پیر، 15 مئی، 2023

16 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


16 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 16

بنی اسرائیل کا پھر نافرمانی کرنا

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے تم سے ( بنی اسرائیل سے ) فرمایا۔ کہ اس بستی میں جاﺅ اور جو کچھ جہاں کہیں سے چاہو فراغت سے کھاﺅ اور پیﺅ۔ اور دروازے میں سجدے کرتے ہوئے گزرو۔ اور زبان سے حطة کہو۔ ہم تمہاری خطائیں معاف فرما دیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے۔ پھر اُن سے جو بات کہی گئی تھی اسے ان ظالموں نے بدل ڈالا۔ اور ہم نے بھی ان ظالموں پر ان کے فسق اور نافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل فرمایا۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر58اور 59) اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب اُن کو ( بنی اسرائیل کو ) حکم دیا گیا کہ تم لوگ اس آبادی میں جا کر رہو اور کھاﺅ۔ اس میں سے جہاں تمہارا دل ہو۔ اور زبان سے کہتے جانا کہ توبہ ہے اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا۔ ہم تمہارا خطائیں معاف کردیں گے۔ جو لوگ نیک کام کریں گے ان کو مزید اور زیادہ عطا فرمائیں گے۔ لیکن ان ظالموں نے اس کلمہ کو بدل ڈالا اور وہ کلمہ کہا جو اس کے خلاف تھا۔ جس کا حکم دیا گیا تھا۔ اس وجہ سے ہم نے ان پر ایک آسمانی آفت بھیجی۔ یہ اس لئے تھا کہ وہ حکم کو ضائع کر تے تھے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر161اور 162) بد بخت بنی اسرائیل نے زمین کی پیداوار کی فرمائش کی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ، بنی اسرائیل کو اچھی بستی عطا فرما۔تو اللہ تعالیٰ نے وادی¿ تیہ یعنی صحرا سے لگ کر ایک بستی انہیں عطا فرمائی۔ اس بستی میں کوئی بیماری پھیلی تھی یا ایسا ہی کچھ واقعہ پیش آیا تھا جس کی وجہ سے بستی والے اپنے گھر وں کو ویسے ہی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس بستی کے ایک طرف صحرا تھا اور دوسری طرف دریا بہتا تھا۔ جس کی وجہ سے اس بستی کے آس پاس کا علاقہ بہت ہی ہر ا بھرا اور زرخیز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اس بستی میں داخل ہو جاﺅ اور جہاں سے جتنا جی چاہے کھاﺅ اور پیﺅ۔ ہاں میرا ایک حکم ہے جب تم بستی میں داخل ہونا تو اس کے دروازے میں جھکے جھکے اور سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا۔ اور زبان سے حِطَة’‘ کہتے ہوئے داخل ہونا۔ آپ کو تو معلوم ہی ہوگا گا کہ پہلے زمانے میں شہروں ، بستیوں اور گاﺅں کے اطراف میں چاروں طرف بہت اونچی دیوار ہو تی تھی۔ اور اس دیوار کو شہر ِ پناہ یا فصیل کہا جاتا تھا۔ اس دیوار میں ہر سمت بہت بڑے بڑے دروازے بنے ہوتے تھے۔ جن کی باقیات ہمارے ہندوستان میں کلکتہ ، دہلی اور بمبئی میں گیٹ وے آف انڈیا اور حیدرآباد کا چار مینار ہے۔ تفسیر طبری میں لکھا ہے کہ انہوں نے حِطَة’‘ کے بجائے حَنطَة’‘ ( گیہوں ) کہا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بنی اسرائیل کو کہا گیا کہ تم سجدہ کرتے ہوئے دروازہ سے داخل ہونا اور کہنا کہ ہم کو معاف کردے۔ تو انہوں نے حکم کو بدل دیا۔ اور چوتڑوں کے بل گھِسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور کہا۔ حَبَّة’‘ فِی شَعرَةٍ( جَو میں گندم کا دانہ ) اس طرح ان بد بختوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی جان بوجھ کر کی اور نقصان میں پڑ گئے۔

چچا کا قتل کر کے دوسروں پر الزام لگا دیا۔

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک بہترین بستی عطا فرمائی۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل اس بستی میں بس گئے ۔ یہ بستی اتنی بڑی تھی کہ اس میں بنی اسرائیل کے پورے بارہ قبیلے بنا لئے۔ اور ہر قبیلے نے اپنا اپنا علاقہ بنا لیا۔ اور اپنے علاقوں پر دروازے بنائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس علاقے کو اتنا ہرا بھرا اور زرخیز کر دیا تھا کہ اناج، سبزیاں ، پھل اور میوے وغیرہ بہت زیادہ پیدا ہورہے تھے۔ جس کی وجہ سے یہ بستی تجارتی منڈی بن گئی اور اسکی وجہ سے بنی اسرائیل دن بہ دن امیر ہوتے جا رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص قارون بھی تھا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ آگے آئے گا۔ ایسے ہی کچھ امیروں میں سے ایک امیر شخص کے بھتیجے نے اپنے چچا کا قتل کر دیا اور لاش کو دوسرے قبیلے والوں کے دروازے پر رات میں پھینک آیا۔ اور صبح اٹھ کر لاش کے پاس پہنچا اور زور زور سے رو رو کر فریاد کرنے لگا کہ اس قبیلے والوں نے میرے چچا کو قتل کر دیا ہے۔ اس قبیلے کے لوگوں نے انکار کر دیا۔ بنی اسرائیل کے باقی قبیلے والے حیران تھے کہ کس کو کہا کہیں ۔ آخر کار یہ مقدمہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش ہوا۔

 گائے ذبح کرنے کا حکم 

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور موسیٰ ( علیہ السلام ) نے جب اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو انہوں نے کہا۔ ہم سے مذاق کیوں کر رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں ایسا جاہل ہونے سے اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر67) تمام بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ حاضر ہوئے۔ اور مقدمہ آپ علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کیا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اصل قاتل کو سامنے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان سے گائے کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو وہ لوگ کہنے لگے۔ یہ کیا مذاق ہے؟ ( در اصل بنی اسرائیل سینکڑوں برس سے قبطیوں یعنی مصریوں کے ساتھ رہتے آ رہے تھے اور قبطی گائے کی پوجا کرتے تھے۔ اس لئے ان کے ساتھ رہتے رہتے بنی اسرائیل کے اندر بھی ان کے اثرات آگئے تھے۔ اور اس سے پہلے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر گئے تھے تو یہ لوگ بچھڑے کو پوجا میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اور گائے اور بیل وغیرہ کو عظیم ماننے لگے تھے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں گائے ذبح کرنے کاحکم دیا۔ تا کہ ان کے اندر سے گائے وغیرہ کی عظمت کے اثرات نکل جائیں۔ اور اسی وجہ سے انہوں نے آپ علیہ السلام کے حکم کو مذاق سمجھااور ٹالنے کی کوشش کرنے لگے) بنی اسرائیل آپ علیہ السلام سے کہنے لگے۔ ہم آپ علیہ السلام کے پاس قتل کا مقدمہ لے کر آئے ہیں اور آپ علیہ السلام قاتل کے بارے میں بتانے کی بجائے ہم سے مذاق کر رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم سے مذاق کر وں۔ تم گائے ذبح کرو گے تو قاتل کا پتہ چلے گا۔

 گائے کے معاملے میں بہانے بازی

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( بنی اسرائیل) نے کہا۔ اے موسیٰ علیہ السلام دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اس کی ماہیت ( حلیہ ) بیان کر دے۔ آپ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ سنو ، وہ گائے نہ تو بالکل بوڑھی ہو اور نہ ہی بچہ ہو بلکہ درمیان عمر کی نوجوان ہو۔ اب تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کرو۔ وہ پھر کہنے لگے۔ کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ بیان کر ے کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے زرد رنگ کی ہو چمکیلی ہو۔ اور دیکھنے والوں کو بھلا لگنے والا رنگ ہو۔ وہ کہنے لگے کہ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمیں مزید تفصیل بتائے۔ اس قسم کی گائے تو بہت ہیں پتہ ہی چل رہا ہے ( کہ کون سی زبح کریں) اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہو جائیں گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے زمین میں کام کرنے والی اور ہل جوتنے والی نہیں ہو۔ اور وہ تندرست اور بے داغ ہو۔ انہوں نے کہا۔ آپ نے حق کو واضح کر دیا۔ حالانکہ وہ حکم کو پورا کرنے والے نہیں تھے۔ لیکن اسے ( مجبوراً ) مانا اور وہ گائے ذبح کر دی“( سورہ البقرہ آیت نمبر68سے 71تک) بنی اسرائیل گائے کو ذبح کرنا نہیں چاہتے تھے اسی لئے بہانے بازی کرنے لگے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ اس کا قد کیسا ہو، اور طرح طرح کے سوال کرنے لگے۔ تا کہ اس حکم کو پرا نہیں کرنا پڑے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ، اگر اس وقت بنی اسرائیل کوئی بھی گائے ذبح کر دیتے تو اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا اور بنی اسرائیل پریشانیوں سے بچ جاتے ۔ لیکن گائے کی عظمت اُن دلوں میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس لئے وہ لوگ آپ علیہ السلام سے بے تکے سوالات کرنے لگے تا کہ کسی بھی طرح گائے ذبح نہ کرنی پڑے۔ لیکن جتنے سوالا ت وہ کرتے جا رہے تھے اتنے ہی مصیبت میں پڑتے جا رہے تھے۔

قاتل کا پتہ معلوم ہو گیا

اللہ تعالیٰ کے حکم کو ٹالنے کے لئے بنی اسرائیل بہانے بازی کر رہے تھے اور جتنا ٹالنے کی کوشش کر رہے تھے اتنا ہی مصیبت میں پھنستے جا رہے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے ہر بے تکے سوال کے جواب میں ایسی شرط پیش فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل اور زیادہ مصیبت میں آجاتے تھے۔ لیکن قاتل کا پتہ لگانا ضروری تھا۔ اسی لئے مجبوری میں اس گائے کو تلاش کرنے لگے۔ اور ویسی گائے صرف ایک تھی اور وہ بھی دوسرے علاقے میں ملی۔ وہ گائے ایک یتیم نوجوان کی تھی جو اپنی بیوہ والدہ کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ بہت ہی نیک انسان تھے۔ اس نیک انسان نے ایک گائے اللہ تعالیٰ کے نام سے جنگل میں چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد جب اس کا انتقال ہو گیا اور اس کا بیٹا بڑا ہوا تو والدہ نے کہاکہ جنگل میں جا کر پکارو کہ اے اللہ تعالیٰ میرے والد کی گائے مجھے لوٹا دے۔ نوجوان نے جا کر پکارا تو وہ گائے آگئی اور اسے لے کر گھر آیا۔ والدہ نے کہا۔ اسے بازار میں لے جا کر 6 دینار یا درہم میں بیچ دو۔ لیکن اگر اس سے کم یا زیادہ میں مانگے تو مجھ سے پوچھ لینا۔ بازار میں ایک شخص نے 8دینار یا درہم میں مانگا اور شرط پیش کی کہ والدہ سے نہیں پوچھنا۔ لیکن نوجوان نے سودا منظور نہیں کیااور والدہ سے مشورہ کیا۔ اس طرح کئی مرتبہ سودا ہونے کے بعد اس شخص نے کہا کہ اس گائے کو فروخت مت کرو۔ کچھ لوگ آئیں گے اور ہر قیمت پر گائے خریدنا چاہیں گے تو ان سے کہنا کہ اس گائے کے وزن کے برابر سونا چاہیے۔ اور بنی اسرائیل اس کے پاس آئے اور منہ مانگی قیمت دے کر گائے خرید لی۔ اور ذبح کی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ذبح کی ہوئی گائے کے گوشت کا ایک ٹکڑا لاش پر مارو۔ تو لاش نے اٹھ کر بتایا کہ مجھے میرے بھتیجے نے قتل کیا ہے۔ اور پھر مر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا پھر آپس میں اختلاف کر نے لگے اور تمہاری پوشیدگی کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا۔ ہم نے کہا کہ اس گائے کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر لگا دو( وہ زندہ ہو کر قاتل کا پتہ بتا دے گا) اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر کے تمہیں تمہاری عقل مندی کے لئے نشانیا ں دکھلاتا ہے۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر73، 72) 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں