17 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام
سلسلہ نمبر12
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 17
توریت میں سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے توریت میں بہت ساری جگہوں پر سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ذکر فرمایا ہے۔ لیکن ہم یہاں صرف ایک روایت پیش کر یں گے۔ کیوں کہ آسمانی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور صحابہ کرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ذکر اتنا زیادہ آیا ہے کہ اگر اسے تحریر کریں گے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے گی۔ اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال رہی تو انشاءاللہ اس موضوع پر ضرور آپ کی خدمت میں ایک کتاب پیش کریں گے۔ فی الحال صرف ایک روایت پیش کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ حضرت قتادہ ( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا ۔ اے میرے اللہ، میں تو ریت کی تختیوں میں ایک ایسی امت کا ذکر دیکھتا ہوں جو تمام امتوں سے بہتر ہو گی۔ لوگوں کو نیکی کا حکم دے گی اور انہیں برائی سے روکے گی۔ اے اللہ تعالیٰ ، اسے میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وہ احمد مجبتیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت دیکھتا ہوں جن پر نازل آیات اُن کے سینوں میں محفوظ ہوں گی۔ اور وہ تیرے کلام ( قرآن پاک) کو زبانی پڑھیں گے۔ جب کہ ان سے پہلے کی امتیں تیرا کلام دیکھ کر پڑھیں گے۔ اور ان کتابوں کے اٹھ جانے کے بعد تیرا وہ کلام محفوظ نہیں رہے گا۔ حتیٰ کہ کسی کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ تیرا کلام کیا ہے۔ ( جیسا کہ آج کل توریت اور انجیل کی ملاوٹ شدہ کتابوں کے بارے میں بنی اسرائیل ( یہودیوں ) اور نصاریٰ( عیسائیوں) کو خود بھی یقینی علم نہیں ہے۔ ) اے میرے رب ، تیرے کلام کی حافظ امت کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے پھر عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت کا بھی ذکر پاتا ہوں جو پہلی اور آخری تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لائے گی۔ اور گمراہوں کے خلاف جہاد کرے گی۔ حتیٰ کہ کانے کِذّاب ( دجال) کے خلاف بھی جہاد کرے گی۔ اے میرے رب، مجھے اس امت کا نبی بنادے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وہ احمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت کا ذکر بھی پاتا ہوں جو صدقے کا مال خود کھائیں گے اور انہیں پھر بھی صدقے کا اجر ملے گا۔ جب کہ اس سے پہلی کی امتیں صدقہ کریں گی تو اس کی قبولیت کی نشانی یہ ہو گی کہ آسمان سے آگ آکر اُن کے صدقے کو کھالے گی اور جو صدقے کا مال قبول نہیں ہو گا اسے چرند پرند نوچ کھائیں گے۔ لیکن اس امت کی خوبی یہ ہے کہ امیروں کا مال لے کر غریبوں کو دیا جائے گا۔ اے میرے رب، اس امت کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت کا ذکر بھی پاتا ہوں جو نیکی کی نیت کرے گی اور نیکی نہیں کر سکے گی تو اس کے اعمال نامے میں ایک نیکی لکھ دی جائے گی۔ اور اگر اس نیکی کو کرے گی تو دس نیکی سے لے کر سات سو نیکیاں تک لکھی جائیں گی۔ اے میرے رب، اس امت کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ بھی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے پھر فرمایا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت کا ذکر بھی دیکھتا ہوں کہ جن کے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی۔ اے میرے رب، اس امت کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ خوش نصیب امت بھی احمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا۔ جب اس امت میں اتنی ساری خوبیاں ہو ں گی تو مجھے ان میں شامل فرما دے اور مجھے احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنا دے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ”ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہمکلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو ۔ (سورہ الاعراف آیت نمبر 144)
قارون کو سمجھانا
اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور قارون تھا تو موسیٰ ( علیہ السلام کی قوم سے ، لیکن ان پر ظلم کرنے لگا تھا۔ ہم نے اسے ( اتنے زیادہ ) خزانے دے رکھے تھے کہ کئی کئی طاقتور لوگ بہت مشکل سے اس کی کنجیاں اٹھا سکتے تھے۔ ایک بار اس کی قوم ( کے نیک لوگوں ) نے اس سے کہا۔ کہ اتر ا مت، اللہ تعالیٰ اِترانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیاوی حصے کو نہ بھول اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی ( احسان کا ) سلوک کر۔ اور ملک میں فساد کی خواہش کرنے والا نہ بن اور یقین مان اللہ تعالیٰ فسادیوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔ قارون نے کہا۔ یہ سب مجھے میری اپنی سمجھ کی وجہ سے ہی ملا ہے۔ کیا اسے یہ نہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سی بستی والوں کو غارت کر دیا جو اس سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور دولت والے تھے۔ اور گنہ گار وں سے ان کے گناہوں کی باز پرس ایسے وقت نہیں کی جاتی ( جب وہ گناہ کر رہے ہوں) ( سورہ القصص آیت نمبر76سے 78تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل اس بستی میں رہ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین سے اتنی نعمتیں عطا فرما رکھی تھیں اور اس کی وجہ سے بنی اسرائیل اچھے خاصے امیر ہوتے جا رہے تھے ۔ اُن میں سے کچھ تو بہت زیادہ امیر ہو گئے تھے۔ ان میں سب سے زیادہ امیر شخص قارون تھا۔ وہ اتنا امیر ہو گیا تھا کہ اس کے خزانے کی چابیاں کئی طاقتور آدمی بڑی مشکل سے اٹھا پاتے تھے۔ کئی روایات میں آیا ہے کہ قارون کے خزانوں کی چابیاں 70اونٹ مل کر مشکل سے اٹھا پاتے تھے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ بے انتہا دولت اور عیش و عشرت نے اسے بہت گھمنڈی اور مغرور بنا دیا تھا۔ اور اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لئے وہ اپنی قیمص کو لوگوں سے لمبی رکھتا تھا۔ اسے اس کی قوم کے لوگوں نے سمجھایا کہ اپنے مال و دولت پر اتنا مت اتراﺅ ۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتاہے۔ اور تجھے جو مال و دولت اس نے عطا فرمایا ہے اُسے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے خرچ کر۔قارون نے جواب میں کہا۔ مجھے یہ خزانے اور مال و دولت میرے علم اور میری عقلمندی سے ملے ہیں۔ اور یہ سب میری محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔
دنیا کی محبت رکھنے والوں کا رشک
اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میںآگے فرمایا۔ ترجمہ ”پس قارون پوری آرائش کے ساتھ اپنی قوم کے مجمع میں نکلا تو دنیا کی زندگانی کے متوالے کہنے لگے کہ کاش ہمیں بھی کسی طرح وہ سب مل جاتا جو قارون کو عطا کیا گیا ہے۔ یہ تو بڑا قسمت کا دھنی ہے۔ لیکن علم والے ( علماءاور نیک ) لوگ انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس، بہتر چیز تو وہ ہے جو ثواب کے طور پر عطا کی جاتی ہے اور جو اللہ پر ( مضبوط) ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اور سنت کے مطابق نیک اعمال ( عمل صالح) کرتے ہیں۔ یہ بات اُن ہی کے دل میں ڈالی جاتی ہے اور جو صبر کا سہارا لینے والے ہوتے ہیں۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر79, اور 80) ایک دن وہ سج دھج کر اپنی بہترین گھوڑوں کی کھلی بگھی میں نکلا۔ اس کے آگے پیچھے نوکروں کی فوج تھی اور اس کی خدمت کر رہی تھی۔ اس کے یہ ٹھاٹ باٹ دیکھ کر جن لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبت تھی وہ کہنے لگے ۔ کہ یار ، قارون تو واقعی بڑے عیش و آرام میں رہتا ہے ۔ کاش اس کے جیسا عیش و آرام ہمیں بھی نصیب ہو جائے تو بنی اسرائیل کے علماءاور نیک لوگ و آخرت کو خوف رکھتے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ یہ جو کچھ قارون کو ملا ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ مال و دولت فنا ہو جانے والی چیز ہے۔ اصل قائم رہنے والے وہ نیک اور صالح اعمال ہیں جو آخرت میں کام آئیں گے۔
گھمنڈ اور تکبر کی وجہ سے قارون زمین میں دھنسا دیا گیا
اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( آخر کار) ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی جماعت اس کی مدد کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئی۔ اور وہ خود بھی اپنے آپ کو بچانے والوں میں سے نہیں ہو سکا۔ اور جو لوگ کل اسی طرح کی ( دولت مند) بننے کی آرزو کرتے تھے۔ وہ آج کہنے لگے کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہے رزق کشادہ ( زیادہ ) کر دیتا ہے۔ اور تنگ بھی کر دیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہم پر فضل نہیں کرتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ نا شکروں ( گھمنڈی اور متکبر) کو کامیابی نہیں ملت۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر81،82) قارون کو زمین دھنسا دینے کی کئی وجوہات بیان ہوئی ہیں کہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازش کی اور آپ علیہ السلام پر جھوٹے الزامات لگائے اور بد نام کرنے کی کوشش کی اور بھر مجمع میں ( نعوذ باللہ ) آپ علیہ السلام کو ذلیل کرنا چاہا۔ اور اس کے لئے کافی طویل روایات احادیث اور تفاسیر کی کتابوں میں درج ہیں۔ لیکن اسے زمین میں دھنسانے کی اصل وجہ اس کا اللہ تعالیٰ کی ناشکری، گھمنڈ اور تکبر ہے۔ اس لئے ہم ان طویل روایات کو پیش کرنے کے بجائے مختصر میں اس واقعہ کو پیش کر رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے کچھ مسائل حل کررہے تھے اور سب لوگ اُن کے آس پاس جمع تھے۔ ایسے وقت میں قارون اپنا شاہانہ جلوس کے ساتھ وہاں سے گزرا ۔ اور جب آپ علیہ السلام کے اطراف مجمع دیکھا تو گھمنڈ اور تکبر سے اکڑتا ہوا مجمع کو چیرتا ہوا آپ علیہ السلام کے پاس آیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قارون ” بنی لاوی“ سے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی نسل بارہ قبیلہ بنی ۔ اور ان بارہ قبائل کے مجموعہ کو ” بنی اسرائیل “ کہا جاتا ہے۔ تمام بارہ قبیلوں کے نام بارہ بھائیوں کے نام پر تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں میں ایک کا نام لاوی تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قارون لاوی کی اولاد میں سے ہیں۔ قارون آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں تکبر سے اپنی سواری پر بیٹھا رہا اور بولا۔ اے موسیٰ(علیہ السلام )ہمارا سلسلہ نسب ایک ہی ہے اس لئے نسب کے معاملے میں تمہارے برابر ہوں۔ اور نبوت کے معاملے میں تم مجھ سے بہتر ہو۔ اور مال و دولت کے معاملے میں تم سے بہتر میں ہوں۔ آپ علیہ السلام نے اسے سمجھایا کہ اپنے مال و دولت پر اتنا بھروسہ مت کرو۔ کیوں کہ یہ فانی چیز ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے مال و دولت سمیت زمین میں دھنسا دے۔ قارون نے کہا ۔ ٹھیک ہے۔تم بھی اللہ سے دعا کرو اور میں بھی دعا کرتا ہوں۔ دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کس کی سنتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ توم دعا کرو پہلے کرو گے یا میں کروں گا۔ اس نے کہا آپ ہی پہلے کریں۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ قارون کو زمین میں دھنسا دے۔ تو زمین میں قارون دھنسنے لگا۔ پہلے ٹخنے دھنسے پھر گھٹنے ،پھر کمر تک دھنسا ، پھر سینے تک پھر گردن تک دھنس گیا اور آخر کار پورا زمین میں غرق ہو گیا اور زمین برابر ہو گئی۔ تمام بنی اسرائیل حیرانی سے آنکھیں پھاڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے قارون کے محل اور اس کے خزانوں کو بھی زمین میں دھنسا دیا۔ یہ دیکھ کر وہ بنی اسرائیل جو قارون پر رشک کر رہے تھے انہوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اور ہم پر فضل ہے کہ اس نے ہمیں گھمنڈ اور تکبر سے محفوظ رکھا۔ ورنہ ہمارا بھی وہی انجام ہوتا جو قارون کا ہوا ہے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں