14 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام
سلسلہ نمبر12
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 14
توبہ کی قبولیت کی شرط
اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا۔ پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا اور ظالم بن گئے۔ لیکن اس کے باوجود پھر بھی تمہیں معاف کر دیا کہ تم شکر ادا کرو۔ اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام )کو تمہاری ہدایت کے لئے کتاب اور معجزے عطا فرمائے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اے میری قوم، تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو۔ اور اپنے آپ کو آپس میں قتل کرو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہاری بہتری اسی میں ہے۔ تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی۔ اور وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے۔“ (سورہ البقرہ آیت نمبر51سے 54تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور موسیٰ (علیہ السلام )کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا معبود ٹھہرالیا جو ایک قالب یعنی صرف پتلا تھا۔ جس میں ایک آواز تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان سے بات نہیں کرتا تھا۔ اور ان کو کوئی راستہ بھی نہیں بتا تا تھا۔ اور انہوں نے اس کو معبود بنا لیا۔ اور بڑی بے انصافی کا کام کیا۔ اور جب نادم ہوئے اور معلوم ہوا کہ واقعی وہ لوگ گمراہی میں پڑ گئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا گناہ معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے ہوجائیں گے ۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر148سے 149تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہِ طور سے واپس آئے تو بہت جلال میں تھے۔ آپ علیہ السلام کے سامنے وہ لوگ شرمندہ ہوئے اور توبہ کی۔ اور آپ علیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم سے بہت بڑی بھول ہو گئی ہے۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہماری معافی کی درخواست کردیں۔ آپ علیہ السلام نے ان کی توبہ کی قبولیت کی دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ لوگوں نے شر ک نہیں کیا ان کی توبہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو قتل کے لئے پیش کر دیں۔ اور جن لوگوں نے شرک نہیں کیا تھا ان کی توبہ یہ ہے کہ وہ اپنے شرک کرنے والے بھائی کو قتل کریں۔ بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ تھی ان میں لگ بھگ ستر 70ہزار لوگوں نے شرک کیا تھا۔ انھوں نے اپنے آپ کو قتل کےلئے پیش کردیا۔ اور ان کے بھائیوں نے انھیں قتل کردیا۔ تب ان کی معافی قبول ہوئی ۔ آج ہمارے ہندوستان میں کروڑوں لوگ کافر رہ رہے ہیں اور انھیں ہم شرک کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں ہم سے نہیں پوچھیں گے؟ یقیناً پوچھیں گے۔
توریت قبول کرنے کی شرط
اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جب شر ک کرنے والوں کو قتل کردیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا۔ اسکے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے توریت کی الواح (تختےاں ) اٹھائیں اور بنی اسرائیل کو پیش کرکے فرمایا۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے بھیجی ہے۔ اسے قبول کرلو۔ بنی اسرائیل نے کہا۔اگر اس میں آسان احکامات ہوں گے تو ہم قبول کریں گے اور اگر مشکل احکامات ہوں گے تو ہم قبول نہیں کریں گے۔ تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے ایک بہت بڑے پہاڑ کو اٹھا کر ان کے اوپر معلق کردیا اور حکم دیا کہ توریت کو قبول کرو ورنہ یہ پہاڑ تم پر ڈال دیا جائے گا اور تم سب ہلاک ہوجاﺅ گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں سورة الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ۔” اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے اوپر معلق کردیااور ان کو یقین ہوگیا کہ اب ان پر گرا۔ اور فرمایا جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ قبول کرلو۔ اور جو احکامات اس میں ہیں انھیں یاد بھی رکھو۔ اس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاﺅگے“۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دےگر اسلاف فرماتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام توریت کے الواح یعنی تختیاں لے کر آئے جن پر توریت لکھی ہوئی تھی۔ تو بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اسے قبول کرلو اور عزت و ہمت سے اسے لے لو۔ بنی اسرائیل کہنے لگے۔ یہ ہمیں پڑھ کر سناﺅ۔ اگر اس کے آسان احکامات ہوں گے تو ہم قبول کریں گے۔ آپ علیہ السلام نے پھر فرماےا جس حال میں تمھاری طرف بھیجی گئی ہے اسی حال میں خوشی خوشی قبول کرلو۔ تو پھر بنی اسرائیل نے یہی کہا کہ اگر اس میں آسان اوامر و نواہی ہوں گے تو قبول کریں گے ورنہ نہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا اور انھوں نے پہاڑاٹھاکر ان کے سروں کے اوپر کر دیا۔ جسے دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ یہ بادل ہے جو ان کے اوپر چھایا ہوا ہے۔ اور انھیں بتادیا گیا کہ اگر انھوں نے ان تختیوں پر جو احکامات ہیں اگر قبول نہیں کئے تو یہ پہاڑ ان پر الٹ دیا جائے گا۔تب اس بدبخت قوم بنی اسرائیل یعنی یہودیوں نے توریت کو قبول کرلیا۔ اس کے بعد ان بد بختوں کو حکم دیا گیا کہ سجدہ کرو ۔ تو وہ سب سجدہ میں گر گئے اور کن انکھیوں سے پہاڑ کو دیکھنے لگے ۔ آج بھی یہویوں میں یہ عام عادت ہے اور جب بھی وہ سجدہ کرتے ہیں تو کن انکھیوں سے اوپر دیکھتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ اس سجدے سے بڑا کوئی سجدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے عذاب ٹل گیا۔
بنی اسرائیل کی گستاخی
اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جب بنی اسرائیل نے توریت قبول کر لی اور سجدہ کر لیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے پہاڑ اُن کے اوپر سے ہٹا لیا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل نے عرض کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے خصوصی طور سے معافی مانگنا چاہتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں 70سب سے نیک اور اچھے لوگوں کو لے کر کوہِ طور پر آﺅ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے چیدہ چیدہ ستر 70 آدمیوں کو چنا اور انہیں حکم دیا کہ چلو اللہ کے دربار میں حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور اپنی باقی ماندہ قوم کے لئے بھی استغفار کرو۔ روزہ رکھو۔ نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہنو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں لے کر کوہ طور کی طرف روانہ ہوئے ۔ تمنا یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب حاضر ہو کر گناہوں کی معافی مانگیں گے۔ آپ علیہ السلام یہ سب اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق کر رہے تھے۔ ملاقات کا وقت مقرر تھا۔ ان 70 آدمیوں کا مطالبہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سنیں گے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حامی بھر لی تھی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر پہنچے تو بادلوں کا ایک ستون دیکھا جو تھوڑی دیر میں پہاڑ کے اوپر چھا گیا۔آپ علیہ السلام آگے بڑھے اور بادل کے اس ستون میں داخل ہو گئے جو آسمان تک گیا ہوا تھا۔ اور اپنے ساتھیوں کو بھی آگے آنے کا حکم دیا۔ آپ علیہ السلام جب اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہو تے تھے تو ان کے چہرہ مبارک پر ایک نور چھا جاتا تھا۔ اور کوئی آپ علیہ السلام کے چہرہ ¿ مبارک کی طرف نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ( اگر دیکھتا تھا تو اس کی آنکھیں پھوٹ جاتی تھیں) آپ علیہ السلام کے ساتھی آگے بڑھ کر بادل میں داخل ہوئے اور سب کے سب سجدہ میں گر پڑے۔ اسی حالت میں انہوں نے سنا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے رہا ہے کہ فلاں فلاں کام کرو اور فلاں فلاں کام سے رک جاﺅ۔ جب گفتگو مکمل ہو چکی تو اور بادل چھٹ گیا تو ان 70علماءنے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )ہم اس وقت تک تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو کھلے عام دیکھ نہیں لیں گے۔ پس انہین زلزلے نے آگھیرا۔ بجلی کڑکنے لگی اور دہشت کے مارے ان کے جسم و جان کا تعلق ٹوٹ گیا۔ اور ان میں سے ایک بھی زندہ نہیں رہا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ کی پاکی اور تقدیس بیان کرنے لگے اور دعا کرنے لگے۔ اے میرے اللہ، اگر آپ چاہتے تو انہیں ہلاک کر دیتے اس ( گستاخی) سے پہلے ہی اور مجھے بھی۔ کیا آپ ہمیں اُس ( غلطی ) کی وجہ سے ہلاک کر دیں گے جو چند احمقوں نے کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور موسیٰ ( علیہ السلام )نے 70آدمی اپنی قوم میں سے ہمارے متعین کئے وقت کے لئے منتخب کئے۔ سو جب اُن کو زلزلہ نے آپکڑا تو موسیٰ (علیہ السلام )عرض کرنے لگے۔ اے میرے رب، اگر آپ کو منظور ہوتا تو اس سے پہلے ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کر دیتے ۔ کیا آپ ہم میں سے چند بے وقوفوں کی حرکت پر سب کو ہلاک کر دیں گے۔ یہ واقعہ صرف آپ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ ایسے امتحانات سے جسے آپ چاہیں گمراہی میں ڈال دیں۔ اور جس کو چاہے ہدایت پر قائم رکھے۔ اور آپ ہی ہماری خبر رکھنے والے ہیں۔ پس اے اللہ ، ہم پر رحمت فرما اور ہماری مغفرت فرما ۔ اور تو ہی سب معافی دینے والوں میں سے سب سے زیادہ اچھا ہے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر155)اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ( اے بنی اسرائیل ) تم نے موسیٰ ( علیہ السلام )سے کہا تھا کہ جب تک ہم اپنے رب کو سامنے نہیں دیکھ لیں گے تب تک ایمان نہیں لائیں گے۔ ( اس گستاخی کی سزا میں ) تم پر تمہارے دیکھتے ہوئے بجلی گر پڑی۔ لیکن پھر ہم نے تمہیں اس موت کے بعد زندہ ا سلئے کر دیا کہ تم شکر گذاری کرو۔ “ (سورہ البقرہ آیت نمبر55اور 56)
بنی اسرائیل ملک کنعان (فلسطین ) میں
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی۔ اور حکم دیا کہ اب ملک کنعان ( حالیہ فلسطین) میں تمہیں جا کر آباد ہونا ہے۔ کیوں کہ تمہارے آبا ﺅ اجداد وہیں سے آکر مصر میں آباد ہوئے تھے۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی وہیں ان کے والدین کے بازور میں دفن کرنا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر ملک کنعان کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں معبود بنانے کی فرمائش ، آپ علیہ السلام کا توریت لینے کےلئے کوہِ طور پر جانا۔ سامری کا بچھڑے کا بت بنانا، بنی اسرائیل کا بچھڑے کی پوجا کرنا اور پھر توبہ کرنا ، توریت کو قبول کرنے میں آنا کانی کرنا وغیرہ کے واقعات پیش آئے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو حکم دیا کہ ملک کنعان کی طرف روانہ ہو جاﺅ۔ اور بنی اسرائیل کو لے کر ملک کنعان میں داخل ہو ئے۔ اور حبرون یعنی الخلیل میں ( فلسطین میں آج بھی یہ شہر الخلیل کے نام سے آباد ہے۔ اسے حبرون بھی کہا جاتا ہے ) حضرت ابراہیم علیہ السلام ، سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا ، حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے ساتھ میں حضرت یوسف علیہ السلام کو دفن کر دیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس وقت کے ” اریحا“ اور حالیہ ” بیت المقدس “ ( اسے یہودی یروشلم بھی کہتے ہیں) کی طرف روانہ ہوئے اور اس سے کچھ دور پر پڑاﺅ ڈال دیا۔ اور فرمایا کہ اس علاقے میں جو لوگ آباد ہیں ہمیں ان سے جنگ کرکے انہیں اس سر زمین سے نکالنا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے گا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی گنتی کروائی۔ ان میں چھ لاکھ سے زیادہ جنگ لڑنے والے لوگ تھے۔ اور بوڑھے ، بچے اور عورتیں ان کے علاوہ تھے۔
بنی اسرائیل کے بارہ نقیب
حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں۔ ان بارہ بیٹوں کی نسل بارہ قبیلہ بنی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان بارہ قبیلوں کی گنتی کروائی۔ ( جسے آج کل مردم شماری کہا جاتا ہے) اس کے بعد ان بارہ قبیلوں کے بارہ نقیب مقرر فرمائے۔ ان بارہ نقیبوں کو حکم دیا کہ وہ خاموشی سے اریحا یعنی بیت المقدس میں داخل ہو ں اور وہاں کے تمام حالات کا جائزہ لےکر آئیں اور اس بارے میں رپورٹ پیش کریں۔ اس رپورٹ کے مطابق جنگ کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا ۔ ترجمہ ” اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان لیا اور ان ہی میں سے بارہ سردار مقرر فرمائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمادیا۔ یقینا میں تمہارے ساتھ ہوں۔“ ( سورہ المائدہ آیت نمبر12) عہد و پیمان حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان بارہ نقیبوں یا سرداروں یا جاسوسوں سے یہ لیا تھا کہ اریحا یعنی بیت المقدس کے جو بھی حالات ہوں ہو خاموشی سے مجھے آکر بتا دینا اور بنی اسرائیل کی عوام کو نہیں بتانا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ کہ امام ابو جعفر محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی قوم بنی اسرائیل کے بارہ سرداروں کو منتخب کر کے جبابرہ کی سر زمین شام ( یاد رہے اس وقت فلسطین ملک شام میں آتا تھا۔ یعنی 300ہجری میں ) میں بھیجیں ۔ تا کہ وہ اس قوم کے احوال کی تفتیش کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اطلاع دیں۔ اور اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو اس قوم اور ملک کا وارث بنائے اور اس سرزمین میں آباد کرے۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کی قوم سے نجات دلائی تھی۔ تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بارہ نقیبوں کو چنا اور انہیں جبابرہ کی طرف بھیجا۔
دس نقیبوں نے عہد و پیمان توڑ دیا
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارہ نقیبوں کو جبا برہ کی جاسوسی کےلئے بھیجا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ یہ بارہ نقیب جبا برہ کی جاسوسی کرنے کے لئے روانہ ہو گئے۔ ان کو راستے میں جبا برہ کا ایک شخص ملا۔ اس کا نام عاج ( عوج بن عنق ) تھا۔ وہ اس قدر لمبا اور جسیم تھا کہ اس نے بارہ نقیبوں کو پکڑ کر اپنے لیفہ میں اڑس لیا ۔ اس کے سر پر لکڑیوں کا گٹھا تھا۔ وہ ان کو لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور بولا۔ دیکھو یہ لوگ اپنے زعم میں ہم سے لڑنے آئے تھے۔ پھر اس نے ان سب کو نیند سے نکال کر پھینک دیا۔ اور اپنی بیوی سے بولا۔ کیا خیال ہے میں ان سب کو اپنے قدموں سے روند ڈالوں؟ تو اس کی بیوی نے کہا۔ نہیں بلکہ ان کو چھوڑ دو تا کہ یہ اپنی قوم میں جا کر ہماری قوت اور طاقت کا حال بتائیں۔ جب یہ لوگ وہاں سے واپس ہوئے تو انہوں نے آپس میں کہا۔ اگر ہم نے بنی اسرائیل کی عوام کو اس قوم کا حال بتا دیا تو وہ سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھوڑ جائیں گے اور مرتد ہو جائیں گے۔ اس لئے تم صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو اس خبر سے مطلع کر نا۔ پھر انہوںنے ایک دوسرے سے اس بات پر عہد و پیمان لے لیا۔ لیکن ان میں سے صر ف دو نقیب اس عہد پیمان پر قائم رہے۔ اور وہ یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا تھے۔ اور باقی دس نقیبوں نے اس عہد کو توڑ کر بنی اسرائیل کی عوام کو سماج کا واقعہ بیان کر دیا۔ اس روایت میں جس طرح قوم جبابرہ کو بتایا گیا ہے اس پر یقین کرنا ذرا مشکل لگتا ہے۔ ہاں اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ جبا برہ بہت طاقتور قوم تھی۔ اور ان بارہ نقیبوں میں سے صرف یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا نے عوام کو کچھ نہیں بتایا اور صرف آپ علیہ السلام کو بتایا۔ لیکن باقی دس نقیبوں میں سے صرف یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا نے عوام کو کچھ نہیں بتایااور صرف آپ علیہ السلام کو بتایا ۔ لیکن باقی دس نقیبوں نے اس واقعہ میں مرچ مسالہ لگا کر اور اتنا بڑھا چڑھا کر اس واقعہ کو پیش کیا اور قوم جبابرہ کو اتنی زیادہ طاقتور بنا کر بنی اسرائیل کی عوام کے سامنے پیش کیا کہ اس کی وجہ سے ان میں بزدلی آگئی۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں