پیر، 15 مئی، 2023

09 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon



09 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 9

فرعون نے قبطیوں کو اسلام قبول کرنے سے روک دیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام جادوگروں سے جیت گئے۔ اس طرح فرعون ہار گیا اور ذلیل ہو گیا۔ جس ملک مصر کی عوام یعنی قبطیوں نے سمجھ لیا کہ فرعون کی کوئی اوقات نہیں ہے۔ اور جس واقعہ نے سب سے زیادہ قبطیوں کو متاثر کیا وہ جادوگروں کا اسلام قبول کرنا ہے ۔ فرعون نے جب دیکھا جادوگروں کے اس عمل کی وجہ سے عوام متاثر ہو رہی ہے تو اس نے جادوگروں کو دھمکی دی۔ لیکن جادوگربھی سختی سے اسلام پر قائم رہے تو قتل کروادیا۔ اس کے بعد اس نے قبطیوں کو بہکانا شروع کر دیا اور انہیں دھمکیاں دینے لگا کہ اگر تم لوگ موسیٰ (علیہ السلام )کی دعوت سےمتاژر ہوئے اور اسلام قبول کیا تو تمہارا بھی یہی حال ہو گا بلکہ اس سے بھی خراب حال کروں گا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ جب فرعون نے دیکھا کہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے جو معجزہ دکھایا تھا وہ حق کا ترجمان ہے اور جادو یا شعبدہ بازی نہیںہے۔ لیکن اسی مجمع میں لوگوں کو مخاطب کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الزخرف میں فرمایا۔ ” اور فرعون نے اعلان کر ایا اور بولا ۔ اے میری قوم ، کیا ملک مصر میرا نہیں ہے؟ اور میرے ( محلوں کے )نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں کیا تم دیکھتے نہیں۔ کیا میں بہتر نہیں ہوں بہ نسبت اس کے جو بے توقیر ہے اور صاف بول بھی سکتا ہے۔ اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں اتار دیئے گئے ۔ یا اس کے ساتھ پر اباندھ کر فرشتے ہی آجاتے۔ ( یہ سب کہہ کر) اس نے اپنی قوم کی عقل کھو دی اور انہوں نے اس کی مان لی۔ یقینا یی سارے لوگ نافرمان تھے۔ 

بنی اسرائیل پر فرعون کا ظلم و ستم

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کرنے سے فرعون نے اپنی قوم کو تو روک دیا لیکن بنی اسرائیل بدستور آپ علیہ السلام کی اتباع کر تے رہے ۔ یہ دیکھ کر فرعون نے اپنے وزیروں اور سرداروں سے مشورہ کیا کہ قبطیوں کو تو ہم نے قابو میں کر لیا ہے لیکن بنی اسرائیل مسلسل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات مان رہے ہیں۔ اُن کا کیا کیا جائے؟ تو ہامان نے اور دوسرے سرداروں نے مشورہ دیا کہ اُن پر اتنا ظلم کیا جائے کہ وہ اسلام چھوڑ دیں۔ فرعون نے ایسا ہی کیا۔ اور بنی اسرائیل سے اتنے سخت کام لینے لگا کہ جو وہ نہیں کر سکتے تھے۔ اور کام پورا نہ ہونے پر انہیں سخت سزائیں دینے لگا۔ اور بنی اسرائیل کے لئے اتنے سخت قوانین بنائے کہ اُن کی زندگی موت سے بد تر ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور قومِ فرعون کے سرداروں نے کہا کی کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام ) اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں۔ اور وہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کئے رہیں۔ فرعون نے کہا ۔ ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے اور عورتوں کو زندہ رہنے دیں گے۔ اور ہم کو اُن پر ہر طرح کا زور( حاصل ) ہے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر127)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تسلّی اور بنی اسرائیل کا جواب

بنی اسرائیل پر فرعون نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ اس کی شکایت انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کی تو چونکہ ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی واضح حکم نہیں آیا تھا اسی لئے آپ علیہ السلام نے انہیں صبر کی تلقین کی اور تسلی دی اور فرمایا۔ اے بنی اسرائیل، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، اور صبر سے کام لو۔ اور اسلام پر مضبوطی سے قائم رہو۔ بے شک پوری زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنی زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نیک بندوں کو بہترین اجر عطا فرماتا ہے۔ بنی اسرائیل نے جواب میں کہا۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ آپ علیہ السلام کے اعلانِ نبوت سے پہلے بھی ہم غلام اور مجبور تھے۔ اور آپ علیہ السلام کے آنے کے بعد بھی ہمارا وہی حال ہے۔ اور ہمارے اوپر فرعون کا ظلم و ستم بڑھتا جا رہا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوںسے تمہیں نجات دے گا۔ اور تمہیں زمین کا وارث بنائے گا۔ اس کے بعد دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کر تے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا سہارا تلاش کرو اور صبر کرو۔ یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وہ مالک بنا دے۔ اور آخری کامیابی اُن ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ قو م کے لوگ کہنے لگے۔ کہ ہم تو ہمیشہ ہی مصیبت میں رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی تشریف آوری سے پہلے بھی اور آپ علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد بھی۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا۔ اور ان کی بجائے تم کو اس سر زمین کا خلیفہ بنادے گا۔ پھر تمہارا طرزِ عمل دیکھے گا۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر128سے129تک)

قحط سالی کا عذاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو تسلی دی اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی ۔ اور فرعون کو کئی طرح کے عذابوں میں مبتلا کر کے سنبھلنے کا موقع دیا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے وقفہ وقفہ سے فرعون کی قوم پر عذاب نازل فرمایا۔ تا کہ اُن پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہو جائے۔ ایک قسم کا عذاب نازل کرنے کے بعد ان کو توبہ کرنے اور رجوع کرنے کا موقع دیا۔ پھر دوسری قسم کا عذاب نازل فرمایا۔ اور اس طرح وقفہ وقفہ سے چھ قسم کا عذاب نازل فرمایا۔ لیکن جب انہوں نے رجو ع نہیں کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں سمندر میں غرق کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور قبطیوں یعنی اُن کے ساتھیوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور فرمایا۔ ۔ ابھی بھی وقت ہے اپنے آپ کو بدل لو اور اسلام قبو ل کر کے بنی اسرائیل پر ظلم کرنا بند کردو۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ تمہیں سخت تکلیفوں میں مبتلا کر دے۔ فرعون اور اس کی قوم نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایاا ور بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھا۔ تو اللہ نے انہیں قحط میں مبتلا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قحط سالی میں اور پھلوں کی پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا۔ تا کہ وہ نصیحت قبول کریں۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر130) مفتی احمد یار خان نعیمی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ دیہاتوں میں اناج کا قحط ہو گیا اور شہروں میں پھلوں کی پیداوار کم ہو گئی۔ لہٰذا دیہاتوںسے اناج شہروں میں نہیں آتے تھے اور شہروں سے پھل دیہاتوں میں نہیں جاتے تھے۔ حتیٰ کہ کھجور کے درخت پر صرف ایک کھجور لگتی تھی۔ بارش نہیں ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ کنویں خشک ہو گئے۔ دریائے نیل میں پانی نہیں بہہ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ آگے فرماتے ہیں فرعونیوں پر یہ عذاب اس لئے بھیجے گئے کہ وہ ان کے ذریعے نصیحت حاصل کریں۔ کیوں کہ انسان آفتوں اور مصیبتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو تا ہے۔ اور توبہ و غیرہ کرتا ہے۔ اسی جگہ تفسیر خازن میں لکھا ہے کہ فرعون کی عمر کل چھ سو بیس620سال ہوئی ۔ جن میں سے چار سو 400سال اس نے ملک مصر پر حکومت کی ۔ اپنے دور حکومت میں 220سال تک اس سے پہلے کبھی فرعون نے کوئی بیماری، بھوک ، اور فکر وغیرہ نہیں دیکھی تھی۔ اسی لئے وہ خدائی دعویٰ کر بیٹھا۔ خیال رہے کہ دوسری عذاب والی قوموں کو اس قدر ڈھیل نہیں دی گئی جتنی ڈھیل فرعون اور اس کی قوم کو دی گئی ہے۔ اسے چھ بار مختلف عذاب آئے۔ اور ہر عذاب کے آنے پر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں عرض کرتا کہ اگر آپ علیہ السلام اس عذاب کو دفع کرادیں تو ہم سب ایمان لے آئیں گے۔ اور بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کے ساتھ بھیج دیں گے۔ قحط سالی اور پھلوں کی پیداوار کی کمی سے جب یہ لوگ بھوکے مرنے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ اپنے رب سے دعا کر کے قحط سالی کو دور کرادیں تو ہم آپ علیہ السلام پر اور اللہ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے قحط سالی کو ختم کر دیا ۔ لیکن بدبخت فرعون اور اس کی قوم نے اسلام قبول نہیں کیا۔

پانی کا عذاب

اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قبطیوں میں مبتلا کر کے ایک ہلکا سا سبق سکھایا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے عقل نہیں پکڑی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُن پر طوفان یعنی بارش بھیجی۔ پورے آسمان پر کالا گھنا بادل چھا گیا اور بارش ہونے لگی۔ فرعون کے محل میں اور قبطیوں کے گھروں میں پانی نہیں تھا۔ امام قرطبی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک روایت کے مطابق جادوگروں پر غالب آنے کے بعد فرعون اور اس کی قوم کے درمیان چالیس40برس تک مصر مےں ٹہرے رہے۔دوسری رواےت مےںبےس ۰۲ برس تک ٹہرے رہے اور اسی دوران فرعون اور اس کی قوم پرمختلف قسم کے عذاب آتے رہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ” الطوفان “ سے مراد شدید بارش ہے۔ اس بارش کا پانی فرعون کے محل اور اس کی قو م کے گھروں میں گھس گیا ۔ یہاں تک کہ وہ تیرنے لگے۔ وہ سیلاب اُن پر چکر لگاتا رہا اور ہلاک کرتا رہا۔ جب کہ بنی اسرائیل کے گھروں میں اس پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں پہنچا ۔ اور قبطیوں کے گھروں میں اتنا پانی تھا کہ وہ اپنی ہنسلیوں تک پانی میں ڈوبے کھڑے رہے۔ اور وہ پانی مسلسل سات دن تک اُن پر رہا۔ اور ایک روایت کے مطابق چالیس 40دن تک رہا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور فرمایا کہ ابھی وقت ہے۔ اسلام قبول کر لو اور بنی اسرائیل کو آزاد کر کے میرے ساتھ جانے دو۔ تب انہوں نے یعنی فرعون اور قبطیوں نے کہا کہ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر دیں کہ اس عذاب کو ہم پر سے ہٹا دے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے عذاب کو ہٹا لیا اور پانی کو کھیتوں اور باغوں کی طرف بھیج دیا۔ اور اس کی وجہ سے اناج اور پھلوں کی پیداوار بہت زیادہ ہوئی۔ یہ دیکھ کر فرعون اور اس کے ساتھیوں نے کہا۔ یہ پانی تو ہمارے لئے نعمت تھا۔ اور اسلام قبول نہیں کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون پر طوفان بھیجا اور اس سے مراد بارش ہے۔ تو فرعونیوں نے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام ) اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ اس بارش کو ہم سے دور ہٹا دے۔ ہم آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کے ساتھ بھیج دیں گے۔ آپ علیہ السلام نے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر سے بارس روک لی۔ اور اس سال اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اتنا اناج ، پھل اور گھاس اگائی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں اگائی تھی۔ تو وہ کہنے گے کہ یہ وہی ہے جس کی ہم تمنا اور آرزو کر تے تھے۔

ٹڈیوں کا عذاب 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قوم فرعون کو پھر سمجھایا ۔ پانی کے عذاب کے بعد بھی فرعون اور اس کی قوم کفر پر ہی اڑے رہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر ٹڈیوں کا عذاب بھیجا۔ ٹڈیاں اتنی زیادہ آگئیں کہ اُن کی وجہ سے سورج چھپ گیا۔ یہ ٹڈیاں فرعون کے محل اور قبطیوں کے گھروں میں گھس گئیں اور بنی اسرائیل کے گھروں میں نہیں گھسیں۔ ان ٹڈیوں نے فرعون اور قبطیوں کی کھیتیاں ، پھل اور اناج وغیرہ کھانےلگے۔ ان ٹڈیوں نے درختوں کے پتے ، مکانوں کےدروازے ، چھتوں اور تختوں تک کو کھا لیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن پر ٹڈی دل کے بادل بھیجے۔ انہوں نے ان کی فصلوں، پھلوں حتیٰ کہ درختوں کو کھا لیا۔ بلکہ انہوںنے دروازوں کو ، مکان کی چھتوں کو ہر قسم کی لکڑی کو ، لکڑیوں کے سامان کو، کپڑوں کو حتیٰ کہ دروازوں کی کیلوں( کھِلّوں) تک کو کھا لیا۔ یہ ٹڈیاں ہر چیز کو کھا رہی تھیں اور ان کی بھوک ختم ہی نہیں ہو رہی تھی۔ آخر کا ر فرعون اور قبطی چلّا اٹھے اور فریاد کی۔ اے موسیٰ(علیہ السلام )آپ کے رب نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے اس وعدہ کے واسطے اپنے رب سے دعا کریں۔ اگر یہ عذاب ہم سے دور کر دیا گیا تو ہم ضرور آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے اور انہوںنے بہت پختہ وعدہ کیا اور پکی قسمیں کھا ئیں۔ ان پر ٹڈیوں کا عذاب ایک سنیچر سے دوسرے سنیچر تک رہا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ٹڈیوں کا یہ عذاب دور کر دیا۔ بعض احادیث میں ہے کہ ہے ٹڈیوں کے سینہ پر لکھا ہو ا تھا۔ ” جند اللہ الاعظم“ یعنی اللہ کا عظیم لشکر۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا فضا میں مشرق سے مغرب کی طرف گھمایا تو ٹڈیاں جہاں سے آئی تھیں وہیں واپس چلی گئیں۔ ان کے پاس جو اناج اور پھل اور دوسرے کھانے کے سامان بچ گئے تھے اسے دیکھ کر ان لوگوں نے کہا۔ یہ ہمارے لئے کافی ہیں۔ اور ہم اپنے دین کو نہیں چھوڑ یں گے۔ انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور کفر پر ڈٹے رہے۔ 

جوو‘ں یا گھُن کے کیڑے کا عذاب

اللہ تعالیٰ بار بار فرعون اور اس کی قوم کو سمجھانے کے لئے الگ الگ عذاب بھیج رہے تھے۔ وہ بد بخت لو گ بار بار آپ علیہ السلام سے وعدہ کر کے توڑ رہے تھے۔ اور کفر پر ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل پر ظلم و ستم بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ”قمل“ کا عذاب بھیجا۔ قُمل جوئیں یا گھن کے کیڑے کو کہا جاتا ہے۔ ان کیڑوں نے باقی بچے ہوئے پھل اور اناجوں پر حملہ کر دیا۔ یہ کیڑے کپڑوں میں گھس جاتے تھے اور بہت بری طرح سے کاٹتے تھے۔ اور ان کے کھانے میں گھر جاتے تھے۔ اگر کوئی ایک تھیلہ اناج لے کر جاتا تھا تو کیڑے اسے کھا ڈالتے تھے اور وہ دو تین کلو ہی بچتا تھا۔ ان کیڑوں نے فرعون اور قبطیوں کے بال تک کھا ڈالے ۔ یہاں تک کہ ان کی بھنویں اور پلک کے بال تک چاٹ گئے۔ اُن کا کھانا، پینا اور سونا دشوار ہو گیا۔ جب کہ بنی اسرائیل بہت آرا م سے تھے۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گندم ( گیہوں) میں جو سر سریاں ( کیڑے ) نکلتے ہیں۔ وہ قُمل ہیں۔ بعض نے کہا ۔ یہ جچڑی کی ایک قسم ہے۔ اور بعض نے کہا یہ جوئیں ہیں۔ اور بعض نے کہا۔ یہ ایک قسم کا کیڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ وہ شہر سے باہر کسی بڑے ٹیلے کے پاس جائیں اور اس ٹیلے پر اپنا عصا ماریں۔ عصا مارنے سے اس ٹیلے کے اندرسے وہ کیڑے ( قُمل ) پھوٹ پڑے۔ وہ ان کے بچے کچے کھیتوں کو کھا گئے۔ ان کے کپڑوں میں گھس گئے ۔ ان کا کھانا ان کیڑوں سے بھر جاتا ۔ وہ ان کے بالوں میں، پلکوں میں ، بھنوﺅں میں گھس گئے۔ اُن کے ہونٹوں اور کھالوں میں گھسنے لگے۔ ان کا چین و قرار جاتا رہا۔ وہ سو نہیں سکتے تھے۔ آخر کار وہ لوگ بے چین اور بے قرار ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور رو رو کر فریاد کرنے لگے۔ کہ ہم تو بہ کرتے ہیں آپ علیہ السلام اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہم پر سے عذاب اٹھا لے۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی تو تمام کیڑے واپس چلے گئے۔ لیکن ان بد بختوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔،

مینڈکوں کا عذاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیا ہوا وعدہ پھر سے فرعون اور اس کی قوم نے توڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سمجھانے کے لئے اس بار مینڈکوں کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ بے حد اور بےشمار مینڈک آگئے اور فرعون اور قبطیوں کے گھروں میں گھس گئے۔ جہاں جہاں یہ جاتے تھے مینڈک ان کے ساتھ چلتے تھے۔ فرعون جب دربار لگاتا تو پورا دربار مینڈکوں سے بھر جاتا ۔قبطی اگر کہیں بیٹھے بات کرتے رہتے تو وہ جگہ مینڈکوں سے بھر جاتی تھی۔ اگر کچھ بولنے کے لئے کوئی منہ کھولتا تو مینڈک اس کے منہ میں گھس جاتا تھا۔ پکانے کے چولہے میں مینڈک گھس جاتے تھے اور چولہا بجھ جاتا تھا۔ کھانا پکاتے وقت ہانڈیوں میں مینڈک گھس جاتے تھے۔ جب کہ بنی اسرائیل مینڈکوںسے پوری طرح محفوظ تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فرعون نے اپنے محل کے نہر کے پاس مینڈک کے ٹرّانے کی آواز سنی۔ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلو کر مینڈک کی آواز سنائی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے فرعون، کیا تو اور تیری قوم اس مینڈک سے مل چکے ہو؟ تو فرعون نے کہا۔ کیا تمہارا رب اس مینڈک کے قریب ہے؟ پس جب شام ہوئی تو فرعون اور اس کی قوم کا ہر آدمی اپنی ٹھوڑی تک مینڈکوں میں تھا۔ اور ان میں سے کوئی بات کرنا چاہتا تو مینڈک اچھال کر اس کے منہ میں چلا جاتا تھا۔ اور ان کے ہر برتن مینڈکوں سے بھرے پڑے تھے۔ تو انہوں نے پہلے کی طرح وعدہ کیا اور دعا کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے مینڈکوں سے آزادی عطا فرمادی۔ لیکن انہوں نے وعدہ وفا نہیں کیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر مینڈکوں کا عذاب بھیجا ۔ جس سے ان کے گھر اور صحن بھر گئے۔ ان کے کھانے کے برتن میں مینڈک بھر گئے۔ جب وہ سوتے وقت کروٹ بدلتے تو دوسری جانب مینڈکوں کا ڈھیر لگ جاتا اور وہ کروٹ نہیں بدل سکتے تھے۔ وہ آٹا گوندھتے تو آتے میں مینڈک لتھڑ جاتے اور سالن کی ہانڈی کھولتے تو مینڈک اس میں بھر جاتے ۔ اس مصیبت پر فرعون اور اس کی قوم کے لوگ رو پڑے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے روتے ہوئے فریاد کی کہ اس عذاب سے ہمیں نجات دلا دیں۔ اس بار ہم پکا وعدہ کرتے ہیں کہ اسلام قبول کر لیں گے یا پھر بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کے ساتھ بھیج دیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے مینڈکوں کا عذاب ختم کر دیا۔لیکن بد بختوں نے پھر اپنا وعدہ توڑ دیا۔

خون کا عذاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بار بار فرعون اور اس کی قوم کے لوگ جھوٹ بول کر عذاب کوٹالتے تھے۔ اس بار اللہ تعالیٰ نے انہیں خون کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ ان کے برتن خون سے بھر گئے۔ وہ لوگ کنویں سے پانی نکالتے اور اپنے برتن میں ڈالتے تو وہ خون بن جاتا تھا۔ دریائے نیل کا پانی جیسے ہی اپنے برتن میں لیتے تو وہ خون بن جاتا تھا۔ جب کہ بنی اسرائیل کے برتنوں میں پانی ہی رہتا تھا۔ فرعون اور قبطی پانیپی نہیں پارہے تھے۔ اور پیاسے رہ رہے تھے۔ فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل اور قبطی ایک ہی برتن میں پانی لیں۔ لیکن جیسے ہی قبطی اس برتن کو لیتے تھے وہ خون بن جاتا اور جب وہ برتن بنی اسرائیل کے شخص کے ہاتھ میں دیتے تو پانی بن جاتا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر خون کا عذاب بھیجا۔ ان کے گھروں میں برتنوں میں رکھا ہوا پانی خون بن گیا۔ دریائے نیل کا پانی اور کنوﺅں اور نہروں کا پانی اپنے برتنوں میں لیتے تو وہ سرخ گاڑھا خون بن جاتا تھا۔ انہوں نے فرعون سے شکایت کی کہ اب ہمیں پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہے۔ فرعون نے کہا یہ موسیٰ (علیہ السلام )کا جادو ہے۔ قبطیوں نے کہا۔ یہ جادو کہاں سے ہو گیا۔ ہمارے تمام برتنوں میں خون بھرا ہے۔ اور اسرائیلوں کے برتن میں پانی ہے۔ فرعون نے حکم دیا کہ اسرائیلیوں کے برتنوں میں پانی پیﺅ۔ لیکن جب وہ بنی اسرائیل کے پانی کا برتن لیتے تو ان کے ہاتھ میں آکر خون بن جاتا تھا۔ یہاں تک کہ قبطی عورتیں پیاس سے مجبور ہو کر بنی اسرائیل کی عورتوں کے پاس آتیں اور کہتیں کہ اپنے منہ میں پانی لے کر ہمارے منہ میں ڈال دو۔ لیکن جب تک وہ پانی بنی اسرائیل کی عورت کے منہ میں رہتا تب تک پانی رہتا اور جیسے ہی قبطی عورت کے منہ میں جاتا تو خون بن جاتا تھا۔ آخر کار انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی اور آپ علیہ السلام نے اُن پر رحم کھا کر دعا فرمائی اور خون کا عذاب دور ہو گیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں