07 حضرت یوشع علیہ السلام
شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر13
قسط نمبر 7
بنو یہودا کا علاقہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ڈھائی قبیلوں کو میراث تقسیم کر دی تھی۔ اس لئے حضرت یوشع علیہ السلام نے بقیہ ساڑھے آٹھ قبیلوں کو میراث کی تقسیم میں ملک کنعان دے دیا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے گیارہ قبائل میں ملک کنعان تقسیم ہو گیا۔ اور باقی بچے ایک قبیلہ بنو لاوی کو میراث کی تقسیم نہیں دی گئی۔ کیوں کہ وہ اللہ کے خدمتگار تھے۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے بنو یہوداہ قبیلے کو جو علاقہ دیا وہ ادوم کی سرحد سے دشت ِ حسین تک پھیلا ہوا تھا۔ جنوب میں ادوم کی سرحد کے قریب بنو یہوداہ کو جو شہر ملے ان کے نام یہ ہیں۔ قبصی ایل، عیدر، یجور، قینہ،دیمون، عدعدہ، قادس، حصور، اتنان ، زیف ، قلم، بعلوت، حدثہ، قریت، حصرون، امام، سمع، مولادہ، حصار جدہ، حشمون، بیت فلط، حصر سوعال، بیر سبع، بزیوتیاہ، بعلہ، عیم، عضم، التولد، کسیل، حرمہ، صقلاج،مدمنہ، سنسناہ،بداﺅت، سلحیم، عین اور رمون ، یہ اُنتیس شہرا اور ان کے دیہات بنو یہودا کو جنوب میں ملے۔ مغرب میں استال ، مرعا، اسنا، زنوح، جنیم، تفوح، عینام، یرموت، عدلا، شوکہ، عزیقہ، شعریم، عدتیم، جدیرہ، ضنان، حداشہ، عدل جد، دلعان، مصناہ، قیتی ایل،لکیس، یصقت، عجلون، کبون، لحماس، کتلیس، جد یروت، دجون، نعمہ، اور مقیدہ اور ان کے دیہات مغرب میں ملے۔ اس کے علاوہ لبناہ( لبنان) عتر، عسن ، یفتاح، اسنہ، نصیب، مسریسہ، عقرون، غزہ( غازہ) وادی¿ مصر، یزرائیل اور یروشلم جیسے شہر بھی بنو یہوداہ کو ملے۔
آدھے بنو منسی ( بنو افرائیم ) کا علاقہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے مفتوحہ علاقے ڈھائی قبیلوں یعنی بنو روبیل ( روبن) ، بنو جد اور بنو منسی کا آدھا قبیلہ ۔ ان کو تقسیم کر دیئے تھے۔ بنو منسی در اصل بنو یوسف ( حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد) کا ایک حصہ ہے۔ اور دوسرا حصہ بنو افرائیم ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے ایک بیٹے منسی بن گئی۔ اور افرائیم کی اولاد بنو افرائیم بن گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آدھے قبیلے بنو منسی کو حصہ دے دیا تھا۔ اب حضرت یوشع علیہ السلام نے بقیہ آدھے قبیلے بنو افرائیم کو میراث دی۔ بنو افرائیم کا علاقہ ان کے گھرانوں کے مطابق دیا۔ ان کی میراث کی سرحد مشرق میں عطارات ادار سے اوپر کے بیت حورون تک تھی جو سمندر تک چلی گئی تھی۔ پھر شمال میں مکمتاہ سے وہ مشرق کی جانب تانت سیلا کو مُڑی اور اس کے پاس سے گزرتی ہوئی اردن تک نکل گئی۔ تفوح سے وہ سرحد مغرب کی جانب قاناہ کی وادی تک گئی اور سمندر پر ختم ہو ئی۔ یہ افرائیم کے قبیلہ اور اس کے گھرانوں کے مطابق میراث تھی۔ ان میں وہ تمام شہر اور دیہات بھی شامل ہیں جو بنو منسی کی میراث میں بنو افرائیم کے لئے الگ کئے گئے تھے۔
بنو بن یامن کا علاقہ
حضرت یوشع علیہ السلام نے قرعہ اندازی کی تو قبیلہ بنو یامن کی میراث کی سرحد قبیلہ بنو یہودا اور قبیلہ بنو یوسف کے درمیان نکل آئی۔ شمال میں قبیلہ بنو بن یامن کی سرحد اردن سے شروع ہو کر پریحو( اریحا) کے شمال نشیب میں سے گزرتی ہوئی مغرب کی جانب کوہستانی ( پہاڑی ) علاقوں سے ہو کر بیت آون کے بیابان تک پہنچ۔ وہاں سے وہ لوز ( یعنی بیت ایل) کے جنوبی نشیب میں پہنچی۔ اور وہاں سے اس پہاڑ کے برابر ہوتی ہوئی جو نیچے آئی اور بیت حورون کے سامنے کے پہاڑ سے ہوتی ہوئی جنوب کی طرف بنو یہودا کے ایک شہر قریت بعل ( یعنی قریت یعزیم) تک جا پہنچی اور یہ مغربی سرحد ٹھہری۔ جنوبی سرحد قریت یعزیم کی بیرونی حد سے شروع ہو کر مغرب کی طرف آبِ تفتوح کے چشمہ تک چلی گئی جو ہزم کے بیٹے کی وادی کے سامنے ہے۔ اور بنو افرائیم کی وادی کے شمال میں ہے۔ وہاں سے ہزم کی وادی سے اترتی ہوئی یبوسیوں کے شہر کی جنوبی ڈھلان سے ہوتی ہوئی عین راجل تک پہنچی۔ پھر وہ شمال کی جانب مڑکر عینِ شمس سے گزرتی ہوئی جلیلوت تک گئی جو دومیم کے درہ کے سامنے ہے۔ وہاں سے وہ بنو روبیل ( روبن) کے بیٹے بوہن کے پھر تک اتر گئی۔ اور وہاں سے بیت اربع کے شمالی ڈھلان سے ہوتی ہوئی اربع میں جا اتری۔ پھر وہ سرحد بیت حجلہ کی شمالی ڈھلان سے ہوتی ہوئی دریائے شور کی شمال خلیج میں جا نکلی جو جنوب میں اردن کے دہانے پر واقع ہے۔ یہ بنو بن یامن کی جنوبی سرحد تھی۔ اور اس کی مشرقی سرحد اردن تک تھی۔بنو بن یامن کو شہر ملے ان میں سے چند خاص شہر اریحا( پریحو) بیت جملہ ، بیت ایل، جبعون، رامہ( اجکل نام راملہ ہے) ، بیروت ، مصفاہ ہیں۔
بنو شمعون کا علاقہ
حضرت یوشع علیہ السلام نے قبیلہ بنو شمعون کے لئے قرعہ اندازی کی تو ان کی میراث کا علاقہ بنو یہودا کے علاقہ کے درمیان نکل آیا۔ اور بنو شمعون کی میراث میں بیر سبع ، یا سبع، مولادہ ، حصار عول ، بالاہ ، عضم ، التولد، بتویل، حرمہ، صقلاج، بیت مرکبوت، حصارسوسہ، بیت لباﺅت، ساروحن، عین ، رمون ، عتر اور عسن نام کے شہر اور ان تمام شہروں کے دیہات بنو شمعون کی میراث ٹھہرے۔ قبیلہ بنو شمعون کی ان کے گھرانوں کے مطابق میراث یہی تھی۔ بنو شمعون کی میراث بنو یہودا کے حصہ سے لی گئی تھی۔ کیوں کہ بنو یہودا کا حصہ ان کی ضرورت سے زیادہ تھا۔ اسی لئے بنو شمعون نے اپنی میراث بنو یہودا کے علاقہ کے درمیان پائی۔
بنو زبولون کا علاقہ
حضرت یوشع علیہ السلام نے قرعہ اندازی کے بعد قبیلہ بنو زبولون کی جو سرحد مقرر کی وہ یہ تھی بنو زبولون کی سرحد سارید تک تھی۔ اور مغرب کی جانب جاتی ہوئی وہ مرعلہ تک پہنچی اور وباست کو چھوتی ہوئی اس وادی تک پہنچ جو یقنعام کے آس پاس ہے۔ سارید سے وہ مشرق کی طرف مڑ کر کِسلوت تبور کی سرحد تک گئی اور دبرت ہوتی ہوئی یفیع تک جا پہنچی۔ پھر یہ سرحد مشرق کی طرف بڑھتی ہوئی جتہ حیفر اورعتہ فاخین تک جا پہنچ اور رمون تک نکل آئی۔ اور پھر نیعہ کی طرف مڑی۔ وہاں سے یہ سرحد شمال کی جانب مڑ کر حناتون تک گئی اور افتاح ایل کی وادی میں ختم ہو ئی۔ قطات، نحلال، سمرون، ادالہ اور بیت سمیت بارہ شہروں اور ان کے دیہات بھی اس میں شامل تھے۔ یہ سب علاقہ بنو زبولون کی میراث ٹھہرا۔
بنو اشکار کا علاقہ
حضرت یوشع علیہ السلام نے قرعہ اندازی کے ذریعے قبیلہ بنو اشکار کو جو علاقہ دیا ۔ اس علاقے میں یہ شہر آئے۔ یزرعیل ، کسولوت، شونیم، حفاریم، شیون، اناخرات ، ربیت، قسیون، ابض، ریحت، عین ،جنیم، عین حدہ اور بیت فصیص شامل تھے۔ بنو اشکار کی سرحد تبور شخصیماہ اور بست شمس کو چھوتی ہوئی اردن پر جا کر ختم ہوئی۔ بنو زبولون کی میراث میں سولد شہر اور ان کے دیہات شامل تھے۔ یہ شہر اور ان کے دیہات بنو اشکار کے گھرانوں کے مطابق میراث ٹھہرے۔
بنو آشر کا حصہ
حضرت یوشع علیہ السلام نے اس کے بعد قبیلہ بنو آشر کے لئے قرعہ اندازی کی اور اس کے آشر جت کے لئے قرعہ اندازی کی۔ اور اس کے علاقے میں یہ شہر آئے۔ خلقت، حلی، بطن، اکشاف، الملک ، عماد اور مسال اور ان کے دیہات بھی شامل تھے۔ بنو آشر کے علاقے کی سرحد مغرب کی جانب کرمل اور سیحور لبنات تک پہنچی۔ پھر وہ مشرق کی جانب مڑ کر بیت دجون تک گئی اور زبولون اور افتاح ایل کی وادی کو چھوتی ہوئی اپنے بائیں جانب طرف کبول سے گزرتی ہوئی شمال کی جانب بیت العتیق اور نغی ایل تک پہنچی۔ پھر حبرون ( الخلیل) ، رحوب ، عمون اور قاناہ بلکہ بڑے میدا تک پہنچی۔ پھر وہ سرحد رامہ( راملہ) کی طرف مڑ کر فصیلدار شہر ضور تک چلی گئی۔ پھر حوسہ کی طرف مڑ کر سمندر تک پہنچی۔ جہاں اکزیب ، عمہ، افیق اور رحوب کا علاقہ ہے۔ اس طرح بائیس 22شہر اور ان کے دیہات بنو آشر کی میراث میں آئے۔
بنو نفتالی کا علاقہ
حضرت یوشع علیہ السلام نے اس کے بعد قرعہ اندازی کر کے بنو نفتالی کا علاقہ متعین کیا۔ ان کے علاقے کی سرحد حلف اور ضعتیم کے بڑے بلوط سے ادامی نقب اور یبنی ایل سے ہوتی ہوئی لقوم تک گئی اور اردن پر جا کر ختم ہوئی۔ پھر وہ سرحد ازنوت تبور سے ہوتی ہوئی مغرب کی طرف گئی اور حقوق تک پہنچ گئی۔ اور جنوب میں زبولون کے علاقے تک اور مغرب میں آشر کے علاقے اور مشرق میں اردن تک پہنچی۔ ان کے شہر یہ تھے۔ صدیم، صیر ، حمات، رقت ، کزت، ادامہ، رامہ( راملہ) حصور، قادس، عی، عین حصور، ارون، مجد اایل، حریم، بیت عنات، اور بیت شمس ۔ یہ انتیس 29شہرا ور دیہات بنو نفتالی کی میراث میں آئے۔
بنو دان کا علاقہ
حضرت یوشع علیہ السلام نے اس کے بعد بنو دان کے لئے قرعہ اندازی کی ۔ ان کے علاقے میں جو شہر آئے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ صرعاہ، استاول، عیر شمس، شعلین، ایالون، اتلاہ، ایلون، تمناہ، عقرون، التقیہ، جنتون، بعلات،یہود، بنی برق ، جات رمون، مے یرقون ، رقون اور یافہ کے سامنے کا علاقہ شامل تھا۔ یہ تمام شہر اور علاقہ بنو دان کو میراث میں ملے۔لیکن بنو دان کو اپنے علاقے میں کافی دقت پیش آئی۔ اسی لئے انہوںنے وہاں سے کوچ کر کے لشم پر حملہ کیا۔ اور وہاں کے لوگوں سے جنگ کر کے انہیں قتل کر دیا اور لشم پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد بنو دان نے لشم میں ہی سکونت اختیار کر لی اور اپنے جد امجد دان کے نام پر اس کا نام دان رکھ دیا۔
بنو لاوی کے شہر
حضرت یوشع علیہ السلام جب ملک کنعان ( فلسطین) کا پورا علاقہ بنی اسرائیل میںبانٹ چکے تو بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کو اپنے درمیان میراث دی۔ اور بنو افرائیم کے پہاڑی علاقوں میں سرح شہر انہیں دیا۔ اس کے بعد بنو لاوی کے سردار عیز ار کا ہن ( یہ حضرت ہارون علیہ السلام کا بیٹا ہے) اپنے قبیلے والوں کے ساتھ آیا اور آپ علیہ السلام سے عرض کیا کہ بنو لاوی کہاں رہیں گے؟ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو لاوی سے ہیں) حضرت یوشع علیہ السلام نے یہ معاملہ بنی اسرائیل کے سامنے رکھا تو انہوںنے کہا کہ قرعہ اندازی کے ذریعے ہمارے علاقوں میں سے انہیںرہائش کے لئے دیں۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے پہلا قرعہ عیزار کاہن اور اس کے گھرانوں کے لئے ڈالا ۔قرعہ اندازی کے بعد بنو یہودا ، بنو شمعون اور بنو بن یامن کے علاقوں میں سے دس شہر دیئے گئے۔ اسی طرح بقیہ بنو لاوی کو بنو روبیل ( روبن) ، بنو جد اور بنو بولون کے علاقوں میں سے بارہ شہر ملے۔ اور ان کی چراہ گاہیں دی گئیں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں