08 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر14
قسط نمبر 8
اللہ کے خلیفہ
اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے داﺅد (علیہ السلام )ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا۔ ( تاکہ ) تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو۔ “ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر26) اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا اور سلطنت و حکومت بھی عطا فرمائی تھی۔ اہل کتاب یعنی یہودیوں ( بنی اسرائیل ) اور عیسائیوں ( نصاریٰ) نے بائیبل یعنی توریت اور انجیل میں خرد برد کر کے ملاوٹ کر دی ہے۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی شان میں نعوذ باللہ بہت سی گستاخیاں کی ہیں۔ ان میں سے ایک گستاخی یہ تھی ہے کہ آپ علیہ السلام نعوذ باللہ نبی نہیں تھے۔ اور صرف بادشاہ تھے۔ ان بد بختوں کی اس گستاخی کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے۔ مولانا مفتی آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے نبی بھی ہیں اور صاحب کتاب رسول بھی ہیں۔ جالوت جیسے ظالم بادشاہ کو قتل کر کے آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کی آنکھ کا تارا بن گئے تھے۔ حضرت طالوت جن کی سربراہی میں جالوت کے زبردست لشکر کو مٹھی بھر مسلمانوں نے بد ترین شکست دے کر میدان سے بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے حضرت داﺅد علیہ السلام کی شجاعت و بہادری ، تقویٰ اور پرہیز گاری کو دیکھ کر ان سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا تھا۔ حضرت طالوت کے انتقال کے بعد آپ علیہ السلام نے نظام حکومت کو سنبھالا اور بڑی تیزی سے کفار و مشرکین کو شکست پر شکست دے کر بنی اسرائیل کی عظیم مملکت کی بنیاد رکھ دی۔ یہ حضرت داﺅد علیہ السلام کی عظمت ہے کہ آپ علیہ السلام نبی اور رسول ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انصاف پسند حکمراں ، بادشاہ اور اصول پسند انسان تھے۔ جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہت تعریف فرمائی ہے۔ انہوں نے اپنے گھر میں ایک ایسا نظام بنا رکھا تھا کہ چوبیس گھنٹوں میں کوئی ایسا وقت نہیں ہوتا تھا۔ جس میں حضرت داﺅد علیہ السلام اور آل داﺅد میںکوئی نہ کوئی اللہ کی عبادت و بندگی میں مشغول نہ ہوتا تھا۔ آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ تیسرے دن کو اپنے گھر والوں کے لئے مخصوص کر رہا تھا۔ آپ علیہ السلام کے اصول اتنے مضبوط تھے کہ اس کے خلاف کسی بات کو پسند نہ فرماتے تھے۔ ایک رات آپ علیہ السلام اپنے محل میں اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں مشغول تھے۔ چاروں طرف پہرے دار موجود تھے کہ دو آدمی دیوار پھاند کر اندر آگئے اور آپ علیہ السلام کی خدمت میں دنبیوں یا بھیڑوں والا مقدمہ پیش کیا۔ آپ علیہ السلام نے نرمی اور صبر سے ان کا مقدمہ سن کر فیصلہ فرمایا اور وہ دونوں چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد آپ علیہ السلام سوچنے لگے کہ اتنے زبردست پہرے کے باوجود دو آدمیوں کا اچانک ان کی خلوت گاہ اور عبادت گاہ میں آجانا اور بڑی بے باکی سے انصاف کا طلب کرنا بڑا عجیب واقعہ ہے۔ ایک دم آپ علیہ السلام کو احساس ہوا کہ شاید یہ دونوں اللہ کی طرف سے میری آزمائش کے لئے بھیجے گئے تھے۔ ممکن ہے مجھے اپنی سلطنت ، فوج، مال و دولت اور عبادت پر فخر اور ناز ہو گیا ہو۔ او راللہ تعالیٰ نے مجھے آگاہ کرنے کے لئے ان کو بھیجا ہو کہ ہزار پہروں کے باوجود یہ اللہ کی قدمت تھی کہ دو اجنبی اندر داخل ہو گئے تھے جیسے ہی آپ علیہ السلام اس نتیجے تک پہنچے تو نہایت عاجزی سے سجدے میں گر پڑے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے۔ اور ہر طرف سے توجہ ہٹا کر اللہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ جس کو بندوں کی عاجزی و انکساری بہت پسند ہے اس نے آپ علیہ السلام کو آزمائش میں کامیابی کی بشارت دی اور فرمایا ۔ اے داﺅد علیہ السلام بے شک ہم نے تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ بنا دیا ہے۔ تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف سے فیصلے کرو۔
یہودیوں ( بنی اسرائیل) کے حضرت داﺅد علیہ السلام پر الزامات
اللہ تعالیٰ یہودیو ں یعنی بنی اسرائیل پر بہت ساری مہربانیاں کیں۔ لیکن بد بخت لوگ مسلسل گمراہیوں اور نافرمانیوں میں مبتلا رہے۔ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر انہوں نے انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں بہت سی گستاخیاں کی ہیں۔ ان کی طرف ایسی ایسی باتیں ان مقدس اور معصوم انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف منسوب کیں ہیں۔ جن کی وجہ سے یہ دوزخ کے مستحق بن گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کی گستاخیوں ،گمراہیوں ، ہٹ دھرمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار اور انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل کرنے کے بارے میں قرآن پاک میں کئی جگہ بتایا ہے۔ یہاں ہم صرف دو آیات پیش کر رہے ہیں ۔ اس سے ان بد بخت یہودیوں کی اصلیت سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ” اور بے شک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کو کتاب دی۔ اور انکے پیچھے اور بھی رسول بھیجے۔ اور ہم نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام ) کو روشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کروائی۔ لیکن جب کبھی تمہارے ( بنی اسرائیل یعنی یہودیوں ) پاس رسول وہ چیز لائے جو تمہاری طبیعتوں کے خلاف تھی۔ تو تم نے جھٹ سے تکبر کیا۔ پس بعض ( انبیائے کرام) کو جھٹلادیا۔ اور بعض ( انبیائے کرام) کو قتل بھی کر ڈالا۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر87) اس کے بعد آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ترجمہ ” اور جب ان سے (بنی اسرائیل سے )کہا جاتا ہے کہ الہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب ( قرآن پاک) پر ایمان لاﺅ تو کہتے ہیں کہ جو ہم پر اتاری گئی ہے ( توریت) اس پر ہمارا ایمان ہے۔ حالانکہ اس کے بعد والی کتاب کے ساتھ جو اُن کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے۔ اس سے کفر کرتے ہیں۔ اچھا ان سے یہ تو دریافت کریں کہ اگر تمہارا ایمان پہلی والی کتابوں پر ہے۔ تو پھر تم نے اگلے انبیائے کرام کو کیوں قتل کیا؟ (سورہ البقرہ آیت نمبر91) ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں یعنی بنی اسرائیل کی گمراہیوں اور خرابیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں ایک یہ ہے کہ یہ لوگ انبیائے کرام کو جھٹلاتے تھے اور ان پر الزامات لگاتے تھے۔ ان بد بختوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی انکار کر دیا۔ دوسری خرابی یہ بتائی کہ یہ بد بخت لوگ اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ جیسا کہ تمام کائنات کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ اوپر سے پتھر گرا کر اور ایک مرتبہ زہر دے کر نعوذ باللہ قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان بد بخت یہودیوں نے اپنی کتاب توریت میں اپنی طرف سے بہت سی جھوٹی باتیں شامل کر دی ہیں۔ اور نعوذ باللہ انبیائے کرام علیہم السلام پر بہت گھناونے الزامات لگائے ہیں۔ جب کہ انبیائے کرام علیہم السلام معصوم ہیں۔ در اصل یہ لوگ ان بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کو انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف منسوب کر کے اپنے گناہوں کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کر تے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام پر بھی ان بد بختوں نے گھناﺅنے الزامات لگائے ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ یہودی آپ علیہ السلام کو صرف بادشاہ مانتے ہیں اور دوسرا الزام یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس عورت کے بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے۔ تو آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) اس کے شوہر کو جنگ میں آگے رکھ کر قتل کر وا دیا اور اس عورت سے نکاح کر لیا۔ یہ آپ علیہ السلام پر بہت بڑا الزام اور تہمت ہے۔ یہ بد بخت بنی اسرائیل انبیائے کرام پر صرف الزامات ہی نہیں لگاتے تھے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر انبیائے کرام علیہم السلام کو قتل بھی کر دیتے تھے۔ ہمیں ان اسرائیلی روایات پر توجہ نہیں دینا چاہیئے۔ اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام معصوم اور مقدس ہیں۔
بیت المقدس کے لئے جگہ کا انتخاب
حضرت داﺅد علیہ السلام نے یروشلم فتح کرنے کے بعد اسے دارالخلافہ بنایا۔ اور تابوت سکینہ کو لا کر وہیں رکھ دیا۔ یروشلم میں ہی آپ کا محل تھااور اس محل میں عبادت گاہ تھی۔ اسی عبادت گاہ کی محراب میں سے کود کر دونوں فرشتے آئے تھے۔ ایک رات آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھے۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ رات کا آخری پہر تھا اور لوگ خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ عبادت کے درمیانی وقفے میں آپ علیہ السلام تھوڑا آرام فرما رہے تھے اور تازہ ہوا کے لئے کھڑکی کے قریب آکر کھڑے ہو گئے اور ہر طرف طائرانہ نگاہ ڈال کر جائزہ لینے لگے۔ اسی دوران آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ بستی سے کچھ دور پر ایک چٹان پر سے فرشتے اپنی تلواروں کو نیاموں میں رکھے آسمان کی طرف ایک سیڑھی کے ذریعے بلند ہو تے جا رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے ارادہ بنایا کہ اس چٹان کے پاس مسجد تعمیر کی جائے۔ اس چٹان کا نام اس دن سے ”چٹان داﺅدی“ پڑ گیا۔ آپ علیہ السلام نے چٹان داﺅدی کے پاس بیت المقدس کی بنیاد رکھی۔ اور مسجد کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ یہ بنی اسرائیل کا مرکزی مقام یعنی مرکزی مسجد ہو گی۔ لیکن تم اس کی تعمیر مکمل نہیں کر سکو گے بلکہ اس کی تعمیر تمہارا بیٹا سلیمان علیہ السلام کرے گا۔ جو تمہارے بعد بنی اسرائیل کا نبی بھی ہوگا اور بادشاہ بھی ہوگا۔
آخرت میں خوش الحانی
اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ”یقینا وہ ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں“۔ (سورہ ص ٓ آیت نمبر25) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت بڑا اور بہت عظیم مرتبہ ہے۔ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت بڑا مرتبہ عطا فرمایا۔ اور آخرت میں بھی بہت عظیم مرتبہ عطا فرمائے گا۔ اور دنیا میں بھی بہت اچھا ٹھکانہ عطا فرمایا تھا اور آخرت میں بھی بہت عالیشان ٹھکانہ عطا فرمائے گا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت مالک بن دینا ر رحمتہ اللہ علیہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں وہ عالیشان ٹھکانہ اس طرح عطا فرمائے گا کہ قیامت کے روز حضرت داﺅد علیہ السلام ”پایہ بخشش“ کے پاس تشریف فرما ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا۔ اے داﺅد (علیہ السلام )آج اُسی طرح خوش الحانی سے اپنی مترنم آواز سے میری مدح و ستائش یعنی تعریف بیان کرو جیسے تم دنیا میں خوش الحانی سے میری حمد اور تسبیح کیا کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام فرمائیں گے۔ اے اللہ تعالیٰ، اے سب جہانوں کے رب، اب یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیوں کہ آپ نے میری وہ آواز مجھ سے واپس لے لی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ آج وہ آواز میں تمہیں واپس لوٹا تا ہوں۔ اس کے بعد جب حضرت داﺅد علیہ السلام بلند آوا ز سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں گے تو تمام جنتی اتنے مسحور ہو جائیں گے کہ جنت کی تمام نعمتیں انہیں ہیچ محسوس ہوں گی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی دانشمندی
حضرت داﺅد علیہ السلام نے لگ بھگ چالیس 40سال یا اس سے کچھ زیادہ سالوں تک بنی اسرائیل پر حکومت کی۔ اس دوران تمام بنی اسرائیل کے قبائل متحد رہے اور اسلامی احکامات پر کار بند رہے۔ پوری سلطنت میں خوش حالی تھی اور امن و امان کا دور دورہ تھا۔ عوام بہت سکون اور چین سے رہ رہی تھی۔ آپ علیہ السلام کے دور نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل بہت عروج پر آگئے تھے۔ اور آس پاس کے تمام حکمراں آپ علیہ السلام کی سلطنت کی برتری تسلیم کر چکے تھے۔ یوں سمجھ لیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل اس وقت کے سوپر پاور بن گئے تھے۔ اور اس عروج کو انتہائی بلندی حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور نبوت اور حکومت میں حاصل ہوئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام جوان ہو چکے تھے اور اپنے والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام کے دربار میں بیٹھے تھے۔ اور اپنے والد محترم کے مقدمات کے فیصلوں کو دیکھتے اور سمجھتے رہتے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی نوجوانی کے وقت میں ہی بے مثال دانشمندی کا مظاہر ہ کیا ۔ اور اپنے بیٹے کی دانشمندی کی داد والد محترم نے بھی دی۔ ان میں سے دو مقدمے قابل ذکر ہیں۔ ایک مقدمہ دو عورتوں اور ایک بچے کا تھا۔ اور دوسرا مقدمہ کھیت اور بکریوں والے کا تھا۔ ان دونوں مقدمات کے جو فیصلے والد محترم نے دیئے تھے ان پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے انتہائی ادب سے جرح کی۔ اور والد محترم سے اجازت مانگی کہ میں پھر سے جرح کرنا چاہتا ہوں۔ والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام نے اجازت دے دی۔ اور آپ علیہ السلام نے دونوں مقدمات میں اتنے درست فیصلے دیئے کہ والد محترم بھی عش عش کر اٹھے۔ ان دونوں مقدمات کا تفصیلی ذکر انشاءاللہ ہم حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات میں بیان کریں گے۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی عمر
حضرت داﺅد علیہ السلام کی عمر کے بارے میں اکثر علمائے کرام کا قول ہے کہ 100سال تھی۔ بائبل میں آپ علیہ السلام کی عمر 77سال لکھی ہے ۔ لیکن علامہ ابن کثیر نے اسے رد کر دیا ہے۔ اور لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ بات غلط اور مردود ہے ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے ان کی تمام اولاد کو ظاہر فرمایا تو حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں انبیائے کرام کو بھی دیکھا۔ ان میں ایک شخص نظر آیا جو بہت وجیہہ تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، اتنا حسین و رعنا جوان یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ تیرا بیٹا داﺅد ( علیہ السلام )ہے ۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اس کی عمر کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا 60سال ہے۔حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں اضافہ فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تمہاری عمر کے چالیس سال اسے دیتا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا میری عمر کتنی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ایک ہزار 1000سال ہے۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی عمر 960سال ہوئی تو ملک الموت آئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی ہیں۔ اور جو عمر انہوںنے حضرت داﺅد علیہ السلام کو ہبہ فرمائی تھی وہ بھول گئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال پوری کر دی۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی عمر بھی سو100سال پوری کر دی۔ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اور امام ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کا وصال
حضرت داﺅد علیہ السلام کا وصال اچانک ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام بہت غیرت مند انسان تھے۔ جب آپ علیہ السلام اپنے محل سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو پہریدار دروازہ بند کر دیتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں کسی کو اندر داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ ایک دن آپ علیہ السلام باہر تشریف لے گئے اور دروازہ بند کر دیا گیا۔ جب آپ علیہ السلام کی بیوی کمرے سے باہر آئی تو دیکھا کہ محل کے صحن میں ایک شخص کھڑا ہے محل کے اندرونی پہریداروں کو انہوں نے بلایا اور فرمایا۔ محل کے صحن میں یہ کون شخص کھڑا ہے؟ یہ کہاں سے اندر آگیا جب کہ دروازہ بند ہے۔ اللہ کی قسم، ہم حضرت داﺅد علیہ السلام کے سامنے شرمندہ ہو جائیں گے۔ جب آپ علیہ السلام تشریف لائے تو دیکھا کہ محل کے صحن میں ایک شخص کھڑا ہے۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ تم کون ہو؟ اور کیسے اندر آگئے؟ اس شخص نے کہا۔ میں وہ ہوں جو بادشاہوں سے مرعوب نہیں ہوتا ہے اور پردے بھی میرا راستہ روک نہیں سکتے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمایا۔ تم ملک الموت ہو جو انسانی شکل میں آئے ہو ۔ اس نے کہا۔ جی ہاں، اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے آیا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم سر آنکھوں پر ، اور وہیں سجدے میں چلے گئے اور اسی حالت میں ملک الموت نے روح قبض کر لی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ملک الموت جب آپ علیہ السلام کی روح قبض کرنے آئے تو آپ علیہ السلام اپنے سے نیچے اتر رہے تھے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ تھوڑی دیر انتظار کر لو تا کہ میں نیچے اتر جاﺅں یا پھر اپنے حجرے میں چلا جاﺅں۔ ملک الموت نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، وقت پورا ہو چکا ہے۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام وہیں سیڑھیوں پر سجدہ ریز ہو گئے اور اسی حالت میں وصال ہو گیا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت
حضرت داﺅد علیہ السلام کے وصال کے بعد ابھی آپ علیہ السلام کو دفن نہیں کیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل کے علماءاور وزراءکی مجلس شوریٰ منعقد کی گئی اور اس میں متفقہ طور سے حضرت سلیمان علیہ السلام کو حضرت داﺅد علیہ السلام کا جانشین چنا گیا اور بادشاہ بنا دیا گیا۔ اس کے بعد حضرت داﺅد علیہ السلام کو دفن کیا گیا۔ آپ علیہ السلام کے جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ ان میں 40ہزار سے زیادہ تو بنی اسرائیل کے علمائے کرام تھے۔ جو اپنی مخصوص ٹوپیوں کی وجہ سے پہچانے جارہے تھے۔ گرمی نے لوگوں کو بہت پریشان کر دیا تھا۔ کیوں کہ اس دن بہت شدید گرمی تھی۔ لوگوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے درخواست کی کہ اس دھوپ اور گرمی سے بچنے کا کچھ انتظام کریں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام میدان میں آئے اور پرندوں کو آواز لگائی۔ اور حکم دیا کہ سایہ کرو۔ ہر طرف سے پرندے آکر سایہ کرنے لگے۔ یہاں تک کہ سوج چھپ گیا پرندے اتنے زیادہ آگئے اور ہر طرف سے گھیر لیا کہ ہوا تک رک گئی۔ لوگوں نے گھٹن کی شکایت کی تو پرندروں کو آپ نے حکم دیا کہ سوج کی طرف سے سایہ کرو اور ہوا کے لئے راستہ چھوڑ دو۔ اور ٹھنڈی ہوا کو حکم دیا کہ لوگوں پر چلے ۔ اب لوگوں پر سایہ بھی تھا اور ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی تھی۔ اور لوگ پہلی مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت کو دیکھ رہے تھے۔
اگلی کتاب
حضرت داﺅد علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا ۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔
٭........٭........٭
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں