پیر، 15 مئی، 2023

19 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


19 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 19

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حج

اللہ تعالیٰ کے گھر خانہ کعبہ کا حج لگ بھگ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے کیا ہے۔ ان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” وادی¿ ارزق“ سے گزرے تو فرمایا۔ یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ علیہ السلام ، یہ وادی¿ ارزق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یوں لگ رہا ہے کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہاڑ سے اترتے دیکھ رہا ہوں۔ اور وہ بلند آواز سے ”لبیک اللھم لبیک “ فرما رہے ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام میری طرح ہیں۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام گیہوں رنگ کے اور بال گھنگھریالے تھے۔ اور آپ علیہ السلام سرخ اونٹ پر سوار تھے۔ جس مہار کھجور کی چھال سے بٹی ہوئی تھی۔ اور میں انہیں وادی میں اترتے اور ”لبیک لبیک “کہتے دیکھ رہا ہوں۔ 

بنی اسرائیل کی مصر روانگی

اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے بنی اسرائیل نے جبا برین سے جنگ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر چالیس برس کے لئے ” بیت المقدس “ حرام کر دیا تھا۔ اور چالیس برس تک صحرا میں وادی¿ تیہ میں بھٹکنے کی سزا دی تھی۔ اس طرح چالیس برسوں میں جو لوگ مصر سے آزاد ہو کر آئے تھے۔ وہ سب مر چکے تھے۔ یعنی جن جوان اور ادھیڑ عمر اور بوڑھوں نے جبا برین سے لڑنے سے انکار کر دیا وہ سب مر کھپ گئے اور نئی نسل جوان ہو گئی۔ تب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اب چالیس برس پورے ہونے والے ہیں۔ اس لئے اب فلسطین کی طرف روانہ ہو جاﺅ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا وصال کہاں ہوا؟ اس بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ کچھ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ دونوں حضرات علیہم السلام کا وادی ¿ تیہ میں صحرا میں ہی وصال ہوگیا۔اور کچھ علمائے کرام کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ”بیت المقدس “ میں داخل ہوئے۔ اب حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ ہاں ایک بات پر تمام علمائے کرام متفق ہیں کہ مصر سے آزاد ہو نے والوں میں سے صرف دو افراد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوقنا ہی بیت المقدس میں داخل ہو سکے۔ بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے اورراستے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے وصال کا ارادہ فرمالیا۔

حضرت ہارون علیہ السلام کا وصال

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ حضرت ہارون علیہ السلام کے وصال کا وقت قریب آگیا ہے ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ امام سدی رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں ۔ اور علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ بعض ( کئی) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنی جوارِ رحمت میں بلانے والا ہوں۔ اس لئے انہیں فلاں پہاڑ پر لے آﺅ۔ آپ علیہ السلام اپنے بھائی کو لے کر اس پہاڑ پر پہنچے ۔ وہاں دونوںنے دیکھا کہ سامنے ایک ایسا درخت ہے جیسا اس سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ درخت کے قریب ایک محل ہے جس میں ایک بڑا سا پلنگ بچھا ہوا ہے اور اس پر بہت قیمتی بستر بچھا ہوا ہے اور اس بستر سے نہایت ہی خوشگوار خوشبو اٹھ رہی ہے۔ حضرت ہارون علیہ السلام اس درخت، محل اور سامان کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور فرمایا۔اےمیرے بھائی موسیٰ علیہ السلام ،میں اس پلنگ پر سونا چاہتا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ سو جائیے۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس محل کا مالک نہ آجائے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے آپ علیہ السلام سو جائیں اگر اس محل کا مالک آئے گا تو میں بات کرلوں گا۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا۔آپ علیہ السلام بھی سو جائیں اگر محل کا مالک آئے گا تو ہم دونوں پر ناراض ہوگا۔ جب دونوں بھائی سو گئے تو حضرت ہارون علیہ السلام کا وصا ل ہو گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اٹھے تو درخت ، محل اور بستر اور حضرت ہارون علیہ السلام سب غائب ہو چکے تھے۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم میں اکیلے واپس آئے تو قوم نے حضرت ہارون علیہ السلام کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ علیہ السلام نے بتایا کہ ان کا وصال ہو چکا ہے تو بنی اسرائیل نے کہا کہ آپ علیہ السلام نے ( نعوذ باللہ ) اپنے بھائی کو قتل کر دیا ہے۔ کیوں آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) ان سے حسد کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہاری عقل ماری گئی ہے۔ وہ میرا بھائی ہے میں اسے کیسے قتل کر سکتا ہوں۔ پھر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ وہ پلنگ نیچے آئی اور معلق رہی۔ جسے تمام بنی اسرائیل نے دیکھا۔ پھر وہ اٹھالی ۔ تب بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کی بات کا یقین کیا۔

ملک الموت کی آنکھ نکال دی

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر تیزی سے بیت المقدس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ انہوںنے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو اپنا سپہ سالار اور نائب بنایا تھا۔ جب بیت المقدس کے قریب پہنچنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو آپ علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا ۔ ملک الموت انسانی شکل میں حاضر ہوئے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ امام بخاری نے اپنی صحیح حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا ۔ تو آپ علیہ السلام نےا نہیں طمانچہ مار دیا۔ جس کی وجہ سے ملک الموت کی آنکھ باہر آگئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، آپ نے مجھے ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جو مرنا ہی نہیں چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس دوبارہ جاﺅ اور ان سے کہو کہ اپنا ہاتھ بیل کی پیٹھ پر رکھو۔ جتنے بھی بال تمہاری ہتھیلی کے نیچے آئیں گے تو ہر بال کے بدلے ایک سال تمہاری عمر بڑھا دی جائے گی۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، اس کے بعد کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اس کے بعد موت ہوگی۔ تو انہوں نے فرمایا۔ جب موت ہی آنی ہے تو ابھی کیوں نہ موت ہو۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کی کہ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اتنی مہلت دے کہ بیت المقدس کے قریب پہنچ سکوں اور مجھے بیت المقدس کے اتنا قریب پہنچا دے کہ اگر کوئی پتھر پھینکے تو ( بیت المقدس میں ) پہنچ سکے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کے قریب سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر مبارک دکھاتا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس واقعہ کے بعد طبیعت خراب ہونے لگی۔ آپ علیہ السلام نے اپنے نائب حضرت یوشع علیہ السلام کو حکم دیا کہ تیزی سے سفر کرو۔ اسی دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے جوانوں کی گنتی بھی کرائی تھی۔ اور ہر قبیلے کے سپہ سالار بھی مقرر کئے تھے اور ان سب کا کمانڈر یعنی سپہ سالار اعظم حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو بنایا تھا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ ہم حضرت یوشع علیہ السلام کے حالات میں بیان کریں گے۔ جب بیت المقدس کے قریب پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ حالت ہو چکی تھی کہ آپ علیہ السلام کھڑے نہیں رہ سکتے تھے۔ اس لئے آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ مجھے لٹا دو اور جنگ کی تیاری کرو۔ آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کے قریب پہاڑی پر لٹا دیا گیا۔ اور حضرت یوشع علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر میدانِ جنگ میں پہنچ گئے۔ جنگ شروع ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اُس پہاڑی پر لیٹے جنگ دیکھتے رہے اور احکامات دیتے رہے۔ آخر کار جنگ فیصلہ کن مرحلہ میں پہنچ گئی اور بنی اسرائیل کو فتح ہوئی۔ ادھر فتح حاصل ہوئی اور اُدھر پہاڑی پر آپ علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔ حضرت یوشع علیہ السلام جب فتح کی خوش خبری لے کر آپ علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں جا چکے تھے۔ اسی جگہ آپ علیہ السلام کو دفن کر دیا گیا۔ 

اگلی کتاب

 حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا ۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت یوشع علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔

  ٭........٭........٭


 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں