07 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر14
قسط نمبر 7
بہترین خطیب
حضرت داﺅد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت بہترین تقریر یعنی خطاب کرنے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی تھی۔ اور آپ علیہ السلام بہترین خطیب بھی تھے۔ سورہ ص ٓ کی آیت نمبر 20کی تفسیر میں مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ واتینٰہُ الحکمة و فَصَل الخطاب ۔ ( اور ہم نے ان کو حکمت اور فیصلہ کردینے والی تقریر عطا فرمائی) حکمت سے مراد تو دانائی ہے یعنی ہم نے انہیںعقل و فہم کی دولت بخشی تھی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا حکمت سے مراد نبوت ہے۔ اور ”فصل الخطاب “ کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد زور بیان اور قوت خطابت ہے کیوں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام بہت اونچے درجے کے خطیب تھے۔ اور خطبوں میں حمد و صلوٰة کے بعد لفظ ”اما بعد“ سب سے پہلے آپ علیہ السلام نے ہی کہنا شروع کیا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے بہترین قوتِ فیصلہ مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جھگڑے چکانے اور تنازعات کا فیصلہ کرنے کی قوت عطافرمائی تھی۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی مثال
اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ کی آیت نمبر20میں دنیا کے تمام حکمرانوں اور بادشاہوں کے سامنے حضرت داﺅد علیہ السلام کی مثال بیان فرمائی ہے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ کہ رسول اللہ علیہ السلام سے خطاب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ان کافروں ( مکہ مکرمہ کے کفار سرداروں) اور مشرکین کی باتوں پر صبر کریں اور اپنی معمولی معمولی سرداریوں پر ناز کر کے سچائیوں کا انکار کرنے والوں کو حضرت داﺅد علیہ السلام کی زندگی کے بارے میں بتائیں۔ ان کی سلطنت اور قوت کا حال انہیں سنائیں اور پھر ان کو یہ بتائیں کہ اتنی بڑی سلطنت کے حکمراں یا بادشاہ ہونے کے بعد بھی آپ علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے تھے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ سب سے اچھی مثال حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے۔ جو (1) صبر سے کام لیتے تھے۔ (2) صرف اللہ کی طرف دھیان لگائے رہتے تھے۔ (3) وہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں لگے رہتے تھے۔ (4) ان کی سلطنت ایک مضبوط اور مستحکم حکومت تھی۔ ہر طرف ان کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ اور سب پر ان کا حکم چلتا تھا۔ (5) ان کے پاس ایک بہت بڑی فوج تھی۔ (6) وہ نہایت ذہین اور ذکی تھی۔ اور ہر بات کی تہہ تک پہنچ جایا کرتے تھے۔ (7) جب کوئی مقدمہ پیش ہوتا تو وہ ا س کا بہترین فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔ (8) وہ ہر بات کو اتنے اس طرح صاف طور پر سمجھاتے تھے کہ سننے والے کے دل میں شک و شبہ بالکل نہیں رہتا تھا۔ (9) آپ علیہ السلام سلطنت کا کاروبار نہایت دیانت، امانت ، دانائی اور ہوشیاری سے کرتے تھے۔ (10) وہ ہر وقت اللہ کی بندگی اور عبادت میں رہتے تھے۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی آزمائش
اللہ تعالیٰ سے حضرت داﺅد علیہ السلام نے درخواست کی تھی کہ میرے آباﺅ اجداد حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کی طرح میری بھی آزمائش لے۔ اور میں اس آزمائش میں پورا اتنے کی کوشش کروں گا۔ اورمیں کامیاب ہو گیا تو کیا میرے آباﺅ اجداد کی طرح مجھے بھی فضیلتیں عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عنقریب ( بہت جلد) ہم تمہاری آزمائش لیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام نے اپنے دل میں طے کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ آزمائش میں مبتلا کریں گے تو انشاءاللہ میں اس پر پوری طرح کامیاب ہونے کی کوشش کروں گا۔ اور آپ علیہ السلام سے فرمایا۔ کہ عنقریب آپ علیہ السلام کو آزمایا جائے گا۔ اوراس روز عبادت کا دن تھا۔ آپ علیہ السلام اپنے عبادت کرنے والے حجرے میں آگئے ۔ دروازے پر منصف کو بٹھا دیا ور اسے حکم دیا کہ آج کسی کو میرے پاس آنے کی اجازت نہیں دینا۔ اور عبادت گاہ کا دروازہ بند کر کے آپ علیہ السلام زبور کی تلاوت کرنے بیٹھ گئے۔ آپ علیہ السلام کی خوش الحانی کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور پرندوں کا ٓپ علیہ السلام کے پاس آنا عام بات تھی۔ ابھی آپ علیہ السلام تلاوت میں مصروف ہی تھے کہ روشن دان سے ایک انتہائی خوبصورت پرندہ اندر آیا اور آپ علیہ السلام کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ اور دھیرے دھیرے قریب ہونے لگا۔ یہ ایک سنہری پرندہ تھا اور جتنی خوبصورتی بھی ہو سکتی تھی وہ سب اس پرندہ کے اندر تھی۔ اور دیکھنے میں ایسا لگتا تھا کہ مسلسل اس پرندے کا رنگ بدل رہا ہے۔ اس میں ہر رنگ تھا۔ تلاوت کے دوران آپ علیہ السلام کی نظر اس پرندے پر پڑی تو وہ انتہائی خوبصورت دکھائی دیا۔ اور وہ اتنا قریب تھا کہ اسے دیکھتے ہی آ پ علیہ السلام نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھونا چاہا تو وہ اڑ گیا۔ آپ علیہ السلام نے بیٹھے بیٹھے نگاہوں سے اس کا پیچھا کیا کہ کہا ں جا کر بیٹھتا ہے؟ وہ کھڑکی پر جا کر بیٹھا۔ اور پھر اڑ کر باہر چلا گیا۔ اسی وقت آپ علیہ السلام کی نظر ایک خوبصورت عورت پر پڑی جو اپنے گھر کی چھت پر کسی کام میں مصروف تھی۔ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے دل میں خیال آیا کہ اس عورت سے نکاح کیا جائے۔
عجیب مقدمہ
حضرت داﺅد علیہ السلام نے اُس عورت کے متعلق سوچنے میں کئی دن گزار دیئے ۔ پھر ایک دن آپ علیہ السلام عبادت میں مشغول تھے کہ اچانک دو آدمی آپ علیہ السلام کے حجرتے ( عبادت گاہ) میں داخل ہوئے اور ایک عجیب مقدمہ پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور کیا تمہیں جھگڑنے والوں کی خبر ملی؟ جب وہ دیوار پھاند کر محراب (عبادت کے حجرے) میں آگئے تھے۔ جب یہ ( دونوں ) داﺅد علیہ السلام کے پاس پہنچے تو یہ گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا۔ گھبرائیے نہیں ہم دونوں آپ علیہ السلام کی خدمت میں ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ اور ہم میں سے ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمادیں۔ اور ہمیں صحیح راستہ بتا دیں۔ یہ میرا بھائی ہے اور اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں۔ اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے۔ لیکن یہ کہہ رہا ہے کہ یہ ایک بھی مجھے دے دے۔ اور اس کے لئے مجھ پر زبردستی بھی کرتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بے شک تیرے اوپر ظلم ہے۔ اور اکثر حصہ دار اور شریک ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے۔ اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے۔ پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور رجو ع کیا۔( سورہ ص ٓ آیت نمبر21سے 24)
حضرت داﺅد علیہ السلام کا رجوع
حضرت داﺅد علیہ السلام کی آزمائش اور رجوع کے بارے میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ کہ جب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ جیسی شان میرے آباﺅ اجداد کو عطا فرمائی گئی ہے ویسی ہی شان مجھے بھی عطا فرما ئی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں نے انہیں ایسی آزمائش میں ڈالا تھا جیسی آزمائش میں ابھی تج تمہیں نہیں ڈالا ہے۔ اگر تم چاہو تو تمہیں بھی آزمائش میں مبتلا کروں اور جب تم کامیاب ہو جاﺅ تو تمہیں بھی ویسی ہی شان عطا فرماﺅں ۔ جیسی تمہاری آباﺅ اجداد کو عطا فرمائی ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، بے شک میری بھی اسی طرح آزمائش لیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم عمل کرتے جاﺅ عنقریب تمہاری آزمائش لی جائے گی۔ اس کے بعد کافی عرصہ گزر گیا اور اتنا وقت گزر گیا کہ آپ علیہ السلام آزمائش کی بات کو لگ بھگ بھول سے گئے ۔ یعنی ذہن سے یہ بات محو ہو گئی کہ کسی وقت بھی اچانک میری آزمائش لی جا سکتی ہے۔ ایسے وقت میں اس خوبصورت پرندے کا اور عورت پر نظر پڑنے کا واقعہ پیش آیا۔ آپ علیہ السلام ابھی اسی غورو فکر میں تھے کہ ایک دن جو آپ علیہ السلام کی عبادت کا دن تھا اور اس دن کسی کو بھی آپ علیہ السلام سے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی ۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دیکھا کہ آپ علیہ السلام جس معاملے میں پڑے ہوئے ہیں تو اس معاملہ کو نافذ کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اور جب حضرت فاﺅد علیہ السلام اپنی عبادت گاہ میں مشغول تھے کہ اچانک دو فرشتے انسانی شکل میں دیوار پھلانگتے ہوئے اور پہریداروں کو چکمہ دیتے ہوئے عبادت گاہ میںداخل ہو گئے۔ جب آپ علیہ السلام عبادت سے فارغ ہوئے تو ان دو افراد کو دیکھ کر چونک گئے اورپریشان ہو گئے کہ اتنے پہریداروں کی موجودگی میں یہ دونوں یہاں تک کیسے آگئے؟ تو انہوں نے فوراً کہا کہ ہمارا فیصلہ کر دیں تو آپ علیہ السلام کی بڑی مہربانی ہو گی۔ اور پھر بھیڑوں کا مقدمہ پیش کیا۔ آپ علیہ السلام نے ایک بھیڑ والے سے فرمایا تو اپنی بھیڑ کا زیادہ مستحق ہے اور تیرے ساتھی نے تجھ سے بھیڑ مانگ کر تیرے اوپر ظلم کیا ہے۔ یہ فیصلہ سن کر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے ان کی کیفیت دیکھی تو سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اسی لئے تمام پہرے کو توڑ کر یہاں تک پہنچ گئے۔ اور سمجھ گئے کہ یہ مقدمہ میری آزمائش ہے۔ آپ علیہ السلام فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور سجدے میں گر کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس عورت کے بارے میں اپنے خیال پر معافی مانگنے لگے۔ اور چالیس دنوں تک اسی حالت میں روتے رہے کہ آپ علیہ السلام کے آنسوﺅں سے سبزہ اُگ آیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام چالیس دن اور رات سجدہ میں رہے۔ اور سر نہیں اٹھاتے تھے۔ صرف فرض نماز کے لئے سر اٹھاتے تھے۔ یہاں تک کہ آنسو خشک ہو گئے اور پیشانی ، ہتھیلیاں اور گھٹنے زخمی ہو گئے۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بشارت دی کہ تم آزمائش میں کامیاب ہو گئے۔
وہ دونوں فرشتے تھے
حضرت داﺅد علیہ السلام نے ایک نظر صرف اس عورت کو دیکھا اور اس کے بعد اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ اور صرف اس سے نکاح کے بارے میں سوچا اور اس پر عمل نہیں کیا تھا۔ بلکہ غور و فکر کر رہے تھے کہ ان دونوں افراد کے مقدمہ کا واقعہ پیش آیا۔ کسی کے خیال پر اللہ تعالیٰ نے گرفت نہیں فرمائی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے اس میں بھی احتیاط برتتے ہیں۔ اسی لئے حضرت داﺅد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو معصوم بنایا ہے۔ اور وہ غلطی نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ غلطیوں سے پاک ہوتے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے اُن دونوں افراد پر غور سے نظر ڈالی تو پہچان لیا کہ یہ انسانی شکل میں فرشتے ہیں علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ علمائے کرام کی ایک جماعت کا قول ہے کہ وہ دونوں فرشتے تھے۔ اور علمائے کرام کی ایک جماعت نے بتایا کہ وہ دونوں جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام تھے۔ ایک قول میں یہ ہے کہ وہ دوانسانی شکل میں فرشتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن دونوں کو حضرت داﺅد علیہ السلام کی عبادت کے دن ان کے پاس بھیجا۔ وہ دونوں آپ علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت نماز میں مشغول تھے۔ اسی لئے ان کی آمد کو محسوس نہیں کیا اور وہ دونوں ایک طرف بیٹھ کر نماز مکمل ہو نے کا انتظا رکرنے لگے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں