06 حضرت شعیب علیہ السلام
سلسلہ نمبر 11
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 6
اب تم اللہ کے عذاب کا انتظار کرو
حضرت شعیب علیہ السلام نے ہر طرح سے محبت سے ، شفقت سے ، مہربانی سے ، حکمت سے ، دلیلوں سے اور اپنے اچھے کردار سے اپنی قوم کو سمجھایا۔ لیکن قوم مدین کفر وشرک اور دوسری برائیوں میں اسی طرح مبتلا رہی۔ ہاں قوم کے کچھ سعادت مندوں نے اسلام قبول کیا۔ لیکن ان کی حیثیت آٹے میں نمک کے جیسی تھی۔ اور اکثریت نے اسلام قبول نہیں کیا۔ پہلے تو ان لوگوں نے آپ علیہ السلام کی اسلام کی دعوت پرحیرت کا اظہار کیا۔ پھر جب دیکھا ان کی باتوں پر عمل کرکے ہماری تجارت اور سرداری پر اثر پڑے گا تو وہ آپ علیہ السلام کے مخالف ہو گئے۔ اور عوام کو بھی آپ علیہ السلام کے خلاف بھڑکانے لگے۔ غریب عوام اُن کے دباﺅ میں تھی۔ اسی لئے انہوں نے بھی آپ علیہ السلام کی مخالفت کی اور اسلام قبول نہیں کیا۔ جب آپ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا کہ میری بات مانو کہیں ایسا نہ ہو کہ پچھلی قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب آجائے تو آپ علیہ السلام کی قوم نے کہا کہ اب تم ہم پر وہ عذاب لے آﺅ۔ اور ہم پر تو عذاب آئے گا ہی نہیں بلکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے اور ہمارے باپ دادا کے معبود( بت) تم پر اور ایمان والوں پر عذاب بھیج دیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک ہے۔ اب عذاب کا انتظار کرو۔ اور دیکھو کہ کس پر عذاب آتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا ) اے میری قوم کے لوگو، اب تم اپنی جگہ عمل کئے جاﺅ اور میں بھی عمل کررہا ہوں۔ تمہیں عنقریب ( بہت جلد) معلوم ہو جائے گا کہ کس کے پاس وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسو کر دے۔ اور کون جھوٹا ہے۔ تم انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔“ (سورہ ہود آیت نمبر93)
قوم مدین پر عذاب
اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس اُن کو زلزلے نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑ ے رہ گئے۔ جنہوں نے شعیب ( علیہ السلام )کی تکذیب کی تھی ۔ اُن کی یہ حالت ہو گئی جیسے ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہیں تھے۔ جنہوں نے شعیب ( علیہ السلام ) جھٹلایا تھا۔ وہی لوگ خسارے میں پڑ گئے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر91اور 92) اللہ تعالیٰ نے آگے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب ہمار ا حکم ( عذاب ) آپہنچا تو ہم شعیب علیہ السلام اور ان کے ساتھ مومنوں کو اپنی خاص رحمت سے بچالیا۔ اور ظالموں کو سخت چنگھاڑ کے عذاب نے دھر دبوچا۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے ۔ گویا کہ وہ ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہیں تھے۔ آگاہ رہو۔ مدین کے لئے بھی ویسی ہی دوری ہو۔ جیسی دوری ثمود کو ہوئی تھی۔ ( سورہ ہود آیت نمبر94اور 95) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قوم مدین پر جو عذاب بھیجا اس کا اجمالی طور سے ذکر فرمایا ہے۔ اب ہم انشاءاللہ مختلف تفاسیر کی مدد سے آپ کی خدمت میں اس عذاب کا تفصیلی ذکر پیش کریں گے۔ انشاءاللہ ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ پھر جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے خلاف سر کشی اختیا ر کی تو انہیں زلزلے نے پکڑ لیا۔ وہ اس طرح کہ جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور ان کے پاس آکر ٹھہرے ۔ پھر ایک سخت چیخ لگائی۔ جس سے پہاڑ اور زمین کانپ اٹھے۔ اور اس کے ساتھ ان کی روح ان کے جسموں سے نکل گئی۔ اس کاذکر اس آیت ( سورہ الاعراف آیت نمبر91) میں کیا۔ وہ اس طرح کہ جب انہوں نے چیخ سنی تو اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی وجہ سے سخت گھبرا گئے اور خوف زدہ ہو گئے۔ اور اسی دوران زمین لرز اٹھی اور زلزلے نے انہیں مردہ حالت میں زمین پر پھینک دیا۔ حضرت عکرمہ اور امام سدی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کے علاوہ کسی نبی کو دوبارہ نہیں بھیجا۔ ایک بار مدین کی طرف بھیجا تو اللہ تعالیٰ نے سخت چیخ اور زلزلے کے ساتھ وہاں کے رہنے والوں کو گرفت میں لے لیا۔ اور دوسری بار اصحاب ایکہ کی طرف بھیجا تو اللہ نے اُن پر سائبان کے عذاب میں پکڑ لیا۔
زلزلہ اور چنگھاڑ ( چیخ) کا عذاب
اللہ تعالیٰ نے قوم مدین پر عذاب بھیجا۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ یہاں سورہ الاعراف میں اہل مدین کے بارے میں بتایا وہ رجفہ یعنی زلزلہ سے ہلاک ہوئے اور سور ہ عنکبوت میں بھی ایسا ہی فرما یا ہے۔ اور سورہ ہود میں فرمایا کہ وہ صیمہ یعنی چیخ سے ہلاک ہوئے۔ اس میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ کیوں دونوں ہی طرح کا عذاب آیا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ اس قوم کی سر کشی ، بد باطنی ، ملا خطہ ہو کہ مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانےکے لئے انہیں یقین دلارہے ہیں کہ شعیب علیہ السلام کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی اور تم بہت بڑا نقصان اٹھاﺅ گے۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرز ا دیا۔ اور وہ غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا ۔ سورہ ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ وہاں یہ بھی بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی دھمکی ایمان والوں کو دی تھی۔ تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے اُن کی آواز پست کر دی۔ اور ہمیشہ کےلئے خاموش کر دیئے گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے قوم مدین پر چنگھاڑ اور زلزلہ کا عذاب ایک ساتھ بھیجا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ کافر تو اس عذاب سے ہلاک ہوئے اور مومن اس عذاب کی شدت اور ہلاکت سے محفوظ رہے۔
کافروں پر عذاب اور مومنوں کی حفاظت
اللہ تعالیٰ نے قوم مدین کے کافروں پر اپنا عذاب بھیجا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں ۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایاتھا کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا ۔ اس آیت میں ان کی ایک اور گمراہی کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے لوگوں سے کہا۔ اگر شعیب (علیہ السلام ) کی اطاعت و اتباع کی تو تمہارا نقصان ہوگا۔ اس کا ظاہر مطلب یہ ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی اتباع کے بعد تم کو وہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا جو تم ناپ تول میں کمی کے ذریعے حاصل کرتے تھے۔ یا ان کا مطلب یہ تھا کہ تم دین میں گھاٹے میں رہو گے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک آپ علیہ السلام کا دین باطل تھا۔ اس کے بعد دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُن پر زلزلہ کے عذاب کو بھیجنے کا ذکر فرمایا۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کا دین باطل تھا۔ اس کے بعد دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُن پر زلزلہ کے عذاب کو بھیجنے کا ذکر فرمایا۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کو جھٹلانے اور مخالفت کی وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہو چکے تھے۔ اس عذاب میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت اور حضرت شعیب علیہ السلام کے دین کی صداقت کی کئی دلیلیں ہیں۔ اول یہ کہ آپ علیہ السلام کی دعوت قبول نہ کرنے کی وجہ سے عذاب آیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کی دعوت بر حق تھی۔ ثانی یہ کہ یہ عذاب صرف آپ علیہ السلام کی مخالفین پر آیا۔ اُن پر ایمان لانے والوں پر نہیں آیا۔ پھر اس میں مزید اعجاز یہ کہ یہ عذاب اس قوم پر نازل ہوا جو ایک علاقے میں رہتی تھی۔ یہ عذاب آسمان سے نازل ہوا اور صرف اُن لوگوں پر نازل ہوا جو حضرت شعیب علیہ السلام کے منکر یعنی کافر تھے۔ اور ان لوگوں پر نازل نہیں ہوا جو متبعین یعنی مومن تھے۔ حالانکہ وہ سب اکٹھے رہتے تھے۔ محمد لقمان سلفی لکھتے ہیں۔ جب اللہ کا عذاب قوم شعیب پر نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے شعیب علیہ السلام اور ان کے مسلمان ساتھیوں کو اپنے خاص فضل سے اس عذاب سے بچا لیا۔ اور جن لوگوں نے کفر و عناد کی وجہ سے اپنے آپ پر اور لوگوں کا مال ناجائز طور سے لے کر دوسروں پر ظلم کیا تھا۔ انہیں اللہ کے عذاب نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ وہ عذاب جبرئیل علیہ السلام کی ایک شدید چیخ تھی۔ جس کے اثر سے اُن کی روحیں اُن کے جسموں سے پرواز کر گئیں۔ سورہ الاعراف اور سورہ عنکبوت میں آیا ہے کہ شدید زلزلہ آیا ۔ جس سے متاثر ہوکر تمام لوگ ہلاک ہو گئے۔ یہ زلزلہ جبرئیل علیہ السلام کی شدید چیخ کا ہی نتیجہ تھا۔ اور یہ عذاب حضرت شعیب علیہ السلام کی بستی والوں پر آیا تھا۔ جبرئیل علیہ السلام کی چیخ کا یہ اثر ہوا کہ وہ تمام لوگ اپنے گھروں میں ہی مر گئے۔
دھتکار ہو قوم ِ مدین پر
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم مدین پر عذاب کی تفصیل علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے صرف دو قوموں پر ایک ہی قسم کا عذاب نازل فرمایا ہے۔ قوم ثمود پر اور قوم مدین پر ۔ ان دونوں کو ایک زبردست چنگھاڑ نے ہلاک کر دیا تھا۔ قوم ثمود کو نیچے سے ایک چنگھاڑ کی آواز آئی تھی۔ اور قوم مدین کو اوپر سے چنگھاڑ کی آواز آئی تھی۔ جب جبرئیل علیہ السلام نے وہ گرج دار چیخ ماری تو ان میں سے ہر ایک کی روح اسی وقت نکل گئی تھی اور ان میں سے ہر شخص اسی وقت اور اسی حال میں مر گیا اور یوں لگتا تھا جیسے ان مکانوں میں کبھی کوئی شخص نہیں رہا ہو۔ پھر فرمایا ۔ قوم مدین پر دھتکار ہو۔ جیسی قوم ثمود پر دھتکار تھی۔ یعنی جیسے وہ اللہ کی رحمت سے دور کر دیئے گئے تھے اسی طرح یہ بھی دور کر دیئے گئے۔
قوم مدین سے آخری کلام
حضرت شعیب علیہ السلام نے عذاب آنے سے پہلے آخری مرتبہ اپنی قوم سے بات کی۔ مفتی احمد یا ر خان لکھتے ہیں۔ جب حضرت شعیب علیہ السلام قوم مدین کی دوستی سے مایوس ہو گئے تب آخری نتیجہ خیز کلام فرمایا۔ کہ اے میری قوم اب تمہاری ضدی طبیعت کا مجھ کو پتہ لگ گیا ہے۔ اب تم سے کچھ نہیں کہوں گا۔ تم اپنی اسی گمراہی اور کفر یہ حالت پر رہتے ہوئے جو چاہو عمل کرو اور تم سے جو ہو سکے میری مخالفت اور دشمنی میں کر لو اور میں اپنی جگہ وہ اعمال ، عبادت اور دریافت کروں گا جو رب نے مجھے عطا فرمائے۔ مراد یہ ہے کہ تم اپنی راہ لو اور میں اپنی راہ۔ یہ تم چھوٹ نہیں ہے بلکہ ڈھیل ہے۔ معافی نہیں ہے بلکہ مہلت ہے۔ اور یہ مہلت اور ڈھیل تمہارے لئے اچھائی نہیں بلکہ برائی ہے۔ اس سے تمہاری خوش قسمتی وابستہ نہیں ہے بلکہ بد بختی کا ظہور ہے۔ اور یہ کلام تہدید عظیم اور وعید شدید ہے ۔ ہوا کی یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے کیوں کہ عنقریب جان جاﺅ گے کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ اور تم بہت جلد ی جان لو گے کہ وہ عذاب دونوں جہان ( دنیا اور آخرت) میں ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ اور یہ بھی جان لو گے کہ کون جھوٹا ہے اور کون سچا ہے۔ ابھی تو تم باتیں بنا رہے ہو ، مذاق کر رہے ہو ، مجھ کو غلط اور خود کو صحیح سمجھ رہے ہو اور عذاب کی جلدی مچا رہے ہو۔ ذرا انتظار کر و۔ میں بھی انتظار کرتا ہوں۔ مقصد ِ کلام یہ ہے کہ اے قوم ، تم سے جتنی طاقت لگ سکے گناہوں ، ظلموں اور بد دیانتیوں پر لگالو۔ اور مجھ سے جتنی ہو سکے گی نیکیاں کرتا جاﺅں گا۔ اور عنقریب ایسا ذلیل کرنے والا عذاب آئے گا جو کھوٹے کھرے ، سچے جھوٹے، اچھے برے اور صحیح اور غلط کو سب کے سامنے ظاہر کر دے گا۔ اور سب دیکھ لیں گے ۔ اور تم بھی دیکھ کو گے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کا یہ آخری کلام ستر 70سال تبلیغ کرنے کے بعد ہوا۔
آخر کار قوم مدین عذاب سے ہلاک ہو گئی
اللہ تعالیٰ نے قوم مدین کے کافروں پر اپنا عذاب بھیجا۔ اور مسلمانوں کو بچا لیا۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب جب آیا تو حضرت شعیب علیہ السلام اور اُن کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کو بچالیا۔ اور اُن سرکش کافروں کو ایک زبردست چنگھاڑ نے جو الہ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے ماری تھی، پکڑ لیا۔ اس میں اختلاف ہے کہ وہ صرف دھاڑ تھی یا الفاظ تھے۔ بعض علمائے کرام نے فرمایا۔ وہ زور دار کلام تھا کہ موتو جمیعا۔ یعنی مر جاﺅ سب ۔ اکثر علمائے کرام کا قول ہے کہ وہ صرف ایک ہولناک آواز تھی۔ اس آواز سے زلزلہ بھی پیدا ہو ا۔ مکانات گر گئے اور وہ عذاب چاروں طرف سے گونج کر ظاہر ہوا۔ چیخ کی آواز بلند ہوئی۔ زلزلہ آیا ، زمین پھٹی اور کچھ لوگ چیخ سے اور کچھ لوگ زلزلے سے ہلاک ہو گئے۔ اور اپنے گھروں ، علاقوں ، محلوں اور شہروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ یہ قوم چھوٹی چھوٹی قریبی بستیوں میں بٹی ہوئی تھی۔ جن میں گلیاں اور محلے بنے ہوئے تھے۔ جٰثمین کے معنی اوندھے منہ گر کر مرنا۔ جیسے کوئی بیٹھے بیٹھے مر جاتا ہے۔ بڑی ذلت سے اُن کے اوپر مکانات گرے۔ جس سے دھول ، مٹی اور پتھروں اور لکڑیوں شہتیروں سے کچلے گئے۔ جثم بنا ہے جثوم سے ۔ جس کا معنی پرندوں کا پر پھیلا کر نیچے اترنا اور زمین پر بیٹھنا ہے۔ ان کے مرنے کو اس طرح سے تشبیہہ اُن کے اظہار ذلت کے لئے دی گئی ہے۔ قوم مدین پر جب اللہ کا عذاب آیا تو پہلے زبردست گڑ گڑاہٹ کی آواز پیدا ہوئی جو صرف کافروں کو سنائی دی۔ اسے سن کر وہ سب گھبرا اٹھے۔ اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتے اچانک آواز بہت تیز ہو گئی اور زمین تھر تھرانے لگی۔ جس کی وجہ سے کافروں کے مکانات ٹوٹ کر گر گئے۔ اور وہ سب اپنے مکانات میں دب کر مر گئے۔ جو کافر تیزی دکھا کر گھروں کے باہر نکل پڑے تھے۔ وہ اس بھیانک گونج دار آواز سے اوندھے منہ گر کر مر گئے۔ حیرت کی بات تو یہ تھی کہ انہی بستیوں میں مسلمانوں کے گھر بھی تھے۔ انہوں نے آواز کو بھی نہیں سنا اور زلزلے کو بھی محسوس نہیں کیا۔ اور ان کے مکانات ویسے کے ویسے ہی محفوظ کھڑے رہے۔ جب کہ تمام کافروں کے مکانات پوری طرح سے منہدم ہو گئے تھے۔ اور ایک بھی کافر نہیں بچا تھا۔
ہلاک شدہ قوم سے خطاب
اللہ تعالیی نے قوم مدین کے کافروں کو ہلاک کر دیا۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام اور مسلمانوں کو بچا لیا۔ عذاب کے ختم ہونے کے بعد آپ علیہ السلام ہلاک شدہ قوم مدین کے پاس آئے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اس وقت شعیب علیہ السلام اُن سے منہ موڑ کر چلے اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم ، میں نے تم کو اپنے پروردگار ( اللہ تعالیٰ) کے احکام پہنچا دیئے تھے۔ اور میں نے تمہاری خیر خواہی چاہی تھی۔ پھر میں ان کافر لوگوں پر کیوں رنج کروں۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر93) تفسیر انوار البیان میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ جب حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم تباہ و برباد اور ہلاک ہو گئی تو آپ علیہ السلام نے اُن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ اے میری قوم، میں نے تو تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا اور تمہاری بھلائی اور خیر خواہی چاہی تھی۔ لیکن تم نے سب سنی ان سنی کر دی۔ اور برابر کفر پر جمے رہے۔ تو اب میں کافروں پر رنج کیوں کروں۔ کیوں تم نے خود اپنی بربادی کا سامان کر لیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اُن کی بربادی کے بعد بطور حسرت فرضی خطاب فرمایا تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب عذاب آنے کے آثار نمودار ہوئے ہوں اس وقت حضرت شعیب علیہ السلام نے زندوں سے ہی خطاب فرمایا ہو۔ اور یہ خطاب فرما کر مسلمانوں کو لے کر وہاں سے چلے گئے ہوں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں