پیر، 15 مئی، 2023

07 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


07 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 7

فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لئے دعا کی۔ اور وہ اللہ تعالیٰ نے قبول کی آپ کو یاد ہو گا کہ بچپن نے آپ علیہ السلام کی آزمائش کی تھی اور آپ علیہ السلام نے انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا تھا۔ جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کی زبان جل گئی تھی۔ اسی لئے کچھ الفاظ صاف ادا نہیں ہوتے تھے۔ اور حضرت ہارون علیہ السلام کی زبان بہت فصیح تھی۔ اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن کے لئے دعا کی ۔ آپ علیہ السلام ذرا گرم مزاج تھے۔ جب کہ حضرت ہارون علیہ السلام ٹھنڈے مزاج کے تھے اور قوتِ برداشت بھی زیادہ تھی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کے پاس واپس آئے اور سب کو ساتھ لے کر مصر پہنچے۔ اپنے گھر جا کر اپنے والدین اور بھائی سے ملے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی حضرت ہارون علیہ السلام کی طرف وحی بھیج کر نبوت سے سر فراز فرما دیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آنے کی خبر پہلے ہی والدین کو دے دی تھی۔ یہاں ہم آپ کو ایک بات بتا دیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی بھی ہیں اور رسول بھی ہیں۔ جب کہ حضرت ہارون علیہ السلام صرف نبی ہیں۔ رسول کو شریعت دی جاتی ہے اور نبی اسی شریعت کو نافذ کرتے ہیں۔ اس کے بعد دونوں بھائی فرعون کے دربار میں پہنچے اور اسے اور اس کی قوم کو بتایا کہ ہم اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کو اپنے دلائل دے کر فرعون اور اس کے امراءکے پا س بھیجا۔ مگر اُن لوگوں نے ان کا بالکل حق ادا نہیں کیا۔ سو دیکھ لو مفسدوں کا کیا انجام ہوا؟ اور موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا ۔ اے فرعون ، میں رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں۔ میرے لئے یہی شایان ہے سوائے سچ کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں۔ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی لے کر آیا ہوں۔ سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر 103سے 105تک)

فرعون نے مذاق اڑایا

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے جب فرعون اور اس کے درباریوں یعنی وزیروں اور امراءکو اسلام کی دعوت دی تو اُن لوگوں نے آپ دونوں حضرات علیہم السلام کا مذاق اڑانے لگے۔ اللہ تعالی نے اسکے با رے میں فر ماے تر جمہ۔:اور ہم نے مو سی(علیہ السلا م )کو اپنی نشانیاں دےکرفرعو ن اور اسکے امراء کے پاس بھیجا تو (انھو ں نے جاکر )کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا ( بھیجا ہوا ) رسول ہوں۔ پس جب وہ ہماری نشانیاں لے کر اُن کے پاس آئے وہ بے ساختہ اُن پر ہنسنے لگے۔“(سورہ الزخرف آیت نمبر46اور 47)۔ فرعون اور اس کے ساتھی دونوں بھائیوں کی ہنسی اڑانے لگے اور فرعون نے ہنستے ہوئے کہا۔ جس رب نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے اس کے بارے میں تو کچھ بتاﺅ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی بات کا بہت ہی جامع جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام )تم دونوں کا رب کون ہے؟ جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت و شکل عنایت فرمائی۔ پھر راستہ بتادیا ۔ اس نے کہا ۔ ( یعنی فرعون نے کہا ) اچھا یہ تو بتاﺅ، اگلے زمانے والوں کا کیا حال ہوتا ہے؟ ( آپ علیہ السلام ) نے جواب دیا۔ اُن کا علم میرے رب کے یہاں کتاب میں موجود ہے۔ نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے اور اس میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے ہیں۔ اور آسمان سے پانی بھی وہی برساتا ہے۔ پھر اس بارش کی وجہ سے مختلف قسم کی پیداوار بھی ہم ہی پیدا کرتے ہیں۔ تم خود کھاﺅ اور اپنے چوپایوں کو بھی چراﺅ۔ کچھ شک نہیں کہ اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے۔ اور اسی سے دوبارہ تم سب کو نکال کھڑا کریں گے۔ ہم نے اسے ( فرعون کو ) اپنی سب نشانیاں دکھا دیں۔ لیکن پھر بھی اس نے جھٹلایا اورانکار کر دیا ۔ کہنے لگا ۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )، کیا تو اسی لئے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دے۔“ (سورہ طٰہٰ آیت نمبر49سے 57تک)

فرعون کا خدائی دعویٰ

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے بہت ہی جامع اور موثر انداز میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتایا اور دلائل سے سمجھایا۔ لیکن وہ بد بخت ان تمام باتوں اور دلائل کی حقیقت کو سمجھنے کے بجائے الٹا مطلب لینے لگا۔ اور خود اپنی خدائی کا دعویٰ کرنے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الشعراء میں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے کہا۔ رب العالمین کیا ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے۔ اگر تم یقین رکھنے والے ہو۔ فرعون نے اپنے ارد گرد والوں ( یعنی درباریوں ، وزیروں اور قوم کے لوگوں ) سے کہا۔ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ وہ ( اللہ تعالیٰ)تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا رب ہے۔ فرعون نے کہا ( لوگو) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقینا دیوانہ ہے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام ) نے فرمیاا۔ وہی مشرق و مغرب کا اور ان کے درمیان کی تما م چیزوں کا رب ہے۔ اگر تم عقل رکھتے ہو فرعون کہنے لگا۔ سن لے، اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو رب یا معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر23سے 29تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس جب اُن کے پاس موسیٰ ( علیہ السلام )ہمارے دیئے ہوئے کھلے معجزے لے کر پہنچے تو وہ کہنے لگے۔ یہ تو صرف گھڑا گھڑا یا جادو ہے۔ ہم نے اپنے الگے باپ دادوں کے زمانہ میں بھی کبھی یہ نہیں سنا ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے۔ میر ارب اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ جو ا س کے پاس سے ہدایت لے کر آتا ہے۔ اور جس کے لئے آخرت کا ( اچھا ) انجام ہوتا ہے۔ اور یقینا بے انصافوں کا بھلا نہیں ہوگا۔ فرعون کہنے لگا۔ اے درباریو ، میں اپنے سوا کسی کو معبود اور رب نہیں جاتا۔ سن اے ہامان، تو میرے لئے مٹی کو آگ سے پکوا۔ پھر میرے لئے ایک محل کی تعمیر کر تو میں موسیٰ( علیہ السلام )کے معبود کو جھانک لوں۔ اسے تو میں جھوٹوں میں گمان کر رہا ہوں۔“( سورہ القصص آیت نمبر36سے 38) اللہ تعالیٰ نے سورہ النازعات میں فرمایا۔ ترجمہ ” کیا موسیٰ (علیہ السلام )کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟ جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا۔ تم فرعون کے پاس جاﺅ۔ اس نے سر کشی اختیار کر لی ہے۔ اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے۔ اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی طرف کا راستہ بتاﺅں تا کہ تو ( اس سے ) ڈرنے لگے۔ پس اسے بڑی نشانی دکھائی۔ توا س نے جھٹلایا اور نافرمانی کی پھر دوڑ دھوپ کرتے ہوئے پلٹا۔ پھر سب کو جمع کر کے پکارا۔ تم سب کا رب میں ہی ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسے دنیا اور آخرت کے عذاب میں گرفتا ر کر لیا۔“(سورہ النازعات آیت نمبر15سے 25تک )

عَصا اژدھا بن گیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سمجھایا کہ اس کائنات کا رب صرف اللہ تعالیٰ ہے تو بدبخت فرعون نے کہا کہ اگر میرے سوا کسی کو رب بنائے گا تو میں تجھے قید خانے میں ڈال دوں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر میں تمام کائنات کے رب کی طرف سے عطا کی ہوئی نشانی اگر تجھے بتاﺅں تو تب تو حق کو تسلیم کر لے گا؟ تو فرعون نے کہا۔ بتاﺅ کون سی نشانی لائے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اپنا عَصا زمین پر ڈال دیا۔ جو اچانک کھلم کھلا اژدھا بن گیا۔ اور اپنا ہاتھ کھینچ کر نکالا تو وہ اس وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر30سے33تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کی ہٹ دھرمی دیکھی تو فرمایا۔ اگر میں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کی صاف صاف نشانی بتاﺅں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہے۔ تو کیا تم تسلیم کر لو گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ فرعون نے کہا۔ اگر تم سچے ہو تو تمہارے خدا کی طرف سے دی گئی نشانی بتاﺅ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا عَصا اچانک زمین پر پھینک دیا ۔ یہ دیکھ کر فرعون اور تما م درباری ہنسنے لگے۔ لیکن کچھ دیر بعد ان کی آنکھیں حیرانی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ کیوں کہ اس بے جان عَصا میں دھیرے دھیرے جان پیدا ہونے لگی۔ اور ساتھ ہی وہ بڑا بھی ہوتا جا رہا تھا۔ اور پھر وہ بہت بڑا اژدھا بن گیا۔ وہ اژدھا اتنا بڑا اور خوفناک تھا کہ تمام درباری ڈر کے مارے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ اور ستونوں کی آڑ یا کسی بڑی چیز کے پیچھے چھپنے لگے۔

فرعون ڈر کے مارے کانپنے لگا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اتنا بڑا خوفناک اژدھا بن گیا تھا کہ درباریوں کو ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ اژدھا انہیں نگل لے گا۔ اور ڈر کے مارے جان بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ فرعون بڑی ہمت سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا لیکن ڈر کے مارے بری طرح کانپ رہا تھا۔ اور خوفناک اژدھے کو دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی اژدھے نے اس کی طرف منہ گھمایا تو اس کی بھی ہمت ٹوٹ گئی اور وہ بھی درباریوں کی طرح اچھال کر اپنے تخت سے اتر کر بھاگا اور اپنی بڑی سی کرسی کے پیچھے چھپ گیا۔ آخر کار اس نے بری طرح کانپتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ وہ اژدھے کو روک لیں۔ آپ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام مسکراتے ہوئے کھڑے ہوئے تھے اور فرعون اور درباریوں کی بوکھلاہٹ اور خوف کے مارے ادھر ادھر بھاگتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اور فرعون کا تو یہ حال تھا کہ وہ آپ علیہ السلام کے سامنے گڑ گڑا رہا تھا۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے اژدھے کے اوپر اپنا ہاتھ رکھا تو وہ عصا بن کر آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں آگیا۔ یہ دیکھ کر فرعون اور اس کے درباریوں کی جان میں جان آئی اور وہ ڈرتے ڈرتے دھیرے سے اپنی جگہوں پر واپس آکر بیٹھ گئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ایک اور نشانی میں تمہیں بتاتا ہوں جو مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔ فرعون اور تمام درباری دہشت سے آپ علیہ السلام کو دیکھنے لگے کہ اس بار کون سی خوفناک نشانی بتانے والے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اپنے گریبان میں ہاتھ ڈالا اور جب واپس نکالا تو پورا ہاتھ نورانی ہو گیا تھا اور نو ر کی طرح چمک رہا تھا۔ فرعون اور اس کے درباری حیرانی سے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ علیہ السلام نے کچھ دیر بعد اپنا چمکتا ہوا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر واپس نکالا تو وہ پھر پہلے جیسا ہوگیا۔ 

یہ تو کھلا جادو ہے

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ نشانیاں یعنی معجزے بتانے کے بعد فرمایا۔ اب تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اور مجھ پر ایمان لاﺅ اور اسلام قبول کر لو۔ تو بد بخت فرعون اور اس کے درباریوں او ر سرداروں نے کہا۔ یہ تو کھلا جادو ہے اور اے موسیٰ ( علیہ السلام ) ، تم اتنے دنوں تک مصر سے غائب رہ کر یہ جادو سیکھتے رہے۔ اور تم چاہتے ہو کہ ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو ۔ یا پھر ہمارے غلاموں ( بنی اسرائیل ) کو ہمارا حاکم بنا دو۔ ایسا نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام ) کو اپنی نشانیوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا ۔ فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف ، تو انہوں نے کہا( یہ تو ) جادوگر اور جھوٹا ہے۔“ ( سورہ المومن آیت نمبر23۔ 24)اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا ۔ یہ تو کوئی دانا جادوگر ہے۔ یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے۔ “(سورہ الشعراءآیت نمبر34اور 36) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( فرعون ) کہنے لگا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تم اس لئے آئے ہو کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دو۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر 57)

فرعون کا چیلنج

اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی ہوئی صاف صاف نشانیوں کو دیکھ لینے کے بعد بھی فرعون اور اس کے ساتھیوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ بلکہ الٹا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کو چیلنج کرنے لگے کہ تمہارا جادو ہمارے جادوگروں کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔ فرعون نے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )تمہیں ہمارے جادوگروں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ جب تمہارا مقابلہ ہمارے جادوگروں سے ہو گا تو تمہارے جادو کی حقیقت سمجھ میں آجائے گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگرمیں تمہارے جادوگروں سے جیت گیا تو کیا تو اور تیری قوم اسلام قبول کر لے گی؟ فرعون نے کہا۔ ٹھیک ہے ، ویسے تم ہمارے جادوگروں سے جیت نہیں سکو گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ انشاءاللہ جیت میری ہو گی کیوں کہ میں نے ابھی ابھی تمہیں جو بتایا ہے وہ کوئی جادو نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی صاف صاف آیتیں یعنی نشانیاں ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی آیتیں یقینا انسانوں کے جادو پر حاوی رہے گا۔ فرعون نے کہا ۔ ٹھیک ہے مقابلے کا دن مقرر کر لو۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھے تمہارا چیلنج منظور ہے۔ مقابلہ ایک بہت ہی بڑے میدان میں رکھو اور مقابلے کے لئے جشن کا دن مقرر کر لو۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ”( فرعون نے کہا) اچھا ہم بھی تمہارے مقابلے میں اسی جیسا جادو ضرور لائیں گے۔ پس تم ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدے کا دن مقرر کر لو ۔ کہ نہ تو ہم اس کے خلاف کریں گے اور نہ ہی تم اس کے خلاف کرو گے۔ اور مقابلہ صاف میدان میں ہوگا۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے جواب دیا۔ زینت اور جشن کے دن کا وعدہ ہے۔ اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر58اور 59) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر58اور 59) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”( فرعون نے اپنے درباریوں اور سرداروں سے کہا) بتاﺅ ، اب تم کیا کہتے ہو؟ اُن سب نے کہا۔ آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیں اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیں۔ جو آپ کے ذی علم جادو گروں کو لے آئیں۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر35سے 37تک) 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں