06 حضرت یوشع علیہ السلام
شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر13
قسط نمبر 6
پورے ملک کنعان ( حالیہ فلسطین) پر بنی اسرائیل کا قبضہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور اس کے بعد سے آپ علیہ السلام مسلسل ملک کنعان ( حالیہ فلسطین ) میں رہنے والوں سے جنگ کی حالت میں تھے۔ اب صرف مشرقی فلسطین پر قبضہ کر نا تھا۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو لے کر مشرقی فلسطین پر حملہ کر دیا اور یکے بعد دیگرے ایک ایک بادشاہوں کو شکست دے کر ان کے علاقوں پر قبضہ کرتے رہے۔ اس طرح دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام نے لگ بھگ پانچ برسوں میں پورے مشرقی فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اب پورا ملک کنعان آپ علیہ السلام کے قبضہ میں آچکا تھا۔ اور پورے کنعان ( حالیہ فلسطین) پر قبضہ کرنے میں لگ بھگ بیس20سال لگ گئے۔ اس وقت تک آپ علیہ السلام کی عمر 120سال کے لگ بھگ ہو چکی تھی۔ ان بیس برسوں میں آپ علیہ السلام نے 31بادشاہوں کو شکست دی۔ یہ 31بادشاہ جن علاقوں پر قبضہ کیا۔ ان علاقوں کے نام یہ ہیں۔ ( ۱) اریحا ( یریمو) (۲) عی ( عائی) (۳) یروشلم (۴) جبرون (الخلیل) (۵) یرموت (۶) لکیں (۷) عجلون (۸) جزر (۹) دبیر (۰۱) جدر (۱۱) حُرمہ (۲۱) عراد (۳۱) لبناہ (۴۱) عدلام (۵۱) مقیدہ (۶۱) بیت ایل (۷۱) تفوح (۸۱) حضر (۹۱) افیق (۰۲) لشرﺅن (۱۲) مدون (۲۲) حصور (۳۲) سمرون مرون (۴۲) اکشاف (۵۲) تعنک (۶۲) مجدد (۷۲) قاد (۸۲) کرمل (۹۲) یقنعام (۰۳) دور ۔ جلجال ۔ گوئیم (۱۳) تِرضہ ۔ ان تمام علاقوں پر اکتیس 31بادشاہوں کو شکست دی۔ اور پورے ملک کنعان یعنی حالیہ فلسطین پر اسلامی حکومت قائم کر دی۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل کی فتوحات
حضرت موسیٰ علیہ السلام جب وادی تیہ سے نکل کر بنی اسرائیل کو لے کر بیت المقدس کی جانب روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں کئی جنگیں کرنی پڑیں اور ان میں انہیں فتوحات حاصل ہوئیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے حالات پر ہم نے جو کتاب لکھی ہے ا سمیں ہم نے ان فتوحات کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ کہیں تسلسل ٹوٹ نہ جائے۔ ان فتوحات کا ذکر ہم یہاں اس لئے کر رہے ہیں تاکہ الجھن نہ ہو۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ پھر بنی اسرائیل نے کنعانیوں کے بعض بادشاہوں سے جنگ کی اور انہیں شکست دی ان کا مال و اسباب لوٹ لیا۔ اور عمور کے بادشاہ سیمون سے اجازت طلب کی کہ وہ بنی اسرائیل کو اس کے علاقے میں سے ارضِ مقدس تک جانے کی اجازت دے۔ لیکن سیمون نے انکار کر دیا۔ اور فوج لے کر مقابلے پر آگیا۔ بنی اسرائیل نے اسے بھی شکست دی اور اس کے ملک پر قبضہ کر لیا۔ یہ ملک بنو موآب کا تھا اور سیمون نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس ملک کی سرحد بنو عمون کے علاقوں تک تھی۔ اس علاقے پر عوج بن عناق کی حکومت تھی۔ بنی اسرائیل نے اس پر حملہ کر دیا۔ اس نے اور اس کی قوم نے جم کر مقابلہ کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فتح عطا فرمائی۔
بنو مدین پر فتح
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے عوج بن عناق اور اس کی قوم کو شکست دے کر اس کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اور بنو موآب کے سامنے جا کر لشکر نے پڑاﺅ ڈال دیا۔ بنو موآب کا بادشاہ اور اس کی قوم بری طرح خوفزدہ ہو گئے۔ اور اپنی قوم کے ایک نیک شخص بلعام بن باعورا سے بنی اسرائیل کے خلاف بد دعا کی درخواست کی۔ اس نے کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اس کے بعد بنو موآب کے بادشاہ نے بنو مدین سے مدد کی درخواست کی۔ انہوںنے بنو موآب کے بادشاہ کی مدد کی۔ لیکن بنی اسرائیل کے مقابلے میں دونوں کو شکست ہوئی ۔ بنو موآب کے علاقے پر بنی اسرائیل نے فتح حاصل کر لی اور بنو مدین اپنے علاقے میں بھاگ گئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور( حضرت ہارون علیہ السلام کے وصال کے بعد ان کے بیٹے عیزار کو ان کی جگہ کا ہن بنایا گیا تھا) عیزار کاہن نے بنی اسرائیل کی گنتی کی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فخاص بن عیزار کو سپہ سالار بنا کر بارہ ہزار کا لشکر دے کر بنو مدین پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ بنی اسرائیل کا یہ لشکر بنو مدین کے سامنے پہنچا اور میدان میں پڑاﺅ ڈال دیا۔ بنو مدین نے بھی اپنا لشکر جمع کر لیا اور مقابلے پر آگئے۔ دونوں لشکروں میں ٹکراﺅ ہو ا اور بنو مدین نے زبر دست مقابلہ کیا اور بنی اسرائیل کے ہر حملے کا جواب دیتے رہے۔ اس کے باوجود انہیں شکست ہوئی اور بنی اسرائیل نے فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے بادشاہوں کو قتل کر ڈالا۔ اور ان کی عورتوں کو گرفتار کر لیا۔ اور انکے اموال کو تقسیم کر لیا۔ پھر بنو مدین، بنو عمودین اور بنو موآب کے علاقوں پر قبضہ کر لینے اور ان کی تقسیم کر کے دریائے اردن کے اس پار بنی اسرائیل جا اترے۔
مفتوح علاقوں کی تقسیم
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جن علاقوں کو فتح کیا تھا۔ ان علاقوں کو بنی اسرائیل میں تقسیم فرما دیا تھا۔ اس کے بعد جب حضرت یوشع علیہ السلام نے پورے ملک کنعان کو فتح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان علاقوں کو بنی اسرائیل میں تقسیم کر دیا جائے ۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت ملک کنعان میں اردن، لبنان اور شام کا بہت سا علاقہ آتا تھا۔اس تقسیم میں ان کا نام بھی آئے گا) حضرت یوشع علیہ السلام نے پورے ملک کنعان کا سروے کرا کر رپورٹ منگوائی اور پھر قرعہ اندازی کے ذریعے مفتوح علاقوں کی تقسیم کی۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ ان کے مفتوح علاقوںکو کون کون سے قبیلوں کو دیا جائے۔ اور انہوںنے اسی طرح تقسیم کی۔ پہلے ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تقسیم بیان کریں گے۔ پھر حضرت یوشع علیہ السلام کی تقسیم بیان کریں گے۔ یہ تقسیم ہم آپ کی خدمت میں اس لئے پیش کر رہے ہیں کہ آگے آپ کو کسی قسم کی الجھن نہ ہو۔ اور آگے بنی اسرائیل کے حالات سمجھنے میں آسانی ہو۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تقسیم
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے مفتوحہ علاقے بنی اسرائیل کے ڈھائی قبیلہ یعنی بنو روبیل ( روبن)، بنوجد اور بنو منسی کے آدھے قبیلے میں تقسیم کر دیئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ زمین انہیں اُردن کے مشرق میں دی۔ یہ علاقہ ارنون کی وادی کے کنارے کے عرو عیر سے لے کر وادی کے بیچ واقع شہر تک پھیلا ہوا تھا۔ اور اس میں دیبون تک میبا کا سرا میدا ن شامل تھا۔ اور اموریوں کی سرحد تک حسبون میں حکومت کرنےوالے اموریوں کے سب شہر اور بادشاہ سیحون کےسب شہر اور جلعاد اور جسوریوں اور معکاتیوںکا علاقہ اور سارا کوہِ حرمون اور سلکہ تک کا سارا بسن بھی شامل تھا۔ یعنی عستارات اور بس کا وہ علاقہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو شکست دے کر لیا تھا۔ لیکن بنو لاوی کو کوئی علاقہ نہیں دیا گیا۔ کیوں کہ قانون کے مطابق اللہ کی بارگاہ میںپیش کی ہوئی قربانیاں ہی ان کی میراث تھیں۔
بنو روبیل ( روبن ) کا علاقہ اور بن جد کا علاقہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنو روبیل ( روبن) کو ان کے گھرانوں کے مطابق جو میراث وہ یہ ہے۔ اُن کا علاقہ ارنون کی وادی کے کنارے پر کے عرو عیر سے لے کر وادی کے بیچ کے شہر سے ہوتا ہوا حسبون تک کا تھا۔ ان میں دیبون ، بامت بعل ، بیت بعل معون ، یہصاہ ، قدیمات ،مفعت ، تریتائم، سماہ، ضرة السحر جو وادی کے پہاڑ پر ہے۔ بیت فعور اور پسگہ کا نشیبی علاقہ بیت یسموت نام کے تمام شہر بھی شامل ہیں۔ بنو روبن کی سرحد اردن کاکنارہ تھی۔ یہ تمام شہر اور ان کے دیہات بنو روبیل ( بنو روبن) کے گھرانوں کے مطابق ان کی میراث ٹھہرے ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنو جد قبیلہ کو ان کے گھرانوں کے مطابق جو میراث دی وہ یہ ہے۔ یعزیر کا علاقہ، جلعاد کے سب شہر ، ربہ کے نزدیک عرو عیر تک عمونیوں کے ملک کا نصف حصہ ، حسبون سے رامت المصفاہ اور بطونیم تک اور خناعیم سے دیبر تک کا علاقہ اور وادی میں بیت ہارم، بیت عمرہ ، سکات اور صفوان اور حسبون کے بادشاہ سیحون کی بقیہ سلطنت ( اردن کے مشرقی ساحل پر کنرت کی جھیل تک کا علاقہ) یہ تمام شہر اور ان کے دیہات بنو جد قبیلے کے گھرانوں کے مطابق ان کی میراث ٹھہرے ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنو منسی کے آدھے قبیلے کو انکے گھرانوں کے مطابق جو میراث دی وہ یہ ہے۔ سارے بسن سمیت خناعیم سے لے کر بسن کے بادشاہ عوج کی تمام سلطنت اور بسن میں بسے ہوئے یائیر کے ساتھ دیہات، آدھا جلعاد اور عستارات نام کے شہر منسی کے بیٹے مکسیر کی اولاد کے لئے ان کے گھرانوں کے مطابق میراث ٹھہرے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اردن کے اس پار اریحا ( پریحو) کے مشرق میں موآب کے میدانوں میں تھے۔ تب انہوںنے یہ میراث تقسیم کی تھی۔ لیکن بنو لاوی کو آپ علیہ السلام نے کوئی میراث نہیں دی۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں