ہفتہ، 27 مئی، 2023

08 حضرت سلیمان علیہ السلام Story of Prophet Suleman



08 حضرت سلیمان علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 15

لوہے اور تانبے کی صنعت

اللہ تعالیٰ نے سورہ سبا میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے ان کے لئے ( حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے ) تانبے کا چشمہ بہا دیا۔“ (سورہ سبا آیت نمبر12) اس آیت سے ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے کی خاطر پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کر دیا۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا یقینی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ ہم تو صرف یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ہاں تاریخ کے مطالعہ اور آثار قدیمہ کی کھدائی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوہے کا استعمال 1200قبل مسیح اور 1000قبل مسیح کے درمیانی وقت میں شروع ہوا۔ اور یہ وقت حضرت داﺅد علیہ السلام کا زمانہ ہے۔ اور اسی دوران تانبے کی صنعت بھی شروع ہوئی۔ اور یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا زمانہ ہے۔ حالیہ فلسطین کے جنوب میں ادوم کا علاقہ آج بھی خام لوہے کی دولت سے مالا مال ہے۔ اور لگ بھگ ساٹھ 60برس پہلے اس علاقے میں آثار قدیمہ کی جو کھدائیاں ہوئی تھیں۔ ان میں کثرت سے ایسی جگہوں کے آثار ملے ہیں جہاں لوہا پگھلا نے کی بھٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ اسی طرح عقبہ اور ایلا سے متصل حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے کی بندرگاہ ( گودی) عصیون ، جابر کی کھدائی میں آثار قدیمہ والوں کو ایک بہت بڑی بھٹی ملی ہے۔ اور تحقیق کرنے پر آثار قدیمہ والے حیران رہ گئے کہ آج کے جدید ترین زمانے میں جو تکنکل ہم اپنی بھٹیوں میں استعمال کرتے ہیں وہی تکنک ہم سے کہیں بہتر طریقے سے اس بھٹی میں استعمال کئے گئے تھے۔ جو حضرت داﺅد اور حضرت سلیمان علیہم السلام کے زمانے کی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا بہت بڑا بحری بیڑہ تھا۔ اس کے علاوہ آپ علیہ السلام کے تجارتی بحری جہاز بحیرہ روم کی بندرگاہوں سے پوری دنیا میں آتے اور جاتے تھے ۔ عصیون جابر میں آپ علیہ السلام کے زمانے کی جو عظیم الشان بھٹی ملی ہے اس کے مقابلے کی آج تک مغربی ایشیاءاور مشرق وسطیٰ میں کوئی بھٹی نہیں ملی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ یہاں ادوم کے علاقہ عربہ کی کانوں سے خام تانبا اور لوہا لایا جاتا تھا۔ اور اس بھٹی میں پگھلا کر صنعتی کاموں اور جہاز سازی میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے تانبے کی صنعت شروع کی۔ اور آپ علیہ السلام کے زمانے میں تانبے کو پگھلانے اور اس سے طرح طرح کی چیزیں بنانے کا کام اتنے بڑے پیمانے پر کیا گیا کہ گویا وہاں تانبے کے چشمے بہہ رہے ہوں۔ حالانکہ کچھ مفسرین کرام نے یہی مطلب لیا ہے کہ آپ علیہ السلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا۔

مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی مسماری

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنے والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام کی وصیت کے مطابق بڑی لگن سے مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی تعمیر کی۔ اور اس طرح بنی اسرائیل کو ایک مرکزی مسجد حاصل ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ اسراءیا سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا ہے کہ اس مسجد کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں یہ مرکزی مسجد رہی۔ آپ علیہ السلام کے بعد بھی اسے مرکزیت حاصل رہی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل میں بے انتہا خرابیاں ہوتی گئیں۔ جن میں سے ایک بڑی خرابی یہ تھی کہ بنی اسرائیل اپنے آپ کو یہودی کہلوانے پر فخر محسوس کرنے لگے۔ بنی اسرائیل کا سب سے بہترین عروج کا دور حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور رہا ہے۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام بنو یہودا قبیلے یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں میں سے جس کا نام یہودا تھا اس کی اولاد میں تھے۔ اسی لئے بنی اسرائیل یہودا کے نام پر اپنے آپ کو یہودی کہلوانے لگے۔ اور ایک بڑی خرابی ان میں یہ بھی پیدا ہو گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت ( توریت) میں ملاوٹ کر دی تھی تا کہ دنیاوی فائدے حاصل کر سکیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ کوئی نبی اُن میں بھیجتے تھے ان کی ان خرابیوں کی وجہ سے بنی اسرائیل انہیں جھٹلاتے تھے۔ اور بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو تو یہ بد بخت قتل بھی کر دیتے تھے۔ ان کی ان خرابیوں کی وجہ سے بنی اللہ تعالیٰ ان پر کسی ظالم بادشاہ کی شکل اپنا عذاب مسلط کر دیتے تھے۔ وہ ظالم بادشاہ یہودیوں ( بنی اسرائیل ) کو محکوم بنا تا تھا۔ اور ان کی مرکزی مسجد یعنی ہیکل سلیمانی کی بے حرمتی کرتا تھا۔ اس طرح سینکڑوں برس گزر گئے۔ اور بنی اسرائیل ذلیل ہوتے رہے ۔ اور دو رمرتبہ تو ایسا ہوا کہ مسجد بیت المقدس ( یعنی ہیکل سلیمانی) کو پورے طور سے مشرک قوموں نے مسمار کر دیا۔ پہلی مرتبہ تو حضرت عزیر علیہ السلام نے پھر سے مرکزی مسجد کی تعمیر کرلی تھی۔ لیکن دوسری مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھوا کر جرام عظیم کیا۔ تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر نازل ہوا۔ اور مشرک قومیں بنی اسرائیل پر ٹوٹ پڑیں اور بنی اسرائیل کا اتنی بری طرح سے قتل عام کیا کہ وہ اپنی جان بچانے بھاگے اور تتر بتر ہو کر پوری دنیا میں بکھر گئے۔ اور مشرک قوموں نے مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کو پوری طرح سے مسمار کر دیا۔ اور صرف اس کی ایک ٹوٹی ہوئی دیوار بچی تھی۔ جس کے پاس جا کر یہودی ( بنی اسرائیل ) روتے ہیں۔ اسی لئے اس دیوار کا نام ”دیوار گریہ “ پڑ گیا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھوانے کے جرم میں یہودیوں یعنی بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ جس کی وجہ سے بنی اسرائیل پوری دنیا میں بکھر گئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے عروج عطا فرمایا۔ اور عیسائی دنیا کی سوپر پاور بن گئے۔ بیت المقدس شہر عیسائیوں کے قبضہ میں رہا۔ اور بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو وہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ دنیا میں جہاں جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی وہاں وہاں عیسائی حکمراں بنی اسرائیل کو بری طرح ذلیل کرتے تھے۔ مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کی جگہ ویران پڑی رہی اور چھ سو سال تک ویسے ہی پڑی رہی اور عیسائیوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ لگ بھگ چھ سو سال بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس پر فتح حاصل کی۔ بیت المقدس کے عیسائیوں نے خلیفہ دوم سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا اور امید دلائی کہ ہو سکتا ہے خلیفہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیں۔ حضڑت عمر فاروق رضی اللہ فلسطین تشریف لائے۔ اور تمام عیسائیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی نشانیوں کے مطابق ”چٹان داﺅدی“ ( وہ چٹان جس سے آسمان کی طرف فرشتوں کو آسمان کی طرف جاتے ہوئے حضرت داﺅد علیہ السلام نے دیکھا تھا) تلاش کر کے وہاں مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس کی تعمیر کروائی ۔ تب سے مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا۔ درمیان میں عیسائیوں نے مسلمانوں سے چھین لیاتھا۔ اور بیانوے92سال تک ان کے قبضے میں رہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ”مرد عابد“ صلاح الدین ایوبی کو پیدا فرمایا۔ اور اللہ کے اس نیک بندے اور سپہ سالار نے 92سال بعد اسے عیسائیوں کے پنجے سے آزاد کروایا۔ اس کے بعد پھر یہ کئی سو سال تک مسلمانوں کے پاس رہی لیکن یہودیوں ( بنی اسرائیل) نے سازش کر کے نصاریٰ یعنی عیسائیوں کو فرقوں میں بانٹ دیا۔ اور بر سرا قتدار فرقے کو دوست بنا لیا۔ ان دونوں چالاک قوموں نے مسلمانوں کی سادہ دلی کا فائدہ اٹھا کر ان سے مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس) چھین لی۔ پہلے عیسائیوں نے قبضہ کیا پھر یہودیوں کو دے دیا اور لگ بھگ 70سال سے بیت المقدس بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ اور مسجد اقصی آج بھی مسلمانوں کو پکار رہی ہے۔ جب کہ بنی اسرائیل یہودیوں کا ارادہ مسجد اقصیٰ کو ( نعوذ باللہ ) مسمار کر کے ہیکل سلیمانی بنانے کا ہے۔ اور وہ اپنے منصوبے پر عمل کر رہے ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا دورِ حکومت

حضرت سلیمان علیہ السلام نے لگ بھگ چالیس40سال تک اسلامی حکومت کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت وسیع حکومت سے نواز ا تھا۔ آپ علیہ السلام واحد نبی اور حکمراں ہیں جن کی تابعداری انسانوں کے علاوہ جنات ، جانور ، پرندے ، کیڑے مکوڑے ، ہوا یہاں تک کہ درخت اور پیڑ پودے بھی کرتے تھے۔ حالانکہ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی عطا فرمائی تھیں بلکہ اس سے زیادہ عطا فرمائی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت تو صرف زمین پر تھی ، جب کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں پر بھی حکومت عطا فرمائی تھی۔ اور چاند کو بھی سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کا تابعدار بنا دیا تھا۔ ہاں اتنی بات ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ میں تمہیں بادشاہ نبی بناﺅں یا بندہ نبی بناﺅں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہ نبی بننا گوارا نہیں فرمایا۔ اور بندہ نبی بننا پسند فرمایا۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام بادشاہ نبی تھے۔ آپ علیہ السلام کے دور حکومت میں پورے ملک کنعان میں بنی اسرائیل امن اور سکون سے رہتے تھے۔ اور دنیا کی ہر نعمت انہیں میسر تھی۔ آپ علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل کو بہت عروج حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ اور تمام مخلوق کا حاکم بنا دیا تھا۔ اور فرما دیا تھا کہ آپ علیہ السلام جس کے ساتھ جو چاہے سلوک کر سکتے ہیں۔ اور اس کے بارے میں کوئی حساب نہیں ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے ہر ایک کے ساتھ عد ل کیا اور جس کو جو ضرورت تھی وہ عطا فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حکومت کی۔ حضرت اسحاق علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک بنی اسرائیل کا جو دور تھا اس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور سب سے بہترین اسلامی دور تھا۔ درمیان میں حضرت یوسف علیہ السلام کا دور بھی ہے لیکن حضرت یوسف علیہ السلام صرف انسانوں کے حکمراں تھے۔ اسی لئے مجموعی طور سے حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت بنی اسرائیل کے تمام دور کی سب سے بہترین اسلامی حکومت ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کا زوال شروع ہو گیا۔

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں