09 حضرت سلیمان علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 15
بنی اسرائیل کے حضرت سلیمان علیہ السلام پر الزامات
اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” یہ لوگ ( بنی اسرائیل یعنی یہودی) جب کبھی کوئی عہد کرتے تھے تو ان کی ایک نہ ایک جماعت سے اسے توڑ دیتی ہے۔ بلکہ ان میں سے اکثر ایمان سے خالی ہیں۔ جب کبھی ان کے پاس اللہ کا کوئی رسول ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا آیا تو ان کتاب والوں کے ایک فرقے نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے ڈال دیا گویا وہ کچھ جانتے ہی نہیں تھے۔ اور ( یہ بنی اسرائیل ) اس چیز کے پیچھے لگ گئے۔ جیسے شیاطین سلیمان ( علیہ السلام ) کی حکومت میں تھے۔ اور سلیمان (علیہ السلام )نے تو(کبھی) کفر نہیں کیا تھا۔ بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھلایا کرتے تھے۔ ( سورہ البقرہ آیت نمبر100سے 102تک) اللہ تعالیٰ ان آیات میں بتا رہے ہیں کہ بنی اسرائیل کتنی زیادہ برائیوں اور گمراہیوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اور حق اور سچ بات جانتے تھے اور سمجھتے تھے۔ اس کے باوجود مانتے نہیں تھے۔ اور جو انبیائے کرام علیہم السلام ان کے پاس حق لے کر آتے تھے انہیں یہ لوگ جھٹلا دیا کرتے تھے۔ اور جن انبیائے کرام علیہم السلام کو یہ بد بخت جھٹلا نہیں پاتے تھے تو ان پر طرح طرح کے الزامات لگا دیا کرتے تھے ۔ جیسے الزامات انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر لگائے ہیں سب سے پہلے تو یہ بد بخت حضرت سلیمان علیہ السلام کو نبی ہی نہیں مانتے ہیں اور صرف بادشاہ مانتے ہیں۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ نعوذ باللہ ان کے گھر میں نعو ذ باللہ چالیس دنوں تک بت پوجا ہوتی رہی۔ جب کہ اللہ تعالیٰ صاف بتا رہے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کبھی کفر نہیں کیا اور نہی ہی اپنی حکومت میں کبھی کفر ہونے دیا۔ بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کے علماءتوریت میں تبدیلی کر کے لکھ دیا کہ نعوذ باللہ آپ علیہ السلام کے زمانے میں شیاطین کفر کرتے تھے۔ اور جادو وغیرہ سکھاتے تھے۔ اور ان کانام لگا کر لوگوں کو جادو سیکھنے کی اجازت دیتے تھے۔ یہ بنی اسرائیل کا بہت بڑا جرم عظیم ہے کہ ان بد بختوں نے اللہ کی کتاب ( توریت) کے ساتھ کھلواڑ شروع کر دیا تھا۔ اور اس میں اپنے دنیاوی فائدے کے لئے رد و بدل کر کے اپنی طرف سے باتیں لکھ دی تھیں۔ بائیبل میں انہوں نے اور بھی بہت سے الزامات حضرت سلیمان علیہ السلام پر لگائے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں کی ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی موت کا اندازہ کر لیا تھا
حضرت سلیمان علیہ السلام تمام درختوں ، پیڑوں اور پودوں اورجڑی بوٹیوں کی زبان بھی سمجھتے تھے۔ اور ان سے باتیں بھی کرتے تھے۔ جو بھی نیا درخت ، پیڑ یا پودہ آپ علیہ السلام کو دکھائی دیتا تھا تو آپ علیہ السلام اس کی خصوصیات اس سے پوچھتے تھے۔ اور یہ بھی دریافت فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے کس کام کے لئے پیدا کیا ہے۔ جب وہ بتا دیتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام کے لئے پیدا فرمایا ہے تو اس سے وہی فائدہ حاصل کر تے تھے ۔ ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام بیت المقدس میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک نیا پودا اگا ہوا ہے۔ جو آگے چل کر درخت بننے والا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے دریافت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے کس کام کے لئے پیدا کیا ہے؟ اور تیرا نام کیا ہے؟ اس پودے نے کہا ۔ میرا نام ”خرنوب “ ہے۔ اور میں اس مسجد کی بربادی ( مسماری) کے لئے پیدا کیا گیا ہوں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ بات میں جانتا ہوں کہ میری زندگی میں اللہ تعالیٰ اس مسجد کو مسمار نہیں ہونے دے گا۔ اور تیرے اگنے سے لگتا ہے کہ اس کی بربادی کے دن قریب ہیں اور تیرا اُگنا میرے لئے اس بات کا اشارہ ہے کہ میری زندگی کے دن بہت کم رہ گئے ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملک الموت سے فرمایا تھا کہ جب بھی میری موت کا وقت قریب آئے تو مجھے بتا دینا تا کہ میں جنات پر یہ ثابت کر سکوں کہ انہیں علم غیب نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں علم غیب ہے۔ جب آپ علیہ السلام کی موت کا وقت قریب آیا تو ملک الموت نے آکر عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، آپ کی زندگی کے کچھ ہی دن باقی بچے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا وصال
اللہ تعالیٰ نے سورہ سبا میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب ہم نے اُن پر (حضرت سلیمان علیہ السلام پر ) موت کا حکم بھیج تو ان کی ( موت ) کی خبر جنات کو کسی نے نہیں دی سوائے گھن کے کیڑے ( دیمک ) کے ، جو ان کے عصا کو کھا رہا تھا۔ پس جب ( حضرت سلیمان علیہ السلام گر پڑے تو اس وقت جناتوں نے جان لیا کہ اگر وہ غیب داں ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہیں رہتے۔“( سورہ سبا آیت نمبر14) حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ ( جلیل القدر تابعی اورمفسر) فرماتے ہیں کہ جنات انسانوں کو کہتے تھے کہ وہ غیب کی چیزوں کو جانتے ہیں۔ اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کل کیا ہوگا۔ تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کے ساتھ ان کا امتحان لیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، جناتوں سے میری موت کو مخفی رکھ۔ تا کہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ جنات غیب کا علم نہیں جانتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عصا لیا ور اس پر ٹیک لگائی اور اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ علیہ السلام کی روح قبض کر لی گئی ۔ آپ علیہ السلام موت کی حالت میں ایک عرصہ تک اسی طرح رہے۔ جب کہ جنات کام کر رہے تھے۔ دیمک نے جب عصا کو کھا لیا تو ااپ علیہ السلام گر گئے ۔ اس وقت انہیں آپ علیہ السلام کی موت کا علم ہوا تو انسانوں پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اگر جناتوں کو غیب کا علم ہوتا تو ایک سال تک اس تکلیف و عذاب میں مبتلا نہیں رہتے۔
وصال کی خبر دیمک کے ذریعے ملی
حضرت سلیمان علیہ السلام کا قاعدہ تھا کہ وہ کبھی ایک ہفتہ، کبھی مہینہ اور کبھی کبھی مہینے اپنی عبادت گاہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے گزارتے تھے۔ وہ اپنا کھانا پانی اتنے دنوں کا ساتھ لے لیا کرتے تھے۔ جب آپ علیہ السلام کو اپنی موت کے قریب ہونے کا علم ہوا تو آپ علیہ السلام کافی دنوں کا کھانا پانی لے کر اپنی عبادت گاہ میں چلے گئے۔ اور اس سے پہلے جناتوں کو ایسے کام کا حکم دے دیا۔ جسے پورا کرنے میں کئی برس لگ جاتے۔ آپ علیہ السلام نے لکڑی کی ایسی چیز بنوائی جس سے ٹیک لگا کر کھڑے رہ سکیں یا بیٹھ سکیں۔ اکثر روایات میں آیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے جس چیز سے ٹیک لگائی تھی وہ عصا تھا۔ وہ کرسی بھی ہو سکتی ہے جس پر آپ علیہ السلام بیٹھے ہوں گے۔ اصل حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ آپ علیہ السلام کے ماتحت جنات دعویٰ کرتے تھے کہ انہیں علم غیب ہے ۔ جنات جھوٹے ہیں یہی بات انسانوں پر ثابت کرنے کے لئے آپ علیہ السلام نے جناتوں کو بڑے مشکل کام سونپ دیئے اور انے حجرے ( جس میں عبادت کرتے تھے ) میں آکر اس لکڑی سے ٹیک لگا کر عبادت میں مصروف ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اسی حالت میں تھے کہ ملک الموت نے روح قبض کر لی۔ تمام جنات کام میں مصروف رہے اور دور سے حجرے کی کھڑکی میں سے دیکھتے تو آپ علیہ السلام کو عبادت میں مصروف پاتے تھے۔ ایک سال تک دیمک اس لکڑی کو کھاتی رہی ۔ ایک سال بعد وہ لکڑی کمزور ہو کر ٹوٹی تو آپ علیہ السلام سجدے میں چلے گئے۔
جناتوں کو افسوس
حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسا جلال عطا فرمایا تھا کہ جو بھی جنات آپ علیہ السلام کے چہرہ مبارک کو غور سے دیکھتا تھا تو جل جاتا تھا۔ ( جنات تو آگ سے ہی بنے ہیں ان کے جلنے کا مطلب یہ تھا کہ وقتی طور پر جل کر بے ہوش ہو جاتے تھے پھر بعد میں ہوش میں آتے تھے تو اپنی اصل شکل میں آجاتے تھے) اسی لئے کوئی بھی جنات آپ علیہ السلام کے قریب جا کر غور سے دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکا۔ اور دور سے دیکھنے پر انہیں ایسا لگا کہ آپ علیہ السلام عبادت کی حالت میں اپنی پوزیشن تبدیل کر لی۔ لیکن نوجوان جنات بہت شریر تھا۔ وہ آپ علیہ السلام کے حجرے کے پاس گیا تو دوسرے جناتوں نے ڈانٹ کر اسے ہٹانے کی کوشش کی۔ وہ جلدی سے کھڑکی کے ذریعے حجرے میں گیا تو وہ فوراً واپس آگیا۔ اور بولا دیکھو مجھے کچھ نہیںہوا ہے۔ اس کی ہمت اور کھل گئی۔ اب وہ حجرے کے اندر داخل ہو کر آپ علیہ السلام کی طرف غور سے دیکھنے لگا۔ تمام جنات دور سے تماشا دیکھ رہے تھے۔ اور سوچ رہے تھے کہ وہ شریر جنات جل جائےگا۔ جب اسے کچھ نہیں ہوا تو تمام جنات ڈرتے ڈرتے قریب آگئے اور دیکھا کہ آپ علیہ السلام کا وصال ہو چکا ہے۔ تمام جناتوں نے انسانوں کو خبر کی۔ اور بنی اسرائیل کے بڑے بڑے علمائے کرام آئے اور تحقیق کے لئے اس لکڑی پر دیمک کو چھوڑ دیا۔ ایک دن اور ایک رات میں دیمک نے جتنی لکڑی کو کھایا تھا اس سے انسانوں نے اندازہ لگایا کہ آپ علیہ السلام نے جس لکڑی سے ٹیک لگائی تھی اسے کھانے میں دیمک کو ایک سال لگا۔ اور ایک سال پہلے ہی حضرت سلیمان علیہ السلام کا وصال ہو چکا تھا۔ اور جنات کو علم ہی نہیں ہوا۔ جس سے یہ ثابت ہو اکہ جناتوں کو علم غیب نہیں ہے۔ اور جناتوں کو افسوس ہو ا کہ ایک سال تک وہ بلا وجہ مشقت میں مبتلا رہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دیمک کا جناتوں نے شکریہ ادا کیا۔ اور شکریہ کے طور پر وہ آج بھی دیمک کو پانی اور مٹی لا کر دیتے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کی حالت
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنا جانشین نہیں بنایا تھا۔ اور اپنے بعد کسی کو حکمراں بھی نہیں بنایا تھا۔ بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کے بیٹے رجعام بن حضرت سلیمان علیہ السلام کو حکمراں بنا دیا۔ یہ بہت نا اہل اور مطلب پرست تھا۔ بادشاہ بننے کے بعد رجعام نے بیت المقدس، بیت لحم ، غزہ ( غازہ) صور اور ایلہ کی عمارتوں کی توسیع کی۔ لیکن وہ بنی اسرائیل پر تشدد کرنے لگا اور ان پر بہت زیادہ ٹیکس لا ددیئے۔ بنی اسرائیل نے ٹیکسوں میں کمی کی مانگ کی تو اس نے رعایت کرنے کی بجائے محاصل اور بڑھا دیئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل دلبرداشتہ ہو کر اس کے خلاف ہو گئے۔ اسی زمانہ میں یر بعام بن نباط مصر سے آگیا۔ بنو یہودا اور بنو بن یامن کے علاوہ باقی بنی اسرائیل کے دس قبیلوں نے یربعام کی حکومت تسلیم کر لی۔ اور بنی اسرائیل دو حکومتوں میں بٹ گئے ۔ اور اس کے بعد ان کا زوال شروع ہو گیا۔
اگلی کتاب
حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں ذحضرت الیاس علیہ السلام اور حضرت یسع علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔
٭........٭........٭
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں