11 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام
سلسلہ نمبر12
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 11
بنی اسرائیل کی مصر سے روانگی
اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل۔ تم سب پیچھا کئے جاﺅ گے۔“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر52) آخر کار اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہجرت کا حکم دے دیا۔ اور فرمایا کہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے ہجرت کرجاﺅ۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ نہایت خاموشی سے راتوں رات پورے بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف نکل جائیں ۔ لاکھوں کی تعداد میں بنی اسرائیل رات کے آخری حصے میں نہایت خاموشی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ فلسطین جانے کے لئے روانہ ہو گئے۔ بنی اسرائیل جو آج کل اپنےآپ کو یہودی کہلواتے ہیں۔ اس وقت بھی غلامی کی حالت میں بھی اپنی سازشی اور مفاد پرست ذہنیت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ جب آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ فلاں رات کو ہمیں خاموشی سے نکل جانا ہے۔ تو بنی اسرائیل کی عورتوں نے قبطیوں کی عورتوں کے زیورات یہ کہہ کر عاریتاً مانگ لئے کہ فلاں دن ہمارا تہوار ہے اس دن پہن کر واپس کر دیں گے۔ بنی اسرائیل پورے مصر میں پھیلے ہوئے تھے اور چھ لاکھ سے زیادہ تھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اس آیت کی تفہیم میں لکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ بنی اسرائیل کی آبادی مصر میں کسی ایک جگہ مجتمع نہیں تھی بلکہ ملک ( مصر ) کے تمام شہروں اور بستیوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اور خصوصیت کے ساتھ ممفس یا منف ( Mamphis) سے رعمیس تک اس علاقے میں ان کی بڑی تعداد آباد تھی۔ جسے جُشن کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ لہٰذا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا گیا ہو گا کہ اب تمہیں بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جانا ہے تو انہوں نے بنی اسرائیل کی تمام بستیوں میں ہدایات بھیج دی ہوں گی کہ سب لوگ اپنی اپنی جگہ ہجرت کے لئے تیار ہو جائیں۔ اور ایک خاص رات مقرر کر دی ہو گی۔ کہ اس رات تمام بستی کے مہاجرین ( بنی اسرائیل) نکل کھڑے ہوں ۔ یہ ارشاد کے تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔ اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہجرت کے لئے رات کو نکلنے کی ہدایت کیوں کی گئی تھی۔ یعنی قبل اس کے کہ فرعون لشکر لے کر تمہارے تعاقب میں نکلے۔ تم راتوں رات اپنا راستہ اس حد تک طے کر لو کہ اس سے بہت آگے نکل چکے ہوں گے۔ تفسیر ابن حاتم میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ یہاں سے نکل چلیں اور اپنے کسی بھی ساتھی کو آواز نہ دیں۔ اور اپنے اپنے گھروں میں چراغ اس طرح جلا دیں کہ وہ صبح تک جلتے رہیں۔ اور ان میں سے جو بھی گھر سے نکلے وہ دروازے پر خون گرا دے تا کہ معلوم ہوجائے کہ وہ چلا گیا ہے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکل کھڑے ہوئے۔ جب کہ قبطیوں کو کوئی علم نہیں تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام چھ لاکھ بیس ہزار 620000افراد کو لے کر چل پڑے۔ ان میں بیس سال سے کم عمر کے نوجوانوں او ر بچوں اور ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے بوڑھوں اور عورتوں کو شمار نہیں کیا گیا تھا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کا تابوت
حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے لیکن آگے چل کر راستہ بھٹک گئے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ہم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے ذکر میں لکھا تھاکہ آپ علیہ السلام نے وصیت کی تھی کہ مجھے مصر میں دفن نہ کریں بلکہ جب بنی اسرائیل مصر سے جانے لگیں تو مجھے لیتے جائیں اور میرے والدین اور آباو اجداد کے بازومیں ملک کنعان ( آج کا فلسطین) لے جا کر دفن کرنا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی نبوت کا بہت سارازمانہ اُن لوگوں میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ( نشانیاں) اُن پر واضح کر دیں۔ لیکن انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں سر نہیں جھکایا۔ ان کا تکبر نہیں ٹوٹا ۔ اُن کی بد دماغی میںکوئی فرق نہیں آیا۔ تو اب اس کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ اُن پر اللہ کا آخری عذاب آجائے۔ اور یہ غارت ہو جائیں ۔ آپ علیہ السلام کو وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر چل دو۔ بنی اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیورات بطورِ عاریتا ً لے لئے۔ اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دیئے۔ آپ علیہ السلام نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک کہاں ہے؟ بنو اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت نے قبر مبارک بتلائی۔ آپ علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کا تابوت اٹھالیا۔ کہا گیا ہے کہ خود آپ علیہ السلام نے ہی اسے اٹھایا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب یہاں سے جانے لگیں تو آپ علیہ السلام کا تابوت اپنے ساتھ لیتے جائیں۔
جنت میں پڑوس
حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے۔ علامہ ابن کثیر آگے لکھتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو راستہ بھول گئے۔ ہزار کوشش کی لیکن راستہ نہیں ملا۔ آپ علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ راستہ کیوں نہیں مل رہا ہے۔ تو بنی اسرائیل کے علمائے کرام نے کہا کہ بات یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے آخری وقت میں ہم سے عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے جانے لگیں تو آپ علیہ السلام کے تابوت کو بھی یہاں سے لیتے جائیں۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ کون جانتا ہے کہ ان کا تابوت کہاں ہے؟ سب نے انکار کر دیا کہ ہم نہیں جانتے ۔ ہاں ایک بوڑھی عورت اس کے بارے میں جانتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے اس بوڑھی عوت سے دریافت فرمایا تو اس نے کہا۔ ہاں میں جانتی ہوں۔ لیکن پہلے آپ علیہ السلام سے ایک وعدہ چاہتی ہوں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم کیا چاہتی ہو؟ اس بوڑھی عورت نے کہا۔ پہلے آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں آپ علیہ السلام کا پڑوس عطا فرمائے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ جنت تو ٹھیک ہے مگر میر ا پڑوس بہت مشکل ہے۔ ( کیوں کہ انبیائے کرام علیہم السلام جنت میں سب سے اونچے علاقے میں رہیں گے) اس بوڑھی عورت نے اصرار کیا کہ مجھے تو آپ علیہ السلام کا پڑوس ہی چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی بھیجی کہ اس کی بات مان لو۔ اور شرط منظور کر لو۔ آپ علیہ السلام نے اس کی بات مان لی تو اس نے بتایا کہ پانی میں کہاں تابوت ہے۔ تابوت نکال کر آگے بڑھے تو راستہ مل گیا۔
فرعون کا لشکر اور بنی اسرائیل آمنے سامنے
حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے باہر آگئے اور تیزی سے بحر ِ قلزم یا دریائے قلزم تک پہنچ گئے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ بحر کھارے دریا کو کہتے ہیں۔ اور میٹھے پانی کو بحر کہنا مجازاً ہوتا ہے۔ یہاں بحر سے مراد دریائے قلزم ہے۔ قلزم ایک شہر کا نام ہے ۔ جہاں یہ دریا ختم ہوتا ہے۔ اسی لئے اس کو بھی قلزم کہا جاتا ہے۔ یہ دریا سمندر کی ایک شاخ ہے۔ حبشہ اور دیگر بلاد ِ عرب کے درمیان سے گزرتی ہے۔ اور اسے بحرِ احمر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا طول 460فرسخ جنوباً شمالاً ہے ۔ اور عرض 60فرسخ ہے۔ یہ مصر سے تین دن کے فاصلے پر ہے۔ اور دریائے نیل مصر کے مغربی جانب ہے۔ یہ جو مشہور ہے کہ فرعون دریائے نیل میں غرق ہو ا تو یہ غلط ہے۔ در اصل بحر احمر یا بحر قلزم جب مصر اور صحرائے سینا یا جزیرہ نمائے سینا کے درمیان آیا تو ایک بہت بڑی نہر میں تبدیل ہو گیا۔ آج کل اس نہر کو نہر سوئیز کہتے ہیں۔ اس نہر کے مشرق میں مصر ہے اور مغرب میں صحرائے سینا ہے۔ او ر صحرائے سینا کے شمال مشرق میں اس وقت کا ملک کنعان اور آج کا فلسطین ہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بحر قلزم یا بحر احمر کے اس علاقے پر پہنچے تھے جسے آج کل نہر سوئیز کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے۔ پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو موسیٰ (علیہ السلام ) کے ساتھیوں نے کہا۔ ہم تو یقینا پکڑ لئے گئے۔“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر60اور 61) ادھر مصر میں فرعون اور اس کے ساتھی جب صبح اٹھے تو دیکھا کہ بنی اسرائیل مصر چھوڑ کر جا چکے ہیں تو فرعون نے تمام لوگوں کو جمع ہونے کا اعلان کر دیا۔ اور تمام قبطیوں کو لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکل پڑا۔ فرعون کے لشکر کے الگے حصے پر ہامان تھا۔ لشکر کی تعداد دس لاکھ تھی اور سات لاکھ گھوڑے تھے۔ علامہ ابن کثیر قصص الانبیاءمیں لکھتے ہیں کہ فرعون کے لشکر کی تعداد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ تھی۔ واللہ اعلم ۔ بہر حال فرعون کا لشکر تیزی سے پیچھا کرتا ہوا بنی اسرائیل تک پہنچ گیا۔ اس وقت بنی اسرائیل بحر قلزم کے کنارے تھے اور اسے پار کرنے کی تیاری میں تھے۔ کہ انہیں فرعون کا لشکر آتا دکھائی دیا۔
بنی اسرائیل کی گھبراہٹ اور بے اعتباری
حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر دریائے قلزم یا بحر احمر یا آج کال کی نہر سوئیز پار کرنے کی تیاری میں تھے کہ فرعون اپنا لشکر لے کر پہنچ گیا۔ اس وقت سورج نکل رہا تھا۔ اب بنی اسرائیل اور فرعون کا لشکر آمنے سامنے تھے۔ بات بالکل صاف تھی اب بنی اسرائیل یا تو لڑکر فرعون پر فتح حاصل کریں یا پھر شہید ہو جائیں یا پھر فرعون کا غلام بننے کے لئے تیار ہو جائیں۔ بنی اسرائیل میں بزدلی آگئی تھی۔ اس لئے وہ صرف یہی سوچ رہے تھے کہ اگر فرعون نے ہمیں پکڑ لیا تو ا مرتبہ بہت ہی خراب سلوک کرے گا ۔ وہ لو گ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شکوہ شکایت کرنے لگے اور کہنے لگے ۔ ہم تو بہت بری طرح پھنس گئے ہیں۔ آپ علیہ السلام انہیں سمجھانے لگے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔ وہ ہمارے ساتھ ہے اور ضرور کوئی راستہ نکالے گا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ فرعون نے جب اُن کو پالیا تو اس وقت سورج طلوع ہو رہا تھا۔ دونوں لشکر آمنے سامنے تھے کوئی شک و شبہ باقی نہیں تھا۔ فریقین ایک دوسرے کو آمنے سامنے کھڑا دیکھ رہے تھے۔ بات بالکل واضح تھی کہ اب لڑائی ہو گی۔ گردنیں اڑیں گی اور زمین خون آلود ہو گی۔ بنی اسرائیل خوف سے لرز اٹھے ، گھبرا کر کہنے لگے۔ “ یقینا ہم تو پکڑ لئے گئے۔ “ کیوں کہ سامنے سمندر موجیں مارتاہوا ہے۔ اور پیچھے فرعون کا لشکر جرّار۔ کریں تو کیا کریں۔ سمندر کو کیسے عبور کریں۔ اب ایک ہی صورت ہے کہ اپنے آپ کو سمندر کی موجوں کے حوالے کر دیں اور گھس جائیں لیکن یہ حوصلہ کس میں تھا۔ کون اپنے آپ کو سمندر کی بے رحم لہروں کے حوالے کر سکتا تھا۔ دائیں بائیں بھی نا قابل عبور پہاڑ تھے۔ فرعون کے لشکری قریب سے قریب تک ہو رہے تھے۔ وہ بالکل سامنے تھے ، اسرائیلی فرعون کو دیکھ رہے تھے کہ وہ اپنے لشکر جرار میں بے پناہ سپاہیوں اور اسلحہ کے ساتھ لیس ہے۔ وہ بہت ڈرے، خوف کے مارے خون خشک ہو گیا۔ جب انہوں نے خیال کیا کہ فرعون کی طاقت کس قدر زیادہ ہے اور وہ ہمیں پکر کر کس قدر اذیتیں دے گا اور اہانت کرے گا تو اُن کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا ۔ وہ کہنے لگے اور اللہ کے رسول علیہ السلام کی بارگاہ میں شکوہ شکایت کرنے لگے۔ ہم بہت بری طرح پھنس گئے ہیں اور آپ علیہ السلام نے ہمیں مروا دیا ہے۔
دریا پر عَصا مارو
حضرت ہارون علیہ السلام بنی اسرائیل کے آگے آگے تھے اور دریائے کے بالکل قریب تھے ۔ ان کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے شاگرد حضرت یوشع علیہ السلام اور مردِ مومن تھے۔ جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساقہ پر یعنی سب سے پیچے تھے۔ اور فرعون کے لشکر کو قریب آتا دیکھ رہے تھے۔ وہ مردِ مومن جلدی سے گھوڑا دوڑاتے ہوئے آپ علیہ السلام کے پاس آئے اور پوچھا کہ آپ علیہ السلام کو کیا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہیں سے دریاپار کرنے کا حکم ملا ہے۔ یہ سن کر وہ مرد مومن گھوڑا دوڑاتا ہوا آیا اور دریا کے پاس جہاں حضرت ہارون علیہ السلام کھڑے تھے وہاں پہنچ کر کہا۔ کہ یہیں سے دریا پار کرنے کا حکم ملا ہے۔ اور اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا اور آگے بڑھتے گئے۔ تمام بنی اسرائیل گھبراہٹ اور بے چینی میں مبتلا تھے اور دریا میں آگے بڑھتے گھوڑے کو اور فرعون کے لشکر کو اپنی طرف آتا دیکھ رہے تھے۔ کبھی ادھر دیکھتے اور کبھی ادھر دیکھتے۔ آخر کار حضرت یوشع علیہ السلام واپس آگئے تو وہ مرد مومن دریا کے کنارے کچھ دور گیا۔ اور اپناگھوڑ ا دریا میں ڈال دیا۔ لیکن کچھ دور جا کر واپس آگیا۔ اس طرح اس نے دو تین جگہوں سے دریا پار کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوکر واپس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا۔ اس دوران میں تمام بنی اسرئیل کی جانیں ان کی آنکھوں میں آگئیں اور وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کبھی اس مرد مومن کو دیکھتے کبھی آپ علیہ السلام کو دیکھتے اور کبھی فرعون کے لشکر کو دیکھتے تھے۔ اور عورتوں اور بچوں نے تو باقاعدہ رونا شروع کر دیا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ آلِ فرعون کا مرد مومن کئی مرتبہ اپنے گھوڑے پر سوار دریا میں گھستا گیا کہ کیا اسے عبور کرنا ممکن ہے۔ لیکن ہر بار واپس آیا کہ یاں سے دریا عبور کرنا ممکن نہیں ہے۔ آخر آپ علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کیا ۔ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ، کیا یہیں سے دریا پار کرنے کا حکم ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ہاں یہیں سے اسی جگہ سے ۔ جب حالات نے نازک صورت حال اختیار کر لی اور معاملہ سنگین ہو گیا ۔ بنی اسرائیل بے چین و بے قرار ہو گئے اور فرعون اپنے لشکر سمیت دانت پیستا ، غصے سے لال پیلا ہوتا بالکل قریب پہنچ گیا اور بنی اسرائیل لرزہ براندام پھٹی آنکھوں سے لشکر کو دیکھنے لگے۔ ان کے کلیجے منہ کو آنے لگے۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ جو عرشِ عظیم کا اور قدرتوں کا مالک ہے اس نے وحی فرمائی کہ اپنے عصاکو دریا پر مارو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ”موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ ہرگز نہیں ، یقین مانو میرا رب میرے ساتھ ہے ، جو ضرور مجھے راستہ بتائے گا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنا عصا مارو۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر62اور 63)
پانی پہاڑوں کی طرح کھڑا ہو گیا
اللہ تعالیٰ چاہتے تھے کہ فرعون اور اس کے لشکر کو آخری اور فائنل عذاب دیا جائے اور ہلاک کر دیا جائے۔ اسی لئے جب فرعون اور اس کا لشکر بالکل قریب آئے تب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کی طرح وحی بھیجی کہ دریا پر اپنا عصا مارو۔ پس اسی وقت دریا پھٹ گیا۔ اور پانی کا ہر حصہ پہاڑ کی طرح کھڑا ہو گیا۔ “ (سورہ الشعرءآیت نمبر63) تفسیر در المنشور میں امام سعدی رحمتہ اللہ علیہ کی روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنا عصا دریا پر مارو تو حضرت ہارون علیہ السلام نے آگے بڑھ کر اپنا عصا سمندر پر مارا تو اس نے راستہ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ کون جبار ہے جو مجھے مار رہا ہے؟ آخر کار حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام بنی اسرائیل کے درمیان سے تیزی سے راستہ بناتے ہوئے دریا کے کنارے پہنچے اور دریا میں اتنا اترے کہ پانی کمر تک آگیا۔ تب آپ علیہ السلام نے اللہ کا نام لے کر دریا پر اپنا عصا مارا۔ عصا مارتے ہی دریا میں بارہ راستے بن گئے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اور ہر قبیلے کے لئے ایک راستہ بنا دیا گیا۔ دریا میں پانی بڑے بڑے پہاڑوں کی طرح کھڑا ہو گیا تھا اور بارہ بہت چوڑے چوڑے راستے بن گئے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ دریا میں داخل ہو جاﺅ۔ اور جلدی سے اس پار نکلو۔ لیکن بنی اسرائیل نے کہا کہ ہم اگر دریا میں اتریں گے تو ہمارے دوسرے قبیلے کے بھائی ہمیں نظر نہیں آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے پانی کے بڑے بڑے پہاڑوں کے درمیان جگہ جگہ بڑی بری کھڑکیاں بنا دیں اور وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے دریا پار کرنے لگے۔ تفسیر در منشور میں امام سدی کی روایت میں آگے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل دریا میں داخل ہو گئے ۔ اس میں بارہ راستے تھے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے بھائی دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے الجا کی تو اللہ تعالیٰ نے پانی کے بڑے بڑے پہاڑوں کے درمیان کھڑکیاں بنا دیں اور ہر کوئی ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے دریا پار کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کا آخری آدمی بھی دریا پار کر کے نکل گیا۔ فرعو ن اب اپنے لشکر کے ساتھ بالکل قریب پہنچ گیا تھا۔ اور دریا کے کنارے اپنے لشکر کے ساتھ کھڑا حیرت سے دریا میں کھڑے ہوئے پانی پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا۔ تما م بنی اسرئیل دریا میں اتر چکے تھے۔ ان میں سے اچھے خاصے دوسری طرف پہنچ کر اپنے ساتھیوں کا انتظار کر رہے تھے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!


.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں