منگل، 9 مئی، 2023

07 حضرت شعیب علیہ السلام Story of Prophet Shuayeb



07 حضرت شعیب علیہ السلام

سلسلہ نمبر 11

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 7

قوم ایکہ کو اسلام کی دعوت

حضرت شعیب علیہ السلام قوم مدین کی ہلاکت کے بعد اس علاقے سے مسلمانوں کو لے کر ہجرت کر گئے۔ اور قریب ہی قوم ایکہ آباد تھی۔ آپ علیہ السلام مسلمانوں کے ساتھ ہجرت کر کے قوم ایکہ کے علاقے میں پہنچے اور وہیں رہائش اختیار کر لی۔ قوم ایکہ چونکہ قوم مدین کے پڑوس میں آباد تھی۔ اور دونوں تجارتی شاہراہوں پر آباد تھیں اسی لئے دونوں کی بستیوں میں بڑی بڑی تجارتی منڈیاں تھیں۔ ہاں دونوں کے علاقوں میں یہ فرق تھا کہ قوم مدین صحرائی اور پہاڑی علاقوں میں آباد تھی اور قوم ایکہ جس علاقے میں آباد تھی وہ میدانی علاقہ تھااور جنگلوں ، درختوں ،پیڑ پودوں سے ہرا بھرا سر سبز علاقہ تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم ایکہ کو بھی اسلام کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”ایکہ والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ جب اُن سے شعیب علیہ السلام نے فرمایا۔ کیا تمہیں ( اللہ کے عذاب کا ) ڈر خوف نہیں ہے۔ میں تمہاری طرف ( بھیجا گیا ) امانت دار رسول ہوں۔ اللہ کا خوف کھاﺅ اور میری فرماں برداری کرو۔ میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو تمام جہان کو پالنے والے ( اللہ تعالیٰ ) کے پاس ہے۔ ناپ پورا بھراکرو۔ اور کم دینے والوں میں شامل نہ ہوجاﺅ۔ اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔ لوگوں کو اُن کی چیزیں کم کر کے مت دو۔ اور بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے مت پھرو۔ اس اللہ کا خوف رکھو جس نے خود تمہیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا ہے۔“( سورہ الشعراءآیت نمبر176سے 184تک)

قوم ایکہ بھی مشرک تھی

حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم مدین کی ہلاکت کے بعد ہجرت کی اور قوم ایکہ کے علاقے میں رہائش اختیار کی۔ قوم ایکہ کے بارے میں جسٹس پیر محمد کرم شاہ ایم اے لکھتے ہیں۔ سورہ الاعراف اور سورہ ہود میں حضرت شعیب علیہ السلام کے مواعظ، آپ علیہ السلام کی قوم میں جڑ پکڑنے والے باطل عقائد اور اخلاقی خرابیوں کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ یہاں بھی آپ علیہ السلام کے مواعظ کا وہی انداز ہے۔ اور اپنے مخاطبین کو انہیں خرابیوں سے باز آنے کی پر زور اور مخلصانہ تلقین فرما رہے ہیں جن کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔ اس لئے بعض حضرات نے یہ خیال فرمایا کہ اہل مدین اور اصحاب الایکہ ایک ہی قوم کے دو نا م ہیں۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں علیحدہ علیحدہ قومیں تھیں۔ جو الگ الگ علاقوں میں آباد تھیں۔ لیکن چونکہ ان کے علاقے بالکل نزدیک تھے۔ اور دونوں قومیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھیں۔ اس لئے دونوں کی ہدایت کے لئے ایک نبی حضرت شعیب علیہ السلام کو مقرر فرمایا گیا۔ نیز یہ دونوں قومیں دو بین الاقوامی شاہراہوں کے قرب و جوار میں آباد تھیں۔ اور تجارت پیشہ تھیں۔ تاجروں میں جو اخلاقی خرابیاں عام طور سے پائی جاتی ہیں وہ ان میں بطور قدر مشترک موجود تھیں۔ توحید کے عقیدہ سے دونوں قومیں برگشتہ ہو چکی تھیں۔ اور شرک کی لعنت میں گرفتار تھیں۔ اس لئے حضرت شعیب علیہ السلام کے دونوں قوموں کے مواعظ ایک ہی طرح تھے۔ وہ جگہ جہاں گھنے اور گنجان درختوں کا ذخیرہ ہو اسے عربی میں ایکہ کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم جس علاقہ میں آباد تھی وہاں درختوں کے گھنے اور گنجان جھنڈ پائے جاتے تھے۔ اسی لئے انہیں اصحاب الایکہ کہا گیا ہے۔ اور یہ کسی خاص بستی کا نام نہیں تھا لیکن جنہوں نے لیکہ پڑھا ہے ۔ اُن کا خیال ہے کہ لیکہ ایک بستی کا نام تھا۔ امام جوہری کی رائے ہے کہ ایکہ اور لیکہ دونوں ایک ہی بستی کا نا م تھے۔ جس طرح مکہ اور بکہ ہیں۔

درخت کی پوجا کرتے تھے

حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم ایکہ کو سمجھایا۔ مولانا محمد آصف قاسمی قوم ایکہ کے بارے میں لکھتے ہیں۔ سورہ الشعراءکی ان آیات میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کو ” اصحاب ایکہ “ فرمایا گیا ہے۔ ایکہ کے متعلق مفسرین نے مختلف معنی بیان کئے ہیں۔ (۱) ایکہ تبوک کا پرانا نا م ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی اصلاح کے لئے حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا۔ ۲) ایکہ ، جنگل ، بن، سر سبزو شاداب اور درختوں کے جھنڈ والے علاقے کو کہتے ہیں۔ ۳) ایکہ والے ایک درخت کو اپنا معبود مانتے تھے۔ جو اُن کے قریب کے بن کا ایک درخت تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام اس قوم کی اصلاح کے لئے تشریف لائے تھے۔ ۴) حضرت شعیب علیہ السلام جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں پوری زندگی اس قوم کی اصلاح کرتے رہے۔ جو خوش حالی کی وجہ سے تمام اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں میں مبتلا ہو چکی تھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام جس قوم کی اصلاح کے لئے تشریف لائے تھے وہ نہایت متحدن، خوش حال اور تجارت پیشہ قوم تھی۔ جو ایسے علاقے میں رہتی تھی جو نہایت سر سبز و شاداب جھاڑیوں ، درختوں کی کثرت اور پُر فضامقام اور پر عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے۔ پورا علاقہ نہروں، چشموں اور درختوں کی کثرت کی وجہ سے نہایت حسین نظر آتا تھا۔ خاص طور پر خوشبو دار پھولوں کے چمن تھے۔ جو بڑا خوب صورت نظارہ پیش کرتے تھے۔ چونکہ یہ قوم تجارت پیشہ تھی اسی لئے مال و دولت کی کثرت نے اُن کو دنیاوی زندگی کا ایسا دیوانہ بنا دیا تھا کہ وہ بہت سی اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔ انہوں نے تجارتی بد دیانتی کو اختیار کر کے ”میزان“یعنی توازن و اعتدال کو چھوڑ دیا تھا۔ اور بے ایمانی کرنے اور کم تولنے کا اپنا مزاج بنا لیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ اُن میں خود غرضی، لالچ اور کردار کی ہزاروں کمزوریاں پیدا ہو چکی تھیں۔

حضرت شعیب علیہ السلام نے ایکہ والوں کو سمجھایا

حضرت شعیب علیہ السلام نے ایکہ والوں کو سمجھایا اور اسلام کی دعوت دی۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ مذہبی اعتبار سے اس قوم میں مشرکانہ رسمیں اس قدر کثرت سے پھیل چکی تھیں کہ ان کے نزدیک وہی اصل دین تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے جب ان کو بتایا کہ وہ خرید و فروخت میں بد دیانتی ، مشرکانہ رسمیں اور تجارت کے راستوں کو دوسروں پر بند کرنے کی عادت چھوڑ دیں اور صر ف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں ۔ جس نے یہ تمام نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ امام قرطبی لکھتے ہیں۔ الایکہ سے مراد گھنے کثیر درخت ہیں۔ اس کا واحد ایکہ ہے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام دو قوموں کی طرف مبعوث کئے گئے تھے۔ اپنی قوم اہل مدین کی طرف اور اصحاب ایکہ کی طرف ۔ ایکہ سے مراد گھنے درختوں کا دلدلی جنگل ہے۔حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم ایکہ کو سمجھایا اور انہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف اپنا رسول بنا کر تمہاری ہدایت کےلئے بھیجا ہے۔ تم لوگ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسری چیزوں کی عبادت کر تے ہوتو یہ تمہیں دوزخ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ میری بات مانو اور اسلام قبول کر کے صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اسی نے تمہیں یہ تمام نعمتیں عطا فرمائی ہے۔ اسی لئے صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کا شکر اداکرو۔

میرا اجر تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

حضرت شعیب علیہ السلام نے قومِ ایکہ کو سمجھایا اور اسلام کی دعوت دینے کے بعد فرمایا کہ میں تمہیں جو دعوت دے رہا ہوں اور سمجھا رہا ہوں تو میں صرف تمہاری بھلائی چاہتا ہوں اور اللہ کے حکم کو پورا کررہا ہوں۔ اور میں تم سے اس کا کائی معاوضہ نہیں چاہتا ہوں اور میرا کوئی دنیاوی مفاد تم سے وابستہ نہیں ہے۔ میرا اجر تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں۔ اللہ کا خوف کھاﺅ اور میری فرماں برداری کرو۔ میں اس پر تم سے کوئی اجرت( معاوضہ ) نہیں مانگتا ہوں۔ میرا اجر تو تمام جہانوں کو پالنے والے کے پاس ہے۔ “ (سورہ الشعراءآیت نمبر178سے 180تک) مولانا محمد آصف قاسمی ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں دیانت و امانت والا رسول ہوں۔ مجھے تم سے دنیا کی کوئی چیز بدلہ اور صلہ میں نہیں چاہیئے وہ تو میرے رب العالمین کے ذمہ ہے۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ تم میری بات مانو۔ پورا تو لو، اس میں کمی نہ کرو ، ترازو سیدھا رکھا کرو، لوگوں کو کسی طرح نقصان نہ پہنچاﺅ۔ فسادی لوگوں کی اتباع نہ کرو۔ تمہارا اور تم سے پہلے لوگوں کا خالق صرف ایک اللہ ہے۔ جو تمام عبادتوں کا مستحق ہے۔ اگر تم نے میری بات نہیں مانی اور میری اطاعت نہیں کی تو تمہارے اوپر تمہاری بد اعمالیوں کی وجہ سے سخت عذاب آسکتا ہے۔ اس بُرے انجام سے ڈرو۔

ڈنڈی مار قوم

حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم مدین اور قوم ایکہ پڑوسی تھے۔ اور ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت رکھتے تھے۔ ایکہ والوں کو یہ معلوم تھا کہ آپ علیہ السلام قوم مدین کو سمجھایا کرتے تھے لیکن انہوں نے بات نہیں مانی اور ہلاک ہو گئے۔ اس کی خبر قوم ایکہ کو ہوئی تھی لیکن وہ لوگ اسے اللہ کا عذاب ماننے کو تیار نہیں تھے۔ بلکہ مکافاتِ عمل یا وبائی آفت سمجھ رہے تھے۔ در اصل آج سے ساٹھ 60ستر70ہزارسال پہلے وبائی امراض پھیلتے تھے۔ جس سے پوری پوری بستی کے زیادہ تر لوگ اس مرض کا شکار ہو کر مر جاتے تھے۔ آج کل ترقی ہو جانے کی وجہ سے وبائی امراض پر کنٹرول پا لیا گیا ہے۔ خیر تو قوم مدین اور قوم ایکہ پڑوسی تھے اور دونوں تجارت پیشہ تھے اور دونوں کے علاقوںمیں بڑی بڑی تجارتی منڈیاں تھیں۔ اور اسی لئے دونوں قومیں ڈنڈی مار تھیں۔ اسی لئے حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم ایکہ کو بھی اس بہت بڑی برائی سے روکنے کی کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” ناپ پورا بھرا کرو اور کم دینے والوںمیں شامل نہ ہو جاﺅ ۔ اور سیدھی ترازو تولا کرو اور لوگوں کو اُن کی چیزیں کمی سے نہ دو۔ اور بے باکی سے فساد مچاتے نہ پھرو۔ ( سورہ الشعراءآیت نمبر 181سے 183تک) علامہ ابن کثیر ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روک رہے ہیں۔ اور فرما رہے ہیں کہ کوئی چیز ناپ کر دو تو پورا پیمانہ بھر کر دو۔ اس کے حق میں سے کم نہ کرو۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو۔ یہ کہا کہ لینے کے وقت پورے سے بھی زیادہ لیتے ہو اور دینے کے وقت پورے سے کم دیتے ہو۔ لین دین دونوں صاف رکھو اور پورا رکھو۔ ترازو اچھی رکھو کہ جس میں وزن صحیح ہو۔ بٹے ( وزن) بھی پورے رکھو۔ وزن کرنے میں عدل کرو اور ڈنڈی نہ مارو اور کم نہ تولو۔ کسی کو اس کی چیز کم نہ دو۔ کسی کا راستہ بند مت کرو۔ چوری چکاری ، لوٹ مار، غارت گری اور رہزنی سے بچو۔ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اور خوف زدہ کر کے اُن کے مال نہ لوٹو۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں