منگل، 16 مئی، 2023

08 حضرت یوشع علیہ السلام Story of Prophet yosha


08 حضرت یوشع علیہ السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر13

قسط نمبر 8

مشرقی قبیلوں کی اپنے علاقے میں واپسی

حضرت یوشع علیہ السلام نے جب تمام بنی اسرائیل کے علاقے بانٹ دیئے تو اُن ڈھائی قبیلوں یعنی بنو روبیل ( روبن) ، بنو جد اور بنو یوسف ( یعنی بنو منسی) کا آدھا قبیلہ جن کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اردن کے پار کے علاقے دیئے تھے۔ ان سے فرمایا۔ تمہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو حکم دیا تھا۔ تم سب نے اس پر عمل کیا اور اپنے بھائیوں یعنی بقیہ بنی اسرائیل کی ہر طرح سے مدد کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو خدمت تمہارے ذمہ لگائی تھی اسے پورا کیا۔ اب اللہ تعالیٰ نے تمہارے بھائیوں کو اپنے وعدہ کے مطابق آرام بخشا۔ اب تم اردن کے اس پار اپنے علاقے میں جو تمہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیا تھا چلے جاﺅ۔ لیکن خیال رہے کہ تم توریت کے احکام اور شریعت پر ہمیشہ عمل کرتے رہنا۔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تمہیں دی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا ، اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا۔ اور اس کے احکامات کو اپنانا اور ان سے لپٹے رہنا۔ اور اپنے سارے دل سے اور ساری جان سے اللہ کے دین ( اسلام) کے مطابق عمل کرنا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس ڈھائی قبیلے کو جو علاقہ دیا تھا وہ لوگ اپنے اس علاقے میں چلے گئے۔ بنو یوسف میں دو گھرانے بنو منسی اور بنو فرائیم وجود میں آگئے تھے۔ آدھا قبیلہ بنو منسی کو جو علاقہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیا تھا اس کے بازو میں حضرت یوشع علیہ السلام نے اُن کے بقیہ آدھے قبیلے بنو افرائیم کو علاقہ دیا۔

حضرت یوشع علیہ السلام کا آخری خطبہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے تمام قبائل کو ان کے علاقے دے کر انہیں وہاں رہائش اختیار کرنے میں بھر پور مد د دی۔ اور اسلامی حکومت قائم کر کے اللہ کے قانون کے مطابق نظامِ حکومت چلاتے رہے۔ آپ علیہ السلام نے پورے ملک کنعان اور جہاں بنی اسرائیل آباد تھے۔ ان تمام علاقوں کا انتظام بہت خوبی سے چلایا ۔ اور برسوں تک اسلامی حکومت چلاتے رہے۔ آپ علیہ السلام کی حکومت میں بنی اسرائیل بڑے سکون سے رہے۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام نے آس پاس کے ممالک کے کافروں اور مشرکوں کو بڑی خوبی سے اپنے قابو میں کیا ہوا تھا۔ جب آپ علیہ السلام کی عمر مبارک زیادہ ہو گئی۔ اور ضعیفی اور کمزوری آگئی تو آپ علیہ السلام نے پوری اسلامی حکومت میں بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبیلوں میں اعلان کر وا دیا کہ فلاں دن تمام بنی اسرائیل فلاں میدان میں جمع ہو جائیں۔ اعلان کے مطابق تمام بنی اسرائیل اور ان کے تمام بزرگ اور تمام امراءاور تمام قاضی اور عہدے دار جمع ہو گئے۔ تب آپ علیہ السلام ایک پہاڑی پر کھڑے ہو ئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا۔ میں نے تم لوگوں کو اس لئے بلایا ہے کہ تم دیکھ رہے ہو کہ میں عمر رسیدہ اور ضعیف ہو چکا ہوں ۔ تم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کے خلاف کس طرح تمہاری مدد کی۔ اور اس نے تمہیں اردن سے لے کر مغرب میں بڑے سمندر ( بحر اوقیانوس) تک کا سارا علاقہ تمہیں عطا فرمایا۔ اور میں نے قرعہ اندازی کے ذریعے تمہیں وہ وسیع علاقہ تقسیم کیا۔

اللہ کی بندگی کا حکم

حضرت یوشع علیہ السلام نے اس کے بعد اپنا خطبہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔ اے بنی اسرائیل ، تم میرے بعد ہمت سے کام لینا۔ اور جو کچھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نازل ہوئی کتاب توریت میں لکھا ہے اس پر ادھر ادھر مڑے بغیر خلوص سے عمل کرتے رہنا۔ اور وہ کافر قومیں جو تمہارے آس پاس اور تھوڑی بہت تمہارے درمیان رہتی ہیں۔ ان کے مذہب کے تعلق سے ان سے کوئی ربط و ضبط نہیں رکھنا۔ ان کے معبودوں کی عبادت نہیں کرنا بلکہ ان سے بیزاری ظاہر کرنا۔ ان کے معبودوں کو قسم نہیں کھانا۔ اور ان کے معبودوں کی عبادت اور سجدہ نہیں کرنا۔ بلکہ تم صرف ایک اللہ وحدہ لا شرک کی ہی عبادت اور بندگی اور سجدہ کرنا۔ جیسا کہ آج تک میرے ساتھ کرتے آئے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی اور تمہارے سامنے بڑی بڑی زور آور طاقتور قوموں کو پسپا کیا ہے۔ اور آج کوئی ملک ، کوئی بادشاہ اور کوئی شخص تمہارے سامنے ٹھہر نہیں سکاہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد تمہارے ساتھ تھی۔ اسی لئے ہمیشہ اپنے دل میں اللہ کی محبت قائم رکھنا۔ اور اس کے غضب اور عذاب سے ڈرتے رہنا۔ اور اسلام پر سختی سے قائم رہنا۔

تب اللہ کا غضب بھڑکے گا اور ذلیل ہو جاﺅ گے

حضرت یوشع علیہ السلام نے اپنے خطبے میں آگے فرمایا۔ لیکن اگر تم گمراہ ہو جاﺅ گے۔ اور ان کافر قوموں سے مذہبی میل جول کر لوگے۔ اور ان کے ساتھ شادی بیاہ رچالو گے اور ان سے راہ و رسم بڑھا لو گے۔ تو یقین جانو اللہ تعالیٰ ان کافروں کو تم پر حاوی کردے گا۔ اور وہ تمہارے لئے جلال او پھندا اور تمہاری آنکھوں کے کانٹے بن جائیں گے۔ اور دھیرے دھیرے تم اس ملک میں جو تمہیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اس ملک میں نابود ہو جاﺅ گے۔ اب میں آج اسی راستے پر جانے والا ہوں۔ جس راستے پر ہمارے باپ دادا حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب ، حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ علیہم السلام چلے گئے ہیں۔ اور تم یہ اچھی طرح جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جو بھی وعدہ کیا اسے پورا کیا۔ اب اگر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہر وعدہ تم سے پورا کرنے کے بعد تمہیں نافرمانی ، گمراہی، کفر و شرک میں مبتلا دیکھے گا تو اس کا غضب ( غصہ انسانی فطرت کا حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سمجھ بوجھ کر غضب ہوتا ہے) تم پر بھڑک اٹھے گا۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد ( اسلام اور ہر حالت میں صرف اللہ کی عبادت ) کو توڑدو گے اور جا کر دوسرے معبودوں کی عبادت کرنے لگو گے اور ان کے آگے سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر غضب ناک ہو جائے گا۔ اور اس نے تمہیں جو ملک دیا ہے اس میں سے تمہیں نیست و نابود کر دے گا۔ یعنی نکال دے گا۔

بنی اسرائل سے عہد لینا

حضرت یوشع علیہ السلام نے اپنے خطبے میں آگے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہارے جداعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت اور نبوت سے سرفراز فرمایا اور انہیں ملک کنعان میں بسایا۔ اسے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہم السلام عطا فرمائے۔ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو فاران کے پاس حرم شریف( مکہ مکرمہ ) میں بسایا۔ اور حضرت اسحاق علیہ السلام کو عیصو( عیسو) اور حضرت یعقوب علیہ السلام عطا فرمائے۔ اور عیصو کو کوشعیر کا پہاڑی ملک دیا۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کو مصر میں بسایا۔ اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے۔ پھر میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو تمہارے پاس بھیجا۔ اور ان دونوں کے ساتھ تمہیں مصر سے نکال لایا۔ اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سزا دی۔ پھر تمہارے باپ دادا نے نافرمانی کی اور میرے لئے ( اللہ کے لئے ) لڑنے سے انکار کر دیا۔ تب انہیں چالیس سال بھٹکنے کی سزا ملی۔ پھر میں نے تمہیں یہ ملک عطا فرمایا۔ اب تم اس ملک میں سکون سے رہتے ہو۔ اور تم کو وہ شہر عنایت فرمائے جو تم نے نہیں تعمیر کئے تھے۔ اور آج تم ان میں بسے ہوئے ہو۔ اور نخلستانوں اور کھیتوں اور زیتون کے باغوں کے پھل کھاتے ہو جو تمہارے لگائے ہوئے نہیں ہیں۔ اس لئے اب تم نہایت وفاداری سے صرف میری عبادت کرو۔ اور ان معبودوں کو پھینک دو جن کی عبادت تمہارے باپ دادا دریاکے اس پار مصر میں کرتے تھے۔ اس کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا۔ میں اور میر اگھر انہ تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کریں گے۔تب بنی اسرائیل کے تمام لوگوں نے کہا۔ ہم بھی صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کریں گے۔ کیوں کہ وہی ہمارا معبود ہے۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر تم شرک کرنے لگو تو اللہ تعالیٰ تمہارے شرک سے پاک ہے۔ وہ غیّور معبود ہے۔ پھر وہ تم پر آفت نازل کرے گا۔ اور تمہارا قتل عام کرائے گا۔ اور تمہیں بکھیر کر رکھ دے گا۔ تمام بنی اسرائیل نے ایک زبان ہو کر کہا۔ ہم عہد کرتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کریں گے اور اس کے احکامات پر ہی عمل کریں گے۔ تب حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا۔ اب تم اپنے آپ پر کود ہی گواہ ہو کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی کرنے کو پسند کیا ہے۔ تما م بنی اسرائیل نے کہا۔ ہاں، ہم گواہ ہیں۔ تب حضرت یوشع علیہ السلام نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا۔اے اللہ تعالیٰ، تو بھی گواہ رہنا۔

حضرت یوشع علیہ السلام کا وصال

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر مبارک ننانوے 99سال تھی۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ساتھ مل کر لگ بھگ 8یا 10یا12یا 15سال تک جنگ کر کے پورے ملک کنعان کو فتح کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قرعہ اندازی کر کے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کو اس ملک میں بسایا۔ اور اسلامی حکومت قائم کی۔ اور بنی اسرائیل کی تربیت کرتے رہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل بیت المقدس کو فتح کر کے اس میں متمکن ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق ان کی تربیت فرمائی۔ ایک عرصے تک آپ علیہ السلام ان کے درمیان فیصلے فرماتے رہے۔ آخر کار جب آپ علیہ السلام کی عمر مبارک 126برس کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد آپ علیہ السلام 26سال زندہ رہے۔

اگلی کتاب

حضرت یوشع علیہ السلام کے حالات مکمل ہوئے ۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت یونس علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔

    ٭........٭........٭

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں