام نماز پڑھنے کے لئے اٹھے تو آپ علیہ السلام اٹھ نہیں سکے تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 2) یہ عجز کا اقرار ہے اور صبر کے منافی نہیں ہے۔ 3) اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی زبان سے یہ الفاظ جاری کروائے۔ تا کہ آزمائش میں مبتلا ہونے والے لوگوں کے لئے حجت بن جائے۔ 4) حضرت ایوب علیہ السلام پر چالیس دن تک وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ آپ علیہ السلام کو خوف ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کہیں آپ علیہ السلام کو چھوڑ تو نہیں دیا۔ اسی لئے فرمایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 5) اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی زبان پر یہ کلمہ اس لئے جاری کروایا کہ انسان تکلیف برداشت کرنے میں ضعیف اور کمزور ہے۔ اسی لئے تمام انسانوں پر اپنی مہربانی کرنے کے لئے آپ علیہ السلام سے کہلوایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 6) آپ علیہ السلام کو کیڑے کھاتے رہے تو آپ علیہ السلا م صبر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب ایک کیڑے نے دل پر حملہ کیا اور دوسرے کیڑے نے زبان پر حملہ کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ تاکہ آپ اللہ کے ذکر سے محروم نہ ہو جائیں۔ 7) جب لوگوں نے آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا کو کام نہیں دیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 8) دو شخصوں نے کہا کہ ( نعوذ باللہ ) آپ علیہ السلام کی کسی غلطی کی سزا ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 9) حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا کو جب کسی نے کام نہیں دیا تو انہوں نے اپنے بالوں کو بیچ دیا۔ اور کھانا لے کر آئیں ۔ آپ علیہ السلام اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے بالوں کا سہارا لے کر اٹھتے بیٹھتے تھے جب بالوں کو نہیں پایا تو حرکت نہیں کر سکے تو فرمایا مَسَّنِی الضُّرُّ۔
اپنے پیر کو زمین پر مارو
اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت ایوب علیہ السلام سے فرمایا) اپنا پاﺅں زمین پر مارو ۔ یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے “ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر42) اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین پر اپنا پیر مارو۔ آپ علیہ السلام نے اپنا پیر مارا تو زمین میں گڑھا ہو گیا اور اس میں سے پانی نکلنے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ ٹھنڈا اور میٹھا پانی ہے۔ اسے پیﺅ اور اس سے نہاﺅ۔ آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا اس وقت کہیں کام کی تلاش میں گئی ہوئی تھیں۔ آپ علیہ السلام نے اس پانی کو پیا اور اس سے غسل کیا۔ غسل کرتے ہی آپ علیہ السلام کی بیماری اچھی ہو گئی۔ اور پورے بدن کے زخم اچھے ہو گئے اور ان کا نام و نشان بھی مٹ گئے۔ اور آپ علیہ السلام کا بدن مبارک اور چہرہ مبارک اور زیادہ خوب صور ت ہو گئے۔ علامہ عبدالرزاق بھترالوی لکھتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کو حکم ہو ا کہ اپنا پاﺅں زمین پر ماریں تو اس سے چشمہ جاری ہو گا اس پانی کو پیﺅ اور اس سے غسل کرو۔ آپ علیہ السلام نے غسل کیا تو جسم مبارک کی تمام ظاہری بیماری اچھی ہو گئی۔ اور پینے سے اندرونی طور پر شفاءحاصل ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جنتی لباس پہنایا۔ اور آپ علیہ السلام وہاں سے کچھ دور پر بیٹھ گئے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنا پیر زمین پر مارا تو گرم پانی کا چشمہ ظاہر ہوا۔ جبرئیل علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور اسے جھاڑا تو تمام کیڑے گر گئے۔ اور آپ علیہ السلام کو پانی میں داخل کر دیاتو گوشت پیدا ہو گیا اور آپ علیہ السلام اپنی جگہ واپس لو ٹ آئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے زمین پر پاﺅں مارا تو پانی کا چشمہ جاری ہو گیا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے غسل فرمایا تو جسم مبارک پر بیماری کا کوئی نشان نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی ہر تکلیف اور ہر بیماری دور فرما دی اور آپ کا حسن و شباب پہلے سے کہیں زیادہ نکھر کر آگیا۔ پھر آپ علیہ السلام نے ایک قیمتی جوڑا زیب تن کیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام ایک بلند جگہ پر بیٹھ گئے۔
٭ زوجہ محترمہ ( بیوی) رضی اللہ عنہا پہچان نہیں سکیں
اللہ تعالیٰ نے جس وقت حضرت ایوب علیہ السلام کو مکمل شفاءاور خوب صورتی عطا فرمائی تو اس وقت آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کام کی تلاش میں گئی ہوئی تھیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہا کو کام نہیں ملا تو خالی ہاتھ واپس اپنے شوہر کے پاس آئیں۔ تو دیکھا جس راکھ کے بستر پر ان کے شوہر لیٹے رہتے تھے وہ خالی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا پریشان ہو گئیں اور حیرانی اور پریشانی کے عالم میں بے تابی سے اپنے شوہر کو تلاش کررہی تھیں ۔ انہوں نے دیکھا کہ کچھ دور پر ایک انتہائی خوب صورت شخص بہترین لباس میں بیٹھا ان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ آپ علیہ السلام اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کی بے تابی اور پریشانی مسکراتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ آکر کار وہ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں لیکن پہچان نہیں سکیں اور پوچھنے لگیں ۔ اے اللہ کے نیک بندے، یہاں ایک بیمار شخص تھے۔ تم جانتے ہو وہ کہاں گئے ہیں۔ کہیں بھیڑ یا تو نہیں اٹھا لے گیا۔ بار بار پریشانی سے آپ رضی اللہ عنہا پوچھ رہی تھیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے رہے۔ پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا۔ اری نیک بخت اللہ تجھ پر رحم فرمائے، میں ہی ایوب ( علیہ السلام ) ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاءعطا فرمائی ہے۔
پہلے سے زیادہ مل گئے
اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے اسے ( حضرت ایوب علیہ السلام کو ) اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا۔ بلکہ اتنا ہی اور بھی عطا فرمایا۔ اسی کے ساتھ اپنی خاص رحمت بھی عطا فرمائی۔ اور یہ عقل مندوں کے لئے نصیحت ہے۔ “ (سورہ ص ٓ آیت نمبر43) اس کی تفسیر میں تفسیر انوار البیان میں لکھا ہے کہ یہ جو فرمایا کہ ہم نے اُن کا کنبہ واپس کر دیا اور اُن جیسے اور بھی دیئے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے دونوں احتمال لکھے ہیں۔ کہ صحت و عافیت کے بعد یا تو اُن کو اتنی گمشدہ اولاد واپس کر دی گئی جو اُن سے جدا ہو گئی تھی۔ اور اگر وفات پا گئی تو اتنے ہی اُن کی جگہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما دیئے۔ علامہ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ تمہارے سب آل اولاد جنت میں ہیں ۔ تم کہو تو ان سب کو دنیا میں لا دیا جائے اور اگر کہو تو وہیں جنت میں رہنے دیا جائے۔ اور دنیا میں تمہیں ان کا عوض عطا فرما دیا جائے۔ آپ علیہ السلام نے دوسری بات پسند فرمائی۔ پس آخرت کا اجر اور دنیا کا بدلہ دونوں آپ علیہ السلام کو ملا۔
مال و دولت بھی زیادہ عطا کر دیئے گئے
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ایوب علیہ السلام کو شفا عطا فرمائی تو اولاد کے ساتھ ساتھ مال و دولت سے بھی نواز۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو شفا و عافیت عطا فرمائی تو آسمان سے اُن کے اوپر سونے کی ٹڈیاں برسائیں۔ جنہیں لے کر آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے میں جمع کرنی شروع کر دی۔ تو آواز آئی۔ اے ایوب (علیہ السلام ) کیا تم آسودہ نہیں ہوئے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے اللہ تعالیٰ ، تیری رحمت سے کون آسودہ حال ہو سکتا ہے؟ علامہ عبدالرزاق لکھتے ہیں کہ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے سونے کی مکڑیوں کی بارش کی۔ آپ علیہ السلام پکڑ پکڑ کر اپنے کپڑے میں رکھتے رہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنی چادر بچھادی اور اس میں جمع کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ایوب ( علیہ السلام ) ، تم سیر نہیں ہوئے؟ تو انہوں نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، تیرے فضل سے کون سیر ہو سکتا ہے؟ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ جس پانی سے آپ علیہ السلام نے غسل فرمایا تھا اس کے چھینٹوں سینے پر سونے کی مکڑیاں اڑنے لگیں اور آپ علیہ السلام نے انہیں جمع کر کے رکھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی۔ اے ایوب علیہ السلام ، کیا میں نے تجھے غنی نہیں کر دیا؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کیوں نہیں ۔ لیکن اے اللہ تعالیٰ یہ تیری رحمت اور برکت ہے اور تیری رحمت اور برکت سے کون سیر ہو سکتا ہے؟
بیماری کا عرصہ
حضرت ایوب علیہ السلام کتنے عرصہ بیماری میں مبتلا رہے؟ اس کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف روایات ہیں۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ کہ امام بغوی فرماتے ہیں کہ ابن شہاب ( جلیل القدر تابعی اور مفسر) نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل فرمائی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام اٹھارہ 18سال مصیبت میں مبتلا رہے۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام پورے تین3سال مصیبت میں گرفتار رہے۔ ایک دن بھی زائد نہیں تھا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام سات7سال مصیبت میں مبتلا رہے۔ بعض علمائے کرام نے لکھا ہے کہ سات سال ، سات مہینے اور سات دن مصیبت میں مبتلا رہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں ۔ حضرت ایوب علیہ السلام کتنی مدت آزمائش میں مبتلا رہے اس میں اختلاف ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ آزمائش کی مدت سات سال ، سات مہینے، سات دن اور سات راتیں تھیں۔ حضرت وہب بن عنبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تیس سال آزمائش میں مبتلا رہے۔ امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سات سال چھ مہینے آزمائش میں مبتلا رہے۔ میں (امام قرطبی) کہتا ہوں ان میں اصح، اٹھارہ سال ہے جو امام ابن شہاب رحمتہ اللہ علیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور امام عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسی کو روایت کیا ہے۔
قسم پوری کرنے کا حکم
اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا ( جھاڑو) لے کر ماردو اور اپنی قسم پوری کرو ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے ( حضرت ایوب علیہ السلام کو) بڑا صابر بندہ پایا۔ وہ بڑا نیک اور رغبت رکھنے والا بندہ تھا۔ “ (سورہ ص ٓ آیت نمبر44) آپ کو یاد ہو گا کہ حضرت ایوب علیہ السلام نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کو سو 100کوڑے ماریں گے۔ جب آپ علیہ السلام کی آزمائش ختم ہو گئی تو یہ فکر ہوئی کہ قسم کو پوری کیا جائے۔ لیکن آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا نے اتنی زیادہ تکلیفیں اور مصیبتیں آپ علیہ السلام کے ساتھ اٹھائی تھیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سزا میں تخفیف کا حکم فرمایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی رحمت پر رحم فرمایا۔ کیوں کہ انہوں نے تکلیف کے وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ صبر کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے حکم میں تخفیف فرما دی۔ اور حضرت ایوب علیہ السلام کو قسم پوری کرنے کی یہ تدبیر بتائی کہ چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کا گٹھا لو اور اس سے مارو۔ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ انہوں نے آپ علیہ السلام کا آزمائش میں ساتھ دیا تھا اور صبر کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حکم دیا کہ ایک گھاس کا گٹھا لو جس میں سو100شاخیں ہوں تو آپ علیہ السلام نے ایک شاخ لی جس میں سو باریک شاخیں تھیں۔ اس سے اپنی بیوی محترمہ رضی اللہ عنہا کو ایک دفعہ مارا۔ تو قسم پوری ہو گئی۔ اس بارے میں کئی روایات ہے کہ گھاس کے گٹھے سے مارا۔ سو 100تنکے والی لمبی جھاڑو سے مارا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔
حضرت ایوب علیہ السلام کی شان میں بائیبل میں گستاخیاں
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضرت ایوب علیہ السلام کو اپنا ایک انتہائی صابر اور شاکر بندہ بتایا ہے۔ اور آزمائش میں آپ علیہ السلام نے ایک ایسے صابر اور شاکر شخص کی سیرت پیش کی ہے جس میں ہر نیک اور اچھے انسان کے لئے نمونہ ہے۔ اس کے الٹ بائیبل میں آپ علیہ السلام کو ایک ایسا انسان بتایا گیا ہے جس میں آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں کی گئی ہیں۔ مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ اس قصے میں قرآن مجید حضرت ایوب علیہ السلام کو اس شان سے پیش کرتا ہے کہ آپ علیہ السلام صبر کی تصویر نظر آتے ہیں۔ اور پھر کہتا ہے کہ ان کی زندگی نیک لوگوں اور عبادت گزاروں کے لئے نمونہ ہے۔ لیکن دوسری طرف بائیبل ی سفرِ ایوب پڑھیئے تو وہاں آپ کو ایک ایسے شخص کی تصویر نظر آئے گی جو ( نعوذ باللہ ) اللہ تعالیٰ کے خلاف مجسم شکایت اور عیسائیوں یعنی نصاریٰ نے توریت اور انجیل ( ان کے مجموعہ کو بائیبل کہا جاتا ہے ) میں بہت سی ملاوٹ کر دی ہے۔ اور خاص طور سے انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں ایسی ایسی گستاخیاں کی ہیں کہ قلم اُن گستاخیوں کو لکھنے سے قاصر ہے۔ اور روح کانپ جاتی ہے۔
صبر اور شکر کرنے سے اللہ تعالیٰ اجر عطا فرماتا ہے
اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ کی آیت نمبر43کے آخر میں فرمایا۔ کہ( ترجمہ )”ا س میں (حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعہ میں) عقل مندوں کے لئے نصیحت ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ میں بتایا کہ حضرت ایوب علیہ السلام نے کس طرح صبر اور شکر ادا کر کے ابلیس شیطان کے حربوں کو ناکام بنایا ہے۔ اور آزمائش پر پورے اترے ہیں۔ اسی طرح جب بھی اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کا امتحان اور آزمائش لے گا اور وہ شخص حضرت ایوب علیہ السلام کی طرح اللہ کی رضا کے لئے صبر کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہے گا اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے گا تو بدلے میں اللہ تعالیٰ اس بندے سے بہت خوش ہوگا۔ اور اسے دنیا میں بھی عطا فرمائے گا اور آخرت میں بھی عطا فرمائے گا۔ اسی لئے ہر عقل مند شخص اس واقعہ سے نصیحت حاصل کرے گا۔ اور بے وقوف قصہ کہانی سمجھ کر پڑھے گا اور گزر جائے گا۔
اگلی کتاب
قارئین کرام ، حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا
اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت شعیب علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔
٭........٭........٭
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں