ہفتہ، 6 مئی، 2023

روح کی بیماری کا علاج


روح کی بیماری کا علاج

' تمہیں پتہ ہے عائشہ اتنے سال گزر گئے اس کے باوجود تھماری اس کیفیت میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تم پہلے سے بھی زیادہ مایوس ہو اپنے رب سے ناامید اور اسکی مغفرت کے بارے میں بے یقین ہو ۔
کیوں ؟
آخر کیوں تم اپنے اللہ سے اتنی مایوس؟؟ میں نہیں جانتی عائشہ کہ تم سے ایسے کونسے گناہ سرزد ھوئے جو تمہیں لگتا ھے کہ اللہ کبھی معاف نہیں کر پائے گا ۔ لیکن میں اتنا ضرور جانتی ہوں گناہ چاہے جس بھی نوعیت کا ہو کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو میرے اللہ نے کہا ہے کہ 
تم سمندروں پہاڑوں جتنے گناہ بھی لے آؤ گئے تو صرف ایک خشیت الٰہی کا آنسو ، صرف ایک آنسو ان تمام گناہوں کو دھو ڈالے گا ۔
پھر تم اس کی رحمت سے اتنی مایوس کیوں ہو ؟
کیا تھمیں اس کے رحمان ہونے پر شبہ ہے یا تم اسکی صفت الغفار سے واقف نہیں ؟
وہ تو الودود ہے بے پناہ محبت کرنے والا ماؤں جتنا بھی نہیں ان سے بھی زیادہ محب 
تم اپنی ایک ماں کی محبت کا حق ادا نہیں کر سکتیں اس کی محبت کو جانچ نہیں سکتیں تو پھر وہ جو لا تعداد ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے اس کی محبت کو تم اپنے گناہوں کی کسوٹی پر رکھ کر کیوں پرکھ رہی ہو؟
وہ بڑا رحیم ہے عائشہ اس کی صفتِ رحمانیت کی انتہا نہیں ۔
وہ خود کہتا ہے مانگو مجھ سے تمہارہ مانگنا مجھے اچھا لگتا ہے، ہے کوئی مغفرت چاہنے والا؟؟
تم کیوں پریشان ہوتے ہو۔
کیا میری قدرت پر یقین نہیں ہے تم کو ......؟
میں تو تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔
مجھ سے مکمل یقین کہ ساتھ مانگ کر تو دیکھو۔
عرش پر کن کہہ کر پوری دنیا کو تھمارا وسیلہ بنا کر تمہیں نہ نوازا تو کہنا .....!
تمہیں لگتا ہے تم ٹوٹ چکی ہو۔
اپنے خالق سے جو تم منہ موڑ چکی ہو۔گناہوں کی چکی میں جو تم پس چکی ہو۔دامن خالی لیے جو تم پھر رہی ہو۔
تو کھولو قرآن اور پڑھو

" لا تقطو من رحمتہ اللّہ " ( الزمر)

جب اللہ خود کہہ رہا ہے کہ میری رحمت سے مایوس نہ ہو میری رحمت میرے غضب پر بھاری ہے ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا فرمایا تو لوح محفوظ میں یہ لکھ دیا ۔
"میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے"
یہ تحریر اللہ سبحان و تعالیٰ کہ پاس عرش پر موجود ھے (صیحیح مسلم : 7145)
تو پھر کیوں نا امید ہو جبکہ تمہارے پاس ربِ غفور بھی ہے 
تھمیں پتہ عائشہ اللہ نے یہ کیوں کہا کہ مایوسی کفر ھے ؟ 
دراصل جب تم یہ کہتے ہو کہ اللہ معاف نہیں کرے گا وہ توبہ قبول نہیں کرے گا ۔ تو یہ کہہ کر تم اس کہ اختیارات کو محدود کر رہے ہوتے ہو ۔ کہ اللہ کہ پاس وہ اختیارات نہیں کہ وہ کچھ کر سکے ۔
تم حقیقت میں اس کہ التواب اور الرحمان ہونے کو جھٹلاتے ہو اور یہ خود میں کتنی بڑی بات ہے کہ تم اپنے قول ، فعل اور عمل سے اللہ کی صفات کا انکار کرتے ہو نعوذ باللہ۔
تم نے کہا اللہ تم سے بیزار ہے ؟
تو پریشان نہ ہو اللہ خود کہہ رہا ہے 

" ما ودعک ربک وما قلی " 
'نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وہ بیزار ہو گیا ہے'۔(الضحی: 3)

تھمیں لگتا ہے کہ اللہ نے تھمارے دل پر مہر لگا دی کہ حق تم پر اثر انداز نہیں ہوتا وہ تمہیں ہدایت نہیں دینا چاہتا ۔
اللہ کیوں نہیں چاہے گا تمہیں معاف کرنا 
وہ تو بہانے بہانے سے تمہیں معاف کر دیتا ہے ذرا سی نیکی کہ خلوص کو گناہوں کہ پلڑے کہ مقابلے میں بھاری کر دیتا۔
ایسا نہیں ہے عائشہ اگر ایسا ہوتا تو جب تم گناہ کرتی ہو اس کے بعد احساس شرمندگی اور پچھتاوا یہ سب اللہ ہی کی طرف سے تو ہوتا ہے وہ تو چاہتا ہے تمہیں معاف کرنا ۔ 
اللہ ظالم تو نہیں ہے سراپا پیکر محبت ہے 
ظالم تو ہم ہیں
گناہوں کی زیادتی سے خود کو کند غن اور روح کو بوسیدہ کر دیتے جب کہ اس سب کے باوجود بھی اللہ نے اپنے بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑا۔
اللہ کہتا ھے:
" اے بندوں جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ھے اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو ۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ خوب بخشنے والا مہربان ہے
'تو کیسے پتہ چلے گا میم کہ اللہ ہم پر مہربان ھے؟
چلو مان لیا اس نے معاف کر دیا لیکن کیا وہ مجھ جیسے گنہگار سے محبت بھی کرتا ھو گا جیسی اپنے کسی نیک بندے سے کرتا ھے ؟'
' اللّٰہ کب مہربان نہیں ھوتا وہ تو کافروں کے لئیے بھی شفیق ہے انکی اتنی نافرمانیوں کے باوجود انکی ضروریات سے غافل نہیں ہوتا اس کی رحمت کی پہلی نشانی یہ ھے کہ انسان کو اپنے عیوب نظر آنا شروع ھو جاتے ھیں ۔
اور رھی بات محبت کی تو یقین جانو اللّٰہ کو اپنے نیک بندوں سے زیادہ اپنے گنہگار بندوں کی پروا ھوتی ھے ۔ سورۃ زمر میں وہ گناہگاروں کو سپنا بندہ کہہ کر مخاطب کرتا ہے اس سے بڑھ کر محبت کیا ہو گی؟؟ اسے آپکی پروا ہے وہ آپ سے غافل نہیں ہےاور یقین کرو پروا کرنا محبت کرنے سے زیادہ special ھوتا ھے

اس کہ نیک بندے تو ھیں ھی اس کے وہ جانتا ھے یہ میری ہر آن فرمانبرداری کریں گے لیکن اپنے گنہگار بندوں کا وہ انتظار کرتا کہ نا جانے کب یہ لوٹ آئیں۔تو مایوس مت ہوں بلکہ سچی توبہ کر کے اللہ سے یہ دعا کیا کریں کہ مجھے توبہ پر قائم رہنے والا بنا دے
"اللّٰہ سے یہ کہا کرو اللہ تیری رحمت کی امیدوار ھوں۔ لمحے بھر کہ لیے بھی مجھ کو میرے نفس کے حوالے نہ کر نا اور میرے معاملات درست فرما تیرے سوا کوئی الہ نہیں میں کیا کروں میرے پاس تیرے سوا کوئی در نہیں اور تیرے علاوہ کوئی میرا رب نہیں 
'پر میں کیا کروں میم ؟ مجھے اللّٰہ کہ سامنے جاتے ھوئے ڈر لگتا خوف آتا جب اس کے سامنے کھڑی ھوتی ھوں کہ وہ ......
میم ایسا لگتا جیسے وہ مجھ سے ناراض ھے۔'
'یہ کیسا خوف ھے عائشہ جو تھمیں تھمارے رب سے مایوس کر دے خشیت الٰہی تو وہ ھوتی ھے کہ جب تم گناہ کا ارادہ یا خیال کرو تو اللّٰہ کہ خوف سے تم اس سے باز رہو یا پھر اگر گناہ ھو گیا تو اللّٰہ کی ناراضگی اس کہ ڈر کی وجہ سے فوراً توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرو یہ ھوتا ھے رحمان کا خوف باقی تم یہ کہو کے اس کہ ڈر کی وجہ سے تم اس کا سامنا نہیں کر پا رھی تو یاد رکھو یہ سب شیطانی وسوسے ھیں جو رحمان کا دشمن پہلے تو گناہ کو تھمارے سامنے مزین کر کے پیش کرتا ہے اور جب تم اس کی مرتکب ٹھہرتی ھو تو پھر تھمیں ھی مظلوم بنانے کی کوشش کرتا ھے کہ تم تو بڑی مظلوم ھو دیکھو اپنے اللّٰہ کی طرف پلٹنا چاہتی ھو پر نہیں تم گنہگار بھی تو بہت ھو تھمارا اللّٰہ تھمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔'
' ٹھیک ھے میم مجھے سمجھ آ گئ اللّٰہ کی ذات پر بھروسہ اور کامل یقین رکھنا اور توبۃ النصوح کرنا یہی اصل معافی ہے اور اللّٰہ مجھے معاف کر دے گا ھمیشہ ....جب بھی میں اس سے توبہ کرو گی لیکن میرا مسئلہ تو وھی ھے میں اپنی توبہ میں مستقل استحکام نہیں لا پا رھی '
' ھمممم .....ہاں جانتی ھو تم اپنی توبہ کو مستقل کیوں نہیں کر پا رھی کیونکہ تھماری روح بیمار ھے اس کو حقیقی مسیحائی کی ضرورت ھے اور تم اس کو وہ مہیا نہیں کر پا رھی'
'مطلب؟'
'دیکھو عائشہ جیسے ھمارا جسم کسی بیماری میں مبتلا ھوتا ھے تو تم ڈاکٹر کہ پاس جاتی ھو دوائی لیتی ، علاج کرواتی ہو ، ڈاکٹر کی بتائی ھوئی احتیاطی تدابیر پر عمل کرتی ھو ، پرہیز اور دعا کرتی ھو تب جا کر جسم کی وہ بیماری دور ھوتی بلکل اسی طرح ھماری روح بھی بیمار ھوتی گناہ کر کر کہ وہ اس قدر لاغر ھو چکی ھوتی ھے کہ صرف دعا کرنے سے وہ ٹھیک نہیں ھو سکتی اس لیے اسے دعا کہ ساتھ ساتھ دوا کی بھی اشد ضرورت ہوتی ھے '
'اور وہ کیسے ممکن ھے میم میں روح کا علاج کیسے کروں اسکی دوا کیسے کروں؟'
'اس کے لیے دو باتیں ضروری ھیں وہ تھمیں سمجھنی ھو گی سب سے پہلی بات یہ کہ تم یہ چاہتی ھو کے ایک بار اگر تم توبہ کر لو تو دوبارہ کبھی وہ گناہ تم سے سرذد نہ ھو تو ایسا نہیں ھو سکتا دیکھو انسان نکلا ھی نسیان سے ھے جس کا مطلب ھی بھول جانا غلطی کرنا ھے تو پھر تم کیسے چاہ سکتی ھو کہ تم سے دوبارہ کبھی کوئی گناہ یا غلطی نہ ھو نیکی برائی کا یہ سلسلہ تا ابد جاری رھے گا انسان کی خاصیت یہ ھے کہ وہ ھمیشہ ایک مزاج میں نہیں رہ سکتا اگر آپ کہیں کہ مستقل وہ ایک ھی کیفیت میں رھے تو ایسا نہیں ھو سکتا کبھی اس پر اچھائی غالب آتی ھے تو کبھی برائی this is a normal لیکن ھمیں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ زیادہ تر ھم پر اچھائی ھی غالب رھے اور جب برائی کا غلبہ ھو تو اس صورت میں اس سے نکلنے کی تدابیر کرنی چاہیے نا کہ اللّٰہ سے ھی بندہ مایوس ھو جائے۔
اور دوسری اھم بات ہر کسی سے اپنے مسائل شئیر کرنا چھوڑ دو کیونکہ ہر کسی کہ پاس تھمارے مسئلہ کا حل نہیں ھے ہر کوئی ڈاکٹر نہیں ھو سکتا چاہے وہ کتنا ھی پڑھا لکھا کیوں نہ ھو ۔
بلکل اسی طرح ہر نیک بندہ تھماری روح کا طبیب نہیں ھو سکتا ۔
اور بعض اوقات ایک لمبے عرصے تک علاج کروانے کہ بعد بھی انسان صحتیاب نہیں ہوتا بلکہ بیماری کی اس stage پر آ جاتا ھے حہاں ڈاکٹر کہتا ھے کہ اب صرف احتیاط اور ان کہ اندر کی قوت مدافعت ھی انہیں مکمل صحت مند کر سکتی اب ڈاکٹر کچھ نہیں کر سکتا اس نے جو کرنا تھا وہ کر دیا بلکل اسی طرح ھماری زندگی میں بھی ایک مقام ایسا آتا ھے جہاں سب سے زیادہ ضرورت ھمیں اپنی ھوتی ھے وہ مسیحا جس کی تلاش میں ھم سرگرداں ھوتے ھیں جو اس تھکی ماندی روح میں جان ڈال سکے وہ کوئی اور نہیں ھم خود ھی اپنے مسیحا ھوتے اور جب ھم یہ بات نہیں سمجھتے اپنے اندر نہیں جھانکتے پھر اللّٰہ ھمیں اکیلا کر دیتا ھم سے دوست ، فیملی تختہ دار سب دور کر دیتا اور ہاتھ پیر باندھ کر بے بس کر کے زیست میں ننگے پیر تپتے صحرا میں جھلسنے کو چھوڑ دیتا ہے وہ چھوٹے چھوٹے عذاب دیتا ہے تا کہ ھم تنہائی میں اس بے بسی کی کیفیت میں غورو فکر کر سکیں اس رب تعالیٰ کہ فیصلوں پر اپنے آپ کو کھوج کر سکیں اور اس کی سمت لوٹ سکیں

تھماری روح کو بھی اس وقت تھماری ضرورت ھے تھماری مسیحائی کی اپنی روح کا دردماں خود بن جاؤ کیونکہ یہ۔ تھماری جنگ ھے جس کو تم کسی دوسرے کہ بل بوتے پر نہیں جیت سکتی یہی جہاد بالنفس ھے اس جہاد میں امید اور صبر کو اپنا ہتھیار بنا لو دوسرے لوگ صرف صحیح اور غلط کو تھمارے لیے واضح کر سکتے ہیں اب اس صیحیح اور غلط کہ دوران تم نے راستوں کا انتخاب کیسے کرنا ھے ان پر چلنا کیسے ھے یہ تم پر ھے کسی دوسرے کہ پاؤں پر پیر رکھ کر تم نہیں چل سکتیں اپنے حصے کا بوجھ تکلیفوں سمیت تھمیں خود ھی اٹھانا ھے ۔'

' لیکن وہ گناہ اگر سنگین ھو اس پر سخت عذاب کی وعید سنائی گئی ھو اسے ترک کرنے کا فوری طور پر حکم دیا گیا ھو ....اور وہ آپ نہ کر پا رھے ھوں ....تو کیسے کریں میم ؟؟؟؟
'اس کے لیے صرف گناہ ترک کرنے کا ارادہ کرنا کافی نہیں ھے بلکہ مکمل سد باب کرنا ضروری ھے۔'
' پر وہ لوگ بھی تو ھوتے ھیں نا جو ایک بار گناہ چھوڑنے کا تہیہ کریں تو تائب ھونے کہ بعد کبھی اس گناہ کی طرف پلٹتے نہیں اور اللّٰہ کہ محبوبان میں شامل ھو جاتے ھیں پھر میں کیوں نہیں ایسا کر پا رھی؟'
' دیکھو عائشہ گناہ چھوڑنے کا تعلق ھمارے ایمان سے ھے جتنا مضبوط ایمان ھو گا اتنا جلدی گناہ چھوڑنا ہمارے لئیے آسان ہو گا
'لیکن میرا ایمان ابھی اتنا مضبوط نہیں ھے میں کیا کروں؟'
' اس کے لیے تھمیں اپنے آپ کو وقت دینا ھو گا صبر کہ ساتھ step by step تدبیر کرنی ھو گی ۔ کچھ گناہ ایسے ھوتے ھیں جن میں ھم مسلسل involve رھے ہوتے ہیں تو وہ ایک عادت بن جاتی ھے اور عادتیں ھمیشہ رویوں سے بنتی ھیں اور اگر وہ رویہ تبدیل نہ کیا جائے تو عادتیں مزید پختہ ھوتی جاتی ھیں پھر ان کو چھوڑنا مشکل ھوتا ھے تو گناہ کی عادت چھوڑنے کہ لیے ضروری ھے کہ وہ رویہ بدلا جائے جو اس سب کی وجہ بنا اس وجہ کا سد باب کرنے کی کوشش کرو ۔ 
دیکھو وہ اللّٰہ ھے تھماری نیت دیکھے گا یہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے ارادہ کیا گناہ کو ترک کرنے کا سوچا تو پھر چھوڑا کیوں نہیں ، وہ ھونے سے پہلے چاہنے کو دیکھتا ھے کیونکہ وہ چاہت رکھنے والا ھے لیکن اس کے لیے ضروری ھے self power کی اس کو بڑھانے کی اس کہ بغیر تم اپنے ارادوں میں مضبوطی نہیں لا سکتی ان میں استحکام نہیں لا سکتی ھو۔
ایک اور بات عائشہ جب تم اس کہ رستے پر چلو تو یہ ذہن میں رکھنا اس کا راستہ آسان نہیں ھے اور منزل کا کوئی نام نہیں ھے ضروری نہیں ھے کہ تم اس کہ راستے پر چلو تو منزل پر بھی پہنچو ضروری یہ ھے کہ جب موت آئے تو تم اللّٰہ کے راستے پر ھوں چاہے دوڑ رھے ھوں چل رھے ھوں یا خود کو گھسیٹ رھے ھوں ضروری صرف اس راستے پر ھونا ھے ۔
دوسری بات یہاں قدم قدم پر آزمائشوں سے تھمارے ایمان کو امتحان میں ڈالا جائے گا لیکن تم گھبرا کر پیچھے مت ہٹنا مایوس مت ھونا کیونکہ یہاں میرے اللہ نے یہ کہا ہے کہ 
ھم آزمائیں گے تھمیں تھمارے مال ، اولاد اور جان سے اور جہاں اس نے یہ کہا وہیں اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا تو یہ سوچ کر پریشان مت ہونا کہ یہ آزمائش تمہارے لیے بہت بڑی ہے اس تکلیف کو سہنا تمہارے بس کی بات نہیں یقین رکھو اس بات پر کہ تمہارا رب وہ ہے جو کبھی بھی اس تکلیف میں یا آزمائش میں مبتلا نہیں کرے گا جس کو تم سہار نہ سکو راستہ ذرا کٹھن ھے لیکن منزل آسائشوں سے بھری پڑی ھے اس کا تم سے تھمارے رب نے قرآن میں بہترین انعام کا وعدہ کیا ھے راستے کی یہ وقتی تکلیف کو برداشت کر کے صبر کے ساتھ تم حقیقی آرام و سکون کی متحمل ھو سکتی ھو ۔ میں امید کرتی ھوں تھمیں میری بات سمجھ میں آ گئ ھو گئ ۔'
'ہاں بہت سی الجھنیں سلجھی ھوئی نظر آتی میم ' جزاک اللہ خیرا کثیرا
'خوشی ھوئی جان کر اللّٰہ تھمارے رستے آسان کرے تھمارا سینہ اپنے دین کہ لیے کھول دے تھمیں اپنے دین پر استقامت عطا کرے آمین مجھے امید ھے کہ اگلی بار جب ھماری ملاقات ھو گی تو صورت حال آج سے بہت مختلف ھو گی
ان شاءاللہ'
'ان شا ء اللہ'
ختم شد

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں