06 حضرت سلیمان علیہ السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 15
ایک عالِم فوراً تخت لے آیا
حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضری کے لئے ملکہ سبا بلقیس رواں دواں تھی۔ اور آپ علیہ السلام کے وزیروں اور سپہ سالاروں کو اس کے آنے کی مسلسل اطلاعات مل رہی تھیں۔ لیکن کوئی بھی آپ علیہ السلام کو بتانے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام بہت ہی بارعب تھے۔ اسی لئے جب تک آپ علیہ السلام کسی معاملے میں خود سے نہیں فرماتے تھے تب تک کوئی بھی کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر تا تھا۔ ایک روز آپ علیہ السلام اپنے محل سے نکل کر تخت پر بیٹھے کچھ حکومت کا کام کر رہے تھے کہ سامنے کافی دور گر دو غبار اڑتا دکھائی دیا۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ یہ کیا ہے؟ حاضرین نے جواب دیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، یہ ملکہ سبا بلقیس اور اس کا لشکر ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ یہاں تک آگئی ہے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام اپنے درباریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ اے درباریو، کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو اس کے یہاں پہنچنے سے پہلے اس کا تخت لے آئے؟ تو ایک جنات نے کھڑے ہو کر عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، میں دربار برخواست ہونے سے پہلے اس تخت کو لا سکتا ہوں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ نہیں ، اور جلدی تخت آنا چاہیئے۔ در اصل حضرت سلیمان علیہ السلام صبح سویرے حکومت کے کام اور مقدموں کے فیصلے کے لئے دربار منعقد کیا کرتے تھے۔ اور زوال تک بنی اسرائیل کے مقدموں کے فیصلے اور حکومت کے اہم کام نبٹاتے تھے۔ اور زوال کے وقت دربار برخواست کر دیتے تھے۔ لیکن بلقیس اتنا قریب آچکی تھی کہ اتنے وقت میں تخت لا نے سے پہلے وہ پہنچ جاتی ۔ اسی لئے حضرت سلیمان علیہ السلام اور جلدی تخت منگوانا چاہتے تھے۔ یہ دیکھ کر ایک عالِم ( جو توریت اور زبور کے عالم تھے) کھڑے ہوئے ان کا نام آصف بن بر حیا تھا۔ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے خالہ زاد بھائی تھے انہوں نے عرض کیا۔ میں آپ علیہ السلام کی پلک جھپکنے سے پہلے تخت لے آﺅں گا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جتنی دیر تک ایک انسان عام طور سے آنکھ کھلا رکھتا ہے یعنی انسان کے دو بار پلک جھپکانے سے پہلے لے آﺅں گا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ بہر حال وہ عالم ملکہ بلقیس کے پہنچنے سے پہلے تخت لے آئے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان عالم کو اجازت دے دی۔ اور وہ بلقیس کے آنے سے کافی پہلے اس کا حسین ترین اور ہیرے جواہرات سے جڑا ہوا تخت لے آئے۔ آپ علیہ السلام نے بلقیس کا تخت اپنے دربار میں رکھا دیکھا تو فوراً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ اور فرمایا۔ یہ مریے رب کا فضل ہے اور اس طرح اس نے مجھے آزمایا ہے کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں یا پھر نا شکری کرتا ہوں۔ بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز اور کریم ہے اور اس کے حکم کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا۔ اس تخت کی شکل کچھ حد تک تبدیل کر دو تا کہ ہم دیکھیں کہ بلقیس اپنے تخت کو پہچان پاتی ہے یا نہیں ؟ حضرت سلیمان علیہ السلام بلقیس ( ملکہ سبا ) کی عقل و دانش کی آزمائش کرنا چاہتے تھے۔ کیوں کہ اپنا تخت وہ پیچھے یمن میں میلوں دور چھوڑ آئی تھی۔ اور یہ بات اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی کہ جس تخت کو وہ میلوں دور یمن میں چھوڑ آئی ہے وہ اس کے یروشلم ( بیت المقدس) یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دارالخلافہ یا راجدھانی تھا ، پہنچنے سے پہلے وہاں آچکا ہو گا۔ اور اگر تخت کو پہچان لے گی تو یہ اندازہ کر لے گی کہ تخت اللہ کے حکم سے ہی یہاں پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اور ساتھ ہی اسے یہ اندازہ بھی ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ علیہ السلام کا کیا مقام ہے۔
بلقیس (ملکہ سبا) نے اللہ کی قدرت کو تسلیم کیا
اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب وہ آگئی تو اس سے فرمایا( دریافت کیا) کہ ایسا ہی تیر تخت ( بھی ) ہے؟ اس نے جواب دیا کہ گویا یہ وہی ہے۔ ہمیں ( آپ علیہ السلام کی طاقت کے بارے میں) پہلے ہی ( ھد ھد اور ہمارے قاصد کے ذریعے ) علم دیا گیا تھا۔ اور ہم ( آپ علیہ السلام کے پہلے ہی سے ) اطاعت گزار تھے۔ اسے ( بلقیس کو ) انہوں نے ( ابلیس شیطان اور بتوں نے ) روک رکھا تھا۔ جن کی وہ اللہ کے سوا پوجا کرتی تھی۔ یقینا ( پہلے ) ہو کافر لوگوں میں سے تھی۔ “( سورہ النمل آیت نمبر 42اور 43) حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ملکہ بلقیس اپنے وزیروں اور سپہ سالاروں کے ساتھ داخل ہوئی۔ تو اس نے اپنے تخت کو آپ علیہ السلام کے دربار میں رکھا ہوا پایا۔ تخت کو دیکھ کر وہ حیران ہو گئی اور غور سے اسے دیکھنے لگی۔ اس کے وزراءاور سپہ سالار بھی حیرانی سے اس تخت کو دیکھ رہے تھے کیوں کہ انہیں ایسا لگ رہا تھا کہ اگر اس تخت میں تھوڑا سا ردو بدل کیا جائے تو بالکل وہی تحت بن جائے گا جس سے پر ان کی ملکہ اپنے دربار میں بیٹھتی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام مسکراتے ہوئے اپنے درباریوں کے ساتھ بلقیس اور اس کے امراءکی حیرانی کو دیکھ رہے تھے۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ کیا بات ہے؟ تم بہت غور سے اس تخت کو دیکھ رہی ہو؟ کیا تمہارے پاس بھی ایسا ہی تخت ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام کی آواز سن کر وہ چونک پڑی اور آپ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو کر بولی۔ یمن میں میرے ملک میں بالکل ایسا ہی میرا ایک تخت ہے اور اس پر بیٹھ کر میں اپنی حکومت کے فیصلے کر تی ہوں۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام مسکرائے اور فرمایا۔ ذرا غور سے دیکھو، کہیں یہ وہی تخت تو نہیں ہے؟ بلقیس غور سے تخت کو دیکھتے ہوئے بولی۔ یہ یقینا میرا ہی تخت ہے۔ لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے یہاں پہنچنے سے پہلے میرا تخت یہاں پہنچ جائے؟ اور وہ بھی انتہائی سخت پہرے کے باوجود ۔ کیوں کہ میں اپنے تخت کو کئی قلعوں کے اندر رکھتی ہوں۔ اور ان قلعوں کے اندر پہریداروں کی ایک زبردست فوج نگرانی کرتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر قلعے میں تالا لگا رہتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ تمہارا ہی تخت ہے اور اتنے سخت پہرے کے باوجود اتنی دور میرے پاس اللہ تعالیٰ کی قدرت سے پہنچا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ کام اپنے ایک عالِم سے لیا ہے جو میری حکومت میں رہتا ہے۔ اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو، وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اور تم اور تمہاری قوم دھوکے میں مبتلا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر شئے پر قادر ہے اور اس کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا ہے ۔ یہ سن کر بلقیس نے تسلیم کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یہ تخت یہاں آسکتا ہے تو یقینا وہ ہر شئے پر قادر ہے۔ اور آپ علیہ السلام کی نبوت کے بارے میں تو ہمیں پہلے ہی ھد ھد اور ہمارے قاصد نے خبر دے دی تھی۔ اور ہم لوگ آپ علیہ السلام کی اطاعت قبول کرنے آئے ہیں۔ لیکن پہلے میں آپ علیہ السلام سے چند سوالات کرنا چاہتی ہوں۔ اگر آپ علیہ السلام مجھے مطمئن کر دیں تو ہو سکتا ہے کہ میں میری قوم اسلام قبول کر لے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کا مکالمہ
حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ملکہ بلقیس اپنے وزیروں اور سپہ سالاروں کے ساتھ حاضر تھی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ پوچھو کیا پوچھنا چاہتی ہو؟ بلقیس نے کہا۔ مجھے ایسے پانی کے بارے میں بتائیں جو نہ آسمان میں ہے اور نہ ہی زمین میں ہوتا ہے؟ آپ علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے اپنے درباریوں کی طرف نظریں دوڑائیں تو ایک جنات کھڑا ہوا عرض کیا۔ یا نبی علیہ السلام ، یہ سوال تو بہت آسان ہے۔ آپ علیہ السلام گھوڑے کو دوڑائیں۔ اور اتنا دوڑائیں کہ اس کے پسینے سے پورا برتن بھر جائے۔ یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ پانی جو نہ آسمان میں ہے اور نہ ہی زمین میں ہے وہ ہر جاندار کا پسینہ ہے ۔پھر اس نے پوچھا۔مجھے یہ بتاﺅ تمہارے اللہ کا رنگ کیسا ہے؟ یہ سوال سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ آپ علیہ السلام فوراً سجدے میں گر گئے۔ اور اللہ تعالیٰ کے جلال کا تصور کر کے آپ علیہ السلام پر غشی طاری ہو گئی۔ کافی دیر بعد دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کی طبیعت سنبھلی تو آپ علیہ السلام اٹھ کر بیٹھے۔ پورا بدن پسینے میں شرابور تھا اور سینہ دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے آپ علیہ السلام میلوں دور سے دوڑتے ہوئے آئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ پوچھ رہے ہیں کہ کیا معاملہ ہے؟ ( حالانکہ اللہ تعالیٰ سب جانتے ہیں) آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھ سے ایسا سوال کیا گیا ہے جسے میں دہرا نہیں سکتا ہوں۔ فرشتے نے کہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام سوال کرنے والے سے فرمائیں کہ وہ دوبارہ سوال کرے۔ اس دوران حضرت سلیمان علیہ السلام کے ساتھ تمام درباری بھی سجدے میں گر گئے تھے۔ اور بلقیس اور اس کے ساتھی حیرانی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے اور ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں اور کیا کہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا بلقیس سے فرمایا۔ تم نے کون سا سوال پوچھا تھا؟ ذرا پھر سے دہراﺅ۔ بلقیس نے کچھ دیر سوچا اور غور کیا پھر کہا۔ میں وہ سوال بھول گئی ہوں۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اس کے ساتھیوں سے پوچھا تو ان سب نے کہا ہم بھی بھول گئے ہیں۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنے درباریوں سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں بھی یاد نہیں ہے۔ جب کوئی جواب دے نہیں سکا تو آپ علیہ السلام نے بلقیس اور اس کے ساتھیوں کو مہمان خانے میں ٹھہرانے کا حکم دیا اور دربار برخاست کر دیا۔
ملکۂ سبا بلقیس کا قبولِ اسلام
اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” اس سے کہا گیا کہ محل میں چلی چلو۔ جسے دیکھ کر یہ سمجھ کر کہ یہ حوض ہے اس نے پنڈلیاں کھول دیں( حضرت سلیمان علیہ السلام ) نے فرمایا۔ یہ شیشے سے منڈھی ہوئی عمارت ہے۔ کہنے لگی ، میرے پروردگار ، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے۔ اب میں سلیمان( علیہ السلام )کے ساتھ اللہ رب العالمین کی مطیع اور فرماں بردار بنتی ہوں۔ “ ( سورہ النمل آیت نمبر44) حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کو مہمان خانے میں ٹھہرایا۔ وہ اسور اس کے ساتھی کچھ دنوں تک اسلامی حکومت کا مشاہدہ کرتے رہے اور انہیں اس کے فوائد بھی دکھائی دے رہے تھے۔ اور دھیرے دھیرے بلقیس اور اس کے وزراءاور سپہ سالار متاثر بھی ہو تے جا رہے تھے ۔ ایک دن بلقیس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو اسے بتایا گیا کہ آپ علیہ السلام اس وقت شیش محل میں تشریف فرما ہیں۔ اس لئے ان سے ملنے کی اجازت لینی ہوگی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جناتوں سے شیش محل بنوایا تھا۔ اس کافرش شیشے کا تھا۔ نیچے پانی تھا اور اس میں مچھلیاں اور دوسرے سمندری جانور تھے۔ سرسری نظر سے دیکھنے پر شیشے کا فرش نظر نہیں آتا تھا۔ اس کی چھت بھی شیشے کی تھی آپ علیہ السلام کو اطلاع دی گئی کہ بلقیس ملنا چاہتی ہے تو آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے یہاں لے آﺅ۔ اس محل کے صحن کا فرش بھی شیشے کا تھا۔ بلقیس اس محل کے صدر دروازے پر آکر رک گئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ بے فکر ہو کر صحن میں داخل ہو جاﺅ اور محل میں آجاﺅ۔ ملکہ سبا ءبلقیس نے جب فرش پر دیکھا تو اسے ایسا لگا جیسے اسے پانی میں سے گزرنا ہو گا۔ وہ اپنی شلوار کے پائنچے اٹھانے لگی۔ یہ دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا ۔ یہ شیشے کا فرش ہے۔ اس لئے پائنچے اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلقیس حیرانی سے شیشے کے فرش پر چلتی ہوئی آپ علیہ السلام تک پہنچی۔ آپ علیہ السلام نے اسے اسلام کی دعوت دی اور سمجھانے لگے۔ اتنے دنوں تک اسلامی حکومت کا مشاہدہ کر نے بعد بلقیس اسلام سے متاثر ہو چکی تھی۔ اور اپنے سپہ سالاروں سے بھی مشورہ کر چکی تھی اور وہ لوگ بھی اسلام سے متاثر ہو چکے تھے۔ بلقیس اور اس کی قوم صرف اس لئے سورج کی پوجا کر تی تھی کہ ان کے باپ دادا بھی وہی کر تے تھے۔ بلقیس اور اس کی قوم حق کی تلاش میں تھی۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے بڑی حکمت سے حق ان کے سامنے پیش کیا اور آخر کار ملکہ سبا بلقیس اور اس کی قوم نے اسلام قبول کر لیا۔
گھوڑوں سے محبت
اللہ تعالیٰ نے سورہ صٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اورہم نے عطا فرمایا داﺅد (علیہ السلام )کوسلیمان (علیہ السلام )جیسا فرزند جو بڑی خوبیوں والا اور بہت رجو ع کرنے والا تھا۔ جب اس کی خدمت میں سہ پہر کو تین پاﺅں پر کھڑے ہونے والے تیز رفتار گھوڑے پیش کئے گئے تو اس نے ( حضرت سلیمان علیہ السلام نے ) فرمایا۔ مجھے اپنے رب کی یاد کے لئے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی۔ ( پھر انہیں چلانے کا حکم دیا) یہاں تک کہ وہ پردہ کے پیچھے چھپ گئے۔ ( پھر حکم دیا) انہیں میرے پاس واپس لاﺅ اور ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ “ (سورہ ص ٓ آیت نمبر 30سے 33) حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ کے لئے لڑنا بہت پسند کرتے تھے۔ اور اسی وجہ سے گھوڑوں کو بہت پسند کر تے تھے۔ آپ علیہ السلام ہوا کے ذریعے سفر کرتے تھے اور تخت پر مجاہدین ، ان کے گھوڑوں اور جنگی سامان کو میدان جنگ میں لے جاتے تھے۔ اور جنگ میں گھوڑوں کا استعمال کرتے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری اور امام فخرالدین رازی لکھتے ہیں۔ کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ایک دن جہاد کے لئے تیار کئے بہترین پالے ہوئے سبک رفتا اصیل گھوڑوں کی پریڈ کا معائنہ کر رہے تھے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔ مجھے ان گھوڑوں سے جو تعلق ، اُنسیت اور محبت ہے وہ دنیا کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اپنے پروردگار کی وجہ سے ہے۔ اس ارشاد کے درمیان جب وہ گھوڑے سے نظروں سے ذرا اوجھل ہوئے تو آپ علیہ السلام نے ان کو دوبارہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جب گھوڑے دوبارہ قریب آئے تو آپ علیہ السلام آگے بڑھ کر ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے ہاتھ پھیر کر چمکارنا شروع کر دیا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں..........!
.jpeg)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں