ہفتہ، 27 مئی، 2023

07 حضرت سلیمان علیہ السلام Story of Prophet Suleman


07 حضرت سلیمان علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 15

ہیکل سلیمانی( بیت المقدس) کی تعمیر

حضرت داﺅد علیہ السلام کے ذکر میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ایک رات حضرت داﺅد علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک چٹان پر سے فرشتے سیڑھی کے ذریعے آسمان پر جا رہے تھے۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے ارادہ بنا یا کہ اس جگہ مسجد ( بیت المقدس) تعمیر کی جائے۔ تب اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ اس مسجد کی بنیاد تو تم رکھو گے لیکن اس کی تعمیر مکمل نہیں کر سکو گے۔ بلکہ اس کی تعمیر تمہار بیٹا۔ سلیمان علیہ السلام کرے گا۔ بیت المقدس کی تعمیر تو حضرت یعقوب علیہ السلام کے ہاتھوں سر انجام پائی تھی۔ لیکن حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کے مصر میں پورے خاندان کو لے کر آگئے تھے۔ اور بیت المقدس کی مسجد کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں رہ گیا تھا۔ ادھر مصر میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد خوب پھلی پھولی۔ اور بارہ بیٹوں کی یہ اولاد کئی لاکھ تک پہنچ گئی۔ اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں آئے۔ اور کئی سو سال بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مصر سے باہر نکلے اور حضرت یوشع علیہ السلام کی قیادت میں ملک کنعان ( حالیہ فلسطین، اردن، لبنان وغیرہ ) میں آبادہو گئے تھے۔ لیکن ان کی حکومت اتنی مستحکم نہیں ہو سکی تھی کہ وہ بیت المقدس کی تعمیر کے بارے میں سوچتے۔ بنی اسرائیل کا زیادہ وقت آس پاس کی مشرک قوموں سے لڑتے ہوئے گزرتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ گمراہیوں ، برائیوں اور آپسی اختلافات کا شکار ہو کر بھی کمزور ہو جاتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی ظالم کو ان پر مسلط کر دیتا تھا۔ تا کہ وہ سنبھل کر متحد ہو کر اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔ اسی طرح وقت گزرتا رہا اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل کو عروج حاصل ہوا۔ اور ایک مستحکم اسلامی حکومت وجود میں آئی تو آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کی تعمیر کی طرف توجہ دی۔ جب تک امتداد زمانہ کی وجہ سے حضرت یعقوب علیہ السلام کی تعمیر کی ہوئی مسجد کا نام و نشان مٹ چکا تھا ۔ اور جس چٹان پر سے حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرشتوں کو چڑھتے ہﺅے دیکھا تھا۔ اسی کے پاس آپ علیہ السلام نے مسجد کی بنیاد رکھی۔ وہ چٹان آج بھی ”چٹان ِ داﺅدی“ کے نام سے مشہور ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس کی تعمیر نو کی سعادت حاصل کی ہے۔ تعمیر اول حضرت یعقوب علیہ السلام کے ہاتھوں سے سر انجام پائی۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سب سے پہلے، کون سی مسجد تعمیر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مسجد بیت المقدس ، میں نے عرض کیا۔ ان دونوں کے درمیان کتنی مدت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چالیس سال ۔ اس حدیث سے بالکل واضح ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کرنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت المقدس کی مسجد تعمیر کی تھی۔ لیکن ہو محفوظ نہیں رہ سکی۔۔

ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) کو تعمیر کرنے کی تیاریاں

حضرت سلیمان علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل کو سب سے زیادہ عروج حاصل ہوا ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل پوری دنیا میں سب سے بڑی سوپر پاور تھے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت پوری دنیا ایشیاء، یورپ اور افریقہ تھی۔ اور آسٹریلیا اور امریکہ دریافت نہیں ہوئے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے آس پاس کے تمام حکمراں آپ علیہ السلام کی اطاعت قبول کر چکے تھے۔ اور سالانہ خراج ادا کرتے تھے۔ان میں سے صور کے بادشاہ حیرام کے تعلقات حضرت داﺅد علیہ السلام سے بہت اچھے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی ) کی تعمیر کا ارادہ فرمایا تو صور کے بادشاہ حیرام کو خط لکھا کہ تمہیں یہ بات معلوم ہے کہ میرے والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام اطراف کی قوموں سے جنگ میں اتنے مصروف تھے کہ بیت المقدس میں ایک مسجد کی تعمیر کو مکمل نہیں کر سکے ہیں اور صرف بنیادہی ڈال سکے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ اس مسجد ( بیت المقدس) کی تعمیر تمہارا بیٹا سلیمان (علیہ السلام )کرے گا۔ اس لئے اپنے آدمیوں کو حکم دے کہ میرے آدمیوں کے ساتھ مل کر لبنان کے جنگلات میں سے ساگوان اور صنوبر کے درخت کاٹیں ۔ میں تمہارے آدمیوں کو اجرت دوں گا۔ اور تم جانتے ہو کہ صیدانیوں کی طرح لکڑی کاٹنے میں کوئی بھی ماہر نہیں ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط جب حیرام کو ملا تو وہ بڑا خوش ہوا اور بولا۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے کہ اس نے اتنی بڑی قوم ( بنی اسرائیل ) پر حکمرانی کے لئے حضرت داﺅد علیہ السلام کو اتنا دانا اور عقلمند بیٹا بخشا ہے۔ پھر اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو خط لکھا۔ آپ علیہ السلام نے جو پیغام بھیجا ہے وہ مجھے مل گیا ہے۔ اور ساگوان اور صنوبر کی لکڑی مہینا کرنے کے لئے جو آپ علیہ السلام چاہتے ہیں میں وہ سب کروں گا۔ میرے آدمی ان شہتیروں کو لبنان سے کھینچ کر سمندر تک لے جائیں گے اور پھر ان کے گٹھوں کو سمندر میں تیرا کر آپ علیہ السلام کی مقرر کی ہوئی جگہ پر پہنچا دیں گے۔ پھر آپ علیہ السلام اسے اپنے استعمال کے لئے لے جا سکیں گے۔ اس کے بدلے میں صرف ہمیں رسد مہیّا کرتے رہیں۔

بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی ) کی تعمیر میں مزدور اور سنگ تراش

حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حیرام ساگوان اور صنوبر کے شہتیر بھیجتا رہا۔ اور آپ علیہ السلام بیس ہزار کوئنٹل گیہوں اور بیس ہزار ڈرم زیتون کا تیل ہر سال بھیجتے رہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی تعمیر کے لئے تیس ہزار30000مزدور لگائے۔ ان میں سے ہر مہینہ دس ہزار کی ایک ٹولی لبنان جاتی تھی۔ اور بقیہ دو مہینے گھر پر گزارتے تھے۔ ان کے علاوہ آپ علیہ السلام نے ستر70ہزار حمال اور اسی 80ہزار سنگ تراش بھی مقرر فرمائے۔ اور ان سب کو تین سو افسران سنبھالتے اور نگرانی کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کے حکم سے پتھروں کی کانوں سے نفیس پتھروں کے بڑے بڑے ٹکڑے نکالے جا تے تھے۔ اور سنگ تراش ان پتھروں کو تراشتے تھے۔ اور بڑھئی شہتیروں کو کاٹتے تھے۔ اس طرح تیس ہزار مزدور، ستّر ہزار حمال، اسّی ہزار سنگ تراش اور بڑھئی اور ان کے افسران اور جنات برسوں مسلسل کام کرتے رہے اور پتھروں کو کان سے نکالتے ہی سنگتراش اسے تراشتے تھے۔

مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی بناوٹ

حضرت سلیمان علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ملک مصر سے نکل آنے کے چار سو اسی ویں 480ویں سال میں اور اپنی دورنبوت اور حکومت کے چوتھے سال میں مسجد بیت المقدس( ہیکل سلیمانی) کی تعمیر شروع کی۔ اور کئی سال تک ہزاروں مزدور ، معمار ، سنگ تراش اور برھئی اور انکے ساتھ جناتوں نے مل کر مسلسل کام کیا۔ اس وقت کریں وغیرہ ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے آپ علیہ السلام نے بہت بڑے بڑے پتھروں کو اٹھانے اور ان کی جگہ پر رکھنے کا کام جناتوں سے لیا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کی لمبائی ساٹھ60ہاتھ ، چوڑائی بیس20ہاتھ اور اونچائی تیس30ہاتھ رکھی۔ آپ علیہ السلام نے مسجد میں جالی دار جھروکے بھی بنوائے۔ اور مسجد کے تین طرف سہ( تین) منزلہ عمارت بنوائی۔ جس کے پہلو میں حجر ے ( کمرے) تھے۔ سب سے نچلی منزل پانچ ہاتھ، درمیانی منزل چھ ہاتھ اور سب سے اوپری منزل سات ہاتھ اونچی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ چاروں طرف باہر کی طرف پشتے بنوائے۔ تا کہ شہتیروں کے لئے دیواروں میں سوراخ کرنے کی ضرورت نہ ہو۔ مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کو تعمیر کرنے کے لئے پتھروں کے صرف وہی ٹکڑے استعمال کئے گئے جو کان سے نکالتے وقت تراشے گئے تھے۔ اور جب اس کی تعمیر چل رہی تھی تو وہاں ہتھوڑے ، چھینی یا لوہے کے کسی دیگر اوزار کی آواز سنائی نہیں دی۔ سب سے نچلی منزل کا دروازہ جنوب کی طرف تھا۔ اور ایک زینہ درمیانی منزل تک اور پھر وہاں سے تیسری منزل تک جاتا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی دیواریں تعمیر ہو جانتے کے بعد چھت پر ساگوان اور صنوبر کے شہتیروں اور تختے ڈال کر مکمل کیا۔ اور تمام مسجد کے ساتھ حجرے تعمیر کروائے۔ جن میں سے ہر ایک کی اونچائی پانچ پانچ ہاتھ تھی۔ اور وہ ساگوان کے شہتیروں کے ذریعے مسجد ( ہیکل سلیمانی) سے ملحق تھے۔

مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی سجاوٹ

حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کی تعمیر مکمل کی۔ اور اس کی اندرونی دیواروں پر ساگوان کے تختے لگوائے اور مسجد یعنی ہیکل سلیمانی کے فرش سے لے کر چھت تک تختوں کو پٹیوں سے سجایااور ہیکل سلیمانی کے فرش کو صنوبر کے تختوں سے ڈھانپ دیا۔ اور مسجد( ہیکل) کے اندرونی حصہ میں ایک نہایت ہی مقدس جگہ بنانے کے لئے آپ علیہ السلام نے پچھلے بیس ہاتھ حصے کو فرش سے لے کر چھت تک ساگوان کے تختے لگا کر محصور کر دیا۔ اس کے سامنے بڑا کمرہ چالیس ہاتھ لمبا تھا۔ مسجد( ہیکل) کو اندر سے ساگوان کے تختوں سے مزیّن کر دیا تھا۔ اور اس پر لٹو اور کھلے ہوئے پھول کندہ کئے ہوئے تھے۔ سب ساگوان کے تختے اس طرح لگائے گئے تھے کہ مسجد کے اندر دیواروں کا کوئی پتھر دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اس کے علاوہ آپ علیہ السلام نے پوری مسجد میں تانبے ، چاندی اور سونے سے نقش نگاری بھی کروائی تھی۔

تابوتِ سکینہ رکھنے کی جگہ

حضرت داﺅد علیہ السلام تابوت سکینہ کو یروشلم میں لے آئے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد یعنی ہیکل سلیمانی میں بیس20ہاتھ لمبا ، بیس ہاتھ چوڑا اور بیس ہاتھ اونچا ایک چبوترہ بنایا۔ اور اس پر خالص سونے کے چادر چڑھائی۔ اس طرح پورا چبوترہ سونے کا دکھائی دیتا تھا۔ چبوترے کے اطراف سونے کی زنجیریں لگا دیں ۔اور قربان گاہ پر بھی سونے کی چادر چڑھا دی۔ اس چبوترے پر زیتون کی لکڑی کے دوکروبی بنائے۔ جو دس دس ہاتھ اونچے تھے۔ دونوں کی بناوٹ یکساں تھی۔ اور ان کے پر یعنی ہاتھ پانچ پانچ ہاتھ لمبے تھے ۔ دونوں کروبی اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے۔ دونوں کوبازو بازو میں رکھا گیا۔اس طرح ایک کروبی کا ہاتھ دائیں طرف کی دیوار کو چھو رہا تھا اور دوسرا ہاتھ دوسرے کروبی کے ہاتھ کو چھو رہا تھا۔ اور دوسرے کروبی کا ہاتھ بائیں طرف کی دیوار کو چھو رہا تھا۔ سامنے سے دیکھنے پر ایسا لگتا تھا جیسے دونوں کروبی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوں اور دوسرے ہاتھ سے دیوار کو سہارا دے رہے ہوں۔ ان دونوں کروبی پر بھی سونے کی چادر چڑھائی گئی اور وہ مکمل سونے کے دکھائی دیتے تھے۔ ان کے سامنے چبوترے پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ”تابوت سکینہ “ رکھا۔ اس پر بھی سونے کی چادر چڑھائی گئی۔ مسجد کے باہر صحن میں دیواروں پر فرش پر نقش و نگار بنائے گئے۔ اور اطراف کی تین منزلہ عمارت کے ہر حجرے ( کمرے) میں بھی نقش و نگار بنائے گئے۔ اس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے سات سال میں مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کی تعمیر مکمل کی۔ آپ علیہ السلام نے اپنی حکومت کے چوتھے سال میں اس کی تعمیر شروع کی تھی اور گیارہویں سال میں مکمل کی تھی۔ اس کی باہری دیوراروں کو انتہائی خوب صورت پتھروں ( جنہیں ہم آج کل ماربل کہتے ہیں) سے مزین کیا گیا۔ دور سے دیکھنے پر مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) ایک بہت بڑے خوب صورت قلعے کی شکل میں دکھائی دیتی تھی۔ اس کے اطراف میں چاروں طرف بہت بڑا میدان چھوڑ کر دیوارا بنا دی گئی تھی۔ اس میدان میں جگہ جگہ پیتل کے بہت بڑے بڑے حوض بنوائے ۔ ہر حوض میں گیارہ ہزار گیلن پانی آتا تھا۔ جگہ جگہ بیٹھنے کے لئے چوکیاں ( کرسیاں) بنوائیں۔ اور حوض سے پانی پینے کے لئے ہزاروں پیتل کے کٹورے ( گلاس ) بنوائے۔

مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی تزئین

حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد بیت المقدس کی تعمیر مکمل کر لی۔ یہودی ( بنی اسرائیل) اسے ”ہیکل سلیمانی “ کہتے تھے۔ اسے بعد میں مشرک قوموں نے مسمار کر دیا تھا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔ مسماری کے بعد سے آج تک ہیکل سلیمانی نہیں بن سکا ہے۔ اور اس کی طرف ایک ٹوٹی ہوئی دیوار رہ گئی ہے۔ جسے بنی اسرائیل یعنی یہودی” دیوارِ گریہ “ کہتے ہیں۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی حکومت کے چوتھے سال میں بیت المقدس کی تعمیر شروع کی۔ اور اپنی حکومت کے گیارہویں سال تعمیر مکمل کی۔ لیکن اس کے بعد بھی آ پ علیہ السلام اپنے دورِ حکومت کے آخر تک اس میں کچھ نہ کچھ اضافہ کرتے رہے۔ اور اس طرح توسیع کا کام آخر زمانہ تک برابر جاری تھا۔ آپ علیہ السلام نے جو مسجد بنوائی اس کی بلندی ایک سو ہاتھ تھی۔ اور لمبائی ساٹھ 60ہاتھ اور چوڑائی بیس 20ہاتھ تھی۔ اس کے اندرونی حصہ میں سونے اور چاندی کی چادریں چڑھائی گئی تھیں۔ مسجد کے اندرلکڑی کے دو کروبی ( فرشتے ) بنائے تھے۔ اور ان پر سونے کی چادر یں چڑھا دی گئی تھیں۔ مسجد کے دروازے صنوبر کی لکڑی کے تھے۔ اور ان پر پھول پتیوں کے نقش و نگار کے علاوہ کرو بیوں ( فرشتوں ) کی صورتیں بھی بنائی گئی تھیں۔ اور ان سب پر سونے کی چادریں منڈھی ہوئی تھیں۔ اس ہیکل ( مسجد) کی تعمیر سات برسوں میں مکمل ہوئی۔ اور ا سکا ایک دروازہ سونے کا بنایا گیا۔ اس کے بعد بیت السلاح صنوبر کے چار کھمبوں کی صفوں پر بنایا گیا۔ ہر صف میں پندرہ پندرہ کھمبے تھے۔ اور اس میں دو سو ترس ( ڈھال ) اور تین سو ورقہ ( ٹکڑے) سونے کے رکھے۔ ہر ڈھال میں چھ چھ سو اعلیٰ درجے کے زمرد جڑے تھے۔ اور ہر ٹکڑے میں تین تین سو یاقوت جڑے ہوئے تھے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں...........! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں