پیر، 15 مئی، 2023

12 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon



12 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 12

فرعون اور اس کے لشکر کی ہلاکت

حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام بنی اسرائیل کے ساتھ بحر قلزم پار کر چکے تھے۔ اب حالت یہ تھی کہ دریا کے اس پار آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ کھڑے تھے اور اس پار فرعو ن اپنے لشکر کے ساتھ کھڑا تھا۔ اور درمیان میں دریا کا پانی پہاڑوں کی شکل میںکھڑا تھا اور دریا میں بارہ راستے بنے ہوئے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریا پر اپنا عصا مارنا چاہا تا کہ پانی برابر ہو جائے اور فرعون اور ا سکا لشکر دریا پار نہ کر سکے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )، ابھی رک جاﺅ اور انتظار کرو۔ فرعون نے جب دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل دریا پار کر چکے ہیں اور وہ بچ کر نکل جائیں گے تو اس نے فوراً اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دریا میں بنے بارہ راستوں میں اتر جائیں اور بنی اسرائیل کو پکڑ لیں۔ یہ حکم دے کر وہ خود بھی دریا میں اتر گیا اور دھیرے دھیرے فرعون کا پورا لشکر دریا میں اتر گیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ اے موسیٰ( علیہ السلام )، اپنا عصا اب دریا پر مارو۔ حکم سنتے ہی آپ علیہ السلام نے اپنا عصا دریا پر مارا۔ فوراً پانی کے بڑے بڑے پہاڑ ایک دوسرے سے مل گئے اور بہت ہی زبر دست موجیں پید اہو گئیں۔ جس میں فرعون کا پورا لشکر غرق ہو گیا۔ اور ایک بھی نہیں بچ سکا ۔ اس روز فرعون گھوڑے پر سوار تھا۔ جبرئیل علیہ السلام تینتیس 33فرشتوں کے ساتھ اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر آئے اور سب فرعون کے لشکر میں پھیل گئے۔ جبرئیل علیہ السلام لشکر کے اگلے حصے میں تھے اور میکائیل علیہ السلام فرعون کے لشکر کے پچھلے حصے میں تھے۔ جب فرعون نے سمندر میں بارہ راستے دیکھے تو اس نے کہا۔ اے لوگو، تم نے دیکھا کہ سمندر میں راستے بن گئے اور مجھ سے ڈر گیا ہے۔ یہ میرے لئے کھولا گیا ہے تا کہ میں اپنے دشمنوں کو پکڑ لوں اور انہیں قتل کر دوں ۔ جب فرعون کے لشکر راستوں کے منہ پر جا پہنچے تو ان کی ہمت نہیں کی۔ یہاں تک کہ جبرئیل علیہ السلام اپنی گھوڑی کو لے کر دریا میں بنے راستے میں داخل ہو گئے تو ان کی دیکھا دیکھی فرعون اور اس کا لشکر بھی دریا میں بنے راستوں میں اترنے لگا۔ جبرئیل علیہ السلام آگے آگے تھے اور فرعون ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ اس کے لشکر میں موجود فرشتے ، آگے بڑھو، آگے بڑھوکی آواز لگا تے جا رہے تھے۔ اور سب سے پیچھے میکائل علیہ السلام مسلسل آواز لگا کر فرعون کے لشکر کو دریا میں بنے راستوں میں اترنے کے لئے اکسا رہے تھے۔ اور آواز لگا رہے تھے۔ جب فرعون کے لشکر کا آخری آدمی بھی دریا میں بنے راستوں میں اتر گیا تو اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا اور وہ آپس میں مل گیا اور فرعون اور اس کا لشکر ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ 

فرعون کا ایمان قابل قبول نہیں ہے

اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کر دیا۔ پھر ان کے پیچھے پیچھے فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے چلا یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لاتا ہوں اس پر کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔ ( جواب دیا گیا) اب ایمان لاتا ہے؟ اور پہلے سر کشی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل ہو رہا تھا۔ سوآج ہم صرف تیری لاش کو نجات دیں گے تا کہ تو ان کے لئے عبرت کا نشان ہو۔ جو تیرے بعد ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آدمی ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔ “( سورہ یونس آیت نمبر90سے92) جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں یعنی بنی اسرائیل میں سے آخری آدمی دریا پار کر نکل گیا اور فرعون کے ساتھیوں میں سے آخری آدمی بھی دریا میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہاڑوں کی طرح کھڑا پانی آپس میں منل گیا۔ اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تمام بنی اسرائیل دریا کے اس پار کھڑے فرعون اور اس کے لشکر کو غرق ہوتے دیکھ رہے تھے۔ فرعون جب ڈوبنے لگا تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے لگا۔ ایسے وقت میں جبرئیل علیہ السلام اس کے قریب ہی تھے ۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ فرعون یہ کہہ رہا ہے تو آپ علیہ السلام نے کیچڑ اٹھا کر اس کے منہ میں بھرنی شروع کر دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جبرئیل علیہ السلام نے مجھ سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس وقت دیکھتے جب میں اس ڈر سے دریا کے اندر سے کیچڑ نکال نکال کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا کہیں اسے اللہ کی رحمت نہ پالے۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ کبھی بھی کسی پر اتنا غضب ناک ( انسانوں کے لفظ غصہ استعمال ہوتا ہے ) نہیں ہوا۔ جتنا کہ وہ فرعون پر اس وقت غضبناک ہو جب جاس نے کہا تھا کہ ”میں تونہیں جانتا کہ تمہار امیرے علاوہ کوئی اور خدا ہے۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر38) اور جب اس نے خدائی دعویٰ کیا اور کہا۔ ”میں تمہارا سب سے بڑا رب ( خدا ) ہوں۔“ ( سورہ النازعات آیت نمبر24) اسی لئے جب وہ غرق ہونے لگا تو مدد مانگنے لگا۔ اورمیں نے اس کے منہ میں جلدی جلدی کیچڑ ڈالنی شروع کر دی۔ اس ڈر سے کہ کہیں اس پر اللہ کی رحمت نہ آجائے۔

فرعون کی لاش قیامت تک کے لوگوں کے لئے عبرت کی نشانی

اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) آج ہم صرف تیری لاش کو نجات دیں گے تا کہ تو اُن لوگوں کے لئے عبرت کا نشان ہو۔ جو تیرے بعد ( آنے والے ) ہیں۔“ ( سورہ یونس آیت نمبر92) اللہ تعالیٰ نے فرعون کو دھتکار دیا۔ اور مرتے وقت کی توبہ کو قبول نہیں فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام دریا کے کنارے تمام بنی اسرائیل کے ساتھ کھڑے فرعون اور اس کے لکشر کو غرق ہوتے دیکھ رہے تھے۔ لیکن بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں نے آپ علیہ السلام سے فرمایا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ فرعون غرق ہو گیا ہے۔ یہ بنی اسرائیل کی بد بختی تھی کہ وہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات کا یقین نہیں کر رہے تھے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ بنی اسرائیل کو فرعون کی لاش دکھلا دے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور کئی دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے لوگوں کو شک گذراکہ شاید فرعون ابھی بھی زندہ ہے۔ حتی کہ بعض لوگ تو یہاں تک کہنے لگے کہ فرعون مرے گا ہی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو اس نے فرعون کی لاش بلندی پر اچھا دی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرعون کی لاش پانی کی سطح کے اوپر آگئی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ لہروں نے اسے خشکی کے ایک ٹیلے پر پھینک دیا۔ فرعون کے جسم پر ابھی تک زرہ تھی۔ جس سے بنی اسرائیل نے پہچان لیا۔ یہ اس لئے ہوا تا کہ بنی اسرائیل کو فرعون کی ہلاکت کا یقین آجائے۔ اور وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اس کے خلاف صادر ہو چکا ہے ۔ اسی لئے فرمایا۔ ” آج ہم تیرے جسم کو بچا لیں گے تا کہ تیر جس ان لوگوں کے لئے عبرت کی نشانی بن جائے جو تیرے بعد ( آنے والے ) ہیں۔“ فرعون کی لاش آج بھی ترکی کے ایک میوزیم میں رکھی ہوئی اور قیامت کے لئے آنے والے انسانوں کے لئے عبرت کی نشانی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ فرعون کی لاش ساڑھے تین ہزار 3500سال سے زیادہ کا عرصہ ہو جانے کے باجود بھی سڑی یا خراب نہیں ہوئی ہے۔ اور ویسی ہی ہے ۔ حالانکہ انسان جب کسی کی لاش کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے تو اس کے پیٹ کے اندر کی تمام آلائش کو نکال کر اسے مسالہ لگا کر حنوط کر کے ممی بنا کر رکھتے تھے۔ اور اسے ہوا سے بھی محفوظ رکھتے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود اس لاش کی حالت بد ل جاتی تھی۔ اور ہوا لکتے ہی وہ اور زیادہ خراب ہونے لگتی تھی۔ لیکن فرعون کی لاش کو نہ تو مسالہ لگایا گیا ہے اور نہ ہی حنوط کیا گیا اور نہ ہی ممی بنایا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ خراب نہیں ہو رہی ہے۔ اور لوگ اس کو دیکھ کر عبرت حاصل کر رہے ہیں اور قیامت تک آنے والے لوگ اسے دیکھ کر عبرت حاصل کرتے رہےں گے۔

بنی اسرائیل کی عجیب خواہش

حضرت موسیٰ علیہ السلام دریائے قلزم پار کرنے کے بعد جزیرہ نما ئے سینا یعنی صحرائے سینا میں داخل ہوئے اور اس وقت کے ملک کنعان اور حالیہ فلسطین کی طرف آگے بڑھے۔ کیوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو وہیں دفن کر نا تھا ۔ راستے میں ایک قبیلہ کی بستی سے گزرے ۔ اس بستی کے لوگ بتوں کی پوجا کر رہے تھے اور بتوں کے سامنے آسن جمائے بیٹھے تھے یہ دیکھ کر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ عجیب اور بے وقوفی والی فرمائش کی اور کہا ۔ آپ علیہ السلام بھی ہمارے لئے ایسا ہی خدا بنا دیں۔ جیسے ان لوگوں کے خدا ہیں۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ جاہل، بے وقوف اور نا سمجھ لوگ ہو۔ یہ لوگ جو کام کر رہے ہیں ا سکی وجہ سے یہ لوگ تباہ ہو جائیں گے۔ اور جو حرکت( یعنی شرک) یہ لوگ کر رہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کرے گا۔ در اصل جس بت کی وہ پوجا کر رہے تھے وہ ایک گائے کا بُت تھا۔ بنی اسرائیل سینکڑوں برس مصر میں رہے تھے۔ اور مصریوں ( قبطیوں ) کو گائے کے بت کی پوجا کرتے دیکھتے تھے۔ حالانکہ بنی اسرائیل نے مصر میں کبھی اس بت کی پوجا نہیں کی لیکن سینکڑوں برس غیر مسلموں کے ساتھ رہتے ہوئے وہ لوگ بھی گائے سے متاثر ہو گئے تھے۔ جس کا پہلا ثبوت یہ پہلا واقعہ ہے۔ ابھی آگے بیل کے بت کی پوجا اور گائے کو ذبح کرنے میں ہچکچاہٹ کے واقعات بھی پیش آئیں گے۔ در اصل یہ دنیا کا قاعدہ اور انسانی فطرت ہے کہ محکوم قوم سینکڑوں برس تک حاکم قوم کے ساتھ رہتے رہتے ان سے اور ان کے رسم و رواج اور مذہبی معاملات سے متاثر ہوتی جا تی ہے۔ جیسا کہ ہم ہندوستان کے مسلمان آج ہندو قوم کے مذہبی معاملات اور رسم و رواج سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ہندو قوم خوشیوں کے مواقع پر پٹاخے پھوڑتے اور آتش بازی کرتے ہیں۔ آج ہماری نوجوان نسل نے اس رسم کو اپنا لیا ہے اور خوشی کے مواقع پر پٹاخے پھوڑتے اور آتش بازی کر کے خوش ہوتے ہیں۔ حیرت اور عبرت کا مقام ہےکہ نکاح جیسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس سنت کو بھی ادا کرتے وقت میں ہندو قوم کی طرح پٹاخے پھوڑتے ہیں اور مساجد کا احترام بھی نہیں کرتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی قرآن پاک مثال پیش کی ہے کہ وہ لوگ اس طرح گمراہ ہوئے تھے۔ اور مسلمانوں کو سمجھایا ہے کہ تم ایسا مت کرنا۔ ورنہ ان کی طرح تم بھی ذلیل ہو جاﺅ گے۔ یہ ہم مسلمانوں کے علمائے کرام، بزرگوں اور نوجوانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ بنی اسرائیل کی اس عجیب فرمائش کے بارے میں اللہ تعالیٰ سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا۔ پس ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لگے بیٹھے تھے ( یہ دیکھ کر بنی اسرائیل ) کہنے لگے ۔ اے موسیٰ علیہ السلام ہمارے لئے بھی ایک ایسا معبود مقرر کر دیں جیسے ان کے معبود ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں یہ انہیں تباہ کر دے گا۔ اور ان کا یہ کام محض بے بنیاد ہے۔ اور فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کر دوں ؟ حالانکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر138سے 140تک)

کوہِ طور پر چالیس راتیں

حضرت موسیٰ علیہ السلام ، بنی اسرائیل کے ساتھ فلسطین کا سفر کر رہے تھے۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام کا سنگ مرمر کا تابوت ساتھ میں تھا۔ آپ علیہ السلام کو حبرون یعنی الخلیل میں دفن کرنا تھا۔ اور بیت المقدس میں بنی اسرائیل کو آباد کرنا تھا۔ لیکن راستے میں بنی اسرائیل ( یہودیوں ) نے عجیب سی فرمائش کی ۔ اسی لئے جب کوہِ طور کے پاس پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو حضرت ہارون علیہ السلام کی نگرانی میں چھوڑ کر چالیس راتوں کے لئے کوہِ طور پر آﺅ۔ وہاں ہم شریعت عطا فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا ۔ پھر تم نے ( بنی اسرائیل نے ) اس کے بعد بچھڑا پوجنا شروع کر دیا اور ظالم بن گئے۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر51) مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ فرعون اور اس کے لشکر کی تباہی کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرما دی۔ اب رب العالمین کی حکمت کا بھی یہی تقاضہ تھا اور قوم بنی اسرائیل بھی یہی چاہتی تھی کہ ان کو مستقل شریعت یا مستقل کتاب عطا کر دی جائے۔ تا کہ وہ اس پر عمل کر کے اس کو زندگی کا دستور العمل بنا سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب و شریعت عطا کرنے کے لئے تیس راتوں تک کوہِ طور پر رہنے کا حکم فرمایا۔ تیس راتیں گزرنے کے بعد ان میں دس راتوں کا اضافہ کر کے چالیس کر دیا گیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ امام ابن جریر طبری لکھتے ہیں کہ امام ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کر دیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو اس نے نجات دے دی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تیس راتوں کا وعدہ لیا۔ پھر مزید دس راتوں سے اسے پورا فرمایا۔ ان راتوں میں آپ علیہ السلام نے اپنے رب سے ملاقات کی ۔ اور حضرت ہارون علیہ السلام کو بنو اسرائیل پر خلیفہ بنایا اور فرمایا۔ میں اپنے رب کے پاس جلدی میں جا رہا ہوں۔ تم میرے خلیفہ ہو اور مفسدوں کی پیروی نہ کرنا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کے شوق میں جلدی چلے گئے۔ حضرت ہارون علیہ السلام قائم مقام ہوئے اور سامری بھی ان کے ساتھ رہا ۔ ابو العالیہ نے بیان کیا ہے۔ یہ مدت ایک مہینہ پورا ذی القعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن تھے۔ اس مدت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اصحاب کو چھوڑ کر چلے گئے اور حضرت ہارون علیہ السلام کو ان پر خلیفہ بنایا۔ اور کوہِ طور پر چالیس راتیں ٹھہرے اور ان پر زمرد کی الواح میں توریت نازل کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قریب کر کے سر گوشی کی اور ان سے ہمکلام ہوا۔ اور آپ علیہ السلام نے قلم کے چلنے کی آواز سنی اور ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ان چالیس راتوں میں وہ بے وضو نہیں ہوئے حتیٰ کہ کوہِ طور سے واپس آگئے۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ جب دریا پار ہو کر غرق فرعونی کا نظارہ کرنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہمراہی میں تمام بنی اسرائیل ملک فلسطین کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں ایک مندر کے خوب صورت بت اور اس کے پجاریوں کو دیکھ کر کچھ شر پسند ( بنی اسرائیلیوں ) نے اپنی پرانی غلامانہ زندگی کے تاثر کے تحت حضرت موسیٰ علیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم کو بھی کوئی اسی قسم کا معبود بنا دو۔ آپ علیہ السلام نے سخت جھڑکا ۔ تب بنی اسرائیل کے نیک بزرگوںنے عرض کیا۔ یا رسول اللہ علیہ السلام ، ہم کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب دلادیں۔ جس میں عبادت اور دنیاوی زندگی گزارنے کا ایمانی طریقہ لکھا ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ تم کو کتاب عطا فرمادی جائے گی۔ مگر شرط یہ ہے کہ تیس روزے رکھو گے اور اتنے ہی دن اعتکاف میں رہو گے پھر میرے پاس طور پر آنا توریت دے دی جائے گی۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں