پیر، 15 مئی، 2023

10 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon



10 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 10

فرعون کا اپنی قوم کو بہکانا اور مرد مومن کا سمجھانا

اللہ تعالیٰ نے مسلسل کئی طرح کے عذاب فرعون اور قبطیوں پر بھیجے۔ اور قبطیوں نے دیکھا کہ عذاب صرف اُن پر آتے تھے اور بنی اسرائیل محفوظ رہتے تھے۔ اس سے بہت حد تک قبطی متاثر ہو نے لگے۔ فرعون نے جب عوام کی یہ حالت دیکھی تو انہیں جمع کیا اور بہکانے لگا۔ اللہ تعالیٰ نےس ورہ المومن میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو اپنی نشانیوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا ۔ فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف، تو انہوں نے کہا۔ ( یہ تو ) جادوگر اور جھوٹا ہے۔ پس جب ان کے پاس (حضرت موسیٰ علیہ السلام )ہماری طرف سے ( دین) حق لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جو ایمان والے ہیں ۔ ان کے لڑکوں کو مارڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھو۔ اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وہ غلطی میں ہی ہے۔ اور فرعون نے کہا ۔ مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام )کو مارڈالوں۔ اسے چاہیئے کہ اپنے رب کو پکارے، مجھے تو ڈر ہے کہ یہ تم لوگوں ( قبطیوں ) کا دین نہ بدل ڈالے۔ یا پھر ملک میں کوئی ( بہت بڑا) فساد برپا نہ کر دے۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ ہر اُس تکبر کرنے والے شخص ( کی برائی) سے جو روزِ حساب ( قیامت کے دن) پر ایمان نہیں رکھتا ہے۔ اور ایک مومن شخص نے ، جو فرعون کے خاندان کا تھا۔ اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا۔ اس نے کہا ۔ کیا تم ایک شخص کو صرف اس بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا کہ میرا رب اللہ تعالیٰ ہے؟ اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے۔ اگر وہ جھوٹا ہو گا تو اس کا جھوٹ اسی پر ہوگا۔ اور اگر وہ سچا ہے تو جس ( عذاب ) کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے وہ کسی نہ کسی طرح تو تم پر آہی پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتا جو حدسے گزر جانے والے اور جھوٹے ہوں۔ اے میری قوم کے لوگو، آج تو بادہشاہت تمہاری ہے۔ اور تم زمین پر غالب ہو۔ لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو کون ہماری مدد کر سکے گا؟ فرعون بولا۔ میں تم تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں۔ اور میں تو تمہیں بھلائی کا راستہ ہی بتا رہا ہوں۔ اس مرد مومن نے کہا۔ اے میری قوم کے لوگو، مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر بھی ویسا ہی (برا ) دن نہ آجائے جو پہلے کی دوسری امتوںپر آیا ہے۔ جیسے امت ِ نوح، اور امتِ عاد اور امت ثمود اور ان کے بعد والوں کا ( حال ہوا) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کسی طرح کا ظلم کرنا نہیں چاہتا۔ اور مجھے تم پر ہانک پکار( قیامت ) کے دن کا ڈر ہے۔ جس دن تم پیٹھ پھیر کر لوٹو گے اور تمہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور اس سے پہلے تمہارے پاس ( حضرت یوسف (علیہ السلام ) دلیلیں لے کر آئے تھے پھر بھی تم ان کی لائی ہوئی ( دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب ان کا وصا ل ہو گیا تو کہنے لگے کہ ان کے بعد تو اللہ تعالیٰ کسی رسول کو نہیں بھیجے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اسی طرح گمراہ کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے والا اور شک و شبہ کرنےوالا ہو۔“

مرد مومن کی آخرت میں کامیابی اور فرعون کا آخرت میں انجام

اللہ تعالیٰ نے سورہ المومن میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے کہا۔ اے ہامان ، میر ے لئے ایک بالا خانہ بنا ۔ شاید کہ میں آسمان میں جو دروازے ہیں ان دروازوں تک پہنچ جاﺅں۔ اور موسیٰ(علیہ السلام )کے معبود کو جھانک ( کر دیکھ) لوں ۔ اور بے شک میں سمجھتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔ اور اسی طرح فرعون کی بد کرداریاں اسے بھلی کر کے دکھائی گئیں۔ اور ( سیدھی) راہ سے روک دیا گیا۔ اور فرعون کی ( ہر ) حلیہ سازی تباہی میں ہی رہی۔ اور مرد مومن نے کہا۔ اے میری قوم، تم میری بات مانو اور میں نیک راستے کی طرف تمہاری رہبری کروں گا۔ اے میری قوم، یہ دنیا کی زندگی فنا ہو نے والی ہے۔ اور ہمیشہ کا گھر تو آخرت کی زندگی ہے۔ جس نے گنہا کیا ہے اسے تو برابر، برابر کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔ اور جس نے نیکی کی ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت اور ایمان والے ہوں تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے۔ اور وہاں بےشمار رزق پائیں گے۔ اے میری قوم، یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو۔ تم مجھے یہ دعوت دے رہے ہو کہ میں کفر کروں اور اس کے ( اللہ کے ) ساتھ (وہ ) شرک کروں جس کا مجھے کوئی علم نہیں ہے۔ اور میں تمہیں غالب بخشنے والے ( اللہ ) کی طرف دعوت دے رہا ہوں۔ یہ یقینی بات ہے کہ تم مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وہ نہ تو دنیا میں پکا رے جانے کے قابل ہے۔ اور نہ ہی آخرت میں ۔ اور یہ (یقینی)بات ہے کہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے۔ اور حد سے گزر جانے والے ہی دوزخ والوں میں سے ہیں۔ پس آگے چل کر تم میری بات کو یاد کرو گے۔ اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر تا ہوں۔ یقینا اللہ تعالیٰ بندوں پر نگراں ہے۔ پس اسے اللہ نے تمام برائیوں سے محفوظ رکھ لیا۔ جو انہوں نے ( اس کے لئے ) سوچ رکھی تھیں۔ اور فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب الٹ پڑا۔ آگ ہے جس کےسامنے یہ ہر صبح و شام لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی ( حکم ہوگا کہ ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں دالو۔“ ( سورہ المومن آیت نمبر36سے 46تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور یقینا ہم نے ہی موسیٰ (علیہ السلام )کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا تھا ۔ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف ۔ پھر بھی ان لوگوں نے فرعون کی پیروی کی۔ اور فرعون کا کوئی حکم درست ( صحیح ) تھا ہی نہیں۔ وہ تو قیامت کے دن اپنی قوم کا پیش رو ( آگے آگے ) ہو کر ان سب کو دوزخ میں جا کھڑا کرے گا۔ اور وہ بہت ہی برا گھاٹ ہے جس پر یہ لا کر کھڑے کئے جائیں گے۔ ان پر تو اس دنیا میں بھی لعنت چپکا دی گئی اور قیامت کے دن کا انعام تو بہت برا ہو گا جو دیا جائے گا۔ “(سورہ ہود آیت نمبر96سے 99تک)

بنی اسرائیل کے لئے دعا اور فرعون کے لئے بد دعا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے کئی ہلکے ہلکے عذابوں کے آنے کے بعد بھی فرعون اور اس کی قوم کی اکثریت کفر پر ہی ڈٹی رہی اور صرف کچھ لوگ ایمان لائے وہ بھی فرعون اور اس کے ظالم سرداروں سے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے۔ اور فرعون اور اس کے ظالم سردار یا عہدے دار مسلسل بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کو جاری رکھےہوئے ہیں۔ تو آپ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بنی اسرائیل کےلئے دعا اورفرعون اور اس کے ساتھیوں کے لئے بد دعا کی۔ ہاں جو تھوڑے بہت قبطی مسلمان ہو چکے تھے وہ اس بد دعا سے بری رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس موسیٰ (علیہ السلام )پر ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے۔ اور وہ بھی فرعون سے اور اس کے عہدے داروں سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں اُن کو تکلیف نہ پہنچائے۔ اور واقعی میں فرعون اس ملک میں زور کھتا تھا۔ اور یہ بات بھی تھی کہ وہ حدسے باہر ہو جاتا تھا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ اے میری قوم، اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل ( بھروسہ) رکھو۔ اگر تم مسلمان ہو ۔ انہوں نے عرض کیا۔ ہم نے اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کیا۔ اے ہمارے رب، ہم کو ان ظالموں کا فتنہ نہ بنا اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے۔ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )اور ان کے بھائی کے پاس وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنے ان لوگوں کے لئے مصر میں گھر برقرار رکھو اور تم سب اپنے انہی گھروں کو نماز پڑھنے کی جگہ قرار دے لو۔ اور نماز کے پابند رہو۔ اور آپ (علیہ السلام )مسلمانوں کو بشارت دے دیں۔ اور موسیٰ (علیہ السلام )نے عرض کیا۔ اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامانِ زینت اور طرح طرح کے دنیاوی مال دیئے ہیں۔ اے ہمارے رب ، ( یہ سب اس واسطے نہیں دیئے کہ ) وہ تیری راہ سے گمراہ کریں۔ اے ہمارے رب، ان کے مال و دولت اور عیش و آرام کے سامان کو نیست و نابود کر دے۔ اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔ سو یہ ایمان نہ لانے پائیں۔ یہاں تک کہ دردناک عذاب کو دیکھ لیاں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی۔ سو تم ثابت قدم رہو۔ اور ان لوگوں کی راہ نہ چلنا جن کو علم نہیں ہے۔“ ( سورہ یونس آیت نمبر83سے89تک) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ یہ ایک عظیم بد دعا تھی۔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے اللہ کے دشمن فرعون کے خلاف صادر ہوئی۔ آپ علیہ السلام کو فرعون سے ذاتی دشمنی نہیں تھی یہ ناراضگی اللہ کے لئے تھی۔ کیوں کہ وہ اتباع حق سے تکبر کر رہا تھا۔ اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روک رہا تھا۔ اس کی اسلام دشمنی، اللہ سے بغاوت اور سر کشی حد سے گزر گئی تھی۔ اورہ وہ باطل پرڈٹا ہو ا تھا۔ واضح ، صاف ، کھلی ہوئی دلیلوں اور نشانیوں کو دیکھ کر بھی تکبر کر رہا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے یہ دعا کی۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں۔ اسی لئے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم اور سرداروں کے خلاف بد دعا کی اور آپ علیہ السلام کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام نے آمین کہہ کر اس بددعا میں شمولیت اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی۔

سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کی شہادت 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کے دربار میں اعلان ِ نبوت فرمایا تھا اور جادوگروں سے مقابلہ کرنے سے پہلے ہی آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرعون سے چھپ کر آپ علیہ السلام کے گھر پر آکر ملاقات کی اور اسلام قبول کر لیا تھا۔ لیکن اپنے ایمان کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ لیکن ایک دن بد بخت فرعون نے آپ رضی اللہ عنہا کو عبادت کرتے دیکھا تو اس کے بارےمیں پوچھا ۔آپ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا چکی ہوں۔ اور اسلام قبول کر چکی ہوں۔ فرعون نے جب یہ سنا تو اتنا زیادہ غصے میں آیا کہ آپ رضی اللہ عنہا کو قید میں ڈال دیا۔ اور شدید اذیت دینے لگا۔ اور اصرار کرنے لگا کہ اسلام چھوڑ دے لیکن آپ رضی اللہ عنہا اسلام پر ڈٹی رہیں۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔ اس کے بعد دوسرا جگر گداز واقعہ یہ ہوا کہ شیطہ نامی ایک عورت کو اس کے لڑکے ساتھ فرعون نے جلتے ہوئے تنور میں زندہ ڈال کر جلا دیا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ اس نے اپنا ایمان ظاہر کر دیا تھا۔ اس کے بعد بدبخت فرعون نے سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا پر بھی اس قدر تشدد کیا کہ ان کی بھی شہادت واقع ہو گئی۔ انہوں نے تشدد کے دوران اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا اور دعا مانگی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قرآن پاک کی آیت بنا دیا۔ اور سورہ التحریم میں فرمایا۔ ترجمہ ”(سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی) اے میرے رب، میرے لئے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔ اور مجھ کو فرعون اور اس کے ( برے ) کاموں سے بچا۔ اور ظالموں سے مجھے نجات دے۔“ (سورہ التحریم آیت نمبر11) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کی آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہاجنت کو دیکھ کر مسکرائیں۔ فرعون نے کہا۔ یہ ماجرا دیکھو کہ اس پر عذاب کیا جا رہا ہے اور یہ ہنس رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اور صبر و شکر کرتی ہوئی اسی تشدد کی حالت میں اللہ کی جوارِ رحمت میں چلی گئیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں