06 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر14
قسط نمبر 6
زرہ حضرت داﺅد علیہ السلام کی ایجاد ہے
حضرت داﺅد علیہ السلام سے پہلے لوگ زرہ بکتر کے بارے میں جانتے ہی نہیں تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے لوہے کو مٹی کی طرح نرم کر دیا تھا۔ حضرت حسن بصری ( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لوہا آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں آنے کے بعد آٹے کی طرح ہو جاتا تھا۔ اور اس سے آپ علیہ السلام زرہیں بناتے ہیں۔ حضرت قتادہ( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے لوہے کو نرم کر دیا تھا۔ آپ علیہ السلام اپنے ہاتھ سے لوہے کے حلقے بناتے جاتے تھے۔ جس طرح مٹی میں کام کیا جاتا ہے۔ لوہے کو آگ میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اور ن ہ ہی ہتھوڑے سے اس پر ضربیں لگانے کی ضرورت پڑتی تھی۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے سب سے پہلے زرہ بکتر بنائی۔ اس سے پہلے لوگ لوہے کے پترے دشمنوں سے حفاظت کےلئے استعمال کرتے تھے۔ حضرت ابن شوذب فرماتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام ہر روز ایک زرہ بناتے تھے۔ اور اس کے جو پیسے ملتے تھے اس کے تین حصے کرتے تھے۔ ایک حصہ اپنے استعمال کےلئے رکھتے ، ایک حصہ گھر والوںکے لئے رکھتے اور ایک حصہ بنی اسرائیل کے ضرورت مندوں اور غریبوں پر خرچ کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے زرہ بکتر کی ایجاد کے بارے میں سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے اسے ( حضرت داﺅد علیہ السلام کو ) تمہارے لئے لباس بنانے کی کاریگری سکھائی تاکہ لڑائی کے ضررسے تمہارا بچاﺅ ہو۔ کیا ( اب بھی) تم شکر گزار بنو گے؟( سوہ الانبیاءآیت نمبر80)
زبور کا نزول
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر یہ بہت زبردست انعام کیا کہ حضرت داﺅد علیہ السلام جیسا عظیم نبی اور رسول اور حکمراں عطا فرمایا تھا۔ آپ علیہ السلام نے تمام بنی اسرائیل کو متحد کیا اور پورے ملک کنعان میں اسلامی حکومت قائم فرمائی۔ آ پ علیہ السلام کے دورِ نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل کو بہت عروج حاصل ہوا۔ پہلے بنی اسرائیل بکھرے ہوئے تھے آپسی اختلافات کا شکار تھے اور آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ جس کی وجہ سے آس پاس کی مشرک قومیں ان پر ٹوٹ پڑتی تھیں اور ان کے انتشار کا فائدہ اٹھا کر ان پر حاوی ہو جاتے تھے اور محکوم بنا لیتے تھے۔ یہ ہم لوگوں ( امت مسلمہ ) کے لئے بڑے افسوس کا مقام ہے کہ آج ہم بھی مسلکی اختلافات کا شکار ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے سخت دشمن ہیں اور اسی وجہ سے محکوم ہیں۔ کاش کہ ہمیں سمجھ آجائے او رہم متحد ہوجائیں۔ تو حضرت داﺅد علیہ السلام نے سب سے پہلے مشرک دشمنوں سدِ باب کیا۔ اسی دوران آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے ”زبور“ نازل فرمائی۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ نساءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام )کو زبور عطا فرمائی“(سورہ النساءآیت نمبر164) آپ علیہ السلام نے توریت اور زبور کی روشنی میں سلطنت کے قوانین مرتب فرمائے۔ اور تمام بنی اسرائیل کے علاقوں میں ہرجگہ فلاحی ادارے قائم فرمائے۔ اور سلطنت و حکومت کا انتظام اتنے بہترین طریقے سے کیا کہ تمام بنی اسرائیل کے علاقوں میں ہر جگہ فلاحی ادارے قائم فرمائے۔ اور سلطنت و حکومت کا انتظام اتنے بہترین طریقے سے کیا کہ عوام خوش حال ہو گئی۔ اور جتنا امن و سکون بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کی حکومت میں حاصل ہوا۔ اس سے پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا تھا۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی خوش الحانی
حضرت داﺅد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت نہایت ہی خشوع خضوع سے کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے اپنی نفلی عبادات کا دستور بنا رکھا تھا اور اس پر مستقل مزاجی سے اس پر قائم رہتے تھے۔ آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ اس طرح ہمیشہ ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھتے رہے۔ اور رات کا ایک حصہ عبادت کے لئے مخصوص کیا ہوا تھا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔” اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدہ تر نماز حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے۔ اور پسندیدہ ترروزے بھی آپ علیہ السلام کے ہیں اور پسندیدہ تر عبادت بھی حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے۔“ان تمام خوبیوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت ہی دلکش آواز سے بھی نوازا تھا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام اتنے اچھر انداز سے اپنی دلکش آواز میں زبور کی تلاوت فرماتے تھے کہ آپ علیہ السلام کی خوش الحانی کو سن کر انسان تو حیرت اور سکتہ میں مبتلا ہو ہی جاتے تھے اور خاموشی سے بت بن کر زبور کی تلاوت سننے لگتا تھا ۔ انسانوں کے علاوہ جانور اور پرندے بھی آپ علیہ السلام کی دلکش آواز سن کر آپ علیہ السلام کے اطراف جمع ہو جاتے تھے۔ اور وہاں سے ہٹنے کا نا م ہی نہیں لیتے تھے۔ اور جب تک آپ علیہ السلام تلاوت کرتے رہتے تھے تب تک اُن کے پاس ہی جمع رہتے تھے۔ یہ تو انسانوں، جانوروں اور پرندوں کی بات ہوئی ۔ آپ علیہ السلام کی آواز اتنی دلکش تھی اور تلاوت اتنے اچھے انداز میں کرتے تھے کہ پہاڑ بھی وجد میں آجاتے تھے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے لگتے تھے۔ اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا ہے۔
پہاڑوں کی تسبیح کا معجزہ
اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ترجمہ ” اور داﺅد ( علیہ السلام )کے تابع ہم نے پہاڑ کر دیئے تھے۔ جو تسبیح کرتے تھے اور پرند بھی ( تسبیح کرتے تھے) اور ہم ہی کرنے والے تھے۔“( سورہ الانبیاءآیت نمبر79) اللہ تعالیٰ نے سورہ سباءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے داﺅد (علیہ السلام )پر اپنا فضل کیا۔ ( اور فرمایا) اے پہاڑو، اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی ( یہی حکم دیا) اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کر دیا۔“ (سورہ سباءآیت نمبر10) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، ان ( کافروں) کی باتوں پر صبر کریں۔ اور ہمارے بندے داﺅد (علیہ السلام )کو یاد کریں۔ جو بڑی قوت والا تھا۔ بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے پہاڑوں کو اسکے تابع کر رکھا تھا کہ اسے شام کو او رصبح کو تسبیح خوانی کریں۔ اور پرندے جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے تھے۔ “ ( سورہ ص ٓآیت نمبر17سے 19تک) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام )پر اپنا فضل کیا۔ “فضل کے لفظی معنی زیادتی کے ہیں۔ اس سے مراد وہ خاص صفات ہیں جو دوسروں سے زائد ان کو عطا کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی و رسول کو بعض خاص امتیازی صفات عطا فرمائی ہیں جو ان کی مخصوص فضیلت سمجھی جاتی ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کی مخصوص صفات یہ تھیں کہ ان کو اپنی نبوت و رسالت کے ساتھ ساتھ سلطنت و حکومت بھی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔ اور خوش کُن آواز کی ایسی صفت عطا فرمائی تھی کہ جب آپ علیہ السلام اللہ کے ذکر یا زبور کی تلاوت میں مشغول ہوتے تو ہر پرندے ہوا میں اڑتے ہوئے سننے کو جمع ہو جاتے تھے۔ اور پہاڑ بھی وجد میں آکر تسبیح کرنے لگتے تھے۔ پہاڑوں کی یہ تسبیح جو وہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے ساتھ کرتے تھے اس عام تسبیح کے علاوہ ہے جس میں تمام کل مخلوقات شریک ہیں۔ اور جوہر جگہ ہر وقت ہر زمانے میں تمام مخلوقات کرتی رہتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ (ترجمہ ) ”دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی تسبیح نہ پڑھتی ہو۔ مگر تم اس کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔“یہاں اللہ تعالیٰ جس تسبیح کاذکر فرما رہے ہیں وہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے معجزہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لئے ظاہر ہے کہ ا س تسبیح کو عام سننے والے بھی سنتے اور سمجھتے ہوں گے۔ ورنہ پھر یہ معجزہ ہی نہیں ہوتا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کی آواز کے ساتھ پہاڑوں کا آوازملانا اور تسبیح دہرانا بازگشت کے طور پر نہیں تھا۔ جیسا کہ عام طور سے گنبد یا کنویں وغیرہ میں آواز دینے سے لوٹ کر آواز آتی ہے۔ بلکہ باقاعدہ صاف طور پر پہاڑوں کے تسبیح کرنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی تمنا
حضرت داﺅد علیہ السلام نے اپنی زندگی کے تین حصے کر رکھے تھے۔ ایک دن حکومت کے تمام معاملات حل کرتے تھے۔ دوسرے دن اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے تھے۔ اور تیسری دن اپنے گھر والوں یعنی بیوی بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ آپ علیہ السلامنے توریت اور زبور میں اپنے آباﺅ اجداد یعنی حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل ، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کے بارے میں پڑھا۔ اور ان کے مراتب ملا خطہ فرمائے۔ یعنی یہ دیکھا کہ ان بزرگوں کے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیا مرتبے ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلامنے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، ساری بھلائی اور فضیلتیں تو میرے آباﺅ اجداد لے گئے ہیں۔اے اللہ مجھے بھی وہ عطا فرما دے جو تو نے انہیں عطا فرمایا ہے۔ اور میرے ساتھ بھی وہ معاملہ کر جو ان کے ساتھ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ میں نے ان نیک بندوں کو آزمائشوں میں مبتلا کیا تھا۔ ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام کو قربانی کے ذریعے آزمایا۔ اور یوسف علیہ السلام کو بھائیوں کے ذریعے آزمایا۔ وہ سب ان آزمائشوں میں کامیاب ہوئے تو انہیں یہ مراتب عطا فرمائے اور ابھی ہم نے تمہاری ایسی کوئی شدید آزمائش نہیں لی ہے۔ آپ علیہ السلامنے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، میری بھی آزمائش لے جو میرے آباﺅ اجداد کی لی تھی۔ اور اگر میں کامیاب ہو ا تو مجھے بھی ہو سب عطا فرما۔ جو میرے بزرگوں کو عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ صبر کرو ، میں تمہاری بھی آزمائش لوں گا۔
حضرت داﺅد علیہ السلامکی دلکش کی آواز کا اثر
حضرت داﺅد علیہ السلامکو اللہ تعالیٰنے اتنی دلکش آواز عطا فرمائی تھی کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور اور پرنے اور پہاڑ بھی مسحور ہو جاتے تھے۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت دلکش اور انتہائی دل نشین آواز سے نوازا تھا۔ کہ ایسی آواز کسی اور انسان کو عطا نہیں کی گئی۔ جب آپ علیہ السلام زبور کی تلاوت کرتے تھے تو خوش الحانی کے اثر سے پرندے سر پر آکر ٹھہر جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کی آواز میں اپنی آواز ملا کر تسبیح کرنے لگتے تھے۔ اور اسی پر بس نہیں ہوتا تھا بلکہ تمام پہاڑ بھی آپ علیہ السلام کے اور پرندوں ساتھ مل کر وجد میں آجاتے تھے۔ اور آواز میں آواز ملا کر تسبیح کرنے لگتے تھے۔ اور پہاڑ اور پرندے صبح و شام آپ علیہ السلام کے ساتھ مل کر تسبیح کرتے رہتے تھے۔ امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو حسن صوت کی دولت سے اس قدر نوازا تھا کہ کوئی شخص اس طرح نوازا نہیں گیا ہوگا۔ حتیٰ کہ پرندے اور جانور آپ علیہ السلام کی آواز سننے کے لئے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے تھے۔ وہ بھوک اور پیاس سے مرنا پسند کرتے تھے لیکن آپ علیہ السلام کے پاس سے ہٹنا پسند نہیں کرتے تھے۔ اور اسی طرح پورا دن لحنِ داﺅدی سننے میں مست و بخود ہو کر گزار دیتے تھے۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہٰں کہ جب کسی انسان کے کان میں آپ علیہ السلام کی آواز پڑ جاتی تھی تو وہ اتنا وجد میں آجاتا تھا کہ اچھلنے کودنے لگتا تھا۔ آپ علیہ السلام زبور کی آیات کو ایسی خوب صورت آواز میں تلاوت فرماتے تھے کہ ایسی آواز کی مثال نہیں ملتی ہے۔ جنات اور انسان، چرند و پرند سب آپ علیہ السلام کی آواز سننے کے لئے اکٹھے ہو جاتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں سے بعض تو بھوک کی وجہ سے مر جاتے تھے۔ ( مگر ہٹنا پسند نہیں کرتے تھے)
فیصلہ کی قوت
اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے اس کی ( حضر ت داﺅد علیہ السلام کی ) سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا۔ اور اسے حکمت بھی عطا فرمائی تھی۔ اور بات کو فیصلہ ( کرنا بھی ) سمجھا دیاتھا۔ “ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر20) علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کر دی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اور فو ج اس قدر تھی کہ ہر رات تینتیس33ہزار فوجی پہرہ دیتے تھے۔ لیکن اس کے بعد سال بھر تک پھر ان کی باری نہیں آتی تھی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے تھے۔ ( اور بات کا فیصلہ کرنا بھی سمجھا دیا کہ تشریح میں لکھتے ہیں کہ ) ایک روایت میں ہے اُن کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں نے مقدمہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا ۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کر لی ہے ۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے مدعی سے دلیل طلب کی تو وہ کوئی گواہ پیش نہیں کر سکا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اچھا کل اس مقدمے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ رات کو حضرت داﺅد علیہ السلام کو خواب میں حکم ہواکہ دعوے دار کو قتل کردو ۔ صبح آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلوایا۔ ( لیکن جس پر الزام تھا وہ نہیں ملا اور صرف مدعی آیا) آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ مدعی کو قتل کر دیا جائے۔ اس نے کہا اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، میرے قتل کا حکم دیا جا رہا ہے۔ جب کہ میری ہی گائے چوری ہو ئی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اور اس کا ٹل جانا ناممکن ہے۔ تب اس نے کہا۔ اے اللہ کے علیہ السلام ، میں اپنے دعوے میں تو سچا ہی ہوں اور اسی نے میری گائے چرائی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں دیا ہے بلکہ اس کی دوسری وجہ ہے جو صرف میں ہی جانتا ہوں ۔ بات دراصل یہ ہے کہ آج ( رات) دھوکے سے میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ ( یعنی گائے چور کو) اسی کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو قصاص کا حکم دیاہے۔ آخر کار اسے قتل کر دیا گیا اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہیئت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں