منگل، 9 مئی، 2023

08 حضرت شعیب علیہ السلام Story of Prophet Shuayeb



08 حضرت شعیب علیہ السلام

سلسلہ نمبر 11

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 8

قوم ایکہ کا جواب

حضرت شعیب علیہ السلام قوم ایکہ کو محبت سے اور حکمت سے سمجھاتے رہے۔ لیکن اُن بد بختوں کی سمجھ میں بات نہیں آرہی تھی۔ بلکہ الٹا وہ لوگ آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( قوم ایکہ نے ) کہا ۔ تم تو اُن لوگوں میں سے ہو جن پر جادو کر دیا جاتا ہے۔ اور تم تو ہماری طرح ہی ایک انسان ہو اور ہم تو تمہیں جھوٹ بولنے والوں میں سے سمجھتے ہیں۔ “ (سورہ الشعراءآیت نمبر185اور 186) مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں پیدا فرمایا ہے۔ اور تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہیں بھی پیدا فرمایا ہے۔ وہ لوگ کہنے لگے۔ میاں جاﺅ، تمہاری باتیں تو ایسی ہیں جیسے تم پر کسی نے تگڑا جادو کر دیا ہے۔ اور تم تو ہماری طرح کی آدمی ہو۔ بھلا تمہیں کیسے اپنا نبی مان لیں؟ ہمارے خیال میں تو تم جھوٹوں میں سے ہو۔ جسٹس پیر محمد کرم شام ایم اے ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ ان کی ساری معاشی خوشحالی کا انحصار اُن کی بے ایمانیوں اور دھوکے بازیوں پر تھا۔ وہ اتنے بھلے مانس کب تھے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی نصیحت سن کر اُن سے باز آجاتے۔ انہوں نے اپنی غلطی کو غلطی ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ اور اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرنا ہی مناسب نہیں سمجھا۔ الٹا آپ علیہ السلام پر الزام لگادیا کہ تم پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔ جبھی تو تم ہمیں ایسے مشورے دے رہے ہو۔ جن پر اگر ہم عمل کریں تو یہ تجارت کی گہما گہمی یا دولت کی فراوانی سب کی سب ایک دم ختم ہو جائے گی۔ کوئی ذی شعور آدمی اپنی قوم کو ایسا مشورہ نہیں دے سکتا ہے جو اس کی اقتصادی تباہی کا باعث بنے۔ اے شعیب (علیہ السلام )یقینا تمہارا دماغ کام نہیں کر رہا ہے۔ پہلے اپنا علاج کراﺅ پھر ہمیں نصیحت کرنا۔ 

قوم ایکہ نے عذاب کی مانگ کی

حضرت شعیب علیہ السلام قوم ایکہ کو سمجھاتے رہے لیکن وہ بد بخت آپ علیہ السلام کی مخالفت اور اپنی پرانی برائیوں پر ڈٹے رہے۔ آپ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا کہ ابھی بھی وقت ہے ۔ پچھلی قوموں سے سبق سیکھو اور دیکھو کہ کس طرح وہ عبرت ناک عذاب سے دوچار ہوئے۔ اور قوم مدین کا حال تو تمہارے سامنے ہے۔ لیکن وہ لوگ آپ علیہ السلام کی بات کو ماننے کی بجائے یہی فرمائش کرنے لگے کہ ٹھیک ہے تم ہمیں اللہ کے جس عذاب سے ڈرا رہے ہو وہی لے آﺅ۔ اور اس طرح آپ علیہ السلام سے عذاب کی مانگ کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”(قوم ایکہ نے کہا) اگر تم سچے ہو تو یا سچے لوگوں میں سے ہو تو ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا گرادو۔ (حضرت شعیب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر186 اور 187) مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی ان آیات کی تفسیرمیں لکھتے ہیں ۔ اور جو تم بار بار عذاب آنے کی رٹ لگا رہے ہو ا سے ہم پر کچھ بھی اثر نہیں ہونے والا ہے۔ اگر عذاب کی بات سچی ہے اور یوں ہی دھمکی نہیں ہے تو عذاب لا کر دکھا دو۔ چلو آسمان سے کوئی ٹکڑا ہی ہم پر گرا دو۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں عذاب کا لانے والا نہیں ہوں۔ اور میں اس کی کیفیت کا تعین نہیں کر سکتا۔ تمہارے اعمال رب خوب جانتا ہے۔ اور تم پر عذاب کب آئے گا اور کس طرح آئے گا ، یہ سب اُسی اللہ کے علم میں ہے ۔ بہر حال تمہارے اعمال عذاب کو دعوت دینے والے ہیں۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے کہا۔ اے شعیب (علیہ السلام )ہم تو تم سے بہت اچھی امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے مگر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ہماری ان رسموں کو برا کہہ رہے ہو۔ جس پر ہمارے باپ داد اچلتے آئے ہیں۔ تم ہمیں تجارتی آداب سکھانے آگئے ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ تم پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے تم ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔ تم ہم جیسے آدمی ہو۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا نبی بنا کر بھیجتا تو فرشتے کو بھیجتا۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو جھوٹ ہے۔ اور اگر تمہارے اندر طاقت اور قوت ہے تو ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی گرا دو۔

سائبان والے دن کا عذاب

اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجر میں فرمایا۔ ترجمہ ”اصحاب الایکہ بھی بڑے ظالم تھے۔ جن سے ہم نے انتقام لے ہی لیا۔ یہ دونوں بستیاں کھلے ( عام) راستے پر ہیں۔ “ (سورہ الحجر آیت نمبر78,79) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”چونکہ انہوں نے(قوم ایکہ )نے اسے ( حضرت شعیب علیہ السلام کو) جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔ وہبڑے بھاری دن کا عذاب تھا۔ یقینا اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر مسلمان نہیں تھے۔ (سورہ الشعراءآیت نمبر189 اور 190) ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب ایکہ سے مراد غیضہ ہیں ۔ جو ساحل سمندر سے مدین تک رہائش پذیر تھے۔ وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے۔ اصحاب ِ ایکہ نے شرک کرنے کے ساتھ اصحاب مدین والا کام شروع کیا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور سمجھایا تو انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور انکار کر دیا تو اُن پر ”یوم اظلة“ کا عذاب یعنی سائبان یا چھتری والے دن کا عذاب آیا۔ وہیہتھا کہاللہ تعالیٰ نے جہنم سے اُن پر باد ِ سموم بھیجی۔ وہ سات دن تک ان پر چلتی رہی۔ یہاں تک کہ گرم ہوا نے انہیں پکا دیا۔ اُن کے گھر گرم ہو گئے۔ ان کے کنویں اور چشموں میں پانی جوش مارنے ( ابلنے) لگا۔ وہ اپنے گھروں اور محلوں سے بھاگتے ہوئے نکل پڑے۔ جب کہ باد ِ سموم اُن کے ساتھ تھی۔ اوپر سے اللہ تعالیٰ نے اُن پر سورج کو مسلط کر دیا۔ یہاں تک کہ اُن کے گوشت گر گئے۔ پھر اُن کے لئے سایہ پیدا کیا گیا جو کالا گھنا بادل جیسا تھا۔ جب انہوں نے سایہ کو دیکھا تو اس سے سایہ حاصل کرنے کےلئے جلدی کرنے لگے۔ یہاں تک کہ جب سب اس کے نیچے اکٹھے ہو گئے تو اللہ کا عذاب اُن پر آن پڑا اور سب ہلاک ہو گئے۔ 

پوری قوم سائبان کے نیچے جمع ہو گئی

اللہ تعالیٰ نے قومِ ایکہ پر عذاب بھیجا ۔ امام ابن منذر نے امام سدی سے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کو اصحاب ایکہ کی طرف کی بھیجا۔ ایکہ سے مراد جنگل ہے۔ تو اس قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلا دیا تو انہیں ”یوم الظلة “ سائبان والے دن کا عذاب نے پکڑ لیا۔ کہا اللہ تعالیٰ نے ان پر جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا تو اُن پر ایسی گرمی چھا گئی جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے پانی اور دوسری چیزوں سے ٹھنڈک حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ وہ اسی حالت میں تھے کہ اُن کے لئے ایک بادل اٹھا یا گیا۔ جس میں پاکیزہ ٹھنڈی ہوا تھی۔ جب انہوں نے ٹھنڈک کو پایا تو اس سایہ کی طرف چل پڑے ۔ وہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے اس سایہ میں آئے۔ وہ پہلے جس چیزمیں تھے سب اس سے نکل پڑے۔ جب وہ سارے کے سارے اس کے نیچے جمع ہو گئے تو عذاب نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ( جلیل القدر تابعی) فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر سات دن اور رات گرمی کو مسلط رکھا۔ یہاں تک کہ وہ گھر کے سایہ اور پانی سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔ پھر کھلے میدان میں اُن کے لئے ایک بادل بلند کیا گیا تو انہوں نے اس سائبان کے سایہ میں آرام پایا تو ایک دوسرے کو بلانے لگے یہاں تک کہ جب وہ سب جمع ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر آگ کو بھڑکا دیا۔

شدید گرمی اور گھٹن

قوم ایکہ پر جو عذاب آیا اس کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر رات کی گرمی اور سخت حرارت بھیجی۔ اس نے ان کی سانسوں کو گرفت میں لے لیا۔ وہ گھروں کے تہہ خانوں میں داخل ہو گئے۔ تو یہ عذاب ان کے گھروں کے تہہ خانوں میں داخل ہو گیا۔ عذاب نے انہیں شدید گھٹن میں مبتلا کر دیا وہ گھروں سے نکل کر کھلے میدان کی طرف آئے تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر بادل کو بھیجا۔ جس نے انہیں سورج کی تپش سے سایہ دیا۔ انہوں نے اس سایہ کی ٹھنڈک اور لذت پائی تو انہوں نے ایک دوسرے کو بلایا۔ یہاں تک کہ وہ سب اُس سائبان کے نیچے جمع ہو گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر آگ گرا دی۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر گرمی کو سات دن تک مسلط کیا۔ انہیں نہ تو کوئی سایہ فائدہ پہنچاتا تھا اور نہ ہی دوسری کوئی چیز فائدہ پہنچاتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن پر بادل بھیجا تو وہ اس کے سایہ میں سکون حاصل کرنے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اُن کے لئے عذاب بنا دیا جس نے انہیں جلا دیا۔ اُن پر آگ بھیجی گئی وہ بھڑک اٹھی جو انہیں کھا گئی۔ 

ایک شخص نے سائبان کے نیچے سب کو بلایا

قارئین کرام، قوم ایکہ پر جو سائبان کا عذاب آیا تھا اُس کے بارے میں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جتنی روایات ہمیں مل سکیں وہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ اوپر ہم نے چند روایات پیش کی ہیں۔ ابھی ہم کچھ اور روایات آپ کی خدمت میں پیش کر یں گے۔ پھر انشاءاللہ ہمارے الفاظ میں اس عذاب کی تفصیل پیش کریں گے۔ علامہابن کثیر لکھتے ہیں۔ بالآخر جس قسم کا عذاب یہ مانگ رہے تھے اسی قسم کا عذاب اُن پر آیا۔ انہیں سخت گرمی محسوس ہوئی ۔سات دن تک گویا زمین ابلتی رہی کسی جگہ کسی سائے میں ٹھنڈک یا راحت میسر نہیںہوئی ۔ تڑپ اٹھے، بے قرار ہو گئے۔ سات دنوں بعد انہوں نے دیکھا کہ ایک سیاہ بادل ان کی طرف چلا آرہا ہے۔ وہ کالا گھنا بادل ان کے سروں پر آکر چھا گیا۔ یہ سب گرمی اور حرارت سے زچ ہو گئے تھے۔ اس کے نیچے جا بیٹھے۔ جب سارے کے سارے اس کے سائے میں پہنچ گئے تو وہیں بادل میں سے آگ برسنے لگی۔ اس دن کے سائبان والے سخت عذاب نے اُن میں سے ایک کو بھی نہیں چھوڑا ۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سات دن تک وہ گرمی پڑی کہ الامان والحفیظ ۔ کہیں ٹھنڈک کانام نہیں تھا۔ تلملا اٹھے۔ اسکے بعد ایک کالا گھنا بادل اٹا اور امڈا ۔ اس کے سائے میں ایک شخص پہنچا اور وہاں راحت اور ٹھنڈک پا کر اس نے دوسروں کو بھی بلایا ۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو کالا گھنا بادل پھٹا اور اس میں سے اُن پر آگ برسی یہ بھی مروی ہے کہ کالا گھنا بادل جو بطور سائبان کے تھا۔ اُن کے جمع ہوتے ہی ہٹا لیا گیا اور سورج سے اُن پر آگ برسی ۔ جس نے اُن کا بھرتہ بنا دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ سخت گرج ، کڑک اور گرمی شروع ہوئی ۔ جس سے سانسیں گھٹنے لگیں۔ اور بے چینی حد کو پہنچ گئی ۔ گھبرا کر شہر چھوڑ کر میدان میں جمع ہو گئے ۔ باد ل آیا جس کے نیچے ٹھنڈک تھی۔ سب اس کے نیچے راحت حاصل کرنے کے لئے جمع ہو گئے۔ وہیں آگ برسی اور سب جل بھن گئے۔ یہ تھا سائبان والے بڑے بھاری دن کا عذاب جس نے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔

جہنم کا دوازہ کھول دیا گیا

حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر سائبان کے دن والے عذاب کے بارے میں امام قرطبی لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اور دوسرے علمائے کرام سے مروی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر جہنم کا دوازہ کھول دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر شدید گرمی کو بھیجا۔ جس نے ان کی سانسوں کو گرفت میں لے لیا۔ وہ ان کے گھروں میں داخل ہو گئے۔ انہیں نہ تو کوئی سایہ فائدہ دیتا تھا اور نہ ہی پانی سے کوئی فائدہ ہوتا تھا۔ گرمی نے ان کو پکا دیا ۔ وہ بھاگ کر جنگل کی طرف چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بادل کو بھیجا۔ اس نے اُن پر سایہ کر دیا۔ انہوںنے اسکی ٹھنڈک ، راحت اور عمدہ خوشبو پائی۔ انہوںنے ایک دوسرے کو بلایا۔ جب وہ سب بادل کے نیچے جمع ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر آگ کو بھڑکا دیا۔ زمین پر زلزلہ برپا ہو گیا تو وہ یوں جل گئے جس طرح کڑاہی میں مکڑی جل جاتی ہے تو وہ سارے کے سار ے راکھ ہو گئے۔ پہاڑوں کے غاروں میں گھسے ، درندوں کی کھوہوں میں گھسے تا کہ ٹھنڈک حاصل ہو۔ لیکن وہاں وہ اور زیادہ شدید گرمی پاتے تھے۔ پھر وہ جنگل کی طرف بھاگے اُن پر بادل نے سایہ کر لیا۔ یہی ظلہ تھا ۔ انہوںنے اس میں ٹھنڈک اور باد نسیم کو پایا۔ اس بادل نے ان پر آگ کو برسا یا تو وہ جل گئے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں