13 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام
سلسلہ نمبر12
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 13
سامری نے بچھڑے کا بت بنایا
حضرت موسیٰ علیہ السلام دریا پار کرنے کے بعد جب بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں جزیرہ نمائے سینا میں زیورات بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے سفر کرنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ یہ زیورات بنی اسرائیل نے چلتے وقت قبطیوں سے ادھار لئے تھے۔ کوہِ طور کے قریب پہنچنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یا حضرت ہارون علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ سونے چاندی کے تمام زیورات ایک گڑھا کھود کر دفن کر دو۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ یہیں رکو اور کوہ طور پر چلے گئے۔ سامری نے اس گھڑھے کو کھوداکر تمام زیورات نکال لئے اور انہیں پگھلا کر بچھڑے کا بت بنایا اور اس بت کو ایک چھوٹی سے پہاڑی پر رکھ دیا۔ وہ بت اندر سے کھوکھلا تھا اس لئے جب ہوا اس کے اندر سے گھس کر نکلتی تھی تو ایسی آواز آتی تھی جیسے گائے یا بیل چلا رہا ہو۔ جب اس میں سے آواز نکلنے لگی تو بنی اسرائیل چونک پڑے اور دوڑتے ہوئے پہاڑی کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ اس بت سے آواز نکل رہی ہے۔ وہ حیران ہو گئے۔ سامری نے ان سے کہا۔ یہ تمہار ا معبود ہے۔ بنی اسرائیل میں سے بہت سے لوگ اس بت کی پوجا کرنے لگے۔ حضرت ہارون علیہ السلام اور بقیہ بنی اسرائیل نے بہت سمجھایا۔ لیکن وہ نہیں مانیں اور بچھڑے کی پوجا کرتے رہے۔
سامری کی پرورش
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو بنی اسرائیل نے ہجرت کی اور دریا پار کیا تھا۔ ان میں ایک منافق بھی تھا۔ جس کا لقب سامری تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ جب فرعون اور اس کا لشکر دریا پر پہنچے تو فرعون سیاہ گھوڑے پر سوار تھا۔ اس کا گھوڑا دریا میں داخل ہونے سے ڈر گیا۔ پس جبرئیل امین علیہ السلام اپنی گھوڑی لے کر اس کے گھوڑے سے آگے نکلے تو گھوڑا بھی اس کے پیچھے دریا میں داخل ہو گیا۔ سامری نے جبرئیل علیہ السلام کو پہچان لیا کیوں کہ جب اس کی ماں کو اس کے ذبح ہونے کا اندیشہ ہوا تو اس نے اسے ایک غار میں چھپا دیا تھا اور بھول گئی تھی۔ جبرئیل علیہ السلام اس کے پاس آتے تھے اور اسے ایک انگلی سے دودھ ، دوسری انگلی سے شہد اور تیسری انگلی سے شہد کی غذا دیتے تھے۔ اس طرح وہ پرورش پاتا رہا حتیٰ کہ وہ بڑا ہو گیا۔ جب سامری نے جبرئیل علیہ السلام کو دریا میں دیکھا تو پہچان لیا۔ فرعون اور اس کے لشکر کے غرق ہو جانے کے بعد جب جبرئیل علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اجازت لے کر جانے لگے تو سامری کچھ دور ان کے پیچھے گیا اور ان کے گھوڑی کے پیر جہاں پڑے تھے وہاں کی مٹی اٹھا کر رکھ لی۔ اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اس مٹی کو جس چیز پر ڈالے گا اور پھر اسے کن یعنی ہو جا کہے گا تو وہ ہو جائے گی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر چلے گئے تو بنی اسرائیل نے جو زیورات پھینک دیئے تھے۔ سامری ان زیورات کے پاس گیا اور مٹی اُن زیورات پر ڈال کر کہا کہ تو ایسا بچھڑے کا ڈھانچہ بن جا جو گائے کیطرح ڈکارتا بھیہو۔ پس وہ اسی طرح بن گیا۔ ہوا اس کے پچھلے حصے میں داخل ہو کر منہ سے نکلتی تو اس کے منہ سے آواز نکلتی تھی۔ اس نے بنی اسرائیل سے کہا۔ یہ تمہاا خد اہے اور موسیٰ علیہ السلام کا بھی خدا ہے۔ پس وہ جم کر بیٹھ گئے اور اس کی عبادت شروع کر دی۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم، تم اس کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کئے گئے ہو۔ تمہار ا رب تو بے حد مہربان ہے۔ تم میری بات مانو اور میرے حکم کی پیروی کر و۔ انہوں نے کہا۔ ہم تو اسی پر جمے رہیں گے۔ حتیٰ کہ موسیٰ (علیہ السلام )ہماری طرف لوٹ کر آجائیں۔
سامری کون تھا؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر جانے کے بعد سامری نے بنی اسرائیل کو فتنہ میں مبتلا کر دیا۔ یہ سامری کون تھا؟ اس کے بارے میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں ۔ سامری لفظ کے بارے میں تین قول ہیں۔ (1) بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے ایک قبیلے کا نام سامری یا سامریہ ہے۔ (2) سامری ایک الگ قوم ہے جو ایک قبطی قوم سامرہ کی اصل اولاد سے منسوب ہے۔ (3) سامر عراق کے قریب فلسطینی حدود میں ایک علاقے کا نام تھا۔ موجودہ اسرائیلی حکومت کا دارالخلافہ ” تل ابیب“ اسی علاقے میں ہے۔ ان نسبتوں سے اس قبطی منافق کو سامری کہا گیا ۔ یہ اس کا ذاتی نام ۔نہیںہے بلکہ قومی یا وطنی نام ہے۔ قبطیوں یا اسرائیلیوں میں سے صرف یہی ایک منافقانہ مسلمان بنا تھا۔ سامری جادوگر ایک خاندانی زرگر ( سُنار ) تھا۔ اس نے زر گری مکارانہ تدبری ، تقریر اور صنعت کاری سے قوم کو گمراہ کر دیا۔ سامری لقب کا پورے بنی اسرائیل میں یہی ایک شخص تھا۔ یہ قبطی نسل کا تھا۔ اس کا باپ ظفر نام کا یک قبطی تھا۔ جس نے خفیہ طور پر اسلام قبول کر لیا تھا۔ اور ایک اسرائیلی ( یہودی) عورت سے شادی کر لی تھی۔ جس سے سامری پیدا ہوا ۔ یہ باپ کی طرف سے قبطی اور ماں کی طرف سے اسرائیلی تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتےہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ یہ قتل والے سال پیدا ہوا تھاتو اس کی ماں نے اسے جنگل میں لے کر چھپا دیا اور بھول گئی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل نے اس کی پرورش کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تین انگلیوں کے ذریعے اسے غذا پہنچائی۔ کچھ عرصے بعد جب یہ تھوڑا بڑا ہو ا تو اس کی ماں اسے گھر لے آئی۔ اس کا آبائی مکان حضرت موسیٰ علیہ السلام کے گھر کے پڑوس میں تھا۔ اس کی ماں نے بھی اس کا نام موسیٰ رکھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کیوجہ سے اس کا نام موسیٰ بن ظفر ہوا۔ اس کا باپ بچپن میں مر گیا تھا۔ یہ سامری جب جوان ہوا تو فرعون کے دربار تک رسائی حاصل کی اور فرعون نے جادوگروں کے ساتھ اسے بھی جادوگری کےلئے منتخب کر لیا۔ اس کا خاندانی پیشہ زر گری( زیورات بنانا) تھا۔ یہ زر گر سے جادو گر بن گیا۔ جب تمام جادو گر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہار گئے اور اسلام قبول کر لیا تو تین جادوگر فرعون کے ڈر سے بھاگ گئے تھے۔ ان میں سے ایک سامری تھا۔ آپ علیہ السلام نے جب رات میں خفیہ طور سے نکلنے کا اعلان فرمایا تو یہ اپنی ماں کے ساتھ بنی اسرائیل میں شامل ہو کر دریا پار کر گیا۔ اس کے باپ کے خاندان والے گائے کی پوجا کر تے تھے۔ اور یہ ان سے بہت متاثر تھا۔ جب کہ ماں اسے اسلام کی دعوت دیتی تھی۔ اس کے بارے میں مفسرین کے چند اقوال ہیں۔ (1) یہ اسرائیلی قبیلہ سامرہ میں سے تھا۔ (2) یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سگی خالہ یا پھوپھی کا بیٹا تھا۔ (3) یہ آپ علیہ السلام کے چچا کا بیٹا تھا۔ (4) یہ کرمانی زرگر کا بیٹا تھا جو کرمان سے آکر بنی اسرائیل میں شامل ہو گیا تھا مگر یہ منافق رہا۔ (5) یہ علاقہ موصل کے باجرما قبیلے سے تھا اور اس کا اصل نام موسیٰ بن ظفر تھا۔ اور سامری لقب تھا۔
بچھڑے کی پوجا
حضرت موسیٰ علیہ السلام ابھی کوہ طور سے واپس نہیں آئے تھے کہ سامری نے بچھڑے کا بت بنا کر پیش کر دیا۔ اور اس کی وجہ سے اچھے خاصے اسرائیلی شرک میں مبتلا ہو گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو فرمایا تھا کہ چالیس دنوں کے لئے جا رہا ہوں اور تمہارے لئے کتابِ شریعت لے کر آﺅں گا۔ مفتی احمد یا رخان نعیمی لکھتے ہیں۔ اسرائیلیوں نے ان ( چالیس) دنوںکی گنتی کو ( سامری کے بہکانےکی وجہ سے ) دن اور رات کو الگ الگ گِنا ۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو گئے بیس دن ہو گئے تو سامری نے بنی اسرائیل سے کہنا شروع کر دیا کہ تیس دن کا وعدہ تھا مگر اب چالیس دن ہو گئے۔ اب موسیٰ ( علیہ السلام )نہیں آئیں گے ۔ شاید ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ یا پھر وہ ناراض ہو گئے ہیں۔ پھر اس نے بچھڑے کا بت بنا دیا جو چھ مہینے کے بچھڑے کے قد کاٹھ کے برابر تھا۔ بنی اسرائیل نے بھی سامری کے اُکسانے پر بیس دنوں کو چالیس دن گِنا۔ اور یہ عادت آج بھی یہودیوں اور عیسائیوں کے قانون میں شامل ہے۔ وہ کسی بھی مدت کو گزارنے میں رات کو الگ ایک دن اور دن کو الگ ایک دن شمار کرتے ہیں۔ مگر تاریخ دن رات کی ملا کر ایک رکھتے ہیں۔مثلا تیس دن اور رات کی تاریخ ایک مہینہ پکڑتے ہیں۔ مگر مدت کے طور پر اسے دو مہینہ پکڑتے ہیں۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ یہ سامری سنار تھا جو اہل باجرمی تھا۔ بعض نے فرمایا۔ یہ اہل کرمان تھا۔ اصل میں یہ منافق تھا مگر اسلام کا اظہار کرتا تھا۔ یہ اس قوم کا فرد تھا جو گائے کی پوجا کرتی تھی۔ اس نے زیورات سے تین دن میں بچھڑا بنا دیا اور بولا یہ ہے موسیٰ علیہ السلام کا خدا اور وہ تو بھول گئے ہیں۔ پس بہت سے بنی اسرائیل بچھڑے کو دیکھنے کے بعد اس کی پوجا کرنے لگے اور فتنے میں مبتلا ہو گئے۔ بعض علمائے فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے تیس دن کا وعدہ کیا تھا۔ پھر جب تیس دن سے زیادہ ہو گئے تو فتنہ میں مبتلا ہو کر بچھڑے کی پوجا کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اورہم نے موسیٰ علیہ السلام سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا۔ پھر تم نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا اور ظالم بن گئے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر51)
حضرت ہارون علیہ السلام کے سمجھانے پر اکثریت نے شرک نہیں کیا۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( بنی اسرائیل نے ) جواب دیا کہ ہم نے اپنے اختیار سے آپ (علیہ السلام )کے ساتھ وعدے کا خلاف نہیں کیا بلکہ ہم پر جوزیورات کے بوجھ لادے ہوئے تھے انہیں ہم نے ( ایک گڑھے میں ) ڈال دیئے۔ اور اسی طرح سامری نے بھی کیا۔ پھر اس نے ( سامری نے ) لوگوں کے لئے بچھڑا بنا کر کھڑ اکر دیا۔ یعنی گائے کے بچھڑے کا بت، جس کی آواز گائے کی طرح تھی ۔پھر کہنے لگا کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ ( علیہ السلام )کا بھی۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام ) بھول گیا ہے۔ کیا یہ گمراہ لوگ یہ بھی نہیں دیکھ رہے تھے کہ وہ ( بچھڑے کا بت) تو ان کی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا۔ اور نہ ہی ان کے کسی برے بھلے کا اختیار رکھ سکتا ہے۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر87سے89تک) ۔ جب سامری کے بہکانے پر بنی اسرائیل بچھڑے کی پوجا کرنے لگے تو حضرت ہارون علیہ السلام انہیں سمجھانے لگے اور پوجا سے روکنے لگے۔ آپ علیہ السلام کی بات مان کر بنی اسرائیل کی اکثریت تو شرک کرنے سے رک گئی لیکن پھر بھی اچھے خاصے لوگ شر ک میں مبتلا ہو گئے۔ اس وقت بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ تھی۔ ان میں سے ایک روایت کے مطابق 70ہزار بچھڑے کی پوجا میں مبتلا ہو گئے تھے۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ دیکھو یہ شرک ہے۔ اور شرک کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کرتا۔ اور تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ اس بچھڑے کی پوجا چھوڑ دو۔ اور صرف ایک اکیلے اللہ کی عبادت کرو۔ اور میری بات مان لو یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہارون علیہ السلام نے اس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا ۔ اے میری قوم کے لوگو، اس بچھڑے کے ذریعے تمہیں آزمایا جارہا ہے۔ اور تمہارا حقیقی رب (یعنی معبود ) توصرف اللہ رحمن ہی ہے ۔ پس تم سب میری تابعداری کرو۔ اور میری بات مانو۔ انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ علیہ السلام کی واپسی تک تو ہم اسی کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر90اور 91)
توریت کا نزول
حضرت ہارون علیہ السلام کے سمجھانے کے باوجود ادھر کوہِ طور کے نیچے بنی اسرائیل کے لوگ بچھڑے کی پوجا کر رہے تھے اور اُدھر کوہِ طور کے اوپر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت کا نزول ہو رہا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے چاندی کی بارہ تختیاں عطا فرمائیں ۔ ان پر توریت لکھی ہوئی تھی۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی لکھتے ہیں۔ پھر گیارہ ذی الحجہ کو توریت کی تختیاں ملیںجو دونوں طرف لکھی ہوئی تھیں۔ یہ چاندی سے بنی ہوئی تختیاں تھیں۔ ان میں ایک ہزار سورہ تھیں۔ اور ہر سورہ میں ایک ہزار آیات تھیں۔ تقسیم اس طرح تھی کہ 8تختیوں میں 83، تیراسی 83تیراسی سورہ لکھی ہوئی تھیں۔ اور چار میں چوراسی 84چوراسی 84سورہ لکھی ہوئی تھیں۔ ان میں سے پہلی آٹھ میں شریعت کے احکام تھے۔ (1) عبادت کی تعداد اور طریقے 2) انتظامی ملکی قانون( نظام عدل) (3) دعائیں (4) سابقہ تاریخی واقعات و قصے (5) فضائل (6) رحمت برکت (7) پیشن گوئیاں (8) قیامت کا ذکر، ثواب و عذاب کا بیان تھا۔ اور باقی چار تختیوں میں طریقت کے مسائل تھے۔ (9) وظائف (10) مراقبہ خلوت (11) قرب الٰہی (12)معرفت ۔ یعنی شریعت کی آٹھ اور طریقت کی چار یہ بارہ تختیاں توریت کا مجموعہ تھیں۔ کوہ طور کے اوپر جب چالیس راتیں گزر گئیں اور توریت کا نزول مکمل ہو گیا تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ تمہاری یہاں حاضری کے دوران تمہاری قوم کے لوگ شرک میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اور سامری نے انہیں بہکایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے موسیٰ (علیہ السلام )تجھے اپنی قوم سے کون سی چیز جلدی لے آئی؟ ( آپ علیہ السلام نے ) عرض کیا۔ وہ لوگ بھی میرے پیچھے پیچھے ہیں اور میں نے اے رب آپ کی طرف جلدی اس لئے کی کہ آپ خوش ہو جائیں ۔ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ ہم نے تیری قوم کو تیرے پیچھے آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اور انہیں سامری نے بہکادیا ہے۔ “( سورہ طٰہٰ آیت نمبر83سے 85)
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جلال
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب بنی اسرائیل کی حرکت کا علم ہوا تو آپ علیہ السلام بہت جلال میں آگئے اور اسی کیفیت میں توریت کی تختیاں اٹھائیں اور کوہ طور پر سے اتر کر بنی اسرائیل کے پاس آئے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس موسیٰ (علیہ السلام )سخت جلال میں آکر رنج کے ساتھ واپس لوٹے اور فرمایا۔ اے میری قوم والو، کیا تم سے تمہارے رب نے نیک وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا اس کی مدت ( یعنی چالیس دن ) تمہیں لمبی معلوم ہوئی ؟ یا پھر تمہارا ارادہ ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو؟ کہ تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔ انہوں نے ( بنی اسرائیل ) جواب دیا۔ ہم نے اپنے اختیارسے آپ (علیہ السلام )کے ساتھ ( کئے ) وعدے کے خلاف نہیں کیا ہے۔بلکہ ہم پر جو زیورات کے بوجھ لدے ہوئے تھے انہیں ہم نے ( ایک گڑھے میں ) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے بھی ( مٹی ) ڈال دی۔ پھر اس نے لوگوں کے لئے بچھڑا بنا کر کھڑ اکیا یعنی بچھڑے کا بت ، جس کی گائے کی جیسی آواز بھی تھی۔ پھر اس نے کہا کہ یہی تمہارامعبود ہے اور موسیٰ (علیہ السلام )کا بھی۔ لیکن موسیٰ(علیہ السلام )بھول گیا ہے ۔ کیا یہ گمراہ یہ بھی نہیں دیکھ رہے تھے کہ وہ ( بچھڑے کا بت) ان کی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ ہی ان کے کسی بھلے برے کا اختیار رکھتا ہے۔ اور ہارون ( علیہ السلام )نے اس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا۔ اے میری قوم والو، اس بچھڑے سے تمہاری آزمائش کی گئی ہے۔ تمہارا حقیقی رب تو اللہ رحمن ہی ہے۔ پس تم سب میری تابعداری کرو اور میری بات مانو۔ انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ(علیہ السلام )کی واپسی تک تو ہم اسی کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ اے ہارون (علیہ السلام ) انہیں گمراہ ہوتا ہوا دیکھتے ہوئے تجھے کس چیز نے روکا تھا؟ کہ تو میرے پیچھے نہ آیا ۔ کیا تو بھی میرے فرمان کا نا فرمان بن بیٹھا۔ ہارون ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اے میرے ماں جائے بھائی، میری داڑھی نہ پکڑ۔ اور سر کے بال نہ کھینچ، مجھے تو صرف یہی خیال دامن گیر تھا کہ کہیں تم یہ ( نہ ) کہو کہ میں نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میر ی بات کا انتظار نہیں کیا۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر86سے 94تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آتے ہی بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے شرک کیا تھا انہیں ڈانٹا۔ آپ علیہ السلام بہت جلال میں تھے۔ ان کے جلال کو دیکھ کر جن لوگوں نے شرک کیا تھا وہ اپنی صفائی پیش کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام اس کے بعد حضرت ہارون علیہ السلام اور ان بنی اسرائیل کی طرف متوجہ ہوئے جنہوں نے شرک نہیں کیا تھا۔ اور فرمایا کہ تم لوگوں نے انہیں کیوں نہیں روکا تو حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے صرف اس لئے زیادہ سختی نہیں کی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بنی اسرائیل فرقوں میں بٹ جائیں۔
سامری کی سزا
اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے پوچھا۔ اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے وہ چیز دکھائی دی جو انہیں نہیں دکھائی دہ۔ تو میں نے اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرستادہ ( جبرئیل علیہ السلام ) کے نقس قدم سے ایک مٹھی بھرلی تھی۔ اور اسے اس میں ( بچھڑے کے بت میں) ڈال دیا۔ اسی طرح میرے دل نے یہ بات میرے لئے بتا دی ( آپ علیہ السلام )نے فرمایا۔ اچھا جا، دنیا کی زندگی میں تیری یہ سزا ہے کہ تو کہتا رہے کہ مجھے نہ چھونا۔ اور ایک اور بھی وعدہ (یعنی آخرت کی سزا کا ) تیرے ساتھ ہے۔ جو تجھ سے ہرگز نہیں ٹلے گا۔ اور اب تو اپنے اس معبود ( بچھڑے کے بت) کو بھی دیکھ لینا جس کا تو اعتکاف کئے ہوئے تھا۔ ہم اسے جلا کر ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہاد یں گے۔“ (سورہ طٰہٰ آیت نمبر 95سے 97تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے سامری ڈھیٹ بن گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اب تو جا، اگر تجھے کوئی چھوئے گا تو تجھے شدید بخار اور کپکپی آئے گی اور تو لوگوں کو چلا چلا کر کہے گا مجھے مت چھونا۔ یہ تو تیری دنیا میں سزا ہے اور آخرت میں جو سز ملے گی وہ اور بھی شدید ہوگی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام جلال میں حضرت ہارون علیہ السلام اور بنی اسرائیل سے مخاطب تھے اس وقت سامری کی کیا حالت تھی؟ اس کے بارے میں تین قول ہیں۔ پہلا یہ کہ سامری اس وقت وہیں ڈرا ہوا سہما ہو ا لرزتے ہوئے یہ سب جھڑک و جلال اور معذرت و بیان کا منظر دیکھ رہا تھا۔ آپ علیہ السلام پھر وہیں اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ سامری اپنے خیمے میں ڈرا سہما بیٹھا تھا۔ تیسرا قول ہے کہ بچھڑے کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ بچھڑے سے التجائیں کر تا ہو کہ مجھے جلا ل موسیٰ سے بچا لے۔ آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ۔ اب تو بول اے سامری اس کفریہ شرکیہ فعل بد سے تیری کیا ارادہ تھا؟ اور قوم کے لوگوں کو گمراہ کرکے تجھے کیا ملا؟ تو سامری نے بتایا کہ جس کو آپ علیہ السلام، جبرئیل علیہ السلام کہتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ اس کی گھوڑی جہاں قدم رکھتی تھی تو وہاں پتھریلی اور ریتیلی زمین پر ہری ہری گھاس اُگ آتی تھی۔ میں نے اس حیرت زدہ بات دیکھ کر ان نشاناتِ قدم سے ایک مٹھی مٹی اٹھا لی اور جب بنی اسرائیل نے ایک مندر سے گزرتے ہوئے آپ علیہ السلام سے التجا کی تھی اور آپ علیہ السلام نے جھڑک دیا تھا۔ تب ہی میں نے سوچ لیا تھا ان کے لئے ایک اچھا بت بناﺅں گا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے سامری اب تیری سزا یہ ہے کہ تو ساری زندگی لوگوں سے کہتا پھرے گا کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگانا۔ مجھے ہاتھ نہ لگانا۔ اور اگر کوئی تجھ کو ہاتھ لگادے گا تو تجھ کو اور اس کو فوراً اذیت ناک درد اور بیہوشی کا سردی والا سخت بخار آجا یا کرے گا۔ جو تین دنوں تک رہے گا۔ مگر مہینہ بھر کے لئے دونوں کمزور ہو جاﺅ گے کہ اس کا کوئی علاج نہیں ہو گا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں