08 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام
سلسلہ نمبر12
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 8
فرعون نے جادوگروں کو جمع کیا
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے چیلنج کو قبول کر لیا ۔ اور مقابلے کے لئے جشن کا دن مقرر کر لیا۔ قبطی یعنی مصری سال میں ایک دن بہت بڑے میدان میں جمع ہو کر تہوار مناتے تھے اور جشن مناتے تھے۔ اور اس جشن میں بہت ساری خرافات ہوتی تھیں۔ وہ دن قریب ہی تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اس دن کا انتخاب فرمایا۔ فرعون نے کہا۔ ٹھیک ہے اب جشن کے دن ملاقات ہو گی۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام وہاں سے اپنے گھر واپس آگئے۔ فرعون نے پورے ملک مصر میں اعلان کرا دیا کہ جشن کے دن جادوگروں کا سب سے بڑا مقابلہ ہو گا۔ ایک طرف بنی اسرائیل کا موسیٰ (علیہ السلام ) ہو گااور دوسری طرف میرے مقرر کردہ جادوگر ہوں گے۔ اور جس جادوگر کو بھی اس مقابلے میں حصہ لینا ہے وہ مجھ سے ملاقات کرے۔ بنی اسرائیل کے لوگوں کی تو جان ہی نکل گئی۔ پورے مصر میں اسی مقابلے کاذکر چل رہا تھا۔ اور دور دور سے جادوگر فرعون کے دربار میں حاضر ہو رہے تھے۔ اور فرعون اور اس کے سردار اور وزیر اور درباری ان کا امتحان لے رہے تھے۔ اور مقابلے کے لئے چن رہے تھے۔ اس طرح جشن کا دن آنے تک ان لوگوں نے ہزاروں بہترین اور جانے مانے جادوگروں کا انتخاب کر لیا تھا۔ اور جب جشن کا دن آیا تو اس بڑے میدا ن میں ایک طرف ہزاروں جادوگر کھڑے تھے اور دوسری طرف صرف دو شخص حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے تھے۔
جادوگروں کو اسلام کی دعوت
اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” قوم فرعون میں جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سر زمین سے باہر کر دے تو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دیں۔ اور شہروں میں ہر کاروں کو بھیج دیں کہ وہ سب ماہر جادگروں کو آپ کے پاس لا کر حاضر کردیں۔ اور وہ جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آئے تو ہم کو کوئی بڑا صلہ ( یعنی انعام ) ملے گا؟ فرعون نے کہا کہ ہاں اور تم مقرب لوگوں میں داخل ہو جاﺅ گے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر109سے114تک) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرعون کے بارے میں بتا رہا ہے کہ اس نے اپنے ملک سے سارے جادوگر بلا بھیجے۔ ان دنوں مصر جادونگری کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ وہاں بڑے بڑے ماہر جادوگر تھے۔ جو اپنے فن میں کمال کی مہارت رکھتے تھے۔ فرعون نے مصر کے کونے کونے سے جادوگروںکو بلا بھیجا۔ عید کا دن تھا۔ اور اس دن فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان فیصلہ ہونا تھا۔ اس لئے پورا مصر امڈ آیا ۔فرعون کی طرف سے کئی ہزار جادوگر آئے تھے اور دوسری طرف حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے تھے۔ اور فرعون ایک بہت اونچے تخت پر بیٹھا ہوا تھا ۔ تمام جادوگروں نے فرعون سے پوچھا۔ اگر ہم جیت گئے تو بدلے میں ہمیں کیا ملے گا۔ فرعون نے کہا۔ اگر تم جیت گئے تو تم لوگ میرے خاص آدمی ہو ں گے۔ اور تمہاری ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ اس کے بعد تمام جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم تمام جادوگر جو یہ جادو لے کر آئے ہو اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جب کہ میرے پاس جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ اور وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے پوری کائنات کو بنایا ہے۔ اور پوری کائنات کو پالتا ہے۔ اور اس کی ضروریات کو پوری کر تا ہے۔ وہ ایک سیکنڈ کےلئے بھی غافل نہیں ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے جادو کو ناکام بنا دے گا اور حق اور باطل کا فرق کر کے بتا دے گا۔ اور میں تمہیں اسی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں او رکہتا ہوں کہ اسلام قبول کر لو۔ کامیابی حاصل کر لو گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ علیہ السلام نے اُن سے کہا۔ تمہاری شامت آچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افترانہ باندھو کہ وہ تمہیں عذابوں سے ملیا میٹ کر دے۔ یا در کھو ، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا جس نے جھوٹی بات گھڑ لی۔ پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہو گئے اور چھپ کر چپکے چپکے مشورہ کر نے لگے۔ اور کہنے لگے یہ دونوں محض جادوگر ہیں۔ اور ان کا پختہ ارادہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کر یں۔ اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کر دیں۔ تو تم بھی اپنا کوئی داﺅ چھپا کر نہ رکھو۔ پھر صف بندی کر کے آﺅ۔ جو آج غالب آگیا وہی بازی لے جائے گا۔ “(سورہ طٰہٰ آیت نمبر61سے 64تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب انہیں اسلام کی دعوت دی تو جادوگروں میں دو گروپ ہو گئے ۔ ایک گروپ کہنے لگا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں اور کوئی جادوگر نہیں ہیں۔ اور دوسرا گروپ کہتا تھا کہ یہ دونوں صرف جادوگر ہیں اور کچھ نہیں ہیں ۔ا ن میں کی اکثریت انہیں جادوگر سمجھ رہی تھی۔ اور اسلام قبول کرنے کے بجائے مقابلہ کرنا چاہتی تھی۔
جادوگروں سے مقابلہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تقریر کو جادوگروں نے غور سے سنا اور ان پر اس کا اثر بھی ہوا۔ اس کے باوجود وہ مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے۔ اور آپ علیہ السلام سے کہا۔ پہلے تم جادو بتاﺅ گے یا ہم اپنا جادو بتائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ ہی پہلے اپنا جادو بتا دو۔ یہ سن کر ہزاروں جادوگروں نے اپنی اپنی رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ اور تمام رسیاں سانپ بن کر دونوں بھائیوں کی طرف بھاگنے لگیں۔ پورے میدان میں سانپ دوڑ رہے تھے اور سب کا رخ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کی طرف تھا۔ پورے مصر کے لوگ اور فرعون اور بنی اسرائیل اپنی سانسوں کو روکے اس خوفناک منظر کو دیکھ رہے تھے۔ بڑا ہی خوفناک منظر تھا۔ ہزاروں سانپوں کو تیزی سے اپنی طرف آتا دیکھ کر دونوں حضرات ایک سیکنڈ کے لئے تو انسانی فطرت کے مطابق خوف کا شکار ہو گئے لیکن آپ حضرات علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ تھا اور اللہ تعالیٰ مدد گار تھا۔ اس لئے دونوں حضرت علیہم السلام کا خوف دوسرے ہی سیکنڈ ختم ہو گیا۔ اور جم کر کھڑے ہو گئے اور قریب آتے سانپوں کو غور سے دیکھنے لگے۔ جادوگروں کا پنی جیت کا یقین تھا اسی لئے وہ اطمینان سے کھڑے سانپوں کو آگے بڑھتا دیکھ رہے تھے۔ اور فرعون اپنے تخت پر بیٹھا قہقہے لگا رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اب دونوں حضرات علیہم السلام پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ لیکن اس کی اور تمام جادوگروں کی اور تمام تماشائیوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ کیوں کہ انہوں نے منظر ہی ایسا ناقابل یقین دیکھا تھا۔ کیوں جیسے ہی سانپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریب پہنچے تو اچانک آپ علیہ السلام نے اپنا عَصا زمین پر ڈال دیا۔ اور وہ اتنا بڑا اور خوفناک اژدھا بن گیا کہ کسی نے اتنا بڑا اژدھا آج تک نہیں دیکھا تھا۔ فرعون کے قہقہے رک گئے ۔ تمام جادوگرسکتے میں آگئے اور بہت سے تماشائیوں کی تو چیخیں نکل گئیں۔ اژدھے نے میدان میں موجود تمام سانپوں کو نگلنا شروع کر دیا۔ اور کچھ ہی دیر میں اس نے تمام سانپوں کو نگل لیا۔ تب آپ علیہ السلام نے اژدھے کے اوپر ہاتھ رکھا تو وہ عصا بن کر ان کے ہاتھ میں آگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان جادوگروں نے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )، چاہے تم ڈالو یاہم ہی ڈال دیں؟(حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ) فرمایا۔ تم ہی ڈال دو ۔ پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نظر بندی کر دی۔ اور ان پر ہیبت غالب کر دی۔ اور ایک طرح کا بہت بڑا جادو دکھلایا۔ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دو۔ سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے اُن کے بنائے ہوئے سارے کھیل کو نگلنا شروع کر دیا۔ پس حق ظاہر ہو گیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا وہ سب جاتا رہا۔ پس وہ لوگ ( یعنی فرعون اور اس کے ساتھی) اس موقع پر ہار گئے۔ اور خوب ذلیل ہو کر پھرے۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر15سے 19تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( جادوگر) کہنے لگے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )، یا تو تم پہلے ڈال دو یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں۔ ( آپ علیہ السلام نے) فرمایا۔ نہیں ، تم ہی پہلے ڈالو۔ اب تو موسیٰ ( علیہ السلام ) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں اُن کے جادو کے زور سے بھاگ رہی ہیں۔ پس موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا۔ ہم نے فرمایاکچھ خوف نہ کر یقینا تم ہی غالب رہو گے اور بر تر رہو گے۔ تمہارے دائیں ہاتھ میں جو کچھ ہے اسے ڈال دو۔ ان کی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے گا۔انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں۔ اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔“ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر65سے 69تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام )نے جادوگروں سے فرمایا۔ جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو۔ انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور کہا۔ فرعون کی عزت کی قسم ، ہم ہی غالب رہیں گے۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام )نے بھی اپنا عصا میدان میں ڈال دیا۔ جس نے اسی وقت ان کے بنائے ہوئے کھلونوں کو نگلنا شروع کر دیا۔“( سورہ الشعراءآیت نمبر43سے 45تک)
جادوگروں نے اسلام قبول کر لیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدھا بن کر تمام سانپوں کو نگل رہا تھا۔ اور تمام جادوگر حیرت سے بُت بنے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ جب اژدھے نے تمام سانپوں کو نگل لیا اور آپ علیہ السلام نے اسے ہاتھ میں پکڑا تو وہ پھر سے عصا بن گیا۔ اور تمام جادوگر محویت سے چونک پڑے اور سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں ہے۔ اور انہیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے ۔ کیوں کہ ان لوگوں نے جو جادوکیا تھا اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا ئے کوئی نہیں توڑ سکتا تھا۔ وہ تمام جادوگر سمجھ گئے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حق کی دعوت لے کر آئے ہیں۔ اسی لئے تمام جادوگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گئے اور کھلے عام میدان میں ہی اعلان کیا کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے۔ وہ اللہ تعالیٰ جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور وہ جو جادوگر تھے سجدے میں گر گئے اورکہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لائے جو موسیٰ (علیہ السلام ) اور ہارون (علیہ السلام ) کا بھی رب ہے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر120سے 122تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اب تو تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے۔ ہم تو ہاروں ( علیہ السلام ) اور موسیٰ (علیہ السلام )کے رب پر ایمان لائے۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر70) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” یہ دیکھتے ہی جادوگر سجدے میں گر گئے اور انہوں نے صٓف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان لائے۔ یعنی موسیٰ(علیہ السلام )اور ہارون(علیہ السلام )کے رب پر۔“( سورہ الشعراءآیت نمبر46سے 48) ، تمام جادوگر قبطی ( مصری) تھے۔ اور کافر تھے۔ لیکن انہوں نے حق کو پہچان لیا اور ان کے دلوں میں ایمان اور اسلام کی شمع جل اٹھی ۔ اور جب انہوں نے بہادری سے کھلے عام اپنے اسلام کا اعلان کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں ایمان پر مضبوطی اور استقامت عطا فرما دی۔ اور ان مومنین کا ذکر قرآن پاک میں کئی جگہوں پر کیا۔
فرعون کی جھنجھلاہٹ اور جادوگروں کی استقامت
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ کرنے کےلئے فرعون نے کئی ہزار جادوگروں کو بلایا تھا۔ اور تمام مصر والوں کو دعوت دی تھی کہ وہ اس عظیم الشان مقابلے کو دیکھنے آئیں۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ترجمہ ” اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہو جانا۔ اور اگر جادوگر غالب آئیں گے تو ہم اُن کی پیروی کریں گے۔“(سورہ الشعراءآیت نمبر39اور40) در اصل فرعون کو یقین تھا کہ جادوگر ہی جیت جائیں گے۔ اور میری حکومت اور خدائی کی تعریف کی جائے گی۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ گیا۔ اور جادوگر شکست بھی کھا گئے اور اللہ تعالیٰ پر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کھلے عام ایمان بھی لے آئے۔جس کی وجہ سے پورے ملک مصر کی عوام پر آپ علیہ السلام کی حقانیت واضح ہو گئی اور جادوگروں کے اسلام قبول کر نے سے عوام بھی متاثر ہو گئی تھی۔ اور فرعون نے دیکھا کہ اس کی حکومت اور خدائی خطرے میں آگئی تو وہ بہت غصے میں آگیا اور کہنے لگا۔ تم لوگوں نے میری اجازت کے بغیر اسلام قبول کر لیا۔ جب کہ میں نے تم لوگوں کو اس لئے بلایا تھا کہ اس سے مقابلہ کرو اور تم لوگ اسی کا ساتھ دے رہے ہو۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ تم سب کا استاد ہے اور یہ تم لوگوں کی ملی بھگت ہےکہ اس طرح کرو گے تو یہ دیکھ کر مصر کے لوگ دھوکہ میں آکر موسیٰ (علیہ السلام )کو صحیح مان لیں گے اور اسلام قبول کر لیں گے۔ اب میں تمہاری چالبازی کی سزا یہ دوں گا کہ تمہارے ایک طرف کے ہاتھ کاٹ دوں گا اور دوسری طرف کے پیر کاٹ دوں گا۔ اور تمہیں کھجور کے تنوں پر پھانسی لٹکاﺅں گا۔ تب تم لوگوں کی سمجھ میں آئے گا کہ میرا عذاب سخت ہے یا موسیٰ (علیہ السلام )کے رب کا ۔ تمام جادوگروں نے جب یہ سزا سنی تو انہوں نے کہا۔ اے ،فرعون ، قسم ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں پیدا فرمایا ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی صاف نشانی دیکھ لی ہے۔ اب ہم تیری بات نہیں مانیں گے ۔ تو جو بھی فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔ تو صرف اس فنا ہونے والی دنیا وی زندگی کے بارے میں ہی فیصلہ کر سکتا ہے۔ ہم تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس قصور کو معاف فرمائے۔ جو ہم نے تیرے بہکاوے میں آکر اللہ کے رسول علیہ السلام سے مقابلہ کیا۔ اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا اور بہتر ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اب ہم اسلام کو چھوڑ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ”فرعون نے کہا تم موسیٰ (علیہ السلام )پر ایمان لائے ہو بغیر اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں؟ بے شک یہ سازش تھی جس پر تمہارا عمل درآمد ہوا ہے اس شہر میں تا کہ تم سب اس شہر سے یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو۔ سو اب تم کو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔ میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاﺅں کا ٹوں گا۔ پھر تم سب کو سولی پرلٹکا دوں گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ( مرکر) اپنے مالک ہی کے پاس جائیں گے اور تو نے ہم میں کون سا عیب دیکھا ہے سوائے اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے جب وہ ہمارے پاس آئے۔ اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہماری جان اسلام کی حالت میں نکال ۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر123سے 126تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقینا یہی تمہارا وہ بڑا ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے۔ تو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا۔ قسم ہے میں بھی تمہارے ہاتھ پاﺅں الٹے طور سے کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا۔ انہوں نے کہا۔ کوئی حرج نہیں، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنےوالے ہیں ہی۔ اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے بنے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا۔ “(سورہ الشعراءآیت نمبر49سے 51تک) اللہ تعالیٰ نےسورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون کہنے لگا کہ کیا میری اجازت سے پہلے ہی تم اس پر ایمان لے آئے؟یقینا یہی تمہارا وہ بڑا بزرگ ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے۔ میں تمہارے ہاتھ پاﺅں الٹے سیدھے کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوںمیںسولی پر لٹکوا دوں گا۔ اور تمہیں پوری طرح معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیادہ سخت اور دیر پا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ نا ممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں ( نشانیوں ) پر جو ہمارے سامنے آچکیں۔ اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پید ا کیاہے۔ اب تو تو جو کچھ کرنا چاہتا ہے کر گزر ۔ تُو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وہ اسی دنیاوی زندگی میں ہی ہے۔ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں معاف فرما دے ۔ اور جادوگری جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا ہے ۔ا للہ ہی بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر71سے 73تک)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!


.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں