09 حضرت شعیب علیہ السلام
سلسلہ نمبر 11
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 9
عذاب کی شروعات ۔ شدید گرمی
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ایکہ نے عذاب کی مانگ کی اور کفر و شرک اور تمام برائیوں پر ڈٹے رہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے اس بد بخت قوم پر عذاب بھیجنے کا ارادہ فرمایا۔ قارئین کرام اوپر ہم نے عذاب کے تعلق سے اتنی روایات آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں کہ اس سے عذاب کی ہر چھوٹی بڑی تفصیل آپ کی سمجھ میں آگئی ہو گی۔ لیکن یہ مختلف روایتوں میں بکھری ہوئی ہیں۔ اب ہم کوشش کریں گے کہ قوم ایکہ پر آئے عذاب کو ایک مربوط واقعہ کی شکل میںپیش کریں۔ انشا اللہ ۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر عذاب بھیجنے کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تو ان پر شدید گرمی مسلط کر دی۔ حالانکہ اس قوم کا علاقہ بہت ہی ہرا بھرا اور ٹھنڈا علاقہ تھا۔ اور ہر کسی کا اپنا ایک باغ تھا۔ جہاں ٹھنڈک رہا کرتی تھی۔ لیکن شدید گرمی جب پڑی تو انہیں کہیں بھی آرام نہیں ملا۔ دھوپ میں بہت زبردست گرمی اور شدت پیدا ہو گئی تھی۔ سورج کی روشنی یعنی دھوپ میں اتنی تیزی اور گرمی پیدا ہو گئی تھی کہ ان لوگوں کے لئے اس میں نکلنا مشکل ہو گیا تھا۔ اور ان کے لئے دھوپ کی تپش ناقابل برداشت ہو گئی تھی۔ اس لئے وہ لوگ جب بھی باہر جاتے تو چھتری یا سی قسم کی کسی چیز کا سایہ کر لیا کرتے تھے۔
ہوا کی نمی ختم کر دی۔
اللہ تعالیٰ نے قوم ایکہ پر شدید گرمی مسلط کر دی۔ دھوپ میں اتنی تیزی اور شدت تھی کہ ان کا گھروں سے نکلنا اور اپنی دکانوں یا منڈیوں اور کھیتوں اور باغوں تک پہنچنا مشکل ہو گیا۔ دوسرے ممالک کے تاجر اور قافلے اپنے ملکوں میں واپس چلے گئے۔ اور تمام لوگوںکو اس علاقے میں آنے جانے کو منع کر دیا۔ اب قوم ایکہ کی تجارتی منڈیاں، راستے اور ان کی بستوں کی گلیاں ، سڑکیں اور راستے سب ویران پڑے ہوئے تھے۔ جانور اورمویشی وغیرہ بھی گرمی سے بے حال تھے۔ اور لوگوں کو صرف گھروں کے سائے میں ہی آرام ملتا تھا۔ درخت ، پیڑ ، پودے ،کھیت ، کھلیان اور باغوں کی ہریالی ختم ہونے لگی۔ اور تما م سوکھنے لگے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بد بخت قوم کفر و شرک میں ہی مبتلا رہی۔ یہاں تک کہ جس درخت کی یہ لوگ پوجا کر تے تھے وہ بھی سوکھ گیا۔ ا س کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہوا کی نمی ختم کر دی اور ہوا بھی بے حد گرم ہو گئی۔ اس سے پہلے تو یہ لوگ اپنے گھروں ، باغوں اور گھنے درختوں کی چھاﺅں میں کچھ آرام محسوس کر تے تھے۔ لیکن ہوا کے گرم ہونے کی وجہ سے اور شدید گرمی سے تمام درخت ، باغ اور جنگل کے سائے بھی ختم ہو گئے۔ اور گھروں کے سائے میں بھی اتنی گرمی لگتی تھی کہ ان کے لئے سانس لینا مشکل ہو گیا۔ ان لوگوں کو اپنے گھروںمیں بھی بے حد تکلیف ہونے لگی۔ اور ہر شخص ہر وقت پسینے میں ڈوبا رہتا تھا۔ اور تیز تیز سان لیتا رہتا تھا۔
پانی بھی بے حد گرم ہو گیا
اللہ تعالیٰ نے ہوا میں نمی ختم کر دی تھی۔ اور ہر وقت گرم ہوا چل رہی تھی۔ اور رات میں بھی گرم ہوا چلتی تھی ۔ ہر شخص کو شدید پیاس لگی رہتی تھی۔ پیاس بجھانے کے لئے یہ لوگ پانی بار بار پی رہے تھے۔ لیکن اس شدید گرمی میں پانی بھی اتنا گرم ہو جاتا تھا کہ بار بار پانی پینے کے باوجود بھی پیاس نہیں بجھتی تھی۔ ہر وقت بدن سے پسینہ بہتا رہتا تھا۔ اور گھٹن کا شدید شکار یہ لوگ رہتے تھے۔ اور ہر شخص ہر وقت تیز تیز سانس لیتا رہتا تھا۔ گرمی سے بچنے کے لئے یہ لوگ اپنے گھروں کے تہہ خانوں میں پہاڑوں کے غاروں میں یہاں تک کہ درندوں کی کھوہوں میں بھی گھس گئے کہ شاید گرمی سے کچھ راحت مل جائے۔ لیکن زمین بھی اتنی گرم ہو چکی تھی کہ انہیں تہہ خانوں، غاروں اور زمین کے اندر کی دوسری جگہوں پر بھی آرام نہیں ملا۔ بلکہ وہ وہاں اور زیادہ گھٹن کا شکار ہو گئے۔ لیکن افسوس، یہ بد بخت اتنی تکلیف اور پریشانی اٹھانے کے باوجود حضرت شعیب علیہ السلام کی مخالفت کرتے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے۔
سائبان بنا دیا گیا
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم شدید گرمی سے پریشان تھی۔ نہ باہر آرام تھا اور نہ ہی گھروں میں آرام تھا۔ تمام درخت، پیڑ ، پودے اور جنگل سوکھ گئے تھے۔ جانور اور مویشی وغیرہ مرتے جا رہے تھے۔لیکن انسانوںکو ان کی پرواہ نہیں تھی۔ بلکہ ہر شخص اپنی فکر میں مبتلا تھا۔ ان کی بستی سے کچھ دور پر ایک بڑا اور گھنا جنگل تھا۔ جو پہلے ہر وقت ہرا بھرا رہتا تھا۔ لیکن سخت تیز دھوپ اور گرم ہوا اور پانی کی کمی کی وجہ سے اس جنگل کے تمام درخت سوکھ گئے تھے۔ اور پورے جنگل میں سوکھے درخت کھڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑا کالا گھنا بادل بھیجا۔ وہ بادل آیا اور اس جنگل کے اوپر آکر رک گیا۔ اور سائبان کی طرح پورے جنگل کو ڈھک لیا۔ اور جنگل میں سایہ ہو گیا۔ اب حالت یہ تھی کہ چاروں طرف سخت تپش والی دھوپ تھی اور ہو ا بے حد گرم تھی۔ گھروں کے اندر بھی گرمی تھی۔ لیکن اس جنگل میں گہری ٹھنڈی چھاﺅں تھی۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے دور سے اس جنگل میں گھنے سائے کو دیکھا تھا۔ لیکن وہاں تک اتنی شدید گرمی میں کسی کے جانے کی ہمت نہیں تھی۔ ہر کوئی یہ سوچ کر وہاں نہیں جا رہا تھا کہ اتنی تکلیف اٹھا کر وہاں جائیں گے اور وہاں بھی گرمی کا یہی عالم ہو گا تو ہمارے لئے ہمارے گھروںمیں واپس آنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے ہم اپنے گھروں میں ہی ٹھیک ہیں۔ قوم ایکہ کی آبادی کئی لاکھ تھی۔ اور کافی دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور پوری آبادی والے دیکھ رہے تھے کہ ایک بادل سائبان کی طرح جنگل پر چھایا ہوا ہے۔ اور پورے جنگل میں گھنی چھاﺅ ں ہے۔
ایک شخص نے قوم کو سائبان کے نیچے بلایا
اللہ تعالیٰ نے جنگل کے اوپر سائبان بنا دیا تھا۔ اور اس کی ٹھنڈی چھاﺅں پورے جنگل میں تھی۔ وہاں بہت ٹھنڈک تھی۔ اور باقی ہر جگہ شدید گرمی تھی۔ لیکن قوم ایکہ والوں کو اس کی ٹھنڈک کا اندازہ نہیں تھا۔ ایک دن اتفاق سے ایک شخص یوں ہی اس جنگل کے سائے میں چلا گیا۔ جیسے ہی وہ اس سائبان کے سائے میں پہنچا تو اسے وہاں بہت ٹھنڈک اور سرور محسوس ہوا۔ وہ شدید حیرت میں پڑ گیا اور اندازہ لگا نے کے جنگل کے باہر نکل کر آیا تو سائبان کے نیچے سے نکلتے ہی پھر اسی شدی گرمی اور گھٹن نے اس کا استقبال کیا۔ وہ فوراً جنگل کے اندر سائبان کے سائے میں آگیا۔ اور وہاں آتے ہی اسے راحت ، سکون اور ٹھنڈک ملی۔ اس نے جنگل میں گھوم کر دیکھا۔ وہاں زمین میں سے ٹھنڈا پانی بھی نکل رہا تھا۔ اور کچھ چھوٹے چھوٹے پیڑ بھی پھلوں سے لدے ہوئے تھے۔ اس نے ٹھنڈا پانی پیا اور پھلوں کو کھایا اور تازہ دم ہو گیا۔ یہ سب دیکھ کر اسے بے حد خوشی ہوئی اور وہ خوشی سے چیختا چلاتا ہوا بھاگتا ہوا بستی کی طرف آیا اور انہیں بتانے لگا کہ جنگل میں سائبان کی چھاﺅں میں بہت ٹھنڈک ہے۔
قوم سائبان کے نیچے جمع ہونے لگی
اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی کہ پوری قوم ایکہ جنگل میں سائبان کے نیچے جمع ہو جائے۔ وہ شخص خوشی خوشی بھاگتا ہوا آبادی میں آیا اور خوشی سے چلاچلا کر لوگوں کو کہنے لگا۔ کہ اے میری قوم کے لوگو، باہر نکلو اور میرے ساتھ جنگل میں سائبان کے نیچے چلو۔ وہاں بہت ٹھنڈک اور راحت ہے۔ اور ٹھنڈا پانی بھی ہے اور کھانے کے لئے پھل بھی ہیں۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں بے حال پڑے ہوئے تھے ۔ پہلے اس کی خوشی سے بھری آواز سن کر حیران ہو ئے اور جیسے تیسے گھروں سے باہر آئے ۔ حالانکہ باہر نکلنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ لیکن اس شخص کی جوش و خروش سے بھروی ہوئی آواز اور الفاظ سن کر باہر نکل آئے۔ اور حیرت سے اس کی باتیں سننے لگے اور اس کی خوشی دیکھنے لگے۔ وہ شخص خوشی خوشی دوڑ دوڑ کر ہر گھر اور محلے والوں کو بتانے لگا ۔ اس کے بعد دوڑتا ہوا جنگل کی طرف سائبان کے نیچے جانے لگا۔ کچھ لوگ جیسے تیسے پیچھے بھاگتے ہوئے جنگل میں جائے میں داخل ہو ئے اور زیادہ تر لوگ کھڑے ان کو دیکھ رہے تھے۔ جو لوگ اس شخص کے ساتھ جنگل میں سائبان کے سائے میں داخل ہوئے تھے انہوں نے سائے میں آتے ہیں ٹھنڈک اور راحت محسوس کی۔ اور یہ احسا س ہوتے ہی وہ خوش ہو گئے اور خوشی سے ناچنے لگے۔
پوری قوم سائبان کے نیچے آگئی
قوم ایکہ کی آبادیوں میں سائبان کے سائے کی خبر پھیلنے لگی۔ جو لوگ اپنی جگہ کھڑے ہو کر اس شخص کے ساتھ کچھ لوگوں کو جنگل میں داخل ہوتے دیکھ رہے تھے انہوں نے دیکھا کہ جو بھی شخص جنگل میں چھاﺅں میں داخل ہوتا تھا تو وہ خوش ہو کر ناچنے لگتا تھا۔ یہ کیفیت دیکھ کر وہ لوگ بھی سائبان کی چھاﺅں کی طرف بھاگنے لگے۔ ان سب کی حالت پہلے ہی سے خراب تھی لیکن جیسے تیسے گرتے پڑتے جنگل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جو بھی شخص سوکھے جنگل میں داخل ہوتا تھا۔ وہ سکون اور راحت محسوس کر کے خوش ہو جاتا تھا اور خوشی کے مارے ناچنے لگتا تھا۔ اور اس کی یہ حالت بقیہ آنے والوں میں نیا جرش بھر دیتی تھی۔ دھیرے دھیرے یہ خبر پوری قوم ایکہ کی آبادیوں میں پھیل گئی۔ اور ہر جگہ سے لوگ تیزی سے بھاگتے ہوئے سوکھے جنگل میں سائبان کی تنے ہوئے کالے گھنے بادل کی چھاﺅں میں آنے لگے۔ قوم ایکہ کی آبادی کئی لاکھ تھی۔ اور دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور جیسے جیسے لوگوںکو معلوم ہوتا جا رہا تھا وہ تیزی سے سوکھے جنگل میں آتے جارہے تھے۔ اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ پورا دن لوگ آتے رہے اور پوری رات آتے رہے۔ اور دوسرے دن بھی لوگوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ یہاں تک کہ پوری قوم سائبان کے نیچے آگئی۔ حضرت شعیب علیہ السلام اورمسلمان اس سوکھے جنگل سے کافی دور رہے۔
آگ برسا دی گئی
حضرت شعیب علیہ السلام نے مسلمانوں کو فرما دیا تھا کہ اس سوکھے جنگل میں کالے گھنے بادل کی چھاﺅں میں نہیں جانا۔ کیوں کہ وہی اللہ تعالیٰ کا آخری اور فائنل عذاب ہے۔ اسی لئے مسلمان آپ علیہ السلام کے ساتھ رہے۔ اور قوم ایکہ کے کافروں کو سوکھے جنگل میں ٹھنڈی چھاﺅں میں داخل ہوتے دیکھتے رہے۔ آخر کار قوم ایکہ کا ایک ایک فرد اس سوکھے جنگل میں کالے گھنے بادل کی گھنی چھاﺅں میں داخل ہو گئے جو سائبان کی طرح تنا ہوا تھا۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلا۔ اور جب تمام کافر اس سائبان نما عذاب کے بادل کی چھاﺅں میں جمع ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب اُن پر نازل فرما دیا۔ وہ کالا گھنا بادل جو سائبان کی طرح پورے سوکھے جنگل پر چھایا ہوا تھا اچانک اس بادل کے کناروں سے آگ برسنے لگی اور اس آگ کی بارش سے سوکھے جنگل کے ہر طرف کنارے کے سوکھے درختوں میں آگ لگ گئی۔ اب ان لوگوں کے چاروں طرف جنگل میں آگ لگی ہوئی تھی اور یہ آگ تمام کافروں کو گھیرے ہوئے تھی۔ اور ان کے نکل بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
پوری قوم ایکہ کے کافر ہلاک ہو گئے
اللہ تعالیٰ کے عذاب نے پوری قومِ ایکہ کے کافروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ سوکھے جنگل کے کنارو ں پر آگ برس رہی تھی اور سوکھے درختوں کو جلاتی جا رہی تھی۔ اور دھیرے دھیرے آگ بڑھتی جا رہی تھی اور قوم ایکہ پر آگ کا دائرہ تنگ ہو تا جا رہا تھا۔ تمام کافر جان بچانے کے لئے دوسرے کناروں کی طرف بھاگ رہے تھے لیکن وہاں بھی آگ استقبال کر رہی تھی۔ اور وہ ہر طرف سے آگ کے گھیرے میں آچکے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تو وہ کالا گھنا بادل اچانک پھٹ پڑا اور پورے سوکھے جنگل پر ہر طرف آگ کی بارش ہونے لگی۔ اور قوم ایکہ کے کافر اس آگ میں کڑاہی میں گری مکڑیوں کی طرح جلنے لگے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا جنگل جلنے لگا۔ اور یہ آگ اس وقت تک برستی رہی جب تک ایک بھی کافر زندہ رہا۔ جب تما کافر ہلاک ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آگ کی بارش رک گئی۔ اور دھیرے دھیرے جنگل کی آگ بجھنے لگی۔
کافروں اور ظالموں کا عبرتناک انجام
اللہ تعالیٰ کے حکم سے قوم ایکہ پر عذاب آیا۔ اور پوری قوم کے کافر اور ظالم لوگ سائبان کے عذاب میں سوکھے جنگل میں جل کر ہلاک ہو گئے۔ جب تک ایک بھی کافر اور ظالم زندہ رہا تب تک ان پر آگ برستی رہی ۔ حضرت شعیب علیہ السلام مسلمانوں کے ساتھ دور سے اس سوکھے جنگل پر کالے گھنے بادل میں سے آگ برستے اور کافروں اور ظالموں کا عبرتناک انجام دیکھتے رہے۔ جب تمام کافر اور ظالم لوگ ختم ہو گئے تو جنگل کی آگ بچھ گئی اور کام پورا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجر میں فرمایا۔ ترجمہ ”اصحاب الایکہ ( ایکہ بستی کے رہنے والے ) بھی بڑ ے ظالم تھے۔ جن سے ہم نے انتقام لے ہی لیا ۔یہ دونوں بستیاں کھلے راستے پر ہیں۔“ ( سورہ الحجر آیت نمبر78, اور 79) یہ تھا اللہ تعالیٰ کا انتقام ۔ اس دنیا میں سب سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ( اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ کسی اور کو بھی معبود ماننا اور عبادت کرنا) ہے۔ اور کفر ( اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنا) ہے۔ کافر اور مشرک شخص کو اللہ تعالیٰ اس وقت تک معاف نہیں فرمائے گا جب تک وہ اسلام قبول نہیں کر ے گا۔ اگر اسلام قبول کر لیا تو اس کا حساب کتا ب ہوگا۔ اور اگر کافر اور مشرک ہی مر گیا تو دوزخ میں سیدھا جائے گا۔ اور کافروں سے اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی انتقام لیتا ہے۔ اور آخرت میں بھی انتقام لے گا۔
حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر آگے ہوگا۔
حضرت شعیب علیہ السلام مسلمانوں کے ساتھ دور کھڑے قوم ایکہ کے کافروں کا عبرتناک انجام دیکھتے رہے ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام مسلمانوں کو لے کر مدین کے ساحلی علاقے میں جزیرہ نما ئے سینا میں آباد ہو گئے۔
اگلی کتاب
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر انشاءاللہ ہم اس کے بعد کریں گے۔ اور ان کے ذکر میں حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر آئے گا انشا اللہ ۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کے علاقے میں ہجرت کر کے موسیٰ علیہ السلام آئے تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے ان کو اپنا داماد بنا لیا تھا۔ یہ تمام تفصیل انشاءاللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات میں بیان کریں گے۔
٭........٭........٭
.jpeg)
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں