پیر، 15 مئی، 2023

15 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


15 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 15

بنی اسرائیل کا جنگ کرنے سے انکار

اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور یاد کرو، موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنی قوم سے کہا۔ اے میری قوم کے لوگو، اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر کرو کہ اس نے تم میں سے انبیائے کرام بنائے اور تمہیں بادشاہ بنا دیا اور تمہیں وہ عطا فرمایاجو عالمین میں کسی کو نہیں عطا فرمایا۔ اے میری قوم والو ۔ اس مقدس زمین میں داخل ہو جاﺅ۔ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دی ہے۔ اور پیٹھ پھیر کر منہ نہ پھیرو( یعنی جنگ سے پیچھے مت ہٹو) اور سرکش لوگ ہیں۔ اور جب تک وہ وہاں سے نکل نہیں جائیں گے تب تک ہم تو ہر گز وہاں نہیں جائیں گے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں۔پھر تو ہم ( خوشی سے ) داخل ہو جائیں گے۔ دو شخصوں نے جو اللہ پر یقین رکھتے تھے اور جن پر اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔ ( یعنی یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا ) اُن دونوں نے کہا۔ تم ان کے پاس دروازے تک پہنچ تو جاﺅ۔ دروازے پر قدم رکھتے ہی یقینا تم ہی غالب آجاﺅ گے۔ اور اگر تم مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیئے۔ قوم نے جواب دیا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )جب تک وہ وہاں ہیں تب تک ہم ہرگز وہاں نہیں جائیں گے۔ اس لئے تم اور تمہار ا رب ( یعنی اللہ تعالیٰ) جا کر تم دونوں ہی لڑ بھڑلو۔ ہم تو یہیں بیٹھے انتظار کر رہے ہیں۔“( سورہ المائدہ آیت نمبر20سے 24تک) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ مصر کی حدود سے نکل گئے اور بیت المقدس کے سامنے پہنچے تو وہاں آپ علیہ السلام کا سامنا ایک جابر قوم سے ہوا۔ یہ قوم حیثاثین ، فزاریین اور کنعانین وغیرہ تھے۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ فلسطین میں داخل ہو جاﺅ۔ اور ان قوموں کے ساتھ جنگ کرو۔ اورانہیں بیت المقدس سے مار بھگاﺅ۔ کیو ں کہ یہ شہر اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور میری زبانی یہ ملک تمہیں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لیکن بنی اسرائیل نے انکار کر دیا اور جہاد سے منہ موڑ لیا۔ اس کے بعد آغے لکھتے ہیں لیکن میری زبانی یہ ملک تمہیں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن بنی اسرائیل نے انکار کر دیا اور جہاد سے منہ موڑ لیا۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں۔ لیکن میری زبانی یہ ملک تمہیں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لیکن بنی اسرائیل نے انکار کر دیا اور جہاد سے منہ موڑ لیا۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں لیکن بنی اسرائیل میں دو آدمی ایسے تھے جنہوںنے جہاد کرنے میں رغبت ظاہر کی اور لوگوں کو بزدلی سے بچنے کی تلقین کی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک یوشع بن نون اور دوسرے کا لب بن یوقنا تھا۔ یہ ارشاد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، مجاہد ، عکرمہ، عطیہ ، ربیع بن انس اور دوسرے کئی مفسرین کا ہے۔ اس کے بعد آگے لکتے ہیں۔ بنی اسرائیل نے جہاد سے مکمل رو گردانی کا ارادہ کر لیا اور کہا۔ ہم سے جہاد نہیں ہوتا ۔ ہم کمزور لوگ ہیں اور ان طاقتور لوگوں کا مقابلہ کیسے کریں گے۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر لکھتے ہیں۔ بنو اسرائیل کو جب جبابرہکی قوت اور طاقت کا علم ہوا تو انہوںنے ان کے خلاف جنگ کرنے سے انکار کر دیا ۔ اور کہا آپ اور آپ کا رب دونوں جاﺅ اور ان سے جنگ کرو۔ ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ 

بنی اسرائیل کو چالیس سال صحرا میں بھٹکنے کی سزا

اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا ۔ترجمہ ” موسیٰ ( علیہ السلام ) نے عرض کیا۔ اے میرے رب ، میرا تو سوائے اپنے آپ پر اور میرے بھائی پر اختیار ہے۔ اور ہمارے سوا کسی پر اختیار نہیں ہے۔ پس تو ہم میں اور ان نا فرمانیوں میں جدائی ڈال دے ۔( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ اب یہ (مقدس)زمین ان پر چالیس سال تک حرام کر دی گئی ہے۔ یہ خانہ بدوشوں کی طرح ادھر ادھر سر گرداں پھرتے رہیں گے۔ اسی لئے اب تم ان فاسقوں کے بارے میں غمگین نہیں ہونا ۔“ ( سورہ المائدہ آیت نمبر25اور 26)مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دشتِ فاران سے بنی اسرائیل کے بارہ سرداروں کو فلسطین کا دورہ کرنے کے لئے بھیجا تا کہ وہاں کے حالات معلوم کر کے آئیں۔ یہ لوگ چالیس دن کا دورہ کر کے وہاں سے واپس آئے اور انہوںنے قوم کے مجمعٔ عام میں بیان کیا کہ واقعی وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ لیکن وہاں جو لوگ بسے ہوئے ہیں وہ زور آور ہیں۔ ہم اس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں۔ وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھتے وہ سب بڑے قد آور ہیں۔ اور وہاں ہم نے بنو عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں۔ اور ہم تو ان کے سامنے ایسے تھے جیسے ٹڈے۔ یہ سن کر سارا مجمع چیخ اٹھا کہ اے کاش ہم مصر میں ہی مر جائے یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے۔ خداوند کیوں ہم کو اس ملک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرنا چاہتا ہے ؟ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے۔ کیا ہمارے لئے بہتر نہیں ہوگا کہ ہم مصر کو واپس چلے جائیں۔ پھر وہ آپس میں کہنے لگے کہ آﺅ ہم کسی کو اپنا سردار بنا لیں اور مصر لوٹ چلیں۔ اس پر اُن بارہ سرداروں میں سے دو سردار جو فلسطین کے دورے پر گئے تھے ۔ یوشع اور کالب اٹھے ۔ انہوں نے اس بزدلی پر قوم کو ملامت کی۔ کالب نے کہا۔ چلو ہم ایک دم جا کر اس ملک پر قبضہ کر لیں کیوں کہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصرف کریں۔ پھر دونوں نے ایک ساتھ کہا۔ اگر اللہ تعالیٰ ہم سے راجی رہے گا تو وہ ہم کو اس ملک میں پہنچا دے گا ۔ فقط اتنا ہو کہ تم اللہ تعالیٰ سے بغاوت نہ کرو۔ اور نہ ہی اس ملک کے لوگوں سے ڈرو۔ اور ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ ہے تو ان کا خوف نہ کرو۔ مگر بنی اسرائیل نے جواب دیا کہ انہیں سنگسار کردو۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس نے فیصلہ فرما دیاکہ اچھا اب یوشع اور کالب کے علاوہ اس قوم کا کوئی بھی بالغ مرد اس ( مقدس) سر زمین میں داخل نہیں ہونے پائے گا۔ یہ قوم چالیس برس تک بے خانماں پھرتی رہے گی۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے 20سال سے اوپر کے سب مرد مر جائیں گے اور نئی نسل جوان ہو کر اٹھے گی۔ تب انہیں فلسطین فتح کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے مطابق بنی اسرائیل کو دشت فاران سے شرق اُردن تک پہنچتے پہنچتے پورے 38برس لگ گئے۔ اس دوران میں وہ سب لوگ مر کھپ گئے جو جوانی کی عمر میں مصر سے نکلے تھے۔ شرق اردن فتح کرنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھی وصال ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے عہد خلافت میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین فتح کر سکیں۔ 

بادل کا سایہ اور من و سلویٰ کا نزول 

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ اور اس کا ایک بہت بڑا ثبوت بنی اسرائیل قوم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے پانچ سب سے بڑے رسول بنائے ہیں۔ انمیں سے ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے ساتھ تھے۔ اور اس بد بخت قوم نے ان کا اور اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ جس کی وجہ سے الہ تعالیٰ نے ان کو چالیس سال تک وادی¿ تیہ میں بھٹکنے کی سزا دی ۔ لیکن ساتھ ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ رہو۔ اور اس کے علاوہ صحرا میں ان کے اوپر بادل کا سایہ بھی کر دیا اور ساتھ ہی ان کے کھانے کا بھی انتظام کر دیا۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ صحرا عام طور سے دن بہت گرم ہوتا ہے اور رات بہت سرد ہوتی ہے۔ لیکن اس بادل کی وجہ سے دن اور رات دونوںمیں موسم معتدل رہتا تھا۔ اس کے علاوہاللہ تعالیٰ نے اُن کے کھانے پینے کا بھی انتظام فرما دیا تھا۔ اُن پر ”من “ اور ”سلویٰ“ نازل فرمایا۔ رات میں ان بادلوںمیں سے شبنم کی بوند کی طرح من برستا تھا۔ صبح جب بنی اسرائیل اٹھتے تو ہر ایک کے خیمے کے سامنے من کا ڈھیر لگا رہتا تھا۔ اور وہ سخت ہو جایا کرتا تھا۔ بنی اسرائیل اس کو بٹو رکر پیس لیا کرتے تھے۔ اور روٹی پکاتے تھے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ صحرا ءمیں پیش آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سورج کی دھوپ سے بچانے کے لئے بادل کا سایہ کر دیا تھا۔ انہیں من اور سلویٰ کھلایا اس وقت وہ صحرا میں تھے۔ من اُن پر برف باری کی طرح گرتا تھا۔ اور وہ برف سے زیادہ سفید ہوتا تھا۔ اور طلوع فجر سے گرنا شروع ہوتا تھا اور طلوع شمس ( سورج ) تک گرتا تھا۔ ہر شخص اپنی اس دن کی ضرورت کے مطابق خوراک اٹھا لیتا تھا۔ اگر کوئی شخص ضرورت سے زیادہ اٹھاتا تھا تو وہ خراب ہو جاتا تھا۔ جمعہ کے دن وہ دونوں کی خوراک اٹھاتے تھے کیوں کہ سنیچر کا دن سبت کا دن تھا۔ اور اس دن بنی اسرائیل کو عبادت کرنا ہوتی تھی۔ اور سلویٰ بٹیر کی سائز یا اس سے بڑی ایک چڑیا کا نام ہے۔ یہ دن بھر بنی اسرائیل کے خیموں کے آس پاس اڑتی رہتی تھیں اور آسانی سے پکڑ میں آجاتی تھیں۔ بنی اسرائیل انہیں پکڑ کر ذبح کر کے پکاتے تھے اور من کے ساتھ کھاتے تھے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سلویٰ ایک سرخ پرندہ تھا۔ جنوبی ہوا اسے جمع کرتی تھی۔ ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق پکڑ کر ذبح کر لیتا تھا۔ اگر وہ ضرور ت سے زیادہ ذبح کر تا تھا تو وہ خراب ہو جاتا تھا۔ اور جمعہ کے دن وہ دو دنوں کا کھانا جمع کر لیتے تھے۔ کیوں کہ سنیچر کا دن چھوٹی عید کا دن ہوتا تھا۔ 

صحراءمیں ہر سہولت عطا فرمائی

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ترجمہ ” اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا۔ ( اور فرمایا کہ ) ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھاﺅ۔ اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا ۔ بلکہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر57) امام قرطبی لکھتے ہیں۔ یعنی ہم بادل کو تم پر چھتری کی مانند کر دیا۔ جس نے تم کو ڈھانپ لیا۔ یہ سفید بادل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے اوپر سفید بادل کا سایہ اس لئے کیا کہ وہ دن کے وقت سورج کی گرمی سے بچائے۔ اور شام سے لے کر صبح تک اتنا ہلکا کر دیا جاتا تھا کہ چاند کی روشنی ان کے اوپر برابر آتی تھی۔ یہ ان پر مصر اور شام کے درمیان تیہ کے صحراءمیں ہوا تھا۔ جب انہوں نے جبارین کے شہر میں داخل ہونے اور ان سے جنگ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہار ا رب دونوں جا کر لڑوا ور ہم تو یہیں انتظار میں بیٹھتے ہیں۔ پس انہیں اسی جگہ سزا دی گئی اور وہ چالیس برس تک تیہ کے صحرا میں بھٹکتے رہے۔ روایت ہے کہ دن کو سفر کرتے تھے پس ان کی صبح وہیں ہوتی جہاں کل ہوئی تھی۔ ( یعنی وہ تیہ کے صحرا میں قید کر دیئے گئے تھے ۔ وہ دن بھر مصر کی طرف جاتے تھے اور جب صبح دیکھتے تھے تو جہاں سے چلے تھے وہیں آکر کر رکے تھے۔پھر صبح سفر شروع کر تے تھے )۔ جب وہ تیہ کے صحرا میں جمع تھے تو انہوں نے آپ علیہ السلام سے کہا۔ ہمارے لئے کھانا کون لائے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر من اور سلویٰ اتار دیا۔ پھر انہوں نے کہا۔ ہمیں سورج کی گرمی سے کون بچائے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر بادلوں کا سایہ کر دیا۔ پھر انہوں نے کہا۔ ہم چراغ کیسے جلائیں گے؟ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے ساتھ نور کا یا آگ کا ستون روشن کر دیا۔ جس سے وہ آگ حاصل کرتے تھے۔ انہوں نے کہا ہمارے لئے پانی کون لائے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پتھر پر عصا مارنے کا حکم دیا ۔ عصا مارتے ہیں پانی نکلنے لگا۔ انہوں نے کہا۔ ہمارے لئے لباس کون لائے گا؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں لباس عطا فرمایا۔ اُن کے لباس اور خیمے میلے نہیں ہوتے تھے۔ اور ویسے ہی صاف ستھرے چالیس برس تک رہے۔ اور جو بچے پیدا ہوتے تھے تو ان کے خیمے کے باہر اس کے لئے اللہ تعالیٰ لباس بھیج دیتا تھا۔ اور وہ لباس بچے کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا جاتا تھا۔ 

پتھر سے پانی نکلنا

اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے ان کو بارہ خاندانوں میں تقسیم کر کے سب کی الگ جماعت ( یعنی قبیلے )مقرر کر دیئے۔ اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا جب کہ اُن کی قوم نے ان سے پانی مانگا ، کہ اپنے عصا کو فلاں پتھر پر مارو۔ پس فوراً اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور ہر شخص ( یعنی ہر قبیلے یا جماعت ) نے اپنے پانی پینے کی جگہ معلوم کر لی۔ اور ہم نے اُن پر بادل کو سایہ فگن کیا اور من او رسلویٰ کھانے کو دیئے کھاﺅ ان پاک اور نفیس چیزوں کو جو ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں۔ اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا۔ بلکہ اپنا ہی نقصان کیا کرتے تھے۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر160) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کوہِ طور سے ایک پتھر اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ اس پتھر کو بہت سنبھال کر رکھیں اور جہاں بھی جائیں اسے ساتھ میں لے چلیں۔ اس پتھر میں بارہ بڑے بڑے سوراخ تھے۔ جب بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام سے پانی کی فرمائش کی تو آپ علیہ السلام نے وہ پتھر منگوایا۔ اور اللہ تعالیٰ سے پانی کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنا عصا اس پتھر پر مارو۔ آپ علیہ السلام نے عصا مارا تو اس کے بارہ سوراخوں میں سے پانی نکلنے لگا اور تمام لوگوں نے پانی پیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے پتھر پر عصا مارا تو پانی بند ہو گیا۔ اس طرح جب ضرورت ہوتی تھی پانی حاصل کر لیتے تھے۔

اللہ تعالیٰ کا دیدار کی فرمائش

اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب موسیٰ (علیہ السلام )ہمارے وقت پر آئے اور اُن کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے رب، مجھے اپنا دیدار کر ادے۔ کہ میں ایک نظر آپ کو دیکھ لوں۔ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ تم مجھ کو ہر گز نہیں دیکھ سکو گے۔ لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو۔ اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب اُن کے رب نے اس ( پہاڑ) پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پر خچے اڑا دیئے اور موسیٰ ( علیہ السلام ) بے ہو ش ہو کر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا ۔ بے شک آپ کی ذات منزہ ہے۔ میں آپ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر143) یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام توریت لینے کوہ طور پر چالیس راتوں کے لئے گئے تھے۔ لیکن اگر ہم اس واقعہ کو وہاں بیان کرتے تو تسلسل قائم نہیں رہ پاتا۔ اسی لئے یہاں بیان کر رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام کوہِ طور پر تھے اور توریت کا نزول ہو رہا تھا ۔ جب تو ریت مکمل ہو گئی تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، تو نے مجھے اتنا بڑا مقام عطا فرمایا ہے کہ مجھ سے کلام کیا۔ ( یعنی بات کی) تو ایک مہربانی اور کر دے اور مجھے اپنا دیدار کر ادے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتے کیوں کہ تم اس جسم میں قید ہو اور یہ جسم اتنا طاقتور نہیں ہے کہ میرا دیدار کر سکے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اتنی قوت عطا فرما کہ میں تیرا دیدار کر سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں اس پہاڑ پر اپنی ہلکی سی تجلّی ڈالتا ہوں ۔اگر یہ اپنی جگہ محفوظ رہ گیا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر تجلّی ڈالی تو وہ پاش پاش ( بھوسہ ) ہو گیا۔ اور آپ علیہ السلام جو غور سے اس پاش پاش ہونے والے پہاڑ کو غور سے دیکھ رہے تھے بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش آیا تو عرض کیا ۔ اے اللہ تعالیٰ، تو پاک ہے اور سب کا رب ہے۔ اور میں نے جو گستاخی کی ہے اس پر توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔

بنی اسرائیل نے گیہوں ، سبزی اور دال کی فرمائش کی

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب تم نے ( بنی اسرائیل نے ) کہا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) ہم سے ایک ہی قسم کے کھانے پر ہر گز صبر نہیں ہو سکے گا۔ اس لئے اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمیں زمین کی پیداوار ، ساگ ، ککڑی ، گیہوں ،مسور اور پیاز دے۔ آپ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ بہتر چیز کے بدلے تم ادنیٰ چیز کیوں طلب کر ہے ہو؟ اچھا کسی بستی ( شہر ) میں جا کر بس جاﺅ۔ وہاں تمہیں اپنی چاہت کی یہ سب چیزیں ملیں گی۔ ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی ہے اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے۔ یہ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے۔ اور نا حق نبیوں کو قتل کر تے تھے۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا نتیجہ ہے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر61)حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل آرام سے وادی¿ تیہ میں صحرا میں رہ رہے تھے۔ جب دل چاہتا چل پڑتے تھے۔ اور جب دل چاہتا رک جاتے تھے۔ کھانے اور پینے کو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اور من اور سلویٰ اور پانی پتھر ساتھ چلتے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں خیمے اور کپڑے دھونے نہیں پڑتے تھے۔ اور نئے خیمے اور کپڑے بنانے نہیں پڑتے تھے۔ ان کے خیمے اور کپڑے ہمیشہ صاف ستھرے اور نئے رہتے تھے۔ اور پرانے ہو کر پھٹتے نہیں تھے۔ ان کے بچوں کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ کپڑے بھی بڑے ہوتے تھے۔ اتنی سب آسانی ہو نے کے بعد بھی یہ لوگ مطمئن نہیں ہوئے۔ برسوں صحرا میں بھٹکنے کے بعد ان لوگوں نے آپ علیہ السلام سے عجیب سی فرمائش کی کہ اب ہم سے ایک ہی قسم کے کھانے پر صبر نہیں ہو رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں زمین کی پیداوار سبزی ، گیہوں، مسور دال، پیاز اور لہسن وغیرہ دے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ اتنی بہترین اور اچھی چیزوں کے بدلے میں ادنیٰ اور معمولی چیزیں کیوں مانگ رہے ہو؟ اگر یہی چاہتے ہو تو جاﺅ کسی بستی میں جا کر بس جاﺅ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں..........!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں