18 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام
سلسلہ نمبر12
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 18
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام
حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف رائے ہیں۔ کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے نبی تھے اور کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ نبی نہیں تھے بلکہ صر ف ولی تھے۔ اور عمر کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ روایات میں ہے کہ انتقال ہو چکا ہے۔ اور کچھ روایات میں ہے کہ ابھی بھی زندہ ہیں۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ نوف بکالی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کرنے والے موسیٰ وہ نہیں ہیں جو بنی اسرائیل میں رسول تھے۔ اس پر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ کہ اس اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے ۔ مجھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو اُن سے پوچھا گیا کہ ( آج) سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ( جہاں تک میری معلوما ہیں) میں ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ بے شک میرا ایک بندہ ہے جو دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر ہے۔ اور وہ تم سے زیادہ علم والا ہے۔
حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات
اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنے نوجوان ( شاگرد سے )سے فرمایا ۔ کہ میں تو چلتا ہی رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاﺅں کے سنگم پر پہنچوں ۔ (چاہے ) مجھے سالہا سال چلنا پڑے۔ جب دونوں دریا کے سنگم پر پہنچے ( تو ) وہاں مچھلی بھول گئے۔ جس نے دریا میں سرنگ جیسا اپنا راستہ بنا لیا۔ جب یہ دونوں وہاں سے آگے بڑھے تو موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنے نوجوان ( شاگرد) سے کہا کہ ہمارا ناشتہ دے۔ ہمیں تو اپنے اس سفر سے سخت تکلیف اٹھانی پڑی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ کیا آپ (علیہ السلام )نے دیکھا بھی ؟ جب کہ ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا۔ در اصل شیطان نے ہی مجھے آپ (علیہ السلام )سے اس کا ذکر کرنا بھلا دیا تھا۔ اس مچھلی نے ایک انوکھے طور سے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا ۔ یہی وہ ( جگہ) ہے جس کی تلاش میں ہم تھے۔ پھر وہیں سے اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈ تے ہوئے واپس لوٹے اور وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا۔ جسے ہم نے اپنے پاس کی خاص رحمت عطا فرمارکھی تھی اور اسے اپنے پاس سے خاص علم سکھا رکھا تھا۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر60سے 65تک) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ،میں اُس تک کیسے پہنچوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ایک مچھلی لے کر زنبیل میں رکھ لو ۔ پس جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہ وہیں ہو گا۔ پس انہوں نے مچھلی لے کر زنبیل میں رکھ لی۔ پھر چل پڑے اور ان کے ساتھ ایک نوجوان ( شاگرد) حضرت یوشع بن نون علیہ السلام بھی تھے۔ یہاں تک کہ (دریاکے کنارے) ایک پتھر کے پاس پہنچے تو اس پر سر رکھ کر سو گئے۔ اس دوران مچھلی زنبیل میں تڑپی اور باہر نکل کر دریا میں جا گری۔ اور اس نے دریا میں راستہ بنا لیا۔ جب وہ جاگے تو شاگرد بھول گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مچھلی کے بارے میں بتائے۔ پس وہ باقی دن کا حصہ اور رات چلتے رہے۔ یہاں تک کہ جب صبح ہوئی تو آپ علیہ السلام نے شاگر د کو فرمایا کہ ہمارا صبح کا ناشتہ لاﺅ بے شک ہمیں اس سفر میں بڑی مشقت اٹھانی پڑ رہی ہے۔ آپ علیہ السلام نے تھکاوٹ اس وقت محسوس کی جب وہ اس جگہ سے آگے چلے گئے تھے۔ جس جگہ کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا تھا ۔ پس شاگر نے ان کی خدمت میں عرض کیا۔ بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو وہیں پر مچھلی نے نکل کر پانی میں راستہ بنا لیا تھا۔ جس پر مجھے تعجب ہوا ۔ اور یہ بات آپ علیہ السلام کو بتانے سے شیطان نے بھلا دی تھی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں اسی جگہ کی تلاش میں ہوں ۔ اس کے بعد وہ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس اسی پتھر کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہاں ایک آدمی چادر لپیٹے ہوئے لیٹا ہوا ہے۔(صحیح بخاری کی حدیث ابھی جاری ہے)
آپ علیہ السلام میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے
اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” اُس سے (حضرت خضر علیہ السلام سے ) موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ کہ میں آپ کی تابعداری کروں گاکہ آپ مجھے اس نیک علم کو سکھا دیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔ اس نے کہا۔ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ اور جس چیز کا آپ (علیہ السلام )کو علم ہی نہ ہو اس پر آپ (علیہ السلام ) صبر کیسے کر سکیں گے؟ موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ انشاءاللہ ، آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔ اور کسی بات میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ اس نے کہا۔ اچھا اگر آپ میرے ساتھ چلنے پر اصرار کر رہے ہیں تو یاد رہے کہ کسی چیز ( یا عمل ) کے تعلق سے مجھ سے کچھ نہیں پوچھنا۔ جب تک کہ میں خود اس چیز ( یا عمل ) کے بارے میں خود نہ بتاﺅں۔“ (سورہ الکھف آیت نمبر66سے70تک) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس شخص کو سلام کیا۔ تو اس شخص نے کہا۔ کہ اس ( ویران ) زمیں پر یہ سلام کہاں سے آیا؟ جواب دیا کہ میں موسیٰ ( علیہ السلام )ہوں۔ اس نے کہا۔ کیا بنی اسرائیل والے موسیٰ علیہ السلام ہو؟ جواب دیا۔ ہاں وہی۔ ( پھر حضرت خضر علیہ السلام نے بھی اپنا تعارف کرایا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا) میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تم مجھے وہ نیک باتیں سکھا دو جن کی تمہیں تعلیم دی گئی ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا۔ آپ علیہ السلام میرے ساتھ ہر گز صبر نہیں کر سکیں گے۔ اے موسیٰ علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کے علوم میں سے مجھے ایک ایسا علم سکھایا گیا ہے جس کو آپ علیہ السلام نہیں جانتے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم میں سے آپ علیہ السلام کو ایسا علم عطا فرمایا ہے جو کو میں نہیں جانتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ انشاءاللہ ، تم مجھے صبر کرنے والا پاﺅ گے اور میں تمہارے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔
کشتی کو عیب دار کردیا
اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ خضر ( علیہ السلام )نے اس کے تختے توڑ دیئے۔ موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ آپ اسے توڑ رہے ہیں اس طرح تو ( کشتی عیب دار ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ ) کشتی والے غرق ہو جائیں ۔ یہ آپ نے بڑی خطرناک ( بات یا عمل ) کردیا۔ خضر (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ میں نے پہلے ہی آپ سے کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ میری بھول پر مجھے نہ پکڑئیے اور مجھے اپنے کام میں تنگی نہ ڈالئے۔ ( سورہ الکھف آیت نمبر70سے 73تک) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ اس کے بعد دونوں حضرت علیہم السلام دریا کے کنارے کنارے ساتھ ساتھ چل پڑے۔ کچھ دور جانے کے بعد ایک کشتی گزری انہوں نے کشتی والوں سے فرمایا کہ ہمیں بٹھا لو۔ کشتی والے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچانتے تھے اور بہت عزت کرتے تھے۔ انہوں نے دونوں حضرات کو بٹھا لیا اور معاوضہ بھی نہیں لیا۔ جب کشتی آگے بڑھی تو حضرت خضر علیہ السلام نے بَسولے سے کشتی کا تختہ توڑ دیا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ جن لوگوں نے ہمیں بغیر کرائے کے بٹھا لیا آپ نے جان بوجھ کر انہیں کی کشتی کا تختہ توڑ دیا۔ اس طرح تمام لوگ ڈوب سکتے ہیں۔ بے شک آپ نے برا کام کیا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا ۔ میں نے آپ کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ۔ دیکھئے میں بھول گیا تھا اسی لئے میرے ساتھ اتنی سختی سے پیش نہ آئیں۔ راوی کا بیان ہے کہ ایک چڑیا کشتی کے کنارے پر آکر بیٹھ گئی اور اس نے دریا میں سے اپنی چونچ میں پانی بھر لیا۔ اسے دیکھ کر حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا۔ حضرت میرے اور آپ کے علم کی مثال اللہ تعالیٰ کے علم کے سامنے ایسی ہی ہے جیسے اس چڑیا نے دریا میں سے اپنی چونچ بھری اور اس بوند کے کم ہونے کی وجہ سے دریا کے پانی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔
بچے کا قتل
اللہ تعالیٰ نے آگے سورہ الکھف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر دونوں آگے چلے ، یہاں تک کہ ایک لڑکے کو پایا۔ خضر (علیہ السلام ) نے اس لڑکے کو قتل کر دیا۔ موسیٰ( علیہ السلام )نے فرمایا۔ یہ آپ نے کیا کر ڈالا۔ ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض قتل کر دیا۔ بے شک آپ نے تو بڑی ناپسندیدہ حرکت کی ہے۔ خضر (علیہ السلام ) نے فرمایا میں نے آپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اب اگر اس کے بعد میں آپ کو کچھ کہوں تو بے شک آپ مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھنا ۔ یقینا میری طرف سے عذر کو پہنچ چکے۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر74سے 76تک) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ پھر وہ دونوںحضرات علیہم السلام کشتی سے اترے اور ساحل کے سات ھساتھ آگے بڑھے۔ کچھ دور چلنے کے بعد دیکھا کہ کچھ لڑکے کھیل رہے ہیں۔ اُن میں سے ایک لڑکے کو خضر علیہ السلام نے پکڑ کر قتل کر دیا۔ اس کے سر کو پکڑ ا اور اپنے ہاتھوں سے اسکی گردن مروڑ کر قتل کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ آپ نے کیا کر دیا؟ ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے بدلے ( یعنی بغیر قصاص کے ) قتل کر دیا۔ بے شک آپ علیہ السلام نے بہت ہی برا کام کیا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا۔ اب آپ میرے ساتھ نہیں ٹھہر سکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک ہے آپ مجھے ایک موقعہ اور دیں۔ اس کے بعد اگر میں کچھ کہوں گا بے شک آپ مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھنا۔ اور میری طرف آپ کا عذر بھی پورا ہو جائے گا۔ ( صحیح بخاری کی حدیث ابھی جاری ہے)
ظالم لوگوں کی بستی میں دیوار کی تعمیر
اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر دونوں چلے۔ اور ایک گاﺅں والوں کے پاس جا کر کھانا طلب کیا۔ انہوں نے اُن کی مہمان داری کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ دونوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی۔ اُس نے اسے ٹھیک اور دوست کر دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے۔ اس نے ( خضر علیہ السلام نے ) فرمایا۔ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہو گی۔ اور اب میں آپ کو ان باتوں کی اصلیت بتا تا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر77اور 78) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے۔ پھر دونوں حضرات علیہم السلام آگے بڑھے اور ایک گاﺅں میں پہنچے ۔ اس گاﺅں کے لوگ بہت مطلبی ، خود غرض اور ظالم تھے۔ ان سے حضرت خضر علیہ السلام نے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو انہوں نے جھڑک دیا۔ اسی بستی سے گزرتے وقت دیکھا کہ ایک دیوار بہت زیادہ جھک چکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جلد ہی گر جائے گی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے بڑی محنت و مشقت سے اس دیوار کو گرا کر نئے سِرے تعمیر کر دی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ آپ عجیب آدمی ہیں ۔ اس گاﺅں کے ظالموں نے ہم کو کھانا نہیں دیا اور آپ اسی گاﺅں کے لوگوں کی دیوار تعمیر کر کے دے رہے ہیں۔ اور وہ بھی بالکل مفت میں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ایسے مطلبی لوگوں سے بغیر معاوضہ لئے آپ دیوار کو نہیں تعمیر کر تے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا۔ اب آپ کو میری جدائی کا وقت آگیا ہے۔ لیکن جانے سے پہلے میں آپ کو ان باتوں کی اصلیت بتا دوں۔ تا کہ آپ کے ذہن میں الجھن نہ ہو۔
تینوں واقعات کی وضاحت
اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا) وہ کشتی چند غریبوں مکینوں کی تھی۔ جو دریا میں اس کے ذریعے روزی کماتے ہیں۔ میں اسے اس لئے توڑا کیوں کہ ان بادشاہ بہت ظالم ہے۔ اور ہر ( صحیح و سالم ) کشتی کو زبر دستی اپنے قبضے میں کر لیتا ہے۔ اور اس لڑکے کے والدین ایمان والے ہیں۔ اور مجھے خوف ہوا کہ کہیں یہ انہیں اپنی سر کشی اور کفر کی وجہ سے انہیں عاجز اور پریشان نہ کردے۔ اس لئے میں نے چاہا کہ انہیں ان کا رب اس کے بدلے میں بہتر ، پاکیزگی والا اور اس سے زیادہ محبت و پیار کرنے والا بچہ عنایت فرمائے۔ اور اس دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس گاﺅں میں دو یتیم بچے رہتے ہیں۔ جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے۔ ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا۔ تو ہمارے رب کی چاہت یہ تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ ہمارے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں۔ میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا ہے۔ یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ (علیہ السلام )کو صبر نہیں ہو سکا ۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر79سے82) صحیح بخاری میں آگے ہے کہ وہ بادشاہ بہت ظالم و جابر تھا۔ اور ہر اچھی اور صحیح سالم کشتی کو چھین لیا کرتا تھا۔ جب یہ کشتی اس کے پاس سے گزرے گی تو عیب دار ہونے کی وجہ سے وہ اس کشتی کو چھوڑ دے گا۔ اور جب وہ چلا جائے گا تو کشتی والے اسے درست کر لیں گے۔ اور اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ اور اس لڑکے کو اس لئے قتل کر دیا کہ اس کے والدین مومن ہیں اور وہ ( بڑا ہو کر ) کافر ( بننے والا ) تھا۔ اور اس بات کا ڈر تھا کہ وہ لڑکا اپنے کفر اور سر کشی کی وجہ سے کفر میں مبتلا نہ کر دے۔ اور اس کی محبت سے مجبور ہو کر اس کے والدین اس کے دین کے تابع نہ ہو جائیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ انہیں اس سے بہتر اور نیک اور صاف ستھرا بیٹا عطا فرمائے۔ صحیح بخاری کی روایت میں اتنا ہی ہے۔ لیکن دوسری روایات میں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے آگے فرمایا۔ کہ آپ علیہ السلام دیکھ ہی رہے ہیں کہ یہ گاﺅں والے کتنے ظالم ہیں؟ یہ دیوار دو یتیم بچوں کی ملکیت ہے اُن کے والد نیک انسان تھے۔ انہوں نے اپنے انتقال سے پہلے اپنی دولت کو اس دیوار کے نیچے دفن کر دیا تھا۔ تا کہ اس کے بچے بڑے ہو کر اس دولت کو نکال کر فائدہ اٹھائیں۔ اگر اس گاﺅں کے ظالم لوگوں کو اس دولت کے بارے میں معلوم پڑ جاتا تو وہ یتیم بچوں کو دینے کے بجائے خود ہی اس پر قبضہ کر لیتے ۔ اسی لئے میں نے اس دیوار کو نئے سرے سا بنا دیا کہ ان کے بڑے ہونے تک قائم رہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں